Ayahs 95:1–5فہم القرآن
ربط سورت : الم نشرح کے آخر میں ارشاد ہوا کہ جونہی فراغت میسر ہو تو آپ اپنے رب کو یاد کیا کریں۔ التّین کی ابتداء میں چار قسمیں اٹھانے کے بعد ہر انسان کو یہ بات باور کروائی ہے کہ جس طرح اسے بہترین شکل و صورت اور صلاحیتوں کے ساتھ پیدا کیا گیا ہے، اسی طرح انسان کو بہتر سے بہتر اعمال کی کوشش کرنی چاہیے۔ بہترین اعمال کا خلاصیہ یہ ہے کہ ہر حال میں اپنے رب کے حکم کو یاد رکھا جائے۔
رب کریم نے اس سورة مبارکہ میں انسان کو اس کے مقام اور مرتبے کا احساس دلانے کے لیے چار چیزوں کی قسمیں اٹھائی ہیں۔ انجیر اور زیتون کی قسمیں اٹھائیں جس میں انجیر اور زیتون کے فوائد کی طرف اشارہ کرنے کے ساتھ بیت المقدس اور اس کے گرد و پیش کے علاقے اور اس کی تاریخی حیثیت کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ یہ وہی سرزمین ہے جہاں اللہ تعالیٰ نے عیسیٰ ( علیہ السلام) اور بیشمار انبیائے کرام (علیہ السلام) مبعوث فرمائے اور اس علاقہ میں حق و باطل کے کئی معرکے ہوئے۔ تمام انبیاء (علیہ السلام) نے اپنی اقوام کو وہی دعوت دی جس کے لیے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو تورات عطا کی گئی۔ جس میں اشارہ ہے کہ تورات کی جو دعوت ہے وہی قرآن مجید کی دعوت ہے اور اس پر عمل کرنا ہی انسان کی تخلیق کا اوّلین مقصد ہے۔ طور سیناء ایسا پہاڑ ہے جہاں موسیٰ (علیہ السلام) اپنے رب سے ہم کلام ہوئے۔ اس کے ساتھ یہودیوں کی ایک تاریخ وابستہ ہے۔ اس لیے طور سیناء کی قسم اٹھا کر یہودیوں کی پوری تاریخ کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ اس کے بعد مکہ معظمہ کی قسم اٹھائی گئی جسے امن کا شہر قرار دیا گیا ہے۔ کیونکہ اس میں بیت اللہ موجود ہے جو ہدایت کا مرکز ہونے کے ساتھ امن کا باعث ہے۔ اسی شہر میں نبی آخر الزّمان ﷺ کو مبعوث کیا گیا جن پر ایمان لانا اور اطاعت کرنا ہر شخص پر لازم ہے۔ اس طرح ان چار چیزوں کی قسمیں اٹھا کر حضرت موسیٰ ، حضرت عیسیٰ اور نبی۔ کی تاریخ، دعوت اور جدوجہد کی نشاندہی کی گئی ہے۔ گویا کہ تین بڑے انبیاء ( علیہ السلام) اور ان کی تاریخ کا حوالہ دے کر انسان کو یہ بات باور کروائی ہے کہ اے انسان ! تجھے تیرے رب نے بہت ہی اچھی شکل و صورت کے ساتھ پیدا فرمایا اور تجھے بہترین صلاحیتوں کے ساتھ ہمکنار کیا ہے لہٰذا تجھے اپنا مقام و مرتبہ پہچاننا اور اپنی ذمہ داری کا احساس کرنا چاہیے۔ قرآن مجید نے انسان کو کئی بار یہ بات یاد کروائی ہے کہ اے انسان تجھے اللہ تعالیٰ نے مسجود ملائکہ کا شرف عطا کرتے ہوئے زمین میں خلیفہ بنایا اور ہر چیز کو تیری خدمت پر لگا دیا ہے۔ زمین و آسمانوں کی ہر چیز تیرے لیے ہے اور تو ” اللہ “ کے لیے ہے۔ لیکن انسانوں کی اکثریت کا عالم یہ ہے کہ وہ اپنے مرتبہ ومقام کو نہ پہچاننے کی وجہ سے اپنے مقام سے اس قدر نیچے گرپڑتے ہیں کہ پوری مخلوق سے پست ہوجاتے ہیں، غور فرمائیں ! کہ انسان ظلم کرنے پر اترتا ہے تو درندوں سے بڑا درندہ ثابت ہوتا ہے۔ بےحیائی کرنے پر آتا ہے تو ماں، بہن کے ساتھ منہ کالا کرلیتا ہے، غلاظت اختیار کرتا ہے تو تمام مخلوق سے زیادہ گندہ دکھائی دیتا ہے، بدعقیدہ بنتا ہے تو بچھو اور سانپ کی پوجا کرنے لگتا ہے گویا اس قدر اپنا مقام کھو بیٹھتا ہے کہ گھٹیا ترین مخلوق میں سب سے گھٹیا بن جاتا ہے۔ حالانکہ رب ذوالجلال کا حکم ہے کہ اے انسان ! تجھے صرف میرے سامنے جھکنا اور میرا ہی حکم ماننا چاہیے۔ لیکن انسانوں کی اکثریت اللہ تعالیٰ کے سامنے جھکنے اور اس کا حکم ماننے پر تیار نہیں جس کے نتیجے میں عام انسان تو درکنار کلمہ پڑھنے والے مسلمان بھی عقیدہ اور کردار کے اعتبار سے حقیر سے حقیر تر دکھائی دیتے ہیں۔
(لَہُمْ قُلُوْبٌ لَّا یَفْقَہُوْنَ بِہَا وَلَہُمْ اَعْیُنٌ لَّا یُبْصِرُوْنَ بِہَا وَلَہُمْ اٰذَانٌ لَّا یَسْمَعُوْنَ بِہَا اُولٰٓءِکَ کَالْاَنْعَامِ بَلْ ہُمْ اَضَلُّ اُولٰٓءِکَ ہُمُ الْغٰفِلُوْنَ ) (الاعراف : 179)
” ان کے دل ہیں جن سے وہ سمجھتے نہیں اور ان کی آنکھیں ہیں جن سے وہ دیکھتے نہیں اور ان کے کان ہیں جن سے وہ سنتے نہیں یہ لوگ چوپاؤں جیسے ہیں بلکہ ان سے بدتر ہیں اور یہی لوگ غافل ہیں۔ “
مسائل
1۔ اللہ تعالیٰ نے التین، زیتون، طور سیناء اور مکہ معظمہ کی قسم اٹھا کر ارشاد فرمایا کہ ہم نے انسان کو بہت اچھی شکل و صورت میں پیدا فرمایا ہے۔ 2۔ بیشمار انسان اپنے عقیدہ اور کردار کی وجہ سے پوری مخلوق میں گھٹیا ترین بن جاتے ہیں۔
تفسیر بالقرآن
اللہ تعالیٰ نے انسان کو پیدا کرنے کے بعد عظیم ترین اعزازات سے سرفراز فرمایا :
1۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو اپنے ہاتھ سے پیدا فرمایا ہے۔ (ص : 75) 2۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو خلیفہ بنایا۔ (البقرۃ : 30)
3۔ آدم (علیہ السلام) سجدہ نہ کرنے کی وجہ سے ابلیس کو ہمیشہ کے لیے اپنی بارگاہ سے راندہ درگاہ اور لعنتی قرار دیا۔ (الحجر : 34۔ 35)
4۔ اللہ تعالیٰ نے پوری کائنات کو انسان کے لیے مسخر فرمایا۔ (الجا ثیہ : 13) (الرحمن : 4) (العلق : 5)
Ayah 95:6فہم القرآن
ربط کلام : ذلّت اور پستی سے بچنے والے لوگوں کا کردار اور انعام۔
اللہ تعالیٰ نے انسان کو بہترین شکل و صورت میں پیدا فرما کر اسے بہترین عمل کرنے کا حکم دیا ہے۔ ذات باری تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ وہی ذات ہے جس نے موت اور زندگی بنائی تاکہ تمہیں آزمائے کہ تم میں سے کون بہترین عمل کرتا ہے۔ (الملک : 2) اللہ تعالیٰ نے انسان کو نہ صرف بہترین عمل کرنے کا حکم دیا ہے بلکہ اس کی سہولت کے لیے ہر دور میں انسانوں میں بہترین انسانوں کو اپنا رسول منتخب کیا اور انہیں لوگوں کے لیے نمونہ بنایا تاکہ وہ لوگوں کو بہترین تعلیم و تربیت سے آراستہ کریں ان میں آخری رسول حضرت محمد ﷺ ہیں جن کے بارے میں ارشاد ہے :
