Ayah 85:11 ۔” والسماء ذات البروج۔ 2 ۔” والیوم المرعود “ وہ قیامت کا دن ہے۔
Ayah 85:2والیوم الموعود اور وشاھد ومشھود کی تفسیر میں مختلف اقوال
Ayah 85:33 ۔” وشاھد ومشھود “ حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ” الیوم الموعود “ قیامت کا دن ہے اور ” الیوم المشھود “ عرفہ کا دن ہے اور شاہد جمعہ کا دن ہے اور سورج اس جمعہ کے دن سے افضل دن پر نہ طلوع ہوتا ہے اور نہ ہی غروب ہوتا ہے اس میں ایک گھڑی اس میں بندہ نہیں موافقت کرتا کہ اللہ تعالیٰ سے اس میں خیر کی دعا کررہا ہو مگر اللہ تعالیٰ اس کی دعا قبول کرلیتے ہیں اور نہ کسی چیز سے پناہ مانگتا ہے مگر اس کو پناہ دے دیتے ہیں اور یہ ابن عباس ؓ اور اکثر حضرات کا قول یہ ہے کہ شاہد ہر جمعہ کا دن اور مشہور عرفہ کا دن اور ابن عمر ؓ سے روایت کیا گیا ہے کہ شاہد جمعہ کا دن اور مشہور یوم نحر ہے۔ سعید بن مسیب کا قول ہے کہ شاہد سے مراد یوم ترویہ اور مشہور سے مراد یوم عرفہ ہے۔
ابن نجیح مجاہد سے روایت نقل کرتے ہیں کہ شاہد سے مراد آدم اور مشہود سے مراد قیامت کا دن ہے۔ یوسف بن مہران ؓ نے حضرت ابن عباس ؓ کا قول نقل کیا ہے کہ شاہد محمد ﷺ ہیں اور اللہ نے فرمایا ہے ” وجئنا بک علی ھولاء شھیدا “ اور مشہود سے مراد روز قیامت ہے۔ اللہ نے فرمایا : ” ذلک یوم مجموع لہ الناس وذلک یوم مشھود “ اس قول پر تکرار لازم آئے گی۔ یوم موعود اور یوم مشہود دونوں ایک ہی ہوں گے۔ بعض لوگوں نے کہا : شاہد اعمال نامہ لکھنے والے فرشتے ہیں اور مشہور آدمی ہے۔ حسین بن فضل نے کہا : شاہد سے مراد ہے یہ امت اور مشہود سے مراد ہیں باقی اقوام۔ اللہ نے فرمایا ہے : ” لتکونوا شھداء علی الناس “ سالم بن عبداللہ نے سعید بن جبیر سے اس آیت کی مراد پوچھی تو سعید ؓ نے فرمایا : شاہد اللہ ہے اور مشہودہم ہیں۔ آیت : ” کفی باللہ شھیدا “ سے اس پر روشنی پڑتی ہے۔ بعض نے کہا : اعضاء انسانی شاہد ہیں، اللہ نے فرمایا : ” یوم تشھد علیھم السنتھم وایدیھم وارجلھم “ بعض کے نزدیک شاہد انبیاء ہیں اور مشہود محمد رسول اللہ ﷺ ہیں۔
اللہ نے فرمایا : ” واذاخذ اللہ میثاق النبیین…فاشھدوا انا معکم من الشھدین “ میں کہتا ہوں اگر آیت کی تفسیر میں کسی حدیث کا ورودصحیح طور پر ثابت ہوجائے تو بس وہی تفسیر معین ہے ورنہ تخصیص کی کوئی وجہ نہیں بلکہ شاہد سے ہر شاہد بالحق اور مشہود سے ہر مشہود بالحق مراد ہوگا، کوئی ہو۔ اللہ نے فرمایا : ” شھد اللہ انہ لا الہ الا ھو والملئکۃ واولوا العلم “ پس شاہد اللہ بھی ہے، ملائکہ بھی، اعمال نامے لکھنے والے فرشتے بھی ، انبیاء بھی، رسول اللہ ﷺ بھی۔ تمام مومن خصوصاً امت محمدیہ بھی اور اس امت میں سے خصوصیت کے ساتھ علماء بھی اور وہ لوگ بھی جو مقدمات کے فیصلے کرنے اور حدود قائم کرنے کے لئے سچی شہادت دیتے ہیں اور مشہود ہے کلمہ توحید، انبیاء کی صداقت اور تبلیغ رسالت، انسان کے اعمال اور ہر کلمہ حق جو کسی سچے شاہدنے کہا ہو۔ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : گواہوں کی عزت کرو، اللہ انہی کے ذریعے سے حقوق کو برآمد کرتا اور مظالم کو دفع فرماتا ہے۔ (رواہ الخطیب وابن عساکر بسند ضعیف عن ابن عباس ؓ)
Ayah 85:4اصحاب الا خدود کون لوگ تھے اور ان کا تفصیلی واقعہ
4 ۔” قتل ” اصحاب الاخدود “ ملعون تھے، خندقوں والے یعنی آگ والے۔ حضرت صہیب راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : گزشتہ اقوام میں یمن میں ایک بادشاہ تھا۔ اس کے پاس ایک جادوگر تھا، جادوگر جب بوڑھا ہوگیا تو اس نے بادشاہ سے کہا : میں تو بوڑھا ہوگیا اس لئے کوئی لڑکا میرے پاس بھیج دیجئے کہ میں اس کو سحر سکھادوں۔ بادشاہ نے ایک لڑکا اس کے پاس جادو سیکھنے کے لئے بھیج دیا۔ لڑکے کے راستہ میں ایک درویش پڑتا تھا۔ لڑکا درویش کے پاس جاتا تھا اور اس کی باتیں سنتا تھا تو اس کی باتیں اس کو پسند آجاتی تھیں۔ چناچہ جادو گر کے پاس جانے میں درویش کے پاس راستہ میں بیٹھ جانے کی وجہ سے دیر ہوجاتی تھی۔ ساحر اس کو مارتا تھا اور جادوگر کے پاس سے واپسی میں بھی لڑکا اس درویش کے پاس بیٹھ جاتا اور اس کی باتیں سنتا تھا، اس لئے گھر پہنچنے میں بھی دیر ہوجاتی تھی گھر والے بھی اس کو مارتے تھے لڑکے نے درویش سے اس بات کی شکایت کی۔ درویش نے کہا : جب تم جادوگر کے پاس پہنچا کرو تو اس سے کہہ دیا کرو کہ مجھے گھر والوں نے روک لیا تھا، اس لئے دیر ہوگئی اور گھر پہنچا کرو تو گھر والوں سے کہہ دیا کرو کہ مجھے جادوگر نے روک لیا تھا، اس لئے دیر ہوگئی۔ غرض لڑکا اسی طرح کرتا رہا۔ (ایک روز) جب راستہ میں جارہا تھا تو دیکھتا کیا ہے کہ ایک بڑے جانور (درندہ) نے لوگوں کا راستہ روک رکھا ہے ، لڑکا کہنے لگا : آج میں آزمائش کروں گا کہ درویش افضل ہے یا جادوگر ؟ یہ سوچ کر پتھر لے کر کہنے لگا : اے خدا ! اگر درویش کا معاملہ جادوگر کے معاملہ سے تجھے زیادہ محبوب ہے تو اس جانور کو قتل کردے تاکہ لوگ راستہ پرچلنے لگیں۔ یہ دعا کرکے لڑکے نے پتھر مارا اور جانور مرگیا۔ لوگ راستہ چلنے لگے اور لڑکے نے جاکر درویش سے یہ بات کہہ دی۔ درویش نے کہا : بیٹیاب تو مجھ سے افضل ہے، تیرا معاملہ اس حد تک پہنچ چکا ہے جیسا تو دیکھ رہا ہے۔ عنقریب تو مصائب میں مبتلا ہوگا۔ مصائب میں مبتلا ہوکر کہیں میرانام نہ بتادینا۔
