82. Surah Al-Infitaar

الإنفطارThe Cleaving · 19 ayahsفہم القرآن

تعارف

تعارف

سورة الانفطار کا تعارف اس سورت کا نام اس کی پہلی آیت کا آخری لفظ قرار پایا ہے۔ یہ مکہ معظمہ میں نازل ہوئی ایک رکوع پر مشتمل ہے جس کی انیس آیات ہیں۔ سورت التکویر کا تتمہ ہے اس میں یہ بتلایا ہے کہ جب قیامت برپا ہوگی تو ہر انسان اپنے اگلے پچھلے اعمال کو جان لے گا۔ انسان کی غفلت دور کرنے کے لیے اسے ان الفاظ میں مخاطب کیا گیا ہے کہ ” اے انسان تجھے تیرے رب کریم کے بارے میں کس چیز نے دھوکے میں ڈال دیا ہے حالانکہ اس نے تجھے پیدا کیا تیری شکل و صورت بنائی اور تجھ پر دو نگران مقرر کیے ہیں۔ وہ تیرا کیا کرایا سب کچھ تحریر کر رہے ہیں۔ جو قیامت کے دن ہر کسی کے سامنے رکھ دیا جائے گا اس دن نیک لوگ نعمتوں والی جنت میں ہوں گے اور برے لوگ جہنم میں داخل کیے جائیں گے اس دن کوئی کسی کے لیے کچھ بھی نہیں کرسکے گا اس دن سارے کے سارے اختیار اللہ تعالیٰ کے پاس ہوں گے۔

