85. Surah Al-Burooj

البروجThe Constellations · 22 ayahsفہم القرآن

تعارف

تعارف

سورة البروج کا تعارف یہ سورت مکہ معظمہ میں نازل ہوئی اس کا ایک رکوع ہے جو بائیس آیات کا احاطہ کرتا ہے اس کا نام اس کی پہلی آیت میں موجود ہے۔ اس میں اصحاب الاخدود کا واقعہ ذکر کیا گیا ہے جن پر اس لیے ظلم کیا گیا کہ وہ اپنے ” اللہ “ پر ایمان لائے تھے جو بڑا غالب اور لائق تعریف ہے۔ جن لوگوں نے مومن مردوں اور مومن عورتوں پر ظلم کیا اگر انہوں نے توبہ نہ کی تو ان کے لئے جلا دینے والا عذاب ہوگا۔ جنہوں نے ایمان کی خاطر ظلم برداشت کیا ان کے لیے جنت ہوگی جو ان کے لیے بڑی کامیابی ہوگی۔ لوگوں کو معلوم ہونا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ ہی پہلی اور دوسری بار پیدا کرنے والا ہے جو معاف فرمانے والا اور نیک لوگوں سے محبت کرنے والا ہے۔ البتہ وہ ظالموں کے لیے بڑا سخت ہے جو اس کی سختی کا اندازہ لگانا چاہیں انہیں فرعون، ثمود اور اس قسم کے لوگوں کے انجام پر غور کرنا چاہیے۔

Ayahs 85:1–9

وَ السَّمَآءِ ذَاتِ الْبُرُوْجِۙ Open ayah 85:1 in the Quran reader

قسم ہے مضبوط برجوں والے آسمان کی

وَ الْیَوْمِ الْمَوْعُوْدِۙ Open ayah 85:2 in the Quran reader

اور اس دن کی جس کا وعدہ دیا گیا ہے

وَ شَاهِدٍ وَّ مَشْهُوْدٍؕ Open ayah 85:3 in the Quran reader

اور حاضر ہونے والے کی اور حاضر کیے گئے کی

قُتِلَ اَصْحٰبُ الْاُخْدُوْدِۙ Open ayah 85:4 in the Quran reader

خندقوں والے مارے گئے

النَّارِ ذَاتِ الْوَقُوْدِۙ Open ayah 85:5 in the Quran reader

ان میں جلنے والے ایندھن کی آگ تھی

اِذْ هُمْ عَلَیْهَا قُعُوْدٌۙ Open ayah 85:6 in the Quran reader

جب وہ اس خندقوں کے کناروں پر بیٹھے ہوئے تھے

وَّ هُمْ عَلٰى مَا یَفْعَلُوْنَ بِالْمُؤْمِنِیْنَ شُهُوْدٌؕ Open ayah 85:7 in the Quran reader

اور جو کچھ وہ ایمان والوں کے ساتھ کر رہے تھے۔ اسے دیکھ رہے تھے

وَ مَا نَقَمُوْا مِنْهُمْ اِلَّاۤ اَنْ یُّؤْمِنُوْا بِاللّٰهِ الْعَزِیْزِ الْحَمِیْدِۙ Open ayah 85:8 in the Quran reader

اور مومنوں کے ساتھ ان کی دشمنی اس وجہ سے تھی کہ مومن اس اللہ پر ایمان لائے تھے جو زبردست اور لائق تعریف ہے

الَّذِیْ لَهٗ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ شَهِیْدٌؕ Open ayah 85:9 in the Quran reader

