81. Surah At-Takwir

التكويرThe Overthrowing · 29 ayahsفہم القرآن

تعارف

تعارف

سورة التکورکا تعارف یہ سورت مکہ میں نازل ہوئی اس کی انتیس آیات ہیں۔ جو ایک رکوع کا احاطہ کیے ہوئے ہیں اس کا نام اس کی پہلی آیت میں موجود ہے اس میں قیامت کے ابتدائی اور آخری مراحل کا ذکر کیا گیا ہے۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے رات اور ستاروں کی قسم کھا کر یہ بات واضح فرمائی ہے کہ قرآن مجید کسی جن اور شیطان کا کلام نہیں یہ تو اللہ تعالیٰ کا کلام ہے جسے ملائکہ کے سردار اور نہایت ہی معزز فرشتہ جبرئیل امین نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے پڑھتا ہے جسے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے روشن افق پر دیکھا ہے اس کے کلام اللہ ہونے میں کوئی شک نہیں یہ ہر اس شخص کے لیے نصیحت ہے جو صراط مستقیم پر چلنا چاہتا ہے اس پر چلنے کی اسے توفیق ملتی ہے جسے اللہ تعالیٰ پسند فرماتا ہے کیونکہ وہی کچھ ہوتا ہے جو اللہ تعالیٰ کرنا چاہتا ہے۔