Ayahs 82:1–5

اِذَا السَّمَآءُ انْفَطَرَتْۙ Open ayah 82:1 in the Quran reader

جب آسمان پھٹ جائے گا

وَ اِذَا الْكَوَاكِبُ انْتَثَرَتْۙ Open ayah 82:2 in the Quran reader

اور جب ستارے بکھر جائیں گے

وَ اِذَا الْبِحَارُ فُجِّرَتْۙ Open ayah 82:3 in the Quran reader

اور جب سمندر پھاڑ دئیے جائیں گے

وَ اِذَا الْقُبُوْرُ بُعْثِرَتْۙ Open ayah 82:4 in the Quran reader

اور جب قبریں کھول دی جائیں گی

عَلِمَتْ نَفْسٌ مَّا قَدَّمَتْ وَ اَخَّرَتْؕ Open ayah 82:5 in the Quran reader

اس وقت ہر شخص کو اس کا اگلا پچھلا کیا کرایا معلوم ہوجائے گا

فہم القرآن ربط سورت : سورة التکویر میں قیامت سے پہلے دوسرے مرحلہ کی تفصیل بیان کرتے ہوئے ارشاد ہوا کہ قیامت کے دن جنت اور جہنم لوگوں کے سامنے لائی جائیں گی اور ہر انسان جان لے گا کہ اس نے اپنے آگے کیا بھیجا ہے۔ اس کے بعد یہ بیان ہوا کہ قرآن مجید اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل کیا گیا ہے جو لوگوں کے لیے نصیحت ہے۔ الانفطار کی ابتدا بھی قیامت کے پہلے اور دوسرے مرحلے کی نشاندہی سے کی گئی ہے۔ ارشاد ہوا کہ جب آسمان پھٹ جائے گا اور تارے بکھر جائیں گے اور سمندر پھاڑ دیئے جائیں گے اور قبریں کھول دی جائیں گی اس وقت ہر انسان کو اپنا اگلا پچھلا کیا ہوا سب کچھ معلوم ہوجائے گا۔ اس وقت انسان کو یاد آئے گا کہ اس نے اپنی زندگی میں کیا کیا کام کیے اور اپنے پیچھے کون سے اچھے یا برے کاموں کا تسلسل اور اثرات چھوڑ آیا تھا۔ یہاں قیامت کی ابتدا اور اس کی انتہا کے مراحل کا ذکر کیا گیا ہے۔ قیامت کا پہلا مرحلہ یہ ہوگا کہ آسمان ٹکڑے ٹکڑے ہو کر نیچے گرپڑے گا اس سے پہلے سورج لپیٹ لیا جائے گا۔ ( التکویر : 1) نظام شمسی کا آپس میں اتصال ختم ہوجائے گا جس سے ستارے تسبیح کے دانوں کی طرح نیچے گرنا شروع ہوجائیں گے، دوسری طرف زمین میں مسلسل زلزلے برپا ہوں گے جس سے سمندروں کا پانی زمین پر پھیل جائے گا جو بالآخر بھاپ بن کر ختم ہوجائے گا۔ نامعلوم کتنی مدّت تک یہ عمل جاری رہے گا اور اس کی تکمیل کے بعد کتنا عرصہ یہی حالت رہے گی۔ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا کہ دوسرا مرحلہ کب شروع ہوگا۔ اسرافیل کے دوسرا صور پھونکنے پر زمین جگہ جگہ پھٹ جائے گی، لوگ اپنی اپنی جگہ سے اٹھ کھڑے ہوں گے اور ہر کوئی میدان محشر کی طرف بھاگ رہا ہوگا، آخر کار اللہ تعالیٰ کی عدالت قائم ہوگی۔ جس میں لوگوں کے اعمال نامے ان کے دائیں یا بائیں ہاتھ میں تھما دیئے جائیں گے، ہر کوئی اپنا اعمال نامہ دیکھ کر جان جائے گا کہ اس نے اپنی زندگی میں آخرت کے لیے کیا کام کیے اور کون سے اچھے اور برے کام اپنے بعد چھوڑ آیا تھا، گویا کہ اس کے تمام اعمال کا احاطہ کرلیا جائے گا۔ جو اعمال نامہ کی شکل میں اس کے سامنے ہوگا۔ (اِنَّا نَحْنُ نُحْیِ الْمَوْتٰی وَ نَکْتُبُ مَا قَدَّمُوْا وَ اٰثَارَھُمْ وَ کُلَّ شَیْءٍ اَحْصَیْنٰہُ فِیْٓ اِمَامٍ مُّبِیْنٍ ) (یٰس : 12) ” یقیناً ہم ایک دن مردوں کو زندہ کرنے والے ہیں جو اعمال انہوں نے کیے ہیں وہ ہم لکھتے جا رہے ہیں اور انہوں نے جو کام پیچھے چھوڑے ہیں وہ بھی ہم لکھ رہے ہیں ہر بات کو ہم نے ایک کھلی کتاب میں درج کر رکھا ہے۔ “ (وَ وُضِعَ الْکِتٰبُ فَتَرَی الْمُجْرِمِیْنَ مُشْفِقِیْنَ مِمَّا فِیْہِ وَ یَقُوْلُوْنَ یٰوَیْلَتَنَا مَالِ ہٰذَا الْکِتٰبِ لَا یُغَادِرُ صَغِیْرَۃً وَّ لَا کَبِیْرَۃً اِلَّآ اَحْصٰہَا وَ وَجَدُوْا مَا عَمِلُوْا حَاضِرًا وَ لَا یَظْلِمُ رَبُّکَ اَحَدًا) (الکہف : 49) ” اور کتاب رکھی جائے گی آپ مجرموں کو دیکھیں گے کہ جو کچھ اس میں ہوگا اس سے ڈر رہے ہوں گے اور کہیں گے ہائے ہماری کم بختی ! کیسی کتاب ہے، اس نے نہ چھوٹی بات چھوڑی ہے اور نہ بڑی چھوڑی ہے اس نے سب کچھ شمار کر رکھا ہے انھوں نے جو کچھ کیا تھا اسے حاضر پائیں گے اور آپ کا رب کسی پر ظلم نہیں کرتا۔ “ مسائل 1۔ قیامت کے دن آسمان پھٹ جائے گا۔ 2۔ تارے مکمل طور پر بکھر جائیں گے۔ 3۔ سمندر پھاڑ دئیے جائیں گے۔ 4۔ قبریں کھول دی جائیں گی۔ 5۔ انسان کے اگلے پچھلے اعمال اس کے سامنے رکھ دئیے جائیں گے۔ تفسیر بالقرآن قیامت کے دن ہر انسان اپنا اعمال نامہ دیکھ لے گا : 1۔ قیامت کے دن ہر کسی کا نامہ اعمال کھول کر اس کے سامنے رکھ دیا جائے گا۔ (بنی اسرائیل : 13) 2۔ جب اعمال نامہ دیا جائے گا، تو مجرم لوگ اس میں سب کچھ لکھا ہوا پائے گا۔ (الکہف : 49) 3۔ جس کو نامہ اعمال اس کے دائیں ہاتھ میں دیا گیا، وہ اس کو پڑھے گا۔ (بنی اسرائیل : 71) 4۔ جس کو نامہ اعمال دائیں ہاتھ میں دیا گیا، وہ کہے گا آؤ میرا نامہ اعمال پڑھو۔ (الحاقہ : 19) 5۔ جس کو اعمال نامہ بائیں ہاتھ میں دیا جائے گا وہ کہے گا کاش کہ مجھے یہ نامہ اعمال نہ دیا جاتا۔ (الحاقہ : 20) 6۔ جس کو اعمال نامہ دائیں ہاتھ میں دیا گیا اس کا حساب آسان ہوگا۔ (الانشقاق : 8۔ 7) 7۔ جس کا اعمال نامہ پیٹھ کے پیچھے سے دیا گیا وہ موت کو پکارے گا اور دوزخ میں داخل کیا جائے گا۔ (الانشقاق : 10 تا 12)
Ayahs 82:6–12

