88. Surah Al-Ghaashiya

الغاشيةThe Overwhelming · 26 ayahsفہم القرآن

تعارف

تعارف

سورة الغاشیہ کا تعارف یہ مکی سورت ہے اس کا نام اس کی پہلی آیت کا آخری حصہ ہے یہ ایک رکوع اور چھبیس آیات پر مشتمل ہے اس سورت میں بنیادی طور پر دو مضمون بیان کیے گئے ہیں پہلا یہ ہے کہ جو لوگ آخرت کے بارے میں غافل یا اس کا انکار کرتے ہیں انہیں انتباہ کیا گیا ہے جس میں مخاطب کی ضمیر استعمال کی گئی ہے۔ اس میں بظاہر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو مخاطب کیا گیا ہے لیکن حقیقت میں یہاں ہر اس شخص کو مخاطب کیا گیا ہے جو قیامت کو جھٹلانے والا ہے چناچہ ارشاد ہوا : کیا تمہارے پاس ہر چیز پر چھا جانے والی آفت کی خبر نہیں پہنچی اس دن کئی چہرئے خوف زدہ ہوں گے جو شدید کرب میں مبتلا ہوں گے اور انہیں دہکتی ہوئی آگ میں پھینک دیا جائے گا وہاں انہیں پینے کے لیے کھولتا ہوا پانی اور کھانے کے لیے کانٹے دار جھاڑیاں دی جائیں گی ان کے مقابلے میں وہ خوش نصیب ہوں گے جنہیں جنت عالیہ میں رکھا جائے گا وہ اس میں کسی قسم کی بےہودگی اور آلودگی نہیں پائیں گے اس میں چشمے جاری ہوں گے جنتی جنت میں ٹیک لگا کر قطار اندر قطار تشریف فرما ہوں گے۔ جہنمیوں کے لیے عذاب اور جنتیوں کے لیے انعام کا ذکر کرنے کے بعد اونٹ کی خلقت اور پہاڑوں کی تنصیب اور زمین کی وسعت کا ذکر فرما کر حکم ہوا کہ اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ لوگوں کو نصیحت کرتے رہیں اللہ تعالیٰ نے آپ کو کسی پر جبر کرنے والا نہیں بنایا البتہ جو شخص اس سے منہ موڑے گا وہ بڑے عذاب میں مبتلا ہوگا حقیقت یہ ہے کہ ہماری طرف ہی لوگوں کا پلٹنا ہے اور ان کا حساب لینا بھی ہمارے ذمہ ہے۔