جو آسمانوں اور زمین کی سلطنت کا مالک ہے۔ اور اللہ ہر چیز پر نگران ہے

فہم القرآن ربط سورت : سورة الانشقاق کے آخر میں دو کردار اور ان کا الگ الگ انجام بیان ہوا۔ اسی بات کو البروج میں تھوڑی سی تفصیل کے ساتھ ذکر فرما کر یہ واضح کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نیک لوگوں پر بڑا مہربان ہے، فرعون اور ثمود جیسا کردار رکھنے والوں کے لیے بڑا سخت ہے۔ فلکیات کے ماہرین نے آسمان دنیا کے بارہ برج متعین کر رکھے ہیں مگر قرآن مجید کے بروج سے مراد یہ برج نہیں ہیں۔ کچھ اہل علم نے قرآنی بروج سے مراد پہلے آسمان کے دروازے لیے ہیں جن دروازوں کے ذریعے ملائکہ زمین پر اترتے اور پھر آسمان میں داخل ہوتے ہیں۔ قرآن مجید کے الفاظ سے یہ نتیجہ اخذ کرنے کی گنجائش ہے کہ بروج سے مراد آسمان کے دروازوں میں ڈیوٹی دینے والے ملائکہ ہو، جن کو اللہ تعالیٰ نے شہاب ثاقب کی صورت میں اسلحہ دے رکھا ہے جن سے وہ شیاطین کو مارتے اور بھگاتے ہیں۔ اکثر علماء نے بروج سے مراد ستارے اور سیارے لیے ہیں۔ جن سے آسمان کو خوبصورت اور محفوظ بنایا گیا ہے۔ تاہم سرور دوعالم ﷺ سے ہمیں بروج کے بارے میں کوئی وضاحت نہیں ملتی البتہ آپ ﷺ نے آسمان کی حفاظت اور شیاطین کے تعاقب کے بارے میں ارشاد فرمایا ہے۔ (عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ؓ یَبْلُغُ بِہِ النَّبِیَّ ﷺ قَالَ إِذَا قَضَی اللَّہُ الأَمْرَ فِی السَّمَاءِ ضَرَبَتِ الْمَلاَءِکَۃُ بِأَجْنِحَتِہَا خُضْعَانًا لِقَوْلِہِ کَالسِّلْسِلَۃِ عَلَی صَفْوَانٍ قَالَ عَلِیٌّ وَقَالَ غَیْرُہُ صَفْوَانٍ یَنْفُذُہُمْ ذَلِکَ فَإِذَا فُزِّعَ عَنْ قُلُوبِہِمْ قَالُوا ماذَا قَالَ رَبُّکُمْ ، قَالُوا لِلَّذِی قَالَ الْحَقَّ وَہْوَ الْعَلِیُّ الْکَبِیرُ ) (رواہ البخاری : باب قَوْلِہِ (إِلاَّ مَنِ اسْتَرَقَ السَّمْعَ فَأَتْبَعَہُ شِہَابٌ مُبِینٌ) ” حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اللہ تعالیٰ آسمان پر کوئی فیصلہ صادر فرماتا ہے تو اللہ کے فرمان کے جلال کی وجہ سے فرشتوں کے پروں سے آواز پیدا ہوتی ہے جیسے صاف پتھر پر لوہے کی زنجیر کھنچنے سے آواز پیدا ہوتی ہے۔ جب ملائکہ کے دلوں سے گھبراہٹ دورہوجاتی ہے تو وہ ایک دوسرے سے پوچھتے ہیں ‘ آپ کے پروردگار نے کیا ارشاد فرمایا ؟ اوپر والے ملائکہ اللہ کا ارشاد کا ذکر کرتے اور اس کی تصدیق کرتے ہوئے کہتے ہیں یہ ہے اللہ کا ارشاد جو بلند اور بڑا ہے۔ “ اَلْیَوْمِ الْمَوْعُوْدِ : قیامت کا دن پچاس ہزار سال پر مشتمل ہوگا اور اس میں لوگوں کو کئی مراحل سے گزرنا پڑے گا، قرآن مجید نے انہیں مراحل کے حوالے سے قیامت کا ذکر کیا ہے۔ یہاں قیامت کے دن کو الیوم الموعود کہا گیا ہے جس کا معنٰی ہے وعدے کا دن۔ یعنی وہ دن جس کے قائم کرنے کا اللہ تعالیٰ نے وعدہ فرمایا ہے۔ شَاھِدٍ وَّ مَشْھُوْدٍ : حاضر ہونے والے اور حاضر کیے جانے والے۔ مفسرین نے ان الفاظ کے دو مفہوم بیان فرمائے ہیں۔ 1۔ قیامت کے دن انبیائے کرام (علیہ السلام) اور ان کی امتوں کا حاضر کیا جانا۔ 2۔ حاضر ہونے والوں سے مرادوہ ظالم ہیں جنہوں نے مومنوں کو آگ کی خندقوں میں ڈالا، حاضر کیے جانے والوں سے مراد وہ مظلوم ایماندار ہیں جنہیں آگ میں جلایا گیا جن کا ذکر اگلی آیات میں آرہا ہے۔ ان کا اس کے سوا کوئی قصور نہیں تھا کہ وہ ” اللہ “ پر ایمان لائے جو ہر اعتبار سے غالب اور قابل تعریف ہے۔ اسی کے لیے زمین و آسمانوں کی بادشاہت ہے اور وہ ہر چیز سے واقف ہے۔ اس مقام پر اللہ تعالیٰ نے اپنی تین صفات کا ذکر کیا ہے۔ غالب کی صفت لاکر یہ ثابت کیا ہے کہ مومنوں پر ظلم ہونے کا یہ معنٰی نہیں کہ یہ ظلم کرنے والے اللہ تعالیٰ سے زیادہ طاقتور تھے۔ ایسا ہرگز نہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ ہر اعتبار سے غالب ہے اور غالب رہنے والا ہے لیکن اس نے ایک طرف موحّدوں کا امتحان لیا اور دوسری طرف ظالموں کو ظلم کے لیے کھلا چھوڑ دیا تاکہ ایمانداروں کی استقامت ہمیشہ کے لیے مومنوں کے لیے مثال بن جائے اور ظالموں کو اذّیت ناک سزادی جائے۔ شہید کا لفظ بول کر یہ بتلایا ہے کہ اللہ تعالیٰ مظلوموں کے حال کو پوری طرح دیکھ رہا تھا کیونکہ وہ ہر بات کو جانتا ہے اور ہر چیز پر نگران ہے۔ الحمید کی صفت لاکر یہ اشارہ کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی ذات اور صفات کے لحاظ سے اس قدر قابل تعریف ہے کہ اس کے لیے ہر چیز قربان کر دینی چاہیے اور جو اس کے لیے قربانی دے گا اللہ تعالیٰ اسے بھی تعریف کے قابل بنادے گا کیونکہ زمین و آسمانوں کے تمام اختیارات اسی کے پاس ہیں وہی اپنے بندوں کو جزا دینے والا اور مجرموں کو سزا دینے والا ہے۔ اصحاب الاخدود کا علاقہ سعودی مملکت میں نجران سے تقریباً آٹھ دس کلو میٹر کے فاصلے پر ہے۔ نجران سعودی عرب کے جنوبی صوبہ کا ہیڈ کو ارٹر ہے اور یمن کی سرحد پر واقع ہے۔ مسائل 1۔ اللہ تعالیٰ کے نزدیک اس کی توحید پر مرنے والوں کا مقام ہے کہ اس نے تین قسمیں کھا کر اصحاب الاخدود کی تاریخ بیان کی ہے۔ تفسیر بالقرآن اللہ تعالیٰ ہر چیز کو جانتا ہے اور ہر چیز پر نگران ہے : 1۔ تم جو بھی عمل کرتے ہو وہ اللہ کے علم میں ہوتا ہے۔ (یونس : 61) 2۔ اللہ تعالیٰ تمام مخلوقات کو جاننے والا ہے۔ (یٰس : 79) 3۔ جو لوگ جہالت کی وجہ سے برائی کرتے ہیں، پھر جلدی سے توبہ کرلیتے ہیں اللہ ان کی توبہ قبول کرتا ہے اور اللہ ہر چیز کو جاننے اور حکمت والا ہے۔ (النساء : 17) 4۔ اللہ سے اس کے فضل کا سوال کرو یقیناً اللہ ہر چیز کو جاننے والا ہے۔ (النساء : 32) 5۔ جو کچھ تم اللہ کے دیے ہوئے میں سے خرچ کرتے ہو اللہ اس کو جاننے والا ہے۔ (النساء : 39) 6۔ قیامت کا، بارش کے نازل ہونے کا، اور جو کچھ رحموں میں ہے اور انسان کل کیا کمائے گا اور اسے کہاں موت آئے گی اللہ تعالیٰ کے علم میں ہے۔ (لقمان : 34) 7۔ فرشتوں نے کہا تو پاک ہے ہمیں تو اتنا ہی علم ہے جتنا تو نے ہمیں سکھلایا ہے اور تو جاننے والا، حکمت والا ہے۔ (البقرۃ : 32) 8۔ اللہ جانتا ہے جو تم ظاہر کرتے ہو اور چھپاتے ہو وہ تو سینے کے رازوں کو بھی جاننے والا ہے۔ (ہود : 5)
Ayahs 85:10–11