یٰۤاَیُّهَا الْاِنْسَانُ مَا غَرَّكَ بِرَبِّكَ الْكَرِیْمِۙ Open ayah 82:6 in the Quran reader

اے انسان کس چیز نے تجھے اپنے کریم رب کے بارے میں دھوکے میں ڈال دیا

الَّذِیْ خَلَقَكَ فَسَوّٰىكَ فَعَدَلَكَۙ Open ayah 82:7 in the Quran reader

جس نے تجھے پیدا کیا، تجھے ٹھیک ٹھاک کیا اور تجھے متوازن بنایا

فِیْۤ اَیِّ صُوْرَةٍ مَّا شَآءَ رَكَّبَكَؕ Open ayah 82:8 in the Quran reader

اور جس صورت میں چاہا تجھے جوڑ کر پیدا کیا

كَلَّا بَلْ تُكَذِّبُوْنَ بِالدِّیْنِۙ Open ayah 82:9 in the Quran reader

ہر گز نہیں بلکہ تم لوگ جزا وسزا کو جھٹلاتے ہو

وَ اِنَّ عَلَیْكُمْ لَحٰفِظِیْنَۙ Open ayah 82:10 in the Quran reader

معزز لکھنے والے

كِرَامًا كَاتِبِیْنَۙ Open ayah 82:11 in the Quran reader

جو تمہارے ہر کام کو جانتے ہیں

یَعْلَمُوْنَ مَا تَفْعَلُوْنَ Open ayah 82:12 in the Quran reader

جو تمہارے ہر کام کو جانتے ہیں

فہم القرآن ربط کلام : لوگوں تک ان کے اعمال نامے پہنچنے کے بعد ہر شخص کو رب کریم کا خطاب۔ جب تمام لوگوں کو اپنے اپنے اعمال کے مطابق ان کے دائیں یا بائیں ہاتھ میں اعمال نامے تھما دیئے جائیں گے تو پھر ایک مرحلہ ایسا آئے گا۔ جب رب کریم پورے جلال کے ساتھ ان لوگوں کو مخاطب فرمائیں گے۔ جنہوں نے دنیا میں رہتے ہوئے اس کے فرامین سے روگردانی کی ہوگی۔ ہر مجرم یہی سمجھے گا کہ رب ذوالجلال صرف مجھے ہی مخاطب کر رہا ہے اس لیے خطاب ہوگا کہ اے مجرم انسان ! تجھے اپنے کریم رب کے بارے میں کس چیز نے دھوکے میں ڈال دیا تھا۔ نہ تو نے اپنے رب کی کرم نوازیوں کا شکر ادا کیا اور نہ ہی اس کی ناراضگی سے بچنے کی کوشش کی حالانکہ اس نے تجھے پیدا کیا اور جس طرح چاہا تیری شکل و صورت بنائی اور تیرے اعضاء میں توازن پیدا کیا۔ اس کے باوجود تمہارا حال یہ ہے کہ تم قیامت کی تکذیب کرتے ہو اور یہ سمجھ بیٹھے ہو کہ تمہارا حساب و کتاب لینے والا کوئی نہیں ہوگا حالانکہ تم پر نگران مقرر کیے گئے ہیں جو بڑے معزز اور دیانتدار ہیں، وہ تمہاری تمام حرکات و سکنات کو ضبط تحریر میں لارہے ہیں جنہیں قیامت کے دن تمہارے سامنے رکھ دیا جائے گا۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کے جسم میں توازن پیدا فرمایا ہے۔ انسان کے جسم کا توازن بگڑ جائے تو اس کے لیے اٹھنا اور چلنا محال ہوجاتا ہے۔ جسمانی توازن کا ذکر فرما کر انسان کو سمجھایا ہے کہ تجھے بھی دنیا اور آخرت کے معاملات میں توازن قائم رکھنا چاہئے۔ (عَنْ اَبِیْ ھُرَےْرَۃَ ؓ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ ےَتَعَاقَبُوْنَ فِےْکُمْ مَلَآءِکَۃٌ باللَّےْلِ وَمَلَآءِکَۃٌ بالنَّھَارِ وَےَجْتَمِعُوْنَ فِیْ صَلٰوۃِ الْفَجْرِ وَصَلٰوۃِ الْعَصْرِ ثُمَّ ےَعْرُجُ الَّذِےْنَ بَاتُوْا فِےْکُمْ فَےَسْأَلُھُمْ رَبُّھُمْ وَھُوَ اَعْلَمُ بِھِمْ کَےْفَ تَرَکْتُمْ عِبَادِیْ فَےَقُوْلُوْنَ تَرَکْنٰھُمْ وَھُمْ ےُصَلُّوْنَ وَاٰتَےْنٰھُمْ وَھُمْ ےُصَلُّوْنَ ) (رواہ البخاری : کتاب مواقیت الصلاۃ، باب فَضْلِ صَلاَۃِ الْعَصْر) ” حضرت ابو ہریرۃ ؓ بیان کرتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تمہارے پاس رات اور دن باری باری فرشتے آتے ہیں، اور وہ فجر اور عصر کی نماز میں جمع ہوتے ہیں، رات والے فرشتے چلے جاتے ہیں تو ان سے پروردگار سوال کرتا ہے کہ تم نے میرے بندوں کو کس حال میں چھوڑ اوہ جواب دیتے ہیں کہ جب ہم ان کے پاس پہنچے تو وہ نماز ادا کررہے تھے اور جب ہم ان سے واپس آئے تو وہ نماز ہی کی حالت میں تھے۔ (عَنْ عَدِیِّ بْنِ حَاتِمٍ ؓ قَالَ قَال النَّبِیُّ ﷺ مَا مِنْکُمْ مِنْ أَحَدٍ إِلَّا وَسَیُکَلِّمُہُ اللّٰہُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ لَیْسَ بَیْنَ اللّٰہِ وَبَیْنَہٗ تُرْجُمَانٌ ثُمَّ یَنْظُرُ فَلَا یَرٰی شَیْءًا قُدَّامَہُ ثُمَّ یَنْظُرُ بَیْنَ یَدَیْہِ فَتَسْتَقْبِلُہُ النَّارُ فَمَنْ اسْتَطَاعَ مِنْکُمْ أَنْ یَتَّقِیَ النَّارَ وَلَوْ بِشِقِّ تَمْرَۃٍٍ ۔۔ فَمَنْ لَّمْ یَجِدْ فَبِکَلِمَۃٍ طَیِّبَۃٍ ) (رواہ البخاری : باب کلام الرب عزوجل یوم القیامۃ مع الأنبیاء وغیرھم) ” حضرت عدی بن حاتم ؓ بیان کرتے ہیں نبی معظم ﷺ نے فرمایا تم میں سے ہر کسی کے ساتھ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن کلام کرے گا، اللہ اور اس شخص کے درمیان کوئی ترجمان نہیں ہوگا، پھر وہ دیکھے گا اس نے کیا عمل کیے ہیں، آدمی دیکھے گا تو اسکے سامنے آگ ہوگی جو بھی تم میں سے استطاعت رکھتا ہے آگ سے بچنے کی کوشش کرے چاہے کھجور کے ایک ٹکڑے کے ساتھ۔۔ یہ نہ پائے تو وہ اچھی بات کہے۔ “ مسائل 1۔ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن ہر مجرم کو براہ راست مخاطب فرمائے گا۔ 2۔ اللہ تعالیٰ نے ہی انسان کی شکل و صورت بنائی اور اس کے وجود کو مناسب انداز میں جوڑا۔ 3۔ اللہ تعالیٰ نے لوگوں پر نگران اور کراماً کاتبین مقرر کر رکھے ہیں۔ 4۔ کراماً کاتبین انسان کی تمام حرکات و سکنات کو ضبط تحریر میں لاتے ہیں۔ تفسیر بالقرآن اللہ تعالیٰ نے انسان کو بہترین شکل و صورت میں پیدا فرمایا ہے : 1۔ اللہ ہی نے انسان کو بہترین شکل و صورت میں پیدا فرمایا۔ (التین : 4) 2۔ ” اللہ “ نے انسان کو مٹی سے پیدا کیا۔ (الروم : 20) 3۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو ایک نطفے سے پیدا کیا۔ (الدھر : 2) 4۔ اللہ نے ایک ہی جان سے سب انسانوں کو پیدا کیا۔ (الاعراف : 189) 5۔ اللہ ہی پیدا کرنے والا ہے اور اس کا ہی حکم چلنا چاہیے۔ (الاعراف : 54)
Ayahs 82:13–19