اس کے بعد وہ لڑکا مادرزاد اندھوں اور کوڑھیوں کا اور لوگوں کے امراض کا (کامیاب) علاج کرنے لگا۔ ایک بار بادشاہ کے کسی ہم نشین نے لڑکے کی یہ شہرت سن لی، وہ نابینا ہوگیا تھا۔ لڑکے کے پاس بہت سے تحفے لے کر پہنچا اور کہا اگر تو مجھے اچھا کردے گا تو یہ سب تحفے تیرے لئے ہیں۔ لڑکے نے کہا : میں شفا کسی کو نہیں دیتا، اللہ شفا دیتا ہے اگر تو اللہ کو اور اللہ سے دعا کرنے کو مان لے گا تو اللہ تجھے شفا عطاء فرمادے گا۔ وہ ایمان لے آیا، اللہ نے اس کو شفا دے دی۔ وہ (بینا ہوکر) بادشاہ کے پاس پہنچا اور (نا بینا ہونے سے پہلے) جیسا بیٹھتا تھا جاکر بیٹھ گیا۔ بادشاہ نے پوچھا، یہ بینائی کیسے لوٹ آئی ؟ ہم نشین نے کہا میرے مالک نے لوٹا دی۔
بادشاہ نے کہا : کیا تیرا کوئی مالک میرے علاوہ اور بھی ہے ؟ ہم نشین نے کہا : وہ میرا بھی رب ہے اور تیرا بھی۔ بادشاہ نے اس کو قید کردیا اور برابر دکھ دیتا رہا۔ یہاں تک کہ اس نے لڑکے کا پتہ بتلادیا۔ لڑکے کو لایا گیا، بادشاہ نے اس سے کہا : میرے بیٹے ! تیرے سحر کی حالت اب اس حد تک پہنچ گئی کہ مادرزادنابینا اور کوڑھی کو اچھا کرنے لگا۔ لڑکے نے کہا : میں کسی کو شفا نہیں دیتا، اللہ ہی شفا دیتا ہے۔ بادشاہ نے اس کو بھی گرفتار کرلیا اور اتنا دکھ دیا کہ بالآخر اس نے درویش کا پتہ بتادیا۔ درویش کو لایا گیا اور اس سے کہا گیا اپنے مذہب سے باز آ۔ درویش نے انکار کردیا۔ بادشاہ نے اس کے وسط سر پر آرہ رکھوا کردو ٹکڑا کرادیا۔ پھر لڑکے کو بلوایا گیا اور کہا : اب بھی اپنے دین سے باز آجا۔ لڑکے نے انکار کیا۔ بادشاہ نے اپنے چند آدمیوں کو بلوا کر حکم دیا اس لڑکے کو فلاں فلاں پہاڑ کے اوپر لے جائو اور چوٹی پر پہنچ کر اگر یہ اپنا دین ترک کردے تو خیر ! ورنہ اس کو نیچے پھینک دو ۔ لوگ اس کو پہاڑ پر لے گئے۔ لڑکے نے دعا کی : الٰہی ! مجھے ان کے شر سے بچا، جس طرح تو چاہے ۔ یک دم پہاڑ میں زلزلہ آگیا، سب گرگئے، لڑکا پھر چلتا چلتا بادشاہ کے پاس پہنچ گیا۔ بادشاہ نے پوچھا تیرے ساتھیوں کا کیا ہوا ؟ لڑکے نے کہا : اللہ نے مجھے ان سے بچا لیا۔ بادشاہ نے پھر لڑکے کو چند آدمیوں کے حوالے کرکے حکم دیا اس کو لے جاکر کشتی میں بٹھا کر سمندر میں لے جائو ۔ اگر یہ اپنے مذہب سے توبہ کرلے تو خیر ! ورنہ سمندر میں پھینک دو ۔