Ayahs 81:1–6

اِذَا الشَّمْسُ كُوِّرَتْ۪ۙ Open ayah 81:1 in the Quran reader

جب سورج لپیٹ دیا جائے گا

وَ اِذَا النُّجُوْمُ انْكَدَرَتْ۪ۙ Open ayah 81:2 in the Quran reader

اور جب تارے بےنور ہوجائیں گے

وَ اِذَا الْجِبَالُ سُیِّرَتْ۪ۙ Open ayah 81:3 in the Quran reader

اور جب پہاڑچلائے جائیں گے

وَ اِذَا الْعِشَارُ عُطِّلَتْ۪ۙ Open ayah 81:4 in the Quran reader

اور جب دس مہینے کی حاملہ اونٹنیاں اپنے حال پر چھوڑ دی جائیں گی

وَ اِذَا الْوُحُوْشُ حُشِرَتْ۪ۙ Open ayah 81:5 in the Quran reader

اور جب جنگلی جانور اکٹھے کیے جائیں گے

وَ اِذَا الْبِحَارُ سُجِّرَتْ۪ۙ Open ayah 81:6 in the Quran reader

اور جب سمندر بھڑکا دیے جائیں گے

فہم القرآن ربط سورت : سورت عبس کا اختتام اس بات پر کیا گیا کہ جو لوگ قیامت کا انکار کرتے ہیں ان کے چہروں پر ذلّت اور سیاہی چھائی ہوگی۔ التکویر میں قیامت کے ابتدائی مراحل ذکر فرما کر بتلایا ہے کہ انسان نے دنیا میں رہ کر جو کچھ کیا ہوگا وہ قیامت کے دن اس کے سامنے پیش کردیا جائے گا۔ اس حالت میں کہ اس کے ایک طرف جہنم دھک رہی ہوگی اور دوسری طرف جنت مہک رہی ہوگی۔ اس سورة کی ابتدا میں قیامت کے پہلے ہولناک مرحلہ کا منظر پیش کیا گیا ہے اسرافیل جونہی پہلی صور پھونکے گا تو زمین و آسمانوں میں ہلچل مچ جائے گی۔ ہر جاندار موت کے گھاٹ اتر جائے گا یہاں تک کہ سورج اپنی روشنی اور حرارت کھو بیٹھے گا۔ جس کے لیے ” کُوِّ رَتْ “ کا لفظ استعمال فرمایا ہے۔ ” کُوِّ رَتْ “ کا لفظ تکویر سے نکلا ہے۔ عربی زبان میں یہ لفظ کسی چیز کے لپیٹنے کے معنٰی میں استعمال ہوتا ہے۔ اس لیے عرب ” تکویر العمامہ “ کا لفظ استعمال کرتے ہیں یعنی دستار کو سر پر لپیٹنا۔ سورج کے لیے یہ لفظ اس لیے استعمال کیا گیا ہے کہ سورج کی روشنی اس کے چار سو پھیلی ہوتی ہے یہ روشنی قیامت کے دن سمٹ کر بالآخر ختم ہوجائے گی۔ اس مناسبت سے فرمایا ہے کہ جب سورج لپیٹ دیا جائے گا۔ آج سورج ایک کُرّہ کی شکل میں موجود ہے اسے بےنور کرنے کے ساتھ سکیڑ دیا جائے گا۔ شمسی نظام میں چاند، ستارے اور سورج آپس میں کسی نہ کسی لحاظ سے منسلک ہیں، جب سورج، چاند اور ستاروں کا آپس میں اتصال ختم ہوجائے گا تو چاند، ستارے اور سورج بھی بےنور ہو کر گرپڑیں گے۔ صور پھونکنے کی وجہ سے زمین میں انتہادرجے کے زلزلے ہوں گے جن سے پہاڑوں کی جڑیں کھوکھلی ہوجائیں گی اور یہ ٹکڑے ٹکڑے ہو کر گرپڑیں گے اور بالآخر ریت کے ذرّات بن کر اڑنے لگیں گے، چوپاؤں اور وحشی جانوروں کی کیفیت یہ ہوگی کہ جس شیر اور بھیڑیے کا کام پھاڑ ڈالنا ہے وہ قیامت کی وحشت کی وجہ سے اس قدر گھبرائے ہوئے ہوں گے کہ کسی پر پنجہ اٹھانے کی سکت نہیں پائیں گے، یہاں تک کہ سانپ اور بچھو بھی کسی کو کاٹ نہیں سکیں گے۔ اس حالت میں جنگل کے جانور ایک دوسرے کے ساتھ سمٹے اور سہمے ہوئے ہوں گے۔ دس ماہ کی حاملہ اونٹنی بھی اپنا حمل گر ادے گی اور مدہوش پھرے گی کوئی اس کا والی وارث نہیں ہوگا۔ حاملہ اونٹنی کا ذکر فرما کر بات ثابت کی ہے کہ لوگ اپنی عزیز سے عزیز تر چیزکو بھی بھول جائیں گے۔ یاد رہے کہ نزول قرآن کے وقت عربوں کے ہاں دس ماہ کی حاملہ اونٹنی کی بڑی قدروقیمت تھی۔ اس سے ان کے مال میں اضافہ ہوتا تھا، وہ اس اونٹنی کا دودھ پیتے اور اسے سواری کے لیے استعمال کرتے تھے، اس بنا پر عرب اس اونٹنی کا دوسرے جانوروں سے زیادہ خیال رکھتے تھے۔ قیامت کی وحشت کی وجہ سے اونٹوں کے چرواہے حاملہ اونٹنی سے بھی بےپرواہ ہوں گے۔ قیامت کی وحشت سے صرف زمین و آسمانوں میں ہلچل نہیں مچے گی بلکہ سمندر کا پانی بھی آگ بن کر بھڑکنے لگے گا۔ سائنس نے یہ بات ثابت کردی ہے کہ پانی دو گیسوں پر مشتمل ہوتا ہے آکسیجن اور ہائیڈروجن۔ آکسیجن کا کام آگ کو بجھانا اور ہائیڈروجن آگ کو تیز کرتی ہے، اس دن سمندر کا پنی ہائیڈروجن بن کر آگ کی شکل اختیار کرجائے گا۔ (عَنْ اَبِیْ سَلْمَۃَ ؓ حَدَّثَنَا أَبُوْ ہُرَیْرَۃَ ؓ عَنْ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ قَالَ إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ یُکَوِّرَانِ فِیْ النَّارِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ قَالَ فَقَالَ الْحَسَنُ مَا ذَنْبَہُمَا ؟ فَقَالَ إِنِّیْ أُحَدِّثُکَ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ فَسَکَتَ الْحَسَنُ ) (الابانۃ الکبریٰ لابن بطۃ : باب ذکر ما جاءت بہ السنۃ من طاعۃ رسول اللہ ﷺ ” حضرت ابو سلمہ ؓ فرماتے ہیں کہ ہمیں ابوہریرہ ؓ نے رسول اللہ ﷺ سے بیان کیا کہ آپ ﷺ نے فرمایا قیامت کے دن سورج اور چاند کو اکٹھا جہنم میں پھینک دیا جائے گا۔ حضرت حسن ؓ نے پوچھا ان کا جرم کیا ہے ؟ انہوں نے جواب دیا میں تمہیں نبی ﷺ کی حدیث سنا رہا ہوں ان کی یہ بات سن کر حضرت حسن ؓ خاموش ہوگئے۔ “ مسائل 1۔ قیامت کے دن اللہ کے حکم سے ہر چیز تباہ کردی جائے گی۔ 2۔ قیامت کے دن پہاڑوں کو روئی کی شکل میں اڑا دیا جائے گا۔
Ayahs 81:7–9

