80. Surah Abasa

عبسHe frowned · 42 ayahsفہم القرآن

تعارف

تعارف

سورة عبس کا تعارف یہ سورت بھی اپنے نام سے شروع ہوتی ہے مکہ میں نازل ہوئی ایک رکوع پر محیط ہے جس کی بتالیس آیات ہیں۔ اس کی ابتدا ایک مخصوص واقعہ سے کی گئی جس کا ذکر اس کی تفسیر میں کردیا گیا ہے اس میں یہ بات واضح کی گئی ہے کہ جو شخص جان بوجھ کر نصیحت سے منہ پھیرلے اس پر زیادہ وقت صرف نہیں کرنا چاہیے۔ اس کے مقابلے میں اس شخص پر محنت کرنی چاہیے جو نصیحت حاصل کرنے کا خواہش مند ہوتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی بتلایا ہے کہ قرآن مجید ایسے صحیفوں میں درج ہے جو بڑے ہی محترم اور پاکیزہ ہیں ان تک دیانت دار ملائکہ کی رسائی ہوتی ہے۔ قرآن مجید کی تعلیمات میں ایک مرکزی عنوان یہ ہے کہ انسان نے بالآخر مرنا ہے اور مر کر اپنے رب کے حضور پیش ہونا ہے جو لوگ اس بات کا انکار کرتے ہیں انہیں اپنی پیدائش اور خوراک پر غور کرنا چاہیے کہ جس طرح انسان عدم سے وجود میں آتا ہے اور بارش سے زمین نرم ہوتی ہے پھر اس سے مختلف قسم کے پھل اور اناج پیدا ہوتے ہیں اسی طرح ہی انسان کو قیامت کے دن زمین سے نکال لیا جائے گا۔ اس دن کی ابتداء ایسے دھماکے سے ہوگی جس کی آواز لوگوں کے کانوں کو بہرہ کر دے گی۔ لوگوں کی حالت یہ ہوگی آدمی اپنے بھائی، اپنی والدہ، اپنے باپ، اپنی بیوی اور اپنی اولاد سے بھاگ جائے گا ہر کوئی اپنی فکر میں ہوگا کوئی دوسرے کا خیال نہیں کرے گا اس دن نیک لوگوں کے چہرے ہشاش بشاش اور خوش وخرم ہوں گے اور مجرموں کے چہروں پر نحوست اور ذلت چھائی ہوگی۔

