93. Surah Ad-Dhuhaa

الضحىThe Morning Hours · 11 ayahsفہم القرآن

تعارف

تعارف

سورة الضّحٰی کا تعارف اس سورت کا نام اس کے پہلے لفظ پر رکھا گیا ہے یہ ایک رکوع اور گیارہ آیات پر مشتمل ہے یہ سورت مکہ میں اس وقت نازل ہوئی جب نبوت کے ابتدائی دور میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تربیت کی خاطر کچھ دیر کے لیے سلسلہ وحی موقوف کیا گیا۔ اس پر اہل مکہ نے پراپیگنڈا کیا کہ اس کا نبوت کا دعویٰ جھوٹا تھا اس لیے اس کے رب نے اسے چھوڑ دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس پراپیگنڈے کی تردید کے لیے تین قسمیں اٹھا کر آپ کو تسلی دی کہ آپ کی زندگی کا ہر آنے والا دور پہلے دور سے بہتر ہوگا اور اللہ تعالیٰ آپ کو اس قدر عنایت فرمائے گا کہ آپ اپنے رب پر راضی ہوجائیں گے۔ اس خوشخبری کی تائید میں آپ کے ماضی کے تین ادوار کا حوالہ دے کر تلقین فرمائی کہ آپ کو اپنے رب کی نعمت کا اعتراف اور شکر ادا کرتے رہنا چاہیے۔

