ثُمَّ اِنَّ عَلَیْنَا حِسَابَهُمْ ۟۠ثُمَّ اِنَّ عَلَيۡنَا حِسَابَهُمْ
پھر ہم ہی کو ان سے حساب لینا ہے
— Fateh Muhammad Jalandhari
Then indeed, upon Us is their account.
— Saheeh International
Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 13 of juzع
ثُمَّ اِنَّ عَلَیْنَا حِسَابَهُمْ ۟۠ثُمَّ اِنَّ عَلَيۡنَا حِسَابَهُمْ
پھر ہم ہی کو ان سے حساب لینا ہے
— Fateh Muhammad Jalandhari
Then indeed, upon Us is their account.
— Saheeh International
Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 13 of juzع
Read the whole surah · Surah Al-Ghaashiya
پھر اِن کا حساب لینا ہمارے ہی ذمہ ہے
پھر ہم ہی کو ان سے حساب لینا ہے
پھر بیشک ہمارے ذمہ ہے ان سے حساب لینا
پھر یقینا ان کا حساب لینا ہمارے ذمے ہے۔
پھر بیشک ہماری ہی طرف ان کا حساب ہے،
پھر یقیناً ہمارے ہی ذمہ ان کا حساب (لینا) ہے،
پھر بیشک ہمارے ہی ذمے ان کا حساب ہے۔
پھر ان کا حساب لینا ہمارے ہی ذمہ ہے۔
پھر ہمارے ہی ذمہ ان سے حساب لینا ہے !
پھر بلاشبہ ہمارے ہی ذمے ہے حساب لینا ان سب کا
پھر ہمارا ہی کام ان سے حساب لینا ہوگا۔
پھر ان کا حساب ہمارے ذمہ ہے۔
پھر ہم ہی کو ان سے حساب لینا ہے
and then it is for Us to call them to account.
then it is Our job to call them to account.
then it is Our job to call them to account.
Then verily, for Us will be their reckoning.
And Ours their reckoning.
— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran
Then indeed, upon Us is their account.
In Our hands are their accounts.
Then surely upon Us is the taking of their account.
Then verily on us is their reckoning.
Then it will be for Us to call them to account.
— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary
Explained with ayahs 17–26
کائنات پر غور و تدبر کی دعوت اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو حکم دیتا ہے کہ وہ اس کی مخلوقات پر تدبر کے ساتھ نظریں ڈالیں اور دیکھیں کہ اس کی بےانتہا قدرت ان میں سے ہر ایک چیز سے کس طرح ظاہر ہوتی ہے اس کی پاک ذات پر ہر ایک چیز کس طرح دلالت کر رہی ہے اونٹ کو ہی دیکھو کہ کس عجیب و غریب ترکیب اور ہیئت کا ہے کتنا مضبوط اور قوی ہے اور اس کے باوجود کس طرح نرمی اور آسانی سے بوجھ لاد لیتا ہے اور ایک بچے کیساتھ کس طرح اطاعت گزار بن کر چلتا ہے۔ اس کا گوشت بھی تمہارے کھانے میں آئے اس کے بال بھی تمہارے کام آئیں اس کا دودھ تم پیو اور طرح طرح کے فائدے اٹھاؤ، اونٹ کا حال سب سے پہلے اس لیے بیان کیا گیا کہ عموما عرب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–26
سورة الْغَاشِیَة 8 یعنی اگر معقول دلیل سے کوئی شخص بات نہیں مانتا تو نہ مانے، تمہارے سپرد یہ کام تو نہیں کیا گیا ہے کہ نہ ماننے والوں سے زبردستی منواؤ۔ تمہارا کام صرف یہ ہے کہ لوگوں کو صحیح اور غلط کا فرق بتادو اور غلط راہ پر چلنے کے انجام سے خبردار کردو۔ سو یہ فرض تم انجام دیتے رہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–26