Ayahs 88:1–7

هَلْ اَتٰىكَ حَدِیْثُ الْغَاشِیَةِؕ Open ayah 88:1 in the Quran reader

کیا تمہیں اس چھا جانے والی قیامت کی خبر پہنچی ہے ؟

وُجُوْهٌ یَّوْمَئِذٍ خَاشِعَةٌۙ Open ayah 88:2 in the Quran reader

اس دن کچھ چہرے ذلیل ہوں گے

عَامِلَةٌ نَّاصِبَةٌۙ Open ayah 88:3 in the Quran reader

عمل کرنیوالے تھکے ہوئے ہوں گے

تَصْلٰى نَارًا حَامِیَةًۙ Open ayah 88:4 in the Quran reader

بھڑکتی ہوئی آگ میں ہوں گے

تُسْقٰى مِنْ عَیْنٍ اٰنِیَةٍؕ Open ayah 88:5 in the Quran reader

انہیں پینے کے لیے کھولتے ہوئے چشمے کا پانی دیا جائے گا

لَیْسَ لَهُمْ طَعَامٌ اِلَّا مِنْ ضَرِیْعٍۙ Open ayah 88:6 in the Quran reader

خاردار سوکھی جھاڑیوں کے سوا کوئی کھانا ان کے لیے نہیں ہوگا

لَّا یُسْمِنُ وَ لَا یُغْنِیْ مِنْ جُوْعٍؕ Open ayah 88:7 in the Quran reader

جو نا موٹا کرے گا نہ بھوک مٹائے گا

فہم القرآن ربط سورت : الاعلیٰ کے آخر میں اچھے اور برے انجام کا ذکر کرنے کے بعد فرمایا ہے کہ آخرت ہر اعتبار سے بہتر اور ہمیشہ رہنے والی ہے اس کا ذکر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے صحائف میں بھی موجود ہے۔ الغاشیہ میں برے لوگوں کی سزا اور نیک لوگوں کی جزا کا ذکر کیا گیا ہے۔ الغاشیہ کا معنٰی ہے ہر طرف سے لوگوں کو ڈھانپ لینے والی۔ قیامت کی ہولناکیاں اور اس کے اثرات اس قدرہمہ گیر ہوں گے کہ جاندار تو درکنار زمین و آسمانوں کی کوئی چیز بھی اس سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکے گی۔ قیامت کی ہمہ گیر شدّت اور ہولناکیوں کو واضح کرنے کے لیے فرمایا ہے کہ کیا آپ کے پاس ہر چیز پر چھا جانے والی کی خبر پہنچی ہے ؟ اس دن مجرموں کے چہرے ذلیل ہوں گے اور وہ اپنی محنت کی وجہ سے انتہائی تھکے ماندے دکھائی دیں گے۔ انہیں جہنم کی دہکتی ہوئی آگ میں جھونک دیا جائے گا اور ان کو انتہا درجے کا کھولتا ہوا پانی پلایا جائے گا، ان کے لیے کانٹے دار جھاڑیوں کے سوا کوئی کھانا نہیں ہوگا۔ جس سے نہ وہ موٹے ہوں گے اور نا ہی ان کی بھوک میں کچھ کمی آئے گی۔ ” عَامِلَۃٌ نَّاصِبَۃٌ“ کے مفسرین نے کئی مفہوم بیان کیے ہیں۔ 1 ۔ یہ لوگ دنیا میں بہت زیادہ محنت کے ساتھ نیک اعمال کرتے رہے مگر شرک و بدعت میں مبتلا ہونے کی وجہ سے ان کے تمام اعمال غارت ہوجائیں گے۔ 2 ۔ یہ لوگ اپنے اعمال کا انجام دیکھیں گے تو ان کی مایوسی اور تھکاوٹ اس قدر بڑھ جائے گی کہ دیکھنے والا انہیں یوں محسوس کرے گا جسے ان کی ابھی جان نکل جائے گی۔ 3 ۔ جہنم کی بلاؤں اور سزاؤں کی وجہ سے ان کے جسم چکنا چور دکھائی دیں گے۔ (عَنْ حُذَیْفَۃَ قَالَ قَالَ رَسُول اللَّہِ لاَ یَقْبَلُ اللَّہُ لِصَاحِبِ بِدْعَۃٍ صَوْمًا وَلاَ صَلاَۃً وَلاَ صَدَقَۃً وَلاَ حَجًّا وَلاَ عُمْرَۃً وَلاَ جِہَادًا وَلاَ صَرْفًا وَلاَ عَدْلاً یَخْرُجُ مِنَ الإِسْلاَمِ کَمَا تَخْرُجُ الشَّعَرَۃُ مِنَ الْعَجِینِ ) (رواہ ابن ماجہ : باب اجْتِنَابِ الْبِدَعِ وَالْجَدَلِ ) ” حضرت حذیفہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اللہ تعالیٰ بدعتی کا روزہ، نماز، حج، عمرہ، جہاد، اور کوئی چھوٹی بڑی نیکی قبول نہیں کرتا، ایسا شخص اسلام سے اس طرح نکل جاتا ہے جیسے گوندھے ہوئے آٹے سے بال نکل جاتا ہے۔ “ (وَقَدِمْنَآ اِِلٰی مَا عَمِلُوْا مِنْ عَمَلٍ فَجَعَلْنٰہُ ہَبَآءً مَّنْثُورًا) (الفرقان : 23) ” اور جو کچھ بھی ان کا کیا دھرا ہے اسے ہم ذرّات کی طرح اڑادیں گے۔ “ مسائل 1۔ قیامت کی ہولناکیاں ہر چیز کو گھیرے ہوئے ہوں گی۔ 2۔ قیامت کے دن مجرموں کے چہرے تھکے ہوئے اور انتہائی ذلیل ہوں گے۔ 3۔ مجرم انتہائی تھکے ماندے ہوں گے۔ 4۔ جہنمی کو پینے کے لیے جہنم کا کھولتا ہوا پانی اور کھانے کے لیے خاردار جھاڑیاں دی جائیں گی۔ 5۔ جہنم کی خوراک نہ ان کی بھوک ختم کرے گی اور نہ وہ موٹے تازے ہوں گے۔ تفسیر بالقرآن جہنمی کا خوردو نوش : 1۔ کانٹے دار جھاڑیوں کا کھانادیا جائے گا۔ (الغاشیہ : 6) 2۔ کھانا گلے میں اٹک جائے گا۔ (المزمل : 13) 3۔ دوزخیوں کو کھولتا ہوا پانی دیا جائے گا۔ (الانعام : 70) 4۔ دوزخیوں کو پیپ پلائی جائے گی۔ (عم : 25) 5۔ آنتوں اور کھالوں کو بار بار بدلہ جائے گا۔ (النساء : 56) 6۔ جہنمی کی کھال بار بار بدلی جائے گی۔ (الحج : 20) 7۔ انہیں آگ کا لباس پہنایا جائے گا۔ (الحج : 19) 8۔ لوہے کے ہتھوڑوں سے سزا دی جائے گی۔ (الحج : 21، 22) 10۔ دوزخیوں کو کھولتا ہوا پانی دیا جائے گا۔ (الانعام : 70)
Ayahs 88:8–16

