Ayah 81:1سورة التکویر
مکی ہے اور اس کی انتیس 29 آیات ہیں۔ ابن عمر ؓ فرماتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس کو پسند ہو کہ وہ احوال قیامت میں نظر کرے تو چاہیے کہ وہ پڑھے ” اذا الشمس کورت “
بسم اللہ الرحمن الرحیم
Ayah 81:21 ۔” اذا الشمس کورت “ علی بن ابی طلحہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے تاریک کردیا جائے گا اور قتادہ، مقاتل اور کلبی رحمہما اللہ فرماتے ہیں اس کی روشنی چلی گئی اور سعید بن جبیر (رح) فرماتے ہیں، غروب ہوجائے گا اور مجاہد (رح) فرماتے ہیں نیست ونابود ہوجائیں اور زجاج (رح) فرماتے ہیں عمامہ کی طرح لپیٹ دیا جائے گا۔ کہا جاتا ہے ” کورت العمامہ علی راسی اکورھا کورا وکور تھا تکویرا “ جب تو اس کو لپیٹ دے اور تکویر کی اصل ایک شے کو دوسرے شے کی طرف جمع کرنا۔ پس اس کا معنی کہ سورج کے بعض حصہ کو دوسرے بعض میں جمع کیا جائے گا، پھر اس کو لپیٹ دیا جائے گا۔ پس جب اس کے ساتھ یہ کیا جائے گا تو اس کی روشنی چلی جائے گی۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ سورج ، چاند اور ستاروں کو قیامت کے دن سمندر میں ڈبودیں گے۔ پھر ان پر پچھوائی ہوا بھیجیں گے تو وہ اس کو مارے گی تو سارا آگ ہوجائے گا۔ حضرت ابوہریرہ ؓ نے نبی کریم ﷺ سے نقل کیا ہے، آپ (علیہ السلام) نے فرمایا سورج اور چاند قیامت کے دن بےنور کردیئے جائیں گے۔
Ayah 81:32 ۔” واذالنجوم انکدرت “ یعنی آسمان سے ٹوٹ کر زمین پر گریں گے۔ کہا جاتا ہے ” انکدر الطائر “ جب وہ گرپڑے۔ کلبی اور عطاء رحمہما اللہ فرماتے ہیں اس دن آسمان ستاروں کی بارش برسائے گا۔ پس کوئی ستارہ باقی نہ بچے گا سب نیچے گرپڑیں گے۔
Ayah 81:43 ۔” واذا الجبال سیرت “ زمین کے اوپر پھر اڑنے والے ذرات ہوجائیں گے۔
Ayah 81:54 ۔” واذا العشار عطلت “ اور وہ حاملہ اونٹنیاں جن کے حمل دس ماہ پورے ہوگئے ہوں اس کا واحد عشراء ہے۔ پھر یہ نام اس کا تب تک رہتا ہے جب وہ مکمل سال ہونے پر بچہ پیدا کرے اور یہ عرب کے ہاں عمدہ ترین مال ہے۔ ” عطلت “ بغیرچرواہے کہ چھوڑی گئی ہوگی، اس کے مالکوں نے اس کو چھوڑ دیا ہوگا حالانکہ وہ تو اس کی دم کو چمٹے رہتے تھے اور ان کے ہاں اس سے زیادہ اچھا اور عمدہ کوئی مال نہ تھا تو جب ان پر قیامت کی ہولناکیاں آئیں گی تو اس کو بھی چھوڑ دیں گے۔