Ayahs 80:1–10

عَبَسَ وَ تَوَلّٰۤىۙ Open ayah 80:1 in the Quran reader

ماتھے پر شکن ڈالی اور چہرہ پھیرلیا

اَنْ جَآءَهُ الْاَعْمٰىؕ Open ayah 80:2 in the Quran reader

کہ ایک نابینا اس کے پاس آیا

وَ مَا یُدْرِیْكَ لَعَلَّهٗ یَزَّكّٰۤىۙ Open ayah 80:3 in the Quran reader

آپ کو کیا معلوم ! شاید وہ سدھر جائے

اَوْ یَذَّكَّرُ فَتَنْفَعَهُ الذِّكْرٰىؕ Open ayah 80:4 in the Quran reader

یا نصیحت پر توجہ دے اور نصیحت اس کے لیے فائدہ مند ثابت ہو

اَمَّا مَنِ اسْتَغْنٰىۙ Open ayah 80:5 in the Quran reader

لیکن جو شخص بےپروائی کرتا ہے

فَاَنْتَ لَهٗ تَصَدّٰىؕ Open ayah 80:6 in the Quran reader

اس کی طرف آپ توجہ کرتے ہیں

وَ مَا عَلَیْكَ اَلَّا یَزَّكّٰىؕ Open ayah 80:7 in the Quran reader

وہ نہیں سدھرتا تو آپ پر اس کی کیا ذمہ داری ہے ؟

وَ اَمَّا مَنْ جَآءَكَ یَسْعٰىۙ Open ayah 80:8 in the Quran reader

جو خود آپ کے پاس دوڑا ہوا آتا ہے

وَ هُوَ یَخْشٰىۙ Open ayah 80:9 in the Quran reader

اور ڈرنے والا ہے

فَاَنْتَ عَنْهُ تَلَهّٰىۚ Open ayah 80:10 in the Quran reader

اس سے آپ بےرخی کرتے ہیں

فہم القرآن ربط سورت : النّازعات کے آخر میں بتلایا ہے کہ قیامت کے دن مجرم محسوس کریں گے کہ ہم دنیا میں چند گھڑیاں ٹھہرے تھے۔ آخرت کے انکار کے پیچھے دنیا کا مفاد اور عجلت پسندی کا عنصر شامل ہوتا ہے اس لیے سورة عبس میں ایک مخصوص واقعہ کی طرف اشارہ فرما کر عجلت پسندی سے منع کیا گیا ہے۔ تمام مفسرین نے اس سورت کے نازل ہونے کا پس منظر بیان کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ایک دن سرور دو عالم ﷺ کی مجلس میں چند قریشی سردار حاضر ہو کر آپ سے اسلام کے بارے میں گفتگو کررہے تھے اسی دوران حضرت عبداللہ بن ام مکتوم ؓ آئے اور انہوں نے آپ کی گفتگو میں مداخلت شروع کردی۔ آپ ﷺ نے ناصرف بےتوجہگی اختیار کی بلکہ اس مداخلت کو ناپسند بھی فرمایا۔ آپ کی بےتوجہگی کے دواسباب تھے۔ 1۔ آپ ﷺ قریش کے سرداروں کے ساتھ محو گفتگو تھے حضرت ابن مکتوم نے انتظار کیے بغیر آپ کی خدمت میں سوال کر ڈالا جس وجہ سے آپ کے چہرے پر کچھ ناگواری کے اثرات ظاہر ہوئے۔ 2۔ آپ کی ناگواری کی دوسری وجہ یہ تھی کہ قریشی سردار بہانہ بنائے ہوئے تھے کہ ہم آپ کی مجلس میں اپنے سے کم درجہ لوگوں کے برابر نہیں بیٹھ سکتے لہٰذا ہم آئیں تو کوئی دوسرا نہیں ہونا چاہیے۔ ان دو وجوہات کی وجہ سے آپ نے ابن ام مکتوم ؓ کی آمد کو ناگوار سمجھا جس پر اللہ تعالیٰ نے آپ کو توجہ دلانے کے لیے یہ انداز اختیار فرمایا۔ ” ماتھے پر شکن ڈالی اور چہرہ پھیرلیا کہ ایک اندھا اس کے پاس آیا۔ آپ کو کیا معلوم ! شاید وہ سدھر جائے یا نصیحت پر توجہ دے اور نصیحت اس کے لیے فائدہ مند ثابت ہو۔ جو شخص بےپروائی کرتا ہے۔ اس کی طرف آپ توجہ کرتے ہیں وہ نہیں سدھرتا تو آپ پر اس کی کوئی ذمہ داری نہیں جو خود آپ کے پاس دوڑتا ہوا آتا ہے اور ڈرنے والا ہے اس سے آپ بےرخی کرتے ہیں۔ “ (عبس : 1 تا 10) اس ارشاد سے آپ ﷺ اور دین کے داعی کو ایک بنیادی اصول بتلایا ہے جسے اپنانے سے نہ صرف دین کی عظمت دوچند ہوتی ہے بلکہ اس سے داعی کے وقار میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔ جس اصول کی یہاں نشاندہی کی گئی ہے وہ یہ ہے کہ بیشک دین کے داعی کو ہر وقت اس کوشش میں لگے رہنا چاہیے کہ لوگ دین کی طرف آئیں لیکن اس کے ذہن میں یہ بات بھی رہنی چاہیے کہ دین ایک گراں قدر نعمت ہے لہٰذا اسے باوقار انداز میں لوگوں کے سامنے پیش کرنا چاہیے جو اس نعمت کو حقیر سمجھتے ہوں ان پر ابلاغ کی حجّت پوری کرنے کے بعد داعی کو ایسے لوگوں سے بےنیاز ہوجانا چاہیے۔ ان کے مقابلے میں ان لوگوں کا زیادہ خیال رکھنا چاہیے جو دین کی باتوں پر غور و فکر کرتے ہیں اور اپنے آپ کو کفر و شرک اور ہر قسم کی گندگی سے بچانا چاہتے ہیں اور اپنے رب کی نصیحت حاصل کرنے کے لیے کوشاں ہیں۔ قرآن تو نصیحت ہے اس لیے جس کا دل چاہے اس سے نصیحت حاصل کرے اور جو نہیں چاہتا وہ اپنے آپ کو گمراہی کے حوالے کیے رکھے۔ اس سورت کی پہلی دو آیات میں یہ الفاظ استعمال ہوئے ہیں کہ اس کے پاس ایک نابینا آیا اور اس نے تیوری چڑھائی اور چہرہ پھیرلیا۔ بعض مفسرین نے لکھا ہے کہ آپ ﷺ نے ابن مکتوم ؓ کے نابینا ہونے کی وجہ سے اس سے اعراض کیا تھا۔ یہ بات ناقابل اعتماد ہے کیونکہ نبی کریم ﷺ نہایت ہی کریمانہ اخلاق کے مالک تھے اور آپ سے زیادہ کون معذوروں اور غریبوں کا ہمدرد تھا ؟ آپ نے حضرت عبداللہ بن ام مکتوم ؓ کے نابینا ہونے کی وجہ سے اعراض نہیں کیا بلکہ ابن مکتوم ؓ نے انتظار کیے بغیر آپ سے سوال کرڈالا جو مجلس کے آداب کے خلاف تھا اسی وجہ سے یہاں آپ کو توجہ دلانے کے لیے مخاطب کی ضمیر استعمال نہیں کی گئی تاکہ آپ کے اعلیٰ اخلاق کے بارے میں کوئی شخص حرف گیر نہ ہوسکے۔
Ayahs 80:11–16