اِنَّ الَّذِیْنَ فَتَنُوا الْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ ثُمَّ لَمْ یَتُوْبُوْا فَلَهُمْ عَذَابُ جَهَنَّمَ وَ لَهُمْ عَذَابُ الْحَرِیْقِؕ Open ayah 85:10 in the Quran reader

جن لوگوں نے مومن مردوں اور مومن عورتوں پر ظلم کیا اور پھر اس سے توبہ نہ کی بلاشبہ ان کے لیے جہنم کا عذاب ہے اور جلادینے والی سزا ہے

اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَهُمْ جَنّٰتٌ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ١ۣؕ۬ ذٰلِكَ الْفَوْزُ الْكَبِیْرُؕ Open ayah 85:11 in the Quran reader

جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے نیک عمل کیے یقیناً ان کے لیے باغ ہیں جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی، یہ بڑی کامیابی ہے

فہم القرآن ربط کلام : جن ظالموں نے مومنوں اور مومنات کو آگ کی خندقوں میں ڈالا ان کی سزا اور انجام۔ مفسرین نے اس واقعہ کے بارے میں کئی قسم کے خیالات کا اظہار فرمایا ہے لیکن ان میں مستند واقعہ وہ ہے جس کا ذکر حدیث کی معتبر کتاب جامع ترمذی میں پایا جاتا ہے۔ حضرت صہیب ؓ بیان کرتے ہیں کہ ایک دن اللہ کے رسول ﷺ نے یہ واقعہ بیان فرمایا کہ ایک بادشاہ کے پاس ایک جادوگر تھا اس نے اپنے بڑھاپے میں بادشاہ سے کہا کہ مجھے کوئی ایسا لڑکا دیں جو مجھ سے جادو سیکھ لے بادشاہ نے ایک لڑکے کو مقرر کردیا مگر وہ لڑکا جادوگر کے پاس آتے جاتے ایک راہب سے بھی ملنے لگا اور اس کی باتوں سے متاثر ہو کر ایمان لے آیا حتی کہ اس کی تربیت سے اس کا ایمان اس قدر پختہ ہوگیا کہ وہ اللہ سے اندھوں کو بینا اور کوڑیوں کو تندرست کرنے کی دعا کرتا اور اللہ تعالیٰ اس کی دعا کو قبول فرماتے۔ بادشاہ کو جب یہ معلوم ہوا کہ یہ لڑکا توحید پر ایمان لے آیا ہے تو اس نے پہلے راہب کو قتل کیا پھر اس لڑکے کو قتل کرنا چاہا مگر کوئی حربہ کارگر ثابت نہ ہوا۔ آخر کار لڑکے نے کہا کہ کہ اگر تو مجھے ہر صورت قتل کرنا چاہتا ہے تو مجمع عام میں ” بِاسْمِ رَبِّ الْغُلَامِ “ (اس لڑکے کے رب کے نام پر) کہہ کر تیر مار تو میں مرجاؤں گا۔ بادشاہ نے ایسا ہی کیا اور وہ لڑکا مرگیا اس پر لوگ اس لڑکے کے رب پر ایمان لے آئے۔ بادشاہ کے مصاحبوں نے اس سے کہا کہ یہ تو وہی کچھ ہوا جس سے آپ بچنا چاہتے تھے۔ لوگ آپ کے دین کو چھوڑ کر اس لڑکے دین ایمان لا رہے ہیں۔ بادشاہ اس صورتحال پر غضب ناک ہوا۔ اس نے سڑکوں کے کنارے گڑھے کھدوائے اور ان میں آگ جلوائی۔ جس شخص نے ایمان سے پھرنا قبول نہ کیا اس کو آگ میں پھینکوا دیا۔ “ (رواہ الترمذی : باب ومن سورة البروج، قال الالبانی ھٰذا حدیث صحیح) (عَنْ أَبِیْ ہُرَیْرَۃَ ؓ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ إنَّّ اللّٰہَ قَالَ مَنْ عَادٰی لِیْ وَلِیًّا فَقَدْ آذَنْتُہٗ بالْحَرْب) (رواہ البخاری : باب التواضع ) ” حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ فرماتا ہے جس نے میرے دوست سے دشمنی کی، میں اس سے اعلان جنگ کرتا ہوں۔ “ (اِِنَّا لَنَنصُرُ رُسُلَنَا وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا فِی الْحَیَاۃِ الدُّنْیَا وَیَوْمَ یَقُوْمُ الْاَشْہَادُ ) (المومن : 51) ” یقین جانو کہ ہم اپنے رسولوں اور ایمان لانے والوں کی مدد ان کی زندگی میں بھی کرتے ہیں اور آخرت میں بھی کریں گے جب گواہ کھڑے کیے جائیں گے۔ “ مسائل 1۔ جو لوگ مومن اور مومنات کو تنگ کریں گے ان کے لیے جہنم کا جلا دینے والا عذاب ہوگا۔ 2۔ اللہ تعالیٰ نے نیک اعمال کرنے والے مومنوں کے لیے باغات تیار کر رکھے ہیں جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی۔ 3۔ جو جنت میں داخل کردیا گیا اسے بڑی کامیابی حاصل ہوئی۔ تفسیر بالقرآن ظالموں کی سزا اور نیک لوگوں کی جزا : 1۔ جس نے ذرہ برابر نیکی کی ہوگی وہ اس کو دیکھ لے گا۔ جس نے ذرہ برابر برائی کی ہوگی وہ بھی اس کو دیکھ لے گا۔ (الزلزال : 7، 8) 2۔ برائیوں میں مرنے والے کے لیے جہنم ہے۔ (البقرۃ : 71) 3۔ جو ایک نیکی کرے گا اس کو دس نیکیوں کا بدلہ ملے گا جو برائی کرے گا اس کی سزا صرف اتنی ہی ہوگی۔ (الانعام : 160) 4۔ برائی کا بدلہ اس کی مثل ہی ہوگا۔ (القصص : 84) 5۔ جس نے سرکشی کی اور دنیا کی زندگی کو ترجیح دی اس کی سزا جہنم ہے۔ (النازعات : 37) 6۔ نافرمانوں کو ہمیشہ کے عذاب کی سزادی جائے گی۔ (یونس : 52) 7۔ تکبر کرنے والوں کو ذلّت آمیز سزا دی جائے گی۔ (احقاف : 20) 8۔ شیطان اور اس کے پیروکاروں کو جہنم کی سزا دی جائے گی۔ (بنی اسرائیل : 63) 9۔ صبر کرنے والوں کے لیے جنت جزا ہوگی۔ (الدھر : 12)
Ayahs 85:12–16

