Ayahs 84:1–6فہم القرآن
ربط سورت : سورت ” اَلْمُطَفِّفِیْنَ “ کا اختتام اس بات پر ہوا کہ جو لوگ قیامت پر ایمان لانے اور حق بات قبول کرنے کی وجہ سے ایمانداروں کو مذاق کرتے ہیں وہ کافر ہیں۔ قیامت کے دن انہیں ان کے اعمال کی پوری پوری سزا دی جائے گی۔ کفار جس قیامت کا انکار کرتے ہیں اس کی ابتدا اس طرح ہوگی۔
جونہی اسرافیل صورپھونکے گا تو آسمان پھٹ جائے گا اور اسے اس کے رب کا یہی حکم ہوگا جس پر عمل پیرا ہونا آسمان پر رب تعالیٰ کا حق ہے۔ زمین مسلسل زلزلوں کی وجہ سے ہر چیز باہر پھینک دے گی اور اس کا پیٹ خالی ہوجائے گا اور اسے بالکل برابر کردیا جائے گا، اسے بھی اس کے رب کا یہی حکم ہوگا اور ایسا کرنا اس پر اس کے رب کا حق ہے کیونکہ زمین و آسمانوں کو صرف اسی نے ہی پیدا کیا ہے مخلوق ہونے کا تقاضا ہے کہ دونوں اپنے رب کے حکم کی تعمیل کریں۔ یہاں رب ذوالجلال نے اپنے لیے ” اللہ “ کا لفظ استعمال کرنے کی بجائے دونوں مرتبہ رب کا لفظ استعمال فرمایا ہے۔ رب کا معنٰی خالق، مالک، رازق اور بادشاہ ہے اس میں یہ اشارہ پایا جاتا ہے کہ زمین و آسمانوں کو یہ معلوم ہے کہ ہمیں پیدا کرنے والا صرف ” اللہ “ ہے جو ہمارا خالق اور مالک ہے اس لیے ہمیں ہر حال میں اس کا حکم ماننا چاہے اس کا حکم ماننا ہم پر فرض ہے کیونکہ ہمارے پیدا کرنے والے کا ہم پر حق ہے۔ یہ الفاظ لا کر ہر انسان کو سمجھایا گیا ہے کہ اے انسان ! تجھے بھی اپنے رب کا حکم ماننا چاہیے کیونکہ وہی تیرا خالق، رازق اور حقیقی مالک ہے تجھے یہ بھی معلوم ہونا چاہیے کہ تو اپنے رب کے حضور پہنچنے کے لیے کوشش کرتا ہے جس کے نتیجے میں تو اس سے ضرور ملاقات کرے گا۔ اس کوشش میں انسان کی شعوری اور غیر شعوری ہر قسم کی کوشش شامل ہے۔ اللہ تعالیٰ پر ایمان لانے والے اور قیامت پر یقین کرنے والے لوگ شعوری طور پر کوشش کرتے ہیں کہ ہم اپنے رب کے احکام کی تعمیل کریں کیونکہ ہم نے اس کے حضور پیش ہونا ہے اس لیے وہ اس کیلئے کوشش کرتے ہیں تاکہ اپنے رب کے حضور حاضر ہوں تو ان کا اعمال نامہ ان کے دائیں ہاتھ میں دیا جائے اور ان کا رب ان پر راضی ہوجائے ان کے مقابلے میں وہ لوگ ہیں جو زندگی بھر دنیا کے پیچھے لگے رہتے ہیں اور انہیں اپنے رب کی ملاقات کی کوئی فکر نہیں ہوتی حالانکہ غیر شعوری طور پر وہ بھی اسی راہ کے راہی ہیں اور بالآخر وہ بھی اپنے رب کے حضور پیش ہونے والے ہیں۔ قیامت کے دن زمین ان کیلئے اپنے پیٹ سے ہر چیز باہر نکال دے گی اور جو کچھ اس کے سینے میں راز ہیں وہ اگل دے گی، اسے دوسرے مقام پر یوں بیان کیا گیا ہے۔
