Ayahs 89:1–5فہم القرآن
ربط سورت : سورة الغاشیہ کے آخر میں ارشاد ہوا کہ سب کو ہمارے پاس آنا ہے اور ہمارے ذمہ ان کا حساب لینا ہے۔ الفجر کے آغاز میں چار قسمیں اٹھا کر بتلایا ہے کہ جس رب نے عاد، ثمود اور فرعون جیسے ظالموں کو دنیا میں عبرت ناک سزا دی۔ کیا وہ آخرت میں ظالموں کی پکڑ نہیں کرے گا ؟ کیوں نہیں وہ ظالموں کی ضرور پکڑ کرے گا کیونکہ وہ بڑا طاقتور ہے۔
اللہ تعالیٰ نے اس سورت کی ابتدا بھی پانچ قسموں سے فرمائی ہے۔ ارشاد ہوا ہے کہ قسم ہے صبح صادق کی ! قسم ہے دس راتوں کی ! قسم ہے جفت اور طاق کی اور قسم ہے رات کی جب وہ ختم ہونے پر آتی ہے۔ بلاشبہ عقل مندوں کے نزدیک ان چیزوں کی قسم اہمیت رکھتی ہے کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کی قدرتوں کی نشانیاں ہیں اور ہر نشانی میں عقل مند کے لیے اپنے رب کو پہچاننے کا سبق اور ثبوت موجود ہے۔ رات پر غور کریں کہ زمین و آسمانوں میں کوئی ایسی ہستی نہیں جو بڑی سے بڑی ایمرجنسی میں رات کو چھوٹا یا بڑا کرسکے۔ سورج غروب ہوتے ہی رات اپنی سیاہ فام چادر میں پوری دنیا کو لپیٹ میں لے لیتی ہے لیکن جونہی سورج طلوع ہونا شروع ہوتا ہے، تو رات کا اندھیرا اس طرح پیچھے ہٹتا چلا جاتا ہے جس طرح کسی چیز سے آہستہ آہستہ پردہ اٹھایا جائے، راتیں بظاہر ایک جیسی ہوتی ہیں لیکن ان میں کچھ راتیں ایسی ہیں جن میں اللہ تعالیٰ کی خصوصی رحمتیں نازل ہوتی ہیں اور ان میں خاص فیصلے صادر کیے ہیں، ان راتوں میں لیلۃ القدر افضل ترین رات ہے جس میں بڑے بڑے فیصلے صادر ہوتے ہیں۔ لیلۃ القدر کے بعد ذوالحجہ کی پہلی دس راتیں ہیں جن میں یوم عرفہ کی رات بھی شامل ہے۔ 9 ذوالحجہ کو عرفات کے مقام پر حجاج کرام حج کا رکن اعظم ادا کرتے ہوتے اپنے رب سے اپنے گناہوں کی معافی طلب کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ اس دن ہر حاجی کے گناہ معاف کردیتا ہے بشرطیکہ وہ شرک و بدعت سے توبہ کرنے والا ہو۔ یوم عرفہ کے سورج غروب ہونے کے بعد حجاج کرام مزدلفہ میں قیام کرتے ہیں اور صبح حج کے چار ارکان ادا کرنے کے لیے منٰی کی طرف نکل پڑتے ہیں جن میں قربانی کرنا، سرمنڈوانا، کنکریاں مارنا اور طواف افاضہ کرنا شامل ہے۔ ان ایام کی دس راتیں بڑی فضیلت والی ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان راتوں کی فضیلت اجاگر کرنے کے لیے ان کی قسم اٹھائی ہے تاکہ ان راتوں میں اس کے بندے اس کی رحمت کے طلبگار بن جائیں اور اس کے لیے بھرپور کوشش کریں، رات کے جانے، فجر کے آنے اور جفت اور طاق دس راتوں کی قسم کھائی ہے۔ جفت اور طاق کے بارے میں مفسرین کی مختلف آراء ہیں جن میں دو اہم آراء یہ ہیں۔ طاق سے مراد اللہ تعالیٰ کی اپنی ذات ہے اور جفت سے مراد پوری مخلوق ہے۔ جسے اللہ تعالیٰ نے جفت یعنی جوڑا جوڑا پیدا کیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ان الفاظ کا مفہوم کما حقہ ہم نہیں سمجھ سکتے تاہم تفہیم کی آسانی کے لیے یہ کہہ سکتے ہیں کہ دن اور رات، روشنی اور اندھیرا، سورج اور چاند، زمین اور آسمان، چھاؤں اور دھوپ، حرارت اور برودت، مذکر اور مؤنث نیکی اور برائی یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے پھلوں کے بھی جوڑے جوڑے پیدا کیے ہیں۔ جن میں اللہ تعالیٰ کی قدرت پائی جاتی ہے، اس لیے جفت اور طاق کی قسم کھانے میں عقل مندوں کے لیے عبرت کا سبق موجود ہے۔
