Al-Fajr 89:2

Al-Fajr · from ayah 2

89:2

وَلَیَالٍ عَشْرٍ ۟ۙوَلَيَالٍ عَشۡرٍۙ

اور دس راتوں کی

— Fateh Muhammad Jalandhari

And [by] ten nights

— Saheeh International

Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 14 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Fajr

All translations of 89:2

اور دس راتوں کی

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور دس راتوں کی!

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور دس (مبارک) راتوں کی قَسم٭، ٭ مراد ماہِ رمضان کے آخری عشرہ کی راتیں یا پہلے عشرۂ محرّم کی راتیں ہیں یا اوّل عشرۂ ذی الحجہ کی راتیں ہیں جو برکات و درجات سے معمور ہیں۔

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور دس راتوں کی !

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور دس راتوں کی

— مولانا اسحاق مدنی

اور قسم ہے دس راتوں کی۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور دس راتوں کی

— محترمہ رفعت اعجاز

and by Ten Nights,

— Muhammad Taqi Usmani

and by Ten Nights,

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And by the ten nights,

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And [by] ten nights

— Saheeh International

by the Ten (secret) Nights,

— Muhammad Sarwar

And the ten nights,

— Muhammad Habib Shakir

And by ten nights,

— Abdul Majid Daryabadi

Tafseer of 89:2

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 1–14

شفع اور وتر سے کیا مراد ہے اور قوم عاد کا قصہ فجر تو ہر شخص جانتا ہے یعنی صبح اور یہ مطلب بھی ہے کہ بقر عید کے دن کی صبح، اور یہ مراد بھی ہے کہ صبح کے وقت کی نماز، اور پورا دن اور دس راتوں سے مراد ذی الحجہ مہینے کی پہلی دس راتیں۔ چناچہ صحیح بخاری شریف کی حدیث میں ہے کہ کوئی عبادت ان دس دنوں کی عبادت سے افضل نہیں لوگوں نے پوچھا اللہ کی راہ کا جہاد بھی نہیں ؟ فرمایا یہ بھی نہیں مگر وہ شخص جو جان مال لے کر نکلا اور پھر کچھ بھی ساتھ لے کر نہ پلٹا بعض نے کہا ہے محرم کے پہلے دس دن مراد ہیں حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں رمضان شریف کے پہلے دس دن لیکن صحیح قول پہلا ہی ہے یعنی ذی الحجہ کی شروع کی دس…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

دوسری چیز جس کی قسم ہے وہ لیال عشر یعنی دس راتیں، حضرت ابن عباس، قتادہ، مجاہد سدی، ضحاک، کلبی، ائمہ، تفسیر کے نزدیک ذی الحجہ کی ابتدائی دس راتیں مراد ہیں کیونکہ حدیث میں ان کی بڑی فضیلت آئی ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ عبادت کرنے کے لئے اللہ کے نزدیک سب دنوں میں عشرہ ذی الحجہ سب سے افضل ہے اسکے ہر دن کا روزہ ایک سال کے روزوں کی برابر اور اس میں ہر رات کی عبادت شب قدر کی برابر ہے (رواہ الترمذی وابن ماجہ بسند ضعیف عن ابی ہریرہ مظہری) اور ابو الزبیر نے حضرت جابر سے روایت کیا ہے کہ خود رسول اللہ ﷺ نے والفجر والیال عشر کی تفسیر میں فرمایا کہ اس سے مراد عشرہ ذی الحجہ ہے۔ حضرت ابن عباس نے فرمایا کہ…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

دس راتوں سے مراد: ’وَلَیَالٍ عَشْرٍ‘۔ دس راتوں سے کون سی راتیں مراد ہیں؟ اس سوال کے مختلف جواب ہمارے مفسرین سے منقول ہیں لیکن ان میں سے کسی قول کی کوئی قابل قبول دلیل ان سے منقول نہیں ہے۔ ان کی بنیاد محض اس مفروضہ پر ہے کہ یہاں ان کی قسم کھائی گئی ہے اور جس چیز کی قسم کھائی جائے ضروری ہے کہ وہ کوئی مقدس چیز ہو حالانکہ یہ خیال بالکل بے بنیاد ہے۔ قرآن میں جو قسمیں وارد ہوئی ہیں ان میں سے بیشتر کسی دعوے پر دلیل کے طور پر کھائی گئی ہیں۔ ان کے اندر تقدس تلاش کرنے کے بجائے ہمیشہ ان کے استدلالی پہلو پر نظر جمانی اور دیکھنا یہ چاہیے کہ زیربحث دعویٰ کیا ہے اور قسم کس پہلو سے اس پر شہادت ہے۔ نیز قرآن…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