اِنَّ بَطْشَ رَبِّكَ لَشَدِیْدٌؕ Open ayah 85:12 in the Quran reader

بلاشبہ آپ کے رب کی پکڑ بڑی سخت ہے

اِنَّهٗ هُوَ یُبْدِئُ وَ یُعِیْدُۚ Open ayah 85:13 in the Quran reader

وہی پہلی بار پیدا کرتا ہے اور وہی دوبارہ پیدا کرے گا

وَ هُوَ الْغَفُوْرُ الْوَدُوْدُۙ Open ayah 85:14 in the Quran reader

اور وہ معاف فرمانے اور محبت کرنے والا ہے

ذُو الْعَرْشِ الْمَجِیْدُۙ Open ayah 85:15 in the Quran reader

عرش کا مالک ہے اور بڑی شان والا ہے

فَعَّالٌ لِّمَا یُرِیْدُؕ Open ayah 85:16 in the Quran reader

اور جو چاہے کرتا ہے

فہم القرآن ربط کلام : اس سے پہلی آیات میں کفار کے ظلم اور مومنوں کے اجر کا ذکر کیا گیا ہے۔ اس لیے دونوں صفات ذکر فرما کر واضح فرمایا ہے کہ آپ کے رب کی پکڑ بڑی سخت ہے اور وہ بڑا بخشنے والا ہے۔ اللہ تعالیٰ ظالموں سے انتقام لینا چاہے تو اس سے بڑھ کر کسی کی پکڑ نہیں ہوسکتی کیونکہ وہ سخت ترین پکڑ کرنے والا ہے، اسی نے انسان کو پہلی مرتبہ پیدا کیا ہے اور وہی اسے دوبارہ زندہ کرے گا۔ وہ اپنے بندوں کے ساتھ محبت کرنے والا اور ان کے گناہوں کو معاف فرمانے والا ہے، بڑے عرش کا مالک اور بڑی شان والا ہے، جو چاہتا ہے وہی کرتا ہے، اس کے فیصلوں کے سامنے کوئی چیز حائل نہیں ہوتی۔ وہ کسی کو پکڑنے پر آئے تو اس کی پکڑ سے کوئی چھوٹ نہیں سکتا، کسی کو معاف کرنا چاہے تو اسے کوئی روک نہیں سکتا۔ (لَا یُسْءَلُ عَمَّا یَفْعَلُ وَ ہُمْ یُسْءَلُوْنَ ) (الانبیاء : 23) ” وہ اپنے کاموں میں کسی کو جوابدہ نہیں باقی سب سے پوچھ گچھ کی جاتی ہے۔ “ اس میں کوئی شک نہیں کہ وہ جبّار، قہّار اور انتقام لینے والا ہے لیکن اس کے باوجود لوگوں کو بار بار اصلاح کا موقع دیتا ہے کیونکہ اس کی رحمت اس کے غضب پر ہمیشہ غالب رہتی ہے۔ (عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ؓ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ اِنَّ اللّٰہَ تَعَالٰی کَتَبَ کِتَابًا قَبْلَ اَنْ یَخْلُقَ الْخَلْقَ اِنَّ رَحْمَتِیْ سَبَقَتْ غَضَبِیْ فَھُوَ مَکْتُوْبٌ عِنْدَہٗ فَوْقَ الْعَرْشِ ) (رواہ مسلم : باب فِی سَعَۃِ رَحْمَۃِ اللّٰہِ تَعَالَی وَأَنَّہَا سَبَقَتْ غَضَبَہُ ) ” حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول معظم ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا کہ اللہ تعالیٰ نے کائنات کی تخلیق سے پہلے لوح محفوظ میں تحریر فرمایا ” میری رحمت میرے غضب پر سبقت لے گئی ہے۔ “ فرمایا کہ یہ اللہ کے عرش پر لکھا ہوا ہے۔ “ (عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ أَنَّ رَسُول اللَّہِ ﷺ قَالَ لَمَّا قَضَی اللَّہُ الْخَلْقَ کَتَبَ عِنْدَہُ فَوْقَ عَرْشِہِ ، إِنَّ رَحْمَتِی سَبَقَتْ غَضَبِی) (رواہ البخاری : باب قَوْلِہِ تَعَالَی (وَلَقَدْ سَبَقَتْ کَلِمَتُنَا لِعِبَادِنَا الْمُرْسَلِینَ )] ” حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جب اللہ نے مخلوقات کو پیدا کرنے کا فیصلہ فرمایا تو اس وقت اللہ کے عرش پر لکھا ہوا تھا بیشک میری رحمت میرے غضب سے سبقت لے چکی ہے۔ “ (قُلْ لِّمَنْ مَّا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ قُلْ لِّلّٰہِ کَتَبَ عَلٰی نَفْسِہِ الرَّحْمَۃَ لَیَجْمَعَنَّکُمْ اِلٰی یَوْمِ الْقِیٰمَۃِ لَا رَیْبَ فِیْہِ اَلَّذِیْنَ خَسِرُوْٓا اَنْفُسَہُمْ فَہُمْ لَا یُؤْمِنُوْنَ ) (الانعام : 12) ” فرما دیجیے کس کا ہے جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے ؟ فرما دیجیے اللہ کا ہے اس نے اپنے اوپر رحم کرنا لکھ دیا ہے وہ تمہیں قیامت کے دن کی طرف لے جا کر ضرور جمع کرے گا جس میں کوئی شک نہیں۔ جن لوگوں نے اپنے آپ کو خسارے میں ڈالا سو وہی ایمان نہیں لاتے۔ “ مسائل 1۔ اللہ تعالیٰ ظالموں کی سخت پکڑ کرنے والا اور اپنے بندوں کے ساتھ محبت کرنے اور معاف فرمانے والا ہے۔ 2۔ اللہ تعالیٰ عظیم عرش کا مالک اور بڑی شان والا ہے۔ 3۔ اللہ تعالیٰ وہی کرتا ہے جو چاہتا ہے۔ تفسیر بالقرآن اللہ تعالیٰ ظالموں سے بدلہ لینے اور اپنے بندوں کو معاف فرمانے والا ہے 1۔ اے نبی ! میرے بندوں کو بتاؤ کہ میں بخشنے، رحم کرنے والا ہوں اور میرا عذاب بھی دردناک ہے۔ (الحجر : 49) 2۔ جو توبہ کرے اور اصلاح کرے تیرا رب بڑا غفور الرّحیم ہے۔ (النحل : 119) 3۔ کیا تم پسند کرتے ہو کہ اللہ تمہیں معاف کر دے کیونکہ وہ غفور الرّحیم ہے۔ (النور : 22) 4۔ اللہ جلد پکڑنے والا اور غفور الرّحیم ہے۔ (الانعام : 166) 5۔ اللہ اپنے بندوں کو اپنی رحمت میں داخل فرمائے گا کیونکہ وہ غفور الرّحیم ہے۔ (التوبہ : 99) 6۔ اللہ سب گناہوں کو معاف کردینے والا اور غفور الرّحیم ہے۔ (الزمر : 53) 7۔ ظالموں کے لیے صرف تباہی ہے۔ (نوح : 28) 8۔ ظالموں کے لیے ہمیشہ کا عذاب ہے۔ (الحشر : 17)
Ayahs 85:17–22