افلاینظرون الی الابل کیف خلقت، آلایتہ قیامت کے احوال اور اس میں مومن و کافر کی جزاء و سزا کا بیان فرمانے کے بعد ان جاہل معاندین کی ہدایت کی طرف توجہ فرمائی جو اپنی بےوقوفی سے قیامت کا انکار اس بناء پر کرتے ہیں کہ انہیں مرنے اور مٹی ہوجانے کے بعد دوبارہ زندہ ہونا بہت بعید بلکہ محال نظر آتا ہے ان کی ہدایت کے لئے حق جل شانہ نے اپنی قدتر کی چند نشانیوں میں غور کرنے کا ان آیتوں میں ارشاد فرمایا ہے اور اللہ کی قدرت کی نشانیاں تو آسمان و زمین میں بیشمار ہیں، یہاں ان میں سے ایسی چار چزیوں کا ذکر فرمایا جو عرب کے بادیہ نشین لوگوں کے مناسب حال ہیں کہ وہ اونٹوں پر سوار ہو کر بڑے بڑے سفر طے کرتے ہیں اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–26
یعنی کوئی اس مغالطہ میں نہ رہے کہ یہ محض ایک دھمکی ہے۔ بلکہ یہ ایک اٹل حقیقت ہے۔ ہر جان کی واپسی ہماری ہی طرف ہونی ہے کسی اور کی طرف نہیں ہونی ہے اور یہ بھی ہم پر واجب ہے کہ ہم لوگوں کا حساب کریں اور ان کے اعمال کے مطابق ان کو جزا و سزا دیں۔ اگر ہم ایسا نہ کریں تو اس کے معنی یہ ہیں کہ یہ دنیا ایک بازیچۂ اطفال اور یک بالکل بے مقصد و بے حکمت کارخانہ ہے حالانکہ خالق کا کوئی کام بھی نہ حکمت سے خالی ہے نہ ہو سکتا ہے۔
Read the full tafseer →2۔ 1 مشہور ہے کہ اس کے جواب میں اللھم حاسبنا حسابا یسیرا۔ پڑھا جائے، یہ دعا تو نبی کریم ﷺ سے ثابت ہے جو آپ اپنی بعض نمازوں میں پڑھتے تھے، جیسا کہ سورة انشقاق میں گزرا لیکن اس کے جواب میں پڑھنا یہ آپ سے ثابت نہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–26
3: آنحضرت ﷺ کو کافروں کی ہٹ دھرمی سے جو تکلیف ہوتی تھی، اس پر آپ کو یہ تسلی دی گئی ہے کہ آپ کا فریضہ صرف تبلیغ کر کے پورا ہوجاتا ہے، آپ پر یہ ذمہ داری نہیں ہے کہ انہیں زبردستی مسلمان بنائیں۔ اس میں ہر مبلغ اور حق کے داعی کے لیے بھی یہ اصول بیان فرمایا گیا ہے کہ اسے اپنا تبلیغ کا فریضہ ادا کرتے رہنا چاہیے اور یہ نہ سمجھنا چاہیے کہ وہ ان سے زبردستی اپنی بات منوانے کا ذمہ دار ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–26
ان الینا ........................... حسابھم (26:88) ” ان لوگوں کو پلٹنا ہماری طرف ہی ہے ، پھر ان کا حساب لینا ہمارے ہی ذمہ ہے “۔ یوں دعوت اسلامی میں رسول ﷺ کے کردار پر بھی حدود وقیود عائد کردیئے جاتے ہیں۔ اور آپ کے بعد بھی ہر داعی پر صرف دعوت دینا فرض ہے۔ یہ کہ ہر داعی کا کام یہ ہے کہ وہ یاد دہانی کراتا رہے اور حسب لینا اللہ ذمہ داری ہے۔ اللہ سے وہ کہیں بھاگ نہیں سکتے ، نہ وہ اللہ کے محاسبے سے بچ سکتے ہیں۔ ہاں داعیان حق کی یہ بات بھی ذہن میں رکھنا چاہئے کہ انہوں نے دعوت اسلامی کے راستے میں پیدا کی جانے والی رکاوٹوں کو بھی دور کرنا ہے تاکہ لوگوں تک دعوت آزادانہ پہنچ سکے۔ اور رکاوٹیں دور کرنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–26
13 یعنی جس نے اللہ کی طاعت سے روگردانی کی اور اس کی آیتوں کا انکار کیا وہ آخرت کے بڑے عذاب اور اللہ کی سخت ترین سزا سے بچ نہیں سکتا۔ یقینا ان کو ایک روز ہماری طرف لوٹ کر آنا ہے اور ہم کو ان سے رتی رتی کا حساب لینا ہے۔ غرض آپ ﷺ اپنا فرض ادا کئے جائیے اور ان کا مستقبل ہمارے سپرد کیجئے۔
