Ayahs 83:1–6فہم القرآن
ربط سورت : سورة الانفطار اس بات پر ختم ہوئی کہ قیامت کے دن نیکوں اور بروں کے درمیان فیصلہ کیا جائے گا اور اس دن پورے کا پورا اختیار صرف اللہ تعالیٰ کے پاس ہوگا۔ قیامت کو جھٹلانے والا شخص نہ صرف اپنے رب سے منہ موڑتا ہے بلکہ وہ لوگوں کے ساتھ بےمروتی بھی اختیار کرتا ہے اور اسی بےمروتی کی وجہ سے لوگوں کے حقوق مارتا ہے۔ اس لیے ” اَلْمُطَفِّفِیْنَ “ کے آغاز میں ماپ تول کے ذریعے لوگوں کے حقوق مارنے سے منع کیا گیا ہے۔
” تطفیف “ کا معنٰی ہے ناپ تول میں کمی بیشی کرنا۔ جب انسان اخلاقی گراوٹ کا شکار ہوجائے اور اس کی حرص حد سے بڑھ جائے تو وہ کمینگی پر اتر آتا ہے۔ کسی انسان کی کمینگی اور حرص کی انتہا یہ ہے کہ وہ لیتے ہوئے ماپ تول میں زیادہ لے اور دیتے ہوئے اس میں کمی کرے یہ بدترین قسم کا معاشی استحاصل ہے اس سے نہ صرف معیشت عدم توازن کا شکار ہوتی ہے بلکہ اس سے آپس میں شدید نفرتیں پیدا ہوتی ہیں اور نفرت باہمی جنگ وجدال کا سبب بنتی ہے اس لیے حضرت شعیب (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو فرمایا تھا۔
” اور مدین کی طرف ان کے بھائی شعیب کو بھیجا۔ اس نے کہا اے میری قوم ! اللہ کی عبادت کرو، اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں اور ماپ، تول میں کمی نہ کرو۔ بیشک میں تمہیں خوشحال دیکھتا ہوں اور بیشک میں تمہارے بارے میں ایک ہمہ گیر عذاب سے ڈرتا ہوں۔ اے میری قوم ! انصاف کے ساتھ ماپ تول پورا رکھو۔ لوگوں کو ان کی چیزیں کم نہ دو اور زمین میں دنگا و فساد نہ مچاؤ۔ “ (ھود : 84، 85)
ماپ تول میں کمی یا بیشی کرنے والا شخص عملاً قیامت کے دن کا انکاری ہوتا ہے، ایسا شخص نہ صرف آخرت میں سزا پائے گا بلکہ بالآخر دنیا میں بھی ذلیل ہوگا۔ اس لیے ارشاد ہوا کہ کیا لوگ نہیں جانتے کہ انہیں ایک بڑے دن سے واسطہ پڑے گا۔ جس دن ہر شخص کو رب العالمین کے سامنے کھڑے ہونا ہے وہاں یہ شخص اپنے رب اور لوگوں کو کیا منہ دکھائے گا۔ قیامت کے دن کو اس لیے عظیم کہا گیا ہے کیونکہ یہ دن اپنی طوالت کے لحاظ سے پچاس ہزار سال کا ہوگا، اس میں تمام جن وانس کے درمیان فیصلے کیے جائیں گے اور اس دن سب بڑی عدالت قائم ہوگی، اور یہ اپنی ہیبت کے اعتبار سے بڑا بھاری ہوگا۔
(یٰٓاَیُّہَا النَّاسُ اتَّقُوْا رَبَّکُمْ اِنَّ زَلْزَلَۃَ السَّاعَۃِ شَیْءٌ عَظِیْمٌ یَوْمَ تَرَوْنَہَا تَذْہَلُ کُلُّ مُرْضِعَۃٍ عَمَّآ اَرْضَعَتْ وَ تَضَعُ کُلُّ ذَاتِ حَمْلٍ حَمْلَہَا وَ تَرَی النَّاسَ سُکٰرٰی وَ مَا ہُمْ بِسُکٰرٰی وَ لٰکِنَّ عَذَاب اللّٰہِ شَدِیْدٌ) (الحج : 1، 2)
