Ayah 86:11 ۔” والسماء والطارق “ کلبی (رح) فرماتے ہیں ابوطالب کے بارے میں نازل ہوئی ہے کہ وہ نبی کریم ﷺ کے پاس آئے تو ان کو تحفہ میں روٹی اور دودھ دیا تو وہ بیٹھے کھا رہے تھے کہ اچانک ستارہ ٹوٹ کر گرا پھر پانی سے بھر گیا، پھر آگ تو ابوطالب گھبرا گئے اور کہا یہ کیا چیز ہے ؟ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا یہ ستارہ ہے جس کے ذریعے مارا گیا ہے، پھر آگ تو ابوطالب گھبرا گئے اور کہا یہ کیا چیز ہے ؟ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا یہ ستارہ ہے جس کے ذریعے مارا گیا ہے اور یہ اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے تو ابوطالب کو تعجب ہوا تو اللہ تعالیٰ نے نازل کیا ” والسماء والطارق “ اور یہ قسم ہے الطارق وہ ستارہ جو رات کو ظاہر ہوتا ہے اور جو تیرے پاس رات کو آئے تو وہ بھی طارق ہے۔
Ayah 86:22 ۔” وما ادراک مالطارق “
Ayah 86:33 ۔ پھر اس کی تفسیر کرتے ہوئے فرمایا ” النجم الثاقب “ یعنی روشن چمکدار۔ مجاہد (رح) فرماتے ہیں روشن۔ ابن زید (رح) فرماتے ہیں اس سے ثریا مراد ہے اور عرب اس کا نام نجم رکھتے ہیں اور کہا گیا ہے وہ زحل ہے، اس کے ساتھ نام رکھا گیا اس کے بلند ہونے کی وجہ سے ۔ عرب پرندے کو کہتے ہیں جب وہ بلندی میں آسمان کو چھولے ” قد ثقب “
Ayah 86:44 ۔” ان کل نفس “ قسم کا جواب ہے۔ ” لما علیھا حافظ “ ابوجعفر، ابن عامر، عاصم اور حمزہ رحمہم اللہ نے ” لما “ تشدید کے ساتھ پڑھا ہے۔ وہ مراد لیتے ہیں کہ نہیں ہے کوئی نفس مگر اس پر حافظ ہے اور یہ ہذیل کی لغت ہے وہ ” لما “ کو ” الا “ کے مرتبہ میں کرتے ہیں وہ کہتے ہیں ” نشدتک اللہ لما قمت “ یعنی ” الاقمت “ اور دیگر حضرات نے تخفیف کے ساتھ پڑھا ہے انہوں نے (ما) کو صلہ بنایا ہے اس کا مجاز ” ان کل نفس علیھا حافظ “ ہے۔ آیت کی تاویل یہ ہے کہ ہر نفس پر اس کے رب کی طرف سے نگران ہے جو اس کے اعمال کی نگرانی کرتا ہے اور جو وہ شر وخیر کا کسب کرتا ہے اس کو لکھتا ہے۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں وہ فرشتوں میں سے حفاظت کرنے والے ہیں اور کلبی (رح) فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے حافظ ہے جو اس کی حفاظت کرتا ہے اور اس کے قول وعمل کی بھی حتیٰ کہ اس کا دفاع کرتا ہے اور اس کو تقدیر کے سپرد کرتا ہے۔ پھر اس سے ہٹ جاتا ہے۔
Ayah 86:55 ۔” فلینظر الانسان مم خلق “ یعنی پس چاہیے کہ غور وفکر کرے کہ کس چیز سے اس کو اس کے رب نے پیدا کیا ہے ۔ یعنی چاہیے کہ وہ غور وفکر کرنے والے کی طرح نظر کرے۔
Ayah 86:66 ۔ پھر بیان کرتے ہوئے فرمایا ” خلق من ماء دافق “ یعنی اللہ تعالیٰ کا قول ” عیشۃ راضیۃ “ ہے اور دفق بہانا اور آدمی اور عورت کا پانی مراد ہے اس لئے کہ بچہ ان دونوں سے پیدا ہوتا ہے اور اس کو ایک بنایا ہے ان دونوں کے باہم مل جانے کی وجہ سے۔
Ayah 86:77 ۔” یخرج من بین الصلب والترائب “ یعنی آدمی کی پیٹھ اور عورت کے ترائب سے اور ترائب تربیت کی جمع ہے اور وہ سینہ اور نحر کی ہڈیا (رح) ۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں یہ سینہ میں ہار باندھنے کی جگہ ہے اور والبی نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے عورت کے دونوں پستانوں کے درمیان اور قتادہ (رح) نے فرمایا نحر اور ابن زید (رح) نے فرمایا ہے سینہ۔