Read the full tafseer →آیت 26{ ثُمَّ اِنَّ عَلَیْنَا حِسَابَہُمْ۔ } ”پھر ان کا حساب ہمارے ذمہ ہے۔“ آپ ﷺ تذکیر اور یاد دہانی کے حوالے سے اپنا فرض ادا کرتے جایئے۔ ان کی جوابدہی اور حساب کا معاملہ آپ ہم پر چھوڑ دیں۔ یہ وہی انداز اور اسلوب ہے جو اس گروپ کی سورتوں میں قبل ازیں بھی کئی بار آچکا ہے۔ اس دور میں نازل ہونے والی سورتوں میں مشرکین کو مہلت دینے کا ذکر بہت خصوصیت کے ساتھ آیا ہے۔ مثلاً سورة المزمل میں فرمایا گیا : { وَذَرْنِیْ وَالْمُکَذِّبِیْنَ اُولِی النَّعْمَۃِ وَمَہِّلْہُمْ قَلِیْلًا۔ } ”آپ ﷺ مجھے اور ان جھٹلانے والوں کو چھوڑ دیں ‘ جو بڑی نعمتوں سے نوازے گئے ہیں اور ابھی آپ ﷺ انہیں کچھ مہلت دیں“۔ اسی طرح سورة…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–26
11 ایاب کی ضد ذھاب اور ذھاب و ایاب یہ ہے کہ مثلاً ایک شخص لاہور سے اسلام آبادجاتا ہے تو وہ ذھاب ہے اور جب وہاں سے واپس لاہور آتا ہے تو یہ ایاب ہے۔ اور یہ لفظ صرف جانداروں کے لیے آتا ہے اور اس میں یہ بھی ضروری نہیں ہوتا کہ اس میں واپس لوٹنے والے کے ارادہ کا بھی کچھ عمل دخل ہے۔ گویا اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ انہیں بہرحال ہمارے پاس واپس آنا پڑے گا۔ اس وقت ہم ان سے یقیناً حساب لے لیں گے اور یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم انہیں حساب لیے بغیر نہ چھوڑیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–26
7۔ ایاب اور حساب، مراجعت اور حساب کتاب اور جزاء وسزا، سب کا تعلق صرف ذات باری سے ہے، نہ کوئی شافع مطلق ہے، نہ مختار کل۔ یہ ضرب مسیحی عقیدہ شفاعت مطلق پر تو کھلی ہوئی ہے۔ اور ضمنا دوسرے اہل باطل پر بھی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–26
لست علیھم بمصیطر اس میں رسول اللہ ﷺ کو تسلی فرمائی کہ آپ ﷺ ان کے ایمان نہ لانے سے رنجیدہ نہ ہوں، اس لئے کہ آپ ﷺ ان پر مسلط نہیں ہیں، آپ ﷺ کا کام تبلیغ اور نصیحت کرنا ہے، وہ کر کے آپ ﷺ بےفکر ہوجائیں باقی کام ہمارے اوپر چھوڑ دیں ان کا حساب کتاب اور جزاء و سزا سب ہمارا کام ہے۔
Read the full tafseer →ثم ان علینا حسابھم . پھر ہمارے ہی ذمہ ان سے حساب لینا اور حسب درجۂ کفر ان کو عذاب دینا ہے۔ علٰی لزوم پر دلالت کر رہا ہے لیکن اللہ پر کوئی چیز لازم نہیں (یعنی بالذات لازم نہیں۔ ہاں اس نے کافروں کو معاف نہ کرنے کا وعدہ کرلیا ہے اس لیے اس وعدہ کی وجہ سے کافروں کو عذاب دینا اس پر لازم ہے) کیونکہ خدا پر کسی چیز کا وجوب اس کی شان الوہیت کے منافی ہے (لزوم سے عجز لازم آتا ہے اور ہر عجز سے اللہ پاک ہے ‘ اس لیے اس جگہ عَلٰی کا استعمال تاکید وعید کے لیے ہے) ۔ سور ۃ الغاشیہ ختم ہوئی ‘ بعونہٖ و منہٖ تعالیٰ
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–26
(21۔ 26) تو آپ بھی بذریعہ قرآن کریم ان کو نصیحت کردیا کیجیے، آپ ان پر مسلط نہیں ہیں کہ ان کو ایمان لانے پر مجبور کریں۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے قتال کا حکم دیا البتہ جو ایمان لانے سے روگردانی کرے گا تو اللہ تعالیٰ آخرت میں اسے دوزخ کا عذاب دے گا، آخرت میں ہمارے ہی پاس ان کا آنا ہوگا اور دنیا میں ان کی پختگی دنیا اور آخرت میں ثواب و عذاب دینا ہمارا ہی کام ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–26
ان الینا ایابھم :”اباب“”اب یووب“ (ن) کا مصدر ہے، لوٹنا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–26
