94. Surah Ash-Sharh

الشرحThe Consolation · 8 ayahsفہم القرآن

تعارف

تعارف

سورة الانشراح کا تعارف یہ سورت مکہ کے ابتدائی دور میں نازل ہوئی۔ ایک رکوع پر مشتمل ہے جس کی آٹھ آیات ہیں، اس سورت میں آپ کے مشن کے حوالے سے چار خوشخبریاں دی گئی ہیں۔ 1 ۔ نبوت کا کام انتہائی مشکل تھا مگر اللہ تعالیٰ نے اس کے لیے آپ کا سینہ کھول دیا اور آپ کے لیے اسے آسان کردیا ہے۔ 2 ۔ نبوت کا بوجھ اس قدر بھاری تھا کہ آپ کی قمر ٹوٹ جائے اور آپ کے عصاب شل ہوجائیں مگر اللہ تعالیٰ نے آپ کا بوجھ ہلکا کردیا ہے۔ 3 ۔ آپ کے دشمن آپ کا نام اور کام مٹانا چاہتے ہیں۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے آپ کے نام اور کام کو ہمیشہ ہمیش کے لیے سر بلند فرما دیا ہے۔ 4 ۔ اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یقین جانو کہ ہر تنگی کے بعد فراخی ہوا کرتی ہے۔ 5 ۔ اللہ تعالیٰ کے انعامات اور اس کی عطا کردہ فرصت کا تقاضا ہے کہ آپ اپنے رب کی طرف متوجہ رہا کریں۔