Ayahs 93:1–5

وَ الضُّحٰىۙ Open ayah 93:1 in the Quran reader

قسم ہے روشن دن کی

وَ الَّیْلِ اِذَا سَجٰىۙ Open ayah 93:2 in the Quran reader

اور رات کی جب وہ چھا جائے

مَا وَدَّعَكَ رَبُّكَ وَ مَا قَلٰىؕ Open ayah 93:3 in the Quran reader

اے نبی آپ کے رب نے آپ کو نا چھوڑا ہے اور نہ وہ آپ پر ناراض ہوا

وَ لَلْاٰخِرَةُ خَیْرٌ لَّكَ مِنَ الْاُوْلٰىؕ Open ayah 93:4 in the Quran reader

اور یقیناً آپ کی آخرت دنیا سے بہتر ہے

وَ لَسَوْفَ یُعْطِیْكَ رَبُّكَ فَتَرْضٰىؕ Open ayah 93:5 in the Quran reader

اور عنقریب آپ کا رب آپ کو اتنا دے گا کہ آپ خوش ہوجائیں گے

فہم القرآن ربط سورت : سورة الّیل کے آخر میں نیک لوگوں کے بہتر انجام کا ذکر فرمایا اور سورة الضّحٰی میں تین قسمیں کھانے کے بعد نبی ﷺ کی ذات کے حوالے سے بتلایا ہے کہ آپ کی زندگی کا آنے والا دور پہلے دور سے بہتر ہوگا مقصد یہ ہے جو شخص نیک کام کرے گا اللہ تعالیٰ اس کی دنیا اور آخرت بہتر کردیں گے۔ الضّحٰی کا معنٰی ہے روشن دن اور سجٰی رات کے اس وقت کو کہتے ہیں جب رات اپنی تاریکی اور سکون کے ساتھ ہر چیز پر چھا جاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان اوقات کی قسمیں اٹھا کر اس بات کی وضاحت فرمائی ہے کہ آپ ﷺ کے رب نے آپ کو نہ چھوڑا ہے اور نہ آپ پر ناراض ہوا ہے، چھوڑنا اور ناراض ہونا تو درکنار اس نے آپ کی زندگی کا ہر آنے و الا دور پہلے دور سے بہتر بنا دیا ہے۔ اس آیت کا شان نزول یہ ہے کہ نبوت کے ابتدائی ایام میں وحی کا سلسلہ کچھ دیر کے لیے موقوف کردیا گیا۔ اس مدّت کے بارے میں مفسرین اور محدثین کی مختلف آراء ہیں۔ اکثریت کی رائے کے مطابق زیادہ سے زیادہ مدت چالیس دن کی بتائی گئی ہے۔ اس دوران ایک طرف نبی کریم ﷺ اللہ تعالیٰ کی محبت اور وحی کی لذّت کے بارے میں فکر مند تھے اور دوسری طرف آپ کے مخالفوں نے یہ کہہ کر آپ کی پریشانی میں اضافہ کیا کہ اس کا رب اس پر ناراض ہوگیا ہے۔ ابولہب کی بیوی نے آپ کے پاس جاکر اس حد تک زبان درازی کی کہ اے محمد ﷺ ! تجھ پر جو شیطان آتا تھا اس نے تجھے چھوڑ دیا ہے۔ جب آپ ﷺ کا غم حد سے بڑھنے لگا تو اللہ تعالیٰ نے الضحی نازل فرمائی جس میں روشن دن اور رات کی پُر سکون گھڑیوں کی قسمیں اٹھا کر تسلی دی گئی ہے کہ آپ کا رب نہ آپ پر ناراض ہوا ہے اور نہ ہی اس نے آپ سے قطع تعلق کیا ہے۔ ” وَالضُّحیٰ “ اور ” سَجٰی “ کی قسمیں اٹھا کر یہ اشارہ کیا ہے کہ جس طرح رات اور دن کا آنا جانا معمول کی بات ہے اسی طرح وحی کا آنا اور اس کے درمیان وقفہ ہونا معمول کی کارروائی ہے۔ ان قسموں میں یہ سبق بھی موجود ہے کہ جس طرح رات اور دن ایک دوسرے کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں اسی طرح خوشی اور غم، آسانی اور مشکل ایک دوسرے کے ساتھ لگے ہوئے ہیں۔ جس طرح رات اور دن تبدیل ہوتے رہتے ہیں اسی طرح خوشیاں اور پریشانیاں بھی آتی جاتی ہیں لہٰذا آپ کو پریشان نہیں ہونا چاہیے بلکہ آپ کو یقین ہونا چاہیے کہ پہلے دور سے آنے والا دور آپ کے لیے بہتر ہوگا اور دنیا سے آخرت بہت ہی بہتر ہوگی۔ رب کریم کی دی ہوئی تسلی اور گارنٹی کا نتیجہ ہے کہ آپ کو یتیمی کے دور میں بہتر سے بہترکفیل عطا ہوئے، جوان ہوئے تو اللہ تعالیٰ نے آپ کو ایسی رفیقہ حیات نصیب فرمائی کہ جس نے تن، من، دھن آپ کے لیے وقف کردیا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ نبوت کے ابتدائی دور اور بعد میں آپ کو بڑی سے بڑی آزمائشوں اور پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑا لیکن اللہ تعالیٰ نے ہر غم اور مشکل کے بعد آپ ﷺ کو ایسی آسانی اور خوشی عطا فرمائی جو کسی انسان کے نصیب میں نہیں آئی۔ مکہ میں دشمنوں کے مقابلے میں جانثار ساتھی ملے، رات کے وقت ہجرت کے لیے نکلے تو صرف ابوبکر ؓ آپ کے ساتھ تھے مگر جب آٹھ سال کے بعد مکہ میں داخل ہوئے تو دس ہزار جانثار مجاہد آپ کے ہم رقاب تھے۔ جونہی بیت اللہ میں قدم رکھا تو آپ ﷺ اور آپ کے ساتھیوں کی جان کے دشمن آپ کے سامنے سرجھکا کر معذرت پر معذرت کررہے تھے۔ جب دنیا سے رخصت ہوئے تو دس لاکھ مربع میل کی مملکت پر توحید کا پرچم لہرا رہا تھا، روم اور فارس کی حکومتیں آپ سے لرزا براندم تھیں۔ یاد رہے کہ تفسیر عزیز کے مصنف نے الضحیٰ سے مراد نبی ﷺ کی زلفیں لی ہیں اور اسی کو واعظ بیان کرتے ہیں حالانکہ یہ من گھڑت بات ہے۔ جس کا کسی ضعیف روایت سے بھی ثبوت نہیں ملتا۔ (أَنَا سَیِّدُ وُلْدِ آدَمَ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ وَلَا فَخْرَ وَبِیَدِيْ لِوَاءُ الْحَمْدِ وَلَا فَخْرَ وَمَا مِنْ نَبِيٍّ یَوْمَءِذٍ آدَمُ فَمَنْ سِوَاہُ إِلَّا تَحْتَ لِوَاءِيْ وَأَنَا أَوَّلُ مَنْ تَنْشَقُّ عَنْہُ الْأَرْضُ وَلَا فَخْرَ ) (رواہ الترمذی : کتاب المناقب ) ” میں قیامت کے دن آدم کی ساری اولاد کا سردار ہوں گا مگر اس اعزاز پر فخر نہیں کرتا اور میرے ہاتھ میں حمد کا جھنڈا ہوگا اس پر میں اتراتا نہیں اور قیامت کے دن آدم (علیہ السلام) سمیت تمام نبی میرے جھنڈے کے نیچے ہوں گے اور میں قیامت کے دن سب سے پہلے اپنی قبر سے اٹھوں گا اور مجھے اس پر کوئی فخر نہیں۔ “ مسائل 1۔ اللہ تعالیٰ نے ہر وقت نبی ﷺ کی دستگیری فرمائی۔ 2۔ آپ ﷺ کی زندگی کا ہر دور پہلے دور سے بہتر تھا۔ 3۔ نبی ﷺ کی آخرت تمام انسانوں کی آخرت سے بہتر ہوگی۔
Ayahs 93:6–8

