90. Surah Al-Balad

البلدThe City · 20 ayahsفہم القرآن

تعارف

تعارف

سورة البلد کا تعارف یہ مکی سورت ہے اس کا نام اس کی پہلی آیت کے آخر میں موجود ہے یہ بیس آیات پر مشتمل ہے جنہیں ایک رکوع شمار کیا گیا ہے یہ سورت مکہ معظمہ کے اس دور میں نازل ہوئی جب کفار مکہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی مخالفت میں ایڑی چوٹی کا زور لگائے ہوئے تھے اس میں انسان کو یہ احساس دلایا گیا ہے کہ وہ سمجھتا ہے کہ اس پر کوئی قابو پانے والا نہیں بالخصوص مال دار آدمی اپنی دولت کے خمار میں مبتلا ہو کر یہ خیال کرتا ہے کہ اسے کوئی دیکھنے والا نہیں حالانکہ اللہ تعالیٰ نے اسے دو آنکھیں ایک زبان اور دو ہونٹ دیے ہیں اور اس کی رہنمائی کا انتظام فرمایا۔ لیکن بالخصوص بخیل آدمی ایسا نیکی کا کام کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتا جس میں اللہ تعالیٰ کی رضا کی خاطر مال خرچ کرنا پڑے حالانکہ کامیابی کا راستہ یہ ہے کہ انسان بالخصوص غریبوں پر ترس کھائے اور ایک دوسرے کو صبر کرنے کی تلقین کرے جو لوگ یہ کردار اختیار کریں گے وہ قیامت کے دن دائیں بازو والے ہوں گے اور جو یہ کردار اختیار نہیں کریں گے وہ بائیں بازو والے ہوں گے اور ان پر جہنم کی آگ مسلط کردی جائے گی۔

