وَالْفَجْرِ ۟ۙوَالۡفَجۡرِۙ
فجر کی قسم
— Fateh Muhammad Jalandhari
By the dawn
— Saheeh International
Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 14 of juz
The Dawn · Meccan · 30 ayahs · 1 ruku
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
وَالْفَجْرِ ۟ۙوَالۡفَجۡرِۙ
فجر کی قسم
— Fateh Muhammad Jalandhari
By the dawn
— Saheeh International
Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 14 of juz
Read the whole surah · Surah Al-Fajr
قسم ہے فجر کی
فجر کی قسم
قسم ہے فجر کی!
قسم ہے فجر کے وقت کی۔
اس صبح کی قسم
اس صبح کی قَسم (جس سے ظلمتِ شب چھٹ گئی)٭، ٭ مراد ہر روز کی صبح یا نمازِ فجر ہے یا بطورِ خاص ماہ ذی الحجہ کی پہلی صبح یا یکم محرم کی صبح ہے یا عید الاضحٰی کی صبح۔ اس سے مراد سیدنا محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذاتِ گرامی بھی ہے جن کی بعثت سے شبِ ظلمت کا خاتمہ ہوا اور صبحِ ایمان پھوٹی۔
قسم ہے فجر کی !
فجر کی قسم
شاہد ہے فجر
قسم ہے فجر کی
قسم ہے فجر کی
قسم ہے فجر کی۔
فجر کی قسم
By the dawn,
I swear by the dawn,
I swear by the dawn,
By the dawn;
By the dawn
By the dawn,
I swear by the daybreak,
By the dawn,
By the break of Day
— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary
Explained with ayahs 1–14
شفع اور وتر سے کیا مراد ہے اور قوم عاد کا قصہ فجر تو ہر شخص جانتا ہے یعنی صبح اور یہ مطلب بھی ہے کہ بقر عید کے دن کی صبح، اور یہ مراد بھی ہے کہ صبح کے وقت کی نماز، اور پورا دن اور دس راتوں سے مراد ذی الحجہ مہینے کی پہلی دس راتیں۔ چناچہ صحیح بخاری شریف کی حدیث میں ہے کہ کوئی عبادت ان دس دنوں کی عبادت سے افضل نہیں لوگوں نے پوچھا اللہ کی راہ کا جہاد بھی نہیں ؟ فرمایا یہ بھی نہیں مگر وہ شخص جو جان مال لے کر نکلا اور پھر کچھ بھی ساتھ لے کر نہ پلٹا بعض نے کہا ہے محرم کے پہلے دس دن مراد ہیں حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں رمضان شریف کے پہلے دس دن لیکن صحیح قول پہلا ہی ہے یعنی ذی الحجہ کی شروع کی دس…
Read the full tafseer →خلاصہ تفسیر قسم ہے (فجر کے وقت) کی اور (ذی الحجہ کی) دس راتوں (یعنی دس تاریخوں) کی کہ وہ نہایت فضیلت والی ہیں کذا فسر فی الحدیث) اور جفت کی اور طاق کی (جفت سے مراد دسویں تاریخ ذی الحجہ کی اور طاق سے نویں تاریخ، کذا فی الحدیث اور ایک حدیث میں ہے کہ اس سے نماز مراد ہے کہ کسی کی طاق رکعتیں ہیں کسی کی جفت، اور پہلی حدیث کو روایتہ بھی واضح کہا گیا ہے کہ، کذا فی الروح اور درایتہ بھی وہ ارجح ہے کیونکہ اس سورت میں جن چیزوں کی قسم کھائی گئی وہ سب زمانے اور اوقات کی قسم سے ہیں۔ درمیان میں شفع اور وتر بھی اوقات ہی کی قسم سے ہو تو تناسب واضح رہتا ہے اور یہ تطبیق بھی ہو سکتی ہے کہ شفع اور وتر بھی اوقات ہی…
