Ayah 87:11 ۔” سبح اسم ربک الاعلیٰ “ یعنی آپ سبحان ربی الاعلیٰ “ کہیں اور اسی طرف صحابہ کرام ؓ اور تابعین کی ایک جماعت گئی ہے۔ ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے پڑھا ” سبح اسم ربک الاعلیٰ “ پھر کہا ” سبحان ربی الاعلیٰ “ اور ایک قوم نے کہا ہے اپنے ” رب اعلیٰ “ کی پاکی بیان کریں اس سے جو ملحدین بیان کرتے ہیں اور انہوں نے اسم کو صلہ بنایا ہے اور اس سے وہ استدلال کرتے ہیں جو اسم اور مسمی کو ایک قرار دیتے ہیں مگر کوئی شخص یوں نہیں کہتا ” سبحان اسم اللہ و سبحان اسم ربنا “ سب یوں کہتے ہیں ” سبحان اللہ و سبحان ربنا “ اور یہ ” سبح اسم ربک “ کا معنی ہے اور دیگر حضرات نے کہا ہے کہ اپنے رب کے نام کی پاکی بیان کر۔ بایں طور کہ تو اس کا تذکرہ اس حال میں کر کہ تو اس کی تعظیم کرنے والا ہو اور اس کے ذکر کا احترام کرنے والوں کو اور انہوں نے اسم کو تسمیہ کے معنی میں قرار دیا ہے اور ابن عباس ؓ فرماتے ہیں ” سبح “ یعنی اپنے رب اعلیٰ کے حکم سے نماز پڑھیں۔
Ayah 87:22 ۔” الذی خلق فسوی “ کلبی (رح) فرماتے ہیں ہر ذی روح کو پیدا کیا۔ پس ان کے دونوں ہاتھ دونوں پائوں اور دونوں آنکھیں ٹھیک ٹھیک بنائیں۔ زجاج (رح) فرماتے ہیں انسان کو سیدھا پیدا کیا اور ” سویٰ “ کا معنی اس کی قامت کو سیدھا کیا۔
Ayah 87:33 ۔” والذی قدر فھدی “ کسائی (رح) نے ” قدر “ دال کی تخفیف کے ساتھ پڑھا ہے اور دیگر حضرات نے اس کو شد دی ہے اور یہ دونوں ایک معنی میں ہیں اور مجاہد (رح) فرماتے ہیں انسان کی رہنمائی کی خیر و شر اور سعادت و شقاوت کے راستہ کی طرف اور چوپایوں کی رہنمائی کی ان کے چرنے کی جگہوں و چیزوں کی طرف اور مقاتل (رح) فرماتے ہیں ہر چیز کے لئے اس کے چلنے کی جگہ مقرر کی، پھر اس کی رہنمائی کی۔ اس کو معرفت دی کہ مذکر، مونث کے پاس کیسے آئے اور کہا گیا ہے کہ رزق کو مقدر کیا، پھر رہنمائی کی رزق اور معاش کمانے کی طرف۔ اور کہا گیا ہے اشیاء میں منافع پیداکیے اور انسان کی رہنمائی کی ان سے نفع نکالنے کے طریقوں کی طرف اور سدی (رح) فرماتے ہیں بچہ کے رحم میں رہنے کی مدت متعین کی۔ پھر اس کی رحم سے نکلنے کے لئے رہنمائی کی۔ واسطی (رح) فرماتے ہیں ان پر سعادت و شقاوت کو مقدر کیا، پھر دونوں گروہوں میں سے ہر ایک کے لئے اس پر چلنے کے راستے آسان کیے جن پر ان کی تقدیر بتائی گئی۔
Ayah 87:44 ۔” والذی اخرج المرعی “ گھاس، پھوس اور جو مویشی چرتے ہیں وہ اگایا سبز، زرد، سرخ اور سفید میں سے۔
Ayah 87:55 ۔” فجعلہ “ سرسبزی کے بعد۔ ” غثائ “ خشک ٹوٹا ہوا اس جھاگ کی طرح جس کو تو سیلاب کے اوپر دیکھتا ہے ” احوی “ سیاہ سرسبز ہونے کے بعد کیوں کہ گھاس جب خشک ہوجائے تو سیاہ ہوجاتا ہے۔
Ayah 87:66 ۔” سنقرئک “ عنقریب ہم آپ کو جبرئیل (علیہ السلام) کے آپ قرات کرنے کا علم دیں گے۔ ” فلا تنسیٰ “
