Ayah 83:1ناپ تول میں کمی کرنے والوں کے متعلق وعید
1 ۔” ویل للمطففین “ یعنی وہ لوگ جو ماپ اور تول میں کمی کرتے ہیں اور لوگوں کو ان کے حقوق کم دیتے ہیں۔ زجاج (رح) فرماتے ہیں اس شخص کو جو ماپ اور تول میں کمی کرے ” مطفف “ کہا گیا ہے اس لئے کہ وہ ماپ اور تول میں تھوڑی سی چیز چوری کرتا ہے۔ ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ مدینہ تشریف لائے تو وہ لوگ لوگوں میں سب سے خبیث ترین ماپ والے تھے، پھر اللہ تعالیٰ نے نازل کیا۔ ” ویل للمطففین “ تو ان لوگوں نے ماپ کو خوب اچھا کردیا اور سدی (رح) فرماتے ہیں رسول اللہ ﷺ مدینہ تشریف لائے اور اس میں ایک شخص تھا جس کو ابو جہینہ کہا جاتا تھا اس کے پاس دو صاح (ماپ کے پیمانے) تھے ایک میں لوگوں کو کیل کرکے دیتا تھا اور دوسرے کے ذریعے خود ان سے ماپ کرلیتا تھا تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی۔ پس اللہ تعالیٰ ماپ تول میں کمی کرنے والوں کے ویل کو مقرر کیا۔
Ayah 83:22 ۔ پھر بیان کیا کہ ” مطففین “ کون لوگ ہیں ؟ تو فرمایا۔ ” الذین اذا اکتالوا علی الناس یستوفون “ اور مراد یہ ہے کہ جب وہ لوگوں سے ماپ کر کوئی چیز لیتے ہیں۔ ” یعنی اخذوا منھم “
اور ” من “ اور ” علی “ ایک دوسرے کی جگہ آتے رہتے ہیں۔ زجاج (رح) فرماتے ہیں معنی یہ ہے جب وہ لوگوں سے ماپ کرلیتے ہیں تو ان پر ماپ پورا پورا وصول کرتے ہیں اور مراد یہ ہے کہ جب خود کے لئے کوئی چیز خریدتے ہیں تو ماپ وتول پورا وصول کرتے ہیں۔
Ayahs 83:3–43-4” واذا کالوھم او وزنوھم یخسرون “ یعنی ان لوگوں کے لئے ماپ کریں یا وزن کریں۔ کہا جاتا ہے ” وزنتک حقک وکلتک طعامک “ یعنی میں نے تیرے لئے وزن کیا اورت یرے لئے کیل کیا۔ جیسا کہ کہا جاتا ہے ” نصحتک ونصحت لک وشکرتک وشکر لک کتبتک وکتبت لک “ ابوعبیدہ کہتے ہیں عیسیٰ بن عمران دونوں کو دو حرف بناتے تھے وقف کرتے تھے۔ ” کالوا اور وزنوا “ پر اور ابتداء کرتے تھے ” ھم یخسرون “ ابو عبیدہ (رح) فرماتے ہیں اور پسندیدہ پہلا قول ہے یعنی یہ تمام ایک کلمہ ہے اس لئے کہ انہوں نے ان دونوں کو بغیر الف کے لکھا ہے اور اگر دونوں جدا ہوتے تو لکھا جاتا ” کالوا او وزنوا “ الف کے ساتھ جیسا کہ تمام افعال ” جائو وقالوا “ وغیرہ لکھے جاتے ہیں اور مصاحف متفق ہیں الف کے ساقط کرنے پر اور اس لئے کہ لغت میں کہا جاتا ہے۔ ” کلتک وزنتک “ جیسا کہ کہا جاتا ہے ” کلت لک وزنت لک “ اور باری تعالیٰ کا قول ” یخسرون “ یعنی کم کرتے ہیں۔ نافع (رح) کہتے ہیں ابن عمر ؓ بائع پر گزرتے تو فرماتے اللہ سے ڈرا اور ماپ وتول پورا کر۔ پس بیشک ماپ تول میں کمی کرنے والے قیامت کے دن ٹھرائے جائیں گے حتیٰ کہ وہ اپنے پسینہ میں آدھے کانوں تک ڈوبے ہوں گے۔