” جب زمین پوری شدت کے ساتھ ہلادی جائے گی اور زمین اپنے اندر کے بوجھ نکال کر باہر پھینک دے گی اور انسان کہے گا کہ اس کو کیا ہوگیا ہے ؟ اس دن زمین اپنے حالات بیان کرے گی کیونکہ آپ کے رب نے اسے ایسا کرنے کا حکم دیا ہوگا۔ “ (الزلزال : 5)
مسائل
1۔ آسمان پھٹ جائے گا اور زمین ہموار ہوجائے گی کیونکہ ایسا کرنا ان کے لیے لازم ہے۔
2۔ زمین سب کچھ نکال باہر کرے گی کیونکہ اسے اس کے رب کی طرف سے یہی حکم ہوگا۔
3۔ ہر انسان شعوری یا غیر شعوری طور پر اپنے رب کے حضور پیش ہونے کے لیے آگے بڑھا جارہا ہے۔
تفسیر بالقرآن
قیامت کے دن زمین و آسمانوں کا ایک منظر :
1۔ اس دن ہم پہاڑوں کو چلائیں گے اور زمین چٹیل میدان ہوگی۔ (الکھف : 47)
2۔ اس دن زمین اور پہاڑ کانپنے لگیں گے اور پہاڑ ریت کے ٹیلوں کی طرح ہوجائیں گے۔ (المزل : 14)
3۔ زمین و آسمانوں پر قیامت بھاری ہوگی۔ (الاعراف : 187) 4۔ زمین کو ہلا کر تہہ وبالا کردیا جائے گا۔ (واقعہ : 3، 4)
5۔ جب زمین کو ہلا دیا جائے گا پوری طرح ہلا دیا جانا۔ (الزلزال : 1) 6۔ جب واقعہ ہوگی واقعہ ہونے والی۔ (الواقعہ : 1)
7۔ لوگو ! اپنے رب سے ڈر جاؤ قیامت کا زلزلہ بہت سخت ہے۔ (الحج : 1)
Ayahs 84:7–12فہم القرآن
ربط کلام : انسان جب اپنے رب کے حضور پیش کیا جائے گا تو اس وقت اس کا اعمال نامہ اس کے دائیں یا بائیں ہاتھ میں دیا جائے گا ہر انسان اپنے اعمال نامے کے مطابق اپنے رد عمل کا اظہار کرے گا۔
جس شخص کو اس کا اعمال نامہ اس کے دائیں ہاتھ میں دیا گیا اس سے آسان حساب لیا جائے گا اور وہ اپنے اہل خانہ کے پاس خوش وخرم جا کر کہے گا کہ یہ میرا اعمال نامہ ہے اس کے بارے میں مجھے پہلے سے یقین تھا کہ مجھے میرا حساب ملنے والا ہے وہ بڑی عیش کی زندگی میں ہوگا اور اسے جنت عالیہ میں داخل کیا جائے گا۔ (الحاقہ : 19 تا 22) اور جس کو اس کے پیچھے سے اعمال نامہ دیا گیا وہ اپنی موت کو آواز دے گا لیکن اسے موت نہیں آئے گی اور اسے جہنم میں داخل کیا جائے گا۔ ان آیات میں ثابت کیا گیا ہے کہ اعمال نامے ملنے پر دونوں فریق اپنا اپنا رد عمل ظاہر کریں جنہیں دائیں ہاتھ میں اعمال نامہ دیا جائے گا ان کے بارے میں ارشاد ہے کہ وہ سمجھ جائیں گے کہ ہمارا حساب نہایت آسان ہوگا اور جنہیں ان کی پشت کی طرف سے اعمال نامہ دیا جائے گا وہ سمجھے گا کہ میں تباہی کے گھاٹ اترنے والا ہوں۔ جن کا آسان حساب ہوگا ان کے بارے میں نبی کریم ﷺ کا فرمان ہے کہ انہیں ہلکی پھلکی پوچھ گچھ کے بعد جنت میں داخل کیا جائے گا اور جس سے اس کے اعمال نامے کے بارے میں پوچھ گچھ شروع ہوگئی وہ مارا جائے گا۔
