Ayahs 92:1–4فہم القرآن
ربط سورت : الشمس کا اختتام اس بات پر ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے فسق وفجور کرنے والوں کو کس طرح پکڑا۔ سورة الّیل کی ابتداء میں تین قسمیں کھانے کے بعد بتلایا کہ ہم نے انسان کو مذکر اور مؤنث کی صورت میں پیدا کیا ہے، جس طرح جنس کے اعتبار سے انسان مختلف ہیں اسی طرح ان کی کوششیں بھی مختلف اور انجام بھی مختلف ہوں گے۔
اس سورت کا آغاز بھی تین قسموں کے ساتھ کیا گیا ہے۔ ارشاد ہوا کہ رات کی قسم ! جب دن کی روشنی کو اپنی تاریکی میں چھپا لیتی ہے، دن کی قسم ! جب وہ رات کی تاریکی کو ختم کرنے کے بعد پوری طرح روشن ہوجاتا ہے اور اس ذات کی قسم ! جس نے نر اور مادہ یعنی مذّکر اور مؤنث پیدا کیے ہیں۔ جس طرح آپس میں رات اور دن متضاد ہیں، اس طرح جنس کے اعتبار سے مذکر اور مؤنث ایک دوسرے سے مختلف ہیں، اسی طرح ہی تمہاری سوچ اور عمل ایک دوسرے سے جداجدا ہیں۔ انسان اور اس کا عمل اللہ تعالیٰ کے ہاں اس قدر اہمیت رکھتا ہے کہ اس کے ذکر سے پہلے اللہ تعالیٰ نے تین قسمیں اٹھائیں اور پھر انسان کو یہ حقیقت باور کروائی ہے کہ اے انسان ! جس طرح رات اور دن میں فرق ہے، مذّکر اور مؤنث کے درمیان نہ ختم ہونے والی تقسیم ہے اسی طرح ہی تمہارے فکر وعمل میں فرق ہے۔ جس طرح رات اور دن اکٹھے نہیں ہوسکتے، مرد اور عورت ایک جنس نہیں بن سکتے اسی طرح ہی بری سوچ اور برا عمل، صحیح سوچ اور صالح عمل ایک نہیں ہوسکتے گویا کہ نیک اور بد برابر نہیں ہوسکتے اس بات کو یوں بھی بیان کیا گیا ہے۔
(اَمْ نَجْعَلُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ کَالْمُفْسِدِیْنَ فِی الْاَرْضِ اَمْ نَجْعَلُ الْمُتَّقِیْنَ کَالْفُجَّارِ ) (آ : 28)
” کیا ہم ان لوگوں کو جو ایمان لائے اور نیک اعمال کرتے رہے اور ان کو زمین میں فساد کرنے والوں کے برابر کردیں گے کیا متقین کے ساتھ ہم فاجروں جیسا سلوک کریں گے ؟ “
Ayahs 92:5–7فہم القرآن
ربط کلام : فکروعمل میں فرق اور نیک فکر وعمل کا دنیا میں فائدہ۔
فکرو عمل میں فرق سمجھانے کے لیے مختصر طور پر یہاں دو قسم کی سوچ اور اعمال بیان کیے گئے ہیں ایک وہ خوش قسمت ہے جس نے ” اللہ “ کے دیئے ہوئے مال کو اس کی رضا کے لیے خرچ کیا اور ہمیشہ بخل اور اپنے رب کی نافرمانی سے ڈرتا رہا اور اللہ تعالیٰ کے ارشادات اور احکام کی دل کی گہرائی، زبان کی سچائی اور صالح عمل کے ساتھ اس کی تصدیق کرتا رہا اللہ تعالیٰ اس کے لیے نیکی کرنا مزید آسان کردیتا ہے جس بنا پر اس کے لیے صدقہ اور نیکی کرنا آسان ہوجاتے ہیں اس بات کو یوں بھی بیان کیا گیا ہے۔