Ayah 87:77 ۔” الا ماشاء اللہ “ کہ آپ اس کو بھول جائیں اور جس کی اللہ تعالیٰ قرآن میں سے تلاوت منسوخ کردیں ۔ جیسا کہ فرمایا ” ماننسخ من آیۃ اور ننسھا “ اور بھلا دینا بھی نسخ کی ایک قسم ہے اور مجاہد اور کلبی رحمہم اللہ فرماتے ہیں کہ جب آپ (علیہ السلام) پر جبرئیل (علیہ السلام) قرآن لے کر اترتے تو وہ آیت کے آخر سے فارغ نہ ہوتے تھے حتیٰ کہ رسول اللہ ﷺ اس کے اول کا تکلم شروع کردیتے تھے اس خوف سے کہ اس کو بھول جائیں تو اللہ تعالیٰ نے نازل کیا ” سنقرئک فلا تنسیٰ “ پھر آپ ﷺ اس کے بعد کوئی چیز نہیں بھولے۔ ” انہ یعلم الجھر “ قول اور فعل میں سے۔ ” وما یخفیٰ “ ان دونوں سے اور معنی یہ ہے کہ وہ پوشیدہ اور علانیہ کو جانتا ہے۔
Ayah 87:88 ۔” ونیسرک للیسریٰ “ مقاتل (رح) فرماتے ہیں ہم آپ پر جنت کے عمل کو آسان کردیں گے اور یہ ابن عباس ؓ کے قول کا معنی ہے کہ ہم آپ کو آسانی دیں گے اس بات کی کہ آپ خیر کے کام کریں اور ” یسریٰ “ خیر کے کام اور کہا گیا ہے کہ ہم آپ کو شریعت ” یسریٰ “ کی توفیق دیں گے اور وہ حنیفیہ سمحہ ہے اور کہا گیا ہے وہ پہلی کلام کے ساتھ متصل ہے اس کا معنی بیشک وہ جہر کو جانتا ہے ان میں سے جو آپ (علیہ السلام) جبرئیل (علیہ السلام) پر پڑھتے ہیں جب وہ تلاوت سے فارغ ہوتے ہیں اور مخفی کو جو آپ اپنے دل میں پڑھتے ہیں بھولنے کے خوف سے۔ پھر وعدہ کرتے ہوئے فرماتے ” ونیسرک للیسریٰ “ یعنی ہم آپ (علیہ السلام) پر وحی کو آسان کردیں گے حتیٰ کہ آپ (علیہ السلام) اس کو یاد کریں گے اور جان لیں گے۔
Ayah 87:99 ۔” فذکر “ قرآن کے ذریعے نصیحت کریں۔ ” ان نفعت الذکریٰ “ وعظ ونصیحت۔ اور معنی یہ ہے کہ نفع دے یا نفع نہ دے اور دوسری حالت کو ذکر نہیں کیا جیسے اللہ تعالیٰ کا قول ” سرابیل تقیکم الحر “ ہے کہ مراد سردی و گرمی دونوں ہیں۔
Ayah 87:1010 ۔” سیذکر “ عنقریب نصیحت حاصل کرے گا۔ ” من یخشیٰ “ اللہ عزوجل سے۔
Ayah 87:1111 ۔” ویتجنبھا “ یعنی نصیحت سے بچتا ہے اور اس سے دور ہوتا ہے۔ ” الاشقیٰ “ اللہ کے علم میں بدبخت۔
Ayah 87:1212 ۔” الذی یصلی النار الکبریٰ “ بڑی اور ہولناک اس لئے کہ وہ دنیا کی آگ سے گرمائش میں سخت اور عظیم ہوگی۔
Ayah 87:1313 ۔” ثم لا یموت فیھا “ کہ وہ راحت حاصل کرے۔ ” ولا یحییٰ “ ایسی زندگی جو اس کو نفع دے۔
Ayah 87:1414 ۔” قد افلح من تزکی “ جو شرک سے پاک ہوا اور کہا لا الہ الا اللہ۔ یہ عطاء اور عکرمہ رحمہما اللہ کے قول کا معنی ہے اور ولبی اور سعید بن جبیر رحمہما اللہ کی ابن عباس ؓ سے روایت ہے اور حسن (رح) فرماتے ہیں جس کا عمل صاف ستھرا ہو اور دیگر حضرات نے کہا ہے وہ صدقۃ الفطر ہے۔ ابو سعید خدری ؓ سے اللہ تعالیٰ کے قول ” قد افلح من تزکی “ کے بارے میں مروی ہے فرماتے ہیں اس نے صدقہ فطر دیا۔
Ayah 87:1515 ۔” وذکراسم ربہ فصلی “ فرمایا عید کے لئے نکلا اور اس کی نماز پڑھی اور ابن مسعود ؓ فرماتے تھے اللہ تعالیٰ ایسے بندہ پر رحم کریں جو صدقہ دے، پھر نماز پڑھے، پھر یہ آیت پڑھتے اور نافع (رح) فرماتے ہیں ابن عمر ؓ جب صبح کی نماز پڑھتے یعنی عید کے دن تو فرماتے اے نفع ! تونے صدقہ ادا کردیا۔ پس اگر میں کہتا جی ہاں تو عیدگاہ کی طرف چل پڑتے اور اگ ر میں کہتا نہیں تو فرماتے اب ادا کرے کیونکہ یہ آیت اس کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔
” قد افلح من تزکی وذکر اسم ربہ فصلی “ اور یہ ابوالعالیہ اور ابن سیرین رحمہما اللہ کا قول ہے اور ان میں سے بعض نے کہا ہے کہ میں اس تاویل کی وجہ نہیں جان سکا اس لئے کہ یہ سورة مکی ہے اور مکہ میں عید اور صدقہ فطر کا حکم نہ تھا۔ شیخ امام محی السنہ فرماتے ہیں ممکن ہے کہ آیت کا نزول حکم سے پہلے ہوا ہے جیسا کہ فرمایا ہے ” وانت حل بھذا البلد “ پس سورة مکی ہے اور اس حل کا اثر فتح کے دن ظاہر ہوا حتیٰ کہ آپ ﷺ نے فرمایا کہ میرے دن کی ایک گھڑی مکہ حلال کردیا گیا ہے اور اسی طرح یہ آیت ” سیھزم الجمع ویولون الدبر “ مکہ میں نازل ہوئی ہے۔ حضرت عمر بن خطاب ؓ فرماتے ہیں میں نہ جانتا تھا کہ کون سا لشکر شکست کھائے گا۔ پس جب بدر کا دن تھا تو میں نے نبی کریم ﷺ کو دیکھا زرہ پہنے ہوئے تیزی سے چل رہے ہیں اور فرما رہے ہیں ” سیھزم الجمع ویولون الدبر۔ وذکر اسم ربہ فصلی “ یعنی اور اپنے رب کا ذکر کیا اور نماز پڑھی اور کہا گیا ہے ذکر عید کی تکبیریں اور نماز سے عید کی نماز مراد ہے اور کہا گیا ہے یہاں صلوٰۃ دعاء کے معنی میں ہے۔
Ayah 87:1616 ۔” بل توثرون “ ابوعمرو اور یعقوب رحمہما اللہ نے یاء کے ساتھ پڑھا ہے یعنی وہ بدبخت لوگ جن کا ذکر کیا گیا اور دیگر حضرات نے تاء کے ساتھ پڑھا ہے اس کی دلیل ابی بن کعب ؓ کی قرات ہے۔ ” بل انتم توثرون الحیوۃ الدنیا “
Ayah 87:1717 ۔” والاٰخرۃ خیر وابقیٰ “ عرفجہ اشجعی کہتے ہیں ہم ابن مسعود ؓ کے پاس تھے تو انہوں نے یہ قرات پڑھی تو ہمیں کہا کیا تم جانتے ہو کہ ہم نے دنیا کی زندگی کو آخرت پر کیوں ترجیح دی ہے ؟ ہم نے کہا نہیں تو فرمایا اس لئے کہ دنیا حاضر کی گئی ہے اور ہمارے لئے اس کا کھانا، پینا اور عورتیں اور لذات اور اس کی رونق جلدی کی گئی ہے اور بیشک آخرت ہمارے لئے بیان کی گئی ہے اور ہم سے دور کی گئی ہے تو ہم نے عاجل (جلدی) کو پسند کیا اور اجل (دور والی) کو چھوڑ دیا۔
Ayah 87:1818 ۔” ان ھذا “ یعنی جو اللہ تعالیٰ کے قول ” قد افلح من تزکی “ سے چار آیات تک ذکر کیا گیا ہے۔ ” نفی الصحف الاولیٰ “ یعنی پہلی کتابوں میں جو قرآن سے پہلے اتاری گئی ہیں ان میں زکوٰۃ و صدقات دینے والوں اور نماز پڑھنے والوں کی فلاں ذکر کی گئی ہے اور دنیا کو ترجیح دینے اور آخرت کے بہتر اور دائمی ہونے کا ذک رہے۔
Ayah 87:1919 ۔” پھر صحیفوں کو بیان کرتے ہوئے فرمایا ” صحف ابراھیم و موسیٰ “ عکرمہ اور سدی رحمہما اللہ فرماتے ہیں یہ سورت ابراہیم اور موسیٰ (علیہم السلام) کے صحیفوں میں تھی۔ حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ ان دو رکعتوں میں جن کے بعد وتر پڑھتے تھے۔ ” سبح اسم ربک الاعلیٰ “ اور ” قل یایھا الکافرون “ پڑھتے تھے اور وتر ” قل ھواللہ احد “ اور ” قل اعوذ برب الفلق “ اور ” قل اعوذ برب الناس “ پڑھتے تھے۔