Ayahs 94:1–3

اَلَمْ نَشْرَحْ لَكَ صَدْرَكَۙ Open ayah 94:1 in the Quran reader

اے نبی کیا نہیں ہم نے آپ کا سینہ آپ کے لیے کھول دیا ؟

وَ وَضَعْنَا عَنْكَ وِزْرَكَۙ Open ayah 94:2 in the Quran reader

اور آپ سے بھاری بوجھ اتار دیا

الَّذِیْۤ اَنْقَضَ ظَهْرَكَۙ Open ayah 94:3 in the Quran reader

جو آپ کی کمر توڑے جا رہا تھا

فہم القرآن ربط سورت : والضحیٰ کا اختتام اس ارشاد پر ہوا کہ اپنے رب کی نعمت کو یاد کریں۔ اللہ تعالیٰ نے نبی ﷺ کی ذات پر بےانتہا نعمتوں کا نزول فرمایا جن میں سر فہرست تین نعمتیں ہیں، جن کا ذکر اس سورت میں کیا گیا ہے۔ 1۔ وحی حفظ کرنے، اسے سمجھنے، پھر اسے بیان کرنے کے لیے آپ ﷺ کا سینہ کھول دیا گیا۔ 2۔ پیغام نبوت کو من وعن لوگوں تک پہچانے کا عظیم بوجھ آپ ﷺ کے لیے بہت حد تک آسان کردیا۔ 3۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کے کام اور نام کو ہمیشہ کے لیے سربلند فرما دیا۔ انسان کے لیے ضروری ہے کہ ہر نیک کام کرنے سے پہلے اس کے لیے اسے انشراح صدر حاصل ہو، ایک داعی پر اللہ تعالیٰ کا بڑا احسان ہوتا ہے کہ دعوت دینے اور نیک کام کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ اس کا سینہ کھول دے۔ داعی کا سینہ دعوت کے لیے کھول دیا جائے تو اس میں کچھ کر گزرنے کا جذبہ پیدا ہوتا ہے۔ جب پورے جذبہ کے ساتھ نیک کام کے لیے محنت کی جائے تو اس کے لیے مشکل آسان کردی جاتی ہے۔ انشرح صدر ایسی نعمت ہے جس کے لیے موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے رب سے دعا کی تھی۔ (قَالَ رَبِّ اشْرَحْ لِیْ صَدْرِیْ وَ یَسِّرْلِیْٓ اَمْرِیْ ۔ وَاحْلُلْ عُقْدَۃً مِّنْ لِّسَانِیْ یَفْقَہُوْا قَوْلِیْ ) (طٰہٰ : 25 تا 28) ” موسیٰ نے اپنے رب سے دعا کی کہ میرا سینہ کھول دے اور میرے کام کو میرے لیے آسان فرمادے۔ اور میری زبان کی گرہ کھول دے تاکہ لوگ میری بات سمجھ سکیں۔ “ اللہ تعالیٰ نے نبی آخر الزمان ﷺ پر انتہائی مہربانی فرماتے ہوئے آپ کے لیے آپ کا سینہ کھول دیا۔ اس سے پہلے آپ کی حالت یہ تھی کہ نبوت سے پہلے آپ اپنی قوم کے حالات دیکھ کر رنجیدہ خاطر رہتے تھے، جونہی آپ کی عمر چالیس سال کے قریب پہنچی تو قوم کے بارے میں آپ ﷺ کی فکر مندی میں اس قدر اضافہ ہوا کہ آپ کئی کئی دن تک غار حرا میں خلوت نشین ہو کر اس بات پر غور وفکر کرتے کہ لوگوں کو کس طرح راہ راست پر لایا جائے۔ اسی سوچ میں متفکر تھے کہ ایک دن غار حرا میں جبریل امین آئے اور اس نے آپ ﷺ پر سورة العلق کی ابتدائی پانچ آیات نازل فرمائیں۔ اس کی تفصیل سورة العلق میں بیان کی گئی ہے۔ عقیدہ توحید کی بنیاد پر قوم کی اصلاح کرنا اتنا مشکل کام ہے کہ جس سے بڑھ کر کوئی کام مشکل نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے توحید کی دعوت دینے کے لیے جتنے رسول مبعوث فرمائے وہ ظاہری اور جوہری صلاحیتوں کے حوالے سے اپنے اپنے دور کے عظیم اور منفرد انسان تھے۔ ان خوبیوں میں نبی ﷺ تمام انبیاء کرام (علیہ السلام) اور سب لوگوں سے زیادہ باصلاحیت اور ارفع تھے مگر قوم کی اصلاح اور توحید کی دعوت اس قدر مشکل کام تھا اور ہے کہ نبی آخر الزمان ﷺ بھی اس کام کو بڑا بھاری محسوس کرتے تھے۔ نبی ﷺ پر جونہی نبوت کی ذمّہ داری عائد ہوئی تو آپ نے اس قدر جانفشانی کے ساتھ محنت فرمائی کہ بسا اوقات آپ اس قدر نڈھال ہوجاتے کہ قریب تھا کہ آپ کو کوئی تکلیف لاحق ہوجائے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کے فکر و غم کو ہلکا کرنے کے لیے کئی بار ارشاد فرمایا کہ آپ ایک حد سے زیادہ فکر مند نہ ہوں کیونکہ ہم نے آپ کو لوگوں کے لیے مبلغ بنایا ہے نگران اور کو توال نہیں بنایا۔ اللہ تعالیٰ کی رحمت اور آپ کی محنت کے نتیجہ میں یہ وقت آیا کہ آپ کو اس قدر جانثار ساتھی ملے کہ جس سے آپ کا کام آسان ہوگیا جس کے بارے میں ارشاد ہوا کہ ہم نے آپ کا بوجھ ہلکا کردیا جو بوجھ آپ کی کمر توڑے جارہا تھا۔ ” حضرت معاویہ ؓ رسول اکرم ﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ رسول مکرم ﷺ نے فرمایا : اللہ تعالیٰ جس شخص کے ساتھ خیر خواہی کرنا چاہتے ہیں اسے دین کی سمجھ عطا فرماتا ہے۔ “ (رواہ البخاری : کتاب العلم) (عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ شَقِیقٍ ؓ قَالَ قُلْتُ لِعَاءِشَۃَ ؓ ہَلْ کَان النَّبِیُّ ﷺ یُصَلِّی وَہُوَ قَاعِدٌ قَالَتْ نَعَمْ بَعْدَ مَا حَطَمَہُ النّاسُ ) (رواہ مسلم : باب جواز النافلۃ قائما وقاعدا) ” حضرت عبداللہ بن شقیق بیان کرتے ہیں میں نے حضرت عائشہ ؓ سے پو چھا کیا نبی ﷺ بیٹھ کر بھی نماز پڑھا کرتے تھے ؟ ام المومنین ؓ نے فرمایا : ہاں لوگوں نے آپ کو بوڑھا کردیا تھا۔ “ ” شاید آپ اپنے آپ کو ہلاک کرلیں گے کہ وہ اس بات پر ایمان نہ لائے۔ “ (الکہف : 6) (لَعَلَّکَ بَاخِعٌ نَّفْسَکَ اَلَّا یَکُوْنُوْا مُؤْمِنِیْنَ ) (الشعراء : 3) ” اے نبی شاید آپ اس غم میں اپنی جان کھودیں گے اس لیے کہ یہ لوگ ایمان نہیں لاتے۔ “ ” اور اگر اللہ چاہتا تو وہ شرک نہ کرتے اور ہم نے آپ کو ان پر نگران نہیں بنایا اور نہ آپ ان کے وکیل ہیں۔ “ (الانعام : 107) ” اے نبی نصیحت کیے جاؤ آپ نصیحت ہی کرنے والے ہیں۔ ان پر جبر کرنے والے نہیں۔ “ (الغاشیہ : 21، 22) مسائل 1۔ اللہ تعالیٰ نے نبوت کے کام کے لیے آپ ﷺ کا سینہ کھول دیا۔
Ayahs 94:4–6