الا من تولی وکفر۔ یہ مستثنی منقطع ہے لیکن جو وعظ اور تذکیر سے روگردانی کرے عذاب اکبر سے مراد جہنم ہے اس کا عذاب دائمی ہے یہاں آخرت کے عذاب کے لیے اکبر کا لفظ ذکر کیا کیونکہ دنیا میں انہیں بھوک، قحط، قید اور قتل کی سزا دی گئی اس تاویل کی دلیل حضرت ابن مسعود کی قرات ہے، الامن تولی وکفر فانہ یعذبہ اللہ۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے یہ مستثنی متصل ہے معنی یہ ہوگا آپ مسلط نہیں ہیں مگر ان لوگوں پر جنہوں نے اعراض کیا، اور کفر کا ارتکاب کیا آپ ان پر جہاد کے ذریعے مسلط ہیں اس کے بعد اللہ تعایل انہیں عذاب اکبر دے گا اس تعبیر کی بنا پر آیت میں کوئی نسخ نہیں۔ روایت بیان کی گئی کہ حضرت علی کے پاس ایک آدمی لایا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–26
47۔ ابن المنذر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ان الینا ایابہم بیشک ہماری طرف ہی ان کو لوٹ کر آنا ہے یعنی ان کا لوٹنا۔ 48۔ ابن ابی حاتم نے عطا (رح) سے اسی طرح روایت کیا۔ 49۔ الطستی نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نافع بن ازرق (رح) نے ان سے پوچھا کہ مجھے اللہ تعالیٰ کے اس قول آیت ان الینا ایابہم کے بارے میں بتائیے فرمایا الایاب سے مراد ہے لوٹنا پھر پوچھا کیا عرب کے لوگ اس معنی سے واقف ہیں۔ فرمایا ہاں کیا تو نے عبید بن الابرص کو یہ کہتے ہوئے نہیں سنا۔ وکل ذی غیبۃ یودب و غائب الموت لا یؤوب ترجمہ : اور ہر غائب ہونے والا واپس آتا ہے اور موت کے سبب غائب ہونے والا واپس نہیں لوٹتا ہے اور ایک دوسری…
Read the full tafseer →[ثُمَّ ان عَلَيْنَا : پھر یقینا ہم پر ہی ہے ][ حِسَابَهُمْ : ان سے حساب لینا ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–26
مخاطبین کو قیامت کے وقوع اور اس دن کی پریشانی اور اہل ایمان کی خوبی اور خوشحالی سے اور وہاں کی نعمتوں سے باخبر فرما دیا اور ان چیزوں کے بارے میں جو مخاطبیین کو تعجب تھا اسے دور فرما دیا اس سب کے باوجود اگر کوئی نہیں مانتا اور ایمان نہیں لاتا تو اس کے نتیجے کا وہ خود ذمہ دار ہے۔ رسول اللہ ﷺ کو اپنے مخاطبین کو ہدایت پر لانے کا زیادہ فکر رہتا تھا۔ لوگ آپ کی دعوت کو قبول نہ کرتے تھے تو اس سے آپ رنجیدہ ہوتے تھے، اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ آپ ان کو نصیحت کردیا کریں۔ ان کے قبول نہ کرنے کی وجہ سے رنجیدہ نہ ہوں آپ کا کام اتنا ہی ہے کہ ان کو بتادیں۔ نصیحت فرما دیں، آپ پر مسلط نہیں کیے گئے کہ ان کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–26
11:۔ ” ان الینا “ یہ ماقبل کا تتمہ ہے وہ عذاب سے ہرگز نہیں بچ سکتے۔ موت اور پھر بعث بعد الموت کے بعد وہ ہمارے پاس ہی واپس آجائیں گے اور پھر ہم ہی ان کا حساب لیں گے اور ان کو جہنم میں دھکیل دیں گے۔ سورة الغاشیہ ختم ہوئی
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–26
(گذشتہ پیوستہ) اب ان آیات میں قدرت کے چند دلائل پیش کئے ہیں کہ اگر ان کو سامنے رکھا جائے تو قیامت کا انکار نہیں کیا جاسکتا ۔ جس طرح مالک الملک نے چیزیں پیدا کی ہیں ۔ اسی طرح وہ اس بات پر قادر ہے کہ انسان کو دوبارہ پیدا کرکے اس سے حساب کتاب لے ۔ جب انسان ان اشیاء پر کوئی تعجب نہیں کرتا تو پھر وہ وقوع قیامت اور بعث بعد الموت پر کیوں ہے ۔ ان آیات میں اللہ نے ان چار چیزوں کو بطور دلیل پیش کیا ہے ۔ جن سے قرآن پاک کے اولین مخاطبین قوم عرب بخوبی واقف تھے ۔ دوسرے مقامات پر اور بھی بہت سے دلائل قدرت مذکور ہیں ۔ مگر اس مقام پر پیش آمدہ صرف چار کا ذکر ہے ۔ (اونٹ اور اسکی خصوصیات ) عربوں کا اونٹوں کے…