لوگ لڑکے کو لے گئے۔ لڑکے نے دعا کی الٰہی ! جس طرح تو چاہے مجھے ان سے بچا لے (طوفان کی وجہ سے) کشتی الٹ گئی، سب ڈوب گئے اور لڑکا چلتا چلتا پھر بادشاہ کے پاس پہنچ گیا۔ بادشاہ نے ساتھ والوں کی کیفیت دریافت کی۔ لڑکے نے کہا : اللہ نے مجھے ان سے بچا لیا (ان کو ڈبودیا) پھر کہنے لگا : جب تک میرے کہنے کے موافق تو عمل نہیں کرے گا مجھ کو قتل نہیں کرسکتا۔ بادشاہ نے پوچھا : وہ کیا بات ہے ؟ لڑکے نے کہا : ایک میدان میں لوگوں کو جمع کرو اور مجھے کسی لکڑی کے ستون سے باندھ کر لٹکا دو پھر میری ترکش سے ایک تیر لے کر کمان کے چلے میں رکھ کر ” بسم اللہ رب الغلام “ کہہ کر تیرمجھ پر چھوڑ دو اگر ایسا کرو گے تو مجھے قتل کرسکوگے۔ حسب مشورہ بادشاہ نے لوگوں کو ایک میدان میں جمع کیا۔ لڑکے کو لکڑی کے تنے سے باندھ کر لٹکادیا اور اس کی ترکش سے ایک تیر لے کر کمان کے چلہ میں رکھ کر ” بسم اللہ رب الغلام “ کہہ کر مارا۔ فورا لڑکے کی کنپٹی میں پیوست ہوگیا اور لڑکا مرگیا۔ یہ دیکھ کر لوگوں نے تین بار کہا : ہم اس لڑکے کے رب پر ایمان لائے۔ کچھ آدمیوں نے بادشاہ سے جاکرکہا : دیکھئے ! جس بات کا آپ کو اندیشہ تھا وہی واقع ہوگئی۔ سب لوگ لڑکے کے رب پر ایمان لے آئے۔
بادشاہ نے کوچوں کے دہانوں پر خندق کھودنے کا حکم دیا۔ خندقیں کھودی گئیں تو ان میں لکڑیاں بھرکر آگ لگا دی اور حکم دے دیا کہ جو شخص اپنے مذہب سے نہ پھرے، اس کو خندق میں ڈال دو ۔ لوگ حکم کی تعمیل کرنے لگے۔ آخر ایک عورت بھی آئی جس کے پاس چھوٹا بچہ تھا، عورت خندق میں گرنے سے جھجکی لیکن بچہ نے کہا : اماں ثابت قدم رہ ! بلا شبہ تو حق پر ہے (صحیح مسلم)
عطاء نے حضرت ابن عباس ؓ کی روایت سے ایسا ہی قصہ نقل کیا ہے جس میں حضرت ابن عباس ؓ نے یہ بھی بیان کیا کہ نجران (علاقہ یمن) میں حمیری بادشاہوں میں سے ایک بادشاہ تھا جس کا نام یوسف ذونو اس بن شرحبیل تھا۔ یہ واقعہ حضرت رسول خدا ﷺ کی ولادت مبارک سے ستر سال پہلے کا ہے، اس زمانہ میں کوئی نبی نہ تھا اور اس لڑکے کا نام عبداللہ بن تامر تھا۔ محمد بن اسحق نے وہب بن منبہ کے حوالے سے لکھا ہے کہ ذونواس نے بارہ ہزار آدمی جلادیئے۔ پھر ارباط (حبشی) نے یمن فتح کرلیا اور ذونواس بھاگ کر مع گھوڑے کے سمندر میں گھس گیا اور ڈوب گیا۔ کلبی (رح) نے بیان کیا کہ ذونواس نے عبداللہ بن تامر ؓ کو قتل کیا تھا۔