Read the full tafseer →ہم تمہید میں اشارہ کر چکے ہیں کہ یہاں جو قسمیں کھائی گئی ہیں وہ اس دعوے پر شہادت کے لیے کھائی گئی ہیں کہ اس کائنات کا مدبر حقیقی اللہ وحدہٗ لاشریک ہے۔ اسی کے ہاتھ میں ہر چیز کی باگ ہے۔ وہی جب چاہتا ہے ایک چیز کو نمودار کرتا ہے اور جب چاہتا ہے اس کو اوجھل کر دیتا ہے۔ وہی جس کو جس حد تک چاہتا ہے ڈھیل دیتا ہے اور جہاں چاہتا ہے روک دیتا ہے۔ مجال نہیں ہے کہ کوئی شے اس کی مقرر کی ہوئی حد سے آگے بڑھ سکے یا اس کے اختیار میں مداخلت کر سکے۔ فجر کی شہادت سے مقصود: ’وَالْفَجْرِ‘۔ ’فَجْرٌ‘ سے مراد وہ وقت ہے جب رات کی تاریکی کا پردہ چاک ہوتا اور دن کو روشنی مشرقی افق سے نمودار ہوتی ہے۔ روزے کے احکام کے ضمن…
Read the full tafseer →1۔ 1 اس سے مراد مطلق فجر ہے، کسی خاص دن کی فجر نہیں۔
Read the full tafseer →والفجر ............................................ لذی حجر اس سور تکے آغاز میں قسم اٹھانے کے لئے ایسے مناظر اور مخلوقات کا انتخاب کیا گیا ہے جو انسانوں کے مانوس مناظر ہیں اور ایک لطیف روح رکھتے ہیں اور صاف و شفاف ہیں۔ ” الفجر “ ایک ایسا وقت ہے جس میں زندگی نہایت خوشگوار موڈ میں سانس لیتی ہے۔ نہایت خوشی ، تبسم ، محبت اور تروتازہ لگاﺅ کے جذبات میں یہ پوری کائنات انگڑائی لیتی ہے۔ فجر کے یہ سانس گویا مناجات الٰہیہ کے انفاس ہیں۔ اور فجر کے وقت ہر چیز کھلی کھلی ہوتی ہے۔ یوں نظر آتا ہے کہ کلیاں خوشی کی وجہ سے کھل رہی ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
14 حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں " عید قربان کی فجر بڑا حج ادا ہوتا ہے اور دس رات اس سے پہلے۔ اور جفت اور طاق رمضان کی آخری (عشرہ) دہائی میں ہے۔ اور جب رات کو چلے یعنی پیغمبر معراج کو "۔ یہ سب اوقات متبرک تھے اس لئے ان کی قسم کھائی (تنبیہ) " والیـــــل اذا یـــسر " کے معنی عموماً مفسرین نے رات کے گزرنے یا اس کی تاریکی پھیلنے کے لئے ہیں۔ گویا صبح کی قسم کے مقابلہ میں رات کے جانے یا آنے کی قسم کھائی۔ جیسا کہ جفت کے مقابل طاق کی قسم کھائی گئی۔ اور " ولیال عشر " سے بھی ممکن ہے مطلق دس راتیں مراد ہوں کیونکہ اس کے افراد و مصادیق میں بھی تقابل پایا جاتا ہے مہینہ کے شروع کی دس راتیں اول روشن ہوتی ہیں پھر…
Read the full tafseer →آیت 1{ وَالْفَجْرِ۔ } ”قسم ہے فجر کی۔“ سورة الفجر کی ابتدائی آیات قسموں کے حوالے سے مشکلات القرآن میں سے ہیں اور ان کے بارے میں متعدد اقوال ہیں۔ بہرحال اس پہلی آیت کے بارے میں عام رائے یہ ہے کہ اس سے 10 ذی الحجہ کی فجر مراد ہے جس کے بعد قربانی ہوتی ہے اور یہ دن مناسک ِحج کے حوالے سے بنیادی اور خصوصی اہمیت کا حامل ہے۔
Read the full tafseer →1 فجر یا سپیدہ ئسحر کے نمودار ہونے کے وقت کی اہمیت یہ ہے کہ اس وقت غفلت سے سوئی ہوئی ساری دنیا کو بیداری کا پیغام ملتا ہے۔ رات کو انسان تھکن سے چور ہو کر سوتا ہے اور صبح جب بیدار ہوتا ہے تو یہ بالکل تازہ دم ہوتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
1۔ یعنی گزرتی ہوئی رات کی، گویا یہ لفظ ٹھیک فجر کے مقابلہ میں ہے۔ (آیت) ” ولیال عشر “۔ ذی الحجہ کی پہلی دس تاریخیں مراد ہیں، جن کی بڑی فضلیتیں احادیث میں وارد ہوئی ہیں، (آیت) ” والشفع والوتر۔ اپنے عموم اطلاق کے لحاظ سے یہ (2) دو لفظ حاوی ہیں دنیا کے ہر زوج اور ہر فرد پر۔ اور اس طرح کائنات کی ساری ہی اشیاء ان کے تحت میں آجاتی ہیں۔ (آیت) ” الشفع “۔ ذی الحجہ کی متبرک دسویں تاریخ مراد لی گئی ہے۔ جسے یوم منی بھی کہتے ہیں، معا بعد حج منی میں قیام اور باقی شعائر حج کی ادائی کی تاریخ ہوتی ہے۔ (آیت) ” الوتر “۔ ذی الحجہ کی متبرک ترین نویں تاریخ مراد لی گئی ہے۔ جو عین یوم الحج اور عرفات میں حاضری کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–30