اَلَمْ یَجِدْكَ یَتِیْمًا فَاٰوٰى۪ Open ayah 93:6 in the Quran reader

کیا اس نے آپ کو یتیم نہیں پایا اور پھر ٹھکانا دیا ؟

وَ وَجَدَكَ ضَآلًّا فَهَدٰى۪ Open ayah 93:7 in the Quran reader

اور آپ کو ناواقف راہ پایا اور پھر راہنمائی فرمائی

وَ وَجَدَكَ عَآئِلًا فَاَغْنٰىؕ Open ayah 93:8 in the Quran reader

اور آپ کو تنگ دست پایا اور غنی کردیا

فہم القرآن ربط کلام : چوتھی اور پانچویں آیت میں نبی ﷺ کو یہ خوشخبری دی گئی کہ آپ کا مستقبل آپ کے ماضی اور حال سے بہت ہی اعلیٰ اور بہترین ہوگا۔ اس کے لیے آپ کے ماضی کے تین حوالے دیئے گئے ہیں۔ آپ ﷺ یتیم تھے ” اللہ “ نے آپ کو بہترین ٹھکانہ دیا۔ آپ ﷺ ہدایت کے بارے میں بیخبر تھے اس نے آپ کی راہنمائی فرمائی اور آپ کو پوری دنیا کا راہنما بنا دیا آپ ﷺ غریب تھے اس نے آپ کو غنی فرما دیا۔ اس انسان کی بےبسی اور لاچارگی کی انتہا ہوتی ہے جو پیدائش کے وقت یتیم ہونے کے ساتھ انتہائی غریب ہو اور اس کی راہنمائی کرنے والا بھی کوئی نہ ہو، ایسے بچے کا معاشرے میں اعلیٰ مقام پانا تو درکنار وہ در در کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہوتا ہے۔ حضرت محمد ﷺ اپنی ابتدائی زندگی میں انہی مسائل اور مصائب سے دوچار ہوئے لیکن خالق کائنات نے آپ ﷺ کو اپنے پیغام اور لوگوں کی راہنمائی کے لیے منتخب فرما لیا تھا۔ اس لیے آپ کے رب نے کسی مرحلے پر آپ کو غیروں کے سہارے پر نہیں چھوڑا۔ پیدا ہوئے تو آپ کا دادا سردار عبدالمطلب موجود تھا جس نے آپ کی اس طرح پرورش کی جس طرح کوئی دوسرا نہیں کرسکتا، سردارعبد المطلب دنیا سے رخصت ہوئے تو آپ کے چچا جناب ابوطالب نے زندگی بھر آپ کا ساتھ دیا کہ آپ کو یتیمی کا احساس نہیں ہونے دیا، جوانی میں قدم رکھا تو اللہ تعالیٰ نے آپ کو ایسی رفیقہ حیات عطا فرمائی جس نے سب کچھ آپ کے قدموں پر نچھاور کردیا، چالیس سال کے ہوئے تو اللہ تعالیٰ نے آپ کو ختم نبوت کے تاج سے سرفراز فرمایا اور پوری دنیا کا رہبر و راہنما بنایا اور آپ کو پہلے دن سے ایسے جانثار ساتھی عطا کیے کہ جنہوں نے اپنی جان سے آپ کو عزیز جانا۔ میدان جہاد میں قدم رکھا تو قدم پر قدم دشمن پر غالب آئے۔ انہی انعامات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ کیا آپ ﷺ نہیں جانتے کہ آپ یتیم تھے، ہم نے آپ کی سرپرستی کا بہترین انتظام کیا، آپ وسائل کے اعتبار سے کمزور تھے، ہم نے آپ کو وسائل سے مستغنی کردیا۔ آپ اپنے رب کی ہدایت سے بیخبر تھے، ہم نے آپ کو اقوام عالم کا راہنما بنا دیا۔ قرآن مجید نے اس موقع پر آپ ﷺ کے لیے ” ضَآلًّا “ کا لفظ استعمال کیا ہے جس کا یہ معنٰی نہیں کہ آپ نبوت سے پہلے کسی برائی اور گمراہی میں مبتلا تھے۔ اس کا حقیقی معنٰی ہے کہ نبوت سے پہلے آپ کو علم نہیں تھا کہ آپ کیسے زندگی بسر کریں اور کس طرح لوگوں کی راہنمائی فرمائیں۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو اپنی رحمت کے ساتھ مختص کرلیا جس بنا پر آپ کا ہر فرمان اور آپ کی زندگی کا ہر پہلو لوگوں کے لیے راہنما اصول ٹھہرا۔ یہاں تک کہ کسی موقع پر بتقاضا بشریت آپ سے بھول ہوگئی تو اللہ تعالیٰ نے اسے بھی آپ کی امت کے لیے نمونہ اور اصول قرار دیا۔ (وَکَذٰلِکَ اَوْحَیْنَا اِِلَیْکَ رُوحًا مِنْ اَمْرِنَا مَا کُنْتَ تَدْرِی مَا الْکِتٰبُ وَلاَ الْاِِیْمَانُ وَلٰکِنْ جَعَلْنَاہُ نُوْرًا نَہْدِیْ بِہٖ مَنْ نَّشَاءُ مِنْ عِبَادِنَا وَاِِنَّکَ لَتَہْدِیْ اِِلٰی صِرَاطٍ مُسْتَقِیْمٍ ) (الشوریٰ : 52) ” اے نبی اسی طرح ہم نے اپنے حکم سے ایک روح آپ کی طرف وحی کی ہے آپ نہیں جانتے تھے کہ کتاب کیا ہے اور ایمان کیا ہوتا ہے۔ ہم نے اس روح کو ایک روشنی بنا دیا ہم اپنے بندوں میں سے جسے چاہتے ہیں راہ دکھاتے ہیں۔ یقیناً آپ سیدھے راستے کی طرف رہنمائی کرنے والے ہیں۔ “ ” اور اگر اللہ تعالیٰ کا فضل اور اس کی رحمت تمہارے شامل حال نہ ہوتی تو ان کی ایک جماعت نے تمہیں بہکانے کا ارادہ کر ہی لیا تھا۔ اور وہ نہیں گمراہ کرتے مگر اپنے آپ ہی کو اور یہ تمہارا کچھ بھی بگاڑ نہیں سکتے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ پر کتاب و حکمت اتاری اور تمہیں وہ سکھایا ہے جسے تم نہیں جانتے تھے۔ اور اللہ تعالیٰ کا تم پر بڑا فضل ہے۔ “ (النساء : 113) مسائل 1۔ اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ کو یتیمی میں بہترین سرپرست عطا فرمائے۔ 2۔ اللہ تعالیٰ نے نہ صرف آپ کی راہنمائی فرمائی بلکہ آپ کو رہتی دنیا تک اقوام عالم کا رسول اور راہنما بنا دیا۔ 3۔ آپ ﷺ بچپن میں غریب تھے اللہ تعالیٰ نے آپ کو مستغنی کردیا۔ تفسیر بالقرآن نبی ﷺ پر ” اللہ “ کے انعامات کی ایک جھلک : 1۔ آپ ﷺ کو پوری دنیا کے لیے نبی بنا کر بھیجا گیا۔ (الاعراف : 158) 2۔ نبی ﷺ کو رحمۃ للعالمین بنا کر بھیجا گیا۔ (الانبیاء : 107) 3۔ نبی ﷺ کو خاتم النبیین بنایا گیا ہے۔ (الاحزاب : 40) 4۔ آپ کو پوری دنیا کے لیے داعی، بشیر اور نذیر بنا کر مبعوث کیا گیا ہے۔ (الاحزاب : 45۔ 46) 5۔ نبی کریم ﷺ کو تمام انسانوں کے لیے رؤف، رحیم بنایا گیا۔ (التوبہ : 128) 6۔ آپ ﷺ کی بعثت مومنوں پر اللہ تعالیٰ کا احسان عظیم ہے۔ (آل عمران : 164)
Ayahs 93:9–11