محمد بن عبداللہ بن ابی بکر الصدیق ؓ نے بیان کیا کہ حضرت عمر بن خطاب ؓ کے زمانہ میں کوئی نہر کھودی گئی تھی تو دیکھا گیا کہ سر کو چھوڑ دیا جاتا تھا تو ہاتھ لوٹ کر اپنی جگہ پہنچ جاتا تھا اور لوہے کی ایک مہر بھی عبداللہ کی انگلی میں پڑی تھی جس میں ” ربی اللہ “ لکھا تھا۔ حضرت عمر ؓ کو اس کی اطلاع پہنچی تو آپ ؓ نے لکھ بھیجا کہ عبد (یعنی عبداللہ) اور اس کی انگوٹھی کو اسی حالت پر رہنے دو جس حالت میں تم نے اس کو پایا ہے۔ اس کے بعد اور واقعات بھی امام بغوی نے ذکر کیے ہیں جن کا ذکر ماقبل سورة یسین میں کردیا گیا ہے۔ ” اصحاب الاخدود “ کے متعلق کچھ دوسری روایات بھی آئی ہیں لیکن قوت میں مسلم کی روایت کے ہم پلہ کوئی نہیں۔ اس لئے ناقابل التفات ہیں۔
Ayah 85:55 ۔” النار ذات الوقود “ بھڑکتی ہوئی۔ یہ آگ کی صفت ہے کہ کثرت التہاب کی وجہ سے آگ کی بڑائی کو ظاہر کررہی ہے۔ الف لام جنسی ہے۔
ربیع بن انس کا قول ہے جن مومنوں کو آگ میں پھینکا گیا تھا۔ آگ کے مس کرنے سے پہلے ہی اللہ نے ان کی روحوں کو قبض کرلیا تھا اور اس طرح (جلنے سے) ان کو محفوظ رکھا تھا اور خندق کے کناروں پر بیٹھے ہوئے کافروں کو آگ کے شعلوں نے خندق سے نکال کر جلا دیا تھا۔
Ayah 85:66 ۔” اذھم علیھا قعود “ یعنی جب خندقوں کے کناروں کے پاس کرسیوں پر وہ لوگ بیٹھے ہوئے تھے۔ (مجاہد)
Ayah 85:77 ۔” وھم علی مایفعلون بالمومنین شھود “ اورہ مسلمانوں کے عذاب کو دیکھ رہے تھے یعنی ان کی غفلت کی حالت میں مومنوں پر یہ عذاب نہیں ہورہا تھا یا یہ مطلب ہے کہ بادشاہ کے پاس جاکر شہادت دے رہے تھے کہ فلاں فلاں شخص کے متعلق جو ڈیوٹی کی گئی تھی اس میں کوتاہی اس نے نہیں کی، یا بہ مطلب ہے کہ قیامت کے دن جبکہ ان کی زبانیں اور ہاتھ، پائوں شہادت دیں گے وہ خود مومنوں کو عذاب دینے کے شاہد ہوں گے۔
Ayah 85:88 ۔” وما نقموا منھم الا ان یومنوا باللہ “ یعنی کافروں کو مومنوں کی طرف سے سوائے اس کے اور کوئی ناگواری نہ تھی کہ مومنوں کا ایمان اللہ پر تھا۔ ” ان یومنوا نقموا “ کا مفعول ہے اور چونکہ ” نقموا “ ماضی ہے اس لئے ” یومنوا “ (مضارع) بھی ماضی کے معنی میں ہے۔ مطلب یہ ہے کہ مومنوں کی طرف سے کسی کمال، شرف اور ذاتی محاسن کا کوئی ایسامظاہرہ نہ تھا جس کو کافرون نے اپنی جہالت اور بدبختی کی وجہ سے مذکورہ عذاب کا موجب قرار دیا ہو بلکہ (مومنوں کی بری بات بس یہ تھی کہ) وہ اللہ پر ایمان لے آئے تھے۔ ” العزیز “ ایسا غالب جو اتنا با اقتدار ہے کہ اس کے عذاب کا اندیشہ کیا جاتا ہے۔ ” الحمید “ ایسا مستحق حمد محسن کہ اس سے ثواب کی امید کی جاتی ہے۔