Read the full tafseer →ثُمَّ اِنَّ عَلَيْنَا حِسَابَہُمْ 26 ۧ حسب الحساب : استعمال العدد، يقال : حَسَبْتُ «5» أَحْسُبُ حِسَاباً وحُسْبَاناً ، قال تعالی: لِتَعْلَمُوا عَدَدَ السِّنِينَ وَالْحِسابَ [يونس/ 5] ، وقال تعالی: وَجَعَلَ اللَّيْلَ سَكَناً وَالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ حُسْباناً [ الأنعام/ 96] ، وقیل : لا يعلم حسبانه إلا الله، وقال عزّ وجل : وَيُرْسِلَ عَلَيْها حُسْباناً مِنَ السَّماءِ [ الكهف/ 40] ، قيل : معناه : نارا، وعذابا وإنما هو في الحقیقة ما يحاسب عليه فيجازی بحسبه، وفي الحدیث أنه قال صلّى اللہ عليه وسلم في الریح : «اللهمّ لا تجعلها عذابا ولا حسبانا»، قال تعالی: فَحاسَبْناها حِساباً شَدِيداً [ الطلاق/…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–26
ترکیب ¦ فذکر الفاء لترتیب مابعدھا علی قبلھا مصیطر بالصادو السین قال فی الصحاح ھوالمسلط علی الشیء لیشرف علیہ ویتعھدا حوالہ الا استثناء متصل من اعم المفاعیل وقیل منقطع والعذاب الاکبر العذاب الشدید الدائم وھو عذاب جھنم وانما قال الاکبر لانھم عذبوافی الدنیا بالعذاب الاصغر وھوالجوع والقتل والا سرقرء قتادہ وابن عباس الا التی للتنبیہ ایابھم اسم ان الینا خبرھا وقس علیہ حسابھم و جمیع الضمیر فی ایابھم وحسابھم باعتبار معنی من کما افراد الضمیر فی یعذبہ باعتبار لفظھا۔ تفسیر ¦ جب عالم آخرت کی طرف رغبت کرنے کے اسباب بیان ہوچکے اور اس چند روزہ زندگی کا انجام کار لوگ سن چکے اور نیک و بد کاموں کا انجام بھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–26
اِنَّ اِلَیْنَـآ اِیَابَھُمْ ۔ ثُمَّ اِنَّ عَلَیْنَا حِسَابَھُمْ ۔ (الغاشیۃ : 25، 26) (بیشک ہماری ہی طرف ہے ان کا پلٹنا۔ پھر ہمارے ہی ذمہ ہے ان سے حساب لینا۔ ) ان دونوں آیتوں میں دو باتیں ارشاد فرمائی گئی ہیں۔ پہلی آیت میں یہ ارشاد فرمایا گیا ہے کہ آج جو لوگ جہنم کے ذکر سے بھی بدمزہ ہوتے ہیں اور انھیں کبھی بھول کر بھی احساس نہیں ہوتا کہ کبھی اللہ تعالیٰ کے سامنے حاضری دینے کا وقت بھی آئے گا۔ اور ان کی زندگی کے رویئے کو دیکھ کر یوں معلوم ہوتا ہے کہ انھیں اپنے یہاں ہمیشہ رہنے کا یقین ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ لوگ کسی غلط فہمی میں نہ رہیں، موت ایک اٹل حقیقت ہے جس سے یہ بچ نہیں سکتے۔ اور مرنے کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–26
فہم القرآن ربط کلام : اونٹ کی خلقت، پہاڑوں کی جسامت اور زمین کی وسعت کا ذکر فرما کر دین کے داعی کو یہ سبق دیا گیا ہے کہ اسے بھی اپنے آپ میں یہ اوصاف پیدا کرنے چاہیے۔ اونٹ کی خلقت، آسمان کی بلندی اور زمین کی وسعت کا تذکرہ فرما کر نبی ﷺ کو حکم ہوا کہ آپ ان لوگوں کو نصیحت کرتے جائیں، آپ کا فرض نصیحت کرنا ہے کیونکہ آپ کو ان پر چوکیدار اور کو توال نہیں بنایا گیا۔ آپ کی پرخلوص کوشش کے باوجود جو شخص اس نصیحت سے منہ پھیرے اور اس کا انکار کرے گا اللہ تعالیٰ اسے بڑا عذاب دے گا کیونکہ بالآخر انہیں ہمارے پاس حاضر ہونا ہے اور ان کا حساب ہمارے ذمہ ہے۔ اونٹ کی خلقت، آسمان کی بلندی اور زمین کی وسعت کا ذکر…
Read the full tafseer →26 : ثُمَّ اِنَّ عَلَیْنَا حِسَابَھُمْ (پھر ہمارا ہی کام ان سے حساب لینا ہے) پس وہ ان کے اعمال پر ان سے محاسبہ فرمائے گا۔ اور ان کو ان کے اعمال کے مطابق بدلہ دے گا۔ عَلَیْنَایہ تاکید وعید کیلئے ہے وجوب کیلئے نہیں ہے اس لئے کہ اللہ تعالیٰ کے ذمہ کوئی چیز لازم نہیں۔