(عَنْ جَابِرٍ ؓ أَنَّ رَسُول اللّٰہِ ﷺ قَالَ (وَالْفَجْرِ وَلَیَالٍ عَشْرٍ ) قَال عَشْرُ اَ لْاُضْحِیَّۃِ ، وَالْوَتْرُ یَوْمُ عَرَفَۃَ ، وَالشَّفْعُ یَوْمُ النَّحْر) (مستدرک حاکم : قال الذہبی ہذا حدیث صحیح علی شرط مسلم ولم یخرجاہ)
” حضرت جابر ؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے سورة فجر کی ابتدائی آیات کی تفسیر بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ عشر سے مراد دس ذوالحجہ، وتر سے مرادیوم عرفہ اور شفع سے مراد قربانی کا دن ہے۔ “
(عَنْ عَاءِشَۃُ إِنَّ رَسُول اللَّہِ ﷺ قَالَ مَا مِنْ یَوْمٍ أَکْثَرَ مِنْ أَنْ یُعْتِقَ اللَّہُ فیہِ عَبْدًا مِنَ النَّارِ مِنْ یَوْمِ عَرَفَۃَ وَإِنَّہُ لَیَدْنُو ثُمَّ یُبَاہِی بِہِمُ الْمَلاَءِکَۃَ فَیَقُولُ مَا أَرَادَ ہَؤُلاَءِ )
(رواہ مسلم : باب فِی فَضْلِ الْحَجِّ وَالْعُمْرَۃِ وَیَوْمِ عَرَفَۃَ )
” حضرت عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ عرفہ کے علاوہ کوئی اور دن ایسا نہیں ہے جس میں اللہ تعالیٰ کثرت کے ساتھ بندوں کو جہنم سے آزاد کرتا ہو۔ اس دن اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے بہت قریب ہوتا ہے اور فرشتوں کے سامنے ان ( حجاج) کی وجہ سے فخر کرتا ہے اور کہتا ہے کہ یہ لوگ کیا چاہتے ہیں ؟ “
مسائل
1۔ اللہ تعالیٰ نے فجر، دس راتوں، جفت اور طاق اور رات کی قسم اٹھا کر فرمایا ہے کہ یہ چیزیں سوچنے والے کے لیے بڑی اہمیت کی حامل ہیں۔
Ayahs 89:6–14فہم القرآن
ربط کلام : اللہ تعالیٰ کی تخلیق میں جس طرح اس کی قدرت کی نشانیاں پائی جاتی ہیں اسی طرح یہ بات بھی اس کی قدرت اور قوت کا مظہر ہے کہ اس نے عاد اور ثمود جیسی قوموں کو نیست و نابود کیا جن کی تباہی سے لوگوں نے سکون پایا۔
موجودہ جغرافیے کے مطابق قوم عاد کی رہائش عمان اور یمن کے علاقے حضرموت کے درمیان تھی یہ علاقہ سمندر کے کنارے پر واقع تھا یہاں ریت کے بڑے بڑے ٹیلے اور بلندوبالا پہاڑ تھے۔ اس کے باسی جسمانی اعتبار سے دراز قامت، کڑیل جوان اور قوی ہیکل تھے دنیا میں ان کا ثانی کوئی نہیں پیدا کیا گیا۔ انھوں نے پہاڑتراش، تراش کر خوبصورت محلات تعمیر کر رکھے تھے ان کی سرزمین نہایت سر سبزتھی جس میں ہر قسم کے باغات لہلہاتے تھے انھیں قرآن مجید میں ” احقاف والے “ بھی کہا گیا ہے۔ احقاف ریت کے بڑے بڑے ٹیلوں کو کہا جاتا ہے جو عرب کے جنوب مغربی حصہ میں واقع تھے۔ اللہ تعالیٰ نے اسی علاقہ میں حضرت ھود (علیہ السلام) کو مبعوث فرمایا جو خوش اندام کڑیل جوان اور بہترین صورت و سیرت کے حامل تھے۔ حضرت ہود (علیہ السلام) نے لمبی مدت تک اپنی قوم کو سمجھایا مگر قوم سمجھنے کے لیے تیار نہ ہوئی۔
قوم عاد کے جرائم :
1۔ قوم عاد نے خود ساختہ معبود بنا رکھے تھے ان کے سامنے اپنی حاجات و مشکلات پیش کرتے تھے۔ (الاعراف : 70)
2۔ یہ لوگ آخرت کو جھٹلانے اور دنیا پر اترانے والے تھے۔ (المؤمنون : 33)
3۔ ان کا عقیدہ تھا کہ اس دنیا کے سوا اور کوئی جہاں برپا نہیں ہوگا۔ (المؤمنون : 37)
4۔ یہ اپنی قوت پر اترانے والے تھے۔ (حٰآالسجدۃ : 15)
اس قوم کی تباہی کا ایک منظر :
1۔ ان پر سات راتیں اور آٹھ دن زبردست آندھی اور ہوا کے بگولے چلے۔ (الحاقۃ : 7) (الشعراء : 20)
2۔ گرج چمک اور بادو باراں کا طوفان آیا۔ (الاحقاف : 24)
3۔ آندھیوں نے انھیں کھجور کے تنوں کی طرح پٹخ پٹخ کر دے مارا۔ (الحاقۃ : 7)
4۔ انھیں ریزہ ریزہ کردیا گیا۔ (الذاریات : 41، 42)