Ayah 85:99 ۔”(الذی لہ ملک السموات والارض واللہ علی کل شیئ) ان کے تمام افعال میں (شھید) گوا ہیں۔
Ayah 85:1010 ۔” ان الذین فتنوا “ جن کو عذاب دیا گیا اور جن کو جلایا گیا۔ ” المومنین والمومنات “ جیسا کہ کہا جاتا ہے ” فتنت الشیئ “ جب اس کو جلایا جائے ۔ اس کی نظیر یہ آیت ہے ” یومھم علی النار یفتنون “… ” ثم لم یتوبوا فلھم عذاب جھنم “ عذاب جہنم سے مراد ان کا کفر ” ولھم عذاب الحریق “ مومنین کو جلایا گیا۔ بعض نے کہا کہ ” ولھم عذاب الحریق “ سے مراد دنیا کا عذاب ہے۔ ان کو دنیاوی آگ میں جلایا گیا تو اللہ ان کو آخروی آگ میں جلائے گا۔
Ayah 85:1111 ۔ پھر ذکر کیا جو مومنین کے لئے تیار کیا ہے۔ پس فرمایا ” ان الذین امنوا وعملوا الصالحات لھم جنات تجری من تحتھا الانھار ذلک الفوز الکبیر “ اور انہوں نے جواب قسم میں اختلاف کیا ہے۔ پس ان میں سے بعض نے کہا اس کا جواب ” قتل اصحاب الاخدود “ یعنی لقدقتل ہے اور کہا گیا ہے اس میں تقدیم و تاخیر ہے۔ اسکی تقدیر قتل ” اصحاب الاخدود والسماء ذات البروج “ ہے اور قتادہ (رح) فرماتے ہیں اس کا جواب
Ayah 85:1212 ۔” ان بطش ربک لشدید “ ہے۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں بیشک اس کا عذاب میں پکڑنا جب ظالموں کو پکڑتا ہے۔ البتہ بہت سخت ہے جیسے اللہ تعالیٰ کا قول ” ان اخذہ الیم شدید “ ہے۔
Ayah 85:1313 ۔” انہ ھویبدی ویعید “ یعنی ان کو ابتداء دنیا میں پیدا کرنے کے ساتھ پھر ان کو زندہ کرکے لوٹائے گا موت کے بعد۔
Ayah 85:1414 ۔” وھوالغفور “ مومنین کے گناہوں کو۔” الودود “ ان سے محبت کرنے والا ہے اور کہا گیا ہے اس کا معنی مودود محبت کیا ہوا ہے۔ جیسے حلوب اور رکوب محلوب اور مرکوب کے معنی میں ہوتے ہیں اور کہا گیا ہے کہ وہ معاف کرتا ہے اور معاف کرنے کو پسند کرتا ہے اور کہا گیا ہے اپنے اولیاء سے مغفرت کے ذریعے دوستی کرنے والا ہے۔
Ayah 85:1515 ۔” ذوالعرش المجید “ حمزہ اور کسائی نے ” المجید “ زیر کے ساتھ پڑھا، عرش کی صفت ہونے کی بناء پر یعنی بڑے تخت والا اور کہا گیا ہے اس کا حسن مراد ہے تو اس کو مجد کی صفت کے ساتھ موصوف کیا جیسا کہ اس کو کرم کی صفت کے ساتھ موصوف کرتے ہوئے فرمایا ” رب العرش الکریم “ اور اس کا معنی کمال ہے اور عرش تمام اشیاء میں سے احسن اور اکمل ہے اور دیگر حضرات نے پیش کے ساتھ پڑھا ہے ذوالعرش کی صفت ہونے کی بناء پر۔