( الَّذِیْنَ جَاہَدُوْا فِیْنَا لَنَہْدِیَنَّہُمْ سُبُلَنَا وَ اِنَّ اللّٰہَ لَمَعَ الْمُحْسِنِیْنَ ) (العنکبوت : 69)
” جو لوگ ہمارے لیے محنت کریں گے ہم انہیں اپنے راستے دکھائیں گے، اور یقیناً اللہ نیک لوگوں کے ساتھ ہے۔ “
” جو کوئی آخرت کی کھیتی چاہتا ہے ہم اس کی کھیتی کو بڑھاتے ہیں اور جو دنیا کی کھیتی چاہتا ہے اسے دنیا میں ہی دے دیتے ہیں مگر آخرت میں اس کا کوئی حصہ نہیں ہوگا۔ “ (الشوریٰ : 20)
(عَنْ اَبِیْ ھُرَےْرَۃَ ؓ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ مَثَلُ الْبَخِےْلِ وَالْمُتَصَدِّقِ کَمَثَلِ رَجُلَےْنِ عَلَےْھِمَا جُنَّتَانِ مِنْ حَدِےْدٍ قَدِ اضْطُرَّتْ اَےْدِےْھِمَا اِلٰی ثُدِیِّھِمَا وَتَرَاقِےْھِمَا فَجَعَلَ الْمُتَصَدِّقُ کُلَّمَا تَصَدَّقَ بِصَدَقَۃٍ انْبَسَطَتْ عَنْہُ وَجَعَلَ الْبَخِیْلُ کُلَّمَا ھَمَّ بِصَدَقَۃٍ قَلَصَتْ وَاَخَذَتْ کُلُّ حَلْقَۃٍ بِمَکَانِھَا) (رواہ البخاری : باب مَثَلِ الْمُتَصَدِّقِ وَالْبَخِیلِ )
” حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول محترم ﷺ نے فرمایا : بخیل اور صدقہ کرنے والے کی مثال ان دو آدمیوں کی طرح ہے جنہوں نے زرہ پہن رکھی ہو۔ اس کے ہاتھوں کو اس کی چھاتیوں اور سینے کے ساتھ جکڑ دیا گیا ہو۔ صدقہ دینے والا جب صدقہ کرنے کا ارادہ کرتا ہے تو زرہ کشادہ ہوجاتی ہے۔ بخیل جب صدقہ کرنے کا خیال کرتا ہے تو زرہ سمٹ جاتی اور ہر کڑی اپنی اپنی جگہ پر سخت ہوجاتی ہے۔ “
Ayahs 92:8–11فہم القرآن
ربط کلام : اچھے فکر وعمل کا ذکر کرنے کے بعد منفی سوچ اور برے عمل کا بیان اور انجام۔
فہم القرآن کا مطالعہ کرنے والے اصحاب یہ حقیقت بالیقین جانتے ہیں کہ قرآن مجید میں اکثر مقامات پر نیکی اور برائی کے درمیان فرق اور ان کے انجام کا بیک مقام پر ذکر کیا جاتا ہے۔ مقصد یہ ہے کہ قرآن مجید کی تلاوت کرنے والا موقع پر فیصلہ کرپائے کہ اس نے کون سے کام اختیار کرنے ہیں اور کس راستے پر چلنا ہے۔ اسی اصول کے پیش نظر یہاں بھی قرآن مجید نے ایک ہی مقام پر مثبت فکرو عمل اور اس کے مقابلے میں منفی فکر وعمل کا ذکر اور ان کا انجام بیان کیا ہے۔ چناچہ بتلایا ہے کہ جس نے بخل اختیار کیا اور اپنے رب کے خوف سے بےخوف ہوا اور اچھی بات کو جھٹلا یا اس کے لیے اس کا رب مشکل پیدا کرے گا، ایسا شخص تباہی کے گھاٹ اترے گا تو اس کا مال اسے کوئی فائدہ نہیں دے گا، یہاں دو ایسے گناہوں کا ذکر کیا گیا ہے جس کا مرتکب انسان سچائی کو جھٹلانے میں شرم محسوس نہیں کرتا، جب کسی انسان کے دل میں بخل بھر جائے تو بالیقین اس کا دل سخت ہوجاتا ہے۔ اسے کسی پر ترس نہیں آتا جسے کسی پر ترس نہ آئے اور اس کا دل سخت ہوجائے وہ اپنے رب کی ذات اور بات کی پرواہ نہیں کرتا اس کے سامنے سچ بات پیش کی جائے تو وہ زبان سے اقرار بھی کرتا ہے لیکن اس کا دل سچائی کو ماننے کے لیے تیار نہیں ہوتا جس کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ اس کے لیے نیکی کے کام کرنا مشکل بنا دیتا ہے۔ جس وجہ سے وہ صدقہ کرنے کو بوجھ سمجھتا ہے اور نماز پڑھنا اس کی طبیعت پر گراں گزرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ جب ایسے شخص کی گرفت کرتا ہے تو اس کا مال اس کے کچھ کام نہیں آتا، نہ صرف دنیا میں اس کا مال اس کے کام نہیں آتا بلکہ قیامت کے دن یہ مال اس کے لیے جہنم کا ایندھن بنا دیا جائے گا۔ الحسنٰی کا معنٰی مفسرین نے اللہ کی توحید اور دین کیا ہے جس نے اس سے منہ موڑ لیا وہ دنیا میں خوشحالی پانے کے باوجود دل کی تنگی اور پریشانیوں سے بےقرار رہے گا۔
” اور جو میرے ذکر سے منہ موڑے گا اس کے لیے دنیا کی گزران تنگ ہوگی اور قیامت کے دن ہم اسے اندھا اٹھائیں گے۔ وہ کہے گا پروردگار میں دنیا میں دیکھتا تھا اب مجھے اندھا کیوں اٹھایا گیا ہے ؟ اللہ تعالیٰ فرمائے گا اس لیے کہ جب ہماری آیات تیرے پاس آئیں تو نے انہیں بھلا دیا تھا۔ (طٰہٰ : 124 تا 126)
(عَنْ أَبِيْ ھُرَیْرَۃَ ؓ أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ قَالَ مَامِنْ یَوْمٍ یُّصْبِحُ الْعِبَادُ فِیْہِ إِلَّا مَلَکَانِ یَنْزِلَانِ فَیَقُوْلُ أَحَدُھُمَا اَللّٰھُمَّ أَعْطِ مُنْفِقًا خَلَفًا وَیَقُوْلُ الْآخَرُ اللّٰھُمَّ أَعْطِ مُمْسِکًا تَلَفًا)
(رواہ البخاری : باب قول اللّٰہِ تعالیٰ فأما من أعطی واتقی وصدق بالحسنیٰ )
” حضرت ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں نبی کریم ﷺ نے فرمایا : ہر صبح دو فرشتے اترتے ہیں ان میں سے ایک آواز دیتا ہے اے اللہ ! خرچ کرنے والے کو اور عطا فرما، دوسرا آواز لگاتا ہے اے اللہ ! نہ خرچ کرنے والے کا مال ختم کردے۔ “
” ابوذر ؓ بیان کرتے ہیں کہ میں ایک رات نکلا اور دیکھا کہ رسول اللہ ﷺ اکیلے جا رہے تھے آپ کے ساتھ کوئی نہیں تھا، میں نے سمجھا کہ آپ نے کسی کو اپنے ساتھ لے جانا پسند نہیں فرمایا۔ میں نے چاندنی رات میں آپ کے پیچھے پیچھے چلنا شروع کردیا۔ آپ نے موڑ کر دیکھا تو فرمایا : کون ہے ؟ میں نے کہا ابو ذر ! آپ ﷺ نے فرمایا : آؤ میرے ساتھ چلو ! میں تھوڑی دیر آپ کے ساتھ چلتا رہا آپ ﷺ نے فرمایا کہ دنیا میں زیادہ مال رکھنے والے قیامت کے دن کم مرتبے والے ہوں گے سوائے اس کے جس پر اللہ تعالیٰ نے اپنا فضل فرمایا۔ اس نے اپنے دائیں بائیں اور آگے پیچھے خرچ کیا۔ “