اِنَّ الْاَبْرَارَ لَفِیْ نَعِیْمٍۚ Open ayah 82:13 in the Quran reader

یقیناً نیک لوگ نعمتوں میں ہوں گے

وَ اِنَّ الْفُجَّارَ لَفِیْ جَحِیْمٍۚۖ Open ayah 82:14 in the Quran reader

اور بیشک بدکار لوگ جہنم میں جائیں گے

یَّصْلَوْنَهَا یَوْمَ الدِّیْنِ Open ayah 82:15 in the Quran reader

جزا کے دن اس میں داخل ہوں گے

وَ مَا هُمْ عَنْهَا بِغَآئِبِیْنَؕ Open ayah 82:16 in the Quran reader

اور اس سے ہرگز غائب نہیں ہوں گے

وَ مَاۤ اَدْرٰىكَ مَا یَوْمُ الدِّیْنِۙ Open ayah 82:17 in the Quran reader

اور تم کیا جانتے ہو کہ جزا کا دن کیا ہے ؟

ثُمَّ مَاۤ اَدْرٰىكَ مَا یَوْمُ الدِّیْنِؕ Open ayah 82:18 in the Quran reader

ہاں آپ کو کیا خبر کہ جزا کا دن کیا ہے

یَوْمَ لَا تَمْلِكُ نَفْسٌ لِّنَفْسٍ شَیْئًا١ؕ وَ الْاَمْرُ یَوْمَئِذٍ لِّلّٰهِ۠ Open ayah 82:19 in the Quran reader

اس دن کوئی کسی کے لیے کوئی اختیار نہیں پائے گا۔ اور اس دن صرف ایک اللہ کا حکم چلے گا