(لَقَدْ کَانَ لَکُمْ فِیْ رَسُوْلِ اللّٰہِ اُسْوَۃٌ حَسَنَۃٌ لِّمَنْ کَانَ یَرْجُوا اللّٰہَ وَ الْیَوْمَ الْاٰخِرَ وَ ذَکَرَ اللّٰہَ کَثِیْرًا) (الاحزاب : 21)
” حقیقت یہ ہے کہ تمہارے لیے اللہ کے رسول کی زندگی بہترین نمونہ ہے بشرطیکہ جو شخص اللہ اور یوم آخرت کے بارے میں امید رکھتا ہو، اور اللہ کو کثرت سے یاد کرنے والا ہو۔ “
بہترین عمل کرنے کے لیے بہترین نظریے یعنی عقیدے کی ضرورت ہوتی ہے۔ قرآن مجید نے اس کی بھی وضاحت کردی ہے تاکہ انسان کو بہترین عقیدہ اور عمل اختیار کرنے میں کسی قسم کی دقّت پیش نہ آئے جو لوگ اللہ اور اس کے رسول پر حقیقی ایمان لائیں گے اور اس کے حکم کے مطابق عمل کریں گے انہی کا ایمان اور عمل بہتر ہوگا، بہتر عمل کرنے والوں کو قیامت کے دن ایسا اجر عطا کیا جائے گا جس میں کمی ہونے کی بجائے اضافہ ہی ہوتا رہے گا۔ بہترین عقیدہ اور عمل۔
(وَمَنْ اَحْسَنُ قَوْلًا مِّمَّنْ دَعَا اِِلَی اللّٰہِ وَعَمِلَ صَالِحًا وَّقَالَ اِِنَّنِی مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ ) (حمٓ السجدۃ : 33)
” اور اس شخص کی بات سے اچھی بات کس کی ہوسکتی ہے جس نے لوگوں کو اللہ کی طرف بلایا اور نیک عمل کیے اور اقرار کیا کہ میں مسلمان ہوں۔ “
” اللہ “ سے احسن عمل کی توفیق مانگتے رہنا چاہیے :
(عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ أَنَّ رَسُول اللَّہِ ﷺ أَخَذَ بِیَدِہِ وَقَالَ یَا مُعَاذُ وَاللَّہِ إِنِّیْ لَاُحِبُّکَ وَاللَّہِ إِنِّیْ لأُحِبُّکَ فَقَالَ أُوصِیْکَ یَا مُعَاذُ لاَ تَدَعَنَّ فِی دُبُرِکُلِّ صَلاَۃٍ تَقُوْلُ ” اللَّہُمَّ أَعِنِّیْ عَلٰی ذِکْرِکَ وَشُکْرِکَ وَحُسْنِ عِبَادَتِکَ “ ) (رواہ أبوداوٗد : باب فی الإستغفار، قال البانی صحیح)
” حضرت معاذ بن جبل ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول ﷺ نے میرا ہاتھ پکڑا اور دو مرتبہ فرمایا اے معاذ ! اللہ کی قسم میں تجھ سے محبت کرتا ہوں پھر فرمایا اے معاذ ! میں تجھے وصیت کرتا ہوں کہ ہر فرض نماز کے بعد یہ کلمات پڑھتے رہنا اور انہیں کبھی نہ چھوڑنا۔ الٰہی ! اپنے ذکر، شکر اور بہترین طریقے سے عبادت کرنے پر میری مدد فرما۔ “
(عَنْ بُسْرِ بْنِ أَرْطَاۃَ الْقُرَشِیِّ ؓ یَقُولُ سَمِعْتُ رَسُول اللَّہِ ﷺ یَدْعُواللَّہُمَّ أَحْسِنْ عَاقِبَتَنَا فِی الأُمُورِ کُلِّہَا وَأَجِرْنَا مِنْ خِزْیِ الدُّنْیَا وَعَذَاب الآخِرَۃِ )
(رواہ احمد : مسند بسر بن ارطاۃ)
” حضرت بسر بن ارطاۃ قرشی ؓ کہتے ہیں میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ دعا کرتے ہوئے سنا۔ اے اللہ ! ہمارے تمام معاملات کا انجام اچھا فرما اور ہمیں دنیا اور آخرت کی رسوائی سے محفوظ فرما۔ “
