Ayahs 86:1–4فہم القرآن
ربط سورت : البروج کے آخر میں یہ ارشاد ہوا کہ جو لوگ ” اللہ “ کے ارشادات اور قیامت کو جھٹلاتے ہیں وہ انہیں ہر جانب سے گھیرے ہوئے ہے۔ الطّارق میں نجم ثاقب کی قسم اٹھا کر بتلایا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہر نفس پر نگران مقرر کر رکھے ہیں اور جو شخص قیامت کا انکار کرتا ہے اسے اپنی تخلیق پر غور کرنا چاہیے جو اس بات کا ثبوت ہے کہ جس رب نے انسان کو عدم سے وجود بخشا ہے وہی رب قیامت کے دن انسان کو دوبارہ عدم سے وجود میں لائے گا۔
آسمان اور رات کے وقت نمودار ہونے والے ستارے کی قسم ! آپ کیا جانیں کہ رات کے وقت طلوع ہونے والا کیا ہے ؟ وہ ایک چمکنے والا ستارہ ہے۔ اہل علم نے وضاحت فرمائی ہے کہ اس سے مراد وہ ستارہ ہے جو صبح صادق کے وقت طلوع ہوتا ہے اور دیکھنے والے کو یوں معلوم ہوتا ہے جیسے کوئی شخص ہاتھ میں لیمپ لیے ہوئے مشرق سے مغرب کی طرف جارہا ہو۔ جوں جوں اس ستارے کے غروب ہونے کا وقت آتا ہے اسی رفتار سے صبح روشن ہوتی چلی جاتی ہے۔ اس ستارے کی قسم کھا کر ثابت کیا ہے کہ جس طرح یہ ستارہ نمودار اور غروب ہوتا ہے اسی طرح انسان کی زندگی اور موت کا معاملہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے بلند وبالا آسمان اور اس ستارے کی قسم کھا کر انسان کو یہ بات سمجھائی ہے کہ اے انسان ! تجھے کھلا نہیں چھوڑ دیا گیا بلکہ تو آسمان کے نیچے مقید ہے اور تجھ پر نگران مقرر کیے گئے ہیں، ان میں کچھ ملائکہ ہیں جو تیری حرکات و سکنات کو ضبط تحریر میں لارہے ہیں اور کچھ ایسے ہیں جو تیری حفاظت پر مامور ہیں۔ جب تک انہیں حفاظت کرنے کا حکم ہوتا ہے اس وقت تک تو انسان کی حفاظت کرتے ہیں۔ جب اللہ کا لکھا ہوا غالب آتا ہے تو وہ پیچھے ہٹ جاتے ہیں، جونہی وہ پیچھے ہٹتے ہیں تو اللہ تعالیٰ کی تقدیر انسان پر نافذ ہوجاتی ہے اور اس کے نفاذ کے وقت کوئی طاقت انسان کو بچا نہیں سکتی پھر وہی کچھ ہوتا ہے جو ” اللہ “ چاہتا ہے۔
(لَہٗ مُعَقِّبٰتٌ مِّنْ بَیْنِ یَدَیْہِ وَ مِنْ خَلْفِہٖ یَحْفَظُوْنَہٗ مِنْ اَمْرِ اللّٰہِ ) (الرعد : 11)
” اس کے لیے اس کے آگے اور اس کے پیچھے یکے بعد دیگرے مقرر کیے ہوئے نگران ہیں، جو اللہ کے حکم سے اس کی حفاظت کرتے ہیں۔
(عَنْ اَبِیْ ھُرَےْرَۃَ ؓ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ ےَتَعَاقَبُوْنَ فِےْکُمْ مَلَآءِکَۃٌ باللَّےْلِ وَمَلَآءِکَۃٌ بالنَّھَارِ وَےَجْتَمِعُوْنَ فِیْ صَلٰوۃِ الْفَجْرِ وَصَلٰوۃِ الْعَصْرِ ثُمَّ ےَعْرُجُ الَّذِےْنَ بَاتُوْا فِےْکُمْ فَےَسْأَلُھُمْ رَبُّھُمْ وَھُوَ اَعْلَمُ بِھِمْ کَےْفَ تَرَکْتُمْ عِبَادِیْ فَےَقُوْلُوْنَ تَرَکْنٰھُمْ وَھُمْ ےُصَلُّوْنَ وَ اٰتَےْنٰھُمْ وَھُمْ ےُصَلُّوْنَ ) (رواہ البخاری : کتاب مواقیت الصلاۃ، باب فَضْلِ صَلاَۃِ الْعَصْر)