Ayah 83:55 ۔” الا یظن “ یقین رکھتا۔ ” اولئک “ وہ لوگ جو یہ کرتے ہیں ” انھم مبعوثون لیوم عظیم “ یعنی قیامت کا دن۔
Ayah 83:66 ۔” یوم یقوم الناس “ اپنی قبروں سے۔ ” لرب العالمین “ یعنی اس کے امر اور جزاء اور حساب کے لئے ۔ عبداللہ بن عمررضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا لوگ رب العالمین کے لئے کھڑے ہوں گے حتیٰ کہ ان میں سے ایک اپنے پسینہ میں کانوں کے نصف تک چھپ جائے گا۔ مقدادرسول اللہ ﷺ کے صحابی ؓ فرماتے ہیں میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا جب قیامت کا دن ہوگا، سورج بندوں کے قریب کردیا جائے گا حتیٰ کہ ایک میل یا دو میل کے بقدر ہوگا۔ سلیم کہتے ہیں (راوی حدیث) میں نہیں جانتا، زمین کی مسافت کا میل یا وہ میل (سرمچو) جس سے آنکھ میں سرمہ ڈالا جاتا ہے۔ فرمایا پھر سورج ان کو خوب گرم کردے گا۔ پس وہ پسینہ میں ہوں اپنے اعمال کے مطابق۔
پس ان میں سے بعض کو پسینہ ان کی ایڑیوں تک پکڑے گا اور ان میں سے بعض کو گھٹنوں تک لے گا اور ان میں سے بعض کو تہبند باندھنے کی جگہ تک اور ان میں سے بعض پسینہ میں ڈوبے ہوں گے تو میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا کہ آپ (علیہ السلام) اپنے ہالھ سے اپنے منہ کی طرف اشارہ کرکے فرما رہے تھے کہ پسینہ اس کو یہاں تک ڈبودے گا۔
Ayah 83:77 ۔ اللہ تعالیٰ کا قول ” کلا “ ان پر رد ہے۔ یعنی معاملہ ویسے نہیں ہے جس پر وہ تھے۔ پس چاہیے کہ وہ ہٹ جائیں اور کلام یہاں مکمل ہے اور حسن (رح) فرماتے ہیں ” کلا “ ابتداء ہے اپنے مابعد سے متصل ہے حقا کے معنی پر۔ ” ان کتاب الفجار “ جس میں ان کے اعمال لکھے ہوئے ہیں۔ ” لفی سجین “ عبداللہ بن عمرو، قتادہ، مجاہد اور ضحاک رحمہما اللہ فرماتے ہیں ” سجین “ وہ ساتویں زمین نیچے والی اس میں کافروں کی روحیں ہیں۔
براء ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ” سجین “ سات زمینوں میں سے سب سے نیچے والی ہے اور علیون ساتویں آسمان میں عرش کے نیچے ہے۔ سمرہ بن عطیہ کہتے ہیں ابن عباس ؓ کعب احبار کے پاس آئے تو کہا آپ مجھے اللہ تعالیٰ کے فرمان ” ان کتاب الفجار لفی سجین “ کے بارے میں خبر دیں تو انہوں نے کہا کہ فاجر کی روح کو آسمان کی طرف چڑھایا جاتا ہے تو آسمان اس کو قبول کرنے سے انکار کردیتے ہیں۔ پھر وہ سات زمینوں کے نیچے داخل ہوتی ہے حتیٰ کہ اس کی انتہا ” سجین “ تک ہوتی ہے اور وہ ابلیس کے لشکر کی جگہ ہے۔