وُجُوْهٌ یَّوْمَئِذٍ نَّاعِمَةٌۙ Open ayah 88:8 in the Quran reader

اس دن کچھ چہرے تروتازہ ہوں گے

لِّسَعْیِهَا رَاضِیَةٌۙ Open ayah 88:9 in the Quran reader

اپنی کوشش پر خوش ہوں گے

فِیْ جَنَّةٍ عَالِیَةٍۙ Open ayah 88:10 in the Quran reader

عالی مقام جنت میں ہوں گے

لَّا تَسْمَعُ فِیْهَا لَاغِیَةًؕ Open ayah 88:11 in the Quran reader

اس میں کوئی بیہودہ بات نہیں سنیں گے

فِیْهَا عَیْنٌ جَارِیَةٌۘ Open ayah 88:12 in the Quran reader

اس میں چشمے رواں ہوں گے

فِیْهَا سُرُرٌ مَّرْفُوْعَةٌۙ Open ayah 88:13 in the Quran reader

اس میں اونچی مسندیں ہوں گی

وَّ اَكْوَابٌ مَّوْضُوْعَةٌۙ Open ayah 88:14 in the Quran reader

پیالے رکھے ہوئے ہوں گے

وَّ نَمَارِقُ مَصْفُوْفَةٌۙ Open ayah 88:15 in the Quran reader

تکیے قطاروں میں لگے ہوئے ہوں گے

وَّ زَرَابِیُّ مَبْثُوْثَةٌؕ Open ayah 88:16 in the Quran reader

اور نفیس قالین بچھے ہوئے ہوں گے

فہم القرآن ربط کلام : جہنمی کے مقابلے میں جنتی کا اکرام، مقام اور انعام۔ جہنمی اپنی ذلّت اور ناکامی کی وجہ سے تھکے تھکے دکھائی دیں گے اور ان پر انتہا درجے کی ذلّت چھائی ہوگی، ان کے مقابلے میں جنتی اپنے اعمال اور انعام دیکھ کر بےانتہا خوش ہوں گے اور ان کے چہروں پر شادمانی اور کامیابی کی مسکراہٹیں بکھر رہی ہوں گی انہیں اعلیٰ قسم کی جنت میں داخل کیا جائے گا۔ جنتی جنت میں کسی قسم کی آلودگی اور بےہودگی نہیں پائیں گے، جنت میں چشمے اور آبشاریں جاری ہوں گی، جنت میں اعلیٰ قسم کے تخت اونچی جگہ پر رکھے جائیں گے، جنتی ان پر تشریف فرما ہوں گے، ان کے سامنے آبخورے ہوں گے، جنت کے تختوں پر قطار اندر قطار تکیے رکھے ہوں گے اور ان پر نفیس قسم کے قالین بچھے ہوئے ہوں گے۔ اس مقام پر جنت کی جن نعمتوں اور خوبیوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ ان میں سے ایک خوبی یہ ہوگی کہ جنت کا ماحول اتنا پاک صاف ہوگا کہ اس میں کسی قسم کی بےہودگی نہیں پائی جائے گی۔ جنت کی اس خوبی کا ذکر اس لیے کیا گیا ہے کہ جنت میں داخل ہونے والے دنیا میں رہتے ہوئے کسی قسم کی بےحیائی اور لغویات پسند نہیں کرتے تھے، جب کبھی انہیں ایسے ماحول سے واسطہ پڑتا تو وہ اس سے دامن بچا کر گزر جاتے تھے۔ (وَالَّذِیْنَ لَا یَشْہَدُوْنَ الزُّورَ وَاِِذَا مَرُّوا باللَّغْوِ مَرُّوا کِرَامًا) (الفرقان : 72) ” الرحمن کے بندے وہ ہیں جو جھوٹی گواہی نہیں دیتے اور کسی بےہودہ کام سے گزرہو تو شرافت کے ساتھ گزر جاتے ہیں۔ “ (وَالَّذِیْنَ ہُمْ عَنِ اللَّغْوِ مُعْرِضُوْنَ ) (المومنون : 3) ” مومن لغو سے بچتے ہیں۔ “ جنت کی اس صفت کا ذکر کرنے کا دوسرا مقصد یہ ہے کہ قرآن مجید نے جنت کی نعمتوں کا ذکر کرتے ہوئے کئی بار شراب اور شباب کا ذکر کیا ہے۔ اس سے یہ خیال پیدا ہوسکتا تھا کہ جنت میں ہر قسم کی آزادی، شراب اور شباب ہوگا تو پھر اس میں لغو اور بےہودگی کا امکان بھی ہوسکتا ہے۔ اس لیے وضاحت کردی گئی کہ شراب، شباب ہر قسم کی نعمتیں اور آزادی ہونے کے باوجود جنت میں کسی قسم کی آلودگی اور بےہودگی نہیں پائی جائے گی۔ جنت اور اس کا ماحول اس قدر پاک اور شفاف ہوگا کہ جس کا تصور ہی ہمارے ذہن میں پیدا نہیں ہوسکتا۔ (عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ قَال اللّٰہُُ أَعْدَدْتُّ لِعِبَادِیَ الصَّالِحِیْنَ مَالَا عَیْنٌ رَأَتْ وَلَا أُذُنٌ سَمِعَتْ وَلَا خَطَرَ عَلٰی قَلْبِ بَشَرٍ فَاقْرَءُ وْا إِنْ شِءْتُمْ (فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَّآ أُخْفِیَ لَھُمْ مِنْ قُرَّۃِ أَعْیُنٍ ) (رواہ البخاری : باب ماجاء فی صفۃ الجنۃ وأنھا مخلوقۃ) ” حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے میں نے اپنے نیک بندوں کے لیے جو کچھ تیار کیا ہے نہ کسی آنکھ نے دیکھا نہ کسی کان نے سنا اور نہ کسی بشر کے دل میں خیال پیدا ہوسکتا ہے چاہو تو اللہ کا فرمان پڑھو۔ ” کوئی نہیں جانتا کہ جنتی کی آنکھوں کی ٹھنڈک کے لیے کیا پوشیدہ رکھا گیا ہے۔ “ مسائل 1۔ قیامت کے دن جنتی کے چہرے خوش ہوں گے اور وہ اپنی کوشش پر راضی ہوں گے۔ 2۔ جنتی میں جنت کسی قسم کی بےہودہ بات نہیں سنیں گے۔ 3۔ جنت میں چشمے جاری ہوں گے اور قرینے کے ساتھ آبخورے رکھے ہوں گے اور جنت میں جنتی اونچے مقامات پر جلوہ افروز ہوں گے۔ تفسیر بالقرآن جنت کے قالین، تکیے اور آبخورے : 1۔ اللہ کے مخلص بندے نعمتوں والی جنت میں ہوں گے ایک دوسرے کے سامنے تختوں پر بیٹھے ہونگے۔ (الصٰفٰت : 43۔ 44) 2۔ پرہیزگاروں کے لیے عمدہ مقام ہے۔ ہمیشہ رہنے کے باغ ہیں جن کے دروازے ان کے لیے کھلے ہوں گے اور ان میں تکیے لگا کر بیٹھے ہوں گے۔ (ص : 49 تا 50) 3۔ جنتی سبز قالینوں اور مسندوں پر تکیہ لگا کر بیٹھے ہوں گے۔ (الرحمن : 76) 4۔ ہم ان کے دلوں سے کینہ نکال دیں گے اور سب ایک دوسرے کے سامنے تکیوں پر بیٹھے ہوں گے۔ انہیں کوئی تکلیف نہیں پہنچے گی اور نہ وہ اس سے نکالے جائیں گے۔ (الحجر : 47۔ 48)
Ayahs 88:17–20