Ayah 85:1616 ۔” فعال لمایرید “ اس کو وہ چیز عاجز نہیں کرسکتی جس کا وہ ارادہ کرے اور اس سے وہ چیز رک نہیں سکتی جس کو وہ طلب کرے۔
Ayah 85:1717 ۔” اللہ تعالیٰ کا قول ” ھل اتاک حدیث الجنود “ تحقیق آپ کے پاس ان کافروں کے لشکر کی خبر آچکی ہے جنہوں نے انبیاء (علیہم السلام) پر لشکر کشی کی۔ پھر بیان کیا کہ وہ کون ہیں ؟
Ayah 85:1818 ۔ تو فرمایا ” فرعون وثمود۔
Ayah 85:1919 ۔ بل الذین کفروا “ آپ (علیہ السلام) کی قوم میں سے اے محمد ! (ﷺ )…” فی تکذیب “ آپ (علیہ السلام) اور قرآن کی ان لوگوں کے طریقہ پر ہیں جو ان سے پہلے تھے اور انہوں نے اپنے سے پہلے کفار سے عبرت حاصل نہیں کی۔
Ayah 85:2020 ۔” واللہ من ورائھم محیط “ ان کو جاننے والا ہے اس پر ان کے اعمال میں سے کچھ مخفی نہیں ہے وہ اس پر قادر ہے کہ ان پر وہ اتارے جوان سے پہلے لوگوں پر اتارا۔
Ayah 85:2121 ۔” بل ھوقرآن مجید “ معزز مرتبہ والا کثرت خیر والا۔ یہ ویسا نہیں ہے جیسا کہ مشرکین نے گمان کیا کہ یہ شعر اور کہانت ہے۔
Ayah 85:2222 ۔” فی لوح محفوظ “ نافع نے محفوظ پیش کے ساتھ پڑھا ہے قرآن کی صفت ہونے کی بناء پر کیونکہ قرآن تبدیلی اور تحریف سے محفوظ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ” انا نحن نزلنا الذکر وانا لہ لحافظون “ اور دیگر حضرات نے زیر کے ساتھ پڑھا ہے لوح کی صفت ہونے کی بناء پر اور یہ وہ لوح ہے جو لوح محفوظ کے ساتھ مشہور ہے اور یہ ام الکتاب ہے اور اس سے کتابیں لکھی گئی ہیں شیاطین سے محفوظ ہے اور اس میں کمی و زیادتی ہونے سے بھی محفوظ ہے۔
ابن عباس ؓ سے روایت ہے فرمایا کہ لوح کے شروع میں ” لا الہ الا اللہ وحدہ، دینہ الاسلام و محمدا عبدہ ورسولہ “ لکھا ہوا ہے۔ پس جو شخص اللہ تعالیٰ پر ایمان لایا اور اس کے وعدہ کی تصدیق کی اور اس کے رسولوں کی اتباع کی اس کو جنت میں داخل کردے گا۔ فرمایا اوکر لوح سفید موتی کی تختی ہے اس کی لمبائی آسمان اور زمین کے درمیان جتنی چوڑائی جو مشرق سے مغرب تک ہے اور اس کے دونوں کنارے موتی یاقوت کے اور اس کے دونوں پہلو سرخ یاقوت کے اور اس کا قلم نور ہے اور اس کی کلام قدیم اور ہر چیز اس میں چھپی ہوئی ہے اور کہا گیا ہے اس کا اعلیٰ عرش کے ساتھ بندھا ہوا ہے اور اس کی اصل فرشتے کی گود میں ہے۔ مقاتل (رح) فرماتے ہیں لوح محفوظ عرش کے دائیں جانب ہے۔