2۔ 1 اس سے اکثر مفسرین کے نزدیک ذو الحجہ کی ابتدائی دس راتیں ہیں۔ جن کی فضیلت احادیث سے ثابت ہے، نبی کریم نے فرمایا عشرہ ذوالحجہ میں کیے گئے عمل صالح اللہ کو سب سے زیادہ محبوب ہیں، حتی کہ جہاد فی سبیل اللہ بھی اتنا پسندیدہ نہیں سوائے اس جہاد کے جس میں انسان شہید ہوجائے۔ (البخاری، کتاب العیدین، باب فضل العمل فی ایام التشریق)

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

1: وَالْفَجْرِ : فجر کا وقت دنیا کی ہر چیز میں ایک نیا انقلاب لے کر نمودار ہوتا ہے، اس لئے اس کی قسم کھائی گئی ہے، بعض مفسرین نے اس آیت سے خاص ذوالحجہ کی صبح مراد لی ہے، اور دس راتوں سے مراد ذوالحجہ کے مہینے کی پہلی دس راتیں ہیں، جن کو اللہ تعالیٰ نے خصوصی تقدس عطا فرمایا ہے، اور اس میں عبادت کا بہت ثواب ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

ولیال عشر (2:89) ” دس راتوں کی قسم “۔ ان دس راتوں کو قرآن نے مطلق چھوڑا ہے ، ان کی تفسیر میں اقوال وروایات وارد ہیں ، بعض میں ذوالحجہ کی دس راتیں ، بعض میں محرم کی دس راتیں ، اور بعض میں رمضان کی دس راتوں کا ذکر آیا ہے۔ میں سمجھتا ہوں ان کو اسی طرح مطلق اور عام ہی رہنے دینا چاہئے اور یہی زیادہ خوشگوار ہے۔ یہ دس راتیں جن کو اللہ ہی جانتا ہے اور اللہ کے ہاں جن کی ایک منزلت واہمیت ہے ، سیاق کلام میں ان دس راتوں پر یوں روشنی پڑتی ہے کہ شاید یہ ایک شخصیت اور ایک ذی روح راتیں ہیں ، جس طرح زندہ ذی روح مخلوق ہوتی ہے ۔ یہ راتیں ہم سے محبت کرتی ہیں ، اور ہم ان سے محبت کرتے ہیں ، اس قرآنی تعبیر کے آئینے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 1–4

14 حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں " عید قربان کی فجر بڑا حج ادا ہوتا ہے اور دس رات اس سے پہلے۔ اور جفت اور طاق رمضان کی آخری (عشرہ) دہائی میں ہے۔ اور جب رات کو چلے یعنی پیغمبر معراج کو "۔ یہ سب اوقات متبرک تھے اس لئے ان کی قسم کھائی (تنبیہ) " والیـــــل اذا یـــسر " کے معنی عموماً مفسرین نے رات کے گزرنے یا اس کی تاریکی پھیلنے کے لئے ہیں۔ گویا صبح کی قسم کے مقابلہ میں رات کے جانے یا آنے کی قسم کھائی۔ جیسا کہ جفت کے مقابل طاق کی قسم کھائی گئی۔ اور " ولیال عشر " سے بھی ممکن ہے مطلق دس راتیں مراد ہوں کیونکہ اس کے افراد و مصادیق میں بھی تقابل پایا جاتا ہے مہینہ کے شروع کی دس راتیں اول روشن ہوتی ہیں پھر…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 2{ وَلَیَالٍ عَشْرٍ۔ } ”اور قسم ہے دس راتوں کی۔“ پہلی قسم کی مناسبت سے اکثر مفسرین نے ان راتوں سے 10 ذی الحجہ کی فجر سے پہلے کی دس راتیں مراد لی ہیں۔ ظاہر ہے 10 ذی الحجہ کی فجر سے پہلے 10 ذی الحجہ کی رات گزر چکی ہوتی ہے ‘ اس لیے وہ رات بھی ان میں شامل ہے۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

2 دس راتوں سے مراد بعض مفسرین نے رمضان کا آخری عشرہ لیا ہے۔ جن میں لیلۃ القدر ہوتی ہے اور بعض مفسرین نے فجر سے عام فجر نہیں بلکہ یوم النحر یا عید الاضحیٰ کی فجر مراد لی ہے اور دس راتوں سے مراد یکم ذی الحجہ سے دس ذی الحجہ تک کی راتیں ہیں اور یہ دونوں قسم کی دس دس راتیں بڑی فضیلت والی اور اپنی اپنی جگہ اہم ہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 1–4

1۔ یعنی گزرتی ہوئی رات کی، گویا یہ لفظ ٹھیک فجر کے مقابلہ میں ہے۔ (آیت) ” ولیال عشر “۔ ذی الحجہ کی پہلی دس تاریخیں مراد ہیں، جن کی بڑی فضلیتیں احادیث میں وارد ہوئی ہیں، (آیت) ” والشفع والوتر۔ اپنے عموم اطلاق کے لحاظ سے یہ (2) دو لفظ حاوی ہیں دنیا کے ہر زوج اور ہر فرد پر۔ اور اس طرح کائنات کی ساری ہی اشیاء ان کے تحت میں آجاتی ہیں۔ (آیت) ” الشفع “۔ ذی الحجہ کی متبرک دسویں تاریخ مراد لی گئی ہے۔ جسے یوم منی بھی کہتے ہیں، معا بعد حج منی میں قیام اور باقی شعائر حج کی ادائی کی تاریخ ہوتی ہے۔ (آیت) ” الوتر “۔ ذی الحجہ کی متبرک ترین نویں تاریخ مراد لی گئی ہے۔ جو عین یوم الحج اور عرفات میں حاضری کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 1–30