پھر اس کے لئے ابلیس کے لشکر کے نیچے سے ایک کاغذ نکالا جاتا ہے ۔ پھر اس پر لکھا جاتا ہے اور مہر لگائی جاتی ہے اور اس کو ابلیس کے لشکر کے نیچے رکھ دیا جاتا ہے اس کے یوم قیامت کے حساب کی وجہ سے اپنی ہلاکت کو پہچاننے کی وجہ سے اور اسی طرف سعیدبن جبیر (رح) گئے ہیں۔ انہوں نے فرمایا ” سجین جند ابلیس “ کے نیچے ہے اور عطاء خراسانی فرماتے ہیں وہ نیچے والی زمین ہے اور اس میں ابلیس اور اس کی اولاد ہے اور کلبی (رح) فرماتے ہیں وہ چٹان سبز ہے ساتویں نیچے والی زمین کے نیچے اور آسمان کی سبزی اس کی وجہ سے فجار کی کتاب اس کے نیچے بنائی جائے گی۔ ابن ابی نجیع نے مجاہد سے بھی اسی طرح روایت کیا ہے۔ فرمایا ” سجین “ نچلی زمین کے نیچے چٹان ہے۔ پس فجار کی کتاب اس میں رکھی جائے گی اور وہب (رح) فرماتے ہیں یہ ابلیس کی سلطان کا آخر ہے اور حدیث میں آیا ہے ” فلق “ جہنم میں ڈھانپا ہوا دانہ ہے اور سجین جہنم میں کھلا دانہ ہے۔ عکرمہ (رح) فرماتے ہیں ” لفی سجین “ خسارے اور گمراہی میں اور اخفش (رح) فرماتے ہیں یہ فعیل کے وزن پر سجن سے ہے جیسا کہ کہا جاتا ہے ” فسیق وشریب “ اس کا معنی البتہ قید اور سخت تنگی میں ہے۔
Ayah 83:88 ۔” وما ادراک ما سجین “ زجاج (رح) فرماتے ہیں یعنی ہے نہیں ہے یہ ان میں سے جن کو آپ جانتے ہیں اور نہ آپ کی قوم۔
Ayah 83:99 ۔” کتاب مرقوم “ یہ سجین کی تفسیر نہیں ہے بلکہ وہ اس کتاب کا بیان ہے جو اللہ تعالیٰ کے قول ” ان کتاب الفجار “ میں مذکور ہے یعنی ” ھو کتاب الفجار مرقوم “ یعنی وہ لکھی ہوئی کتاب ہے جس میں ان کے اعمال لکھے ہوئے ہیں، ان پر ثابت ہیں جیسے کپڑے میں نقش، نہ وہ بھلائی جاتی ہے اور نہ مٹائی جاتی ہے حتیٰ کہ وہ اس کا بدلہ دیئے جائیں اور قتادہ اور مقاتل رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ اس پر اس کے شرکاء کی وجہ سے ایک علامت لکھی گئی ہے جس کے ذریعے پہچانا جائے گا کہ وہ کافر ہے اور کہا گیا مہر لگائی ہوئی ہے حمیر کی لغت میں۔
Ayahs 83:10–1310 ۔” ویل یومئذ للمکذبین
Ayah 83:1414 ۔” کلا “ مقاتل (رح) فرماتے ہیں یعنی وہ ایمان نہ لائیں گے۔ پھر استئناف کرتے ہوئے فرمایا ” بل ران علی قلوبھم ماکانوا یکسبون “۔
حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا بیشک مومن جب گناہ کرتا ہے تو اس کے دل میں ایک سیاہ نکتہ لگ جاتا ہے۔ پس اگر توبہ کرے اور کھینچے اور استغفار کرے تو اپنے دل کو اس سے صاف (مانجھ) کردیا اور اگر گناہ زیادہ کیے تو نکتے زیادہ ہوں گے حتیٰ کہ اس کے دل پر غالب ہوجائیں گے۔ پس یہ ران ہے جس کا اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں ذکر کیا ہے۔ ” کلابل ران علی قلوبھم ماکانوا یکسبون “ اور ان کی اصل غلبہ ہے۔ کہا جاتا ہے ” رانت الخمر علی عقلہ ترین رینا وریونا “ جب شراب کا نشہ اس کی عقل پر غالب ہوجائے اور آیت کا معنی ان کے دلوں پر معاصی غالب ہوگئے اور ان کا احاطہ کرلیا۔ حسن (رح) فرماتے ہیں وہ گناہ پر گناہ ہے حتیٰ کے دل مرجائے۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں ” ران علی قلوبھم “ مہر لگادی گئی ہے ان پر۔
Ayah 83:1515 ۔” کلا انھم عن ربھم یومئذ لمحجوبون “ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کلا مراد یہ ہے کہ وہ سچ نہیں بولتے۔ پھر استئناف کرتے ہوئے فرمایا ” انھم عن ربھم یومئذ لمحجوبون “ ان میں سے بعض نے کہا ہے اس کے اعزاز اور رحمت سے روکے جائیں گے اور قتادہ (رح) فرماتے ہیں وہ یہ ہے کہ نہ ان کی طرف نظر کریں گے اور نہ ان کو پاک کریں گے اور اکثر مفسرین رحمہم اللہ فرماتے ہیں اس کو دیکھنے سے۔ حسن (رح) فرماتے ہیں اگر زاہدوں اور عابدوں کو معلوم ہوجائے کہ وہ آخرت میں اپنے رب کو نہ دیکھ سکیں گے تو دنیا میں ان کے نفوس نکل جائیں۔ حسین بن فضل فرماتے ہیں جیسا کہ دنیا میں ان کو اپنی توحید سے روکا، آخرت میں ان کو اپنی رئویت سے روک دے گا اور مالک (رح) سے اس آیت کے بارے میں سوال کیا گیا تو فرمایا جب اپنے دشمنوں کے لئے رکاوٹ کردیں گے تو اپنے اولیاء کے لئے ظاہر ہوجائیں گے حتیٰ کہ وہ اس کو دیکھ لیں گے اور امام شافعی (رح) نے اللہ تعالیٰ کے قول ” کلا انھم عن ربھم یومئذ لمحجوبون “ کے بارے میں فرمایا ہے کہ یہ دلالت ہے اس پر کہ اللہ کے اولیاء اللہ کو سامنے واضح دیکھیں گے۔ پھر خبر دی کہ کفار اللہ تعالیٰ سے محجوب ہونے کے باوجود جہنم میں داخل ہوں گے تو فرمایا۔
Ayah 83:1616 ۔” ثم انھم لصالوا الجحیم “ البتہ جہنم میں داخل ہوں گے۔
Ayah 83:1717 ۔” ثم یقال “ یعنی ان کو داروغے کہیں گے ” ھذا “ یعنی یہ عذاب ” الذی کنتم بہ تکذبون “
Ayah 83:1818 ۔” کلا “ مقاتل (رح) فرماتے ہیں وہ اس عذاب سے امن میں نہ ہوں گے جس میں داخل ہوں گے۔ پھر ابرار کی کتاب کی جگہ بیان کرتے ہوئے فرمایا ” ان کتاب الابرار لفی علیین “ برائ ؓ سے مرفوعاً روایت کیا گیا ہے کہ علیین ساتویں آسمان میں عرش کے نیچے ہے اور ابن عباس ؓ فرماتے ہیں وہ سبز زمرد کی تختی ہے عرش کے نیچے لٹکی ہوئی ہے ان کے اعمال اس میں لکھے ہوئے ہیں اور کعب اور قتادہ رحمہما اللہ فرماتے ہیں وہ عرش کا دایاں پایہ ہے اور عطاء نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے وہ جنت ہے اور ضحاک (رح) فرماتے ہیں سدرۃ المنتہیٰ ہے اور بعض اہل معانی نے کہا ہے بلندی کے بعد بلندی اور شرف کے بعد شرف ہے۔ اس لئے اس کی جمع یاء اور نون کے ساتھ لائی گئی ہے اور فراء (رح) فرماتے ہیں وہ اسم ہے جو جمع کے صیغہ پر وضع کیا گیا ہے اس کا اس کے لفظ سے کوئی واحد نہیں ہے جیسے عشرین اور ثلاثین۔
Ayah 83:1919 ۔” وما ادراک ماعلییون۔
Ayah 83:2020 ۔” کتاب مرقوم “ یہ علیین کی تفسیر نہیں ہے۔ یہ اس کتاب کا بیان ہے جو اللہ تعالیٰ کے قول ” ان کتاب فجار میں ذکر کیا اور کہا گیا ہے وہاں لکھا ہے جو اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے اعزاز تیار کررکھا ہے۔
اور یہ مقاتل (رح) کا قول کا معنی ہے اور کہا گیا ہے ان کے لئے خبر کو لکھا گیا ہے اور آیت کی تقدیر تقدیم و تاخیر پر ہے اس کا مجاز یہ ہے ” ان کتاب الابرار کتاب مرقوم فی علیین “ اور وہ فرشتوں کی جگہ ہے اور اس کی مثل کتاب مرقوم فی سجین ہے اور وہ ابلیس اور اس کے لشکر کی جگہ ہے۔
Ayah 83:2121 ۔” یشھدہ المقربون “ یعنی وہ فرشتے جو علیین میں ہیں وہ گواہ ہیں اور اس تحریر پر حاضر ہوتے ہیں اور یہ کتاب علیین کی طرف بلند کی جائے۔
Ayahs 83:22–2323-22 ۔…” ان الابرار لفی نعیم، علی الارائک ینظرون “ اس کی طرف جو اللہ تعالیٰ نے ان کو اعزاز اور نعمت عطاء کی ہے اور مقاتل (رح) فرماتے ہیں وہ اپنے دشمنوں کی طرف دیکھیں گے کہ وہ کیسے عذاب دیئے جارہے ہیں۔
Ayah 83:2424 ۔” تعرف فی وجوھھم نضرۃ النعیم “ جب آپ ان کو دیکھو گے تو پہچان جائو گے کہ وہ نعمتوں والے ہیں اس کی وجہ سے جو آپ ان کے چہروں پر نور اور حسن اور سفیدی دیکھیں گے۔ حسن (رح) فرماتے ہیں چہرہ پر رونق وتروتازگی اور دل میں خوشی۔ ابوجعفر اور یعقوب نے ” تعرف “ تاء کے پیش اور راء کے زبر کے ساتھ پڑھا ہے فعل مجہول کی بناء پر۔ ” نضرۃ “ مرفوع اور باقی حضرات نے تاء کے زبر اور راء کی زیر کے ساتھ پڑھا ہے۔ ” نضرۃ “ نصب کے ساتھ۔
Ayah 83:2525 ۔” یسقون من رحیق “ شراب صاف و شفاف پاکیزہ۔ مقاتل (رح) فرماتے ہیں سفید شراب۔ ” مختوم “ مہر لگائی گئی ہوگی اور کسی کے ہاتھ کو اس تک پہنچنے سے روکا گیا ہوگا یہاں تک کہ اس کی مہر ابرار کھولیں گے۔ مجاہد (رح) فرماتے ہیں ” مختوم “ یعنی ” مطین “ مہر لگائی ہوئی یا خیر پر پیدا کی ہوئی۔