Ayah 86:88 ۔” انہ علی رجعہ لقادر “ مجاہد (رح) فرماتے ہیں نطفہ کو ذکر (شرمگاہ) میں لوٹانے پر اور عکرمہ (رح) فرماتے ہیں پانی کو اس پشت میں لوٹانے پر جس سے وہ نکلا ہے اور ضحاک (رح) نے فرمایا ہے کہ وہ انسان کو پانی بنا کر لوٹانے پر قادر ہے جیسا کہ اس سے پہلے تھا اور مقاتل بن حیان فرماتے ہیں۔ اگر میں چاہوں تو اس کو بڑھاپے سے جوانی کی طرف لوٹا دوں اور جوانی سے بچپن کی طرف اور بچپن سے نطفہ کی طرف اور ابن زید (رح) فرماتے ہیں کہ وہ اس پانی کے روکنے پر قادر ہے حتیٰ کہ وہ نہ نکل سکے اور قتادہ (رح) فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ انسان کو اٹھانے اور اس کی موت کے بعد لوٹانے پر قادر ہے اور تمام اقوال میں اولیٰ ہے۔
Ayah 86:99 ۔” یوم تبلی السرائر “ اور یہ قیامت کا دن ہے کہ مخفی چیزیں ظاہر کی جائیں گی۔ قتادہ اور مقاتل رحمہما اللہ فرماتے ہیں امتحان لیا جائے گا۔ عطاء بن ابی رباح (رح) فرماتے ہیں ” السرائ “ فرض اعمال جیسے نماز، روزہ، وضو، جنابت سے غسل کرنا کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کے اور بندہ کے درمیان راز ہیں۔ پس اگر چاہے بندہ تو کہے میں نے روزہ رکھا حالانکہ اس نے روزہ نہیں رکھا اور میں نے نماز پڑھی حالانکہ اس نے نماز نہیں پڑھی۔
اور میں نے غسل کیا حالانکہ اس نے غسل نہ کیا ہو۔ پس وہ آزمایا جائے گا حتیٰ کہ وہ ظاہر کردے گا کہ اس نے اس ک وادا کیا اور کس نے اس کو ضائع کردیا۔ ابن عمر ؓ فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ کے ہاتھوں میں قیامت کے دن ہر راز ہوگا۔ پس وہ کئی چہروں پر زینت ہوگا اور کئی چہروں پر عیب۔ یعنی جس نے ان کو ادا کیا تو اس کا چہرہ چمکدار روشن ہوگا اور جس نے ان کو ضائع کیا تو اس کا چہرہ غبار آلودہوگا۔
Ayah 86:1010 ۔” فمالہ من قوۃ ولا ناصر “ یعنی اس انسان کے لئے جو بعث کا انکار کرنے والا ہے، کوئی ایسی قوت نہیں ہے جو اس کو اللہ کے عذاب سے بچادے اور نہ کوئی مددگار ہے جو اس کو اللہ تعالیٰ سے مدد کرے۔
Ayah 86:1111 ۔ پھر دوسری قسم ذکر کرتے ہوئے فرمایا ” والسماء ذات الرجع “ یعنی بارش والا، اس لئے کہ وہ سال لوٹتی ہے اور اس کا تکرار ہوتا ہے اور ابن عباس ؓ فرماتے ہیں وہ بادل ہیں جو بارش کے ساتھ لوٹتے ہیں۔
Ayah 86:1212 ۔” والارض ذات الصدع “ یعنی نباتات درختوں اور نہروں سے پھاڑی گئی ہے۔
Ayah 86:1313 ۔ اور جواب قسم اللہ تعالیٰ کا قول ” انہ “ ہے یعنی قرآن ” لقول فصل “ حق جو حق و باطل کے درمیان فیصلہ کرتا ہے۔
Ayah 86:1414 ۔” وما ھو بالھزل “ لعب و باطل۔
Ayah 86:1515 ۔ پھر مشرکین کے بارے میں خبر دیتے ہوئے فرمایا ” انھم یکیدون کیدا “ وہ نبی کریم ﷺ سے ڈرتے ہیں اور اس کا خلاف ظاہر کرتے ہیں جس پر وہ ہیں۔
Ayah 86:1616 ۔” واکید کیدا “ اور اللہ کا کیدوتدبیر ان کو ڈھیل دینا ہے۔ ایسی جگہ سے کہ وہ یہ نہیں جانتے۔
Ayah 86:1717 ۔” فمھل الکافرین “ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان لوگوں کو وعید ہے۔
” املھلھم رویدا “ تھوڑی سی اور ” مھل “ اور ” امھل “ کا معنی آپ انتظار کریں اور جلدی نہ کریں۔ پھر ان کو بدر کے دن پکڑا اور ” امھال “ کو آیت سیف کے ذریعے منسوخ کردیا۔