” حضرت ابو ہریرۃ ؓ بیان کرتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تمہارے پاس رات اور دن کو ایک دوسرے کے پیچھے فرشتے آتے ہیں اور وہ فجر اور عصر کی نماز میں جمع ہوتے ہیں۔ رات والے فرشتے جاتے ہیں تو ان سے ان کا رب سوال کرتا ہے حالانکہ اللہ تعالیٰ سب کچھ جانتا ہے کہ تم نے میرے بندوں کو کس حال میں چھوڑا فرشتے جواب دیتے ہیں کہ جب ہم ان کے ہاں پہنچے تو وہ نماز ادا کررہے تھے اور جب ہم ان سے واپس ہوئے تو پھر بھی وہ نماز کی حالت میں تھے۔
مسائل
1۔ اللہ تعالیٰ نے آسمان اور ستارے کی قسم اٹھا کر بتلایا ہے کہ اس نے ہر انسان پر نگران مقرر کر رکھے ہیں۔
2۔ کچھ ملائکہ انسان کی حفاظت کرتے ہیں اور کچھ اس کے اعمال لکھتے ہیں۔
تفسیر بالقرآن
اللہ تعالیٰ نے ہر انسان پر نگر ان مقرر کر رکھے ہیں :
1۔ بیشک میرا رب ہر چیز پر نگہبان ہے۔ (ھود : 57) 2۔ اللہ ہی سب کی حفاظت کرنے والا ہے۔ (الانبیاء : 82)
3۔ ہر ایک کی حفاظت کے لیے فرشتے مقرر ہیں۔ (الرعد : 11)
4۔ وہ اپنے بندوں پر غالب ہے ” اللہ “ نے بندوں کی حفاظت کے لیے فرشتے مقرر کیے ہیں۔ (الانعام : 61)
Ayahs 86:5–10فہم القرآن
ربط کلام : جس خالق نے انسان پر نگران مقرر کیے ہیں وہی انسان کو ٹپکتے ہوئے پانی سے پیدا کرنے والا ہے اور اسی نے اسے قیامت کے دن زندہ کرنا اور اپنے حضور کھڑا کرنا ہے۔
قرآن مجید نے کئی مقامات پر انسان کو اس کی تخلیق کے بارے میں متوجہ کیا اور فرمایا ہے کہ اے انسان ! تجھے اپنی پیدائش پر غور کرنا چاہیے کہ تیرے رب نے تجھے کن مراحل سے گزار کر پیدا کیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ تیری ابتدا اچھلتے ہوئے پانی کے ایک قطرے سے ہوئی ہے جو مرد کی پیٹھ اور عورت کے سینے کی ہڈیوں سے نکلتا ہے۔ یقین جان ! کہ تیرا رب تجھے دوبارہ پیدا کرنے پر قادر ہے نہ صرف تجھے دوبارہ پیدا کرے گا بلکہ اس دن دلوں کے تمام راز آشکارا ہوجائیں گے۔ جس کی اس کے برے اعمال کی وجہ سے گرفت کی گئی اسے کوئی بچانے والا نہیں ہوگا۔
یہاں صلب اور ترائب کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں۔ صُلب ریڑھ کی ہڈی کو کہتے ہیں اور ترائب کے معنٰی ہیں سینے کی ہڈیاں یعنی پسلیاں۔ چونکہ عورت اور مرد دونوں کے مادۂ تولید انسان کے جسم کے اس حصہ سے خارج ہوتے ہیں جو صلب اور سینے کے درمیان واقع ہے۔ اس لیے فرمایا ہے کہ انسان اس پانی سے پیدا کیا گیا ہے جو پیٹھ اور سینے کے درمیان سے نکلتا ہے یہ مادہ اس صورت میں بھی پیدا ہوتا ہے جبکہ ہاتھ اور پاؤں کٹ جائیں۔ اس لیے یہ کہنا صحیح نہیں کہ یہ انسان کے پورے جسم سے خارج ہوتا ہے۔ درحقیقت جسم کے اعضاءِ رئیسہ اس کے ماخذ ہیں اور وہ سب آدمی کے دھڑ میں واقع ہیں۔ دماغ کا الگ ذکر اس لیے نہیں کیا گیا کہ صلب دماغ کا وہ حصہ ہے جس کی بدولت ہی جسم کے ساتھ دماغ کا تعلق قائم ہوتا ہے۔ علم الجنین (embryology) رو سے یہ ثابت شدہ حقیقت کہ جنین (Foetus) کے اندر انثیین (testes) یعنی وہ غدود جن سے مادۂ منویہ پیدا ہوتا ہے، ریڑھ کی ہڈی اور پسلیوں کے درمیان گردوں کے قریب ہوتے ہیں جہاں سے بعد میں یہ آہستہ آہستہ فوطوں میں اتر جاتے ہیں۔ یہ عمل ولادت سے پہلے اور بعض اوقات اس کے کچھ بعد ہوتا ہے۔ بلکہ ان کی شریان (Artery) پیٹھ کے قریب شہ رگ (Aorta) سے نکلتی ہے اور پورے پیٹ کا سفر طے کرتی ہوئی ان کو خون مہیا کرتی ہے۔ اسی طرح حقیقت میں انثیین میں پیٹھ ہی کا جز ہیں جو منویہ اگرچہ انثیین پیدا کرتے ہیں اور کیسۂ منویہ (Seminal Vesicles) میں جمع ہوجاتا ہے مگر اس کے اخراج کا مرکز تحریک ” بَیْنِ الصُّلْبِ وَالتَّرَآءِبِ “ ہی ہوتا ہے اور دماغ سے اعصابی رو جب اس مرکز کو پہنچتی ہے تب اس مرکز کی تحریک (Triger action) سے کیسۂ منویہ سکڑتا ہے اور اس سے ماء دافق پچکاری کی طرح نکلتا ہے۔ اس لیے قرآن کا بیان ٹھیک ٹھیک علم طب کی جدید تحقیقات کے مطابق ہے۔ (تفہیم القرآن تفسیر سورت ہذا)
مسائل
1۔ انسان کو اچھلتے ہوئے پانی سے پیدا کیا گیا ہے جو مرد کی پیٹھ اور عورت کے سینے سے نکلتا ہے۔
2۔ اللہ تعالیٰ ہی انسان کو پیدا کرنے والا ہے اور وہی قیامت کے دن اسے پیدا کرے گا۔
3۔ قیامت کے دن تمام راز آشکارا ہوجائیں گے اور اس دن مجرم کی کوئی مدد نہیں کرسکے گا۔
تفسیر بالقرآن
انسان کی تخلیق کے مختلف مراحل :
1۔ یقیناً ہم نے انسان کو کھنکھناتی ہوئی مٹی سے پیدا کیا ہے۔ (الحجر : 26) 2۔ حواکو آدم سے پیدا فرمایا۔ (النساء : 1)
3۔ انسان کو اللہ نے مٹی سے پیدا کیا ہے۔ (آل عمران : 59) 4۔ اللہ نے انسان کو مخلوط نطفہ سے پیدا کیا۔ (الدھر : 2)
5۔ اللہ نے انسان کو مٹی کے جوہر سے پیدا کیا۔ (المومنون : 12)
6۔ اللہ نے تمہیں مٹی سے پیدا کیا، پھر اسے نطفہ بنایا، پھر اس سے خون کا لوتھڑا، پھر اس سے بوٹی بنا کر پیدا کیا۔ (الحج : 5)
7۔ اللہ نے تمہیں مٹی سے پیدا کیا، پھر نطفہ، پھر لوتھڑا بنا کر تمہیں پیدا کرتا ہے کہ تم بچے ہوتے ہو۔ (المومن : 67)
8۔ کیا تو اس ذات کا کفر کرتا ہے جس نے تجھے مٹی سے پیدا فرمایا۔ (الکہف : 37)
9۔ اللہ کی نشانیوں میں سے ایک نشانی یہ بھی ہے کہ اس نے تمہیں مٹی سے پیدا فرمایا۔ (الروم : 20)
10۔ اللہ تعالیٰ نے تمہیں مٹی سے پیدا کیا، پھر نطفہ سے، پھر تمہارے جوڑے جوڑے بنائے۔ (فاطر : 11)
Ayahs 86:11–17فہم القرآن
ربط کلام : جس خالق نے انسان کو پیدا کیا ہے وہ ہر صورت اسے قیامت کے دن اٹھا کر اپنی بارگاہ میں پیش کرے گا۔
اللہ تعالیٰ نے اس مقام پر یہ بات فرما کر زمین و آسمان کی قسم اٹھائی ہے کہ قسم ہے اس آسمان کی جو بارش برساتا ہے اور قسم ہے اس زمین کی جو پھٹ جاتی ہے کہ ” اللہ “ کا فرمان فیصلہ کن ہے یہ کوئی بےمقصد بات نہیں ہے۔ یہاں تک جو لوگ تدبیریں اور سازشیں کررہے ہیں انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ ہم بھی تدبیر کرنے والے ہیں اور ہماری تدبیر کے مقابلے میں کسی کی تدبیر اور سازش اسے فائدہ نہیں دے سکتی لہٰذا کفار کو تھوڑی سی مزید مہلت دیں۔ اس مقام پر آسمان کے لیے ” ذات الرجع “ اور زمین کے لیے ” ذَات الصَّدْعِ “ کے الفاظ استعمال کیے ہیں جس کا مفسرین نے یہ معنی لیا ہے کہ آسمان سے بارش کی صورت میں جو پانی برستا ہے اس کا کافی حصہ بخارات کی صورت میں اڑ کر فضا میں بادلوں کی شکل اختیار کرتا ہے اور پھر وہی بارش کی صورت میں برستا ہے گویا کہ ایک سرکل (CIRCLE) چل رہا ہے۔ زمین کے لیے ” ذَات الصَّدْعِ “ کا لفظ اس لیے استعمال کیا ہے کہ جب اس سے بیج نکلتا ہے تو زمین اپنا سینہ کھول دیتی ہے یعنی پھٹ جاتی ہے۔ اسی طرح ہی قیامت کے دن پھٹ جائے گی اور لوگ اس سے نکل کھڑے ہوں گے۔ زمین اور آسمان کی قسم اٹھا کر واضح کیا ہے کہ انسان کا اللہ کی طرف لوٹنا فیصلہ کن بات ہے۔ ہر انسان کو بارش کے برسنے اور زمین کے پھٹنے پر غور کرنا چاہیے کہ جس طرح بارش برسنے سے زمین سے بیج اگتے ہیں، اسی طرح ہی اللہ تعالیٰ انسان کو قیامت کے دن پیدا کرے گا۔ یہ مذاق یا فضول بات نہیں ہے۔ اگر قیامت کا انکار کرنے والوں کو اللہ تعالیٰ فی الفور نہیں پکڑتا تو اس میں اس کی حکمت یہ ہے کہ کفار کو اپنی سازشیں اور شرارتیں کرنے کا موقع دیا جائے۔ اسی بات کو آل عمران میں یوں بیان کیا ہے۔
(وَ لَا یَحْزُنْکَ الَّذِیْنَ یُسَارِعُوْنَ فِی الْکُفْرِ اِنَّہُمْ لَنْ یَّضُرُّوا اللّٰہَ شَیْءًا یُرِیْدُ اللّٰہُ اَلَّا یَجْعَلَ لَہُمْ حَظًّا فِی الْاٰخِرَۃِ وَ لَہُمْ عَذَابٌ عَظِیْمٌ۔ اِنَّ الَّذِیْنَ اشْتَرَوُا الْکُفْرَ بالْاِیْمَانِ لَنْ یَّضُرُّوا اللّٰہَ شَیْءًا وَ لَہُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ۔ وَ لَا یَحْسَبَنَّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْٓا اَنَّمَا نُمْلِیْ لَہُمْ خَیْرٌ لِّاَنْفُسِہِمْ اِنَّمَا نُمْلِیْ لَہُمْ لِیَزْدَادُوْٓا اِثْمًا وَ لَہُمْ عَذَابٌ مُّہِیْنٌ) (آل عمران : 176 تا 178)
” آپ کو کفر میں آگے بڑھنے والے لوگ پریشان نہ کریں یہ اللہ کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے۔ اللہ چاہتا ہے کہ ان کے لیے آخرت میں کوئی حصہ نہ رہے اور ان کے لیے بڑا عذاب ہے۔ کفر کو ایمان کے بدلے خریدنے والے۔ اللہ کو ہرگز نقصان نہیں پہنچا سکتے اور ان کے لیے درد ناک عذاب ہے۔ کافر ہماری دی ہوئی مہلت کو اپنے حق میں بہتر نہ سمجھیں ہم نے یہ مہلت اس لیے دی ہے کہ وہ گناہوں میں اور بڑھ جائیں اور ان کے لیے ذلیل کردینے والا عذاب ہے۔ “
مسائل
1۔ اللہ تعالیٰ کا فیصلہ کن ارشاد ہے کہ وہ ہر انسان کو قیامت کے دن اٹھائے گا اور اس کے تمام راز آشکارہ کرے گا۔
2۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان فیصلہ کن ہے یہ مذاق اور بےمقصد بات نہیں ہے۔
3۔ کفار اور مشرکین اسلام کے بارے میں سازشیں کرتے ہیں تو اللہ تعالیٰ بھی ان کے خلاف تدبیر کرنے والا ہے۔
تفسیر بالقرآن
قیامت کے دن ہر صورت انسان کو اٹھنا اور اپنے رب کے حضور پیش ہونا ہے :
1۔ میں اسی کی طرف بلاتا ہوں اور اسی کی طرف مجھے واپس جانا ہے۔ (الرعد : 36)
2۔ ” اللہ “ کو ہی قیامت کا علم ہے اور اسی کی طرف تم نے لوٹنا ہے۔ (الزخرف : 85)
3۔ زمین اور جو کچھ اس میں ہے ہم اس کے وارث ہیں اور لوگ ہماری طرف لوٹیں گے (مریم : 40)
4۔ اللہ کے لیے زمین و آسمان کی بادشاہت ہے اور اسی کے سامنے ہر کسی کو لوٹ کر جانا ہے۔ (الزمر : 44)
5۔ وہی زندہ کرتا اور مارتا ہے اور اسی کے حضور تم نے پیش ہونا ہے (یونس : 56)