Ayah 83:2626 ۔” ختامہ “ یعنی اس کا مزاج۔ ” مسک “ گویا کہ اس معنی کی طرف گئے ہیں۔ ابن زید (رح) فرماتے ہیں اس کی مہر عنداللہ کستوریے اور دنیا کی مہرگارا ہے اور ابن مسعود ؓ فرماتے ہیں ” مختوم “ یعنی اس کی مہر ملی ہوئی ہے یعنی اس کے ذائقہ کا آخر اور انجام مشک ہے۔ پس مختوم وہ چیز جس کے لئے ختام یعنی آخر ہو اور ہر چیز کا ختم ہونا اس سے فارغ ہونا ہے اور قتادہ (رح) فرماتے ہیں ان کے لئے کافور کے ساتھ ملایاجائے گا اور کستوری کے ذریعے مہر لگائی جائے گی اور اکثر کی قرات ” ختامہ مسک “ تاء کو مقدم کرنے کے ساتھ اور کسائی (رح) نے ” خاتمہ “ پڑھا ہے اور یہ علی اور علقمہ کی قرات ہے اور ان دونوں کا معنی ایک ہے جیسا کہ کہا جاتا ہے ” فلان کریم الطباع “ اور طباع، خاتم اور ختام ہرچیز کا آخر۔ ” وفی ذلک فلیننافس المتنافسون “ پس چاہیے کہ رغبت کرنے والے اللہ تعالیٰ کی طاعت کی طرف جلدی کرکے رغبت کریں اور مجاہد (رح) فرماتے ہیں پس چاہیے کہ عمل کریں عمل کرنے والے۔ اس کی نظیر اللہ تعالیٰ کا قول ” لمثل ھذا فلیعمل العاملون “ اور مقاتل بن سلیمان (رح) فرماتے ہیں پس چاہیے کہ جھگڑیں جھگڑنے والے اور عطاء (رح) فرماتے ہیں پس چاہیے کہ سبقت کریں سبقت کرنے والے اور اس کی اصل وہ نفیس چیز جس پر لوگوں کے نفوس حرص کرتے ہیں اور اس کا ہر ایک اپنے نفس کے لئے ارادہ کرے اور اس کا اپنے غیر پر بخل کرے۔
Ayah 83:2727 ۔” ومزاجہ من تسنیم “ شراب جو ان پر اوپر سے ان کے بالا خانوں اور منازل میں بہائی جائے گی اور کہا گیا ہے ہواء میں جاری ہوگی۔ پھر اہل جنت کے برتنوں میں ڈالی جائے گی ان کے بھرنے کے بقدر پھر جب وہ بھر جائیں گے تو رک جائے گی اور یہ قتادہ (رح) کے قول کا معنی ہے۔ السنام کے کلمہ کی اصل علو و بلندی سے ہے۔
اور بلند چیز کو سنام کہا جاتا ہے اور اس سے سنام البعیر اونٹ کی کوہان ہے۔ ضحاک (رح) فرماتے ہیں وہ شراب ہے اس کا نام تسنیم ہے اور وہ عمدہ شراب ہے۔ ابن مسعود اور ابن عباس ؓ فرماتے ہیں وہ خالص ہے مقربین کے لئے صرف وہ اس کو پئیں گے اور تمام اہل جنت کے لئے ملائی جائے گی اور وہ اللہ تعالیٰ کا قول ” ومزاجہ من تسنیم “۔
Ayah 83:2828 ۔” عینا یشرب بھا المقربون “ ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ ان سے اللہ تعالیٰ کے قول ” من تسنیم “ کے بارے میں پوچھا گیا ہے۔ فرمایا یہ ان میں سے ہے جو اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے ” فلا تعلم نفس مااخفی لھم من قرۃ اعین “…” عینا “ حال کی بناء پر منصوب ہے۔ ” یشرب بھا “ یعنی ” منھا “ اس سے اور کہا گیا ہے اس سے صرف مقرب لوگ پئیں گے۔