Ayahs 90:1–2

لَاۤ اُقْسِمُ بِهٰذَا الْبَلَدِۙ Open ayah 90:1 in the Quran reader

میں قسم کھاتا ہوں اس شہر مکہ کی

وَ اَنْتَ حِلٌّۢ بِهٰذَا الْبَلَدِۙ Open ayah 90:2 in the Quran reader

اور حال یہ ہے کہ اس شہر میں آپ کے لیے (قتال) حلال کردیا گیا ہے

فہم القرآن ربط سورت : سورة الفجر کے آخر میں ارشاد فرمایا کہ ” اللہ تعالیٰ “ ظالموں کو ایسی سزا دے گا کہ اس طرح کی سزا کوئی اور نہیں دے سکتا۔ ان کے مقابلے میں نیک لوگوں کو اپنی رضا سے سرفراز فرمائے گا اور انہیں جنت میں داخل کرے گا۔ سورة البلد کے آغاز میں دو قسمیں اٹھانے کے بعد ارشاد فرمایا کہ باغی انسان سمجھتا ہے کہ اسے کوئی دیکھنے والا اور اس پر کوئی قابو پانے والا نہیں حالانکہ ” اللہ تعالیٰ “ ہر وقت انسان کی نگرانی کر رہا ہے اور اسی نے اس کو دیکھنے کے لیے آنکھیں دیں، بولنے کے لیے زبان اور کھانے پینے کے لیے دو ہونٹ دئیے ہیں۔ یہ سورت بھی سورة القیامہ کی طرح ” لَآ اُقْسِمُ “ کے الفاظ سے شروع ہوئی ہے اس کا معنٰی یہ ہے کہ میں قسم کھاتا ہوں۔ ” لا “ کا لفظ اس لیے لایا گیا ہے کہ اہل مکہ دعوت توحید کی مخالفت میں ایڑی چوٹی کا زور لگائے ہوئے تھے۔ اس پر انہیں وارننگ دی گئی ہے کہ تم جتنا زور لگانا چاہتے ہو لگا لو مگر یاد رکھو کہ تم اپنے عزائم میں کبھی کامیاب نہیں ہوسکتے۔ ہمیں اس شہر کی قسم کہ وقت آنے والا ہے جب آپ ﷺ اس قدر کامیاب ہوں گے کہ آپ کے سامنے کوئی چیز بھی حائل نہیں سکے گی۔ آپ اس شہر میں اس حال میں داخل ہوں گے کہ آپ کے لیے اس شہر کی حرمت حلال کردی جائے گی۔ یاد رہے کہ جب سے ابراہیم (علیہ السلام) نے بیت اللہ تعمیر فرمایا ہے اس وقت سے لے کر مکہ معظمہ میں ہر قسم کا جنگ وجدال حرام ہے اور یہ حرمت قیامت تک قائم رہے گی۔ تاہم نبی ﷺ کے لیے فتح مکہ کے موقع پر مکہ کی حرمت کو چند گھڑیاں موقوف کیا گیا تاکہ اسے کفرو شرک سے پاک کردیا جائے۔ اللہ تعالیٰ نے نبی ﷺ کو فتح مکہ کے موقع پر ایسا رعب اور کامیابی عطا فرمائی کہ کوئی شخص آپ کے سامنے دم نہیں مار سکا تھا۔ آپ ﷺ نے چار آدمیوں کے قتل کا حکم دینے کے سوا باقی سب کو معاف کردیا۔ (عَنْ اَبِیْ شُرَیْحِ نِ الْعَدَوِیِّ اَنَّہُ قَالَ لِعَمْرٍو ابْنِ سَعِیْدٍ ؓ وَھُوَ یَبْعَثُ الْبُعْوثَ اِلٰی مَکَّۃَ اِءْذَنْ لِیْ اَیُّھَا الْاَمِیْرُ اُحَدِّ ثُکَ قَوْلاً قَامَ بِہٖ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ الْغَدَ مِنْ یَوْمِ الْفَتْحِ سَمِعَتْہُ اُذُنَایَ وَ وَعَاہُ قَلْبِیْ وَاَبْصَرَتْہُ عَیْنَایَ حِیْنَ تَکَلَّمَ بِہٖ حَمِدَ اللّٰہَ وَاَثْنٰی عَلَیْہِ ثُمَّ قَالَ اِنَّ مَکَّۃَ حَرَّمَہَا اللّٰہُ وَلَمْ یُحَرِّمْھَا النَّاسُ فَلَا یَحِلُّ لِا مْرِ ءٍ یُؤْمِنُ باللّٰہِ وَالْیَوْمِ الْاٰخِرِاَنْ یَّسْفِکَ بِھَا دَمًا وَلَا یَعْضُدَ بِھَا شَجَرَۃً فَاِنْ اَحَدٌ تَرَخَّصَ بِقِتَالِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ فِیْھَا فَقُوْلُوْا لَہٗ اِنَّ اللّٰہَ قَدْ اَذِنَ لِرَسُوْلِہٖ وَلَمْ یَأْذَنْ لَکُمْ وَاِنَّمَا اَذِنَ لِیْ فِیْھَا سَاعَۃً مِنْ نَّہَارٍ وَقَدْعَادَتْ حُرْمَتُھَا الْیَوْمَ کَحُرْمَتِھَا بالْاَمْسِ وَلْیُبَلِّغِ الشَّاہِدُ الْغَاءِبَ فَقِیْلَ لِاَبِیْ شُرَیْحٍ مَا قَالَ لَکَ عَمْرٌو قَالَ اَنَا اَعْلَمُ بِذَالِکَ مِنْکَ یَا اَبَا شُرَیْحٍ اِنَّ الْحَرَمَ لَا یُعِیْذُعَاصِیاً وَلَا فَآراًّ بِدَمٍ وَلَا فَآرًّا بِخَرْبَۃٍ ۔ ) (رواہ البخاری : باب لِیُبَلِّغِ الْعِلْمَ الشَّاہِدُ الْغَاءِبَ ) ” حضرت ابوشریح عدوی ؓ بیان کرتے ہیں انہوں نے عمرو بن سعید ؓ کو فرمایا : جو مکہ مکرمہ کی طرف لشکر بھیج رہے تھے، اے امیر ! مجھے اجازت دیجیے کہ میں آپ کو رسول اکرم ﷺ کی ایک حدیث سناؤں۔ یہ بات نبی ﷺ نے فتح مکہ کے دوسرے دن ارشاد فرمائی تھی جسے میرے دونوں کانوں نے سنا اور میرے دل نے اسے یادرکھا۔ جب آپ ﷺ خطاب فرما رہے تھے تو میری دونوں آنکھیں آپ پر جمی ہوئی تھیں۔ رسول اللہ ﷺ نے اللہ کی حمدوثنا کے بعد فرمایا بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے مکہ کو حرمت بخشی ہے کسی شخص نے اسے حرمت نہیں دی جو شخص اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہے اس کے لیے جائز نہیں کہ وہ اس میں خون ریزی کرے اور حرم میں کسی درخت کو کاٹے اگر کوئی شخص مکہ میں اللہ کے رسول ﷺ کے قتال کو مثال بنا کر اس میں لڑائی جائز سمجھے تو اسے بتاؤ۔ اس میں شک نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے صرف اپنے رسول کو اجازت عطا فرمائی لیکن تجھے اجازت نہیں دی گئی۔ مجھے بھی بس دن کے بالکل تھوڑے وقت کے لیے اجازت دی گئی اور اب اس کی حرمت ہمیشہ کی طرح ہے، یہ بات غیر موجود لوگوں تک پہنچا دو ۔ اس پر ابوشریح سے پوچھا گیا کہ پھر آپ کو عمرو نے کیا جواب دیا ؟ ابوشریح نے بتایا، اس نے جواب دیا ‘ ابوشریح مجھے تم سے زیادہ اس بات کا علم ہے کہ حرم نہ کسی گنہگار کو اور نہ ہی مفرور قاتل کو اور نہ خیانت کر کے بھاگنے والے کو پناہ دیتا ہے۔ “ تفسیر بالقرآن بیت اللہ اور مکہ معظمہ کی فضیلت اور حرمت : 1۔ دنیا میں پہلا گھر بیت اللہ تعمیر ہوا۔ (آل عمران : 96) 2۔ قسم ہے اس شہر کی۔ (البلد : 1) 3۔ اے میرے رب اس گھر کو امن والا بنا۔ (ابراہیم : 35) 4۔ قسم ہے اس امن والے شہر کی۔ (التین : 3) 5۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے دعا کی اے اللہ اس شہر کو امن والا بنادے۔ (البقرۃ : 126)
Ayahs 90:3–7

