Ayahs 91:1–10فہم القرآن
ربط سورت : سورة البلد کے آخر میں یہ بتلایا کہ کفار کو دھکتی ہوئی آگ میں پھینکا جائے گا۔ الشمس میں گیارہ قسمیں اٹھانے کے بعد یہ ارشاد فرمایا ہے کہ ہم نے انسان کے دل میں نیکی اور بدی کا شعور پیدا کیا ہے۔ اب اس کی مرضی ہے کہ یہ اپنے لیے کون سا کردار اور انجام پسند کرتا ہے۔
سورۃ الشمس کا آغاز بھی بڑی بڑی چیزوں کی قسموں سے کیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس سورت کے آغاز میں گیارہ قسمیں اٹھائی ہیں۔ قرآن مجید میں یہی وہ مقام اور سورت ہے کہ جہاں ایک ہی مقام پر گیارہ قسمیں اٹھائیں گئی ہیں۔ جس بات کے لیے قسمیں اٹھائی گئی ہیں وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو ٹھیک ٹھاک بنا کر اس کے دل میں نیکی اور بدی کا القا کردیا ہے۔ نفس میں برائی اور نیکی کا القا فرما کر یہ احساس بخشا کہ اے انسان ! تجھے نیک کام کرنے اور برائی سے بچنے کی کوشش کرنا ہے اور یہ عقیدہ رکھنا ہے کہ اگر نیکی کرے گا تو اس کا اجر پائے گا اور اگر برائی کرے گا تو اس کی سزا پائے گا۔ یقیناً وہ شخص کامیاب ہوگا جس نے اپنے آپ کو فسق وفجور اور کفر و شرک سے پاک کرلیا اور وہ شخص ہر صورت ناکام ہوگا جس نے اپنے نفس کو خاک آلود کرلیا، خاک آلود کرنا ہر زبان میں ایک محاورہ ہے جس کا معنٰی گھٹیا کاموں میں ملوث ہونا اور اپنے آپ کو اخلاقی اعتبار سے گرانا ہے۔ جو شخص گھٹیا کاموں میں ملوث ہوتا ہے وہ اپنے آپ کو ذلیل کرلیتا ہے اور جو شخص اپنے آپ کو برے کاموں سے بچاتا ہے وہ معزز بن جاتا ہے اور وہی کامیاب ہوگا۔ آیت پانچ، چھ اور سات میں ” مَا “ کا لفظ استعمال ہوا ہے جس سے کچھ اہل علم کو یہ مغالطہ پیش آیا کہ ” مَا “ کا لفظ ذوالعقول کے لیے استعمال نہیں ہوتا۔ ان آیات میں ” مَا “ مصدریہ بھی ہوسکتا ہے اور ” مَا “ بمعنی ” مَنْ “ بھی ہوسکتا ہے۔ امام حسن بصری اور مجاہد (رح) کا فرمان ہے کہ ” مَا “ بمعنی ” مَنْ “ ہے۔ رہا یہ شبہ کہ ” مَا “ کا استعمال بےجان مخلوق اور غیر عاقل اشیاء کے لیے ہوتا ہے۔ یہاں ” مَا “ سے اللہ تعالیٰ کی ذات کیسے مراد لی جاسکتی ہے تو اس کا جواب یہ ہے کہ قرآن مجید میں ” مَا “ بکثرت ” مَنْ “ کے معنی میں استعمال ہوا ہے۔ مثلاً (وَلاَ اَنْتُمْ عٰبِدُوْنَ مَا اَعْبُدُ ) (الکافرون : 3) ” اور نہ تم اس کی عبادت کرنے والے ہو جس کی میں عبادت کرتا ہوں۔ “ (فَانْکِحُوْا مَا طَابَ لَکُمْ مِّنَ النِّسَآءِ ) (النساء : 3) ” پس عورتوں میں سے جو تمہیں پسند آئیں ان سے نکاح کرلو۔ “ (وَ لَا تَنْکِحُوْا مَا نَکَحَ اٰبَآؤُکُمْ مِّنَ النِّسَآءِ ) (النساء : 22) ” اور جن عورتوں سے تمہارے باپوں نے نکاح کیا ہو ان سے نکاح نہ کرو۔ “