( رواہ البخاری : باب الْمُکْثِرُونَ ہُمُ الْمُقِلُّونَ )
مسائل
1۔ جس نے بخل کیا اور نیکی سے لاپرواہی کی وہ مارا جائے گا۔
2۔ جس نے الحسنیٰ کی تکذیب کی اللہ تعالیٰ اس کے لیے تنگی پیدا کردے گا ایسے شخص کو اس کا مال کوئی فائدہ نہیں دے گا۔
تفسیر بالقرآن
بخل کرنے اور نیکی کی تکذیب کرنے والے کا انجام :
1۔ خزانے جمع کرنے والوں کو عذاب کی خوشخبری دیں۔ (التوبہ : 34) 2۔ بخیل اپنا مال ہمیشہ باقی نہیں رکھ سکتا۔ (ھمزہ : 3)
3۔ تباہی اس کے لیے جس نے مال جمع کیا اور گن گن کر رکھا۔ (الہمزہ : 1)
4۔ بخیل کے مال کے ذریعے ہی اسے سزادی جائے گی۔ (التوبہ : 35)
5۔ بخیل لوگ مال کو اپنے لیے خیر خیال کرتے ہیں حالانکہ وہ ان کے لیے برا ہے۔ (آل عمران : 180)
Ayahs 92:12–16فہم القرآن
ربط کلام : بخل سے بچانا اور الحسنٰی کی راہنمائی کرنا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے تاہم اس نے نیکی اور برائی کی راہ دکھلا کر لوگوں کو اختیار دیا ہے کہ وہ نیکی کرتے ہیں یا برائی کی طرف جاتے ہیں۔
قرآن مجید میں کئی مقامات پر ہدایت اور گمراہی، نیکی اور برائی کی نشاندہی کرنے کے بعد ارشاد ہوا ہے کہ ہمارا کام نیکی اور ربرائی کی نشاندہی کرنا ہے۔ اب انسان کا اپنا اختیار ہے کہ وہ ان میں سے کس کو اختیار کرتا ہے اگر وہ نیکی اختیار کرے گا تو ہم اس کے لیے نیکی کرنا آسان کردیں گے اگر وہ برائی پسند کرتا ہے تو ہم اسے کھلا چھوڑ دیں گے، ہمارا کام ہدایت اور گمراہی کو واضح کرنا ہے۔ ہدایت اور گمراہی واضح ہونے کے بعد لوگوں پر فرض ہے کہ وہ اپنے ” رب “ کے حکم کو مانیں اور یقین رکھیں کہ ہم ہی آخرت اور دنیا کے مالک ہیں۔ بُرائی کا انجام بھڑکتی ہوئی آگ ہے، ہم نے تمہیں بھڑکتی ہوئی آگ سے آگاہ کردیا ہے۔ اس میں وہی جائے گا جو انتہائی بدبخت ہوگا جو سچائی کو جھٹلانے والا اور اس سے منہ پھیرنے والا ہے۔ جہنم میں ہر وہ شخص جائے گا جس نے کفر و شرک کیا اور وہ شخص بھی جہنم میں پھینکا جائے گا جو ایمان لانے کے باوجود بڑے گناہوں کا مرتکب ہوا ان گناہوں کی نشاندہی قرآن مجید اور حدیث پاک میں کردی گئی ہے۔ فرق یہ ہے کہ جس نے کفر و شرک کیا وہ ہمیشہ ہمیش جہنم میں جلتا رہے گا اور جس نے توحید و سنت کا اقرار کرنے کے باوجود کبیرہ گناہوں کا ارتکاب کیا اور توبہ کے بغیر چل بسا وہ اپنے گناہوں کی سزا پانے کے بعد جنت میں داخل کیا جائے گا۔