(عَنْ أَنَسٍ قَالَ کَان النَّبِیُّ ﷺ یَقُولُ ” اللَّہُمَّ رَبَّنَا آتِنَا فِی الدُّنْیَا حَسَنَۃً وَفِی الآخِرَۃِ حَسَنَۃً وَقِنَا عَذَاب النَّارِ “ ) (رواہ البخاری : باب (ومنہم من یقول ربنا آتنا۔۔ )
” حضرت انس ؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ دعا کیا کرتے تھے۔” اے ہمارے رب ہمیں دنیا میں بھی بھلائی عطا کر اور آخرت میں بھی بھلائی عطا کرنا اور ہمیں دوزخ کے عذاب سے محفوظ فرما۔ “
مسائل
1۔ پختہ ایمان اور نیک اعمال کے ساتھ ہی قیامت کے دن نجات ممکن ہوگی۔
2۔ آخرت کی کامیابی اتنی زیادہ ہوگی کہ کبھی ختم نہیں ہوگی۔
تفسیر بالقرآن
اللہ تعالیٰ نیک اعمال کا صلہ دیتا ہے :
1۔ جو نیک اعمال کرتے رہے ہیں اللہ ان کا بدلہ دے گا۔ (الزمر : 35) (الحج : 50)
2۔ اللہ تعالیٰ ایمان لانے والوں اور نیک اعمال کرنے والوں کو جزا دے گا۔ (سبا : 4) (الانفال : 4)
Ayahs 95:7–8فہم القرآن
ربط کلام : ایمان کے بنیادی اجزا میں تیسرا بڑا جز یہ ہے کہ انسان اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لا کر یہ یقین رکھے کہ مرنے کے بعد اسے زندہ ہونا اور اپنے رب کی بارگاہ میں پیش کیا جانا ہے۔
آخرت کے عقیدے میں جس قدر تازگی اور پختگی ہوگی اسی قدر ہی انسان ایمان کے تقاضے پورے کرے گا۔ اس لیے ایمان اور صالح اعمال کا ذکر کرنے کے بعد ارشاد ہوا کہ اے انسان ! تو کس طرح قیامت کو جھٹلاتا ہے ؟ کیا تو نہیں سمجھتا کہ اللہ تعالیٰ تمام حاکموں سے بڑا حاکم ہے۔ اس کے حاکم اور عادل ہونے کا تقاضا ہے کہ وہ قیامت قائم کرے تاکہ ایماندار اور صالح اعمال کرنے والوں کو بہترین جزا دے جس میں کبھی کمی نہیں ہوگی اور ان لوگوں کو پوری پوری سزا دے جنہوں نے اس کی ذات اور اس کا حکم ماننے سے انکار کیا۔ اللہ تعالیٰ کے حاکم ہونے کا صرف یہ تقاضا نہیں کہ ایک مسلمان یہ عقیدہ رکھے کے قیامت قائم ہونی ہے اور مجھے اپنے رب کے حضور پیش ہونا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے حاکم ہونے کا یہ بھی تقاضا ہے کہ انسان انفرادی اور اجتماعی زندگی میں اس کے حکم کو اپنے لیے آخری اور قطعی حکم تصور کرے۔ اس کے بغیر انفرادی زندگی کی اصلاح اور اجتماعی زندگی کا نظام درست نہیں ہوسکتا۔
” حضرت عبداللہ بن عمر ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول محترم ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن زمینوں اور آسمانوں کو یکجا کرکے اپنے ہاتھ میں لیتے ہوئے فرمائیں گے کہ میں ہی بادشاہ ہوں، ظالم اور غرور کرنے والے آج کہاں ہیں ؟ یَقُوْلُ اَنَا الْمَلِکُ اَیْنَ الْجَبَّارُوْنَ أَیْنَ الْمُتَکَبِّرُوْنَ “
(رواہ مسلم : کتاب صفۃ القیامۃ والجنۃ والنار )