اَفَلَا یَنْظُرُوْنَ اِلَى الْاِبِلِ كَیْفَ خُلِقَتْٙ Open ayah 88:17 in the Quran reader

کیا یہ لوگ اونٹ کو نہیں دیکھتے کہ اسے کس طرح تخلیق کیا گیا ہے

وَ اِلَى السَّمَآءِ كَیْفَ رُفِعَتْٙ Open ayah 88:18 in the Quran reader

آسمان کو نہیں دیکھتے کہ اسے کیسے بلند کیا گیا ہے ؟

وَ اِلَى الْجِبَالِ كَیْفَ نُصِبَتْٙ Open ayah 88:19 in the Quran reader

پہاڑوں کو نہیں دیکھتے کہ انہیں کیسے نصب کیا گیا ہے ؟

وَ اِلَى الْاَرْضِ كَیْفَ سُطِحَتْٙ Open ayah 88:20 in the Quran reader

اور زمین کو نہیں دیکھتے کہ یہ کس طرح بچھائی گئی ہے

فہم القرآن ربط کلام : جو ذات نیک لوگوں کو اعلیٰ مقام پر فائز کرے گی اسی نے اونٹ کو عجیب الخلقت پیدا کیا اور آسمان کو بلندی پر ٹھہرایا اور پہاڑوں کو زمین پر نصب فرمایا۔ کیا لوگ اونٹ کی خلقت پر غور نہیں کرتے کہ اللہ تعالیٰ نے اسے کس طرح پیدا فرمایا ہے ؟ اور پہاڑوں کی طرف نہیں دیکھتے کہ یہ کس طرح زمین پر نصب کیے گئے ہیں ؟ اور زمین پر غور نہیں کرتے کہ اسے کس طرح بنایا اور بچھایا گیا ہے ؟ قرآن مجید نے زمین و آسمانوں کے بارے میں کئی مقامات پر واضح فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی قدرتوں میں سے زمین و آسمان اور پہاڑ اس کی قدرت کی عظیم نشانیاں ہیں۔ آسمان کے بارے میں ارشاد ہے کہ اسے بغیر ستونوں کے کھڑا کیا گیا ہے جس میں نہ کوئی شگاف ہے اور نہ ہی کسی طرف سے جھکا ہوا ہے، نہ معلوم ! آسمان کتنی مدت سے اس طرح کھڑا ہے اور یہ اس وقت تک کھڑا رہے گا جب تک اسے اللہ تعالیٰ کا حکم ہے۔ سورة النبا میں ذکر ہوچکا ہے کہ قیامت کے دن آسمان دروازوں کی شکل اختیار کر جائے گا اور بالآخر زمین پر گرپڑے گا۔ زمین کے بارے میں بتلایا ہے کہ اسے پانی پر بچھایا گیا ہے جو آج تک نہ کسی طرف سے جھکی ہے اور نہ ہی پانی میں غرق ہوئی ہے۔ (ہود : 7) قیامت کے نزدیک زمین مختلف مقامات سے دھنس جائے گی اور پھر اس پر ایک وقت ایسا آئے گا کہ اسے چٹیل میدان بنا دیا جائے گا۔ زمین و آسمان کا حوالہ دینے سے پہلے اونٹ کی خلقت پر غور کرنے کا ارشاد ہوا ہے۔ اونٹ کی تخلیق : اس کے جسم کی فعالیت، اعضاء کے تفصیلی مطالعہ سے تلاش کرنے والوں کو بہت سے مسائل کا حل معلوم ہوسکتا ہے، جسم انسانی کا درجۂ حرارت گرمی کی شدت کے دوران اعتدال پر رکھنے کے لیے پسینہ آتا ہے لیکن اونٹ صحرا کی جھلسا دینے والی گرمی میں کسی چھتری کے بغیر مزے سے چلتا ہے۔ جبکہ اس کے جسم میں پسینہ پیدا کرنے والے غدود نہیں ہوتے۔ شدید گرمی میں اس کا درجۂ حرارت کیونکر اعتدال پر رہتا ہے۔ اگر ہم اس کا جواب تلاش کرلیں تو ہم موسمی تغیرات کا مقابلہ کرنے کی آسانیاں حاصل کرسکتے ہیں۔ صحرا میں جب پانی نہیں ملتا تو اونٹ کئی کئی دن پیاسا رہنے کے باوجود چاق و چوبند رہ سکتا ہے جبکہ اس کا سوار موت وحیات کی کش مکش میں مبتلا ہوتا ہے۔ پہلے خیال تھا کہ وہ پیٹ میں پانی کو ذخیرہ کرلیتا ہے مگر پوسٹ مارٹم پر اس کے معدہ میں پانی کا ذخیرہ رکھنے والی کوئی جگہ نہ مل سکی۔ پھر قیاس کیا گیا کہ یہ کوہان میں موجود اضافی چربی کو جلا کر پانی بنا لیتا ہے۔ کیلی فورنیا یونیورسٹی میں کیے گئے تجربات میں جن اونٹوں کو موت کی حد تک پیاسا رکھا گیا تھا ان کے جسموں میں چربی کی مقدار تقریباً اتنی ہی تھی جتنی کہ ان کے ہم وزن دوسرے تندرست اونٹوں میں تھی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اس کا جسم ہوا کی ہائیڈروجن اور آکسیجن کو ملا کر پانی بنانے کی اہلیت رکھتا ہے جیسے کہ ایک ہی زمین پر ایک ہی کھاد اور پانی سے پرورش پانے والے درختوں میں سیب اور شہتوت جیسے میٹھے درختوں کے ساتھ نیم کا پودا تلخی حاصل کرتا ہے۔ مسائل 1۔ اللہ تعالیٰ نے اونٹ کو عجیب الخلقت پیدا فرمایا ہے۔ 2۔ اللہ تعالیٰ نے آسمان کو بغیر ستونوں کے کھڑا کیا اور زمین کو پانی پر بچھایا ہے۔ 3۔ اونٹ کی خلقت، آسمان کی بلندی اور زمین کی وسعت اللہ تعالیٰ کی قدرت کی نشانیاں ہیں۔ تفسیر بالقرآن زمین و آسمان کی تخلیق کے بارے میں چند معلومات : 1۔ اللہ تعالیٰ نے بغیر نمونے کے زمین و آسمان بنائے۔ (البقرۃ : 117) 2۔ اس نے آسمان و زمین کو برابر کیا۔ (البقرۃ : 29) 3۔ آسمان کو چھت اور زمین کو فرش بنایا۔ (البقرۃ : 22) 4۔ زمین اور آسمانوں کو چھ دنوں میں بنایا۔ (الاعراف : 54) 5۔ کیا زمین و آسمان کی تخلیق مشکل ہے یا انسان کی پیدائش مگر اکثر لوگ جاہل ہیں۔ (الفاطر : 57) 6۔ دن اور ات کے مختلف ہونے اور زمین و آسمان کی پیدائش میں نشانیاں ہیں۔ (یونس : 6) 7۔ آسمانوں و زمین کی پیدائش، دن اور رات کی گردش، سمندر میں کشتیوں کے چلنے، آسمان سے بارش نازل ہونے، بارش سے زمین کو زندہ کرنے، چوپایوں کے پھیلنے، ہواؤں کے چلنے اور بادلوں کے مسخر ہونے میں نشانیاں ہیں۔ (البقرۃ : 164) 8۔ زمین و آسمان کے لیے بھی ایک وقت مقرر ہے۔ (الروم : 8)
Ayahs 88:21–26