وَ اِذَا النُّفُوْسُ زُوِّجَتْ۪ۙ Open ayah 81:7 in the Quran reader

اور جب روحیں جسموں سے ملا دی جائیں گی

وَ اِذَا الْمَوْءٗدَةُ سُئِلَتْ۪ۙ Open ayah 81:8 in the Quran reader

اور جب زندہ درگور کی ہوئی بچی سے پوچھا جائے گا

بِاَیِّ ذَنْۢبٍ قُتِلَتْۚ Open ayah 81:9 in the Quran reader

کہ وہ کس غلطی کے بدلے قتل گئی

فہم القرآن ربط کلام : قیامت کے دوسرے مرحلے کی ابتدا۔ ہر شخص اس حقیقت کو جانتا ہے کہ جب انسان کی روح اس کے قفس عنصری سے نکل جاتی ہے تو انسان کا جسم کسی قسم کی تکلیف محسوس نہیں کرتا، جب جسم میں روح ہوتی ہے تو انسان کا نٹا چبھنے سے بھی تڑپ اٹھتا ہے۔ روح نکل جانے کے بعد انبیاء کرام (علیہ السلام) کے اجسام کے سوا ہر انسان کے جسم کو مٹی کھا جاتی ہے اِلّا یہ کہ جس کے جسم کو اللہ تعالیٰ سلامت رکھے۔ عالم برزخ میں صرف روح کو ہی اذّیت یا راحت پہنچتی ہے۔ جونہی اسرافیل دوسری مرتبہ صور پھونکے گا تو اللہ کے حکم سے ہر انسان کا جسم اپنی حالت میں آجائے گا اور اس میں روح ڈال دی جائے گی۔ جسے یوں بیان کیا ہے کہ جب جسموں کے ساتھ ان کی روحیں جوڑ دی جائیں گی۔ بعض مفسرین نے اس کا مفہوم یہ بھی لیا ہے کہ لوگوں کو ان کے اعمال کی مناسبت سے اکٹھا کردیا جائے گا یعنی چور اور ڈاکو الگ الگ کردیئے جائیں گے، بدکار اور شرابیوں کو الگ الگ کردیا جائے گا، مشرک آپس میں اکٹھے ہوں گے اور کفار کو الگ جمع کردیا جائے گا۔ لیکن قرآن مجید کے الفاظ سے پہلا مفہوم زیادہ مناسبت رکھتا ہے۔ جونہی لوگوں کا محشر کے میدان میں حساب و کتاب شروع ہوگا تو رب ذوالجلال کی بارگاہ میں ان معصوم بچیوں کو پیش کیا جائے گا جنہیں لڑکی ہونے کی وجہ سے قتل کردیا گیا تھا۔ جن ماں باپ اور لوگوں نے بچیوں کو قتل کیا ہوگا، رب ذوالجلال انہیں مخاطب کرنے کی بجائے ان لڑکیوں اور ننھی منھی بچیوں کو مخاطب فرمائیں گے کہ تمہیں کیوں قتل کیا گیا تھا ؟ وہ عرض کرے گی کہ اے ” رب “ میرے ماں باپ نے مجھے بیٹی ہونے کی بنا پر قتل کیا تھا۔ عربوں میں کچھ قبائل قبل از اسلام اپنی بیٹیوں کو درج ذیل وجوہات کی بنا پر قتل کرتے تھے۔ 1۔ جنگ کے دوران انہیں لڑکیوں کی حفاظت کرنا پڑتی تھی۔ 2۔ کچھ قبائل دوسرے کو اپنا داماد بنانے میں عار سمجھتے تھے۔ 3۔ خوردونوش اور دیگر اخراجات کے حوالے سے بیٹوں کے مقابلے میں بیٹیوں کو بوجھ تصور کرتے تھے۔ مندرجہ بالا وجوہات کی بنا پر عرب کے کچھ قبائل اپنی بیٹیوں کو زندہ درگور کردیتے تھے۔ (أَخْبَرَنَا الْوَلِیدُ بْنُ النَّضْرِ الرَّمْلِیُّ عَنْ مَسَرَّۃَ بْنِ مَعْبَدٍ مِنْ بَنِی الْحَارِثِ ابْنِ أَبِی الْحَرَامِ مِنْ لَخْمٍ ، عَنِ الْوَضِینِ أَنَّ رَجُلاً أَتَی النَّبِیَّ ﷺ فَقَالَ یَا رَسُول اللّٰہِ إِنَّا کُنَّا أَہْلَ جَاہِلِیَّۃٍ وَعِبَادَۃِ أَوْثَانٍ فَکُنَّا نَقْتُلُ الأَوْلاَدَ وَکَانَتْ عِنْدِی بِنْتٌ لِی فَلَمَّا أَجَابَتْ وَکَانَتْ مَسْرُورَۃً بِدُعَاءِی إِذَا دَعَوْتُہَا فَدَعَوْتُہَا یَوْمًا فَاتَّبَعَتْنِی فَمَرَرْتُ حَتَّی أَتَیْتُ بِءْرًا مِنْ أَہْلِی غَیْرَ بَعِیدٍ فَأَخَذْتُ بِیَدِہَا فَرَدَّیْتُ بِہَا فِی الْبِءْرِ وَکَانَ آخِرَ عَہْدِی بِہَا أَنْ تَقُولَ یَا أَبَتَاہُ یَا أَبَتَاہُ فَبَکَی رَسُول اللّٰہِ ﷺ حَتَّی وَکَفَ دَمْعُ عَیْنَیْہِ فَقَالَ لَہُ رَجُلٌ مِنْ جُلَسَاءِ رَسُول اللّٰہِ ﷺ أَحْزَنْتَ رَسُول اللّٰہِ ﷺ فَقَالَ لَہُ کُفَّ فَإِنَّہُ یَسْأَلُ عَمَّا أَہَمَّہُ ، ثُمَّ قَالَ لَہُ أَعِدْ عَلَیَّ حَدِیثَکَ فَأَعَادَہُ فَبَکَی حَتَّی وَکَفَ الدَّمْعُ مِنْ عَیْنَیْہِ عَلَی لِحْیَتِہِ ، ثُمَّ قَالَ لَہُ إِنَّ اللَّہَ قَدْ وَضَعَ عَنِ الْجَاہِلِیَّۃِ مَا عَمِلُوا فاسْتَأْنِفْ عَمَلَکَ ) (رواہ الدارمی : باب ما کان علیہ الناس قبل مبعث النبی ﷺ من الجہل والضلالۃ) ” ولید بن نضر رملی کہتے ہیں کہ ہمیں سبرہ بن معبد یہ واقعہ وضین سے بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے نبی اکرم ﷺ کے پاس آکر جاہلیت کے دور کا اپنا واقعہ بیان کیا۔ کہا اے اللہ کے رسول ﷺ ! ہم دور جاہلیت میں بتوں کی پوجا کرتے اور اپنی اولادوں کو قتل کرتے تھے۔ میری ایک بیٹی تھی جو مجھ سے بہت پیار کرتی تھی، جب بھی میں اسے بلاتا تو وہ میرے پاس دوڑتی ہوئی آتی۔ ایک دن میں نے اس کو بلایا اور اپنے ساتھ لے کر چل پڑا میں اپنے گھر سے تھوڑے فاصلے پر ایک کنواں کے قریب ہوا، میں نے اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے کنویں میں دھکا دے دیا۔ اس کی آخری آواز میرے کانوں میں پڑی وہ یہ تھی ہائے ابّا ! ہائے ابّا ! یہ سن کر رسول اللہ ﷺ اتنا روئے کہ آپ ﷺ کے آنسو بہنے لگے۔ آپ کے پاس بیٹھے ہوئے میں سے ایک نے کہا تو نے نبی اکرم ﷺ کو غمگین کردیا۔ آپ نے فرمایا اسے منع نہ کرو ! جس بات نے اسے بےقرار کر رکھا ہے اس کے بارے میں اسے پوچھنے دو ۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ اپنا واقعہ دوبارہ بیان کرو ! اس نے دوبارہ بیان کیا۔ آپ ﷺ سن کر اس قدر روئے کہ آپ کی داڑھی آنسوؤں سے تر ہوگئی۔ اس کے بعد آپ نے فرمایا کہ جاہلیت میں جو کچھ ہوگیا اللہ تعالیٰ نے اسے معاف کردیا لہٰذا اب نئے سرے سے اپنی زندگی کا آغاز کرو۔ نبی ﷺ کے ایک فرمان سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ قیامت کے دن حقوق العباد کے مقدامات میں سب سے پہلے قتل کے فیصلے کیے جائیں گے۔ اس آیت کی روشنی میں یہ بات اخذ کرنے کی گنجائش موجود ہے کہ قتل کے مقدمات میں سب سے پہلے فیصلے ان بچیوں کے ہوں گے جنہیں لڑکی ہونے کی وجہ سے قتل کیا گیا تھا۔ (عَنْ عَبْدِاللّٰہِ ابْنِ مَسْعُوْدٍ ؓ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ أَوَّلُ مَا ےُقْضٰی بَےْنَ النَّاسِ ےَوْمَ الْقِےٰمَۃِ فِی الدِّمَاءِ ) (رواہ البخاری : کتاب الدیات) ” حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا : قیامت کے دن سب سے پہلے لوگوں کے درمیان قتل کا فیصلہ ہوگا۔ “ ” اور اپنی اولاد کو مفلسی کے ڈر سے قتل نہ کرو، ہم ہی انھیں اور تمہیں رزق دیتے ہیں بیشک ان کو قتل کرنا بہت بڑا گناہ ہے۔ “ (بنی اسرائیل : 31) (عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ ؓ قَالَ سَأَلْتُ أَوْ سُءِلَ رَسُول اللّٰہِ ﷺ أَیُّ الذَّنْبِ عِنْدَ اللّٰہِ أَکْبَرُ قَالَ أَنْ تَجْعَلَ لِلّٰہِ نِدًّا وَہْوَ خَلَقَکَ قُلْتُ ثُمَّ أَیٌّ قَالَ ثُمَّ أَنْ تَقْتُلَ وَلَدَکَ خَشْیَۃَ أَنْ یَطْعَمَ مَعَکَ قُلْتُ ثُمَّ أَیٌّ قَالَ أَنْ تُزَانِیَ بِحَلِیلَۃِ جَارِکَ ) (رواہ البخاری : باب قولہ الذین لایدعون مع اللہ۔۔ ) ” حضرت عبداللہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ اللہ کے رسول ﷺ سے سوال کیا گیا کہ کونسا گناہ اللہ کے نزدیک سب سے بڑا ہے ؟ آپ نے فرمایا کہ تو اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرائے حالانکہ اس نے تجھے پیدا کیا ہے۔ میں نے پھر سوال کیا اس کے بعد ؟ آپ نے فرمایا کہ اپنی اولاد کو اس ڈر سے قتل کرے کہ وہ تیرے ساتھ کھائے گی۔ میں نے پھر عرض کی اس کے بعد کونسا گناہ بڑا ہے ؟ آپ نے فرمایا کہ تو اپنے پڑوسی کی بیوی کے ساتھ زنا کرے۔ “ ” حضرت ابوہریرہ ؓ نبی کریم ﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا : سات ہلاک کرنے والے گناہوں سے بچو صحابہ کرام ؓ نے عرض کی اللہ کے رسول ﷺ ! وہ کون سے گناہ ہیں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرنا، جادو کرنا، ناحق کسی جان کو قتل کرنا، سود کھانا، یتیم کا مال کھانا، میدان جنگ سے پیٹھ پھیر کر بھاگنا اور پاکدامن، مومن، بیخبر عورتوں پر تہمت لگانا۔ “ (رواہ البخاری : باب قول اللہ تعالیٰ إن الذین یأکلون أموال الیتامی ظلما) مسائل 1۔ قیامت کے دن ہر روح کو اس کے جسم میں داخل کردیا جائے گا۔ 2۔ بیٹیوں کو قتل کرنا نہایت ہی سنگین جرم ہے۔ 3۔ قیامت کے دن زندہ درگور کی گئی بچی سے اس کے قاتل کو پوچھا جائے گا۔ تفسیر بالقرآن قتل کرنے کا گناہ : 1۔ جس جان کو اللہ نے تحفظ دیا ہے اسے ناحق قتل نہیں کرنا چاہیے۔ (بنی اسرائیل : 33) 2۔ جس نے کسی کو بغیر حق کے قتل کردیا گویا کہ اس نے تمام لوگوں کو قتل کردیا۔ (المائدۃ : 32) 3۔ قابیل نے اپنے بھائی کو قتل کیا اور وہ خسارہ پانے والا ہوا۔ (المائدۃ : 30) 4۔ جو کسی مومن کو جان بوجھ کر قتل کرتا ہے اس کا ٹھکانہ جہنم ہے۔ (النساء : 93) 5۔ کسی کو ناحق قتل نہ کرو۔ (الانعام : 151)
Ayahs 81:10–14