وَ وَالِدٍ وَّ مَا وَلَدَۙ Open ayah 90:3 in the Quran reader

اور قسم کھاتا ہوں والد کی اور اس کی اولاد کی

لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ فِیْ كَبَدٍؕ Open ayah 90:4 in the Quran reader

درحقیقت ہم نے انسان کو مشقت میں پیدا کیا ہے

اَیَحْسَبُ اَنْ لَّنْ یَّقْدِرَ عَلَیْهِ اَحَدٌۘ Open ayah 90:5 in the Quran reader

کیا اس نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ اس پر کوئی قابو نہیں پا سکے گا ؟

یَقُوْلُ اَهْلَكْتُ مَالًا لُّبَدًاؕ Open ayah 90:6 in the Quran reader

کہتا ہے کہ میں نے بہت زیادہ مال لٹا دیا

اَیَحْسَبُ اَنْ لَّمْ یَرَهٗۤ اَحَدٌؕ Open ayah 90:7 in the Quran reader

کیا وہ سمجھتا ہے کہ کسی نے اس کو نہیں دیکھا ؟

فہم القرآن ربط کلام : مکہ شہر کی قسم اٹھانے کے بعد باپ اور اس کی اولاد کی قسم اٹھا کر ہر انسان کو ایک حقیقت بتلائی گئی ہے۔ مکہ کی قسم اٹھا کر بین السطور آپ ﷺ کو آپ کی دعوت کی کامیابی کی خبر دی گئی ہے، اس کے بعد فرمایا کہ مجھے باپ اور اس کی اولاد کی قسم ! ہم نے انسان کو مشقت جھیلنے کے لیے پیدا کیا ہے لیکن انسان سمجھتا ہے کہ کوئی اس پر قابو نہیں پاسکے گا۔ باپ اور اولاد سے مراد حضرت آدم (علیہ السلام) اور ان کی پوری اولاد ہے۔ کچھ اہل علم نے باپ سے مراد ابراہیم (علیہ السلام) اور اولاد سے مراد بنی اسماعیل (علیہ السلام) لیے ہیں۔ لیکن مناسب یہ ہے کہ باپ سے مراد آدم (علیہ السلام) لیے جائیں اور اولاد سے مراد ان کی پوری اولادسمجھی جائے اس میں ابراہیم (علیہ السلام) اور بنی اسماعیل بھی آجاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے باپ اور اس کی اولاد کی قسم اٹھا کر انسان کو اس کے ماں، باپ کے مرتبہ سے آگاہ فرمایا ہے، اس کے ساتھ ہی انسان کو بتلایا ہے کہ تجھے سختی جھیلنے کے لیے پیدا کیا ہے۔ اس سختی سے مراد انسان کی پیدائش کے مختلف مراحل ہیں۔ اس میں وہ سختیاں بھی شامل ہیں جن کے ساتھ انسان کو زندگی میں واسطہ پڑتا ہے۔ انسان کو ان سختیوں کے ساتھ دوچار کرنے میں ایک حکمت یہ ہے کہ انسان قدم قدم پر اس ہستی کی طرف متوجہ رہے جو ذات سختیوں کو آسانیوں میں تبدیل کرنے والی ہے، ان سختیوں میں دوسری حکمت یہ ہے کہ انسان ہر دم یہ خیال رکھے کہ میں خودمختار نہیں بلکہ مختار قوت اللہ تعالیٰ کی ذات ہے جو ہر وقت میری نگرانی کررہی ہے، اور جب چاہے مجھے مشکل میں ڈال سکتی ہے لہٰذا مجھے سرکش اور باغی بننے کی بجائے مختار کل ہستی کے تابع رہ کر زندگی بسر کرنی چاہیے۔ اس کے لیے تیسرا سبق یہ ہے کہ اسے اپنا مال اور صلاحیتیں ایسے کاموں پر صرف کرنی چاہیے جہاں خرچ کرنے سے اس کا خالق راضی ہوتا ہے یہ تبھی ہوسکتا ہے جب انسان اپنے خالق کے بارے میں یہ عقیدہ رکھے کہ میرا خالق میری زندگی کے ایک ایک لمحہ کی نگرانی کررہا ہے اور وہی مجھے رزق دینے والا ہے، جس نے اپنے خالق کو پہچان اور نگران سمجھ لیا وہ زیادہ دیر تک فطرت کی بغاوت اور اپنے خالق کی سرکشی نہیں کرسکتا اور نہ ہی خالق کے دئیے ہوئے مال کو بےجا لٹاسکتا ہے۔ یہاں مال لوٹانے سے مراد نیکی کے کاموں پر خرچ کرنا نہیں بلکہ نمود ونمائش پر خرچ کرنا ہے جس کا ہر صورت حساب لیا جائے گا اور ایسے شخص کو دنیا میں بھی پچھتاوا ہوگا۔ (عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ؓ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ لِرَجُلٍ وَہُوَ یَعِظُہٗ اِغْتَنِمْ خَمْسًا قَبْلَ خَمْسٍ شَبَابَکَ قَبْلَ ہَرَمِکَ وَصِحَّتِکَ قَبْلَ سَقْمِکَ وَغِنَاکَ قَبْلَ فَقْرِکَ وَفِرَاغَکَ قَبْلَ شُغُلِکَ وَحَیَاتَکَ قَبْلَ مَوْتِکَ ) (رواہ الحاکم) ” حضرت عبداللہ بن عباس ؓ رسول اللہ ﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ آپ ﷺ ایک آدمی کو وعظ و نصیحت فرما رہے تھے۔ آپ نے فرمایا پانچ چیزوں کو پانچ چیزوں سے پہلے غنیمت جانو، جوانی کو بڑھاپے سے پہلے، تندرستی کو بیماری سے پہلے، خوشحالی کو تنگدستی سے پہلے فارغ وقت کو مصروف ہونے سے پہلے اور زندگی کو موت سے پہلے۔ “ مسائل 1۔ اللہ تعالیٰ نے آدم (علیہ السلام) اور اس کی اولاد کی قسم اٹھا کر فرمایا ہے کہ ہم نے انسان کو مشکلیں جھیلنے کے لیے پیدا کیا ہے۔ 2۔ باغی انسان سمجھ بیٹھتا ہے کہ اسے کوئی قابو کرنے والا نہیں اور نہ ہی اس کی کوئی نگرانی کرنے والا ہے۔ 3۔ انسان بہت سامال فضول کاموں پر لوٹا دیتا ہے اور بعد میں اسے حسرت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ تفسیر بالقرآن اللہ تعالیٰ ہر وقت انسان کی نگرانی کرنے والا ہے : 1۔ تم جو بھی عمل کرتے ہو وہ اللہ کے علم میں ہوتا ہے۔ (یونس : 61) 2۔ اللہ تعالیٰ تمام مخلوقات کو جاننے والا ہے۔ (یٰس : 79) 3۔ جو لوگ جہالت کی وجہ سے برائی کرتے ہیں، پھر جلدی سے توبہ کرلیتے ہیں اللہ تعالیٰ ان کی توبہ قبول کرتا ہے اور اللہ ہر چیز کو جاننے اور حکمت والا ہے۔ (النساء : 17) 4۔ اللہ سے اس کے فضل کا سوال کرو یقیناً اللہ تعالیٰ ہر چیز کو جاننے والا ہے۔ (النساء : 32) 5۔ جو کچھ تم اللہ کے دیے ہوئے میں سے خرچ کرتے ہو اللہ اس کو جاننے والا ہے۔ (النساء : 39) 6۔ قیامت کا، بارش کے نازل ہونے کا، اور جو کچھ رحموں میں ہے اور انسان کل کیا کمائے گا اور اسے کہاں موت آئے گی اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ (لقمان : 34) 8۔ اللہ تعالیٰ جانتا ہے جو تم ظاہر کرتے ہو اور چھپاتے ہو۔ وہ تو سینے کے رازوں کو بھی جاننے والا ہے۔ (ہود : 5)
Ayahs 90:8–16

