Ayahs 96:1–5فہم القرآن
ربط سورت : اللہ تعالیٰ نے انسان کو بہترین شکل و صورت میں پیدا کیا ہے اور اسی نے انسان کو قلم کے ذریعے لکھنا پڑھنا سکھلایا ہے۔
سورة التّین کے آخر میں ارشاد ہوا کہ اللہ تعالیٰ سب حاکموں سے بڑا حاکم ہے، اس نے اپنا حکم قرآن مجید کی صورت میں نازل فرمایا ہے جس کی ابتدا اس طرح ہوئی کہ نبوت سے پہلے حضرت محمد ﷺ مکہ کے قریب غار حرا میں تشریف فرما تھے کہ اچانک جبریل امین آئے اور اس نے آپ کے سامنے اس سورت کی ابتدائی پانچ تلاوت کیں۔ نبی ﷺ نے اس واقعہ کی تفصیل سے یوں بیان فرمائی ہے۔
(وَعَنْ عَاءِشَۃَ ؓ قَالَتْ اَوَّلُ مَا بُدِئَ بِہٖ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ مِنَ الْوَحْیِ ۔۔ فَرَجَعَ بِھَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ یَرْجُفُ فُوَادُہٗ فَدَخَلَ عَلٰی خَدِیْجَۃَ فَقَالَ زَمِّلُوْنِیْ زَمِّلُوْنِیْ فَزَمَّلُوْہُ حَتّٰی ذَھَبَ عَنْہُ الرَّوْعُ فَقَالَ لِخَدِیْجَۃَ وَاخْبَرَھَا الْخَبَرَ لَقَدْ خَشِیْتُ عَلٰی نَفْسِیْ فَقَالَتْ خَدِیْجَۃُ کَلَّا وَاللّٰہِ لَا یُخْزِیْکَ اللّٰہُ اَبَدًا اِنَّکَ لَتَصِلُ الرَّحِمَ وَتَصْدُقُ الْحَدِیْثَ وَتَحْمِلُ الْکَلَّ وَتَکْسِبُ الْمَعْدُوْمَ وَتَقْرِی الضَّیْفَ وَتُعِیْنُ عَلٰی نَوَاءِبِ الْحَقِّ ثُمَّ انْطَلَقَتْ بِہٖ خَدِیْجَۃُ اِلٰی وَرَقَۃَ بْنِِ نَوْفَلِ ابْنِ عَمِّ خَدِیْجَۃَ فَقَالَتْ لَہٗ یَاابْنَ عَمِّ اِسْمَعْ مِنِ ابْنِ اَخِیْکَ فَقَالَ لَہٗ وَرَقَۃُ یَاابْنَ اَخِیْ مَاذَا تَرٰی فَاَخْبَرَہٗ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ خَبَرَ مَا رَاٰی فَقَالَ لَہٗ وَرْقَۃُ ھٰذَا النَّامُوْسُ الَّذِیْ اَنْزَلَ اللّٰہُ عَلٰی مُوْسٰی یَالَیْتَنِیْ فِیْھَا جَذَعًا لَیْتَنِیْ اَکُوْنُ حَیًّا اِذْ یُخْرِجُکَ قَوْمُکَ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ اَوَمُخْرِجِیَّ ھُمْ قَالَ نَعَمْ لَمْ یَاْتِ رَجُلٌ قَطُّ بِمِثْلِ مَا جِءْتَ بِہٖ اِلَّا عُوْدِیَ وَاِنْ یُّدْرِکْنِیْ یَوْمُکَ اَنْصُرْکَ نَصْرًا مُؤَزَّرًا ثُمَّ لَمْ یَنْشَبْ وَرَقَۃُ اَنْ تُوُفِّیَ وَفَتَرَ الْوَحْیُ ) (رواہ البخاری : باب کیف کان بدء الوحی الی رسول اللہ ﷺ
” حضرت عائشہ ؓ وحی کے بارے اس طرح بیان کرتی ہیں کہ۔۔ رسول اللہ ﷺ اس وحی کے ساتھ واپس لوٹے تو آپ کا دل گھبرا رہا تھا۔ آپ خدیجہ ؓ کے پاس آئے اور ان سے فرمایا مجھے ! کمبل اوڑھا دو ۔ انہوں نے آپ کو کپڑا اوڑھا دیا یہاں تک آپ سے خوف کی کیفیت دور ہوگئی۔ آپ نے حضرت خدیجہ ؓ کو سارا ماجرا بیان کیا اور فرمایا : مجھے اپنی جان کا خطرہ ہے، انہوں نے آپ کو تسلی دی کہ ایسا ہرگز نہیں ہوگا۔ اللہ کی قسم ! اللہ تعالیٰ آپ کو کبھی ضائع نہیں ہونے دے گا۔ آپ صلۂ رحمی کرتے ہیں، سچی بات کہتے ہیں، دوسروں کے بوجھ اٹھاتے ہیں، محتاج کی خبر گیری کرتے ہیں ‘ مہمان کو کھانا کھلاتے ہیں اور مصیبت زدہ اور ضرورت مند کی مدد کرتے ہیں۔ اس کے بعد خدیجہ ؓ آپ کو ورقہ بن نوفل کے پاس لے گئیں، جو حضرت خدیجہ ؓ کے چچا زاد بھائی تھے۔ انہوں نے ورقہ سے کہا، اے میرے چچا کے بیٹے ! اپنے بھتیجے کی بات سنیں۔ ورقہ نے آپ سے پوچھا اے میرے بھتیجے ! آپ کیا دیکھتے ہیں ؟ نبی ﷺ نے اسے پورا واقعہ بیان کیا۔ ورقہ نے کہا، یہ تو وہی فرشتہ ہے جسے اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کی طرف وحی دے کر بھیجا تھا۔ کاش ! میں تمہارے عہد نبوت میں جوان ہوتا اور کاش ! میں اس وقت زندہ ہوتا جب آپ کی قوم آپ کو مکہ سے نکال دے گی۔ نبی ﷺ نے پوچھا۔ کیا وہ مجھے نکال دیں گے ؟ ورقہ نے کہا، ہاں ! کیوں نہیں جب بھی کسی کو رسالت سے نوازا گیا تو اس کے ساتھ دشمنی کی گئی۔ جب لوگ تمہیں نکالیں گے اگر میں اس وقت تک زندہ رہا، تو تمہاری بھر پور مدد کروں گا۔ اس کے بعد ورقہ بن نوفل زیادہ دن زندہ نہیں رہے اور آپ پر وحی کا سلسلہ چند روز کے لیے منقطع رہا۔ “
مفسرین نے لکھا ہے کہ پہلی وحی میں اس سورت کی پہلی پانچ آیات نازل کی گئیں جن کی ابتدا ان الفاظ سے ہوئی ہے کہ اپنے رب کے نام سے پڑھو جس نے پورے عالم کو پیدا کیا ہے، اسی نے انسان کو جمے ہوئے خون سے پیدا کیا۔ پڑھو ! آپ کا رب بڑا ہی معزز اور کریم ہے۔ اس نے انسان کو قلم کے ذریعے علم عطا فرمایا، ایسا علم جو انسان اس سے پہلے نہیں جانتا تھا۔ اس وحی میں یہ حکم ہوا ہے کہ اپنے رب کے نام سے پڑھو ! جس کا صاف معنٰی ہے کہ نبی ﷺ اس سے پہلے اپنے رب کو پہچانتے تھے، جس رب کے نام سے آپ کو پڑھنے کا حکم دیا گیا ہے اسی نے انسان کو ایسے خون سے پیدا کیا جو جم کر ابتدا میں رحم کی جھلی کے ساتھ چمٹ جاتا ہے اور پھر اس سے انسان کی تخلیق کا آغاز ہوتا ہے۔ جس کی تفصیل چند سطور کے بعد آپ ملاحظہ فرمائیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو قلم کے ذریعے لکھنا پڑھنا سکھایا اور انسان کو وہ علم دیا جس کے بارے میں وہ نہیں جانتا تھا۔ الانسان سے مراد حضرت آدم (علیہ السلام) ہیں اور ان کے بعد ابنیائے کرام (علیہ السلام) اور پھر تمام انسان ہیں۔ دنیا میں جس قدر علم عام ہوا ہے اس کی ابتدا اور بنیاد انبیائے کرام (علیہ السلام) کا علم ہے۔ اس کے بعد وہ علوم ہیں جو اللہ تعالیٰ انسانوں کے ذہنوں میں القاء کرتا ہے۔ اسی بنیاد پر کوئی موجد اپنی ایجاد لوگوں کے سامنے پیش کرتا ہے اور یہ سلسلہ قیامت تک جاری رہے گا۔ قلم کی فضیلت اور اس کی تفصیل پارہ 29 سورة القلم کی ابتدائی آیات میں بیان ہوچکی ہے۔
(عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ؓ وَرَفَعَ الْحَدِیثَ أَنَّہُ قَالَ إِنَّ اللَّہَ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ وَکَّلَ بالرَّحِمِ مَلَکًا فَیَقُولُ أَیْ رَبِّ نُطْفَۃٌ أَیْ رَبِّ عَلَقَۃٌ أَیْ رَبِّ مُضْغَۃٌ فَإِذَا أَرَاد اللَّہُ أَنْ یَقْضِیَ خَلْقًا قَالَ قَالَ الْمَلَکُ أَیْ رَبِّ ذَکَرٌ أَوْ أُنْثَی شَقِیٌّ أَوْ سَعِیدٌ فَمَا الرِّزْقُ فَمَا الأَجَلُ فَیُکْتَبُ کَذَلِکَ فِی بَطْنِ أُمِّہِ ) (رواہ مسلم : باب کَیْفِیَّۃِ الْخَلْقِ الآدَمِیِّ فِی بَطْنِ أُمِّہِ ۔۔ )
” حضرت انس بن مالک ؓ سے روایت ہے وہ حدیث کو مرفوع بیان کرتے ہیں آپ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے رحم میں ایک فرشتہ مقرر کیا ہے وہ پوچھتا ہے اے میرے رب ! یہ نطفہ ہے اے میرے رب ! یہ گوشت کا لوتھڑا جب اللہ تعالیٰ کسی کی تخلیق کا فیصلہ فرماتا ہے آپ ﷺ نے فرمایا کہ فرشتہ کہتا ہے اے میرے رب مذکر یا مؤنث بدبخت یا خوش بخت اس کا رزق کتنا ہے اس کی عمر کتنی ہے، اسی طرح یہ سب کچھ انسان کی ماں کے پیٹ میں لکھ دیا جاتا ہے۔ “
(وَلَقَدْ خَلَقْنَا الْاِِنسَانَ مِنْ سُلَالَۃٍ مِّنْ طینٍ ثُمَّ جَعَلْنَاہُ نُطْفَۃً فِیْ قَرَارٍ مَّکِیْنٍ ثُمَّ خَلَقْنَا النُّطْفَۃَ عَلَقَۃً فَخَلَقْنَا الْعَلَقَۃَ مُضْغَۃً فَخَلَقْنَا الْمُضْغَۃَ عِظَامًا فَکَسَوْنَا الْعِظَامَ لَحْمًا ثُمَّ اَنشَءْنٰہُ خَلْقًا آخَرَ فَتَبَارَکَ اللّٰہُ اَحْسَنُ الْخَالِقِیْنَ ثُمَّ اِِنَّکُمْ بَعْدَ ذٰلِکَ لَمَیِّتُوْنَ ) (المومنون : 12 تا 15)
” اور یقیناً ہم نے انسان کو مٹی کے جوہر سے پیدا کیا۔ پھر ہم نے اسے ایک محفوظ جگہ ٹپکی ہوئی بوند میں تبدیل کیا۔ پھر اس بوند کو لوتھڑے کی شکل دی پھر لوتھڑے کو بوٹی بنایا۔ پھر بوٹی سے ہڈیاں بنائیں پھر ہڈیوں پر گوشت چڑھایا پھر اسے ایک دوسری شکل میں بناکھڑا کیا۔ بڑا ہی بابرکت ہے اللہ سب کاریگروں سے اچھا کاریگر۔ پھر اس کے بعد یقیناً تم نے مرنا ہے۔ “
مسائل
1۔ قرآن مجید کی ابتدا رب کے نام کے ساتھ کی گئی جو پورے عالم کو پیدا کرنے والا ہے۔
2۔ رب العزت نے انسان کو جمے ہوئے خون سے پیدا کیا ہے۔ 3۔ ہمار رب بڑا ہی معزز اور کریم ہے۔
4۔ ہمارے رب نے انسان کو قلم کے ذریعے علم عطا فرمایا جو انسان پہلے نہیں جانتا تھا۔
قلم کی عظمت جاننے کے لیے سورة ” ن “ کی پہلی آیت کی تفسیر ملاحظہ فرمائیں۔
Ayahs 96:6–8فہم القرآن