اللہ تعالیٰ نے یہاں اپنی قدرت کی گیارہ نشانیاں بیان کرتے ہوئے ان کی قسم کھا کر ارشاد فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کے دل میں برائی اور نیکی کا القاء فرمایا ہے۔ دل میں برائی اور نیکی کے القاء کا معنٰی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہر دل میں نیکی اور برائی کے درمیان تمیز کرنے کی صلاحیت پیدا کی ہے بشرطیکہ اس کا دل روحانی طور پر زندہ ہو اگر دل گناہوں کی وجہ سے مردہ ہوجائے تو اس میں نیکی اور برائی کے درمیان فرق کرنے والی قوت بھی دب جاتی ہے جس بنا پر مجرمانہ دل رکھنے والا انسان گناہ اور برائی میں تمیز کرنے سے محروم ہوجاتا ہے تاہم پھر بھی کبھی نہ کبھی اس کا دل اس برائی سے نفرت کا اظہار ضرور کرتا ہے۔
(اَلْإِثْمُ مَا حَاکَ فِیْ صَدْرِکَ وَکَرِھْتَ أَنْ یَّطَّلِعَ عَلَیْہِ النَّاسُ ) (رواہ مسلم : باب تفسیر البر والإثم)
” گناہ وہ ہے جو تیرے دل میں کھٹکے اور لوگوں کو اس کا علم ہونا پر تجھے ناگوار گزرے۔ “
مسائل
1۔ اللہ تعالیٰ نے گیارہ قسمیں اٹھا کر ارشاد فرمایا کہ اس نے انسان کے دل میں برائی اور نیکی کے درمیان تمیز کرنے کی صلاحیت القاء فرمائی ہے۔
2۔ جس نے اپنے نفس کو گناہوں سے پاک کرلیا وہ کامیاب ہوگا اور جس نے اپنے نفس کو گناہوں سے آلودہ کرلیا وہ تباہ ہوجائے گا۔
Ayahs 91:11–15فہم القرآن
ربط کلام : نفس کو خاک آلود کردینے والے لوگوں کا انجام۔
قوم ثمود کی طرف حضرت صالح (علیہ السلام) مبعوث فرمائے گئے۔ صالح (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو وہی فرمایا جو ان سے پہلے انبیاء کرام فرمایا کرتے تھے۔ حضرت صالح (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو اللہ تعالیٰ کی نافرمانی سے ڈرایا اور بار بار سمجھایا کہ میں تمہاری طرف اللہ کا رسول ہوں، اللہ تعالیٰ نے جو امانت میرے ذمہ لگائی ہے اسے نہایت ذمّہ داری اور دیانتداری کے ساتھ تم تک پہنچا رہا ہوں اور تم میری امانت ودیانت سے واقف ہو۔ اس لیے اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور رسول ہونے کی حیثیت سے میری تابعداری کرو، میں اپنی تابعداری اور نبوت کے کام پر تم سے کسی اجر کا طلب گار نہیں ہوں، میرا صلہ میرے رب کے ذمہ ہے۔ میں تمہیں اس بات سے متنبہ کرتا ہوں کہ جس فکر وعمل کو تم اختیار کیے ہوئے ہو اس کا انجام اچھا نہیں ہوگا یہ امن اور سلامتی کا راستہ نہیں اگر تم تائب نہ ہوئے تو یاد رکھو۔ لہلہاتے ہوئے باغ، بہتے ہوئے چشمے، سبز و شاداب کھیتیاں، کھجوروں سے لدے ہوئے باغ، پہاڑوں کو تراش تراش کر بنائے ہوئے محلات تمہیں رب ذوالجلال کے عذاب سے نہیں بچا سکیں گے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ سے ڈر کر میری اطاعت کرو۔ قوم ثمود کو اصحاب الحجر بھی کہا گیا ہے۔