(اِِنَّہَا تَرْمِی بِشَرَرٍ کَالْقَصْرِ ) (المرسلات : 32)
” وہ آگ کے بڑے بڑے محلات کی مانند انگارے پھینکے گی۔ “
(بَلٰی مَنْ کَسَبَ سَیِّءَۃً وَّ اَحَاطَتْ بِہٖ خَطِیْءَتُہٗ فَاُولٰٓءِکَ اَصْحٰبُ النَّارِہُمْ فِیْہَا خٰلِدُوْنَ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوْا الصّٰلِحٰتِ اُولٰٓءِکَ اَصْحٰبُ الْجَنَّۃِ ہُمْ فِیْہَا خٰلِدُوْن) (البقرۃ : 81، 82)
” کیوں نہیں جس نے برے کام کیے اور اس کے برے کاموں نے اسے گھیر لیا پس یہی لوگ آگ والے ہیں وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے، جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے نیک عمل کیے وہ جنتی ہیں اور وہ جنت میں ہمیشہ رہیں گے۔ “
(عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ عَنْ رَسُول اللَّہِ ﷺ أَنَّہُ قَالَ وَالَّذِی نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِیَدِہِ لاَ یَسْمَعُ بِی أَحَدٌ مِنْ ہَذِہِ الأُمَّۃِ یَہُودِیٌّ وَلاَ نَصْرَانِیٌّ ثُمَّ یَمُوتُ وَلَمْ یُؤْمِنْ بالَّذِی أُرْسِلْتُ بِہِ إِلاَّ کَانَ مِنْ أَصْحَاب النَّارِ ) (رواہ مسلم : باب وُجُوبِ الإِیمَانِ بِرِسَالَۃِ نَبِیِّنَا مُحَمَّدٍ ﷺ
” حضرت ابوہریرہ ؓ رسول اللہ ﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا قسم ہے مجھے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے یہودیوں اور عیسائیوں میں سے جس شخص تک میرا پیغام پہنچ جائے اور پھر وہ اسی حالت میں مرجائے اور مجھ پر ایمان نہ لائے وہ جنت میں داخل ہوگا۔ “
(عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَمْرٍو ؓ عَنِ النَّبِیِّ ﷺ قَالَ الْکَبَاءِرُ الإِشْرَاک باللَّہِ ، وَعُقُوقُ الْوَالِدَیْنِ ، وَقَتْلُ النَّفْسِ ، وَالْیَمِینُ الْغَمُوسُ ) (رواہ البخاری : باب الْیَمِینِ الْغَمُوسِ )
” حضرت عبداللہ بن عمرو ؓ نبی ﷺ سے بیان کرتے ہیں آپ نے فرمایا : اللہ کے ساتھ شرک کرنا، والدین کی نافرمانی کرنا، کسی کو ناحق قتل کرنا اور جھوٹی قسم اٹھانا کبیرہ گناہوں میں سے ہیں۔ “
مسائل
1۔ اللہ تعالیٰ نے لوگوں کو نیکی اور برائی سے آگاہ کرنا اپنے ذمہ لیا ہے۔
2۔ اللہ تعالیٰ ہی دنیا اور آخرت کا حقیقی مالک ہے۔ 3۔ اللہ تعالیٰ نے لوگوں کو جہنم کی آگ سے آگاہ فرمادیا ہے۔
4۔ جہنم میں وہی شخص جائے گا جو حقیقت کو جھٹلانے والا اور پرلے درجے کا بدبخت ہے۔