ترجمہ : شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے، قسم ہے فجر کی یعنی ہر دن کی فجر کی، اور دس راتوں کی یعنی ذی الحجہ کی دس راتوں کی اور جفت کی یعنی زوج کی اور طاق کی اور الوتر وائو کے فتحہ اور کسرہ کے ساتھ ہے یہ دو لغت ہیں (وتر) میں بمعنی فرد، اور رات کی جب وہ رخصت ہونے لگے یعنی جب وہ آئے اور جائے، کیا اس قسم میں عقلمند کے لئے کافی قسم (نہیں) ہے ؟ اور جواب قسم محذوف ہے (اور وہ) لتعذبن یا کفار مکۃ ! ہے، (اے کفار مکہ ! تم کو ضرور عذاب دیا جائے گا) کیا اے محمد ﷺ آپ ﷺ کو معلوم نہیں کہ تریے رب نے عادیوں کے یعنی قوم ارم کے ساتھ کیا کیا ؟ ارم عاد اولیٰ ہے، ارم عطف بیان یا بدل ہے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ولیال عشر . تنوین اظہار عظمت کے لیے ہے اور عظیم الشان دس راتوں کی قسم۔ ابن عباس ؓ کے نزدیک ذی الحجہ کی دس ابتدائی راتیں مراد ہیں۔ یہی قول قتادہ ‘ مجاہد ‘ ضحاک ‘ سدی اور کلبی کا بھی ہے۔ حضرت ابوہریرہ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ذی الحجہ کی دس دنوں کی عبادت سے زیادہ اللہ کو اور کسی دن کی عبادت محبوب نہیں ‘ اس کا ہر دن کا روزہ سال بھر کے روزوں کے اور اس کی ہر رات کی عبادت شب قدر کی عبادت کے برابر ہے۔ (رواہ الترمذی و ابن ماجہ بسند ضعیف) ضحاک کا قول بروایت ابو ورق آیا ہے کہ ماہ رمضان کی ابتدائی دس راتیں مراد ہیں اور ابو ظبیان کی روایت میں ہے کہ رمضان کی آخری دس راتیں مراد ہیں۔ سورة بقر…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 2–4

(41) قسم ہے فجر کی، یا دن کی روشنی کی، یا پورے دن کی اور ذی الحجہ کی پہلی دس تاریخوں کی، اور یوم عرفہ اور یوم النحر کی، اور یوم النحر کے بعد والے تین دن کی، یا یہ کہ قسم ہے شفع نمازوں کیا جیسا کہ صبح، ظہر، عصر، عشاء اور وتر سے اللہ تعالیٰ کی ذات مراد ہے۔ ان مزدلفہ کی رات کی جب وہ چلنے لگے کہا گیا ہے کہ اس رات میں آدمی آتے جاتے رہتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

ولیال عشر : بہت سے مفسرین نے ”ولیال عشر“ سے ذوالحجہ کی پہلی دس راتیں مراد لی ہیں۔ اہل عرب حج کے ایام کی بہت تعظیمک رتے تھے، ان دنوں میں ہر طرف سے لوگوں کا مکہ میں اجتماع قیامت کے دن کے اجتماع کی یاد دلاتا ہے، مگر لفظ عام ہیں تو بہتر ہے مفہوم بھی عام ہی رکھا جائے۔ چاند کی راتوں کا ہر عشرہ نئے انقلاب کی نشاندہی کرتا ہے، پہلے عشرے میں چاند بڑھتا جاتا ہے، آخری میں گھٹتا جاتا ہے اور درمیانی عشرہ عروج و زوال کا جامع ہونے کے باوجودت قریباً روشن ہوتا ہے۔ یہ انقلاب قیامت قائم ہونے کی دلیل ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 1–2

والفجر۔ ولیال عشر۔ اللہ تعالیٰ نے فجر کی قسم اٹھائی، یہاں پانچ قسمیں ہیں فجر کے بارے میں اختلاف ہے، ایک قوم کا نقطہ ہے کہ یہاں فجر سے مراد ہر روز دن سے ظلمت کا چھٹ جانا ہے، یہ حضرت علی شیر خدا، ابن زبیر اور حضرت ابن عباس کا نقطہ نظر ہے، حضرت ابن عباس سے یہ بھی مروی ہے کہ اس سے مراد تمام دن ہے اس کو فجر سے تعبیر کیا کیونکہ یہ دن کا پہلا جز ہوتا ہے، ابن محصین نے عطیہ سے وہ حضرت ابن عباس سے روایت نقل کرتے ہیں اس سے مراد محرم کے دن کی فجر ہے، قتادہ نے بھی اس کی مثل کہا ہے کہ یہ محرم کے پہلے دن کی فجر ہے، اس سے سال شروع ہوتا ہے ان سے یہ بھی مروی ہے کہ یہ صبح کی نماز ہے، ابن جریج نے عطاء سے وہ حضرت…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 2–3