Ayah 81:65 ۔” واذا الوحوش “ یعنی خشکی کے جانور۔ ” حشرت “ بعث کے بعد جمع کیے جائیں گے تاکہ ان کا آپس میں قصاص لیا جائے۔ عکرمہ (رح) نے ابن عباس ؓ سیروایت کیا ہے کہ ان کا حشران کی موت ہے اور فرمایا ہر چیز کا حشر اس کی موت سوائے جن وانس کے کیونکہ وہ قیامت کے دن ٹھہرائے جائیں گے اور ابی بن کعب ؓ فرماتے ہیں خلط ملط ہوجائیں گے۔
Ayah 81:76 ۔” واذا البحار سجرت “ اہل مکہ اور اہل بصرہ نے تخفیف کے ساتھ پڑھا ہے اور باقی حضرات نے تشدید کے ساتھ۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں ان کو بھڑکایا جائے گا۔ پس وہ شعلے مارتی آگ بن جائیں گے۔ مجاہد اور مقاتل رحمہما اللہ فرماتے ہیں یعنی میٹھے سمندر کو کھا رہے میں ملادیاجائے گا تو تمام سمندر ایک سمندر بن جائیں گے اور کلبی (رح) فرماتے ہیں بھردیئے جائیں گے۔
اور یہ بھی اللہ تعالیٰ کے قول ” والبحر المسجور “ کا معنی ہے ” المسجور “ بھرا ہوا اور کہا گیا ہے ان تمام کے پانی سے ایک سمندر بن جائے گا گرم کھولتے ہوئے پانی کا اہل نار کے لئے اور حسن (رح) فرماتے ہیں خشک کردیئے جائیں گے اور یہی قتادہ (رح) سے روایت ہے چھ نشانیاں ہوں گی قیامت سے پہلے۔ لوگ بازاروں میں ہوں گے جب سورج کی روشنی چلی جائے گی۔ پس وہ اسی اثناء میں ہوں گے کہ ستارے ٹوٹ کر گرنے لگیں گے تو اس وقت پہاڑ زمین کے اوپر آگریں گے۔ پس حرکت کرنے لگے گی اور مضطرب ہوگی اور جن گھبرا کر انسانوں کی طرف اور انسان گھبرا کر جنوں کی طرف بھاگیں گے اور مویشی، پرندے ، وحشی جانور اور درندے آپس میں مل جائیں گے۔
پس یہ ہے اللہ تعالیٰ کا قول ” واذا الوحوش حشرت “ اور ملا دیئے جائیں گے۔ ” واذا العشار عطلت۔ واذا البحارسحرت “ فرمایا جن انسانوں کو کہیں گے ہم تمہارے پاس خیر لائے ہیں۔ پس تم سمندر کی طرف چلو، پس اچانک وہ تو آگ ہوگی بھڑکتی ہوئی۔ فرماتے ہیں وہ اسی طرح ہونگے۔
جب اچانک زمین یکبارگی نیچے ساتویں زمین تک پھٹ جائے گی اور اوپر ساتویں آسمان تک۔ پس وہ اس طرح ہوں گے کہ ان کے پاس ہوا آئے گی جو ان کو موت دے گی اور ابن عباس ؓ سے بھی روایت ہے فرماتے ہیں وہ بارہ خصلتیں ہیں چھ دنیا میں اور چھ آخرت میں۔
Ayah 81:87 ۔ اور وہ ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے اپنے قول میں ذکر کیا ہے ” واذالنفوس زوجت “ حضرت عمر بن خطاب ؓ سے اس آیت کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ ؓ نے فرمایا کہ نیک آدمی کو دوسرے نیک آدمی کے ساتھ جنت میں ملادیاجائے گا اور برے آدمی کو دوسرے برے آدمی کے ساتھ جہنم میں ملادیاجائے گا اور یہ عکرمہ (رح) کا قول ہے اور حسن اور قتادہ رحمہما اللہ فرماتے ہیں ہر آدمی کو اس کی جماعت وگروہ کے ساتھ لاحق کردیا جائے گا۔ یہودی کو یہودی کے ساتھ، نصرانی کو نصرانی کے ساتھ۔ ربیع بن خیثم (رح) فرماتے ہیں آدمی کا حشر اپنے عمل والے کے ساتھ کیا جائے گا اور کہا گیا ہے نفوس کو ان کے اعمال کے ساتھ ملادیا جائے گا اور عطاء اور مقاتل رحمہما اللہ فرماتے ہیں مومنین کے نفوس کو حورعین کے ساتھ ملایا جائے گا اور کافروں کے نفوس کو شیاطین کے ساتھ۔ اور عکرمہ (رح) سے روایت کیا گیا ہے کہ ” واذا النفوس زوجت “ ارواح کو جسموں میں لوٹادیاجائے گا۔
Ayah 81:98 ۔” واذا الموئودۃ سئلت “ وہ لڑکی جس کو زندہ دفن کردیا گیا ہو اس کے ساتھ نام رکھا گیا کیونکہ اس پر مٹی ڈال کر اس کو دفنایا جاتا ہے۔ یعنی اس بوجھ کے نیچے رکھا جاتا ہے حتیٰ کہ وہ مرجاتی اور عرب بیٹیوں کو زندہ دفن کردیتے تھے عار اور تنگ دستی کے خوف سے ۔ کہا جاتا ہے ” وادیئد وادا فھواوائد “ اور مفعول موئودہ ہے۔ عکرمہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ عورت جاہلیت میں جب حاملہ ہوتی اور ولادت کا وقت ہوتا تو وہ ایک گڑھا کھودت، پھر گڑھے کے سرانے بچہ پیدا کرتی۔ پس اگر لڑکی پیدا ہوتی تو اس کو گڑھے میں پھینک دیتی اور اگر لڑکا پیدا ہوتا تو اس کو روک لیتی۔
Ayah 81:109 ۔” بای ذنب قتلت “ اکثر حضرات نے ان دونوں میں فعل مجہول پڑھا ہے اور ابوجعفر نے ” قتلت “ تشدید کے ساتھ پڑھا ہے اور اس کا معنی زندہ درگور کی ہوئی لڑکی سے سوال کیا جائے گا۔ پس اس کو کہا جائے گا ” بای ذنب قتلت “ اور اس سے سوال کرنے کا معنی اس کے قاتل کو ڈانٹا ہے اس لئے کہ وہ کہے گی میں تو بغیر گناہ کے قتل کی گئی ہوں اور روایت کیا گیا ہے کہ جابر بن زید ؓ پڑھا کرتے تھے ” واذا الموئودۃ سئلت۔ بای ذنب قتلت “ اور اسی کی مثل ابوالضحیٰ نے پڑھا ہے۔
Ayah 81:1110 ۔ واذا الصحف نشرت “ اہل مدینہ اور اہل شام اور عاصم و یعقوب رحمہما اللہ نے ” نشرت “ تخفیف کے ساتھ پڑھا ہے اور دیگر حضرات نے تشدید کے ساتھ پڑھا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے قول ” یتلوا صحفا منشرۃ “ کی وجہ سے۔ یعنی اعمال نامے حساب کے لئے پھیلائے جائینگے۔
Ayah 81:1211 ۔” واذا السماء کشطت “ فرائؒ فرماتے ہیں کھینچاجائے گا۔ پھر لپیٹا جائے گا اور زجاج (رح) فرماتے ہیں اکھاڑا جائے گا جیسا کہ چھت اکھاڑی جاتی ہے اور مقاتل (رح) فرماتے ہیں جو کچھ اس میں ہے اس کو کھول دے گا اور کشط کا معنی تیرا کسی چیز کو دوسری چیز سے بلند کرنا۔ تحقیق اس نے اس کو ڈھانپ دیا ہو جیسا کہ کھال کوہان سے بلند ہوتی ہے اور اس کو ڈھانپ لیتی ہے۔