ترجمہ : شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے، قسم ہے فجر کی یعنی ہر دن کی فجر کی، اور دس راتوں کی یعنی ذی الحجہ کی دس راتوں کی اور جفت کی یعنی زوج کی اور طاق کی اور الوتر وائو کے فتحہ اور کسرہ کے ساتھ ہے یہ دو لغت ہیں (وتر) میں بمعنی فرد، اور رات کی جب وہ رخصت ہونے لگے یعنی جب وہ آئے اور جائے، کیا اس قسم میں عقلمند کے لئے کافی قسم (نہیں) ہے ؟ اور جواب قسم محذوف ہے (اور وہ) لتعذبن یا کفار مکۃ ! ہے، (اے کفار مکہ ! تم کو ضرور عذاب دیا جائے گا) کیا اے محمد ﷺ آپ ﷺ کو معلوم نہیں کہ تریے رب نے عادیوں کے یعنی قوم ارم کے ساتھ کیا کیا ؟ ارم عاد اولیٰ ہے، ارم عطف بیان یا بدل ہے…
Read the full tafseer →والفجر . قسم ہے فجر کی۔ الفجر سے مراد ہے ہر روز کی فجر۔ ابو صالح کی روایت میں حضرت ابن عباس کا یہی قول ہے۔ عکرمہ کا بھی یہی قول ہے۔ عطیہ کے نزدیک نماز فجر مراد ہے۔ قتادہ ؓ نے کہا : ماہ محرم کے پہلے دن کی فجر مراد ہے۔ اسی سے (نیا) سال پھوٹتا ہے۔ ضحاک (رح) نے کہا : ماہ ذی الحجہ کی پہلی تاریخ کی فجر مراد ہے کیونکہ اس سے ذی الحجہ کی دس راتیں (ابتدائی عشرہ) متصل ہیں۔
Read the full tafseer →یہ پوری سورت مکی ہے اس میں تیس آیات اور ایک سو انتالیس کلمات اور پانچ سو ستانوے حروف ہیں۔
Read the full tafseer →والفجر :”الفجر“ سے مراد صبح ہے۔ سورة تکویر میں بھی یہ قسم مذکور ہے :(والصبح اذا تنفس) (التکویر : 18)”اور قسم ہے صبح کی جب وہ سانس لیتی ہے۔“ ضروری نہیں کہ اس سے کسی خاص دن کی صبح ہی مراد لی جائے، ہر صبح ہی قیامت کی دلیل ہے، جس کے ساتھ سوئی ہوئی مخلوق بیدار ہوجاتی ہے اور موت کے بعد اٹھنے کا منظر سامنے آجاتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
والفجر۔ ولیال عشر۔ اللہ تعالیٰ نے فجر کی قسم اٹھائی، یہاں پانچ قسمیں ہیں فجر کے بارے میں اختلاف ہے، ایک قوم کا نقطہ ہے کہ یہاں فجر سے مراد ہر روز دن سے ظلمت کا چھٹ جانا ہے، یہ حضرت علی شیر خدا، ابن زبیر اور حضرت ابن عباس کا نقطہ نظر ہے، حضرت ابن عباس سے یہ بھی مروی ہے کہ اس سے مراد تمام دن ہے اس کو فجر سے تعبیر کیا کیونکہ یہ دن کا پہلا جز ہوتا ہے، ابن محصین نے عطیہ سے وہ حضرت ابن عباس سے روایت نقل کرتے ہیں اس سے مراد محرم کے دن کی فجر ہے، قتادہ نے بھی اس کی مثل کہا ہے کہ یہ محرم کے پہلے دن کی فجر ہے، اس سے سال شروع ہوتا ہے ان سے یہ بھی مروی ہے کہ یہ صبح کی نماز ہے، ابن جریج نے عطاء سے وہ حضرت…
Read the full tafseer →1۔ ابن الضریس والنحاس فی ناسخہ وابن مردویہ والبیہقی نے کئی طرق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ سورة الفجر مکہ میں نازل ہوئی۔ 2۔ ابن مردویہ نے عبداللہ بن زبیر ؓ سے روایت کیا کہ والفجر مکہ میں نازل ہوئی۔ 3۔ ابن مردویہ نے عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ سورة والفجر مکہ میں نازل ہوئی۔ 4۔ النسائی نے جابر ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اے معاذ ! تو نے لوگوں کو فتنے میں ڈال دیا۔ تم سبح اسم ربک الاعلی واللیل اذا یغشی والفجر والشمس وضحہا سے کہاں تھے۔ یعنی نماز میں یہ سورتیں پڑھا کرو۔ 5۔ ابن جریر وابن ابی حاتم نے عبداللہ بن زبیر ؓ سے روایت کیا کہ والفجر یہ قسم ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کے ذریعہ قسم کھائی…