تفسیر بالقرآن
جہنم کی آگ کا ایک منظر :
1۔ جہنم کے شعلے بڑے بڑے محلات کے برابر ہوں گے۔ ( المرسلٰت : 32)
2۔ جہنم کا ایندھن لوگ اور پتھر ہوں گے۔ (البقرۃ : 24) 3۔ جہنم کی آگ بہت زیادہ تیز ہوگی۔ (التوبہ : 81)
4۔ مجرم لوگ جہنم کے گرجنے برسنے کی آوازیں سنیں گے۔ (الفرقان : 12) 5۔ جہنم بھرنے کا نام نہیں لے گی۔ (ق : 30)
6۔ جہنم کا ایندھن لوگ اور پتھر ہوں گے اور اس پر سخت گیر فرشتوں کی ڈیوٹی لگائی گئی ہے۔ (التحریم : 6)
7۔ مجرموں کو جب جہنم میں ڈالا جائے گا تو وہ اس کی گرج دار آواز سنیں گے۔ (الملک : 7)
Ayahs 92:17–21فہم القرآن
ربط کلام : بدبخت شخص کے مقابلے میں نیک بخت کا کردار اور اس کا انعام۔
جہنم سے ہر وہ شخص دور رکھا جائے گا جس نے کفر و شرک سے توبہ کی اور اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی سے بچتا رہا اور اس نے اپنے مال کو پاک کرنے اور اپنے آپ کو بخل سے بچانے کے لیے صدقہ کیا۔ وہ کسی پر صدقہ اس لیے نہیں کرتا کہ اس نے اس کے احسان کا بدلہ چکانا ہے۔ کسی کے احسان کا بدلہ احسان کے ساتھ دینا نہایت ہی بہتر عمل ہے لیکن بہترین صدقہ یہ ہے کہ جس پر وہ خرچ کررہا ہے اس میں اللہ تعالیٰ کی رضا کے سوا کسی قسم کا مفاد نہ پایا جائے۔ اسی بات کو سورة الدّھر میں یوں بیان کیا گیا ہے۔
” اور اللہ کی محبت میں مسکین اور یتیم اور قیدی کو کھانا کھلاتے ہیں اور دل میں کہتے ہیں کہ ہم تمہیں صرف اللہ کی خاطر کھلا رہے ہیں ہم تم سے نہ کوئی بدلہ چاہتے ہیں نہ شکریہ۔ “ (الدھر : 8، 9)
ایسے شخص کو اللہ تعالیٰ بہت جلد راضی کردے گا، راضی کرنے کی کئی صورتیں ہیں۔ 1 ۔ اس کا دل اپنے کام پر خوش ہوگا۔ 2 ۔ لوگوں میں اس کا احترام بڑھے گا۔ 3 ۔ اس کے مال میں برکت ہوگی۔ 4 ۔ آخرت میں اسے عظیم اجر دیا جائے گا۔ مفسرین نے ان آیات کا سب سے پہلا مصداق حضرت ابوبکر صدیق ؓ کو قرار دیا ہے جن کے متعلق مشہور مؤرخ ابن عساکر اور ابن جریر نے لکھا ہے کہ حضرت ابوبکر صدیق ؓ کا مکہ میں یہ کام تھا کہ اسلام قبول کرنے کی وجہ سے جس غلام یا لونڈی پر ظلم کیا جاتا۔ حضرت ابوبکر صدیق ؓ کسی نہ کسی قیمت میں اسے خرید لیتے اور پھر اللہ کی رضا کی خاطر آزاد کردیتے۔ ان کے والد ابوقحافہ نے ایک دن کہا کہ بیٹا تم ایسے لوگوں کو خرید کر آزاد کرتے ہو جو مشکل وقت میں تیرے کام آنے والے نہیں ان کی بجائے ان لوگوں پر مال خرچ کیا کرو جو مشکل وقت میں آپ کے کام آئیں۔ حضرت ابوبکر صدیق ؓ اپنے باپ سے عرض کرتے ہیں کہ ” اَیْ اَبِ اِنَّمَا اُرِیْدُ مَا عِنْدَاللّٰہِ “ ” اے باپ میں تو ” اللہ “ کے لیے ایسا کرتا ہوں۔