فَذَكِّرْ١ؕ۫ اِنَّمَاۤ اَنْتَ مُذَكِّرٌؕ Open ayah 88:21 in the Quran reader

اے نبی نصیحت کرتے رہیں آپ نصیحت کرنے والے ہیں

لَسْتَ عَلَیْهِمْ بِمُصَۜیْطِرٍۙ Open ayah 88:22 in the Quran reader

آپ ان کے ذمہ دار نہیں ہیں

اِلَّا مَنْ تَوَلّٰى وَ كَفَرَۙ Open ayah 88:23 in the Quran reader

مگر جو شخص منہ موڑے گا اور انکار کرے گا

فَیُعَذِّبُهُ اللّٰهُ الْعَذَابَ الْاَكْبَرَؕ Open ayah 88:24 in the Quran reader

اللہ اس کو بڑا عذاب دے گا

اِنَّ اِلَیْنَاۤ اِیَابَهُمْۙ Open ayah 88:25 in the Quran reader

ان کا ہماری طرف ہی پلٹنا ہے

ثُمَّ اِنَّ عَلَیْنَا حِسَابَهُمْ۠ Open ayah 88:26 in the Quran reader

ہمارے ذمہ ہی ان کا حساب لینا ہے

فہم القرآن ربط کلام : اونٹ کی خلقت، پہاڑوں کی جسامت اور زمین کی وسعت کا ذکر فرما کر دین کے داعی کو یہ سبق دیا گیا ہے کہ اسے بھی اپنے آپ میں یہ اوصاف پیدا کرنے چاہیے۔ اونٹ کی خلقت، آسمان کی بلندی اور زمین کی وسعت کا تذکرہ فرما کر نبی ﷺ کو حکم ہوا کہ آپ ان لوگوں کو نصیحت کرتے جائیں، آپ کا فرض نصیحت کرنا ہے کیونکہ آپ کو ان پر چوکیدار اور کو توال نہیں بنایا گیا۔ آپ کی پرخلوص کوشش کے باوجود جو شخص اس نصیحت سے منہ پھیرے اور اس کا انکار کرے گا اللہ تعالیٰ اسے بڑا عذاب دے گا کیونکہ بالآخر انہیں ہمارے پاس حاضر ہونا ہے اور ان کا حساب ہمارے ذمہ ہے۔ اونٹ کی خلقت، آسمان کی بلندی اور زمین کی وسعت کا ذکر فرما کر یہ اشارہ دیا ہے کہ ایک داعی کا حوصلہ اونٹ کی طرح ہونا چاہیے جو بھوک، پیاس اور مشقت برداشت کرتے ہوئے اپنا سفر جاری رکھتا ہے اور اپنے مالک کی تابعداری کرتا ہے۔ آسمان کی بلندی کا ذکر فرما کر اشارہ کیا ہے کہ داعی کی سوچ اور عزم آسمان کی طرح بلند ہونی چاہیے اور اسے دنیا کے نفع و نقصان سے بالاتر ہو کر دین حنیف کی خدمت اور لوگوں کی اصلاح اور فلاح کے لیے لگے رہنا چاہیے۔ زمین کا ذکر فرماکر بتلایا ہے کہ داعی میں زمین کی مانند حوصلہ اور وسعت ہونی چاہیے۔ جس داعی میں اونٹ کا حوصلہ، سوچ اور عزم میں آسمان کی بلندی اور زمین جیسی وسعت اور ظرف پایا جائے گا یقیناً وہ اپنے مقصد میں کامیاب ٹھہرے گا۔ اگر بظاہر اپنی دعوت میں کامیاب نہ ہوپائے تو تب بھی وہ زمین و آسمان کی وسعتوں سے زیادہ اجر پائے گا۔ جہاں تک مخالفت کرنے والوں کا تعلق ہے ان کا معاملہ ” اللہ “ کے حوالے کرنا چاہیے، وہی ان سے حساب لینا والا اور ان کو سزا دینے والا ہے کیونکہ اس کا فرمان ہے کہ سب نے اس کے حضور پیش ہونا ہے اور اس نے ان سے حساب لینے کا ذمہ اٹھا رکھا ہے، لہٰذا داعی کا فرض نصیحت کرنا ہے اور اللہ تعالیٰ کے ذمہ ان سے حساب لینا ہے۔ مسائل 1۔ ایک داعی کو پورے اخلاص کے ساتھ لوگوں کو نصیحت کرتے رہنا چاہیے۔ 2۔ الدّاعی کو لوگوں پر کو توال بننے کی کوشش نہیں کرنی چاہیے۔ 3۔ تمام لوگوں نے بالآخر اللہ تعالیٰ کے حضور پیش ہونا ہے۔ 4۔ جو شخص نصیحت سے منہ پھیرے اور انکار کرے گا اس کا حساب اللہ تعالیٰ کے ذمہ ہے۔ 5۔ اللہ تعالیٰ نیک لوگوں کو جزا دے گا اور برے لوگوں کو بڑے عذاب سے دوچار کرے گا۔ تفسیر بالقرآن اللہ تعالیٰ ہی لوگوں کا حساب لینے والا ہے : 1۔ یا اللہ میرے حق میں فیصلہ فرمادے تو بہترین فیصلہ کرنے والا ہے۔ (یوسف : 80) 2۔ بیشک تیرا وعدہ سچا ہے اور تو سب سے بہتر فیصلہ کرنے والا ہے۔ (ھود : 45) 3۔ وحی کی فرمانبرداری کرو اور صبر کرو یہاں تک کہ اللہ فیصلہ فرمادے اللہ بہترین فیصلہ کرنے والا ہے۔ (یونس : 109) 4۔ آپ کا کام تبلیغ کرنا ہے اور حساب لینا ہمارا کام ہے۔ (الرعد : 40) 5۔ سن لو ! اللہ ہی کا حکم چلتا ہے اور وہ جلد حساب لینے والا ہے۔ (الانعام : 62) 6۔ خبردار اسی کے لیے حکم ہے اور وہ جلد حساب لینے والا ہے۔ (الانعام : 62) 7۔ صبر کرو یہاں تک کہ اللہ ہمارے اور تمہارے درمیان فیصلہ فرما دے اور وہ بہتر فیصلہ کرنے والا ہے۔ (الاعراف : 87)