” لوگو ! اپنے رب سے ڈرو حقیقت یہ ہے کہ قیامت کا زلزلہ بڑا ہولناک ہے، اس دن تم دیکھو گے کہ ہر دودھ پلانے والی اپنے دودھ پیتے بچے کو پھینک دے گی ہر حاملہ کا حمل گرجائے گا اور لوگ تمہیں مدہوش نظر آئیں گے حالانکہ وہ نشے میں نہیں ہوں گے بلکہ اللہ کا عذاب بہت سخت ہوگا۔ “
(مَا طَفِفَ قَوْمُ الْمِیْزَانَ إلَّا أخَذَہُمُ اللّٰہُ بالسِّنِیْنَ ) (السلسلۃ الصحیحۃ البانی : 107)
” جو بھی قوم تولنے میں کمی کرتی ہے اللہ تعالیٰ ان پر قحط سالی مسلط فرما دیتا ہے۔ “
مسائل
1۔ ماپ، تول میں کمی، بیشی کرنے والے کے لیے دنیا میں تباہی اور آخرت میں جہنم ہے۔
2۔ ماپ، تول میں کمی بیشی کرنے والے کا قیامت پر یقین نہیں ہوتا۔
3۔ قیامت کا دن اپنی طوالت اور سختی کے لحاظ سے بہت بڑا ہوگا۔
4۔ قیامت کے دن ہر شخص کو رب العالمین کے حضور کھڑا کیا جائے گا۔
تفسیر بالقرآن
ماپ، تول میں کمی، بیشی کرنے کا گناہ اور اس کی سزا :
1۔ ماپ کو پورا کرو اور سیدھے ترازو سے تولو۔ (بنی اسرائیل : 35) 2۔ ماپ تول انصاف کے ساتھ کیا کرو۔ (الانعام : 152)
3۔ ماپ تول پورا کرو اور لوگوں کو ان کی چیزیں کم نہ دو ۔ (الاعراف : 85) (الشعراء : 182) (ھود : 85)
Ayahs 83:7–17فہم القرآن
ربط کلام : جس دن لوگوں کو رب العالمین کے حضور پیش کیا جائے گا اس دن کے لیے مجرموں کے اعمال ناموں کا اندراج سجّین میں محفوظ ہے۔
دنیا میں بیشمار انسان بالخصوص پیشہ ور مجرم اس طریقے سے جرم کرتے ہیں کہ وہ اپنے جرم کا کوئی نشان باقی نہیں چھوڑتے جس وجہ سے وہ سزا سے بچ جاتے ہیں ایسے لوگوں کو بالخصوص خبر دار کیا گیا ہے۔ کسی مجرم کا کوئی جرم ایسا نہیں جسے سجّین میں درج نہیں کیا جاتا۔ اے نبی ﷺ ! آپ نہیں جانتے کہ وہ سجّین کیا ہے ؟ وہ مجرمین کے جرائم کا لکھا ہوا ریکارڈ ہے جو قولاً یا فعلاً قیامت کے دن کو جھٹلاتے ہیں۔ قیامت کو وہی شخص جھٹلاتا ہے جو حدود اللہ سے نکل جانے والا اور گنہگار ہے۔ جب اس کے سامنے ہمارے فرامین پڑھے جاتے ہیں بالخصوص جن میں قیامت کے حساب و کتاب اور احتساب کا ذکر ہوتا ہے تو وہ اس کا انکار کرتے ہوئے کہتا ہے کہ قیامت قائم نہیں ہوگی۔ یہ بیان ہونے والی کہانیاں بڑی مدت سے سن رہے ہیں، ان کے ذریعے محض لوگوں کو ڈرایا جاتا ہے۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ قیامت کو جھٹلانے والوں کے پاس قیامت کے انکار کی کوئی دلیل نہیں مگر اس کے باوجود یہ انکار کرتے ہیں۔ اس کا سبب یہ ہے کہ ان کے گناہوں کا زنگ ان کے دلوں پر جم چکا ہے جس وجہ سے قیامت کی تکذیب کرتے ہیں۔ ان کے انکار کی ایک سزا یہ ہوگی کہ اپنے رب کے دیدار سے محروم رکھے جائیں گے۔ حالانکہ رب کریم کا دیدار جنت کی نعمتوں سے بھی زیادہ باکمال، بابرکت اور بےانتہا خوشی کا باعث ہوگا۔ مجرموں کو جہنم میں پھینک کر کہا جائے گا کہ یہ وہ جہنم اور قیامت کا دن ہے جسے تم جھٹلایا کرتے تھے۔