وَ رَفَعْنَا لَكَ ذِكْرَكَؕ Open ayah 94:4 in the Quran reader

اور آپ کے لیے آپ کا ذکر کا بلند کردیا

فَاِنَّ مَعَ الْعُسْرِ یُسْرًاۙ Open ayah 94:5 in the Quran reader

پس حقیقت یہ ہے کہ تنگی کے ساتھ فراخی ہے

اِنَّ مَعَ الْعُسْرِ یُسْرًاؕ Open ayah 94:6 in the Quran reader

بیشک تنگی کے ساتھ فراخی ہے

فہم القرآن ربط کلام : نبوت کا بوجھ ہلکا کرنے کے ساتھ رب کریم نے آپ ﷺ کے نام اور کام کو بھی بلند وبالا فرمادیا۔ نبوت کی ذمہ داریوں میں سب سے مشکل کام لوگوں تک توحید کی دعوت پہنچانا ہے۔ جو لوگ نبوت سے پہلے آپ ﷺ کو صادق اور امین کہتے تھے، دعوت توحید کی وجہ سے وہ اس قدر مخالف ہوگئے کہ انہوں نے اس بات پر تن من دھن کی بازی لگادی کہ نبی ﷺ کی دعوت کو کسی صورت آگے نہ بڑھنے دیا جائے۔ اس کے لیے انہوں نے ہر حربہ استعمال کیا، یہاں تک کہ انہوں نے آپ ﷺ پر مختلف قسم کے الزامات لگائے اور آپ کو محمد کہنے کی بجائے مذمّم کہنے لگے۔ خاکم بدھن جس کا معنٰی ہے ملامت کیا ہوا۔ اس صورت حال میں نبی ﷺ کا پریشان ہونا ایک فطری امر تھا۔ اللہ تعالیٰ نے نہ صرف کفار کے ایک ایک الزام کی تردید فرمائی بلکہ آپ ﷺ کو ہر موقع پر عظیم تسلی اور اطمینان سے سرفراز فرمایا۔ اس پس منظر میں یہ سورت نازل ہوئی جس میں آپ کا بوجھ ہلکا کرنے کے ساتھ یہ خوشخبری دی گئی ہے کہ یہ لوگ آپ کے نام اور کام کو مٹانا چاہتے ہیں لیکن ہمارا فیصلہ ہے کہ ہم نے آپ کے نام اور کام کو ہمیشہ ہمیش کے لیے سربلند فرمادیا ہے۔ یقیناً ہر تنگی کے ساتھ آسانی ہے، بالیقین ہر تنگی کے ساتھ آسانی ہوا کرتی ہے۔ ان الفاظ میں یہ حقیقت بیان کی گئی ہے کہ جو شخص بھی حق کے لیے کوشش کرے گا اللہ تعالیٰ اس کے لیے آسانی پیدا فرمائے گا۔ پہلی آسانی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ داعی کے لیے دعوت کے کام میں انشراح صدر پیدا فرما دیتا ہے۔ دوسری آسانی یہ ہے کہ دعوت کی راہ میں آنے والی مشکلات کو الدّاعی خندہ پیشانی کے ساتھ برداشت کرتا ہے اور اس راہ میں پہنچنے والی اذّیت کو اپنے لیے باعث اجر سمجھتا ہے۔ نبی ﷺ کو یہ نعمتیں بدرجہ اتم عطا کردی گئیں جس وجہ سے آپ نے مشکل ترین حالات میں انتہائی مستقل مزاجی اور ثابت قدمی کے ساتھ اپنے کام کو جاری رکھا۔ جس کا نتیجہ نکلا کہ آپ کی جان کے دشمن آپ کے جانثار بن گئے اور آپ کی حیات مبارکہ میں آپ کی دعوت کا پرچم دس لاکھ مربع میل پر لہرانے لگا اور آپ کی زندگی میں اس انقلاب کے اثرات دور دور تک محسوس ہونے لگے۔ یہاں تک کہ اس وقت کے سب سے بڑی مملکت کے فرماروا کو آپ کی کامیابی کا اعتراف کرنا پڑا۔ مکی وفد کی قیادت ابو سفیان کر رہے تھے ان کے سامنے ایک سوال کے جواب میں ہرقل نے کہا۔ (فَإِنْ کَانَ مَا تَقُولُ حَقًّا فَسَیَمْلِکُ مَوْضِعَ قَدَمَیَّ ہَاتَیْنِ وَقَدْ کُنْتُ أَعْلَمُ أَنَّہُ خَارِجٌ لَمْ أَکُنْ أَظُنُّ أَنَّہُ مِنْکُمْ فَلَوْ أَنِّی أَعْلَمُ أَنِّی أَخْلُصُ إِلَیْہِ لَتَجَشَّمْتُ لِقَاءَ ہُ وَلَوْ کُنْتُ عِنْدَہُ لَغَسَلْتُ عَنْ قَدَمِہِ ) (رواہ البخاری : کتاب بدء الوحی) ” جو تو کہہ رہا ہے اگر سچ ہے تو عنقریب وہ میرے قدموں کی جگہ پر قابض ہوجائے گا۔ مجھے معلوم تھا کہ وہ نبی مبعوث ہونے والا ہے لیکن مجھے یہ علم نہیں تھا کہ وہ تم میں سے ہوگا اگر میں اس کے پاس پہنچنے کی طاقت رکھتا تو میں اس کی ملاقات کو پسند کرتا اور اگر میں اس کے پاس ہوتا تو اس کے پاؤں دھوتا۔ “ گویا کہ رب کریم نے مشکل ترین کام اور انقلاب آپ کے لیے آسان کردیا۔ آپ کو دعوت کے حوالے سے وہ کامیابی حاصل ہوئی جو آج تک کسی کے مقدر میں نہیں آئی اور نہ ہی قیامت تک کوئی شخص ایسی کامیابی حاصل کرپائے گا۔ افرادی قوت کے اعتبار سے آپ ﷺ اس طرح کامیاب ہوئے کہ لوگ جوق در جوق اور فوج در فوج حلقہ اسلام میں داخل ہوگئے۔ (سورۃ نصر) آپ ﷺ کا ذکر گرامی : جہاں تک آپ ﷺ کے ذکر مبارک کا معاملہ ہے۔ آدمی کے کلمہ پڑھنے سے لے کر قبر تک کوئی ایسا اہم مرحلہ نہیں جہاں اللہ تعالیٰ نے ” لا الٰہ الا اللہ “ کے ساتھ محمد رسول اللہ کو شامل نہیں کیا۔ اس لیے آپ ﷺ کے عقیدت مندوں نے ان اوقات اور مقامات کا تفصیلی ذکر کیا ہے۔ علامہ آلوسی فرماتے ہیں کہ اس سے بڑھ کر رفع ذکر کیا ہوسکتا ہے کہ کلمۂ شہادت میں اللہ تعالیٰ نے اپنے نام کے ساتھ اپنے محبوب کا نام ملادیا۔ نبی ﷺ کی اطاعت کو اپنی اطاعت قرار دیا، ملائکہ کیساتھ آپ پر درودبھیجا اور مومنوں کو درود پڑھنے کا حکم دیا اور جب بھی خطاب کیا تو معزز القاب سے مخاطب فرمایا جیسے ” یٰاَیُّھَا الْمُدَثِّرْ ، یٰاَیُّھَا الْمُزَمِّلْ ۔ “ پہلے آسمانی صحیفوں میں بھی آپ کا ذکرخیر فرمایا۔ تمام انبیاء (علیہ السلام) اور ان کی امتوں سے وعدہ لیا کہ وہ آپ پر ایمان لائیں۔ آج دنیا کا کوئی آباد ملک ایسا نہیں جہاں روز وشب میں پانچ بار نبی ﷺ کی رسالت کا اعلان نہ ہو رہا ہو۔ (ضیاء القرآن ) مسائل 1۔ اللہ تعالیٰ نے نبی ﷺ کے نام، مرتبہ اور مقام کو بلند فرمادیا۔ 2۔ بلاشبہ تنگی کے ساتھ آسانی بھی ہوتی ہے۔ تفسیر بالقرآن نبی (علیہ السلام) کا مقام و مرتبہ : 1۔ آپ ﷺ کو پوری دنیا کے لیے نبی بنا کر بھیجا گیا۔ (الاعراف : 158) 2۔ آپ کو رحمۃ للعالمین بنا کر بھیجا گیا۔ (الانبیاء : 107) 3۔ آپ ﷺ خاتم النبیین ہیں۔ (الاحزاب : 40) 4۔ آپ کو پوری دنیا کے لیے داعی، بشیر اور نذیر بنا کر مبعوث کیا گیا ہے۔ (الاحزاب : 45۔ 46) 5۔ نبی کریم ﷺ کو تمام انسانوں کے لیے رؤف، رحیم بنایا گیا ہے۔ (التوبہ : 128) 6۔ آپ ﷺ کی بعثت مومنوں پر اللہ تعالیٰ کا احسان عظیم ہے۔ (آل عمران : 164)
Ayahs 94:7–8

