Ayah 82:1سورة الانفطار
مکی ہے اور اس کی انیس 19 آیات ہیں
Ayah 82:21 ۔” اذا السماء انفطرت “ جب آسمان پھٹ جائے گا۔
Ayah 82:32 ۔” واذا الکواکب انتثرت “ جب ستارے گرجائیں گے۔
Ayah 82:43 ۔” واذا البحار فجرت “ جب سمندر ایک دوسرے میں بہادیئے جائیں گے اور میٹھے کو کھارے میں ملادیا جائے گا۔ پس سارا ایک سمندر ہوجائے گا اور ربیع (رح) فرماتے ہیں ” فجرت “ بہہ گئے۔
Ayah 82:54 ۔” واذا القبور بعثرت “ اور جب قبریں کھول دی جائیں گی اور ان کی مٹی پلٹ دی جائے گی اور ان میں جو مردے ہیں ان کو زندہ کرکے اٹھادیا جائے گا۔ کہا جاتا ہے ” بعثرت الحوض وبحشرتہ “ جب تو اس کو پلٹ دے پھر اس کے نچلے حصے کو اس کا اوپر والا حصہ بنادے۔
Ayah 82:65 ۔” علمت نفس ماقدمت واخرت “ کہا گیا ہے جو نیک یا برا عمل آگے بھیجا اور جو اچھا یا برا طریقہ پیچھے چھوڑا اور کہا گیا ہے جو صدقات میں سے آگے بھیجا اور ترکہ میں سے پیچھے چھوڑا۔ اس تفصیل پر جو ہم نے اللہ تعالیٰ کے قول ” ینبوا الانسان یومئذ بما قدم واخر “ میں ذکر کیا ہے۔
Ayah 82:7آیت یایھا الانسان ماغرک بربک الکریم کا شان نزول
6 ۔” یایھا الانسان ما غرک بربک الکریم “ جو دھوکہ دیا اور تیرے لئے باطل کو مزین کیا حتیٰ کہ تو نے وہ رکھ دیا جو تجھ پر واجب تھا اور معنی یہ ہے کہ کون سی چیز تجھے اس کے عقاب سے امن دے گی ؟ عطائؒ فرماتے ہیں ولید بن مغیرہ کے بارے میں نازل ہوئی ہے اور کلبی اور مقاتل رحمہما اللہ فرماتے ہیں الوالشریق کے بارے میں نازل ہوئی کہ اس نے نبی کریم ﷺ کو مارا تو اللہ تعالیٰ نے اس پر عقاب نہیں کیا تو یہ آیت نازل کی۔ فرمایا کس چیز نے تجھے تیرے کریم رب سے دھوکہ میں ڈال دیا جب اس نے تجھے جلدی تیرے کفر کی وجہ سے عتاب نہیں کیا۔ قتادہ (رح) فرماتے ہیں اس کو اس کے دشمن نے دھوکہ دیا جو اس پر مسلط تھا یعنی شیطان۔ مقاتل (رح) فرماتے ہیں اس کو اللہ تعالیٰ کے درگزر نے دھوکہ دیا کہ اس کو اول وقت میں جلدی سزا نہیں دی اور سدی (رح) فرماتے ہیں اس کو اللہ تعالیٰ کے اس کے ساتھ نرمی کرنے نے دھوکہ دیا اور ابن مسعود ؓ فرماتے ہیں تم میں سے ہر ایک سے عنقریب اللہ تعالیٰ خلوت کریں گے قیامت کے دن ، پھر فرمائیں گے اے ابن آدم ! کس چیز نے تجھے میرے بارے میں دھوکہ میں ڈالا ؟ اے ابن آدم ! تونے کیا عمل کیا ان میں جو تونے عمل کیے ؟ اے ابن آدم ! تو نے رسولوں کو کیا جواب دیا ؟ اور فضیل بن عیاض (رح) کو کہا گیا اگر آپ کو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن کھڑا کریں پھر کہیں اے فضیل کس چیز نے تجھے تیرے رب کریم سے دھوکہ میں ڈالا ؟ تو آپ (رح) کیا کہیں گے ؟ انہوں نے کہا میں کہوں گا مجھے تیرے لٹکائے ہوئے پردوں نے دھوکہ میں ڈالا۔
اور یحییٰ بن معاذ (رح) فرماتے ہیں اگر اللہ تعالیٰ مجھے اپنے سامنے کھڑا کریں۔ پھر کہا اے یحییٰ ! تجھے کس چیز نے میرے بارے میں دھوکہ میں ڈالا ؟ میں کہوں گا مجھے آپ کے گزشتہ اور آئندہ احسانات جو مجھ پر ہیں انہوں نے دھوکہ میں ڈالا اور ابوبکر وراق کہتے ہیں اگر مجھے کہا ” ماغرک بربک الکریم ؟ “ تو میں کہوں گا مجھے تیرے بارے میں کریم کے کرم نے دھوکہ میں ڈالا۔ بعض اہل اشارہ نے کہا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ” بربک الکریم “ کہا ہے دیگر صفات واسماء ذکر نہیں کیے۔ گویا کہ اس بندہ کو جواب کی تلقین کی ہے کہ وہ کہے مجھے کریم کے کرم نے دھوکہ میں ڈالا ہے۔