(عَنْ صُہَیْبٍ ؓ عَنِ النَّبِیِّ ﷺ قَالَ اِذَا دَخَلَ اَہْلُ الْجَنَّۃِ الْجَنَّۃَ یَقُوْلُ اللّٰہُ تَعَالٰی تُرِیْدُوْنَ شَیْءًا اَزِیْدُکُمْ فَیَقُوْلُوْنَ اَلَمْ تُبَیِّضْ وُجُوْہَنَا اَلَمْ تُدْخِلْنَا الْجَنَّۃَ وَ تُنَجِّنَا مِنَ النَّارِ قَالَ فَیَکْشِفُ الْحِجَابَ فَمَا اُعْطُوْا شَیْءًا اَحَبَّ اِلَیْہِمْ مِنَ النَّظَرِ اِلٰی رَبِّہِمْ عَزَّوَجَلَّ ثُمَّ تَلَا ھٰذِہِ الْآیَۃَ (لِلَّذِیْنَ اَحْسَنُوا الْحُسْنٰی وَزِیَادَۃٌ) (رواہ مسلم : کتاب الإیمان، باب إثبات رؤیۃ المؤمنین فی الآخرۃ ربھم سبحانہ)
” حضرت صہیب ؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا : جب جنتی جنت میں داخل ہوجائیں گے۔ تب اللہ تعالیٰ فرمائیں گے کیا تم مزید کوئی نعمت چاہتے ہو جو تمہیں عطا کروں ؟ وہ عرض کریں گے اے اللہ ! کیا آپ نے ہمارے چہروں کو روشن نہیں فرمایا ؟ آپ نے ہمیں جنت میں داخل نہیں کیا ؟ اور آپ نے ہمیں دوزخ سے نہیں بچایا ؟ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا : تب اللہ تعالیٰ اپنے نور کا پردہ اٹھائیں گے۔ جنتی کو ایسی کوئی نعمت عطا نہیں ہوئی ہوگی جو پروردگار کے دیدار سے انہیں زیادہ محبوب ہو، اس کے بعد آپ ﷺ نے یہ آیت تلاوت فرمائی ” جن لوگوں نے اچھے عمل کیے ان کے لیے جنت ہے اور مزید بھی۔ “
(عَنْ أَبِيْ ھُرَیْرَۃَ ؓ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ قَالَ إِنَّ الْعَبْدَ إِذَا أَخْطَأَ خَطِیْءَۃً نُکِتَتْ فِيْ قَلْبِہٖ نُکْتَۃٌ سَوْدَآءُ فَإِذَا ھُوَ نَزَعَ وَاسْتَغْفَرَ وَتَابَ سُقِلَ قَلْبُہٗ وَإِنْ عَادَ زِیْدَ فِیْھَا حَتّٰی تَعْلُوَ قَلْبَہٗ وَھُوَ الرَّانُ الَّذِيْ ذَکَرَ اللّٰہُ ( کَلَّا بَلْ رَانَ عَلٰی قُلُوْبِھِمْ مَّاکَانُوْا یَکْسِبُوْنَ )
(رواہ الترمذی : کتاب تفسیر القرآن )
” ابوہریرہ ؓ رسول اللہ ﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا : بندہ کوئی غلطی کرتا ہے تو اس کے دل پر سیاہ نکتہ پڑجاتا ہے جب وہ گناہ چھوڑ دے اور توبہ و استغفار کرے تو اس کا دل پالش ہوجاتا ہے۔ اگر وہ دوبارہ گناہ کی طرف پلٹے تو اس گناہ کی سیاہی اس کے دل پر چڑھ جاتی ہے یہی وہ زنگ ہے جس کا تذکرہ اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں کیا ہے کہ (ہرگز نہیں بلکہ ان کے دلوں پر ان کے گناہوں کی وجہ سے زنگ چڑھ چکا ہے۔ ) “