فَاِذَا فَرَغْتَ فَانْصَبْۙ Open ayah 94:7 in the Quran reader

لہٰذا جب آپ فارغ ہوں تو عبادت کی مشقت میں لگ جائیں

وَ اِلٰى رَبِّكَ فَارْغَبْ۠ Open ayah 94:8 in the Quran reader

اور اپنے رب کی طرف راغب ہوجائیں

فہم القرآن ربط کلام : انسان کا فرض بنتا ہے کہ اسے جب آسانی اور کامیابی حاصل ہو تو اپنے رب کو یاد رکھے اور اس کا شکریہ ادا کرے۔ اللہ تعالیٰ نے نبی ﷺ کی ذات پر جو خصوصی انعامات فرمائے۔ اس لیے حکم ہوا کہ کامیابی، آسانی اور فراغت کے وقت اپنے رب کو رغبت یعنی پوری توجہ کے ساتھ یاد کیا کریں۔ فراغت کے وقت یاد کرنے کا یہ معنٰی نہیں کہ فراغت میسر نہ ہو تو اپنے رب کو بھول جایا جائے۔ اس سورت میں نبوت کی ذمہ داریوں اور اس کی مشکلات کا ذکر کیا گیا ہے۔ اس لیے ارشاد ہوا کہ جب بھی دعوت کے کام سے فرصت میسر ہو تو نفلی نماز اور ذکر وفکر میں مصروف ہوجایا کریں۔ اس میں ایک مبلغ اور مدرس کو یہ بات سمجھائی گئی ہے کہ بیشک دعوت اور تعلیم وتعلّم کا کام نیکی ہے لیکن اس میں بھی وقت نکال کر داعی کو پوری یکسوئی کے ساتھ اپنے رب کا ذکر کرنا چاہیے، گویا کہ دعوت کے کام کے لیے ایمان کی بیٹری چارج کرنا اور اس کام پر اپنے رب کا شکر گزار ہونا لازم ہے بصورت دیگر ایک سچا داعی اپنے دل میں ایک خلا اور تشنگی محسوس کرتا ہے جس داعی کے دل میں ” اللہ “ کی یاد اور اس کے شکریہ کا احساس نہ ہو۔ اس کا کام ایک فن کی حیثیت اختیار کرجاتا ہے جس سے ہر صورت بچنا چاہیے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو حکم : (اِذْہَبْ اَنْتَ وَ اَخُوْکَ بِاٰیٰتِیْ وَ لَا تَنِیَا فِیْ ذِکْرِیْ اِذْہَبَآ اِلٰی فِرْعَوْنَ اِنَّہٗ طَغٰی۔ فَقُوْلَا لَہٗ قَوْلًا لَّیِّنًا لَّعَلَّہٗ یَتَذَکَّرُ اَوْ یَخْشٰی۔ ) (طٰہٰ : 42 تا 45) ” موسیٰ تو اور تیرا بھائی میری نشانیوں کے ساتھ جاؤ اور میری یاد سے غافل نہ ہونا۔ دونوں فرعون کے پاس جاؤ کیونکہ وہ سرکش ہے۔ اس سے نرمی کے ساتھ بات کرنا ہوسکتا ہے کہ وہ نصیحت قبول کرے یا ڈر جائے۔ “ (فَاصْبِرْ اِِنَّ وَعْدَ اللّٰہِ حَقٌّ وَاسْتَغْفِرْ لِذَنْبِکَ وَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّکَ بالْعَشِیِّ وَالْاِِبْکَارِ ) (المومن : 55) ” پس اے نبی صبر کر۔ اللہ کا وعدہ برحق ہے، اپنی کوتاہی کی معافی مانگ، اور صبح وشام اپنے رب کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح کرتا رہ۔ “ (عَنِ الْمُغِےْرَۃِ ؓ قَالَ قَام النَّبِیُّ ﷺ حَتّٰی تَوَرَّمَتْ قَدَمَاہُ فَقِےْلَ لَہُ لِمَ تَصْنَعُ ھٰذَا وَقَدْ غُفِرَ لَکَ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِکَ وَمَا تَاَخَّرَ قَالَ اَفَلَا اَکُوْنَ عَبْدًا شَکُوْر) (مشکوٰۃ : باب التحریض علی قیام الیل) ” حضرت مغیرہ ؓ ذکر کرتے ہیں نبی اکرم ﷺ رات کو اس قدر قیام کرتے کہ آپ کے قدم سوج جایا کرتے تھے۔ آپ سے عرض کی گئی کہ آپ اس قدر کیوں قیام فرماتے ہیں جب کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کے پہلے اور پچھلے گناہ معاف کردیے ہیں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : کیا مجھے اس کا شکرگزار بندہ نہیں بننا چاہیے۔ “ (عَنْ عَاءِشَۃَ ؓ قَالَتْ کَان النَّبِیُّ ﷺ یَذْکُرُ اللَّہَ عَلَی کُلِّ أَحْیَانِہِ ) (رواہ مسلم : باب ذِکْرِ اللَّہِ تَعَالَی فِی حَالِ الْجَنَابَۃِ وَغَیْرِہَا) ” حضرت عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں کہ نبی کائنات ﷺ ہر حال میں اللہ کا ذکر فرماتے تھے۔ “ مسائل 1۔ آدمی کو فرصت کے وقت اپنے رب کو ضرور یاد کرنا چاہیے۔ 2۔ اللہ تعالیٰ کو توجہ اور پوری رغبت کے ساتھ یاد کرنا چاہیے۔ تفسیر بالقرآن اللہ کو یاد کرنے کے فوائد : 1۔ اپنے رب کی حمد و تسبیح بیان کرو اور سجدہ کرنے والوں میں سے ہوجاؤ۔ (الحجر : 98) 2۔ ” اللہ “ کے ذکر سے غافل لوگ گھاٹے میں رہتے ہیں۔ (المنافقون : 9) 3۔ ” اللہ “ کے ذکر سے اعراض کرنا اس کی ناراضگی کو دعوت دینا ہے۔ (الجن : 17) 4۔ ” اللہ “ کو کثرت سے یاد کرنے والوں کے لیے مغفرت اور بڑا اجر ہے۔ (الاحزاب : 35) 5۔ ” اللہ “ کا ذکر دلوں کے لیے سکون و اطمینان کا باعث ہے۔ (الرعد : 28) 6۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ تم مجھے یاد کرو میں تمہیں یاد کروں گا۔ (البقرۃ : 152) 7۔ ” اللہ “ کو کثرت کے ساتھ یاد کرو تاکہ تم کامیاب ہوجاؤ۔ (الجمعہ : 10 )