5۔ دنیا میں ذلیل و خوار ہوئے اور آخرت میں سخت عذاب میں مبتلا ہوں گے۔ (السجدۃ : 16، ھود : 59)
6۔ قوم ھود کو نیست و نابود کردیا گیا۔ (الاعراف : 72)
قوم صالح کے جرائم :
1۔ قوم صالح اللہ کے ساتھ شرک کیا کرتی تھیں۔ (ھود : 62۔ 61)
2۔ ثمود انبیاء کو جھوٹا قرار دیتے تھے۔ (الشعراء : 141)
3۔ وہ لوگ بہت زیادہ اسراف، تکبر اور زمین میں فساد کرنے والے تھے۔ (الشعراء : 152، 151)
4۔ قوم ثمود ہدایت کے بجائے گمراہی کو پسند کرتی تھی۔ (حٰم السجدۃ : 17)
5۔ انھوں نے اللہ کی نشانی کو جھٹلایا۔ (ھود : 66)
قوم ثمود کی ہلاکت کا منظر :
1۔ قوم ثمود کو تین دن کی مہلت دی گئی۔ (ھود : 45)
2۔ قوم ثمود کو صبح کے وقت ہولناک دھماکے نے آلیا اور ان کا مال واسباب ان کے کچھ کام نہ آئے۔ (الحجر 83۔ 84)
3۔ ہم نے ان پر ہولناک چیخ نازل کی وہ ایسے ہوگئے جیسے بوسیدہ اور سوکھی ہوئی باڑ ہوتی ہے۔ (القمر : 31)
فرعون اور اس کے ساتھیوں کا انجام :
فرعون مصر کے حکمران کا اصلی نام نہیں بلکہ اس کا سرکاری لقب تھا۔ قدیم تاریخ سے پتہ چلتا ہے کہ یمن کا حکمران تبع، حبشہ کا بادشاہ نجاشی، روم کا حکمران قیصر، ایران کا فرمانروا کسریٰ کہلواتا اور ہندوستان کے حکمران اپنے آپ کو راجا کہلوانا پسند کرتے تھے۔ جس طرح آج کل صدارتی نظام میں حکمران پریذیڈنٹ اور پارلیمانی نظام رکھنے والے ممالک میں وزیر اعظم اور جرمن کا حکمران چانسلر کہلواتا ہے اسی طرح ہی مصر کا بادشاہ سرکاری منصب کے حوالے سے فرعون کہلواتا تھا۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا جس فرعون سے واسطہ پڑا اس کا نام قابوس یا رعمیس تھا۔ یہ اپنے آپ کو خدا کا اوتار سمجھتے ہوئے لوگوں کو یہ تاثر دینے میں کامیاب ہوا کہ اگر میں خدا کا اوتار نہ ہوتا تو دنیا کی سب سے بڑی مملکت کا فرمانروا کیسے ہوسکتا تھا۔ پھر اس نے لوگوں کے مزاج اور مشرکانہ عقائد سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنے آپ کو رب اعلیٰ قرار دیا۔ قوم اور موسیٰ (علیہ السلام) کے سامنے دعویٰ کیا کہ زمین و آسمان میں مجھ سے بڑھ کر کوئی رب نہیں ہے میں ہی سب دیوتاؤں سے بڑا دیوتا اور سب سے اعلیٰ اور اولیٰ کائنات کا رب ہوں۔ اللہ تعالیٰ نے اس کی جھوٹی خدائی کے پرخچے اڑانے اور اس کی کذب بیانی کا پول کھولنے کے لیے اسی کے گھر میں پرورش پانے والے موسیٰ (علیہ السلام) کو رسول منتخب فرمایا۔ فرعون کو میخوں والا اس لیے کہا گیا ہے۔ 1 ۔ وہ اسلحہ کے لحاظ سے بڑا طاقتور تھا۔ 2 ۔ فرعون اپنے مخالفوں پر اس قدر ظلم کرتا کہ ان کے جسم پر کیل ڈھونک دیتا تھا بعض مفسرین کے مطابق اس نے اپنی بیوی حضرت آسیہ ؓ جو موسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان لائی تھی اسے بھی یہی سزا دی تھی۔
مسائل
1۔ اللہ تعالیٰ نے عاد اولیٰ اور عاد ثانیہ کو ہلاک کیا۔ 2۔ اللہ تعالیٰ نے ثمود جیسی قوم دوبارہ پیدا نہیں کی۔
3۔ قوم ثمود نے پہاڑوں میں مکانات تعمیر کیے۔ 4۔ قوم ثمود نے ملک میں بہت زیادہ فساد برپا کر رکھا تھا۔
5۔ اللہ تعالیٰ نے قوم ثمود پر عذاب نازل کیا اور انہیں نیست ونابود کردیا۔
6۔ اللہ تعالیٰ نے قوم عاد اور آل فرعون تباہ کردیا۔
تفسیر بالقرآن
قوم ثمود کی ہلاکت کا ایک منظر :
1۔ قوم ثمود نے حضرت صالح (علیہ السلام) سے عذاب کا مطالبہ کیا۔ (الاعراف : 77)
2۔ انھوں نے اونٹنی کی کونچیں کاٹ ڈالیں اور وہ نادم ہونے والوں میں سے ہوگئے۔ (الشعراء : 157)