Ayah 82:88 ۔” فی ای صورۃ ماشاء رکبک “ مجاہد ، کلبی اور مقاتل رحمہما اللہ فرماتے ہیں باپ یا ماں یا ماموں یا چچا میں سے جس کی مشابہت میں اور حدیث میں آیا ہے نطفہ جب رحم میں قرار حاصل کرتا ہے تو اس کے اور ابن آدم کے درمیان ہر رگ حاضر جاتی ہے۔ پھر پڑھا ” فی ای صورۃ ماشاء رکبک “ اور فراء اور زجاج رحمہما اللہ نے ایک دوسرا قول ذکر کیا ہے ” فی ای صورۃ ماشاء رکبک “ یا لمبا یا چھوٹا یا حسین یا اس کے علاوہ۔ عکرمہ اور ابو صالح رحمہما اللہ فرماتے ہیں ” فی ای صورۃ ماشاء رکبک “ اگر چاہا تو انسان کی صورت میں اور اگر چاہا تو جانور کی صورت میں یا کسی دوسرے حیوان کی صورت میں۔
Ayah 82:99 ۔” کلا بل تکذبون “ ابوجعفر (رح) نے یاء کے ساتھ پڑھا ہے اور دیگر حضرات نے تاء کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے قول ” وان علیکم لحافظین “ کی وجہ سے۔ ” بالدین “ جزاء اور حساب کے ساتھ۔
Ayah 82:1010 ۔” وان علیکم لحافظین “ فرشتوں میں سے نگہبان تم تمہارے اعمال کی نگرانی حفاظت کرتے ہیں۔
Ayah 82:1111 ۔” کراما “ اللہ پر۔ ” کاتبین “ تمہارے اقوال اور اعمال کو لکھتے ہیں۔
Ayah 82:1212 ۔” یعلمون ما تفعلون “ خیر اور شر میں سے۔
Ayah 82:1313 ۔” ان الا برار لفی نعیم “ ابرار وہ لوگ جو نیک ہیں اور اپنے ایمان میں سچے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے فرائض کو ادا کرنے اور اس کے معاصی سے اجتناب کرنے کے ساتھ۔
Ayah 82:1414 ۔” وان الفجار نفی جحیم “ روایت کیا گیا ہے کہ سلیمان بن عبدالملک نے ابو حازم مزنی کو کہا ” لیت شعری “ ہمارے لئے اللہ کے پاس کیا ہوگا ؟ فرمایا تو اپنے عمل کو اللہ کی کتاب پر پیش کر۔ پس تو جان لے گا کہ تیرے لئے اللہ کے پاس کیا ہے ؟ تو اس نے کہا تو میں اس کو اللہ کی کتاب میں کہاں پائوں گا ؟ تو انہوں نے فرمایا اللہ تعالیٰ کے قول ” ان الابرار لفی نعیم وان الفجار لفی جحیم “ میں۔ سلیمان نے کہا پس اللہ کی رحمت کہاں ہے ؟ انہوں نے کہا ” قریب من المحسنین “
Ayah 82:1515 ۔” یصلونھا “ وہ اس میں داخل ہوں۔ ” یوم الدین “ قیامت کے دن۔
Ayah 82:1616 ۔” وما ھم عنھا بغائبین “
Ayah 82:1717 ۔ پھر اس دن کی عظمت بیان کرتے ہوئے فرمایا ” وما ادراک ما یوم الدین “ اس کا تکرار کیا اس کی عظمت شان کے لئے۔
Ayah 82:1818 ۔” ثم ما ادراک ما یوم الدین۔
Ayah 82:1919 ۔” یوم لا تملک “ اہل مکہ اور اہل بصرہ نے یوم کو میم کے پیش کے ساتھ پڑھا ہے۔ پہلے یوم پر رد کرتے ہوئے اور دیگر حضرات نے میم کے نصب کے ساتھ پڑھا ہے یعنی فی یوم یعنی یہ اشیاء ایسے دن میں ہوں گی جس دن نہ مالک ہوگا ” نفس لنفس شیئا “ مقاتل (رح) فرماتے ہیں یعنی کافرنفس کے لئے کسی نفع کا۔ ” والا مریومئذ للہ “ یعنی اس دن اللہ تعالیٰ کسی کو کسی چیز کا مالک نہ بنائیں گے جیسا کہ ان کو دنیا میں مالک بنایا۔