Ayah 87:1فہم القرآن
ربط سورت : الطارق میں انسان کو اس کی تخلیق کے حوالے سے قیامت کا ثبوت دیا ہے اور سورة الاعلیٰ میں ہر جاندار کی تخلیق کے حوالے سے قیامت کا ثبوت دیا گیا ہے کہ وہی ذات انسان کو دوبارہ زندہ کرے گی جس نے ہر چیز کو پیدا کیا اور پھر اسی نے اس کی رہنمائی کا بندوبست فرمایا ہے۔ لہٰذا ہر دم اسے یاد رکھنا چاہیے۔
یہ سورت مسبّحات میں سے چھٹی سورت ہے جس کی ابتدا باب ” سَبَّحَ یُسَبِّحُ “ کے صیغہ امر ” سَبِّحْ “ سے ہورہی ہے۔
اللہ تعالیٰ کی تسبیح پڑھنے میں یہ بات لازم ہے کہ اس کی ذات کے لیے وہی الفاظ استعمال کیے جائیں اور ایسا طریقہ اور انداز اختیار کیا جائے جس کا ثبوت قرآن اور حدیث میں پایا جاتا ہے۔ اگر کوئی شخص اپنی مادری زبان میں ” اللہ “ کی تسبیح اور پاکی بیان کرتا ہے تو اس کے لیے یہ شرط ہے کہ اس کے الفاظ، انداز اور مفہوم قرآن و سنت کے مطابق ہونے ہیں۔ البتہ نماز میں وہی الفاظ بولنے چاہیں جن کی قرآن اور حدیث میں پائے جاتے ہیں کیونکہ نماز اللہ تعالیٰ کی تسبیح اور پاکی بیان کرنے کا افضل اور مقبول ترین ذریعہ ہے۔ اس لیے لازم ہے کہ نماز قرآن وسنت کے مطابق ہونی چاہیے۔” سَبِّحِ اسْمَ رَبِّکَ الْاَعْلَی “ کے جواب میں نبی ﷺ نے رکوع اور سجدے میں یہ الفاظ پڑھنے کا حکم دیا ہے۔
” عقبہ بن عامر ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب رکوع کرتے تو تین مرتبہ یہ کلمات (سُبْحَانَ رَبِّیَ الْعَظِیْمِ ) پڑھتے اور جب سجدہ کرتے تو تین مرتبہ یہ کلمات (سُبْحَانَ رَبِّیَ الأَعْلَی) پڑھتے۔ (رواہ مسلم : باب استحباب تطویل القراء ۃ)
” حضرت عائشہ ؓ بیان کرتیں ہیں کہ نبی اکرم ﷺ رکوع و سجود میں یہ دعا پڑھا کرتے تھے۔ ( ُ سبُّوحٌ قُدُّوسٌ رَبُّ الْمَلاَءِکَۃِ وَالرُّوح) “ (رواہ مسلم : باب ما یقال فی الرکوع والسجود)
مسائل
1۔ ہر انسان کو اپنے رب کی تسبیح کرنی چاہیے۔ 2۔ اللہ تعالیٰ سب سے اعلیٰ اور عظیم الشان ہے۔
Ayahs 87:2–5فہم القرآن
ربط کلام : اللہ تعالیٰ کی تسبیح اس لیے بھی کرنا ہے کیونکہ وہ پوری کائنات کی بقا اور فنا کا مالک ہے۔
” اللہ “ ہی وہ ذات ہے جس نے اس کائنات کو بنایا اور انسان کو پیدا فرمایا ہے، نہ صرف انسان کو پیدا کیا بلکہ اس کے اعضاء اور جوارح کو اس طرح بنایا اور درست فرمایا ہے کہ پوری مخلوق میں انسان ” اللہ “ کی قدرت کا عظیم شاہکار قرار پایا ہے، انسان کو پیدا فرما کر اسے زمین و آسمانوں میں ایسی تکریم دی جو تکریم کسی اور مخلوق کو نہیں دی گئی۔ یہاں تک انسان کے اعضاء اور جوارح کا تعلق ہے اس میں اس طرح توازن قائم کیا ہے کہ ہر عضو اور جوڑ اپنی انتہا پر پہنچ کر ٹھہر جاتا ہے، یہی توازن اس نے ہر چیز میں پیدا کیا ہے اور اس کی راہنمائی کا بندوبست فرمایا ہے۔ اسی نے انسان اور ہر چیز کی تقدیر بنائی ہے جس میں آگا پیچھا نہیں ہوسکتا۔ اسی ذات نے چارہ نکالا اور پھر وہی اس کو سیاہ رنگ کا کوڑا کرکٹ بنا دیتا ہے۔ چارے سے مراد تمام قسم کی نباتات ہے جو اپنے خالق کے حکم سے زمین سے نکلتی ہے، اس کے بعد پروان چڑھتی ہے اور پھر کوڑا کرکٹ بن کر ختم ہوجاتی ہیں۔ یہی انسان کی موت وحیات اور قیامت کے دن اٹھائے جانے کا معاملہ ہے۔