اصحاب الحجر سے مراد وہ قوم اور علاقہ ہے جو مدینہ سے تبوک جاتے ہوئے راستے میں پڑتا ہے یہ علاقہ جغرافیائی اعتبار سے خلیج اربعہ کے مشرق میں اور شہر مدین کے جنوب مشرق میں واقع ہے۔ قوم ثمود ٹیکنالوجی اور تعمیرات کے معاملے میں اس قدر ترقی یافتہ تھی کہ انہوں نے پہاڑوں کو تراش تراش کرمکانات اور محلات تعمیر کر رکھے تھے تاکہ کوئی زلزلہ اور طوفان انہیں نقصان نہ پہنچا سکے۔ حضرت صالح (علیہ السلام) نے قوم کو بار بار سمجھانے کی کوشش کی کہ اے میری قوم ! اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو اور اخلاقی حدود سے تجاوز نہ کرو، تم اصلاح کرنے کی بجائے زمین پر فساد کرنے والے ہو، قوم نے مثبت جواب دینے کی بجائے کہا کہ اے صالح ! تم اس طرح کی باتیں کرتے ہو جس طرح سحر زدہ لوگ کرتے ہیں۔ جس طرح ہم انسان ہیں تو بھی ہمارے جیسا انسان ہے اگر تو دعویٰ نبوت میں سچا ہے تو کوئی معجزہ ہمارے سامنے پیش کر۔ یاد رہے کہ ہمیشہ سے نافرمان لوگوں کا یہی وطیرہ رہا ہے کہ جب بھی کسی پیغمبر اور مصلح نے انھیں سمجھایا تو انھوں نے مصلح پر یہی الزام لگایا اور اعتراض کیا کہ تجھے تو جادو ہوگیا ہے اس لیے دیوانوں جیسی بات کرتا ہے۔ اس کے ساتھ منکرین کا یہ بھی اعتراض ہوتا تھا کہ نبی مافوق الفطرت ہستی کو ہونا چاہیے یہ تو ہماری طرح انسان ہیں۔ قوم ثمود نے حضرت صالح پر یہی الزام لگایا اور ان سے معجزہ کا مطالبہ کیا۔ اہل تفسیر نے لکھا ہے کہ قوم نے حضرت صالح (علیہ السلام) سے یہ معجزہ طلب کیا کہ ہمارے سامنے اس پہاڑ سے ایک اونٹنی نمودار ہو اور اس کے پیچھے اس کا دودھ پیتا بچہ بھی ہونا چاہیے۔ حضرت صالح (علیہ السلام) کی تائید میں اور قوم کے مطالبہ کے عین مطابق اللہ تعالیٰ نے ان کے سامنے ایک پہاڑ سے اونٹنی اور اس کا بچہ نمودار کیا جب اونٹنی اپنے بچہ کے ساتھ قوم کے سامنے آئی تو حضرت صالح (علیہ السلام) نے قوم کو سمجھایا کہ یہ اللہ تعالیٰ کی اونٹنی ہے ایک دن یہ پانی پیا کرے گی اور دوسرے دن تم اور تمہارے جانور پئیں گے، خبردار ! اسے تکلیف دینے کی نیت سے ہاتھ نہ لگانا اگر تم نے اس کو تکلیف پہنچائی تو اللہ تعالیٰ کا عذاب تمہیں دبوچ لے گا۔ اس انتباہ کے باوجود انھوں نے اونٹنی کی ٹانگیں کاٹ ڈالیں جس کے نتیجہ میں ان کو عذاب نے پکڑلیا اور وہ ذلیل و خوار کر دئیے گئے۔
مسائل
1۔ قوم ثمود نے اپنی سرکشی کی بنیاد پر حضرت صالح (علیہ السلام) کو جھٹلایا۔
2۔ قوم ثمود نے معجزہ کے طور پر نمودار ہونے والی اونٹنی کی کونچیں کاٹ دیں۔
3۔ اللہ تعالیٰ نے قوم ثمود پر ان کے گناہوں کی وجہ سے عذاب نازل کیا۔
4۔ اللہ تعالیٰ مجرم قوم کو تباہ کرتے ہوئے کسی سے خوف نہیں کھاتا۔
تفسیر بالقرآن
قوم ثمود کا انجام :
1۔ قوم ثمود کے بدبختوں نے اونٹنی کی ٹانگیں کاٹ دیں۔ الشمس : 14)
2۔ قوم ثمود نے حضرت صالح (علیہ السلام) سے عذاب کا مطالبہ کیا۔ (الاعراف : 77)
3۔ انھوں نے اونٹنی کی کونچیں کاٹ ڈالیں اور وہ پریشان ہونے والوں میں ہوگئے۔ (الشعراء : 157)