دسویں محرم کا روزہ 17۔ البخاری ومسلم والبیہقی نے ربیع بنت معوذ بن عفراء ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے عاشوراء کی صبح کو انصار کی ان بستیوں کی طرف پیغام بھیجا۔ جو مدینہ کے ارد گرد تھیں۔ جس نے روزہ کی حالت میں صبح کی تو اس کو چاہیے کہ روزہ کو پورا کرے۔ اور جس نے بغیرہ روزہ کے صبح کو تو اس کو چاہیے کہ وہ باقی دن کا روزہ رکھ لے۔ ربیع ؓ نے فرمایا کہ اس کے بعد ہم اس دن کا روزہ رکھتے تھے اور ہم اپنے چھوٹے بچوں کو بھی روزہ رکھاتے تھے اور ہم ان کو مسجد کی طرف لے جاتے تھے۔ اور ہم ان کے لیے اون میں سے ایک کھیل بناتے تھے پس جب ان میں سے کوئی رونے لگتا کھانے کی خواہش پر تو ہم اسے وہ دے دیتے تھے۔ یہاں…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[وَلَيَالٍ عَشْرٍ : اور قسم ہے دس راتوں کی ] ترکیب : (آیت۔ 2) لَیَالٍ دراصل لَیَالِیٌ ہے جو قاعدہ کے مطابق تبدیل ہو کر لَیَالٍ لکھی جاتی ہے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 1–2

ان آیات میں چند سابقہ قوموں کی بربادی کا تذکرہ فرمایا ہے جو امت حاضرہ کے لیے باعث عبرت و موعظت ہے، پہلے پانچ چیزوں کی قسم کھائی : اولاً فجر کی قسم کھائی جیسا کہ اسی طرح سورة التکویر میں ﴿ وَ الصُّبْحِ اِذَا تَنَفَّسَۙ0018﴾ فرما کر صبح کی قسم کھائی۔ ثانیاً دس راتوں کی قسم کھائی اور دس راتوں سے عشرہ اولیٰ ذی الحجہ کی راتیں مراد ہیں درمنثور میں بروایت حضرت جابر بن عبداللہ ؓ رسول اللہ ﷺ سے یہی نقل کیا ہے اور حضرت عبداللہ بن عباس اور عبداللہ بن زبیر ؓ سے بھی یہی منقول ہے۔ بعض احادیث میں ان دنوں کی بہت فضیلت آئی ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ذی الحجہ کے ان دس دنوں میں…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–30

تاریخ اقوام مکذبین وتقسیم فطرت انسانی بصوت شقاوت وسعادت : قال اللہ تعالیٰ : والفجر ولیال عشر ............. الی .............. وادخی جنتی “۔ (ربط) گزشتہ سورت میں قیامت کے احوال ذکر کیے گئے تھے اور یہ کہ ان ہولناک واقعات کا انسانی قدرت اور مادی اسباب کے دائرہ میں کوئی مقابلہ اور دفاع نہیں ہوسکتا۔ مقابلہ اور مدافعت تو درکنار اس پر بدحواسی اور اضطراب کا یہ عالم ہوگا کہ انسان اپنے آپ کو بےبس دیکھ رہا ہوگا، اور مجرمین پر خداوند عالم کا ایسا عذاب مسلط ہوگا کہ اس کا تصور ہی نہیں کیا جاسکتا ہے تو اب اس سورت میں بالخصوص ایسے عبرت ناک تاریخی واقعات بیان فرمائے گئے جن کو پڑھ کر ہر انسان عبرت حاصل کرے اور…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 1–2

2:۔ ” والفجر “ بعض مفسرین کے نزدیک فجر سے جنس مراد ہے بلا تخصیص یوم اور عبداللہ بن عباس ؓ اور مجاہد (رح) کے نزدیک یوم نحر (10 ذی الحجہ) کی فجر مراد ہے (روح) ۔ یوم نحر کی فجر خود شاہد ہے کہ وہ کتنا مبارک دن ہے، اس لیے اس دن میں بیت اللہ کے پاس جا کر اس مخصوص وقت میں اللہ کے سامنے عاجزی کرو اور اس سے دعاء مانگو، کیونکہ وہاں گناہ معاف ہوتے ہیں۔ ” ولیال عشر “ دس راتوں سے رمضان کی دس آخری راتیں مراد ہیں جن میں لیلۃ القدر پوشیدہ ہے۔ یہ حضرت ابن عباس ؓ اور ابو ظبیان (رح) سے منقول ہے۔ یہ قسم ماقبل سے بطور ترقی ہے۔ یوم نحس کی فجر نہ سہی وہاں جانے میں مال خرچ ہوتا ہے۔ اور سفر کی صعوبتیں اٹھانا پڑتی…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 1–14