Ayah 81:1312 ۔” واذا الجحیم سعرت “ اہل مدینہ اور اہل شام اور حفص نے عاصم سے ” سعرت “ تشدید کے ساتھ پڑھا ہے اور باقی حضرات نے تخفیف کے ساتھ۔ یعنی اللہ کے دشمنوں کے لئے جلائی جائے گی۔
Ayah 81:1413 ۔” واذا الجنۃ ازلفت “ اللہ کے اولیاء کے قریب کردی جائے گی۔
Ayah 81:1514 ۔” علمت “ اس وقت ہر ایک ” نفس مااحضرت “ خیر اور شر میں سے، اور یہ اللہ تعالیٰ کے قول ” اذا الشمس کورت “ اور اس کے مابعد کا جواب ہے۔
Ayah 81:1615 ۔” فلا قسم بالخنس
Ayah 81:1716 ۔ الجوار الکنس “ اور لا زائد ہے اس کا معنی اقسم بالخنس ہے۔ قتادہ (رح) فرماتے ہیں وہ ستارے ہیں جو رات کو ظاہر ہوتے ہیں اور دن کو چھپ جاتے ہیں، پس دیکھے نہیں جاتے اور حضرت علی ؓ سے بھی روایت ہے کہ یہ ستارے ہیں جو دن کو چھپ جاتے ہیں، دیکھے نہیں جاتے اور رات کو ظاہر ہوتے ہیں، پس اپنے چلنے کی جگہوں پر ٹھکانہ پکڑتے ہیں اور ایک قوم نے کہا وہ پانچ ستارے ہیں۔ زحل ، مشتری، مریخ ، زہرہ اور عطارد، اپنے چلنے کی جگہ میں ظاہر ہوتے ہیں یعنی اس کے پیچھے لوٹتے ہیں اور اپنے چھپنے اور غروب کے وقت چھپ جاتے ہیں۔ جیسا کہ ہرنی اپنے غار میں چھپ جاتی ہے اور ابن زید (رح) فرماتے ہیں ” الخنس “ کا معنی کہ وہ اپنے طلوع ہونے کی جگہوں سے ہر سال موخر اپنے غار میں چھپ جاتی ہے اور ابن زید (رح) فرماتے ہیں ” الخنس “ کا معنی کہ وہ اپنے طلوع ہونے کی جگہوں سے ہر سال موخر ہوجاتے ہیں، اتنا موخر جوان کو اس طلوع کی تعجیل سے موخر کردے۔ ” تنخنس عنہ “ اس سے موخر ہونے کی وجہ سے اور ” الکنس “ یعنی دن کو چھپ جاتے ہیں، پس دیکھے نہیں جاتے اور عبداللہ ؓ سے مروی ہے کہ وہ وحشی جانور ہیں اور سعید بن جبیر (رح) فرماتے ہیں وہ ہرن ہیں اور یہی عوفی کی ابن عباس ؓ سے روایت ہے اور خنوس کی اصل پیچھے کی طرف لوٹنا اور تنوس کی اصل یہ کہ اپنے مکانس کی طرف ٹھکانہ حاصل کرلے اور یہ وہ جگہیں جہاں وحشی جانور پنا لیتے ہیں۔
Ayah 81:1817 ۔” واللیل اذا عسعس “ حسن (رح) فرماتے ہیں اپنی تاریکیوں کے ساتھ متوجہ ہو اور دیگر حضرات نے کہا ہے پیٹھ پھیرے ۔ عرب کہتے ہیں ” عسعس اللیل وسعسع “ جب پیٹھ پھیر کر جارہی ہو اور اس کا تھوڑا حصہ باقی ہو۔
Ayah 81:1918 ۔” والصبح اذا تنفس “ متوجہ ہو اور اس کا اول حصہ ظاہر ہو اور کہا گیا ہے اس کی روشنی لمبی ہوجائے اور بلند ہوجائے۔