Read the full tafseer →[وَالْفَجْرِ : قسم ہے فجر کی ] نوٹ۔ 1: یہاں پانچ چیزوں کی قسم کھا کر اس مضمون کی تاکید کی گئی ہے جو آگے اِنَّ رَبَّکَ لَیا لْمِرْصَادِ میں بیان ہوا ہے، یعنی اس دنیا میں تم جو کچھ کر رہے ہو اس پر جزاء وسزا ہونا لازمی اور یقینی ہے۔ تمہارا رب تمہارے سب اعمال کی نگرانی میں ہے۔ وہ پانچ چیزیں جن کی قسم کھائی ہے، ان میں پہلی چیز فجر یعنی صبح صادق ہے۔ ہوسکتا ہے اس سے مراد ہر روز کی صبح ہو، کیوں کہ وہ عالم میں ایک انقلاب عظیم لاتی ہے اور اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ کی طرف رہنمائی کرتی ہے۔ حضرت علی ؓ ، ابن عباس ؓ اور ابن زبیر ؓ سے یہی معنی منقول ہے۔ بعض مفسرین نے ذی الحجہ کی دسویں تاریخ یعنی یوم النحر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
ان آیات میں چند سابقہ قوموں کی بربادی کا تذکرہ فرمایا ہے جو امت حاضرہ کے لیے باعث عبرت و موعظت ہے، پہلے پانچ چیزوں کی قسم کھائی : اولاً فجر کی قسم کھائی جیسا کہ اسی طرح سورة التکویر میں ﴿ وَ الصُّبْحِ اِذَا تَنَفَّسَۙ0018﴾ فرما کر صبح کی قسم کھائی۔ ثانیاً دس راتوں کی قسم کھائی اور دس راتوں سے عشرہ اولیٰ ذی الحجہ کی راتیں مراد ہیں درمنثور میں بروایت حضرت جابر بن عبداللہ ؓ رسول اللہ ﷺ سے یہی نقل کیا ہے اور حضرت عبداللہ بن عباس اور عبداللہ بن زبیر ؓ سے بھی یہی منقول ہے۔ بعض احادیث میں ان دنوں کی بہت فضیلت آئی ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ذی الحجہ کے ان دس دنوں میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–30
تاریخ اقوام مکذبین وتقسیم فطرت انسانی بصوت شقاوت وسعادت : قال اللہ تعالیٰ : والفجر ولیال عشر ............. الی .............. وادخی جنتی “۔ (ربط) گزشتہ سورت میں قیامت کے احوال ذکر کیے گئے تھے اور یہ کہ ان ہولناک واقعات کا انسانی قدرت اور مادی اسباب کے دائرہ میں کوئی مقابلہ اور دفاع نہیں ہوسکتا۔ مقابلہ اور مدافعت تو درکنار اس پر بدحواسی اور اضطراب کا یہ عالم ہوگا کہ انسان اپنے آپ کو بےبس دیکھ رہا ہوگا، اور مجرمین پر خداوند عالم کا ایسا عذاب مسلط ہوگا کہ اس کا تصور ہی نہیں کیا جاسکتا ہے تو اب اس سورت میں بالخصوص ایسے عبرت ناک تاریخی واقعات بیان فرمائے گئے جن کو پڑھ کر ہر انسان عبرت حاصل کرے اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
2:۔ ” والفجر “ بعض مفسرین کے نزدیک فجر سے جنس مراد ہے بلا تخصیص یوم اور عبداللہ بن عباس ؓ اور مجاہد (رح) کے نزدیک یوم نحر (10 ذی الحجہ) کی فجر مراد ہے (روح) ۔ یوم نحر کی فجر خود شاہد ہے کہ وہ کتنا مبارک دن ہے، اس لیے اس دن میں بیت اللہ کے پاس جا کر اس مخصوص وقت میں اللہ کے سامنے عاجزی کرو اور اس سے دعاء مانگو، کیونکہ وہاں گناہ معاف ہوتے ہیں۔ ” ولیال عشر “ دس راتوں سے رمضان کی دس آخری راتیں مراد ہیں جن میں لیلۃ القدر پوشیدہ ہے۔ یہ حضرت ابن عباس ؓ اور ابو ظبیان (رح) سے منقول ہے۔ یہ قسم ماقبل سے بطور ترقی ہے۔ یوم نحس کی فجر نہ سہی وہاں جانے میں مال خرچ ہوتا ہے۔ اور سفر کی صعوبتیں اٹھانا پڑتی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–14