(فجر اور دس راتیں ) ارشاد ہوتا ہے والفجر قسم ہے فجر کی ولیال عشر اور قسم ہے دس 10 راتوں کی ۔ فجر اور دس راتوں سے کون سی فجر اور کون سی دس راتیں مراد ہیں اس میں مفسرین کرام کے مختلف اقوال ہیں ۔ بعض فرماتے ہیں کہ فجر سے مطلق مراد ہے ۔ جو ہر روز طلوع ہوتی ہے۔ اور دس راتوں سے مراد رمضان المبارک کی آخری دس راتیں ہیں ۔ جن میں لیلۃ القدر جسیی عظیم اور بابرکت رات آتی ہے۔ اور جس میں عبادت کا اجر ثواب ایک ہزار مہینے سے زیادہ ہوتا ہے ۔ ان راتوں میں اللہ تعالیٰ کی خاص مہربانی شامل حال ہوتی ہے۔ دنیا میں عظیم انقلاب برپا کرنے والی کتاب قرآن پاک کے نزول کی ابتداء بھی اسی رات میں ہوئی ۔ بعض فرماتے ہیں کہ فجر…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَلَيَالٍ عَشْرٍ۝ 2 ۙ ليل يقال : لَيْلٌ ولَيْلَةٌ ، وجمعها : لَيَالٍ ولَيَائِلُ ولَيْلَاتٌ ، وقیل : لَيْلٌ أَلْيَلُ ، ولیلة لَيْلَاءُ. وقیل : أصل ليلة لَيْلَاةٌ بدلیل تصغیرها علی لُيَيْلَةٍ ، وجمعها علی ليال . قال اللہ تعالی: وَسَخَّرَ لَكُمُ اللَّيْلَ وَالنَّهارَ [إبراهيم/ 33] ( ل ی ل ) لیل ولیلۃ کے معنی رات کے ہیں اس کی جمع لیال ولیا ئل ولیلات آتی ہے اور نہایت تاریک رات کو لیل الیل ولیلہ لیلاء کہا جاتا ہے بعض نے کہا ہے کہ لیلۃ اصل میں لیلاۃ ہے کیونکہ اس کی تصغیر لیلۃ اور جمع لیال آتی ہے ۔ قرآن میں ہے : ۔ إِنَّا أَنْزَلْناهُ فِي لَيْلَةِ الْقَدْرِ [ القدر/ 1] ہم نے اس قرآن کو شب قدر میں نازل…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 1–5

ترکیب ¦ والفجر الواواو للقسم والباقی معطوف علی الفجر و جواب القسم محذوف ای لتبعثن اونحوہ وقیل جو ابہ ان ربک لبا لمرصاد۔ و الشفع والوتر بفتح الواو وکسرھاھما لغتاں ومعناھما الزوج والفرد اذا یسر اذا ظرف والعامل فیہ محذوف ای اقسم بہ یسرقرء الجمہوری بحذف الیاء وصلاً ووقفًا اتباعًا لرسم المصحف وقرء نافع و ابو عمر وبحذفھا فی الوقف واثبا تھا فی الوصل وقرء ابن کثیر ویعقوب وابن محیص باثبا تھا فیھما قال الخلیل تسقط الیاء منھا موافقۃً لرئوس الآی وھو ماخوذ من السری وھو السیر لیلاً یقال سریت اللیل وسریت بہ واسناد السری الی اللیل قیل حقیقی ان معناہ جاء او ادبر وقیل مجازی ھل فی ذلک القسم قسم لذی حجر ای عقل و…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 1–5

وَالْفَجْرِ ۔ وَلَیَالٍ عَشْرٍ ۔ وَّالشَّفْعِ وَالْوَتْرِ ۔ وَالَّیْلِ اِذَا یَسْرِ ۔ ھَلْ فِیْ ذٰلِکَ قَسَمٌ لِّذِیْ حِجْرٍ ۔ (الفجر : 1 تا 5) (قسم ہے فجر کی۔ اور دس راتوں کی۔ اور جفت اور طاق کی۔ اور رات کی جب وہ چل کھڑی ہو۔ کیا اس میں کوئی قسم ہے کسی عقل والے کے لیے۔ ) ان پانچ قسموں کا مفہوم اور جوابِ قسم کا تعین اور مفہوم ہم اس سے پہلے پڑھ چکے ہیں کہ قسم عموماً قرآن کریم میں کسی دعویٰ کی گواہی یا دلیل کے طور پر آتی ہے جس سے اس دعویٰ کو ثابت کرنا مقصود ہوتا ہے۔ اور دعویٰ جسے مقسم علیہ کہا جاتا ہے قسم کے بعد آتا ہے تاکہ قسم کے ذریعے پہلے دل و دماغ کی زمین ہموار کی جائے اور اس کے بعد دعویٰ کی…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 1–5