اہل علم نے ہدایت کے مدارج کی بہت سی قسمیں بیان فرمائی ہیں لیکن بنیادی طور پر اس کی چار قسمیں ہیں : 1 طبعی اور فطری ہدایت 2 الہامی ہدایت 3 توفیقی ہدایت 4 وحی کی ہدایت۔
طبعی اور فطری ہدایت :
چاند، سورج اور سیارے طبعی رہنمائی کے مطابق اپنے مدار میں رواں دواں ہیں، ہوائیں اسی اصول کے تحت رخ بدلتی اور چلتی ہیں، بادل فطری رہنمائی سے ہی راستے تبدیل کرتے اور برستے ہیں حتیٰ کہ اسی اصول کے تحت درخت روشنی کی تلاش میں ایک دوسرے سے اوپر نکلتے ہیں، فطری ہدایت کے مطابق ہی مرغی کا بچہ انڈے سے نکلتے ہی ماں کے قدموں میں جا پڑتا ہے، بطخ کا بچہ خود بخود پانی کی طرف چلتا ہے اور انسان کا نومولود اپنے ماں کی چھاتی کے ساتھ چمٹتا ہے۔ قرآن نے اس طبعی اور فطری ہدایت کی اس طرح نشاندہی فرمائی ہے :
(وَھَدَیْنَاہ النَّجْدَیْنِ ) (البلد : 10) ” ہم نے اسے دو واضح راستے دکھا دیئے۔ “
الہامی ہدایت :
الہام، وحی کی ایک قسم ہے مگر وحی اور الہام میں فرق یہ ہے کہ وحی صرف انبیاء کے ساتھ خاص ہے جب کہ الہام انبیاء کے علاوہ نیک اور عام آدمی حتی کہ مکھی کو بھی الہام ہوتا ہے۔ اسی لیے قرآن مجید نے شہد کی مکھیوں کے لیے وحی یعنی الہام کا لفظ استعمال فرمایا ہے جس کا معنٰی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کسی کے دل میں کوئی بات القا فرما دیتا ہے، اسے ہدایت وہبی بھی کہا جاتا ہے۔
ہدایت بمعنٰی توفیق اور استقامت :
ہدایت کی تیسری قسم یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی عنایت اور توفیق سے اپنے بندے کی رہنمائی کرتے ہوئے اسے صراط مستقیم پر گامزن رہنے کی توفیق عطا فرما دیتا ہے۔ رسول کریم ﷺ اکثر یہ دعا کرتے تھے۔
(یَا مُقَلِّبَ الْقُلُوْبِ ثَبِّتْ قَلْبِیْ عَلٰی دِیْنِکَ ) (رواہ الترمذی : کتاب الدعوات)
” اے دلوں کو پھیرنے والے ! میرے دل کو اپنے دین پر ثابت رکھنا۔ “
(اَللّٰھُمَّ اَلْھِمْنِیْ رُشْدِیْ وَأَعِذْنِیْ مِنْ شَرِّ نَفْسِیْ ) (رواہ الترمذی : باب ماء فی جامع الدعوات)
” اے اللہ ! میری راہنمائی فرما اور مجھے میرے نفس کے شر سے محفوظ فرما۔ “
وحی اور حقیقی ہدایت :
یہ بات اچھی طرح سمجھ لینا چاہیے کہ اس ہدایت کی دوشکلیں ہیں اور دونوں آپس میں لازم وملزوم اور ضروری ہیں۔ ایک ہدایت ہے ہر نیکی کی توفیق اور اس کی ادائیگی کا طریقہ جو ہر حال میں سنت نبوی کے مطابق ہونا چاہیے، دوسری اس کی روح اور اصل ہے اسے قرآن مجید نے اخلاص سے تعبیر فرمایا ہے یعنی جو نیکی کی جائے وہ ” اللہ “ کی رضا کے لیے کی جائے اور اس کے اثرات انسان کے روح اور اعمال پر مرتب ہونے چاہئیں۔
(عَنْ عَبْدِاللَّہِ عَنِ النَّبِیِّ ﷺ أَنَّہُ کَانَ یَقُول اللَّہُمَّ إِنِّی أَسْأَلُکَ الْہُدَی وَالتُّقَی وَالْعَفَافَ وَالْغِنَی) (رواہ البخاری : باب التَّعَوُّذِ مِنْ شَرِّ مَا عَمِلَ وَمِنْ شَرِّ مَا لَمْ یَعْمَلْ )