وَ اِذَا الصُّحُفُ نُشِرَتْ۪ۙ Open ayah 81:10 in the Quran reader

اور جب اعمال نامے کھولے جائیں گے

وَ اِذَا السَّمَآءُ كُشِطَتْ۪ۙ Open ayah 81:11 in the Quran reader

اور جب آسمان کا پردہ ہٹادیا جائے گا

وَ اِذَا الْجَحِیْمُ سُعِّرَتْ۪ۙ Open ayah 81:12 in the Quran reader

اور جب جہنم بھڑکائی جائے گی

وَ اِذَا الْجَنَّةُ اُزْلِفَتْ۪ۙ Open ayah 81:13 in the Quran reader

اور جب جنت قریب کردی جائے گی

عَلِمَتْ نَفْسٌ مَّاۤ اَحْضَرَتْؕ Open ayah 81:14 in the Quran reader

اس وقت ہر شخص کو معلوم ہوجائے گا کہ وہ کیا لے کر آیا ہے

فہم القرآن ربط کلام : قیامت کا بیان جاری ہے بتلایا ہے کہ اس دن لوگوں کے حساب و کتاب کا آغازکس طرح ہوگا۔ قیامت کے دن زمین و آسمان بدل دئیے جائیں گے۔ (ابراہیم : 48) اور لوگ محشر کے میدان میں جمع کردیئے جائیں گے۔ ملائکہ قطار اندر قطار کھڑے ہوں گے جن میں جبریل امین سب سے نمایاں ہوں گے۔ عدالت کبریٰ کے انتظامات مکمل ہونے کے ساتھ ہی ایک طرف لوگوں کے سامنے بھڑکتی ہوئی جہنم لائی جائے گی اور دوسری طرف جنت کو لایا جائے گا۔ اس کے بعد رب ذوالجلال جلوہ گر ہوں گے اور کچھ مدت کے بعد لوگوں کے اعمال نامے ان کے سامنے رکھ دیئے جائیں گے، ہر شخص اپنا اعمال نامہ کھول کر پڑھے گا جس سے اسے معلوم ہوجائے گا کہ وہ اپنے لیے آج کے دن کے لیے کیا لایا ہے۔ جن کے اعمال بہتر ہوں گے وہ دوسروں کو اپنا اعمال نامہ پڑھنے کی دعوت دیں گے اور جن کے اعمال برے ہوں گے وہ کہیں گے کہ ہائے افسوس ! اس اعمال نامے میں ہماری چھوٹی بڑی بات کو درج کردیا گیا ہے۔ (الکہف : 49) ان کی خواہش ہوگی کہ وہ مر کر مٹی ہوجائیں گے لیکن ایسا ہرگز نہیں ہوگا۔ (النبا : 40) مسائل 1۔ قیامت کے دن آسمان کا پردہ ہٹا دیا جائے گا۔ 2۔ بھڑکتی ہوئی جہنم کو لوگوں کے سامنے لاکھڑا کیا جائے گا اور جنت بھی لائی جائے گی۔ 3۔ لوگوں کے اعمال نامے ان کے سامنے رکھ دئیے جائیں گے، ہر شخص کو اپنے کیے کا پتہ چل جائے گا۔
Ayahs 81:15–29

فَلَاۤ اُقْسِمُ بِالْخُنَّسِۙ Open ayah 81:15 in the Quran reader

پس نہیں میں قسم کھاتا ہوں پلٹنے والے

الْجَوَارِ الْكُنَّسِۙ Open ayah 81:16 in the Quran reader

اور چھپ جانے والے تاروں کی

وَ الَّیْلِ اِذَا عَسْعَسَۙ Open ayah 81:17 in the Quran reader

اور رات کی جب وہ رخصت ہوجائے

وَ الصُّبْحِ اِذَا تَنَفَّسَۙ Open ayah 81:18 in the Quran reader

اور صبح کی جب وہ روشن ہوجائے

اِنَّهٗ لَقَوْلُ رَسُوْلٍ كَرِیْمٍۙ Open ayah 81:19 in the Quran reader

یہ ہر صورت ایک معزز رسول کا فرمان ہے

ذِیْ قُوَّةٍ عِنْدَ ذِی الْعَرْشِ مَكِیْنٍۙ Open ayah 81:20 in the Quran reader

جو عرش والے کے ہاں بڑی قوت والا اور بلند مرتبہ ہے

مُّطَاعٍ ثَمَّ اَمِیْنٍؕ Open ayah 81:21 in the Quran reader

وہاں اس کا حکم مانا جاتا ہے اور وہ امین ہے

وَ مَا صَاحِبُكُمْ بِمَجْنُوْنٍۚ Open ayah 81:22 in the Quran reader

اور تمہارا ساتھی مجنون نہیں ہے

وَ لَقَدْ رَاٰهُ بِالْاُفُقِ الْمُبِیْنِۚ Open ayah 81:23 in the Quran reader

اس نے اس کو روشن افق پر دیکھا ہے

وَ مَا هُوَ عَلَى الْغَیْبِ بِضَنِیْنٍۚ Open ayah 81:24 in the Quran reader

اور وہ غیب کے معاملہ میں بخیل نہیں ہے

وَ مَا هُوَ بِقَوْلِ شَیْطٰنٍ رَّجِیْمٍۙ Open ayah 81:25 in the Quran reader

اور یہ کسی شیطان مردود کا قول نہیں ہے

فَاَیْنَ تَذْهَبُوْنَؕ Open ayah 81:26 in the Quran reader

پھر تم لوگ کدھر چلے جا رہے ہو ؟

اِنْ هُوَ اِلَّا ذِكْرٌ لِّلْعٰلَمِیْنَۙ Open ayah 81:27 in the Quran reader

یہ جہان والوں کے لیے ایک نصیحت ہے

لِمَنْ شَآءَ مِنْكُمْ اَنْ یَّسْتَقِیْمَؕ Open ayah 81:28 in the Quran reader

تم میں سے ہر اس شخص کے لیے جو راہ راست پر چلنا چاہتا ہے

وَ مَا تَشَآءُوْنَ اِلَّاۤ اَنْ یَّشَآءَ اللّٰهُ رَبُّ الْعٰلَمِیْنَ۠ Open ayah 81:29 in the Quran reader