فہم القرآن ربط سورت : سورة الغاشیہ کے آخر میں ارشاد ہوا کہ سب کو ہمارے پاس آنا ہے اور ہمارے ذمہ ان کا حساب لینا ہے۔ الفجر کے آغاز میں چار قسمیں اٹھا کر بتلایا ہے کہ جس رب نے عاد، ثمود اور فرعون جیسے ظالموں کو دنیا میں عبرت ناک سزا دی۔ کیا وہ آخرت میں ظالموں کی پکڑ نہیں کرے گا ؟ کیوں نہیں وہ ظالموں کی ضرور پکڑ کرے گا کیونکہ وہ بڑا طاقتور ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس سورت کی ابتدا بھی پانچ قسموں سے فرمائی ہے۔ ارشاد ہوا ہے کہ قسم ہے صبح صادق کی ! قسم ہے دس راتوں کی ! قسم ہے جفت اور طاق کی اور قسم ہے رات کی جب وہ ختم ہونے پر آتی ہے۔ بلاشبہ عقل مندوں کے نزدیک ان چیزوں کی قسم اہمیت رکھتی ہے کیونکہ یہ اللہ…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

دس راتیں : 2 : وَلَیَالٍ عَشْرٍ (اور دس راتوں کی) ذی الحجہ کی دس راتیں نمبر 2۔ محرم کی دس ابتدائی راتیں۔ نمبر 3۔ رمضان المبارک کا آخری عشرہ۔ فضیلت کے بہت زیادہ ہونے کی وجہ سے لیالٍؔ کو نکرہ لائے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

2 ۔” ولیال عشر “ ابن عباس ؓ سے روایت کیا گیا ہے کہ یہ ذوالحجہ کی پہلی دس راتیں ہیں اور یہی مجاہد، قتادہ، ضحاک، سدی اور کلبی رحمہم اللہ کا قول ہے اور ابو وراق نے ضحاک (رح) سے روایت کیا ہے کہ وہ رمضان کی پہلی دس راتیں ہیں اور ابوظیبان نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ یہ رمضان کے مہینہ کی آخری دس راتیں ہیں اور عین بن رباب فرماتے ہیں یہ محرم کی پہلی دس راتیں ہیں جن میں سے دسویں یوم عاشوراء ہے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 1–14

1۔ 14۔ دس راتوں اور طاق اور جفت کی تفسیر اگرچہ سلف نے طرح طرح سے کی ہے لیکن امام المفسرین 2 ؎ حضرت عبد اللہ بن عباس اور ابن زبیر ؓ اور مجاہد اور اکثر سلف کا قول یہی ہے کہ دس راتوں سے مراد ماہ ذی الحجہ کی اول کی دس راتیں ہیں یہی قول زیادہ صحیح معلوم ہوتا ہے کیونکہ مسند 3 ؎ امام احمد نسائی و مستدرک حاکم بیہقی وغیرہ میں حضرت جابر ؓ کی مرفوع روایت میں یہی تفسیر آچکی ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا ان دس راتوں سے مراد شروع ذی الحجہ کی دس راتیں ہیں۔ حاکم نے اس روایت کو صحیح قرار دیا ہے اور طاق اور جفت کی تفسیر میں یہ قول صحیح معلوم ہوتا ہے کہ طاق اور جفت سے مراد طاق اور جفت نمازیں ہیں جیسے مغرب اور عشاء ‘…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 1–3

ظاہر ہے کہ مقسم بہ ہی مقسم علیہ ہے جب معاملہ ظاہر اور اہم ہو تو یہ جائز اور مستعمل ہے اس مقام پر بھی اسی طرح ہے اللہ نے فجر کی قسم کھائی ہے جو رات کا آخر اور دن کا مقدمہ ہے کیونکہ رات کے لوٹنے اور دن کے آنے میں ایسی نشانیاں ہیں جو اللہ کے کمال قدرت پر دلالت کرتی ہیں نیز یہ کہ تمام امور کی تدبیر کرنے والا اللہ تعالیٰ ہی ہے جس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں۔ فجر کے و قت ایک نہایت فضیلت ور عظمت والی نماز واقع ہوتی ہے اور وہ اس کے اہل ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کی قسم کھائے اس لیے کہ اس کے بعد اللہ نے دس راتوں کی قسم کھائی ہے اور صحیح قول کے مطابق یہ رمضان المبارک یا ذوالحج کی دس راتیں ہیں کیونکہ یہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