(عَنْ أَبِیْ الدَّرْدَاءِ ؓ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ تَفْرَغُوْا مِنْ ہَمُوْمِ الدُّنِیَا مَا اسْتَطَعْتُمْ فَاِنَّہٗ مَنْ کَانَتِ الدُّنِیَا اَکْبَرُ ہَمَّہٗ اَفْشَی اللّٰہُ ضَیِّعَتَہٗ وَجَعْلَ فَقْرَہٗ بَیْنَ عَیْنَیْہِ وَمَنْ کَانَتِ الْاٰخِرَۃِ اَکْبَرُ ہَمَّہٗ جَمَعَ اللّٰہُ لَہٗ اَمُوْرَہٗ وَجَعَلَ غِنَاہُ فِیْ قَلْبِہٖ وَمَا اَقْبَلَ عَبْدٌ بِقَلْبِہٖ إِلَی اللّٰہِ إِلاَّ جَعَلَ اللّٰہُ قُلُوْبَ الْمُؤْمِنِیْنَ تَفِدُّ إِلَیْہِ بالْوَدِّ وَالرَّحْمَۃِ وَکَان اللّٰہُ إِلَیْہِ بِکُلِّ خَیْرٍ اَسْرَعُ ) (معجم الاوسط، قال البزار لیس بہ باس)
” حضرت ابو درداء ؓ بیان کرتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جہاں تک ہو سکے تم دنیا کے غموں سے چھٹکارا حاصل کرلو جس نے دنیا کی فکر کو بڑ اجان لیا اللہ تعالیٰ اس پر دنیا تنگ کردے گا اور محتاجی اس کی آنکھوں سے ٹپک رہی ہوگی۔ جس نے آخرت کو بڑی فکر سمجھ لیا اللہ تعالیٰ اس کے معاملات کو سنوار دے گا اور اس کے دل میں غنا پیدا کردے گا جو انسان اللہ کی طرف سچے دل سے متوجہ ہوجائے اللہ تعالیٰ اس کے لیے مومنوں کے دلوں میں محبت اور رحمت پید افرما دیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اس کے لیے ہر بھلائی میں جلدی کرتا ہے۔ “
(عَنْ أَبِیْ ہُرَیْرَۃَ یَقُولُ قَالَ رَسُول اللَّہِ ﷺ مَنْ قَرَأَ مِنْکُمْ (وَالتِّینِ وَالزَّیْتُونِ ) فَانْتَہَی إِلَی آخِرِہَا (أَلَیْسَ اللَّہُ بِأَحْکَمِ الْحَاکِمِینَ ) فَلْیَقُلْ بَلَی وَأَنَا عَلَی ذَلِکَ مِنَ الشَّاہِدِینَ )
(رواہ ابوداؤد : باب مِقْدَار الرُّکُوعِ وَالسُّجُودِ ، قال شعبۃ صدق رَجُلٌ من حَدَّثَ ، قال البانی حدیث ضعیف)
” حضرت ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو سورة التین آخر تک پڑھے اسے چاہیے کہ وہ کے (أَلَیْسَ اللَّہُ بِأَحْکَمِ الْحَاکِمِینَ ) جواب میں ” بَلَی وَأَنَا عَلَی ذَلِکَ مِنَ الشَّاہِدِین “ کہے۔ “
مسائل
1۔ آخرت کا انکار کرنے کے لیے انسان کے پاس کوئی جواز نہیں ہے اور سچ کے سوا کچھ نہ کہہ سکے گا۔
2۔ اللہ تعالیٰ تمام حاکموں سے بڑا حاکم ہے۔
تفسیر بالقرآن
اللہ ہی حاکم کل ہے اور اسی کا حکم ماننا چاہیے :
1۔ اللہ تعالیٰ اپنے حکم میں کسی کو شریک نہیں کرتا۔ (الکھف : 26)
2۔ خبردار اسی کا حکم چلتا ہے اور وہ جلد حساب لینے والا ہے۔ (الانعام : 62)
3۔ اللہ کا حکم ہے کہ اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو۔ (یوسف : 40)
4۔ اچھی طرح سنو ! کہ ساری کائنات کا خالق اللہ ہی ہے اور وہی حاکم مطلق ہے۔ (الاعراف : 54)
5۔ آپ ﷺ ان کے درمیان کتاب اللہ کے مطابق فیصلہ کریں۔ (المائدۃ : 49)
6۔ جو کتاب اللہ کے مطابق فیصلے نہیں کرتے وہ ظالم، فاسق اور کافر ہیں۔ (المائدۃ : 44، 45، 47)