3۔ قوم ثمود کے بدبختوں نے اونٹنی کی ٹانگیں کاٹ دیں۔ الشمس : 14)
4۔ ثمود زور دار آواز کے ساتھ ہلاک کیے گئے۔ (الحاقہ : 5)
5۔ قوم عاد وثمود کے اعمال بد کو شیطان نے ان کے لیے فیشن بنا دیا تھا۔ (العنکبوت : 38)
6۔ قوم ثمود کو زلزلے نے آپکڑا اور وہ اپنے گھروں میں اوندھے پڑے رہ گئے۔ (الاعراف : 78)
7۔ قوم ثمود کو چیخ نے آپکڑا۔ وہ اپنے گھروں میں اوندھے پڑے ہوئے تھے۔ (ھود : 67)
قوم عاد کے بارے میں تفصیلاً الاعراف کے رکوع 16 جبکہ آل فرعون کے بارے میں سورة یونس رکوع 12، 13 کا مطالعہ کریں۔
Ayahs 89:15–20فہم القرآن
ربط کلام : عاد، ثمود اور فرعون ہی نہیں ” رب ذوالجلال “ جب چاہے کسی باغی انسان کو پکڑ لے اور اسے آزمائش میں مبتلا کردے کیونکہ ہر وقت انسان اپنے رب کی نگرانی میں ہے۔
انسان کی عادت ہے کہ جب اسے اس کا رب مال اور تکریم عطا کرتا ہے تو وہ سوچتا اور کہتا ہے کہ مجھے میرے رب نے عزت عطا فرمائی ہے ا ورجب اس کا رب اسے رزق کی تنگی کے ساتھ آزماتا ہے تو کہتا ہے کہ میرے رب نے مجھے ذلیل کردیا ہے حالانکہ اکثر مال داروں کی حالت یہ ہے کہ وہ یتیم کے حقوق کا خیال نہیں رکھتے اور مسکینوں کو نہ کھانا کھلاتے ہیں اور نہ دوسروں کو ترغیب دیتے ہیں بلکہ یتیموں اور مسکینوں کا مال ہڑپ کرجاتے ہیں اور مال کے ساتھ بےحد محبت رکھتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کی فطرت میں یہ بات رکھی ہے کہ اگر وہ یتیموں، مسکینوں اور فی سبیل اللہ کے کاموں پر خرچ کرتا ہے تو اس کی طبیعت میں کشادگی اور راحت پیدا ہوتی ہے اگر وہ غریبوں کے حقوق ادا نہیں کرتا تو اس کے دل میں بخل بڑھتا چلا جاتا ہے۔ اس بنا پر مال کے بارے میں اس کی حرص بڑھتی چلی جاتی ہے۔ ایسے شخص کا ضمیر بن جاتا ہے کہ اگر اسے مال اور تکریم حاصل ہو تو وہ اپنے رب پر خوش ہوتا ہے اور اگر اسے مال کی آزمائش میں مبتلا کردیا جائے تو کہتا ہے کہ میرے رب نے مجھے ذلیل کردیا ہے حالانکہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک مال اور جاہ و حشمت نیکی اور حقیقی عزت کا معیار نہیں۔ اس کے نزدیک یہ انسان کی آزمائش کا ذریعہ اور طریقہ ہے کہ وہ کسی کو مال اور منصب دے کر آزماتا ہے اور کسی سے چھین کر آزمائش کرتا ہے۔ لیکن دنیا دار شخص ان چیزوں کو اپنے رب کی رضا کا سر ٹیفکیٹ سمجھتا ہے حالانکہ یہ چیزیں نیک لوگوں کے مقابلے میں دنیا داروں کو زیادہ میسر ہوتی ہیں۔
مومن کی عظمت :
(عَنِ ابْنِ عُمَرَ ؓ کُنَّا عِنْدَ النَّبِیِّ ﷺ فَأُتِیَ بِجُمَّارٍ فَقَالَ إِنَّ مِنَ الشَّجَرِ شَجَرَۃً مَثَلُہَا کَمَثَلِ الْمُسْلِمِ فَأَرَدْتُ أَنْ أَقُولَ ہِیَ النَّخْلَۃُ فَإِذَا أَنَا أَصْغَرُ الْقَوْمِ فَسَکَتُّ قَال النَّبِیُّ ﷺ ہِیَ النَّخْلَۃُ ) (رواہ البخاری : باب الفہم فی العلم)
” حضرت عبداللہ بن عمر ؓ بیان کرتے ہیں کہ ہم نبی کریم ﷺ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے آپ کے پاس کھجوریں لائیں گئیں آپ ﷺ نے سوال کیا کہ بتلاؤ درختوں میں سے ایک ایسا درخت ہے جو مومن کی مانند ہے ؟ میں نے ارادہ کیا کہ بتلاؤں کہ وہ کھجور کا درخت ہے لیکن میں قوم میں سے سب سے چھوٹا تھا اس لیے میں خاموش رہا تو آپ ﷺ نے خود جواب دے دیا کہ وہ کھجور کا درخت ہے۔ “
سخی اور بخیل میں فرق :