ربط کلام : اللہ تعالیٰ نے انسان کو حقیر نطفہ سے پیدا کیا اور پھر اسے علم اور فہم کے ذریعے دوسری مخلوق سے معزز بنایا لیکن انسان اپنے رب کا تابعدار ہونے کی بجائے اس کا باغی بن جاتا ہے۔ آپ پڑھ چکے ہیں کہ سورة التّین میں چار قسمیں اٹھاکر اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے کہ ہم نے انسان کو بہترین شکل و صورت میں پیدا کیا ہے نہ صرف اسے بہترین شکل و صورت میں پیدا کیا ہے بلکہ انسان کو قلم کے ذریعے علم کی دولت سے مالا مال فرمایا۔ اس بنا پر انسان دوسری مخلوق کو اپنے تابع بنا لیتا ہے، چاہیے تو یہ کہ انسان اپنے رب کا تابع فرمان اور شکرگزار ہوتا لیکن اکثر انسانوں کی حالت یہ ہے کہ جونہی انہیں کچھ اختیارات اور وسائل حاصل ہوتے ہیں تو وہ نہ صرف اپنے رب کے باغی بن جاتے ہیں بلکہ دوسروں کی گمراہی کا سبب بھی بنتے ہیں۔ ایسے لوگ اپنے آپ کو بڑا سمجھتے ہیں اور اپنے خالق کی ذات اور اس کے احکام کی پرواہ نہیں کرتے۔ انسان کو مال مل جائے تو بخیل ہوجاتا ہے، اختیارات حاصل ہوں تو سرکش بنتا ہے، قوت حاصل ہو تو دھنگا فساد کرتا ہے، وسائل مل جائیں تو دوسروں پر ظلم کرتا ہے۔ وہ یہ حقیقت بھول جاتا ہے کہ میں نے بالآخر اپنے رب کے حضور پیش ہونا ہے۔ اس سے اگلی آیات میں ایسے شخص کا کردار پیش کیا گیا ہے۔
(وَ اِذَا مَسَّ الْاِنْسَان الضُّرُّ دَعَانَا لِجَنْبِہٖٓ اَوْ قَاعِدًا اَوْ قَآءِمًا فَلَمَّا کَشَفْنَا عَنْہُ ضُرَّہٗ مَرَّکَاَنْ لَّمْ یَدْعُنَآ اِلٰی ضُرٍّمَّسَّہٗ کَذٰلِکَ زُیِّنَ لِلْمُسْرِفِیْنَ مَا کَانُوْا یَعْمَلُوْنَ ) (یونس : 12)
” اور جب انسان کو تکلیف پہنچتی ہے تو اپنے پہلو پر بیٹھا یا کھڑا ہوا ہمیں پکارتا ہے پھر جب ہم اس کی تکلیف دور کردیتے ہیں تو اس طرح چل دیتا ہے جیسے اس نے ہمیں کسی تکلیف کے وقت جو اسے پہنچی ہو پکارا ہی نہیں۔ اسی طرح حد سے بڑھ جانے والوں کے لیے عمل مزین کردیے گئے جو وہ کیا کرتے تھے۔ “
(وَاِِذَا اَنْعَمْنَا عَلَی الْاِِنْسَانِ اَعْرَضَ وَنَاَی بِجَانِبِہِ وَاِِذَا مَسَّہُ الشَّرُّ فَذُو دُعَاءٍ عَرِیضٍ ) (حم السجدۃ : 51)
” انسان کو جب ہم نعمت دیتے ہیں تو وہ منہ پھیرتا ہے اور اکڑ جاتا ہے، اور جب اسے کوئی آفت آتی ہے تو لمبی چوڑی دعائیں کرنے لگتا ہے۔ “
(عَنْ عُقْبَۃَ بْنِ عَامِرٍ ؓ عَنِ النَّبِی ﷺ قَالَ إِذَا رَأَیْتَ اللَّہَ یُعْطِی الْعَبْدَ مِنَ الدُّنْیَا عَلَی مَعَاصِیہِ مَا یُحِبُّ فَإِنَّمَا ہُوَ اسْتِدْرَاجٌ ثُمَّ تَلاَ رَسُول اللَّہِ ﷺ (فَلَمَّا نَسُوا مَا ذُکِّرُوا بِہِ فَتَحْنَا عَلَیْہِمْ أَبْوَابَ کُلِّ شَیْءٍ حَتَّی إِذَا فَرِحُوا بِمَا أُوتُوا أَخَذْنَاہُمْ بَغْتَۃً فَإِذَا ہُمْ مُبْلِسُونَ ) (رواہ احمد : مسند عقبۃ بن عامر قال البانی صحیح)