Ayah 81:2019 ۔” انہ “ یعنی قرآن۔ ” لقول رسول کریم “ یعنی جبرئیل (علیہ السلام) ، یعنی اس کے ساتھ جبرئیل (علیہ السلام) اترے ہیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے۔
Ayah 81:2120 ۔” ذی قوۃ “ اور ان کی قوت میں سے یہ ہے کہ انہوں نے قوم لوط کی بستیوں کو سیاہ پانی سے اکھاڑا اور ان کو اپنے سر پر اٹھایا۔ پھر ان کو آسمان تک بلند کیا، پھر ان کو پلٹ دیا اور انہوں نے ابلیس کو دیکھا کہ وہ عیسیٰ (علیہ السلام) سے ارض مقدس کے کسی ٹیلہ پر کلام کررہا ہے تو اس کو اپنے پر سے ہوا دی تو اس کو ہندوستان کے آخری پہاڑ پر جا پھینکا اور انہوں نے قوم ثمود پر ایک چیخ ماری تو وہ اوندھے منہ گرے ہوئے ہوگئے اور وہ آسمان سے زمین پر اتر کر واپس چڑھ جاتے ہیں پلک جھپکنے سے بھی زیادہ جلدی۔ ” عندذی العرش مکین “ مرتبہ میں۔
Ayah 81:2221 ۔” مطاع ثم “ یعنی آسمانوں میں ان کی فرشتے اطاعت کرتے ہیں اور فرشتوں کی ان کی اطاعت کرنے میں سے یہ ہے کہ انہوں نے آسمان کے دروازوں کو معراج کی رات کھولا۔ ان کے قول کی وجہ سے رسول اللہ ﷺ کو اور جنت کے دروازوں کو اس کے داروغوں نے کھولا۔ ” امین “ اللہ کی وحی پر اور اس کے انبیاء (علیہم السلام) کی طرف پیغام پہنچانے پر۔
Ayah 81:2322 ۔” وما صاحبکم بمجنون “ اہل مکہ کو کہا ہے۔ ” وما صاحبکم “ یعنی محمد ﷺ ” بمجنون “ اور یہ بھی جواب قسم ہے اس پر قسم کھائی ہے کہ قرآن کو جبرئیل (علیہ السلام) لے کر آئے ہیں اور بیشک محمد ﷺ ویسے نہیں ہیں جیسے اہل مکہ کہتے ہیں کیونکہ انہوں نے کہا کہ یہ مجنون ہیں اور جو یہ کہتے ہیں وہ ان کی اپنی طرف سے ہے۔
Ayah 81:2423 ۔” ولقدرآہ “ یعنی نبی کریم ﷺ نے جبرئیل (علیہ السلام) کو ان کی صورت پر دیکھا۔ ” بالافق المبین “ اور مشرق کی طرف سے بلند افق ہے اس کو مجاہد اور قتادہ رحمہما اللہ نے کہا ہے۔ ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے جبرئیل (علیہ السلام) کو کہا میں یہ پسند کرتا ہوں کہ آپ (علیہ السلام) کو آپ کی اس صورت میں دیکھوں جس میں آپ آسمان میں ہوتے ہیں تو انہوں نے کہا آپ (علیہ السلام) اس کی طاقت نہیں رکھتے۔ آپ (علیہ السلام) نے فرمایا کیوں نہیں تو جبرئیل (علیہ السلام) نے کہا آپ کہاں چاہتے ہیں کہ میں آپ کے لئے اصلی صورت اختیار کروں ؟ آپ (علیہ السلام) نے فرمایا ابطح میں۔ آپ (علیہ السلام) نے کہا وہ میری گنجائش نہیں رکھتا۔ آپ (علیہ السلام) نے فرمایا تو یہاں۔ فرمایا یہ بھی میری گنجائش نہیں رکھتا۔