(عَنْ أَبِيْ ھُرَیْرَۃَ ؓ قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَی النَّبِیِّ ﷺ فَقَالَ یَارَسُوْلَ اللّٰہِ أَیُّ الصَّدَقَۃِ أَعْظَمُ أَجْرًا قَالَ أَنْ تَصَدَّقَ وَأَنْتَ صَحِیْحٌ شَحِیْحٌ تَخْشَی الْفَقْرَ وَتَأْمَلُ الْغِنٰی وَلَاتُمْھِلُ حَتّٰی إِذَابَلَغَتِ الْحُلْقُوْمَ قُلْتَ لِفُلَانٍ کَذَا وَلِفُلَانٍ کَذَا وَقَدْ کَانَ لِفُلَانٍ )
(رواہ البخاری : کتاب الزکاۃ، باب فضل صدقۃ الشیخ الصحیح)
” حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ایک آدمی نبی ﷺ کے پاس آکر پوچھتا ہے کہ کونسا صدقہ زیادہ اجر کا باعث ہے ؟ فرمایا جب تو تندرست اور مال کی خواہش رکھتا ہو محتاجی کے خوف اور مالدار بننے کی خواہش کے باوجود صدقہ کرے۔ اتنی دیر نہ کر کہ جان حلق تک آپہنچے اس وقت تو کہے کہ اتنا فلاں کو دو اور اتنا فلاں کو دو ۔ حالانکہ اب تو سارا مال ہی فلاں فلاں کا ہوچکا۔ “
(عَنْ أَبِيْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ مَنْ تَصَدَّقَ بِعَدْلِ تَمْرَۃٍمِنْ کَسْبٍ طَیِّبٍ وَلَا یَقْبَلُ اللّٰہُ إِلَّا الطَّیِّبَ وَإِنَّ اللّٰہَ یَتَقَبَّلُھَا بَیَمِیْنِہٖ ثُمَّ یُرَبِّیْھَا لِصَاحِبِہٖ کَمَا یُرَبِّيْ أَحَدُکُمْ فَلُوَّہٗ حَتّٰی تَکُوْنَ مِثْلَ الْجَبَلِ ) (رواہ البخاری : کتاب الزکاۃ، باب الصدقۃ من کسب طیب)
” حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جس نے پاکیزہ کمائی سے ایک کھجور کے برابر صدقہ کیا۔ اللہ تعالیٰ صرف پاکیزہ چیز ہی قبول فرماتا ہے۔ اللہ تعالیٰ یقیناً اسے اپنے دائیں ہاتھ میں لیتے ہیں پھر اس کو صدقہ کرنے والے کے لیے بڑھاتے رہتے ہیں جس طرح تم میں سے کوئی اپنے بچھڑے کی پرورش کرتا ہے یہاں تک کہ آدمی کا کیا ہوا صدقہ پہاڑ کی مانند ہوجاتا ہے۔ “
مسائل
1۔ انسان کو صرف اللہ کی رضا کے لیے صدقہ کرنا چاہیے۔
2۔ جو مسلمان ” اللہ “ کی رضا کے لیے صدقہ کرے گا اللہ تعالیٰ اسے خوش وخرم فرما دیں گے۔
تفسیر بالقرآن
” اللہ “ کی رضا کے لیے صدقہ کرنے کے فوائد :
1۔ صدقہ کرنا ” اللہ “ کو قرض دینا ہے۔ (الحدید : 11) 2۔ اللہ تعالیٰ صدقہ کو دگنا تگنا کرکے واپس کرے گا۔ (التغابن : 17)
3۔ اللہ تعالیٰ صدقہ کرنے والوں کو جزا دیتا ہے۔ (یوسف : 88) 4۔ مومن اللہ کی رضا کے لیے خرچ کرتا ہے۔ ( التوبہ : 99)
5۔ ” اللہ “ سات سو گنا تک بڑھا دیتا ہے۔ (البقرۃ : 261) 6۔” اللہ “ کے ہاں اضافے کی کوئی حد نہیں ہے۔ (البقرۃ : 261)