(فجر اور دس راتیں ) ارشاد ہوتا ہے والفجر قسم ہے فجر کی ولیال عشر اور قسم ہے دس 10 راتوں کی ۔ فجر اور دس راتوں سے کون سی فجر اور کون سی دس راتیں مراد ہیں اس میں مفسرین کرام کے مختلف اقوال ہیں ۔ بعض فرماتے ہیں کہ فجر سے مطلق مراد ہے ۔ جو ہر روز طلوع ہوتی ہے۔ اور دس راتوں سے مراد رمضان المبارک کی آخری دس راتیں ہیں ۔ جن میں لیلۃ القدر جسیی عظیم اور بابرکت رات آتی ہے۔ اور جس میں عبادت کا اجر ثواب ایک ہزار مہینے سے زیادہ ہوتا ہے ۔ ان راتوں میں اللہ تعالیٰ کی خاص مہربانی شامل حال ہوتی ہے۔ دنیا میں عظیم انقلاب برپا کرنے والی کتاب قرآن پاک کے نزول کی ابتداء بھی اسی رات میں ہوئی ۔ بعض فرماتے ہیں کہ فجر…
Read the full tafseer →وَالْفَجْرِ 1 ۙ فجر الْفَجْرُ : شقّ الشیء شقّا واسعا كَفَجَرَ الإنسان السّكرَيقال : فَجَرْتُهُ فَانْفَجَرَ وفَجَّرْتُهُ فَتَفَجَّرَ. قال تعالی: وَفَجَّرْنَا الْأَرْضَ عُيُوناً [ القمر/ 12] ، وَفَجَّرْنا خِلالَهُما نَهَراً [ الكهف/ 33] ، فَتُفَجِّرَ الْأَنْهارَ [ الإسراء/ 91] ، تَفْجُرَ لَنا مِنَ الْأَرْضِ يَنْبُوعاً [ الإسراء/ 90] ، وقرئ تفجر . وقال : فَانْفَجَرَتْ مِنْهُ اثْنَتا عَشْرَةَ عَيْناً [ البقرة/ 60] ، ومنه قيل للصّبح : فَجْرٌ ، لکونه فجر اللیل . قال تعالی: وَالْفَجْرِ وَلَيالٍ عَشْرٍ [ الفجر/ 1- 2] ، إِنَّ قُرْآنَ الْفَجْرِ كانَ مَشْهُوداً [ الإسراء/ 78] ، وقیل : الفَجْرُ فجران :…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
ترکیب ¦ والفجر الواواو للقسم والباقی معطوف علی الفجر و جواب القسم محذوف ای لتبعثن اونحوہ وقیل جو ابہ ان ربک لبا لمرصاد۔ و الشفع والوتر بفتح الواو وکسرھاھما لغتاں ومعناھما الزوج والفرد اذا یسر اذا ظرف والعامل فیہ محذوف ای اقسم بہ یسرقرء الجمہوری بحذف الیاء وصلاً ووقفًا اتباعًا لرسم المصحف وقرء نافع و ابو عمر وبحذفھا فی الوقف واثبا تھا فی الوصل وقرء ابن کثیر ویعقوب وابن محیص باثبا تھا فیھما قال الخلیل تسقط الیاء منھا موافقۃً لرئوس الآی وھو ماخوذ من السری وھو السیر لیلاً یقال سریت اللیل وسریت بہ واسناد السری الی اللیل قیل حقیقی ان معناہ جاء او ادبر وقیل مجازی ھل فی ذلک القسم قسم لذی حجر ای عقل و…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
وَالْفَجْرِ ۔ وَلَیَالٍ عَشْرٍ ۔ وَّالشَّفْعِ وَالْوَتْرِ ۔ وَالَّیْلِ اِذَا یَسْرِ ۔ ھَلْ فِیْ ذٰلِکَ قَسَمٌ لِّذِیْ حِجْرٍ ۔ (الفجر : 1 تا 5) (قسم ہے فجر کی۔ اور دس راتوں کی۔ اور جفت اور طاق کی۔ اور رات کی جب وہ چل کھڑی ہو۔ کیا اس میں کوئی قسم ہے کسی عقل والے کے لیے۔ ) ان پانچ قسموں کا مفہوم اور جوابِ قسم کا تعین اور مفہوم ہم اس سے پہلے پڑھ چکے ہیں کہ قسم عموماً قرآن کریم میں کسی دعویٰ کی گواہی یا دلیل کے طور پر آتی ہے جس سے اس دعویٰ کو ثابت کرنا مقصود ہوتا ہے۔ اور دعویٰ جسے مقسم علیہ کہا جاتا ہے قسم کے بعد آتا ہے تاکہ قسم کے ذریعے پہلے دل و دماغ کی زمین ہموار کی جائے اور اس کے بعد دعویٰ کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