اَلَمْ نَجْعَلْ لَّهٗ عَیْنَیْنِۙ Open ayah 90:8 in the Quran reader

کیا ہم نے انسان کو دو آنکھیں

وَ لِسَانًا وَّ شَفَتَیْنِۙ Open ayah 90:9 in the Quran reader

اور ایک زبان اور دو ہونٹ نہیں دیے ؟

وَ هَدَیْنٰهُ النَّجْدَیْنِۚ Open ayah 90:10 in the Quran reader

اور نیکی اور بدی کے راستے نہیں دکھائے

فَلَا اقْتَحَمَ الْعَقَبَةَ٘ۖ Open ayah 90:11 in the Quran reader

مگر اس نے دشوار گھاٹی سے گزرنے کی ہمت نہ کی

وَ مَاۤ اَدْرٰىكَ مَا الْعَقَبَةُؕ Open ayah 90:12 in the Quran reader

اور آپ کیا جانیں کہ کیا ہے وہ دشوارکھاٹی ؟

فَكُّ رَقَبَةٍۙ Open ayah 90:13 in the Quran reader

وہ کسی گردن کو غلامی سے چھڑانا

اَوْ اِطْعٰمٌ فِیْ یَوْمٍ ذِیْ مَسْغَبَةٍۙ Open ayah 90:14 in the Quran reader

یا بھوک کے دن کسی آدمی کو

یَّتِیْمًا ذَا مَقْرَبَةٍۙ Open ayah 90:15 in the Quran reader

قریبی یتیم

اَوْ مِسْكِیْنًا ذَا مَتْرَبَةٍؕ Open ayah 90:16 in the Quran reader

یاخاک نشین مسکین کو کھانا کھلانا ہے

فہم القرآن ربط کلام : جس شخص کا یہ خیال ہے کہ ” اللہ تعالیٰ “ اسے نہیں دیکھتا اسے اس بات پر غور کرنا چاہیے کہ ” اللہ تعالیٰ “ اسے اس وقت سے دیکھ رہا ہے کہ جب اس کے رحم مادر میں نقش ونگار بنائے جا رہے تھے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ کیا انسان اس پر پر غور نہیں کر تاکہ ہم نے اسے دو آنکھیں، ایک زبان اور دوہونٹ عطا کیے ہیں اور ہم نے اسے دوراستے دکھائے ہیں مگر اس نے مشکل گھاٹی سے گزرنے کی کوشش نہیں کی۔ آپ کیا سمجھیں کہ مشکل گھاٹی کیا ہے ؟ مشکل گھاٹی یہ ہے کہ کسی کی گردن کو غلامی سے چھڑایا جائے، کسی قرابت دار فاقہ مست اور خاک نشین، یتیم یا مسکین کو بھوک کے دن کھانا کھلانا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے یہاں مشکل کاموں کا ذکر کرنے سے پہلے ارشاد فرمایا ہے کہ کیا انسان اس بات پر غور نہیں کرتا کہ ہم نے اس کو دو آنکھیں، ایک زبان اور دو ہونٹ عطا فرمائے ہیں۔ آنکھوں، ہونٹوں اور زبان کا ذکر فرماکر اشارہ کیا ہے کہ انسان بالخصوص مال دار آدمی کا فرض بنتا ہے کہ وہ اپنی آنکھوں سے غریبوں کے حالات دیکھے پھر ان کے ساتھ تعاون کرے اور دوسرے کو بھی تلقین کرے کہ وہ یتیموں اور مسکینوں کے حقوق کا خیال رکھے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اسے نیکی اور بدی کے راستوں کی نشاندہی کردی ہے۔ اس مقام پر مشکل گھاٹی سے مراد یتیموں اور مسکینوں کے حقوق کا خیال رکھنا ہے اور بدی سے مراد یتیموں اور مسکینوں کے حقوق سے نظریں بچانا اور ان کے حقوق غصب کرنا ہے، ہدایت سے مراد نیکی اور برائی کی نشاندہی ہے۔ یہاں نیکی کے پانچ کاموں کو مشکل گھاٹی پر چڑھنے کے مترادف قرار دیا ہے یہ پانچوں کام ایسے ہیں جن کی قرآن و سنت میں بڑی ترغیب اور فضیلت بیان کی گئی ہے یہ کام وہی انسان کرسکتا ہے جو ایمان میں سچا ہو اور اسے اپنے رب پر کامل یقین ہو کہ وہ اسے ان کاموں کا اجر عطا فرمائے گا۔ غلام کی گردن چھڑانے میں اس لیے اجر رکھا گیا ہے کہ وہ بےچارہ دوسرے کے ہاتھوں میں بےبس ہوتا ہے اور اپنی بےبسی کی وجہ سے نہ اپنی مرضی سے کوئی کام کرسکتا ہے اور نہ اپنے محسن کا بدلہ چکا سکتا ہے۔ یتیم کو کھانا کھلانے اور اس کی خدمت کرنے پر اس لیے اجر رکھا گیا ہے کہ وہ بےسہارا ہوتا ہے اور یہی حالت مسکین کی ہوتی ہے۔ ” حضرت ابوبردہ ؓ نے اپنے والد سے نبی ﷺ کا فرمان بیان کرتے ہوئے سنا نبی ﷺ نے فرمایا : تین طرح کے افراد کو دوہرا اجر عطا کیا جائے گا ان میں سے ایک وہ ہوگا جس کے پاس لونڈی ہو اس نے اسے اچھی طرح تعلیم دی، اسے ادب سکھایا اور اچھے انداز سے اس کی تربیت کی پھر وہ اسے آزاد کردیا اور اس کے ساتھ نکاح کرلیا۔ دوسرا یہود و نصاریٰ کا وہ شخص جو اپنے دین میں پکا تھا اور بعد ازاں نبی اکرم ﷺ پر ایمان لے آیا اس کے لیے بھی دوہرا اجر ہے تیسرا وہ شخص جو غلام ہے اللہ تعالیٰ کے حقوق ادا کرتے ہوئے اپنے مالک کے کام اور خدمت میں اس کی خیرخواہی کرتا ہے۔ “ (رواہ البخاری : کتاب الجھاد والسیر، بَاب فَضْلِ مَنْ أَسْلَمَ مِنْ أَہْلِ الْکِتَابَیْنِ ) ” حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا بیوہ اور مسکین کے ساتھ تعاون کرنے والا۔ اللہ کی راہ میں مجاہد کی طرح ہے یا رات کو قیام اور دن کو روزہ رکھنے والے کی طرح ہے۔ “ (رواہ البخاری : باب فضل النفقۃ علی الأھل) ” حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے رسول اللہ ﷺ سے اپنے دل کی سختی کے بارے میں شکایت کی آپ نے فرمایا : اگر تو اپنے دل کو نرم کرنا چاہتا ہے تو مسکین کو کھانا کھلا اور یتیم کے سر پر ہاتھ پھیر۔ “ (مسند احمد : کتاب باقي مسند المکثرین، باب مسند أبی ہریرہ ) مسائل 1۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو دو آنکھیں، دوہونٹ اور زبان عطا فرمائی ہے۔ 2۔ اللہ تعالیٰ نے ہر انسان کو دو راستوں کی نشاندہی کی ہے۔ 3۔ نیکی کے کاموں میں مشکل ترین کام غلام کو آزاد کروانا، مسکین کو بھوک کے دن کھانا کھلانا اور قریبی یتیم کی کفالت کرنا ہے۔ تفسیر بالقرآن نیکی اور برائی کے راستے : 1۔ جس نے ذرہ برابر نیکی کی ہوگی وہ اس کو دیکھ لے گا۔ جس نے ذرہ برابر برائی کی ہوگی وہ بھی اس کو دیکھ لے گا۔ (الزلزال : 7 تا 8) (الانعام : 160) (القصص : 84) (یونس : 52) (النازعات : 37) (الدھر : 12) (احقاف : 20)
Ayahs 90:17–20