” حضرت عبداللہ ؓ نبی کریم ﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ آپ ﷺ یہ دعا کیا کرتے تھے۔ اے اللہ ! میں تجھ سے ہدایت، پرہیزگاری، تندرستی اور استغناکا سوال کرتا ہوں۔ “
مسائل
1۔ نبی مکرم ﷺ کو قرآن یاد کروانا اللہ تعالیٰ نے اپنے ذمہ لیا تھا۔
2۔ اللہ تعالیٰ ظاہر اور باطن کو جانتا ہے اس سے کوئی بات پوشیدہ نہیں رہتی ہے۔
3۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کے لیے دین پر عمل کرنا اور لوگوں تک پہنچانا آسان کردیا۔
Ayahs 87:6–13فہم القرآن
ربط کلام : رب تعالیٰ کی قدرتوں کا ذکر جاری ہے۔ جو ” رب “ اپنی قدرت سے نباتات کو اگاتا اور اسے کوڑا کرکٹ بناتا ہے اسی نے اپنی قدرت سے نبی ﷺ کو قرآن پڑھایا اور یاد کروایا۔
ان آیات کا یہاں لانے کا ایک مقصد یہ ہے کہ جس طرح انسان اور نباتات کا پہلے وجود نہیں تھا اسی طرح وحی سے پہلے آپ کی نبوت کا وجود نہ تھا۔ انسان اور دیگر چیزوں کے لیے فنا ہے لیکن اللہ تعالیٰ کی وحی کو فنا نہیں ہے۔ نبوت کے ابتدائی دور میں نبی ﷺ وحی کو یاد رکھنے کے لیے عجلت فرمایا کرتے تھے تاکہ وحی کا کوئی حصہ بھول نہ جائے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے آپ کو اطمینان دلایا کہ اے نبی ﷺ ! آپ کو پڑھنے اور یاد کرنے میں عجلت سے کام نہیں لینا چاہیے، ہم ہی آپ کو پڑھانے والے ہیں لہٰذا آپ وحی کا کوئی حصہ بھول نہیں پائیں گے سوائے اس کے جسے اللہ تعالیٰ آپ کو بھلانا چاہے، وہ کھلی اور چھپی باتوں کو جاننے والا ہے یعنی وہ جانتا ہے کہ آپ کیوں عجلت کرتے ہیں اس لیے کہ کوئی بات فراموش نہ ہوجائے۔ بیشک وحی کو یاد رکھنا اور اس کے تقاضے پورے کرنا مشکل کام ہے لیکن ہم نے آپ کے لیے اسے آسان کردیں گے، آپ کا کام نصیحت کرنا ہے۔ لہٰذا آپ اس شخص کو نصیحت فرمائیں جو نصیحت حاصل کرنا چاہتا اور اپنے رب سے ڈرنے والا ہے نصیحت سے وہی شخص اجتناب کرے گا جو بدبخت اور نافرمان ہے یہ بھڑکتی ہوئی آگ میں جھونکا جائے گا، اسے وہاں نہ موت آئے گی اور نہ ہی اس کے لیے زندگی ہوگی، گویا کہ یہ موت وحیات کی کشمکش میں رہے گا۔ وحی کو من وعن یاد رکھنا، اس کے مطابق عمل کرنا اور پھر اسے جوں کا توں لوگوں تک پہنچانا بڑا مشکل کام ہے۔ جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ یہ کام اس قدر بھاری تھا کہ قریب تھا کہ آپ کی کمر ٹوٹ جائے لیکن اللہ تعالیٰ نے آپ کے لیے اسے آسان فرما دیا۔ (سورۃ : الم نشرح) یہی وجہ ہے کہ جتنے قلیل عرصہ میں نبی معظم ﷺ نے ہمہ گیر انقلاب برپا کیا۔ آپ سے پہلے اور آپ کے بعد اس کی کوئی مثال نہیں ملتی، جہاں تک آپ کا کسی بات کو بھول جانے کا معاملہ ہے اس کا یہ معنٰی نہیں کہ آپ دین کا کوئی حصہ کلی طور پر بھول گئے۔ آپ ﷺ کی حیات طیبہ میں اس کی کوئی مثال موجود نہیں البتہ دو تین مرتبہ نماز کی رکعات میں آپ کو سہو ہوا اور ایک، دو دفعہ نماز کے دوران تلاوت کرتے ہوئے سہو کا شکار ہوئے۔ اس کے علاوہ کوئی اور مثال موجود نہیں۔