Read the full tafseer →26 ۔” ثم ان علینا حسابھم “ یعنی ان کی جزاء اللہ تعالیٰ کی طرف لوٹنے کے بعد۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–26
17۔ 26۔ تفسیر ابن جریر اور تفسیر 1 ؎ ابن ابی حاتم میں قتادہ سے روایت ہے کہ اوپر کی آیتوں میں جب اللہ تعالیٰ نے جنت کی نعمتوں کا ذکر فرمایا تو مشرکین مکہ کو وہ نعمتیں اور جنت کی چیزیں خلاف عقل معلوم ہوئیں اور جنت کی چیزوں کا تعجب کے طور پر وہ لوگ آپس میں ذکر کرنے لگے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں اور فرمایا کہ ان کی آنکھوں کے سامنے جس اللہ نے خلاف عقل اور جانوروں کی عادت کے خلاف اونٹ کو اس طرح کی عادت کا جانور پیدا کیا کہ کانٹے کھا کر اپنی گزر کرتا ہے اور منزلوں بوجھ لے جاتا ہے اور عرب کا ملک جس طرح کا خشک تھا اور اس ملک میں پانی کی کمی تھی اسی عادت کا یہ جانور ہے کہ دس دس دن تک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–26
(اِنَّ اِلَيْنَآ اِيَابَهُمْ ) یعنی تمام خلائق کو ہماری ہی طرف لوٹنا اور قیامت کے روز ان سب کو ہمارے ہی پاس اکٹھے ہونا (ثُمَّ اِنَّ عَلَيْنَا حِسَابَهُمْ ) پھر انہوں نے جو کوئی اچھا براعمل کیا ہے، ان سے اس کا حساب لینا ہمارے ذمے ہے۔
Read the full tafseer →(14) سو ارشاد فرمایا گیا اور ادوات تاکید کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ " بلاشبہ ہمارے ذمے ہے حساب لینا ان سب کا "۔ کہ انہوں نے ہماری بھیجی ہوئی ہدایت اور ہمارے اتارے ہوئے دین حق کی تکذیب کر کے جس جرم کا ارتکاب کیا اور زندگی کو جس بےراہ روی پر گزارا اس کا ٹھیک حساب اور پورا ریکارڈ ہمارے ہی پاس ہے، اور ہمارے ہی پاس ہوسکتا ہے۔ لہذا آپ اے ہمارے رسول ان کی فکر نہ کیجیے، ان سے ہم خود نمٹ لیں گے، اور اچھی طرح سے بھر پور طریقے سے نمٹیں گے آپ ان پر کوئی داروغے نہیں ہیں کہ ان سے منوا کر چھوڑیں اور ان کو راہ حق پر ڈال کر رہیں، آپ کے ذمے تو پیغام حق و ہدایت کو بلا کم وکاست پہنچا دینا ہے، اور بس، آگے حساب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–26
اللہ کی تخلیقات اللہ کی شہادت دیتی ہیں تشریح : اس جہان کی ہر چیز ہمارے سمیت اللہ کے بےمثل خالق ومالک ہونے کا پکا ثبوت ہے۔ یہاں تمام عالم حیوانات میں سے اونٹ کا ذکر کیا گیا ہے۔ جو حکمت سے خالی نہیں۔ ڈاکٹر ہلوک نور باقی صاحب کی کتاب سے حوالہ دیتی ہوں۔ لکھتے ہیں۔ '' اونٹ کو مصلحتاً موضوع بنایا گیا ہے۔ 1 ۔ اونٹ کے وجود میں ایسی خصوصیات ہیں جو کائنات میں نظریہ ارتقاء کو بےبنیاد ثابت کرتی ہیں۔ 2 ۔ اونٹ انتہائی دلچسپ حیاتیاتی خصوصیات رکھتا ہے۔ کیونکہ یہ اپنے وٹامن خود پیدا کرتا ہے۔ اونٹ اپنی (Ionic) خصوصیت کی وجہ سے پانی کو پچاس دنوں تک اپنے اندر محفوظ رکھ سکتا ہے۔ اس کو بہترین یادداشت عطا کی گئی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–26