فہم القرآن ربط سورت : سورة الغاشیہ کے آخر میں ارشاد ہوا کہ سب کو ہمارے پاس آنا ہے اور ہمارے ذمہ ان کا حساب لینا ہے۔ الفجر کے آغاز میں چار قسمیں اٹھا کر بتلایا ہے کہ جس رب نے عاد، ثمود اور فرعون جیسے ظالموں کو دنیا میں عبرت ناک سزا دی۔ کیا وہ آخرت میں ظالموں کی پکڑ نہیں کرے گا ؟ کیوں نہیں وہ ظالموں کی ضرور پکڑ کرے گا کیونکہ وہ بڑا طاقتور ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس سورت کی ابتدا بھی پانچ قسموں سے فرمائی ہے۔ ارشاد ہوا ہے کہ قسم ہے صبح صادق کی ! قسم ہے دس راتوں کی ! قسم ہے جفت اور طاق کی اور قسم ہے رات کی جب وہ ختم ہونے پر آتی ہے۔ بلاشبہ عقل مندوں کے نزدیک ان چیزوں کی قسم اہمیت رکھتی ہے کیونکہ یہ اللہ…
Read the full tafseer →1 : وَالْفَجْرِ (قسم ہے فجر کی) فجر کی قسم کھائی۔ الفجرؔ صبح کو کہتے ہیں۔ جیسا دوسرے ارشاد میں ہے والصبح اذآ اسفر ] المدثر : 34[ نمبر 2۔ نماز فجر کی قسم اٹھائی۔
Read the full tafseer →1 ۔” والفجر “ اللہ عزو جل نے فجر کی قسم کھائی ہے۔ ابوصالح نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ یہ ہر دن صبح کا روشن ہونا ہے اور یہی عکرمہ (رح) کا قول ہے اور عطیہ نے ان سے روایت کیا ہے کہ صبح کی نماز اور قتادہ (رح) فرماتے ہیں کہ وہ محرم کے پہلے دن کی صبح ہے کہ اس سے سال شروع ہوتا ہے اور ضحاک (رح) فرماتے ہیں ذوالحجہ کی فجر ہے اس لئے کہ اس کے ساتھ دس راتوں کو ملایا گیا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–14
1۔ 14۔ دس راتوں اور طاق اور جفت کی تفسیر اگرچہ سلف نے طرح طرح سے کی ہے لیکن امام المفسرین 2 ؎ حضرت عبد اللہ بن عباس اور ابن زبیر ؓ اور مجاہد اور اکثر سلف کا قول یہی ہے کہ دس راتوں سے مراد ماہ ذی الحجہ کی اول کی دس راتیں ہیں یہی قول زیادہ صحیح معلوم ہوتا ہے کیونکہ مسند 3 ؎ امام احمد نسائی و مستدرک حاکم بیہقی وغیرہ میں حضرت جابر ؓ کی مرفوع روایت میں یہی تفسیر آچکی ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا ان دس راتوں سے مراد شروع ذی الحجہ کی دس راتیں ہیں۔ حاکم نے اس روایت کو صحیح قرار دیا ہے اور طاق اور جفت کی تفسیر میں یہ قول صحیح معلوم ہوتا ہے کہ طاق اور جفت سے مراد طاق اور جفت نمازیں ہیں جیسے مغرب اور عشاء ‘…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
ظاہر ہے کہ مقسم بہ ہی مقسم علیہ ہے جب معاملہ ظاہر اور اہم ہو تو یہ جائز اور مستعمل ہے اس مقام پر بھی اسی طرح ہے اللہ نے فجر کی قسم کھائی ہے جو رات کا آخر اور دن کا مقدمہ ہے کیونکہ رات کے لوٹنے اور دن کے آنے میں ایسی نشانیاں ہیں جو اللہ کے کمال قدرت پر دلالت کرتی ہیں نیز یہ کہ تمام امور کی تدبیر کرنے والا اللہ تعالیٰ ہی ہے جس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں۔ فجر کے و قت ایک نہایت فضیلت ور عظمت والی نماز واقع ہوتی ہے اور وہ اس کے اہل ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کی قسم کھائے اس لیے کہ اس کے بعد اللہ نے دس راتوں کی قسم کھائی ہے اور صحیح قول کے مطابق یہ رمضان المبارک یا ذوالحج کی دس راتیں ہیں کیونکہ یہ…