مسائل
1۔ جہنمی کے نام اور کام سجین میں لکھے جاتے ہیں جو ایک کھلی کتاب ہے۔
2۔ قیامت کو جھٹلانے والوں کے لیے اس دن ہلاکت اور بربادی ہوگی۔
3۔ قیامت کو جھٹلانے والا حد سے زیادہ گنہگار اور مجرم ہوتا ہے۔
4۔ قیامت کو جھٹلانے والے قیامت کے دلائل کو پہلے لوگوں کی کہانیاں قرار دیتے ہیں۔
5۔ لوگوں کے دلوں پر ان کے گناہوں کا زنگ چڑھ جاتا ہے۔
6۔ قیامت کی تکذیب کرنے والے رب کریم کے دیدار سے محروم ہوں گے۔
7۔ قیامت کو جھٹلانے والوں کو جہنم میں پھینک کر کہا جائے گا کہ یہی قیامت کا دن اور جہنم ہے جن کو تم جھٹلایا کرتے تھے۔
تفسیر بالقرآن
جہنمی کا انجام :
1۔ اس دن ہم ان کا مال جہنم کی آگ میں گرم کریں گے اس کے ساتھ ان کی پیشانیوں، کروٹوں اور پیٹھوں کو داغا جائے گا۔ (التوبہ : 35)
2۔ ان کا ٹھکانہ جہنم ہے جب وہ ہلکی ہونے لگے گی تو ہم اسے مزید بھڑکائیں گے۔ (بنی اسرائیل : 97)
3۔ تھور کا درخت گنہگاروں کا کھانا ہوگا۔ (الدخان : 43)
4۔ اس میں وہ کھولتا ہوا پانی پئیں گے اور اس طرح پئیں گے جس طرح پیا سا اونٹ پیتا ہے۔ (الواقعہ : 54 تا 55)
5۔ ہم نے ظالموں کے لیے آگ تیار کی ہے جو انہیں گھیرے ہوئے ہوگی اور انہیں پانی کی جگہ پگھلا ہو اتانبا دیا جائے گا جو ان کے چہروں کو جلا دے گا۔ (الکہف : 29) 6۔ جہنمی کو پیپ اور لہو پلایا جائے گا۔ (ابراہیم : 16)
7۔ جہنمی کے جسم بار بار بدلے جائیں گے تاکہ انہیں پوری پوری سزادی جائے۔ (النساء : 56)
Ayahs 83:18–28فہم القرآن
ربط کلام : جہنمی کا انجام ذکر کرنے کے بعد نیک لوگوں کے انجام اور انعام کا ذکر۔
سجیّن کے مقابلے میں جنت میں جانے والے خوش نصیبوں کا نام علییّن میں درج کیا جاتا ہے۔ اے پیغمبر ﷺ ! آپ نہیں جانتے کہ علییّن کیا ہے ؟ یہ بھی ایک دفتر ہے جس میں جنتی کے نام اور ان کے اعمال کا اندراج کیا جاتا ہے، جس کی نگر انی اللہ کے مقرب ترین فرشتے کرتے ہیں جو اس میں کسی قسم کی کمی بیشی نہ خود کرتے ہیں اور نہ ہونے دیتے ہیں۔ جن لوگوں کا علییّن میں نام لکھا جائے گا وہ نیکوکار لوگ ہیں جنہیں جنت میں داخل کیا جائے گا وہ شاندار تختوں پر بیٹھے جنت کا نظارہ کریں گے۔ آپ ان کے چہروں پر جنت کی نعمتوں کے اثرات دیکھیں گے انہیں پیک شدہ (Sealed) شراب پلائی جائے گی جس پر بےمثال قسم کی خوشبو کی مہر ثبت ہوگی اس میں تسنیم کی آمیزش ہوگی۔ یہ جنت میں پانی کا ایسا چشمہ ہے جس کے پانی کو شراب کے ساتھ ملا کر اللہ کے مقرب بندے پئیں گے، جو لوگ اپنے رب کی نعمتوں کا شوق اور ذوق رکھتے ہیں انہیں جنت اور اس کی نعمتوں کے حصول کے لیے کوشش تیز کردینی چاہیے۔ ان آیات میں یہ حقیقت واضح کی گئی ہے کہ جس طرح مجرموں کی ہر حرکت سجیّن میں اندراج کی جاتی ہے اسی طرح ہی نیک لوگوں کا چھوٹا بڑا عمل علییّن میں درج کیا جاتا ہے اور یہ جنتیوں کے ناموں کا دفتر ہے جس کا نام علییّن ہے جو ساتویں آسمان کے اوپر ہے اور اس کی حفاظت اللہ کے مقرب ترین فرشتے کرتے ہیں۔
مسائل
1۔ ” اللہ “ کے نیک بندوں کے نام اور کام علیین میں لکھے جاتے ہیں۔
2۔ علیین ایک دفتر ہے جس کی حفاظت اللہ تعالیٰ کے مقرب ترین فرشتے کرتے ہیں۔
3۔ جنتی لوگ جنت کے تختوں اور تکیوں پر بیٹھ کر جنت کے نظارے کریں گے۔
4۔ جنتی کے چہروں پر جنت کی نعمتوں کے اثرات نمایاں طور پر دکھائی دیں گے۔
5۔ جنتی کو مہر بند شراب دی جائے گی جس میں تسنیم کی آمیزش ہوگی۔
6۔ تسنیم جنت کے چشموں میں سے ایک چشمے کا نام ہے جس سے اللہ کے مقرب بندے سیر یاب ہوں گے۔
7۔ جنت کی نعمتوں کا شوق رکھنے والوں کو اس کے لیے رغبت اور محنت کرنا چاہیے۔
تفسیر بالقرآن
جہنمیوں اور جنتیوں کے چہرے میں فرق :
1۔ متقین کے چہرے ہشاش بشاش ہوں گے۔ (یونس : 26۔ 27)
2۔ قیامت کے دن نیک لوگوں کے چہروں پر ذلّت اور نحوست نہیں ہوگی اور وہ جنت میں قیام کریں گے۔ (یونس : 26)
3۔ مومنوں کے چہرے تروتازہ ہوں گے۔ (الغاشیہ : 8) 4۔ مومنوں کے چہرے خوش وخرم ہوں گے۔ (عبس : 38)
5۔ مومنوں کے چہرے تروتازہ ہوں گے۔ (القیامہ : 22) 6۔ مومنوں کا استقبال ہوگا۔ ( الزمر : 73)
7۔ برے لوگوں کے چہروں پر ذلّت چھائی ہوگی انہیں اللہ سے کوئی نہیں بچا سکے گا۔ (یونس : 27)
8۔ کفار کے چہرے بگڑے ہوں ہو گے۔ (الحج : 73) 9۔ کفّار کے چہروں پر گردو غبار ہوگا۔ (عبس : 40)
10۔ کفار کے چہرے مرجھائے اور اڑے ہوئے ہوں گے۔ (القیامہ : 24)
Ayahs 83:29–36فہم القرآن
ربط کلام : جہنمی کی جہنم میں جانے کی ایک وجہ اور ان کی حالت زار پر جنتی کا خوش ہونا۔
جہنمی کے جرائم میں یہ جرم بھی شامل ہوگا کہ دنیا میں انہیں اللہ کے عذاب اور قیامت سے ڈرایا جاتا تو وہ انبیائے کرام (علیہ السلام) اور ایمانداروں کو مذاق کیا کرتے تھے۔ جب نیک لوگوں کے پاس سے گزرتے تو اپنی آنکھوں اور ہاتھوں سے ان کی طرف اشارے کرتے تھے۔ انبیاء اور ان کے ساتھی اپنی کمزوری یا شرافت کی وجہ سے ان کے بیہودہ اشاروں کا جواب نہ دیتے تو مذاق اڑانے والے مزید تکبر کا شکار ہوجاتے اور اپنے دوست و احباب اور اہل خانہ کے پاس جا کر اس بات پر اتراتے کہ ہم نے آج ایمان کے دعویداروں کو بہت زچ کیا ہے۔ گمراہ لوگ اپنے دوست و احباب میں بیٹھ کر کہتے کہ یہ لوگ باپ داداکا دین اور اپنی قومی روایات کو چھوڑ کر گمراہ ہوگئے ہیں۔ مجرم یہ دعویٰ اور باتیں اس انداز میں اور تکرار کے ساتھ کرتے جیسا کہ یہ مومنوں پر نگران مقرر کیے گئے تھے۔ ان کی یا وہ گوئی اور بےہودہ حرکات کا نتیجہ ہوگا کہ قیامت کے دن جنتی کفارکو مذاق کریں گے اور جنت کے تختوں پر بیٹھ کر ان کی سزاؤں کا منظر دیکھیں گے اور آپس میں کہیں گے کہ آج کفار کو ان کے برے اعمال کی پوری پوری سزا مل رہی ہے۔ ان آیات میں یہ بات واضح کی گئی ہے کہ گناہگار اور جرائم پیشہ لوگ خود گمراہ ہونے کے باوجود نیک لوگوں کو گمراہ اور حقیر سمجھتے ہیں۔
” منکرین حق جب آپ کو دیکھتے ہیں تو آپ کا مذاق اڑاتے ہیں، کہتے ہیں کیا یہ شخص ہے جو تمہارے خداؤں کا تذکرہ کرتا ہے ؟ اور ان کا اپنا حال یہ ہے کہ الرحمان کے ذکر کے منکر ہیں۔ “ (الانبیاء : 36)
” جب کافر لوگ نصیحت سنتے ہیں تو تمہیں ڈراؤنی نظروں سے دیکھتے ہیں کہ گویا تمہارے قدم اکھاڑ دیں گے اور کہتے ہیں کہ یہ تو دیوانہ ہے۔ “ (القلم : 51)
(وَ کَذٰلِکَ فَتَنَّا بَعْضَہُمْ بِبَعْضٍ لِّیَقُوْلُوْٓا اَہٰٓؤُلَآءِ مَنَّ اللّٰہُ عَلَیْہِمْ مِّنْ بَیْنِنَا اَلَیْسَ اللّٰہُ بِاَعْلَمَ بالشّٰکِرِیْنَ ) (الانعام : 53)
” اور اسی طرح ہم نے ان کے بعض کو بعض کے ساتھ آزمائش میں مبتلا کیا تاکہ وہ کہیں کیا یہی لوگ ہیں جن پر اللہ نے ہم میں سے احسان کیا ہے ؟ کیا اللہ شکر کرنے والوں کو پوری طرح نہیں جانتا ؟ “
مسائل
1۔ جہنم میں جانے والے لوگ انبیائے کرام اور ایمانداروں کو استہزاء کا نشانہ بناتے تھے۔
2۔ جہنم میں جانے والے لوگ نیک لوگوں کو گمراہ خیال کرتے تھے۔
3۔ تکبر کرنے والے لوگ جہنمی ہوتے ہیں۔ 4۔ جنتی حضرات جنت میں بیٹھ کر جہنم میں جلنے والوں کو مذاق کریں گے۔
5۔ جہنمی کو جہنم میں ان کے اعمال کی پوری پوری سزادی جائے گی۔
تفسیر بالقرآن
برے لوگوں کا انبیاء ( علیہ السلام) اور نیک لوگوں کو استہزا کرنا :
1۔ جب حضرت نوح کی قوم کے لوگ ان کے پاس سے گذرتے تھے تو ان سے مذاق کرتے تھے۔ (ہود : 38)
2۔ یہ مذاق کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان سے مذاق کرے گا اور ان کے لیے دردناک عذاب ہوگا۔ (التوبہ : 79)
3۔ جب وہ ہماری نشانی دیکھتے ہیں تو مذاق کرتے ہیں۔ (الصٰفٰت : 14)
4۔ جب بھی ان کے پاس رسول آیا تو وہ اس کا مذاق اڑاتے ہیں۔ (الحجر : 11)
5۔ ان کے پاس کوئی نبی نہیں آیا مگر وہ اس کے ساتھ استہزاء کرتے تھے۔ (الزخرف : 7)
6۔ لوگوں پر افسوس ہے کہ ان کے پاس جب کبھی رسول آیا تو انہوں نے ان کے ساتھ استہزاء کیا۔ (یٰس : 30)