اور جب تک اللہ رب العالمین نہ چاہے تمہارے چاہنے سے کچھ نہیں ہوتا

فہم القرآن ربط کلام : قرآن مجید کی دعوت کا تیسرا مضمون قیامت ہے جو ہر صورت قائم ہو کر رہے گی۔ اہل مکہ نہ صرف قیامت کا انکار کرتے تھے بلکہ اس وجہ سے قرآن مجید کو ماننے کے لیے تیار نہیں تھے کہ یہ ” اللہ “ کی کتاب ہے۔ اس لیے یہاں ایک مرتبہ پھر وضاحت کی جا رہی ہے کہ قرآن مجید اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل کیا گیا ہے۔ یہ بات کئی مرتبہ عرض ہوچکی ہے کہ قرآن مجید کے بنیادی مضامین تین ہیں۔ توحید، رسالت اور آخرت۔ باقی مسائل انہیں کی تفصیل اور تقاضے ہیں۔ قرآن مجید ان عقائد پر بار بار زور دیتا ہے کیونکہ مکہ کے لوگ کسی نہ کسی انداز میں ان تینوں باتوں کا انکار کرتے تھے جس بنا پر ان کی کوشش تھی کہ لوگوں کی نظروں میں قرآن مجید کو ہی مشکوک بنا دیا جائے۔ اس لیے کبھی نبی کریم ﷺ کو کاہن اور دیوانہ کہتے اور کبھی قرآن مجید کے بارے میں ہرزہ سرائی کرتے کہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نہیں بلکہ شیطانی اور شاعرانہ خیالات کا مجموعہ ہے۔ قرآن مجید نے ان کے الزامات کا ہر موقع پر مدلل اور مؤثر جواب دیا لیکن پھر بھی وہ پراپیگنڈہ کرنے میں مصروف رہتے تھے۔ اس موقع پر ان کی ہرزہ سرائی کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے چار قسمیں اٹھائی ہیں۔ میں قسم کھاتا ہوں پلٹنے اور چھپ جانے والے ستاروں کی، میں قسم کھاتا ہوں رات کی جب وہ رخصت ہوتی ہے اور میں قسم کھاتا ہوں صبح کی جب وہ نمودار ہوتی ہے۔ قسمیں کھانے کا مقصد یہ ہے کہ جس طرح یہ باتیں حقیقت ہیں اسی طرح قرآن بھی ایک حقیقت ہے یہ ایک معززفرشتے کا کلام ہے جو بڑی ہی طاقت والا ہے جو عرش والے یعنی اللہ تعالیٰ کے ہاں بلند مرتبہ ہے۔ اس کا فرشتوں میں حکم مانا جاتا ہے اور وہ بڑا امانت دار ہے۔ اس کے رب کی طرف سے جو اسے حکم صادر ہوتا ہے وہ جوں کا توں آگے پہنچا دیتا ہے۔ اے مکہ والو ! تمہارا ساتھی حضرت محمد ﷺ دیوانہ نہیں ہے۔ اس نے پیغام پہنچانے والے ملائکہ کے سردار جبرائیل (علیہ السلام) کو روشن افق پر دیکھا ہے۔ رسول پر جو غائب کی باتیں نازل کی جاتی ہیں انہیں پہنچانے میں بخل اور کمزوری سے کام نہیں لیتا بعض مفسرین نے رسول سے مراد جبریل امین لیے ہیں۔ قرآن مجید کے الفاظ میں دونوں معنوں کی گنجائش موجود ہے۔ قرآن مجید رب العالمین کی طرف سے اتارا گیا ہے۔ اس میں شیطان کا کسی لحاظ سے رائی برابر عمل دخل نہیں یہ ہر اس شخص کے لیے نصیحت ہے جو صراط مستقیم پر چلنا چاہتا ہے۔ یادرکھو ! تمہاری چاہت اور مخالفت کی بنا پر کچھ نہیں ہوسکتا، وہی ہوتا ہے جو رب العالمین چاہتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان آیات میں قرآن مجید کو جبریل امین کا قول قرار دیا ہے اور سورة الحاقہ کی آیت 40 میں اسے نبی کریم ﷺ کا قول فرمایا ہے جس کا یہ معنٰی نہیں کہ قرآن نبی ﷺ یا جبریل امین کا کلام ہے۔ اس کا حقیقی معنٰی یہ ہے کہ قرآن مجید کسی شاعر یا شیطان کا کلام نہیں اور نہ ہی نبی ﷺ کا اپنا کلام ہے بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کا کلام ہے جسے جبریل امین اپنی زبان سے حضرت محمد ﷺ کے سامنے تلاوت کرتے ہیں، گویا کہ قرآن مجید صرف اور صرف رب العالمین کا کلام ہے جو نصیحت کے طور پر اتارا گیا ہے۔ اس میں کسی فرشتے، انسان اور شیطان کا کوئی عمل دخل نہیں یہ ہر اس شخص کے لیے نصیحت ہے جو صراط مستقیم پر چلنا چاہتا ہے۔ جہاں تک کفار کی مخالفت کا معاملہ ہے انہیں کان کھول کر سن لینا چاہیے کہ ان کے چاہنے اور مخالفت سے کچھ نہیں ہوگا، وہی ہوگا جو رب العالمین چاہتا ہے اس کا فیصلہ ہے۔ ” وہی اللہ ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور دین حق کے ساتھ بھیجا ہے تاکہ اس کو تمام ادیان پر غالب کر دے۔ اور اس پر اللہ کی گواہی کافی ہے۔ “ (الفتح : 28) ان آیات میں یہ بھی ارشاد ہوا ہے کہ نبی ﷺ نے جبریل امین کو روشن افق پر دیکھا ہے اور آپ غیب کے معاملہ میں بخیل نہیں ہیں اگر اس سے مراد نبی ﷺ ہیں تو غیب سے مراد وہ غیب ہے جو قرآن مجید اور حدیث کی صورت میں آپ پر نازل ہوا ہے اس میں کوئی بات چھپانے کے آپ مجاز نہیں اور نہ ہی آپ ﷺ نے کوئی بات چھپائی ہے۔ یقینی طور پر آپ نے ہر بات من وعن بلا خوف وخطر لوگوں تک پہنچا دی ہے اس لیے فرمایا ہے کہ آپ ﷺ غیب پر بخل کرنے والے نہیں ہیں اگر اس سے مراد جبریل ہیں تو معنی ہوگا کہ جبریل نے کسی بات میں بخل نہیں کیا اس نے ہر بات نبی ﷺ تک پہنچا دی جو اللہ تعالیٰ نے اسے پہچانے کا حکم دیا۔ مسائل 1۔ اللہ تعالیٰ نے چار قسمیں اٹھا کر ثابت کیا ہے کہ قرآن مجید صرف اور صرف اللہ کا کلام ہے۔ 2۔ اللہ تعالیٰ کے ہاں جبریل امین بڑے مرتبے کے حامل فرشتے ہیں۔ 3۔ جبریل امین امانت دار اور ملائکہ کے سردار ہیں۔ 4۔ وہی کچھ ہوتا ہے جو اللہ رب العالمین چاہتا ہے۔ 5۔ اللہ تعالیٰ نے چار قسمیں اٹھا کر اس بات کی وضاحت فرمائی ہے کہ نبی ﷺ دیوانے نہیں ہیں۔ 6۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید جبریل امین کے ذریعے نبی ﷺ پر نازل فرمایا جبریل (علیہ السلام) کو آپ ﷺ نے کھلی آنکھوں کے ساتھ روشن افق پر دیکھا تھا۔ 7۔ قرآن مجید جبریل امین کے ذریعے نبی ﷺ تک پہنچا ہے۔ 8۔ نبی ﷺ نے اللہ کی وحی لوگوں تک پہنچانے میں کسی قسم کا بخل اور کمزوری نہیں کی۔ 9۔ قرآن مجید اللہ کا کلام ہے۔ اس میں کسی فرشتے انسان اور شیطان کا ذرہ بھر عمل دخل نہیں ہے۔ 10۔ قرآن مجید لوگوں کے لیے نصیحت ہے۔ 11۔ کسی کے چاہنے سے کچھ نہیں ہوتاوہی ہوتا ہے جو ” اللہ “ چاہتا ہے۔ تفسیر بالقرآن قرآن مجید صرف اور صرف ” اللہ “ کا کلام ہے اس میں کسی کا عمل دخل نہیں ہے : 1۔ قرآن رب العالمین کی طرف سے نازل شدہ ہے۔ (الشعراء : 192) 2۔ قرآن مجید کسی کاہن و شاعر کا کلام نہیں ہے۔ (الحاقہ : 41، 42) (الحجر : 9) 3۔ قرآن مجید شیطان کی شیطینت سے پاک ہے۔ (التکویر : 25) (القدر : 1) 4۔ اللہ قرآن مجید نازل کرنے والا حکمت والا اور تعریف کے لائق ہے۔ (حم السجدۃ : 42)