(عَنْ اَبِیْ ھُرَےْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ مَنْ دَعَا اِلٰی ھُدًی کَانَ لَہُ مِنَ الْاَجْرِ مِثْلُ اُجُوْرِ مَنْ تَبِعَہُ لَا ےَنْقُصُ ذَلِکَ مِنْ اُجُوْرِھِمْ شَےْءًا وَّمَنْ دَعَا اِلٰی ضَلَالَۃٍ کَانَ عَلَےْہِ مِنَ الْاِثْمِ مِثْلَ اٰثَامِ مَنْ تَبِعَہُ لَا ےَنْقُصُ ذَلِکَ مِنْ اٰثَامِھِمْ شَےْءًا) (رواہ مسلم : کتاب العلم)
” حضرت ابوہریرہ ؓ رسول معظم ﷺ کا فرمان نقل کرتے ہیں کہ خیر کی دعوت دینے والے کو اس پر عمل کرنے والے کے برابر ثواب ملے گا جبکہ ان لوگوں کے اجر میں کوئی کمی واقع نہیں ہوگی۔ جس نے برائی کا پرچار کیا وہ اس پر عمل کرنے والے کے برابر گنہگار ہوگا۔ اس سے ان کے گناہوں میں کوئی کمی نہیں ہوگی۔ “
مسائل
1۔ لوگوں کو نصیحت کرتے رہنا چاہیے۔ نصیحت کرنے میں ہی ایک مبلغ اور دوسروں کا فائدہ ہے۔
2۔ نصیحت وہی شخص حاصل کرتا ہے جو اپنے رب سے ڈرتا اور گناہوں سے بچتا ہے۔
3۔ جو ” اللہ “ کے خوف سے بےخوف ہوا اور سرکشی کرتارہا وہ بھڑکتی ہوئی آگ میں پھینکا جائے گا۔
4۔ جہنم میں نہ موت آئے گی اور نہ اس میں زندگی ہوگی۔
تفسیر بالقرآن
اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ کو قرآن پڑھانا، اسے یاد کروانا اور اس کا ابلاغ کروانا اپنے ذمہ لیا تھا :
1۔ نبی اکرم ﷺ سے قرآن پاک کی تلاوت کروانا ” اللہ “ کے ذمہ ہے۔ ( القیامہ : 17)
2۔ قرآن کی حفاظت کا کرنا اللہ تعالیٰ نے اپنے ذمہ لے رکھا ہے۔ ( الحجر : 9)
3۔ قرآن کی وضاحت بھی ” اللہ “ کے ذمہ ہے۔ (القیامہ : 19)
Ayahs 87:14–19فہم القرآن
ربط کلام : جہنمیوں کے مقابلے میں جنتی لوگوں کا کردار۔
وہ شخص جہنم سے بچ جائے گا جس نے اپنے آپ کو پاک رکھا، اور اپنے رب کو یاد رکھا اور اس کے حضور پنجگانہ نماز ادا کرتارہا۔ ” تَزَکیّٰ “ سے پہلی مراد کفر اور شرک سے بچنا ہے۔ گناہوں سے بچنے کے لیے لازم ہے کہ آدمی فرض نماز ادا کرتا رہے اور ہر حال میں اپنے رب کو یاد رکھے۔ رب کو یاد کرنے سے مراد صرف یہ نہیں کہ زبان سے ” لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ “ پڑھے اور توبہ کا ورد کرتا رہے مگر عملی طور پر کفر و شرک اور نافرمانی کے کاموں میں مبتلا رہے۔ ذکر کا پہلا مقصد یہ ہے کہ ہر حال میں اپنے رب کے احکام کو یاد رکھے اور ان پر عمل پیرا ہونے کی کوشش کرتا رہے۔ بصورت دیگر اسے دنیا میں ذکر کرنے اور نماز پڑھنے کا فائدہ ہوگا لیکن آخرت میں کوئی فائدہ نہیں ہوگا، یہ کام تب ہی ہوسکتا ہے جب مسلمان دنیا کے مفاد پر آخرت کو مقدم جانے۔ لیکن لوگوں کی اکثریت کا حال یہ ہے کہ وہ دنیا کی خاطر اللہ تعالیٰ کی ذات اور اس کے احکام کی پرواہ نہیں کرتے حالانکہ آخرت دنیا سے ہر اعتبار سے بہتر اور ہمیشہ ہمیش رہنے والی ہے۔ یہی احکام اور نصائح آسمانی صحائف میں پائے جاتے ہیں بالخصوص صحف ابراہیم (علیہ السلام) اور صحف موسیٰ (علیہ السلام) میں ان کا بڑی تفصیل سے ذکر موجود ہے۔ صحف ابراہیم کا تذکرہ اس لیے کیا ہے کہ وہ جد الانبیاء ہیں اور دنیا میں کوئی ایسا مذہب نہیں جو ابراہیم (علیہ السلام) کی نصیحت اور ان کے افکار و کردار سے متاثر نہ ہو۔ موسیٰ (علیہ السلام) پر نازل ہونے والے صحف تورات کی صورت میں نازل ہوئے ان کے بعد حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) پر انجیل نازل کی گئی جو تورات کے احکام کا خلاصہ اور ان کی تشریح پر مبنی ہے، لہٰذا تورات ہی حقیقت میں قرآن مجید سے پہلے جامع کتاب تھی اور ہے۔
(عَنْ أَبِيْ ھُرَیْرَۃَ ؓ عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَال اللّٰہُ تَعَالٰی أَنَا مَعَ عَبْدِيْ حَیْثُمَا ذَکَرَنِيْ وَتَحَرَّکَتْ بِيْ شَفَتَاہُ ) (رواہ البخاری : باب قول اللہ تعالیٰ (لاتحرک بہ لسانک الخ)
” حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا : اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں میں اپنے بندے کے ساتھ ہوتا ہوں، وہ جہاں کہیں بھی میرا ذکر کرے اور جب اس کے ہونٹ میرے ذکر میں حرکت کریں۔ “
(عَنْ أَبِيْ ھُرَیْرَۃَ ؓ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ قَال الصَّلَوَاۃُ الْخَمْسُ وَالْجُمْعَۃُ إِلَی الْجُمْعَۃِ کَفَّارَۃٌ لِّمَا بَیْنَھُنَّ مَالَمْ تُغْشَ الْکَبَاءِرُ ) (رواہ مسلم : باب الصلواۃ الخمس والجمعۃ إلی الجمعۃ۔۔ )
” حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب کبیرہ گناہ کا ارتکاب نہ کیا جائے تو پانچ نمازیں اور جمعہ سے جمعہ تک کے گناہوں کا کفارہ ہوتا ہے۔ “
مسائل
1۔ جس نے اپنے آپ کو شرک سے پاک رکھا وہ کامیاب ہوگا۔
2۔ جس نے نماز کا التزام کیا اور اپنے رب کو یاد رکھا وہ کامیاب ہوگا۔
3۔ لوگوں کی اکثریت کا عالم یہ ہے کہ لوگ آخرت کے مقابلے میں دنیا کو مقدم جانتے ہیں حالانکہ آخرت دنیا سے بدرجہا بہتر اور ہمیشہ رہنے والی ہے۔
4۔ یہ نصیحتیں پہلے صحیفوں بالخصوص حضرت ابراہیم اور حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کے صحف میں موجود ہیں۔
تفسیر بالقرآن
کامیاب ہونے والے لوگوں کے اوصاف :
1۔ اللہ کے بندے اس کی توحید کا اقرار کرنے کے بعد اس پر ڈٹ جاتے ہیں۔ (الاحقاف : 14، حم السجدۃ : 30)
2۔ اللہ کے بندے آپ ” رب “ پر ایمان لاتے ہیں اور نیک اعمال کرتے ہیں۔ (البقرۃ : 82)
3۔ اللہ کے بندے اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرتے ہیں۔ (النساء : 13)
4۔ محسنین تنگی اور کشادگی میں اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں، غصہ کو پی جاتے ہیں اور لوگوں کو معاف کردیتے ہیں۔ (آل عمران : 134) 5۔ اللہ کے بندے اس سے ڈرنے والے ہوتے ہیں۔ (الرحمن : 46)
6۔ اللہ تعالیٰ صبر کرنے والے محسنین کے اجر کو ضائع نہیں کرتا۔ ( ھود : 115)
7۔ احسان کرو یقیناً اللہ احسان کرنے والوں کو پسند فرماتا ہے۔ (البقرۃ : 195)
8۔ انھیں معاف کیجیے اور در گزر کیجیے یقیناً اللہ محسنین کو پسند فرماتا ہے۔ (المائدۃ : 13)