Read the full tafseer →(1) " فجر " کی قسم اور کا مطلب ؟ سو ارشاد فرمایا گیا کہ " قسم ہے فجر کی " جس میں لوگ بیدار ہونے کے بعد اپنے اپنے کاموں میں لگ جاتے ہیں۔ جو درحقیقت ایک نمونہ ہے مرنے کے بعد دوبارہ جی اٹھنے کا، جس سے انسان کو روزانہ اس حقیقت کبری، یعنی بعث بعد الموت کی تذکیر و یاددہانی اور ریہرسل کرائی جاتی ہے، جیسا کہ حدیث شریف میں وارد اس دعا میں بھی یہی تعلیم و تلقین فرمائی گئی ہے جو اس موقع پر پڑھی جاتی ہے۔ چناچہ اس میں ارشاد فرمایا گیا " الحمدللہ الذی احیانا بعد اماتنا والیہ النشور " یعنی " سب تعریفیں اللہ کے لیے جس نے ہمیں موت کے بعد زندگی سے سرفراز فرمایا اور سب نے جانا بہرحال اسی کے پاس ہے "۔ مگر افسوس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–30
نیک و بد کی تمیز اور میدان حشر تشریح : اس سورت میں ان لوگوں کو جگانے کی کوشش کی گئی ہے جو شیطان کے بہلاوے میں آ کر سرکشی ' نفرت ' نافرمانی ' تکبر اور ناشکر گزاری کی عادات کو اپنا لیتے ہیں۔ بیشک یہ مال و دولت ' عزت شہرت اور آل و اولاد کی کثرت میں زیادہ سے زیادہ لالچی اور انسانیت کی حدود سے دور ہوتے ہوئے بس اپنے میں ہی مست ہوجاتے ہیں اور ان کے دل میں مال کی محبت اس قدر بڑھ جاتی ہے کہ وہ مال دینے والے (اللہ) سے ہی دور ہوجاتے ہیں اور حرام و حلال کا فرق بھول جاتے ہیں۔ نہ ان کو یہ خیال رہتا ہے کہ یتیم کا مال ہے یا غریب کی مدد کرنی چاہیے۔ بس وہ تو صرف مال کی محبت ہی میں کھو جاتے ہیں۔ اور جب کبھی ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–30
سورة الفجر۔ آیات 1 تا 30۔ اسرار ومعارف۔ قسم ہے فجر کی اور دس راتوں کی اور جفت اور طاق کی اور رات کی جب وہ چلنے لگے یعنی طلوع فجر اور ذی الحج کی دس راتیں پھر یوم عرفہ جس روز لوگ کفن پہنے عرفات میں ہوتے ہیں اور جفت یعنی دس ذی الحج جب لوگ قربانی کرتے ہیں اور جب رات ڈھل چکی ہوتی ہے جانے والی ہوتی ہے کہ فجر بھی ایک عظیم انقلاب ہے جو ہر لمحہ دنیا پر بپا ہورہا ہے لوگ نیندار سے بیدار ہو کر کاروبار حیات میں مصروف ہوجاتے ہیں اور ذی الحج کی دس راتیں یعنی عشرہ ذی الحج کہ قبل اسلام بھی لوگ حج کے نام پر رسومات ادا کرتے اور ظہور اسلام پر توکفن پہنے بیشمار اللہ کی مخلوق عمرے کررہی ہوتی ہے اور رات اور دن کا…
Read the full tafseer →ف 6 صبح سے مراد ہر صبح ہے یا خاص یکم محرم کی صبح کیونکہ اس سے سال کی ابتدا ہوتی ہے یا یکم ذی الحجہ کی صبح کیونکہ اس سے ان دس راتوں کی ابتدا ہوتی ہے جن کا ذکر بعد کی آیت میں آرہا ہے۔
Read the full tafseer →(89:1) والفجر واؤ قسمیہ ہے الفجر مقسم بہٖ ۔ الفجر سے کیا مراد ہے اس میں کئی اقوال ہیں :۔ (1) الفجر : سے مراد روز کی فجر مراد ہے (ابن عباس، عکرمہ ؓ (2) اس سے مراد نماز فجر ہے (عطیہ ؓ (3) اس سے مراد محرم کے پہلے دن کی فجر مراد ہے۔ اسی سے دنیا کا سال پھوٹتا ہے۔ (قتادہ) (4) اس سے مراد ماہ ذوالحجہ کی پہلی تاریخ کی فجر ہے کیونکہ اس سے ذوالحجہ کی دس راتیں (ابتدائی عشرہ) متصل ہے۔ (ضحاک)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–30
