Ayah 84:11 ۔” اذا السماء انشقت “ اس کا پھٹ جانا قیامت کی علامات میں سے ہے۔
Ayah 84:22 ۔” واذنت لربھا “ یعنی اپنے رب کے انشقاق کے امر کو سن لیا اور اس کی اطاعت کی۔ یہ اذن سے ہے اور وہ توجہ سے سننا۔ ” وحقت “ اور اس کا حق ہے کہ اپنے رب کی اطاعت کرے۔
Ayah 84:33 ۔” واذا الارض مدت “ چھوٹے چمڑے کو کھینچنا اور اس کی وسعت میں زیادتی کرنا اور مقاتل (رح) فرماتے ہیں برابر کی گئی چمڑے کے کھینچنے کی طرح۔ پس اس میں نہ کوئی عمارت باقی رہے گی اور نہ کوئی پہاڑ۔
Ayah 84:44 ۔” والقت “ نکال دیا ” مافیھا “ مردوں اور خزانوں میں سے۔ ” وتخلت “ اس سے خالی ہوجائے گی۔
Ayah 84:55 ۔” واذنت لربھا وحقت “ اور اذا کے جواب میں اختلاف کیا ہے۔ کہا گیا ہے اس کا جواب محذوف ہے اس کی تقدیر جب یہ اشیاء ہوں گی تو انسان ثواب و عقاب دیکھے گا۔
Ayah 84:66 ۔ اور کہا گیا ہے اس کا جواب ” یایھا الانسان انک کا دح الی ربک کدحا “ اور اس کا مجاز ” اذا السماء انشقت لقی کل کا دح ماعملہ “ ہے یعنی جب آسمان پھٹ جائے تو ہر کوشش کرنے والے اپنے عمل سے ملے گا اور کہا گیا ہے اس کا جواب ” واذنت “ ہے اور اس وقت وائوزائد ہوگی اور اللہ تعالیٰ کے قول ” کا دح الی ربک کدحا “ کا معنی یعنی اللہ تعالیٰ کی طرف اپنے علم میں کوشش کی اور ” الکدح “ انسان کی سعی و کوشش کرنا خیر اور شر کے امر میں حتیٰ کہ وہ اس میں اثر کرے اور قتادہ ، کلبی اور ضحاک رحمہم اللہ فرماتے ہیں تو عمل کر اپنے رب کے لئے عمل کرنا۔ ” فملاقیہ “ یعنی اپنے علم کی جزاء کو ملنے والا ہے خیر ہو یا شر۔
Ayahs 84:7–88-7 ۔…” فاما من اوتی کتابہ “ اپنے اعمال کا دفتر۔ ” بیمینہ فسوف یحاسب حسابا یسیرا “ نبی کریم ﷺ کی زوجہ مطہرہ حضرت عائشہ صدیقہ ؓ جب کوئی چیز سنتیں اور اس کو نہ پہچانتیں تو اس میں مراجعت (سوال و جواب) کرتیں حتیٰ کہ اس کو پہچان لیتیں اور بیشک نبی کریم ﷺ نے فرمایا جس کا حساب کیا گیا وہ عذاب دیا گیا۔ حضرت عائشہ صدیقہ ؓ فرماتی ہیں میں نے عرض کیا یارسول اللہ ! کیا اللہ تعالیٰ نے نہیں فرمایا ” فسوف یحاسب حسابا یسیرا “ ؟ تو آپ (علیہ السلام) نے فرمایا یہ تو اعمال کا پیش کرنا ہے لیکن جس کا حساب تفصیل سے سختی کے ساتھ لیا گیا وہ ہلاک ہوجائے گا۔
Ayah 84:99 ۔” وینقلب الی ھلہ “ یعنی جنت میں حورعین اور انسان عورتوں میں سے۔ ” مسرورا “ اس کے ساتھ جو خیر اور اعزاز دیا گیا ہے۔
Ayah 84:1010 ۔” واما من اوتی کتابہ وراء ظھرہ “ پس اس کا دایاں ہاتھ اس کی گردن کی طرف باندھا جائیگا اور اس کا بایاں ہاتھ اس کی پیٹھ کے پیچھے کردیا جائے گا۔ پھر اس کا اعمال نامہ اس کے بائیں ہاتھ میں اس کی پیٹھ کے پیچھے کردیا جائے گا اور مجاہد (رح) فرماتے ہیں اس کا بایاں ہاتھ اسکی پیٹھ کے پیچھے منتقل کردیاجائے گا۔