ثُمَّ كَانَ مِنَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ تَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ وَ تَوَاصَوْا بِالْمَرْحَمَةِؕ Open ayah 90:17 in the Quran reader

پھر لوگوں میں سے جو ایمان لائے اور جنہوں نے ایک دوسرے کو صبر اور رحم کی تلقین کی

اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ الْمَیْمَنَةِؕ Open ayah 90:18 in the Quran reader

یہ لوگ دائیں بازو والے ہیں

وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِاٰیٰتِنَا هُمْ اَصْحٰبُ الْمَشْئَمَةِؕ Open ayah 90:19 in the Quran reader

اور جنہوں نے ہماری آیات کو ماننے سے انکار کیا وہ بائیں بازو والے ہیں

عَلَیْهِمْ نَارٌ مُّؤْصَدَةٌ۠ Open ayah 90:20 in the Quran reader

ان پر آگ بند کردی جائے گی

فہم القرآن ربط کلام : مشکل ترین کاموں میں مزید مشکل ترین کام۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ مسکین کو کھانا کھلانا، رشتہ دار یتیم کی پرورش کرنا، اخلاقی لحاظ اور مالی اعتبار سے مشکل ترین کام ہیں لیکن ان کاموں سے مشکل ترین کام یہ ہے کہ انسان اپنے باطل نظریات بالخصوص کفر و شرک کو چھوڑ کر توحید و رسالت کا عقیدہ اپنائے اور اس راستے میں جو بھی مشکلات آئیں ان کا پورے حوصلے کے ساتھ مقابلہ کرتے ہوئے اپنے ساتھیوں کے حوصلوں کو بھی بلند رکھنے کی کوشش کرے اور ایک دوسرے کے ساتھ نرمی اور مہربانی کا رویہ اختیار کرے۔ دین اختیار کرنے پر مشکلات کا آنا یقینی امر ہے مشکلات پر قابو پانے کے لیے یہی دو طریقے ہیں جن پر چل کر مسلمان اپنے ایمان کو سلامت رکھ سکتا ہے۔ ایماندار شخص کو خود صبر کرنے اور دوسروں کو صبر کرنے کی تلقین کرنے کے ساتھ ایک دوسرے سے نرمی اور مہربانی بھی کرنی چاہیے۔ اس کے بغیر حق کا قافلہ اپنی منزل تک نہیں پہنچ سکتا۔ مشکلات باطل پرستوں کی طرف سے ہوں یا بیماری اور غربت کی صورت میں ہوں ایماندار کا شیوہ ہے کہ وہ خود بھی صبر کرے اور ایسے حالات میں اپنے ساتھیوں کو بھی صبر کرنے کی تلقین کرتا رہے۔ (عَنْ عَبْدِاللَّہِ بْنِ عَمْرٍو یَبْلُغُ بِہِ النَّبِیَّ ﷺ الرَّاحِمُونَ یَرْحَمُہُمُ الرَّحْمَنُ ارْحَمُوا أَہْلَ الأَرْضِ یَرْحَمْکُمْ مَنْ فِی السَّمَاءِ ) (رواہ ابو داؤد : باب فِی الرَّحْمَۃِ قال الالبانی ھٰذا حدیث صحیح) ” حضرت عبداللہ بن عمرو نبی اکرم ﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا اللہ تعالیٰ رحم کرنے والوں پر رحم کرتا ہے تم زمین والوں پر رحم کرو ! آسمان والا تم پر رحم فرمائے گا۔ (عَنْ جَرِیرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ قَالَ قَالَ رَسُول اللّٰہِ ﷺ لاَ یَرْحَمُ اللَّہُ مَنْ لاَ یَرْحَمُ النَّاسَ ) (باب قَوْلِ اللّٰہِ تَبَارَکَ وَتَعَالَی (قُلِ ادْعُوا اللَّہَ ) ” حضرت جریر بن عبداللہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اللہ اس بندے پر رحم نہیں کرتا جو لوگوں پر رحم نہیں کرتا۔ “ (عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَمْرٍو ؓ عَنِ النَّبِیِّ ﷺ قَالَ لَیْسَ الْوَاصِلُ بالْمُکَافِءِ وَلٰکِنَّ الْوَاصِلَ الَّذِیْ إِذَا انْقَطَعَتْ رَحِمُہٗ وَصَلَہَا) (رواہ الترمذی : باب مَا جَآءَ فِیْ صِلَۃِ الرَّحِم) ” حضرت عبداللہ بن عمرو ؓ نبی کریم ﷺ سے بیان کرتے ہیں۔ آپ نے فرمایا برابری کرنے والا صلہ رحم نہیں ہے، صلہ رحمی کرنے والا تو وہ ہے جس سے تعلق توڑا جائے تو وہ اسے جوڑنے کی کوشش کرے۔ “ (عَنِ ابْنِ عُمَرَ ؓ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ الْمُؤْمِنُ الَّذِيْ یُخَالِطُ النَّاسَ وَیَصْبِرُ عَلٰی أَذَاھُمْ أَعْظَمُ أَجْرًا مِّنَ الْمُؤْمِنِ الَّذِیْ لَایُخَالِطُ النَّاسَ وَلَا یَصْبِرُ عَلٰی أَذَاھُمْ ) (رواہ ابن ماجۃ : کتاب الفتن، باب الصبر علی البلاء) ” حضرت عبداللہ بن عمر ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا : جو مومن لوگوں کے ساتھ مل جل کر رہتا ہے اور ان کی طرف سے پہنچنے والی تکلیفوں پر صبر کرتا ہے وہ اس مومن سے زیادہ اجر والا ہے جو نہ لوگوں میں گھل مل کر رہتا ہے اور نہ ان کی دی ہوئی تکلیفوں پر صبر کرتا ہے۔ “ مسائل 1۔ باطل نظریات کو چھوڑنا اور حق بات کو قبول کرنا مشکل ترین کاموں میں سے اہم ترین کام ہے۔ 2۔ ایمانداروں کو ایک دوسرے کو صبر اور مہر بانی کرنے کی تلقین کرنا چاہیے۔ تفسیر بالقرآن نرمی اور مہربانی کرنے کی فضیلت : ا۔ صبر اہم کاموں میں اہم ترین کام ہے۔ (الاحقاف : 35) 2۔ نبی ﷺ کو صبر کرنے کا حکم دیا گیا۔ (المعارج : 5) 3۔ اللہ تعالیٰ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔ (البقرۃ : 153) 4۔ صبر کا انجام اچھا ہوتا ہے۔ (الحجرات : 5) 5۔ صبر کرنے والے کامیاب ہوں گے۔ (المومنون : 111) 6۔ صابر مسلمان کی آخرت اچھی ہوگی۔ (الرعد : 24) 7۔ صبر کرنے والوں کو جنت میں سلامتی کی دعائیں دی جائیں گی۔ (الفرقان : 75) 8۔ صابر بغیر حساب کے جنت میں جائیں گے۔ (الزمر : 10) 9۔ ایک دوسرے کو صبر کی تلقین کرنے کا حکم ہے۔ (آل عمران : 200) 10۔ بنی اسرائیل سے والدین کے ساتھ احسان کرنے کا عہدلیا گیا۔ (البقرۃ : 83) (مریم : 32) 11۔ لوگوں کے ساتھ اچھا برتاؤ کرنے کا حکم۔ ( البقرۃ : 83) 12۔ غیر مسلم والدین کے ساتھ بھی اچھا سلوک کرنا چاہیے۔ (لقمان : 15)