(2) دس راتوں کی قسم اور اس سے مقصود و مراد ؟ سو ارشاد فرمایا گیا " اور قسم ہے دس راتوں کی "۔ ان دس راتوں کی تعیین و تشخیص میں حضرات مفسرین کرام کے مختلف قول ہیں۔ مثلا یہ کہ اس سے مراد ذی الحجہ کے عشرہ اولی کی دس راتیں ہیں کہ ان میں کیا جانے والا عمل اللہ تعالیٰ کے یہاں سب سے زیادہ محبوب ہے، یہاں تک کہ جہاد فی سبیل اللہ سے بھی زیادہ ہو، مگر یہ کوئی شخص اللہ کی راہ میں ایسی قربانی پیش کرے کہ اس کی جان و مال میں سے کوئی چیز بھی واپس نہ لوٹے ( رواہ البخاری وغیرہ) یا اس سے مراد محروم کی ابتدائی دس راتیں ہیں کہ انہیں میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور ان کی قوم کو فرعون اور اس کی غلام سے نجات ملی…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 1–30

نیک و بد کی تمیز اور میدان حشر تشریح : اس سورت میں ان لوگوں کو جگانے کی کوشش کی گئی ہے جو شیطان کے بہلاوے میں آ کر سرکشی ' نفرت ' نافرمانی ' تکبر اور ناشکر گزاری کی عادات کو اپنا لیتے ہیں۔ بیشک یہ مال و دولت ' عزت شہرت اور آل و اولاد کی کثرت میں زیادہ سے زیادہ لالچی اور انسانیت کی حدود سے دور ہوتے ہوئے بس اپنے میں ہی مست ہوجاتے ہیں اور ان کے دل میں مال کی محبت اس قدر بڑھ جاتی ہے کہ وہ مال دینے والے (اللہ) سے ہی دور ہوجاتے ہیں اور حرام و حلال کا فرق بھول جاتے ہیں۔ نہ ان کو یہ خیال رہتا ہے کہ یتیم کا مال ہے یا غریب کی مدد کرنی چاہیے۔ بس وہ تو صرف مال کی محبت ہی میں کھو جاتے ہیں۔ اور جب کبھی ان…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–30

سورة الفجر۔ آیات 1 تا 30۔ اسرار ومعارف۔ قسم ہے فجر کی اور دس راتوں کی اور جفت اور طاق کی اور رات کی جب وہ چلنے لگے یعنی طلوع فجر اور ذی الحج کی دس راتیں پھر یوم عرفہ جس روز لوگ کفن پہنے عرفات میں ہوتے ہیں اور جفت یعنی دس ذی الحج جب لوگ قربانی کرتے ہیں اور جب رات ڈھل چکی ہوتی ہے جانے والی ہوتی ہے کہ فجر بھی ایک عظیم انقلاب ہے جو ہر لمحہ دنیا پر بپا ہورہا ہے لوگ نیندار سے بیدار ہو کر کاروبار حیات میں مصروف ہوجاتے ہیں اور ذی الحج کی دس راتیں یعنی عشرہ ذی الحج کہ قبل اسلام بھی لوگ حج کے نام پر رسومات ادا کرتے اور ظہور اسلام پر توکفن پہنے بیشمار اللہ کی مخلوق عمرے کررہی ہوتی ہے اور رات اور دن کا…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 7 اگرچہ دس راتوں کا لفظ عام ہے مگر حضرت جابر کی ایک مرفوع روایت کے مطابق اس سے عشرہ ذی الحجہ کی پہلی راتیں مراد ہیں۔ وتر سے مراد عرفہ اور شفیع سے مراد یوم نحر (10 ذی الحجہ) امام حاکم نے اس روایت کو صحیح قرار دیا ہے اس لئے جمہور مفسرین اسی طرف گئے ہیں کہ اس سے ذی الحجہ کی پہلی دس راتیں مراد ہیں حافظ ابن کثیر نے اس روایت کے موقوف ہونے کی تصحیح کی ہے۔ ایک حدیث میں ان دس راتوں کے نیک عمل کو دوسرے دنوں کی نیکی سے افضل قرار دیا گیا ہے۔ (ابن کثیر بحوالہ صحیح بخاری ص ابن عباس)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(89:2) ولیال عشر۔ واؤ عاطفہ ہے جس کا عطف الفجر پر ہے لیال عشر موصوف و صفت (عددی) مل کر مقسم بہ۔ واؤ قسم محذوف۔ اور قسم ہے دس راتوں کی۔ اس سے کون سی دس راتیں مراد ہیں۔ ذوالحجہ کی پہلی دس راتیں۔ رمضان کی آخری دس راتیں۔ محرم کی پہلی دس راتیں۔ تینوں قوم ہیں۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–30