(عَنْ عَاءِشَۃَ ؓ اَنَّ النَّبِیَّ ﷺ قَالَ لَیْسَ اَحَدٌ یُّحَا سَبُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ اِلَّاھَلَکَ قُلْتُ اَوَلَیْسَ یَقُوْلُ اللّٰہُ فَسَوْفَ یُّحَاسَبُ حِسَابًا یَّسِیْرًا فَقَالَ اِنَّمَا ذٰلِکَ الْعَرْضُ وَلٰکِنْ مَّنْ نُوْقِشَ فِیْ الْحِسَابِ یَھْلِکُ ) (رواہ البخاری : باب مَنْ سَمِعَ شَیْءًا فَرَاجَعَ حَتَّی یَعْرِفَہُ )
” حضرت عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا : قیامت کے دن جس سے حساب لے لیا گیا وہ ہلاک ہوا۔ میں نے پوچھا اے اللہ کے رسول ! کیا اللہ تعالیٰ کا ارشاد نہیں ؟ کہ ” عنقریب اس کا آسان حساب ہوگا۔ “ آپ ﷺ نے فرمایا یہ تو معمولی پیشی ہے جس شخص سے باز پرس ہوئی وہ ہلاک ہوگیا۔ “
مسائل
1۔ جسے اس کا اعمال نامہ دائیں ہاتھ میں دیا گیا اس کا حساب آسان ہوگا اور وہ اپنے اہل و عیال کے پاس خوش وخرم آئے گا۔
2۔ جس کا اعمال نامہ اس کی پیٹھ کی طرف سے دیا گیا وہ اپنی موت کو پکارے گا اور اسے جہنم میں داخل کیا جائے گا۔
تفسیر بالقرآن
جنتی اور جہنمی کے درمیان فرق :
1۔ جب فرشتے نیک لوگوں کی روحیں قبض کرتے ہیں تو کہتے ہیں تم پر سلامتی ہو۔ (النحل : 32)
2۔ حکم ہوگا کہ جنت میں سلامتی کے ساتھ داخل ہوجاؤ۔ (ق : 34)
3۔ کاش آپ دیکھیں جب فرشتے ان کی روحیں قبض کرتے وقت ان کے منہ اور پیٹھوں پر ماریں گے۔ (الانفال : 50)
4۔ اس وقت دیکھیں جب ظالم موت کی سختیوں میں ہوں گے اور فرشتے ہاتھ بڑھا کر کہیں گے اپنی جان نکالو۔ آج تمہیں رسوا کن عذاب سے دوچار کیا جائے گا۔ ( الانعام : 94)
5۔ کفار کے چہرے بگڑے ہوئے ہوں گے۔ (الحج : 73) 6۔ مومنوں کے چہرے تروتازہ ہوں گے۔ (القیامہ : 22)
7۔ جہنمی کو آگ کے ستونوں سے باندھ دیا جائے گا۔ (ہمزہ : 90)
8۔ جہنمی کو پیپ اور لہو پلایا جائے گا۔ (ابراہیم : 16) 9۔ کھولتے ہوئے چشمے سے انھیں پانی پلایا جائے گا۔ (الغاشیہ : 5)
10۔ جنتی جنت میں جو چاہیں گے وہ پائیں گے۔ ( الانبیاء : 102)
11۔ ملائکہ جنتی کو سلام کہتے ہوئے کہیں گے کہ جنت کے دروازوں سے جنت میں داخل ہوجاؤ۔ (الرعد : 23، 24)
Ayahs 84:13–15فہم القرآن
ربط کلام : جن لوگوں کو ان کی پیٹھ کی طرف سے ان کا اعمال نامہ دیا جائے گا ان کی دنیا میں حالت یہ تھی کہ وہ اپنے اہل و عیال میں خوش باش تھے اور یہ عقیدہ رکھتے تھے کہ انہیں اپنے رب کے ہاں واپس نہیں پلٹنا۔ ان کے اس عقیدہ کی تردید کرنے کے ساتھ یہ حقیقت بتلائی ہے کہ تم نے ہر صورت اپنے رب کی بارگاہ میں پیش ہونا ہے۔