(عَنْ اَبِیْ ھُرَےْرَۃَ ؓ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ مَثَلُ الْبَخِےْلِ وَالْمُتَصَدِّقِ کَمَثَلِ رَجُلَےْنِ عَلَےْھِمَا جُنَّتَانِ مِنْ حَدِےْدٍ قَدِ اضْطُرَّتْ اَےْدِےْھِمَا اِلٰی ثُدِیِّھِمَا وَتَرَاقِےْھِمَا فَجَعَلَ الْمُتَصَدِّقُ کُلَّمَا تَصَدَّقَ بِصَدَقَۃٍ انْبَسَطَتْ عَنْہُ وَجَعَلَ الْبَخِیْلُ کُلَّمَا ھَمَّ بِصَدَقَۃٍ قَلَصَتْ وَاَخَذَتْ کُلُّ حَلْقَۃٍ بِمَکَانِھَا) (رواہ البخاری : باب مَثَلِ الْمُتَصَدِّقِ وَالْبَخِیلِ )
” حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول محترم ﷺ نے فرمایا : بخیل اور صدقہ کرنے والے کی مثال ان دو آدمیوں کی طرح ہے جنہوں نے زرہ پہن رکھی ہو اس کے ہاتھوں کو اس کی چھاتیوں اور سینے کے ساتھ جکڑ دیا گیا ہو۔ صدقہ دینے والا صدقہ کرنے کا ارادہ کرتا ہے تو زرہ کشادہ ہوجاتی ہے، بخیل صدقہ کرنے کا خیال کرتا ہے تو زرہ سمٹ جاتی اور ہر کڑی اپنی اپنی جگہ پر سخت ہوجاتی ہے۔ “
(عَنْ اَبِیْ ھُرَےْرَۃَ ؓ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ اِنَّ اللّٰہَ تَعَالٰی ےَقُوْلُ ےَوْمَ الْقِےٰمَۃِ ےَا ابْنَ اٰدَمَ مَرِضْتُ فَلَمْ تَعُدْنِیْ قَالَ ےَا رَبِّ کَےْفَ اَعُوْدُکَ وَاَنْتَ رَبُّ الْعٰلَمِےْنَ قَالَ اَمَا عَلِمْتَ اَنَّ عَبْدِی فُلَانًا مَّرِضَ فَلَمْ تَعُدْہُ اَمَا عَلِمْتَ اَنَّکَ لَوْعُدْتَّہُ لَوَجَدْتَّنِیْ عِنْدَہُ ےَا ابْنَ اٰدَمَ اسْتَطْعَمْتُکَ فَلَمْ تُطْعِمْنِیْ قَالَ ےَا رَبِّ کَےْفَ اُطْعِمُکَ وَاَنْتَ رَبُّ الْعٰلَمِےْنَ قَالَ اَمَا عَلِمْتَ اَنَّہُ اسْتَطْعَمَکَ عَبْدِیْ فُلَانٌ فَلَمْ تُطْعِمْہُ اَمَاعَلِمْتَ اَنَّکَ لَوْ اَطْعَمْتَہُ لَوَجَدْتَّ ذَالِکَ عِنْدِیْ ےَا ابْنَ اٰدَمَ اسْتَسْقَےْتُکَ فَلَمْ تَسْقِنِیْ قَالَ ےَا رَبِّ کَےْفَ اَسْقِےْکَ وَاَنْتَ رَبُّ الْعٰلَمِےْنَ قَالَ اسْتَسْقَاکَ عَبْدِیْ فُلَانٌ فَلَمْ تَسْقِہٖ اَمَا عَلِمْتَ اَنَّکَ لَوْ سَقَےْتَہُ وَجَدْتَّ ذَالِکَ عِنْدِی) (رواہ مسلم : باب فضل عیادۃ المریض)
” حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ قیامت کے دن فرمائے گا اے آدم کے بیٹے ! میں بیمار پڑا تو تو نے میری بیمارپرسی نہ کی۔ بندہ عرض کرے گا میرے پروردگار میں آپ کی بیمار پرسی کیسے کرتا ؟ کیونکہ آپ ہی تو رب العالمین ہے اس پر اللہ فرمائے گا۔ تو نہیں جانتا کہ میرا فلاں بندہ بیمار ہوا تو نے اس کی بیمار پرسی نہ کی اگر تو اس کی بیمار پرسی کے لیے آتا تو مجھے اس کے پاس پاتا۔ اے ابن آدم ! میں نے تجھ سے کھا نامانگا لیکن تو نے مجھے نہ کھلایا ؟ بندہ جواب دے گا، اے میرے رب ! میں تجھے کھانا کیسے کھلاتا تو تو جہانوں کو رزق دینے والا ہے اللہ تعالیٰ فرمائے گا تجھے معلوم نہیں میرے فلاں بندے نے تجھ سے کھانا مانگا مگر تو نے اس کو کھلانے سے انکار کردیا۔ کیا تجھے معلوم نہیں کہ اگر تو اسے کھانا کھلاتا تو اس کا بدلہ میرے پاس پاتا۔ آدم کے بیٹے ! میں نے تجھ سے پانی طلب کیا لیکن تو نے مجھے پانی نہ پلایاوہ عرض کرے گا، اے میرے رب ! میں تجھے کیسے پانی پلاتا جب کہ تو تو جہانوں کا پالنے والا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ میرے فلاں بندے نے تجھ سے پانی مانگا تھا لیکن تو نے اسے پانی نہیں پلایا کیا تو نہیں جانتا کہ اگر تو نے اس کو پانی پلایا ہوتا تو آج میرے پاس تو اپنے لیے مشروبات پاتا۔ “