فہم القرآن ربط کلام : انسان جو کچھ کرتا ہے فرشتے اسے اس کے اعمال نامے میں درج کرتے ہیں۔ خوش قسمت انسان اپنے اعمال کی بنیاد پر جنت کی نعمتوں سے لطف اندوز ہوں گے اور بدقسمت لوگ اپنے برے اعمال کرنے کی وجہ سے جہنم میں سزا پائیں گے۔ پچھلی آیات میں ذکر ہوا کہ انسان جو کچھ کرتا ہے کراماً کاتبین اسے لکھتے جاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے کراماً کاتبین کو یہ صلاحیت عطا فرمائی کہ وہ نہ صرف انسان کا دن رات میں کیا ہوا ہر عمل ضبط تحریر میں لاتے ہیں بلکہ انسان جو عمل جس نیت کے ساتھ کرتا ہے اسے بھی اس کے عمل کے ساتھ درج کرلیتے ہیں۔ جس کا عقیدہ اور عمل ٹھیک ہوگا اسے جنت نعیم میں داخل کیا جائے گا اور جن کا عقیدہ اور عمل برے ہونگے انہیں جہنم میں جھونک دیا جائے گا۔ قیامت کے دن سب نے اپنے رب کے حضور اکٹھا ہونا ہے اور کوئی بھی اس سے اپنا کوئی عمل چھپا نہیں سکے گا، یہ جزا کا دن ہوگا۔ جس دن نیکیوں کا کئی گنا اضافہ کے ساتھ بدلہ دیا جائے گا اور برے لوگوں کو ان کی برائی کے برابر ہی سزا ہوگی۔ آپ کو کیا معلوم کہ یہ دن کیسا ہوگا ؟ اس دن کوئی شخص کسی دوسرے کا بوجھ اٹھانے کے لیے تیار نہیں ہوگا اور صرف اللہ تعالیٰ کا حکم ہی نافذ العمل ہوگا۔ آیت 16 کا دوسرا مفہوم یہ ہے کہ کوئی مجرم جہنم سے بھاگ کر غائب نہیں ہو سکے گا۔ (عَنْ عَبْدُ اللَّہِ بْنُ عُمَرَ ؓ قَالَ قَالَ رَسُول اللَّہِ ﷺ یَطْوِی اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ السَّمَوَاتِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ ثُمَّ یَأْخُذُہُنَّ بِیَدِہِ الْیُمْنَی ثُمَّ یَقُولُ أَنَا الْمَلِکُ أَیْنَ الْجَبَّارُونَ أَیْنَ الْمُتَکَبِّرُونَ ثُمَّ یَطْوِی الأَرَضِینَ بِشِمَالِہِ ثُمَّ یَقُولُ أَنَا الْمَلِکُ أَیْنَ الْجَبَّارُونَ أَیْنَ الْمُتَکَبِّرُونَ ) (رواہ مسلم : کتاب صفۃ القیامۃ والجنۃ والنار ) حضرت عبداللہ بن عمر ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول محترم ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ زمینوں اور آسمانوں کو یکجا کرکے اپنے ہاتھ میں لیتے ہوئے فرمائیں گے کہ میں ہی بادشاہ ہوں۔ ظالم وسفاک اور نخوت و غرور رکھنے والے آج کہاں ہیں ؟ یَقُوْلُ اَنَا الْمَلِکُ اَیْنَ الْجَبَّارُوْنَ أَیْنَ الْمُتَکَبِّرُوْنَ ۔ مسائل 1۔ اللہ تعالیٰ نے ہر انسان پر کراماً کاتبین مقرر کردیئے ہیں۔ 2۔ انسان جو بھی عمل کرتا ہے کراماً کاتبین اسے من وعن لکھ لیتے ہیں۔ 3۔ قیامت کا دن بڑا بھاری ہوگا۔ 4۔ قیامت کے دن کوئی شخص بھی اپنا کوئی عمل چھپا نہیں سکے گا۔ 5۔ قیامت کے دن کوئی کسی کا بوجھ نہیں اٹھائے گا اور اللہ کا حکم ہی نافذ العمل ہوگا۔ 6۔ نیک لوگ نعمتوں والی جنت میں داخل ہوں گے اور برے لوگوں کو جہنم میں جھونک دیا جائے گا۔ تفسیر بالقرآن جنت کی نعمتوں کی ایک جھلک اور جہنم کی ہولناکیوں کا ایک منظر : 1۔ ہم ان کے دلوں سے کینہ نکال دیں گے اور سب ایک دوسرے کے سامنے تکیوں پر بیٹھے ہوں گے۔ انہیں کوئی تکلیف نہیں پہنچے گی اور نہ وہ اس سے نکالے جائیں گے۔ (الحجر : 47۔ 48) 2۔ جس جنت کا مومنوں کے ساتھ وعدہ کیا گیا ہے۔ اس کے نیچے سے نہریں جاری ہیں اور اس کے پھل اور سائے ہمیشہ کے لیے ہوں گے۔ (الرعد : 35) 3۔ مجرم جہنم کے گرجنے برسنے کی آوازیں سنیں گے۔ (الفرقان : 12) 4۔ جنت میں بےخار بیریاں، تہہ بہ تہہ کیلے، لمبا سایہ، چلتا ہوا پانی، اور کثرت سے میوے ہوں گے۔ (الواقعہ : 28 تا 30) 5۔ جنت کے میوے ٹپک رہے ہوں گے۔ (الحاقہ : 23) 6۔ جہنم کا ایندھن لوگ اور پتھر ہوں گے۔ (البقرۃ : 24) 7۔ جنت میں وہ سب کچھ ہوگا جس کی جنتی خواہش کرے گا۔ (حٰم السجدۃ : 31) 8۔ جہنم کی آگ بہت زیادہ تیز ہوگی۔ (التوبہ : 81) 9۔ جہنم بھرنے کا نام نہیں لے گی۔ (ق : 30)