Ayah 84:1111 ۔” فسوف یدعو ا ثبورا “ ویل اور ہلاکت کی آواز لاگئے گا جب اپنا نامہ اعمال پڑھے گا کہے گا اے ہلاکت اے بربادی ! اللہ تعالیٰ کے فرمان ” دعوا ھنالک ثبورا “۔
Ayah 84:1212 ۔” ویصلیٰ سعیرا “ ابو جعفر، اہل بصرہ ، عاصم اور ہمزہ نے ” ویصلیٰ “ یاء کے زبر کے ساتھ تخفیف پڑھا ہے جیسے کہ اللہ تعالیٰ کا قول ” یصلی النار الکبری “ ہے اور دیگر حضرات یاء کے پیش کے ساتھ اور صاد کے زبر کے ساتھ اور لام کی شد کے ساتھ پڑھا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے قول ” وتصلیۃ جحیم “ اور ” ثم الجحیم صلوہ “ کی وجہ سے۔
Ayah 84:1313 ۔” انہ کان فی اھلہ مسرورا “ یعنی دنیا میں اپنی خواہش کی اتباع اور شہوات پر سوار ہونے کی وجہ سے۔
Ayah 84:1414 ۔” انہ ظن ان لن یحور “ کہ وہ ہماری طرف ہرگز نہیں لوٹے گا اور ہرگز نہیں اٹھایا جائے گا۔
Ayah 84:1515 ۔ پھر فرمایا ” بلی “ یعنی ویسے نہیں ہے جو اس نے گمان کیا بلکہ وہ ہماری طرف لوٹے گا اور اٹھایا جائے گا۔ ” ان ربہ کان بہ بصیرا “ اس کو پیدا کیا یہاں تک کہ اس کو اٹھایا۔
Ayah 84:1616 ۔” فلا اقسم بالشفق “ مجاہد (رح) فرماتے ہیں وہ مکمل دن ہے اور عکرمہ (رح) فرماتے ہیں جو دن میں سے باقی رہا اور ابن عباس ؓ اور اکثر مفسرین رحمہما اللہ نے فرمایا ہے وہ سرخی جو سورج کے غروب ہونے کے بعد افق کے باقی رہ جاتی ہے اور ایک قوم نے کہا ہے وہ سفیدی جو اس سرخی کے بعد آتی ہے۔
Ayah 84:1717 ۔” واللیل وما وسق “ یعنی جمع کیا اور ملایا۔ کہا جاتا ہے ” وسقتہ اسقہ وسقا “ یعنی میں نے اس کو جمع کیا اور ” استوثقت الابل “ جب وہ جمع کیے جائیں اور ملائے جائیں اور معنی قسم ہے رات کی اور اس کی جو جمع کیا جائے اور ملایا جائے جو دن میں چوپایوں میں سے منتشر تھے کیونکہ رات جب آتی ہے تو ہر چیز اپنے ٹھکانہ کی طرف لوٹتی ہے۔
مجاہد (رح) فرماتے ہیں جو لپیٹے اور ملائے اور اس پر تاریکی کرے اور مقاتل بن حیان (رح) فرماتے ہیں جو آگے آئے تاریکی یا ستاروں میں سے اور سعید بن جبیر (رح) فرماتے ہیں اور جو اس میں عمل کیا۔
Ayah 84:1818 ۔” والقمر اذا اتسق “ جمع ہوجائے اور سیدھا ہوجائے اور اس کانو ر مکمل ہوجائے اور وہ ایام بیض میں ہوتا ہے اور قتادہ (رح) فرماتے ہیں گھومے اور یہ اقسعل کے وزن پر وسق سے ہے جس کا معنی جمع ہونا ہے۔
Ayah 84:1919 ۔” لترکبن طبقا عن طبق “ اہل مکہ، حمزہ اور کسائی رحمہما اللہ نے ” لترکبن “ باء کے زبر کے ساتھ پڑھا ہے۔ یعنی اے محمد ! (ﷺ ) آپ ضرور سوار ہوں گے۔ شعبی اور مجاہد نے کہا آسمان کے بعد آسمان۔ کلبی (رح) فرماتے ہیں یعنی آپ ان پر چڑھیں گے اور یہ بھی ممکن ہے کہ ہر درجہ کے بعد درجہ اور مرتبہ کے بعد مرتبہ اللہ تعالیٰ کے قرب اور بلندی میں۔ مجاہد (رح) سے روایت ہے کہ ابن عباس ؓ نے فرمایا ” لترکبن طبقا عن طبق “ ایک حال کے بعد دوسرا حال۔ کہا یہ تمہارے نبی ہیں اور کہا گیا ہے اس سے آسمان کو مراد لیا ہے جو ایک رنگ کے بعد دوسرا رنگ تبدیل کرتا ہے۔ پس کبھی سرخ چمڑے کی طرح ہوتا اور کبھی زیتون کے پتلے تیل کی طرح (یا پگھلی ہوئی دھاتوں کی طرح) پھر ایک مرتبہ بادلوں سے چھٹ جاتا ہے اور دوسری مرتبہ بادلوں میں لپٹ جاتا ہی اور دیگر حضرات نے باء کے پیش کے ساتھ پڑھا ہے اس لئے کہ معنی لوگوں کے زیادہ مشابہہ اس لئے کہ اس سے پہلے ذکر کیا گیا ہے ” فاما من اوتی کتابہ بیمینہ وشمالہ “ اور اس کے بعد ذکر کیا ” فمالھم لا یومنون “ اور مراد یہ ہے کہ تم ایک حال کے بعد دوسری حالت اور ایک امر کے بعد دوسرے امر پر سوار ہوگے قیامت کے موقف میں۔ یعنی احوال جوان پر پلٹیں گے تو وہ آخرت میں اس حال کے علاوہ پر ہوں گے جس پر وہ دنیا میں تھے اور ” عن “ بعد کے معنی میں ہے اور مقاتل (رح) فرماتے ہیں یعنی موت پر زندگی پھر موت پھر زندگی اور عطائؒ فرماتے ہیں کبھی فقیر اور کبھی مالدار۔ عمرو بن دینار نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے یعنی سختیاں اور ہولناکیاں، موت پھر اٹھنا پھر پیش ہونا اور عکرمہ (رح) اللہ ایک حالت کے بعددوسری حالت دودھ پیتا بچہ پھر دودھ کا چھڑوانا پھر لڑکپن، پھر جوان، پھر بوڑھا اور ابوعبیدہ (رح) فرماتے ہیں تم اپنے سے پہلے لوگوں کے طریقوں اور احوال پر سوار ہوگے۔ ابو سعید خدری ؓ نے نبی کریم ﷺ سے روایت کیا ہے کہ تم اپنے سے پہلے لوگوں کے طریقوں کی پیروی کرو گے بالشت بالشت کے ساتھ اور گز گز کے ساتھ۔ حتیٰ کہ اگر وہ گوہ کے سوراخ میں داخل ہوئے ہوں گے تو تم ان کے پیچھے جائو گے، کہا گیا یارسول اللہ ! (ﷺ ) یہودونصاریٰ ؟ آپ (علیہ السلام) نے فرمایا تو اور کون۔
Ayah 84:2020 ۔” فمالھم لا یومنون “ یہ استفہام انکار کا ہے۔
Ayah 84:2121 ۔” واذا قری علیھم القرآن لا یسجدون “ کلبی اور مقاتل رحمہما اللہ فرماتے ہیں وہ نماز نہیں پڑھتے۔ حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے فرماتے ہیں ہم نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ” اقراباسم ربک “ اور ” اذا السماء انشقت “ میں سجدہ کیا۔
ابورافع سے روایت ہے فرماتے ہیں میں نے ابوہریرہ ؓ کے عتمہ (عشائ) کی نماز پڑھی تو انہوں نے ” اذا السماء انشقت “ پڑھی تو سجدہ کیا۔ میں نے کہا یہ کیا ہے ؟ انہوں نے فرمایا میں نے اس پر ابوالقاسم ﷺ کے پیچھے سجدہ کیا۔ پس میں ہمیشہ اس میں سجدہ کرتا رہوں گا حتیٰ کہ میں ان کو جاملوں۔
Ayah 84:2222 ۔” بل الذین کفروا یکذبون “ قرآن اور بعث کو۔
Ayah 84:2323 ۔” واللہ اعلم بما یوعون “ ان کے سینوں میں تکذیب سے۔ مجاہد (رح) فرماتے ہیں وہ چھپاتے ہیں۔
Ayahs 84:24–2525-24 ۔…” فبشرھم بعداب الیم۔ الا الذین امنوا وعملوا الصالحات لھم اجر غیر ممنون “ نہ ختم ہوگا اور نہ کم ہوگا۔