(عَنِ ابْنِ الزُّبَیْرِ یَقُولُ سَمِعْتُ رَسُول اللَّہ ﷺ یَقُولُ لَیْسَ الْمُؤْمِنُ الَّذِی یَشْبَعُ وَجَارُہُ جَاءِعٌ إِلَی جَنْبِہِ ) (رواہ البیھقی : باب صاحِبِ الْمَالِ لاَ یَمْنَعُ الْمُضْطَرَّ فَضْلاً إِنْ کَانَ عِنْدَہُ )
” حضرت عبداللہ بن زبیر ؓ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا وہ شخص مومن نہیں ہوسکتا جو خود سیر ہو کر کھائے اور اس کا ہمسایہ اس کے پہلو میں بھوکا رہے۔ “
مسائل
1۔ اللہ تعالیٰ انسان کو اپنی نعمت دے کر آزماتا ہے۔ 2۔ اللہ تعالیٰ غربت کے ذریعے بھی انسان کی آزمائش کرتا ہے۔
3۔ دنیادارکو نعمت ملتی ہے تو رب کی تعریف کرتا ہے اور جب نعمت چھن جاتی ہے تو اپنے رب کا شکوہ کرتا ہے۔
4۔ مال سے محبت کرنے والے لوگ یتیموں اور مسکینوں کا خیال نہیں رکھتے۔
5۔ مال سے محبت رکھنے والے لوگ یتیموں اور مسکینوں کا مال ہڑپ کر جاتے ہیں۔
6۔ دنیادار لوگوں کی نشانی یہ ہے کہ وہ حد سے زیادہ مال سے محبت رکھتے ہیں۔
تفسیر بالقرآن
یتیموں اور مسکینوں کے حقوق :
1۔ یتیم تمہارے بھائی ہیں۔ (البقرۃ : 220) 2۔ یتیموں کی اصلاح میں بہتری ہے۔ (البقرۃ : 220)
3۔ یتیم کو جھڑکنے کی ممانعت ہے۔ (الضحیٰ : 9) 4۔ یتیم کا مال کھانا بہت بڑا گناہ ہے۔ (النساء : 2)
5۔ والدین، یتیموں، اور مسکینوں کے ساتھ حسن سلوک کرنا چاہیے۔ (النساء : 36)
Ayahs 89:21–26فہم القرآن
ربط کلام : جس مال پر انسان اترتا اور اسے جمع کر کے رکھتا ہے اس مال اور پوری دنیا کا انجام۔
دنیا دار انسان شعوری یا غیر شعوری طور پر سمجھتا ہے کہ اس کا مال اس کے پاس ہمیشہ رہے گا حالانکہ دنیا اور اس کی ہر چیز عارضی ہے، ایک وقت آنے والا ہے جب اس زمین پر زلزلے واقع ہوں گے اور ہر چیز تہس نہس کردی جائے گی زمین و آسمان بدل دیئے جائیں گے اور لوگوں کو محشر کے میدان میں جمع کرلیا جائے گا۔ جب لوگ محشر کے میدان میں جمع ہوجائیں گے تو جبریل امین اور تمام ملائکہ قطار اندر قطار کھڑے ہوں گے۔ (النبا : 38)
ملائکہ، انسان اور جنات رب ذوالجلال کی تشریف آوری کا انتظار کررہے ہوں گے تو اچانک زمین و آسمان کی ہر چیز روشن ہوجائے گی۔ (الزمر : 69) جب ہر چیز جگمگا اٹھے گی تو رب ذوالجلال مخصوص ملائکہ کے ساتھ زمین پر جلوہ نما ہوں گے۔ اس دن جہنم کو حاضر کرلیا جائے جب مجرم جہنم کو دیکھے گا تو آہ وزاریاں کرتے ہوئے کہے گا کہ کاش ! میں کوئی نیکی کرلیتا جس کا آج مجھے فائدہ پہنچتا لیکن اس دن نصیحت حاصل کرنے کا اسے کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ اللہ تعالیٰ ہر مجرم کی اس طرح گرفت کرے گا کہ کوئی بڑے سے بڑا طاقتور بھی اس طرح نہیں پکڑ سکتا پھر اسے اس کے جرائم کے مطابق ایسی سزادی جائے گی کہ اس جیسی سزا کوئی اور نہیں دے سکتا۔ دنیا میں بیشمار ایسے مجرم ہوتے ہیں جو اپنے اثرورسوخ کی و جہ سے سزا سے بچ جاتے ہیں لیکن قیامت کا دن ایسا ہوگا کہ کوئی مجرم رب ذوالجلال کی پکڑ اور سزا سے نہیں بچ سکے گا۔ ہر مجرم کو اس کے جرائم کے مطابق ٹھیک ٹھیک سزادی جائے گی ایسی سزا جس میں کسی پر ظلم نہیں ہوگا۔ اللہ تعالیٰ نے اس مقام پر اپنے لیے ” جاء ربک “ کے الفاظ استعمال فرمائے ہیں کہ آپ کا رب ملائکہ کے ساتھ آئے گا۔ اس فرمان کے بارے میں بعض مفسرین نے بہت قیل و قال کی ہے ان کی منہ شگافیوں کا مفہوم یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کس طرح تشریف لائے گا اور کیا اس وقت اس کا عرش خالی ہوجائے گا۔ اس قیل و قال کے دو ہی جواب ہوسکتے ہیں۔