اس سورت کی آیت 9 میں ارشاد ہوا کہ جس شخص کو دائیں ہاتھ میں اس کا اعمال نامہ دیا گیا وہ اپنے اہل خانہ کے پاس خوش و خرم جائے گا۔ اس کے بعد اس شخص کا ذکرہوا جسے اس کا اعمال نامہ اس کی پیٹھ کی طرف سے دیا جائے گا وہ جہنم میں داخل ہوگا۔ اس کے جہنم جانے کا بنیادی سبب یہ ہوگا کہ وہ اس بات پر یقین نہیں رکھتا تھا کہ اس نے بالآخر اپنے رب کے حضور پیش ہو کر اپنے اعمال کا جواب دینا ہے۔ وہ آخرت کے بارے میں لاپرواہ تھا اور اپنے اہل و عیال میں بڑا مست رہتا تھا اور دنیا میں اس قدر محو اور مصروف تھا کہ دانستہ یا غیر دانستہ طور پر آخرت کو بھول چکا تھا ایسے شخص کو جونہی اس کا اعمال نامہ دیا جائے گا تو وہ خواہش کرے گا۔
” مجرم چاہے گا کہ اس دن کے عذاب سے بچنے کے لیے اپنی اولاد کو، اپنی بیوی کو، اپنے بھائی کو، اپنے قریب ترین خاندان کو جو اسے پناہ دینے والا تھا اور روئے زمین پر ہر چیز کو فدیہ میں دے دے اور اس طرح نجات پا جائے۔ ہرگز نہیں وہ تو بھڑکتی ہوئی آگ کی لپٹ ہوگی جو گوشت پوست کو چاٹ جائے گی وہ مجرم کو آواز پر آواز دے گی، ہر اس شخص کو جس نے حق سے منہ موڑا اور پیٹھ پھیری اور مال کمایا اور جمع کر کے رکھا۔ “ (المعارج : 11 تا 18)
(وَالَّذِیْنَ یَقُوْلُوْنَ رَبَّنَآ اصْرِفْ عَنَّا عَذَابَ جَہَنَّمَ اِِنَّ عَذَابَہَا کَانَ غَرَامًا) (الفرقان : 65)
” اللہ کے بندے دعائیں کرتے ہیں کہ اے ہمارے رب ہمیں جہنم کے عذاب سے بچالے جہنم کا عذاب تو چمٹ جانے والا ہے۔ “
مسائل
1۔ جس نے آخرت کو فراموش کردیا وہ قیامت کے دن پچھتائے گا۔
2۔ آخرت کو فراموش کردینے والا شخص اپنے حال اور مال میں مست رہتا ہے۔
Ayahs 84:16–25فہم القرآن
ربط کلام : کوئی آخرت کا اقرار کرے یا انکار کرے اسے ہر صورت رب ذوالجلال کے حضور پیش ہونا ہے ہر انسان ایک مرحلہ سے دوسرے مرحلے میں داخل ہو کر بالآخر اپنے رب کی عدالت میں پیش ہوگا۔
خالقِ کائنات نے اس مقام پر تین قسمیں اٹھا کر ارشاد فرمایا ہے کہ مجھے مغرب کی سرخی کی قسم، رات کی اور اس چیز کی جو وہ سمیٹ لیتی ہے اور چاند کی قسم ! جب وہ ماہ کامل بن جاتا ہے۔ اے لوگو ! تم ایک مرحلے سے دوسرے مرحلے میں داخل ہوئے جارہے ہو، اور تمہارا رب تمہیں ہر حال میں دیکھ رہا ہے اس کے باوجود تم ایمان لانے کے لیے تیار نہیں ہوتے۔ جب ان کے سامنے قرآن مجید پڑھا جاتا ہے تو سجدہ کرنے کی بجائے اس کی تکذیب کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کو خوب معلوم ہے جو کچھ وہ اپنے دلوں میں چھپائے ہوئے ہیں، ان کے انکار اور تکذیب کرنے کی وجہ سے انہیں درد ناک عذاب کی خوشخبری دینی چاہیے۔ اللہ تعالیٰ نے تین قسمیں اٹھا کر یہ بات سمجھائی ہے کہ جس طرح دن کی روشنی پر رات کی تاریکی چھا جاتی ہے اور رات کا اندھیرا ہر چیز کو اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہے اور رات کے اندھیرے پر ماہ کامل کی روشنی غالب آجاتی ہے اسی طرح ہی دنیا کی زندگی کے بعد موت کا اندھیرا ہے اور موت کے اندھیرے کے بعد قیامت کا دن طلوع ہوگا۔ یہی انسان کی زندگی کا حال ہے کہ ہر انسان کی ابتدا ایک نطفے سے ہوتی ہے پھر مختلف مراحل سے گزرتے ہوئے وہ ایک بچے کی شکل میں جنم لیتا ہے۔ اس طرح اس کی زندگی کا آغاز ہوتا ہے اس کے بعد اس کا بچپن پھر جوانی، پھر بڑھاپا، پھر اس کو موت آجاتی ہے۔ ان مراحل میں کوئی ایک مرحلہ ایسا نہیں جس کا کوئی شخص انکار کرتاہو یعنی انسان کا عدم سے وجود میں آنا پچپن سے جوانی، جوانی کا بڑھاپے میں تبدیل ہونا ہے اور اس کے بعد موت اور موت کے بعد قیامت میں زندہ ہونا اور اپنے رب کے حضور پیش ہونا ہے، یقینی امر ہے لیکن جب منکرین کے سامنے قیامت کا ذکر ہوتا ہے تو اس پر ایمان لانے کی بجائے اس کی تکذیب کرتے ہیں حالانکہ انہیں قرآن مجید کے فرمان کے سامنے جھک جانا چاہیے لیکن پھر بھی قیامت کا انکار کرتے ہیں۔ کیا یہ سمجھتے ہیں کہ اس طرح یہ اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ سے چھپا لیں گے ایسا ہرگز نہیں ہوگا کیونکہ اللہ تعالیٰ ہر ظاہر اور باطن کو جانتا ہے نہ صرف اسے جانتا ہے بلکہ اسے دیکھ بھی رہا ہوتا ہے۔ جو لوگ حقائق کو جھٹلاتے ہیں انہیں اذّیت ناک عذاب کی خوشخبری دینی چاہیے۔ اس اذّیت ناک عذاب سے صرف وہی لوگ بچ پائیں گے جو اپنے رب کے حکم کے مطابق ایمان لائے اور اس کے بتلائے ہوئے صالح اعمال کرتے رہے ان کے لیے ایسا اجر ہے جس کی کوئی انتہا نہیں۔
مسائل
1۔ انسان چاہے یا نہ چاہے وہ ہر صورت ایک حالت سے دوسری حالت میں داخل ہوتا ہے۔
2۔ قرآن مجید پر ایمان نہ لانے والے لوگ قیامت کو جھٹلاتے ہیں۔
3۔ لوگ جو کچھ اپنے دلوں میں چھپاتے ہیں اللہ تعالیٰ اسے اچھی طرح جانتا ہے۔
4۔ قرآن مجید اور قیامت کا انکار کرنے والوں کے لیے اذّیت ناک عذاب کی خوشخبری ہے۔
5۔ حقیقی ایمان رکھنے والے اور صالح اعمال کرنے والوں کے لیے نہ ختم ہونے والا اجر ہے۔
تفسیر بالقرآن
اللہ تعالیٰ سب کچھ جانتا ہے :
(الحجرات : 16) (الحدید : 4) (المجادلہ : 7) (التغابن : 4) (الانعام : 59)