فَاَمَّا الْیَتِیْمَ فَلَا تَقْهَرْؕ Open ayah 93:9 in the Quran reader

لہٰذا یتیم پر سختی نہ کرو

وَ اَمَّا السَّآئِلَ فَلَا تَنْهَرْؕ Open ayah 93:10 in the Quran reader

اور سائل کو نہ جھڑکو

وَ اَمَّا بِنِعْمَةِ رَبِّكَ فَحَدِّثْ۠ Open ayah 93:11 in the Quran reader

اور اپنے رب کی نعمت کا اظہار کرو

فہم القرآن ربط کلام : نبی ﷺ کو یتیموں اور غریبوں کے حقوق کا خیال رکھنے کی خصوصی تلقین۔ یتیموں اور مسکینوں کے حقوق کا خیال رکھنا ہر صاحب حیثیت کا فرض ہے لیکن یہ فرض اس شخص کے لیے زیادہ اہم ہوجاتا ہے جس نے یتیمی میں آنکھ کھولی اور غریبی میں پرورش پائی ہو۔ اللہ تعالیٰ اسے مقام عطا فرمائے اور وسائل سے ہمکنار کرے تو اس کا فرض ہے کہ وہ دوسروں سے بڑھ کر یتیموں اور مسکینوں کا خیال رکھے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو امت کا سربراہ بنایا اور فتح مکہ کے بعد وسائل کے دروازے کھول دئیے۔ اس لیے آپ کو حکم دیا گیا کہ یتیم کو نہیں جھڑکنا اور سائل سے روگردانی اختیار نہیں کرنی اور اپنے رب کی نعمتوں کا اعتراف کرتے ہوئے اس کا شکر ادا کرتے رہنا۔ (عَنْ سَہْلٍ ؓ قَالَ رَسُول اللّٰہِ ﷺ أَنَا وَکَافِلُ الْیَتِیمِ فِی الْجَنَّۃِ ہَکَذَا وَأَشَار بالسَّبَّابَۃِ وَالْوُسْطٰی، وَفَرَّجَ بَیْنَہُمَا شَیْءًا) (رواہ البخاری : باب فضل من یعول یتیما) ” حضرت سہل ؓ بیان کرتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : میں اور یتیم کی کفالت کرنے والا جنت میں اس طرح ہوں گے۔ آپ ﷺ نے سبابہ اور درمیانی انگلی سے اشارہ فرمایا اور ان کے درمیان تھوڑا سا فاصلہ رکھا۔ “ (عَنْ أَبِيْ ھُرَیْرَۃَ ؓ قَالَ قَال النَّبِيُّ ﷺ السَّاعِيْ عَلَی الْأَرْمَلَۃِ وَالْمِسْکِیْنِ کَالْمُجَاھِدِ فِيْ سَبِیْلِ اللّٰہِ أَوِ الْقَاءِمِ اللَّیْلَ الصَّاءِمِ النَّھَارَ ) (رواہ البخاری : باب فضل النفقۃ علی الأھل) ” حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا بیوہ اور مسکین پر نگران اللہ کی راہ میں مجاہد کی طرح ہے یا رات کو قیام اور دن کو روزہ رکھنے والے کی طرح ہے۔ “ حقیقی سائل کو جھڑکنے کی اجازت نہیں : (عنَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ؓ قَالَ قَسَمَ رَسُول اللّٰہِ َ قَسْمًا فَقُلْتُ وَاللّٰہِ یَا رَسُول اللّٰہِ لَغَیْرُ ہَؤُلَاءِ کَانَ أَحَقَّ بِہِ مِنْہُمْ قَالَ إِنَّہُمْ خَیَّرُونِی أَنْ یَسْأَلُونِی بالْفُحْشِ أَوْ یُبَخِّلُونِی فَلَسْتُ بِبَاخِل) (صحیح مسلم، بَابُ إِعْطَاءِ مَنْ سَأَلَ بِفُحْشٍ وَغِلْظَۃٍ ) ” حضرت عمر ؓ فرماتے ہیں کہ ایک دفعہ رسول اللہ ﷺ نے صدقہ کا کچھ مال تقسیم فرمایا۔ میں نے عرض کی یارسول اللہ ! اللہ کی قسم ! اس کے مستحق تو دوسرے لوگ ہیں آپ ﷺ نے فرمایا ان لوگوں نے مجھے مجبور کردیا ہے یا تو وہ مجھ سے بےحیائی اور ڈھٹائی سے مانگیں یا وہ مجھے بخیل کہیں اور میں بخل کرنے والا نہیں ہوں۔ “ (عَنْ أَبِی الْأَحْوَصِ عَنْ أَبِیہِ أَنَّہُ أَتَی النَّبِیَّ ﷺ فِی ثَوْبٍ دُونٍ فَقَالَ لَہٗ النَّبِیُّ ﷺ أَلَکَ مَالٌ قَالَ نَعَمْ مِنْ کُلِّ الْمَالِ قَالَ مِنْ أَیِّ الْمَالِ قَالَ قَدْ آتَانِی اللّٰہُ مِنْ الْإِبِلِ وَالْغَنَمِ وَالْخَیْلِ وَالرَّقِیقِ قَالَ فَإِذَا آتَاک اللّٰہُ مَالًا فَلْیُرَ عَلَیْکَ أَثَرُ نِعْمَۃِ اللّٰہِ وَکَرَامَتِہٖ ) (رواہ النسائی : کتاب الزینۃ، باب الجلاجل ) ” حضرت ابو الاحوص اپنے والد سے بیان کرتے ہیں کہ وہ نبی اکرم ﷺ کے پاس بالکل معمولی کپڑوں میں آئے تو اللہ کے نبی ﷺ نے فرمایا : کیا تمہارے پاس مال ہے انھوں نے کہا ہاں ہر طرح کا مال ہے نبی معظم ﷺ نے پوچھا کون کون سا ؟ میرے والد نے کہا اللہ نے اونٹ، بکریاں، گھوڑے، غلام اور لونڈیاں بھی دی ہیں۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اللہ تعالیٰ نے مال دیا ہے تو اس کی نعمت اور فضل کے آثار بھی تم پر دکھائی دینے چاہئیں۔ “ مسائل 1۔ یتیم پر سختی نہیں کرنی چاہیے۔ 2۔ حقیقی سائل کو جھڑکنے کی اجازت نہیں۔ 3۔ اپنے رب کی نعمتوں کا شکریہ اور اظہار کرنا چاہیے۔ تفسیر بالقرآن یتیموں اور مسکینوں کے حقوق : 1۔ یتیم تمہارے بھائی ہیں۔ (البقرۃ : 220) 2۔ یتیموں سے اچھا سلوک کرنے کا حکم۔ (البقرۃ : 83) 3۔ یتیموں کا مال واپس کیا جائے۔ (النساء : 2) 4۔ یتیموں کا مال بلوغت کی عمر کو پہنچنے پر واپس کرو۔ (النساء : 6) 5۔ یتیموں کو مال دو تو اس پر گواہ کرلو۔ (النساء : 6) 6۔ یتیموں کا مال کھانا بڑا گناہ ہے۔ (النساء : 2) 7۔ یتیم کو جھڑکنے کی ممانعت۔ (الضحیٰ : 9) 8۔ والدین، یتیموں، اور مسکینوں کے ساتھ حسن سلوک کرنا چاہیے۔ (النساء : 36) 9۔ یتیم کا مال کھانے والا اپنے پیٹ میں جہنم کی آگ بھر رہا ہے۔ (النساء : 10)