1۔ اس دن زمین و آسمان اور پوری کائنات کو بدل دیا جائے گا ہوسکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا عرش آسمانوں کی بجائے زمین پر ہو۔
2۔ دوسرا جواب یہ ہے کہ یہ سوچ انسان کے محدود تصور کا نتیجہ ہے کیونکہ انسان اس سے آگے سوچ ہی نہیں سکتا اس لیے قیامت کے معاملات کو اپنی سوچ پر قیاس کرنا جائز نہیں۔ اللہ تعالیٰ کے بارے میں ایسا سوچنے کی اس لیے اجازت نہیں کیونکہ اس کا فرمان ہے۔
(لَیْسَ کَمِثْلِہٖ شَیْءٌ) (الشوریٰ : 11)
اللہ تعالیٰ کسی چیز کی مثل نہیں لہٰذا اس کی ذات اور صفات کو کسی کی ذات اور صفات پر قیاس نہیں کیا جاسکتا۔ حقیقت یہ ہے کہ ہم اس نظام کو موجودہ نظام پر قیاس نہیں کرسکتے۔
مسائل
1۔ قیامت کے دن زمین پوری طرح ہلا کر رکھ دی جائے گی، ججس سے زمین چٹیل میدان بن جائے گی۔
2۔ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن محشر کے میدان میں جلوہ نما ہوگا۔ جبرئیل امین (علیہ السلام) اور فرشتے قطار اندر قطار کھڑے ہوں گے۔
3۔ قیامت کے دن مجرم اپنے آپ پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہیں گے۔ کاش ! ہم آج کے دن کے لیے اچھے اعمال کرتے۔
4۔ قیامت کے دن جہنم کو لوگوں کے سامنے لایا جائے گا۔
5۔ اس دن اللہ تعالیٰ سے بڑھ کر نہ کسی کی پکڑ ہوگی اور نہ اس سے زیادہ کوئی سزا دینے والا ہوگا۔
تفسیر بالقرآن
اللہ تعالیٰ کی عدالت کا ایک منظر :
1۔ اللہ تعالیٰ انصاف کے ساتھ فیصلہ فرمائیں گے اور لوگوں پر ظلم نہیں کیا جائے گا۔ (یونس : 54)
2۔ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن حق کے ساتھ فیصلہ فرمائیں گے اور کسی پر ظلم نہیں ہوگا۔ (الزمر : 69)
3۔ اللہ تعالیٰ کی عدالت میں مجرم کی سفارش قبول نہ ہوگی۔ (البقرۃ : 48)
4۔ اللہ تعالیٰ کی عدالت میں خریدو فروخت، دوستی اور کسی کی سفارش کام نہ آئے گی۔ (البقرۃ : 254)
Ayahs 89:27–30فہم القرآن
ربط کلام : مجرموں کے مقابلے میں نیک لوگوں کا اجر اور مقام۔
اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں نفس انسانی کی تین حالتیں بیان کی ہیں۔
1۔ نفس مطمئنہّ : ہر حال میں مطمئن یعنی نیکی پر قائم رہنے والا۔ (الفجر : 27)
2۔ نفس لوّامہ : گناہ پر ملامت کرنے والا (القیامہ : 2)
3۔ نفس امّارہ : گناہ پر ابھارنے والا (یوسف : 53)
یہ انسان کے دل کی تین حالتیں ہیں نفس مطمئنہ صرف انبیاء کو نصیب ہوتا ہے باقی انسانوں کے نفس کی دو کیفیتیں ہوتی ہیں۔ (1) نفسِ امّارہ اور نفس لوّامہ۔ ان کے درمیان مقابلہ رہتا ہے اگر نفس لوّامہ جیت جائے تو انسان کو نیک اعمال کی توفیق ملتی ہے اور اگر نفس امّارہ غالب آجائے تو آدمی برائی کا مرتکب ہوتا ہے۔
قیامت کے دن ایک طرف مجرموں کو جکڑا جارہا ہوگا اور دوسری طرف ہر نیک کے لیے یہ اعلان ہوگا کہ اے میرے نیک بندے ! اپنے رب کے حضور راضی خوشی حاضرہوجا اور میرے بندوں میں شامل ہو کر میری جنت میں داخل ہوجا۔
” جن لوگوں نے کہا کہ ہمارا رب ” اللہ “ ہے اور اس پر ثابت قدم رہے یقیناً ان پر ملائکہ نازل ہوتے ہیں اور ان سے کہتے ہیں کہ نہ ڈرو، اور نہ غم کرو، بلکہ اس جنت کے بارے میں خوش ہوجاؤ جس کا تم سے وعدہ کیا گیا ہے، ہم اس دنیا کی زندگی میں بھی تمہارے ساتھی ہیں اور آخرت میں بھی ساتھی ہوں گے، وہاں جو چاہو گے تمہیں ملے گا اور جس چیز کی تمنا کرو گے اسے پاؤ گے اس ” رب “ کی طرف سے یہ مہمان نوازی ہے جو غفور ورحیم ہے۔ “ (حمٓ السجدۃ : 30 تا 32)