هَلْ اَتٰىكَ حَدِیْثُ الْجُنُوْدِۙ Open ayah 85:17 in the Quran reader

کیا آپ کے پاس لشکروں کی خبر آئی ہے

فِرْعَوْنَ وَ ثَمُوْدَؕ Open ayah 85:18 in the Quran reader

فرعون اور ثمود کے

بَلِ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا فِیْ تَكْذِیْبٍۙ Open ayah 85:19 in the Quran reader

انہوں نے کفر کیا ہے اور جھٹلانے والے ہوئے

وَّ اللّٰهُ مِنْ وَّرَآئِهِمْ مُّحِیْطٌۚ Open ayah 85:20 in the Quran reader

حالانکہ اللہ نے ان کو گھیرے میں لے رکھا ہے

بَلْ هُوَ قُرْاٰنٌ مَّجِیْدٌۙ Open ayah 85:21 in the Quran reader

بلکہ یہ قرآن بلند مرتبہ ہے

فِیْ لَوْحٍ مَّحْفُوْظٍ۠ Open ayah 85:22 in the Quran reader

اس لوح میں ثبت ہے جو محفوظ ہے

فہم القرآن ربط کلام : اس سے پہلے اللہ تعالیٰ کی پکڑ کا ذکر ہوا اب اس کی پکڑ کی دو مثالیں بیان کی جاتی ہیں۔ اس سورت کی آٹھویں اور نویں آیات میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ میں سخت پکڑ کرنے والا ہوں، لوگوں کو معاف کرنے والا اور ان کے ساتھ محبت کرنے والا ہوں اور جو چاہتا ہوں وہ کرتا ہوں۔ میرے سامنے کوئی پَر نہیں مار سکتا کیونکہ میں بڑے عرش کا مالک اور بڑی عظمت والا ہوں۔ اس کی عظمت کی نظیر دیکھنا چاہو تو ان لشکروں کا حال جانو جن کے سامنے کوئی دم نہیں مارسکتا تھا۔ فرعون اپنی طاقت اور لشکر وسپاہ پر اس قدر مغرور ہوا کہ اس نے ” اَنَا رَبُّکُمُ الْاَعْلیٰ “ کا دعویٰ کیا اور موسیٰ (علیہ السلام) کے دلائل سننے اور ان کے معجزات دیکھنے کے باوجود انہیں ٹھکراتا چلا گیا۔ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے اس کی گرفت کی، اسے اور اس کے لشکر کو ڈبکیاں دے دے کر موت کے گھاٹ اتار دیا۔ یہی حال قوم ثمود کا ہوا، انہوں نے حضرت صالح (علیہ السلام) کی دعوت کو ٹھکرایا اور ان سے عذاب لانے کا بھی مطالبہ کیا جس کے نتیجے میں انہیں ہلاک کردیا اس واقعہ کا اختصار یہ ہے۔ 1۔ ثمود نے اونٹنی کی کونچیں کاٹ دیں تو صالح (علیہ السلام) نے قوم کو فرمایا تین دن فائدہ اٹھا لو، یہ وعدہ ہے جو جھوٹا نہیں ہوسکتا۔ (ھود : 64، 65) 2۔ انھوں نے اونٹنی کی کونچیں کاٹ ڈالیں اور وہ نادم ہونے والوں میں سے ہوگئے۔ (الشعراء : 157) 3۔ قوم ثمود کے بدبختوں نے اونٹنی کی ٹانگیں کاٹ دیں۔ الشمس : 14) 4۔ قوم ثمود نے حضرت صالح (علیہ السلام) سے عذاب کا مطالبہ کیا۔ (الاعراف : 77) 6۔ ثمود زور دار آواز کے ساتھ ہلاک کیے گئے۔ (الحاقہ : 5) 7۔ قوم عاد وثمود کے اعمال بد کو شیطان نے ان کے لیے فیشن بنا دیا تھا۔ (العنکبوت : 38) 8۔ قوم ثمود کو زلزلے نے لیا اور وہ اپنے گھروں میں اوندھے پڑے رہ گئے۔ (الاعراف : 78) (ھود : 67) 9۔ قوم ثمود کی راہنمائی کی گئی لیکن انہوں نے گمراہی کو ترجیح دی اس پر انہیں ہولناک آواز نے آلیا۔ ( حٰم السجدۃ : 17) یہ جاننے کے باوجود کفار تکذیب کررہے ہیں انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ انہیں ہر طرف سے گھیرے ہوئے ہے جب اس کی گرفت کا وقت آئے گا تو نہ یہ بھاگ سکیں گے اور نہ ہی انہیں بچانے والا ہوگا۔ جس قرآن کی یہ تکذیب کرتے ہیں وہ لوح محفوظ میں لکھا ہوا ہے۔ یاد رہے کہ اہل مکہ کی یہ کوشش تھی کہ کسی نہ کسی طریقے سے قرآن کی دعوت کو ختم کردیا جائے اس پر انہیں متنبہ کیا گیا ہے کہ جس قرآن کی تم تکذیب کرتے ہو اور اس کی دعوت کو مٹانے کے درپے ہو اسے کسی صورت بھی مٹایا نہیں جاسکتا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اسے لوح محفوظ میں درج کر رکھا ہے۔ قرآن مجید کے محفوظ ہونے کا اشارہ فرماکر کفار کو بتلایا گیا ہے کہ قرآن مجید اور اس کی دعوت مٹنے والی نہیں یہ ہر صورت دنیا میں پھیل کر رہے گی۔ (ہُوَ الَّذِیْٓ اَرْسَلَ رَسُوْلَہٗ بالْہُدٰی وَ دِیْنِ الْحَقِّ لِیُظْہِرَہٗ عَلَی الدِّیْنِ کُلِّہٖ وَ لَوْ کَرِہَ الْمُشْرِکُوْنَ ) (التوبہ : 33) ” وہی ہے جس نے اپنا رسول ہدایت اور دین حق دے کر بھیجا تاکہ اسے ہر دین پر غالب کردے، خواہ مشرک لوگ برا سمجھتے رہیں۔ “ مسائل 1۔ اللہ تعالیٰ نے فرعون اور ثمود کو ملیا میٹ کردیا۔ 2۔ حقائق جاننے کے باوجود کفار قرآن مجید کی تکذیب کرتے ہیں۔ 3۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے اختیار کے ذریعے کفار کو گھیر رکھا ہے۔ 4۔ قرآن مجید کی کفار تکذیب کرتے ہیں حالانکہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہوا ہے اور اس کے ہاں لوح محفوظ میں درج ہے۔ تفسیر بالقرآن قرآن مجید کی عظمت اور حفاظت : 1۔ اللہ نے اپنے رسول کو قرآن مجید اور سات آیات دیں جو باربار پڑھی جاتی ہیں۔ (الحجر : 87) 2۔ قرآن مجید ایسی کتاب ہے جس میں کوئی شک نہیں۔ (البقرۃ : 2) 3۔ قرآن مجید برھان اور نور مبین ہے۔ (النساء : 174) 4۔ قرآن مجید لوگوں کے لیے ہدایت ہے۔ (البقرۃ : 185) 5۔ قرآن مجید اللہ کی طرف سے کھلی کتاب ہے۔ (ھود : 1) 6۔ قرآن مجید لوگوں کے لیے ہدایت اور نصیحت ہے۔ (آل عمران : 138) 7۔ قرآن مجید کی حفاظت کا ذمہ اللہ تعالیٰ نے لے رکھا ہے۔ (الحجر : 9)