آپ ﷺ نے فرمایا تو عرفات میں۔ جبرئیل (علیہ السلام) نے کہا یہ زیادہ لائق ہے کہ میری وسعت رکھ لے تو آپ (علیہ السلام) سے اس نے وعدہ کرلیا تو نبی کریم ﷺ اس وقت میں نکلے تو اچانک جبرئیل (علیہ السلام) عرفات کے پہاڑوں سے پروں کی جھنکار آواز کے ساتھ متوجہ ہوئے۔ تحقیق انہوں نے مشرق ومغرب کے درمیان کو بھر دیا تھا اور ان کا سر آسمان میں تھا اور دونوں پائوں زمین میں ۔ پس جب نبی کریم ﷺ نے ان کو دیکھا تو تکبیر پڑھی اور غشی کھا کر گرگئے۔ فرماتے ہیں توجبرئیل (علیہ السلام) اپنی صورت میں تبدیل ہوگئے۔ پھر آپ (علیہ السلام) کو اپنے سینے سے ملایا اور کہا اے محمد ! ( ﷺ ) آپ خوف نہ کریں۔ پس آپ کا اس وقت کیا حال ہوتا، اگر آپ (علیہ السلام) اسرافیل کو دیکھ لیتے کہ ان کا سر عرش کے نیچے اور دونوں پائوں ساتوں زمینوں کے نیچے ہیں اور عرش ان کی گردن کے قریب پیٹھ کے بالائی حصہ پر ہے اور وہ کبھی اللہ تعالیٰ کے خوف سے سکڑ جاتے ہیں حتیٰ کہ چڑیا کی طرح ہوجاتے ہیں حتیٰ کہ آپ کے رب کے عرس کو صرف اسی کی عظمت اٹھاتی ہے۔
Ayah 81:2524 ۔” وماھو “ محمد ﷺ ” علی الغیب “ یعنی وحی پر اور اور آسمان کی خبروں اور جس پر آپ (علیہ السلام) مطلع ہوتے ہیں ان چیزوں میں سے جوان سے غائب ہیں۔ قصص اور خبریں ” بضنین “ اہل مکہ اور اہل بصرہ اور کسائی رحمہم اللہ نے ظاء کے ساتھ پڑھا ہے یعنی تہمت لگائے ہوئے ۔ کہا جاتا ہے ” فلان یظن بمال ویزن “ یعنی اس سے مہتم ہے اور ” ظنۃ “ بمعنی تہمت اور دیگر حضرات نے ضاد کے ساتھ پڑھا ہے یعنی بخل کرنے والے۔ فرماتے ہیں کہ ان کے پاس غیب کا علم آتا ہے۔ پس وہ اس کا تم پر بخل نہیں کرتے بلکہ تمہیں سکھاتے ہیں اور تمہیں اس کی خبر دیتے ہیں اور اس کو چھپاتے نہیں ہیں جیسا کہ کاہن جو اس کے پاس ہو اس کو چھپاتا ہے حتیٰ کہ اس پر انعام لے۔ عرب کہتے ہیں ” ضننت بالشی “ نون کی زیر کے ساتھ ” اضن بہ ضنا وضنانۃ فانا بہ ضنین “ یعنی بخیل ہوں۔
Ayah 81:2625 ۔” وماھو “ یعنی قرآن۔ ” بقول شیطان رجیم “ کلبی (رح) فرماتے ہیں کہ قرآن نہ شعر ہے اور نہ کہانت جیسا کہ قریش نے کہا ۔
Ayah 81:2726 ۔” فاین تذھبون “ یعنی تم کہاں اس قرآن سے اعراض کررہے ہو اور اس میں شفاء اور بیان ہے اور زجاج (رح) فرماتے ہیں کون سا راستہ تم چلتے ہو جو اس طریقہ سے زیادہ واضح ہو جو میں نے تمہارے لئے بیان کیا ہے۔
Ayah 81:2827 ۔” پھر بیان کرتے ہوئے فرمایا ” ان ھو “ یعنی نہیں قرآن۔ ” الاذکر للعالمین “ نصیحت تمام مخلوق کے لئے۔
Ayah 81:2928 ۔” لمن شاء منکم ان یستقیم “ یعنی حق کی اتباع کرے اور اس پر قائم ہو۔