سورة الغاشیہ۔ آیات 1 تا 26۔ اسرار ومعارف۔ آپ ﷺ کو قیامت کا حال سنائیں جو سب کو اپنی لپیٹ میں لے لے گی اس روز بہت سے چہروں پر ذلت چھارہی ہوگی جو دنیا میں محنت ومشقت اور مجاہدوں اور ریاضات کی تھکن سے چور ہوکرحشر میں پہنچیں گے تو جہنم کی دہکتی ہوئی آگ میں ڈالے جائیں گے اور کھولتا ہواپانی پینے کو اور اذیت ناک چیزیں کھانے کو دی جائیں گی جن سے نہ تو بھوک ہی ختم ہوگی اور نہ بدن کی تعمیر کا کام کریں۔ شریعت حقا کے خلاف مجاہدے دنیا میں مشقت اور آخرت میں عذاب کی ذلت کا سبب ہیں۔ یعنی غذا بھی ایک صورت عذاب ہی کی ہوگی مراد کفار ہیں جو زندگی بھر مشقت اٹھا کر دنیاحاصل کرتے ہیں اور آخرصرف تباہی نصیب ہوتی ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–26
ف 4 اس آیت کے خاتمہ پر اللھم حاسبنا حساباً یسراً کہنا مستحب ہے یعنی اے اللہ ہم سے آسان حساب لے۔
Read the full tafseer →(88:26) ثم ان علینا حسابھم : ثم تراخی فی الرتبہ کے لئے ہے۔ بیشک ان سے حساب لینا ہمارا ذمہ ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–26
لغات القرآن۔ الغاشیۃ۔ ڈھانپ لینے والی ( قیامت) ۔ عین انیۃ۔ کھولتا چشمہ۔ ضریع۔ کانٹے والی گھاس۔ لا یسمن۔ نہ موٹا کرے گا۔ ناعمۃ۔ تروتازہ۔ نمارق۔ گائو تکیے، موٹے گدے۔ زرابی۔ گدے۔ مبثوثۃ۔ بکھرے ہوئے۔ پھیلے ہوئے۔ الابل۔ اونٹ۔ خلقت۔ بنایا گیا۔ پیدا کیا گیا۔ رفعت۔ بلند کیا گیا۔ نصبت۔ جما دیا گیا۔ سطحت ۔ بچھائی گئی۔ مصیطر۔ مسلط ہونے والا۔ حاکم۔ ایاب۔ پلٹنا۔ تشریح : قرآن کریم میں قیامت کے بہت سے نام آتے ہیں۔ ان ہی میں سے ایک نام ” غاشیہ “ بھی ہے۔ غاشیہ کے معنی چھپالینے، چھا جانے اور ہوش و حواش اڑا دینے والی کے آتے ہیں یعنی ایک ایسی اچانک آفت جو نظام کائنات کو درہم برہم کرکے ہر چیز کو اپنے اندر چھپا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–26
اونٹ کا قدرت الٰہی کانمونہ ۔ (ف 1) شان نزول۔ تفسیر ابن جریر اور تفسیر ابن ابی حاتم میں قتادہ سے روایت ہے کہ اوپر کی آیتوں میں جب اللہ تعالیٰ نے جنت کی نعمتوں کا ذکر فرمایا تو مشرکین مکہ کو وہ نعمتیں جنت کی چیزیں خلاف عقل معلوم ہوئیں اور جنت کی چیزوں کا تعجب کے طور پر وہ لوگ آپس میں ذکر کرنے لگے، اس پر اللہ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں ، اور فرمایا کہ ان کی آنکھوں کے سامنے جس اللہ نے خلاف عقل اور جانوروں کی عادت کے خلاف عقل اور جانوروں کی عادت کے خلاف اونٹ کو اس طرح کی عادت کا جانو پیدا کیا کہ کانٹے کھاکر اپنی گذر کرتا اور منزلوں بوجھ لے جاتا ہے اور عرب کا ملک جس طرح کا خشک تھا اور اس ملک میں پانی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–26
[3] ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کو اپنی قدرت کی چند نشانیوں پر غور کرنے کے لئے فرمایا ہے جو آخرت کو بعید از امکان سمجھتے ہیں۔ اگر وہ مانتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان چیزوں کے پیدا کرنے پر قادر ہے تو وہ انسان کو دوبارہ پیدا کرنے اور جنت و دوزخ بنانے پر بھی قادر ہے۔ یہاں اونٹ، آسمان، پہاڑ اور زمین ان چار چیزوں کی تخصیص اس لئے فرمائی کہ قرآن کے مخاطب اول عرب تھے جن کا سابقہ انہیں چار چیزوں سے ہر وقت رہتا تھا۔ صحرا میں پھرتے پھراتے رہتے تو ساتھ اونٹ ہوتے تھے اور اطراف میں پہاڑ۔ اوپر نظر اٹھائی تو آسمان اور نیچے نظر کی تو زمین۔ اس لئے انہی نشانیوں میں غور کرنے کے لئے فرمایا۔ یعنی یہ بنی ہوئی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–26