لغات القرآن۔ لیال عشر۔ دسرراتیں۔ الشفع۔ جفت عدد۔ الوتر۔ طاق عدد۔ ذی حجر۔ عقل والے۔ ذات المعاد۔ ستونوں والے۔ جابوا۔ تراشے۔ کاٹے۔ ذی الاوتاد۔ میخوں والا۔ صب۔ ڈال دیا۔ سوط۔ کوڑا۔ المرصاد۔ گھات میں ہے۔ اھانن۔ مجھے ذلیل کردیا۔ لا تکرمون ۔ تم عزت نہیں کرتے۔ التراث۔ میراث۔ اکلا لما۔ سب سمیٹ کر کھانا۔ حبا جما۔ بہت زیادہ محبت۔ دکت۔ کوٹ ڈالی گئی۔ النفس المطمئنۃ۔ اطمینان و سکون والا نفس۔ تشریح : اس دنیا میں ہر لمحہ انقلاب بپا ہے۔ کروڑوں سال سے رات دن، صبح اور شام کا آناجانا، چاند، سورج ، ستاروں کا نکلنا، ڈوبنا، غائب ہوجانا اور پھر سے ابھر کر پوری آب و تاب سے نکلنا، اسی طرح قوموں کا عروج وزوال ہر ابتداء…
Read the full tafseer →(ف 1) مراد اس سے یکم محرم کی صبح ہے جس سے سال شروع ہوتا ہے یا یکم ذی الحجہ کی جس دس راتیں ملی ہوئی ہیں یا عیدالاضحی کی صبح اور بعض مفسرین نے فرمایا کہ مراد اس سے ہر دن کی صبح ہے کیونکہ وہ رات کے گذرنے اور روشنی کے ظاہر ہونے اور تمام جانداروں کے طلب رزق کے لیے منتشر ہونے کا وقت ہے اور یہ مردوں کے قبروں سے اٹھنے کے وقت کے ساتھ مشابہت ومناسبت رکھتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–14
سورة الفجر 1: اس سورت میں قسموں کے انداز میں شواہد کو پیش فرمایا ہے اور دلائل کا ذکر کیا ہے ۔ اسی واسطے فرمایا ہے ۔ ھل فی ذلک قسم لذی حجر ۔ کہ اس میں عقلمندوں اور غوروفکر کرنے والوں کے لئے ایک بین دلیل ہے ۔ اس لئے مقام اور موقع کے لحاظ سے زیادہ موزوں یہ ہے کہ یہاں الفجر سے مراد فجر قیامت ہو اور دس راتوں سے مراد وہ دس راتیں ہوں جن میں نافرمان قوموں پر عذاب بھیجا گیا اور الشفع والوتر حسوما اور الیل اذیسر ۔ غرض ہر وہ رات ہے جو معذب قوموں پر آتی ہے ۔ اس نہج سے یہ دعوی ان ربک لبا لمرصاد بالکل درست اور صحیح ثابت ہوگا ۔ یعنی ان معذب قوموں کی تاریخ پڑھو اور ان کے حالات کا مطالعہ کرو ۔ تمہیں معلوم…
Read the full tafseer →(1) فجر کے وقت کی قسم۔
Read the full tafseer →آنے والی فجر کے رب کی قسم 1 ؎ آنے والے مضمون کو مؤکد کرنے کے لے بطور شہادت فجر کو پیش کیا گیا ہے کہ فجر کو لانے والا کون ہے ؟ وہی ہے جو مدبر کائنات ہے اور وحدہٗ لا شریک لہ ہے ۔ کون ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ اس فجر کو نہ لائے تو وہ اس کے لانے کا ذمہ لے لے اور اگر وہ رات کو ہمیشہ کے لیے رات ہی رات کر دے تو کوئی ہے کہ دن کو لانے پر قادر ہو۔ اگر نہیں اور یقینا نہیں تو پھر اللہ تعالیٰ کی حدود میں مداخلت کہاں تک جائز اور درست ہوئی ؟ فجر کیا ہے ؟ سب کو معلوم ہے کہ وہ وقت ہے جب رات کا پردہ پھٹ جاتا ہے اور دن کے آنے کی اطلاع مل جاتی ہے کہ بس اب دن آیا کہ آیا بلکہ اسلام کے عروف کا دن سورج کے طلوع ہونے سے…
Read the full tafseer →Commentary This Surah, by swearing five oaths in its beginning, emphasises the following fact: إِنَّ رَبَّكَ لَبِالْمِرْصَادِ Surely your Lord is ever on the watch. [ 89:14] This means that Allah is watching over whatever you do, and reward or punishment for your deeds is certain and inevitable. The first among the five oaths sworn at the beginning is Fajr (dawn). It may refer to the dawn of every day that brings about a great change in the world, and thus directs man's attention to the absolute Omnipotence of Allah. It is also possible that it refers to the dawn of some specific day.…
Read the full tafseer →