لغات القرآن۔ لیال عشر۔ دسرراتیں۔ الشفع۔ جفت عدد۔ الوتر۔ طاق عدد۔ ذی حجر۔ عقل والے۔ ذات المعاد۔ ستونوں والے۔ جابوا۔ تراشے۔ کاٹے۔ ذی الاوتاد۔ میخوں والا۔ صب۔ ڈال دیا۔ سوط۔ کوڑا۔ المرصاد۔ گھات میں ہے۔ اھانن۔ مجھے ذلیل کردیا۔ لا تکرمون ۔ تم عزت نہیں کرتے۔ التراث۔ میراث۔ اکلا لما۔ سب سمیٹ کر کھانا۔ حبا جما۔ بہت زیادہ محبت۔ دکت۔ کوٹ ڈالی گئی۔ النفس المطمئنۃ۔ اطمینان و سکون والا نفس۔ تشریح : اس دنیا میں ہر لمحہ انقلاب بپا ہے۔ کروڑوں سال سے رات دن، صبح اور شام کا آناجانا، چاند، سورج ، ستاروں کا نکلنا، ڈوبنا، غائب ہوجانا اور پھر سے ابھر کر پوری آب و تاب سے نکلنا، اسی طرح قوموں کا عروج وزوال ہر ابتداء…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

(ف 2) حضرت ابن عباس سے مروی ہے کہ مراد ان سے ذی الحجہ کی پہلی دس راتیں ہیں کیونکہ یہ زمانہ اعمال حج میں مشغول ہونے کا زمانہ ہے اور حدیث شریف میں اس عشرہ کی بہت فضیلتیں وارد ہوئی ہیں اور یہ بھی مروی ہے کہ رمضان کے عشرہ آخیر کی راتیں مراد ہیں یامحرم کے پہلے عشرہ کی۔

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

[1] مراد چاند کے عروج وزوال کی دس دس راتیں ہیں جن میں چاند کا تغیر نہایت نمایاں ہوتا ہے۔ مہینے کی پہلی دس راتوں میں چاند باریک ناخن کی شکل سے بڑھ کر آدھے سے زیادہ ہوجاتا ہے۔ دوسری دس راتوں میں بتدریج بڑھ کر پورا ہوجاتا ہے اور رات کا بڑا حصہ اس سے روشن رہتا ہے، آخری دس راتوں میں بتدریج چھوٹا ہوتا چلا جاتا ہے اور رات کا بیشتر حصہ تاریک سے تاریک تر ہوتا جاتا ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 1–14

سورة الفجر 1: اس سورت میں قسموں کے انداز میں شواہد کو پیش فرمایا ہے اور دلائل کا ذکر کیا ہے ۔ اسی واسطے فرمایا ہے ۔ ھل فی ذلک قسم لذی حجر ۔ کہ اس میں عقلمندوں اور غوروفکر کرنے والوں کے لئے ایک بین دلیل ہے ۔ اس لئے مقام اور موقع کے لحاظ سے زیادہ موزوں یہ ہے کہ یہاں الفجر سے مراد فجر قیامت ہو اور دس راتوں سے مراد وہ دس راتیں ہوں جن میں نافرمان قوموں پر عذاب بھیجا گیا اور الشفع والوتر حسوما اور الیل اذیسر ۔ غرض ہر وہ رات ہے جو معذب قوموں پر آتی ہے ۔ اس نہج سے یہ دعوی ان ربک لبا لمرصاد بالکل درست اور صحیح ثابت ہوگا ۔ یعنی ان معذب قوموں کی تاریخ پڑھو اور ان کے حالات کا مطالعہ کرو ۔ تمہیں معلوم…

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

اور دس راتوں کے رب کی قسم 2 ؎ ہر زبان میں کچھ چیزیں مشترک چلتی ہیں جو ہر قوم میں اور ہر علاقہ میں ایک ہی طرح سے بولی جاتی ہیں ۔ شہادت اور گواہی کے لے بات کو مؤکد بنانے کے لیے سات کے عدد اور دس کے عدد کو بہت اہمیت حاصل ہے ۔ سات بار کہنے سے ستر بار ، سات سو بار کہنے میں صرف تاکید مراد ہوتی ہے۔ اسی طرح دس بار سو بار اور ہزار بار کو بھی ایک جیسی اہمیت حاصل ہے اس سے سات سے ستر اور ستر سے سات سو اور اسی طرح دس بار سو بار اور ہزار بار کہنے سے مراد گن گن کر کہنا مراد نہیں ہوتا اور نہ ہی سات ، ستر اور سات سو بار دس ، سو اور ہزار کو عدد کے لحاظ سے کوئی اہمیت حاصل ہے۔ اس لیے ہمارے خیال میں ان راتوں سے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Next, it says: لَيَالٍ عَشْرٍ (and by the Ten Nights...89:2) According Sayyidna Ibn ` Abbas ؓ Qatadah, Mujahid, Suddi, Dahhak, Kalbi and other leading commentators, the 'ten nights' refers to the [ first ] ten nights of Dhul Hijjah. It is recorded in Hadith that the Holy Prophet ﷺ said that the first ten days of Dhil Hijjah are the most meritorious days for Allah's worship. Every fast of the day is equivalent to fasts of the whole year. Worshipping Allah every night during this period is equivalent to worshipping Him on the night of Qadr. [ Transmitted by Tirmidhi and Ibn Majah with a weak…

Read the full tafseer →