حضرت عقبہ بن عامر ؓ نبی ﷺ سے بیان کرتے ہیں جب اللہ بندے کو اس کی نافرمانیوں کے باوجود عطا کرتا جائے جس کا بندہ خواہش مند ہوتا ہے تو وہ اپنے رب کو بھول جاتا ہے، یہی وہ مہلت ہے جس کا یہاں ذکر کیا گیا ہے پھر آپ ﷺ نے اس آیت کی تلاوت کی (جب اس بات کو بھول گئے جس کی ہم نے انہیں نصیحت کی تھی تو ہم نے ان کے لیے ہر چیز کے دروازے کھول دیے یہاں تک کہ وہ اس پر خوش ہوگئے تو ہم نے انہیں اچانک پکڑ لیا اور وہ اس وقت مایوس ہو کے رہ گئے۔ “
مسائل
1۔ انسان کو وسائل حاصل ہوں تو وہ اپنے رب کا تابع فرمان ہونے کی بجائے اس کا نافرمان بن جاتا ہے۔
2۔ کوئی تابعدار ہو یا باغی بالآخر اس نے اپنے رب کے حضور پیش ہونا ہے۔
تفسیر بالقرآن
ہرشخص نے مر کر اپنے رب کی بارگاہ میں پیش ہونا ہے :
1۔ میں اسی کی طرف بلاتا ہوں اور اسی کی طرف مجھے لوٹ کر جانا ہے۔ (الرعد : 36)
2۔ ” اللہ “ کو ہی قیامت کا علم ہے اور اسی کی طرف تم نے لوٹنا ہے۔ (الزخرف : 85)
3۔ زمین اور جو کچھ اس میں ہے ہم ہی اس کے وارث ہیں اور وہ ہماری طرف لوٹیں گے (مریم : 40)
4۔ اللہ کے لیے زمین و آسمان کی بادشاہت ہے اور اسی کے سامنے پیش کیے جاؤ گے۔ (الزمر : 44)
5۔ وہی زندہ کرتا اور مارتا ہے اور اسی کے حضور تم نے پیش ہونا ہے (یونس : 56)
6۔ میرا اور اپنے والدین کا شکریہ ادا کرتے رہیے بالآخر تم نے میری طرف ہی لوٹ کر آنا ہے۔ (لقمان : 14)
7۔ ہماری طرف ان کا لوٹنا ہے، پھر اللہ اس پر گواہ ہے جو وہ کرتے ہیں۔ (یونس : 46)
Ayahs 96:9–19فہم القرآن
ربط کلام : باغی انسانوں میں ایک باغی کی مثال اور گھناؤنا کردار۔
مفسرین کی اکثریت نے اس آیت کا پہلا مصداق ابوجہل قرار دیا ہے۔ واقعہ یوں ہے کہ ایک دن ابوجہل قریشی سرداروں کے پاس بیٹھا ہوا تھا۔ اچانک اپنے ساتھیوں سے کہنے لگا کہ جونہی محمد ﷺ کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھوں گا تو اس کا سر کچل دوں گا۔ وہ یہ بات کررہا تھا کہ اچانک اللہ کے رسول ﷺ بیت اللہ میں داخل ہو کر نماز پڑھنے لگے۔ اس کے ساتھیوں نے ابوجہل سے کہا کہ اٹھو اور اپنا وعدہ پورا کرو نبی ﷺ اپنے رب کے حضور سجدہ ریز ہوئے تو ابوجہل پتھر لے کر آگے بڑھا ابھی آپ سے چند قدم دور تھا کہ گھبرا کر اپنے ساتھیوں کی طرف مڑا۔ اس کے ساتھیوں نے دیکھا کہ اس کا رنگ اڑا ہوا ہے اور یوں دکھائی دیتا ہے جس طرح اس پر کوئی چیز حملہ آور ہوئی ہے ابھی وہ سنبھل نہیں پایا تھا کہ اس کے ساتھیوں نے پوچھا کہ تمہارے ساتھ کیا معاملہ پیش آیا ہے۔ ابوجہل لڑکھڑاتی ہوئی زبان کے ساتھ کہنے لگا کہ جب میں پتھر لے کر اس کے قریب پہنچا اور پتھر پھینکنے کا کا ارادہ ہی کر رہا تھا کہ مجھے یوں لگا جیسے میرے اور ” محمد ﷺ “ کے درمیان آگ کی خندق حائل ہوگئی ہے، مجھے یقین ہوگیا کہ اگر میں ایک قدم آگے بڑھتا تو آگ کے بڑے بڑے شعلے مجھے اپنی لپیٹ میں لے لیتے۔ اس حالت میں بڑی مشکل سے چلتا ہوا آپ تک پہنچا ہوں۔ اس کا یوں ذکر کیا گیا ہے کہ آپ نے اس شخص کو نہیں دیکھا جس نے دین حق کو جھٹلایا اور منہ موڑ لیا۔ کیا اسے معلوم نہیں کہ اللہ تعالیٰ اسے دیکھ رہا ہے۔ اگر وہ اپنی حرکات سے باز نہ آیا تو ہم اس کی پیشانی کے بالوں سے پکڑ کر گھسیٹیں گے، یہ پیشانی وہی ہے جو کذاب اور بڑے نافرمان کی پیشانی ہے اسے چاہیے کہ وہ اپنے ساتھیوں کو بلا لے اور ہم بھی جہنم کے فرشتوں کو بلاتے ہیں۔ (العلق : 9 تا 18) غور فرمائیں کہ اگر یہ ہدایت پر ہوتا اور تقویٰ اختیار تو اسے کتنا فائدہ پہنچتا لیکن اس نے ہدایت پانے اور تقویٰ اختیار کرنے کی بجائے سچ کو جھٹلایا اور آپ سے منہ موڑ لیا۔ اے نبی ﷺ ! کسی صورت بھی اس کے پیچھے نہیں لگنا اور نہ ہی اس سے ڈرنا ہے۔ آپ اپنے رب کو سجدہ کریں اور اس کا قرب حاصل کریں۔ آپ کو اس موقع پر سجدہ کرنے اور قرب حاصل کرنے کا اس لیے حکم دیا گیا کہ ایسے موقعہ پر داعی کو مخالف سے الجھنے کی بجائے اپنے ” رب “ کی طرف متوجہ ہونا چاہیے یہی سبق ہر مسلمان کے لیے ہے کہ اسے کسی مشکل سے واسطہ پڑے تو وہ ادھر ادھر بھاگنے کی بجائے اپنے رب کی طرف رجوع کرے اور نماز کی حالت میں ” اللہ “ سے مدد طلب کرے۔ کیونکہ حکم ہے کہ اے ایمان والو ! نماز اور صبر کے ذریعے اپنے رب سے مدد طلب کرو یقیناً ” اللہ “ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔ ( البقرۃ : 153)
(یَابِلَالُ ! اَرِحْنَا بالصَّلَاۃِ ) (مسند أحمد : کتاب باقی مسند الانصار)
” اے بلال ! نماز کے ذریعے ہمیں سکون پہنچاؤ۔ “
” اَلزَّبَانِیَۃَ ” سے مراد ہے دوزخ کے وہ فرشتے ہیں جو جہنمیوں کو دوزخ کی طرف دھکیلیں گے۔
مسائل
1۔ انسان کو دین کے راستے میں رکاوٹ بننے کی بجائے ہدایت کے راستے کا معاون بننا چاہیے۔
2۔ اللہ تعالیٰ انسان کو قوت عطا فرمائے تو اسے اپنے آپ اور لوگوں کو تقویٰ کی راہ پر لگانا چاہیے۔
3۔ ہر انسان کو ہر دم خیال رکھنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ اسے ہر وقت دیکھ رہا ہے۔
4۔ جو آدمی دوسروں پر ظلم اور اپنے رب کی نافرمانی کرے گا اللہ تعالیٰ اسے جہنم میں ذلیل کرے گا۔
5۔ اللہ تعالیٰ جب کسی کو پکڑتا ہے تو پھر اس کی مدد کرنے والا کوئی نہیں ہوتا۔
6۔ ایک داعی کو کسی سے ڈرنے کی بجائے اپنا کام کیے جانا چاہیے۔
7۔ ایک مسلمان بالخصوص داعی کو نماز کے ذریعے اپنے رب کا قرب حاصل کرنا چاہیے کیونکہ ” رب “ کا قرب ہی مشکل حالات میں انسان کے لیے ڈھارس اور تسکین کا باعث اور اس کے رب کی مدد کا ذریعہ بنتا ہے۔