” حضرت برا بن عازب ؓ بیان کرتے ہیں نبی مکرم ﷺ کے ساتھ ہم انصار کے کسی آدمی کے جنازہ کے لیے نکلے قبرستان پہنچے تو ابھی قبر کھودی نہیں گئی تھی۔ رسول اکرم ﷺ بیٹھ گئے ہم بھی آپ کے ارد گرد بیٹھ گئے جیسے ہمارے سروں پر پرندے بیٹھے ہوں، رسول اللہ ﷺ کے ہاتھ میں ایک چھڑی تھی آپ اس کے ساتھ زمین کرید رہے تھے آپ نے سر اٹھاتے ہوئے دو یا تین مرتبہ فرمایا قبر کے عذاب سے پناہ مانگو پھر فرمایا جب کافر دنیا کو چھوڑ کر آخرت کی طرف جا رہا ہوتا ہے تو اس کی طرف آسمان سے سیاہ چہروں والے فرشتے آتے ہیں ان کے ہاتھ میں بدبودار بوری ہوتی ہے وہ حد نگاہ تک اس کے پاس بیٹھ جاتے ہیں، پھر اس کے پاس ملک الموت آتا ہے یہاں تک کہ اس کے سر کے پاس بیٹھ جاتا ہے اور کہتا ہے اے خبیث نفس ! اللہ تعالیٰ کی ناراضگی اور غضب کا سامنا کر۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا وہ اس کی روح کو اس طرح نکالتے ہیں جس طرح گرم سلائی کو روئی سے نکالا جاتا ہے وہ اس کو نکال کر تھیلے میں ڈالتے ہیں اس سے اتنی بدبو نکلتی ہے جس طرح زمین سے کسی لاش کی بدبو پھوٹتی ہے۔ فرشتے اس کو لے کر آسمانوں کی طرف چڑھتے ہیں وہ فرشتوں کے جس گروہ کے پاس سے گزرتے ہیں وہ کہتے ہیں یہ خبیث روح کون ہے۔ ملائکہ کہتے ہیں یہ فلاں بن فلاں ہے۔ اس کے برے نام لیتے ہیں یہاں تک کہ وہ آسمان دنیا تک پہنچتے ہیں وہ اس کو کھلوانا چاہتے ہیں مگر اسے کھولا نہیں جاتا، پھر نبی معظم ﷺ نے اس آیت مبارکہ کی تلاوت فرمائی :” ان کے لیے آسمان کے دروازے نہیں کھولے جائیں گے نہ وہ جنت میں داخل ہوں گے یہاں تک کہ سوئی کے ناکے میں اونٹ داخل ہوجائے۔ (الاعراف : 40) “ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اس کے لیے سجین یعنی زمین کی تہہ میں ٹھکانا لکھو۔ اس کی روح کو نیچے پھینک دیا جاتا ہے پھر نبی معظم ﷺ نے اس آیت مبارکہ کی تلاوت فرمائی ” جو اللہ کے ساتھ شرک کرے گا گویا کہ وہ آسمان سے گرا اور اسے پرند اچک لیں یا اس کو ہوائیں کسی دور دراز مقام پر پھینک دیں گی۔ “ (الحج : 31) اس کے بعد اس کی روح کو اس کے بدن میں لوٹا دیا جاتا ہے اور اس کے پاس دو فرشتے آتے ہیں جو اس کو بٹھاتے ہیں وہ اس سے پوچھتے ہیں تیرا رب کون ہے ؟ وہ کہتا ہے ہائے ہائے میں نہیں جانتا۔ فرشتے کہتے ہیں تیرا دین کیا ہے وہ کہتا ہے ہائے ہائے میں نہیں جانتا۔ فرشتے پوچھتے ہیں کہ یہ شخص کون ہے جو تم میں نبی مبعوث کیا گیا ؟ وہ کہتا ہے ہائے ہائے میں نہیں جانتا۔ آسمانوں سے آواز دینے والا آواز دیتا ہے کہ یہ جھوٹ بول رہا ہے اس کا بچھونا آگ کا بنا دو اور آگ کا دروازہ اس کی طرف کھول دو ۔ اس کے پاس اس آگ کی گرمی اور بدبو آتی ہے اس پر اس کی قبر تنگ کردی جاتی ہے یہاں تک کہ اس کی پسلیاں ایک دوسرے میں گھس جاتی ہیں اور اس کے پاس بدصورت گندے کپڑے اور بدبو دار جسم کے ساتھ آدمی آتا ہے تو وہ کہتا ہے آج خوش ہوجا تجھے حسب وعدہ ذلیل کیا جائے وہ پوچھتا ہے تو اتنی ڈراؤنی شکل والا کون ہے جو اتنی بری بات کہہ رہا ہے وہ کہے گا میں تیرا برا عمل ہوں مردہ کہے گا اے میرے رب قیامت کبھی قائم نہ کرنا۔ “ (مسند احمد : مسند البراء بن عازب، قال الالبانی ھٰذا حدیث صحیح)
مسائل
1۔ رب کریم قیامت کے دن نیک لوگوں کو اپنے حضور بلائے گا اور وہ اپنے رب کے پاس راضی خوشی ہوں گے۔
2۔ اللہ تعالیٰ نیک لوگوں کو فرمائے گا کہ میرے بندوں میں شامل ہوجاؤ اور میرے جنت میں داخل ہوجاؤ۔