دین فطرت اور دین کون 1: قرآن صرف مسائل ہی بیان نہیں کرتا ۔ بلکہ فطرت کے عجائبات کی طرف بھی انسانی توجہات اور فکر وغور کو مبذول کرتا ہے ۔ اس لئے غرائب دنیا اور غرائب دین میں ایک عجیب تناسب ہے ۔ بلکہ قرآن تو اس حقیقت کا برملا اظہار کرتا ہے کہ اسلام دین فطرت ہے ۔ اس میں اور قوانین فطرت وکون میں نہ صرف کوئی تضاد نہیں ۔ بلکہ پورا تو افق وتطابق ہے ۔ قرآن یہ چاہتا ہے کہ انسان اتنا وسیع النظر ہو کہ اسرار وعجائبات کون پر کامل طریق سے نگاہ رکھتا ہو ۔ اس لئے کہ حقائق کی راہ میں سب سے بڑی جو رکاوٹ ہوتی ہے ، وہ تعصب اور کوتاہ نظری ہوتی ہے اور فطرت کے آزاد مطالعہ سے یہ مرض دور ہوجاتا ہے ۔ فرمایا کہ ان کو…
Read the full tafseer →(26) پھر ہمارے ہی ذمہ ان کا حساب لینا ہے۔ یعنی ان کی واپی موت اور بعث کے بعد ہماری طرف ہے اور ہمارے سوا اور کسی کے پاس ان کی بازگشت نہیں ہے پھر ان کا حساب لینا بھی ہمارا ہی کام ہے ہمارے سوا اور کوئی حساب نہیں لے سکتا ہم ہر چھوٹی بڑی چیز اور ان کی نیت اور ان کے اعمال کا حساب ان سے لیں گے۔ وکفی بنا حاسبین اللھم حاسبنی حسابا یسیرا مصیطر کو بعض قراء نے صاد سے اور بض نے سین سے پڑھا ہے۔ تم تفسیر سورة الغاشیۃ
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–26
ف 3۔ تخصیص ان چار چیزوں کی اس لئے ہے کہ عرب کے لوگ اکثر جنگلوں میں چلتے پھرتے رہتے تھے، اس وقت ان کے سامنے اونٹ ہوتے تھے اور اوپر آسمان اور نیچے زمین اور اطراف میں پہاڑ، اس لئے ان علامات میں غور کرنے کے لئے ارشاد فرمادیا گیا۔
Read the full tafseer →پھر بلا شبہ ہمارے ہی ذمہ ان کا حساب لینا بھی ہوگا 26 ؎ اس جگہ کونسا حساب مراد ہے ؟ فرمایا وہ عذاب وہی ہے جس کا ذکر اس سورت کے شروع میں کردیا گیا کہ آخر کار ڈھانپنے والی ان کو ڈھانپ لے گی اور یہی عذاب الٰہی ہے کیونکہ ڈھانپ لینے والی یعنی قیامت کیوں ہے ؟ اس لیے ہے کہ جس نے کسی پر کسی طرح کی زیادتی کی ہوگی اس کو اس کی گئی زیادتی کا مزہ چکھایا جائے اور اس کے کیے پورا پورا حساب ان سے لیا جائے اور جو زیادتیاں انہوں نے کی ہوں گی ان زیادتیوں کا خمیازہ ان کو بھگتنا پڑے گا اور وہ یقینا بھگتیں گے کیونکہ ہمارے ہاں عدل و انصاف ہے اور اس کا تقاضا ہے کہ جن کے ساتھ زیادتی ہوئی ہے ان پر زیادتی کرنے والوں کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–26
أَفَلَا يَنظُرُونَ إِلَى الْإِبِلِ كَيْفَ خُلِقَتْ (So, do they not look at the camels how they are created...88:17) The Qur'an first described the conditions of the Hereafter; and it then went on to depict the reward of the believers and the retribution of the unbelievers. Now it turns attention to rebuff the obdurate unbelievers' foolish denial of the Hereafter. They reject it on the ground that after death and decomposition of the body and bones it is inconceivable that they would be recomposed and resurrected. For their guidance, Allah invites their attention to reflect carefully on a few…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–26
8 That is, "If a person does not listen to reason, he may not. You have not been appointed to force the will of the deniers: your only task is to distinguish the right from the wrong for the people and warn them of the consequences of following the wrong way; so this is the task you should continue to perform."
Read the full tafseer →