Ayah 83:2929 ۔” ان الذین اجرموا “ شرک کیا یعنی کفار قریش ابوجہل، ولید بن مغیرہ اور عاص بن وائل اور ان کے ساتھی مکہ کے متکبرین مال داروں میں سے۔ ” کانوا من الذین امنوا “ عمار ، خباب، صہیب اور بلال اور ان کے ساتھی فقراء مومنین میں سے۔ ” یضحکون “ اور ان کے ساتھ استہزاء کرتے ہیں۔
Ayah 83:3030 ۔” واذا مروابھم “ یعنی مومنین کفار کے ساتھ گزریں گے۔ ” یتغامزون “ اور غمز پپوٹوں اور ابرو کے ذریعے اشارہ کرنا۔ یعنی ان کی طرف آنکھوں سے اشارے کرتے ہیں استہزاء کرتے ہوئے۔
Ayah 83:3131 ۔” واذا انقلبوا “ یعنی کفار ” الی اھلھم انقلبوا فکھین “ خوش ہوتے ہوئے اس کے ساتھ جس پر وہ ہیں ان کے تذکرہ سے لطف اندوز ہوتے ہوئے۔
Ayah 83:3232 ۔” واذا راوھم “ نبی کریم ﷺ کے صحابہ کرام ؓ کو دیکھتے۔ ” قالوا ان ھولاء لضالون “ وہ محمد ﷺ کے پاس آتے ہیں اور خیال کرتے ہیں کہ وہ کسی چیز پر ہیں۔
Ayah 83:3333 ۔” وماارسلوا “ یعنی مشرکین۔ ” علیھم “ یعنی مومنین پر۔ ” حافظین “ ان کے اعمال کی یعنی ان کے اعمال کی نگرانی ان کے سپرد نہیں کی گئی۔
Ayah 83:3434 ۔” فالیوم “ یعنی آخرت میں۔ ” الذین امنوا من الکفار یضحکون “ ابو صالح (رح) فرماتے ہیں کہ کفار کے لئے جب وہ جہنم میں ہوں گے تو اس کے دروازے کھولے جائیں گے اور ان کو کہا جائے گا تم نکلو۔ پس جب وہ دروازے کھلے ہوئے دیکھیں گے تو ان کی طرف متوجہ ہوں گے تاکہ وہ نکل جائیں اور مومنین ان کو دیکھ رہے ہوں گے۔ پس جب وہ جہنم کے دروازوں تک پہنچیں گے تو ان کے سامنے بند کردیئے جائیں گے، یہ ان کے ساتھ کئی مرتبہ کیا جائے گا اور مومنین ہنستے ہوں گے اور کعب (رح) فرماتے ہیں جنت اور جہنم کے درمیان روشن دان ہیں۔ پس جب مومن اپنے دنیا کے دشمن کو دیکھنے کا ارادہ کرے گا تو اس پر اس روشن دان سے جھانکے گا جیسا کہ فرمایا ” فاطلع فراہ سواء الجحیم “ پس جب وہ جنت میں اپنے دشمنوں پر جھانیں گے اور وہ عذاب دیئے جارہے ہوں گے تو وہ ہنسیں گے۔ پس یہ مطلب ہے اللہ تعالیٰ کے قول ” فالیوم الذین امنوا من الکفار یضحکون “ کا۔
Ayah 83:3535 ۔” علی الارائک “ موتی اور یاقوت کے۔ ” ینظرون “ ان کی طرف جہنم میں۔
Ayah 83:3636 ۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے۔ ” ھل ثوب “ کیا بدلہ دیئے گئے ہیں۔ ” الکفار ماکانوا یفعلون “ یعنی ان کے مومنین کے ساتھ استہزاء کی جزاء اور استفہام کا معنی یہاں تقریر (ثابت کرتا ہے) اور ” ثوب “ اور ” اثاب “ ایک معنی میں ہیں۔