كَلَّاۤ اِنَّهَا تَذْكِرَةٌۚ Open ayah 80:11 in the Quran reader

ہرگز نہیں یہ تو ایک نصیحت ہے

فَمَنْ شَآءَ ذَكَرَهٗۘ Open ayah 80:12 in the Quran reader

جس کا دل چاہے اسے قبول کرے

فِیْ صُحُفٍ مُّكَرَّمَةٍۙ Open ayah 80:13 in the Quran reader

یہ ایسے صحیفوں میں درج ہے جو قابل احترام ہیں

مَّرْفُوْعَةٍ مُّطَهَّرَةٍۭۙ Open ayah 80:14 in the Quran reader

بلند مرتبہ اور پاکیزہ ہیں

بِاَیْدِیْ سَفَرَةٍۙ Open ayah 80:15 in the Quran reader

کاتبوں کے ہاتھوں میں ہیں

كِرَامٍۭ بَرَرَةٍؕ Open ayah 80:16 in the Quran reader

جو معزز اور نیک ہیں

فہم القرآن ربط کلام :” اللہ تعالیٰ “ سے ڈرنے اور ہدایت پانے کے لیے ضروری ہے کہ قرآن مجید کی نصیحت پر عمل کیا جائے۔ قرآن مجید سے بڑھ کر کوئی نصیحت بہتر نہیں ہوسکتی۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید کو نصیحت کے طور پر نازل فرمایا ہے۔ اس میں ہدایت اور گمراہی کو پوری طرح واضح کردیا ہے۔ ہدایت پانے کے لیے ضروری ہے کہ انسان اپنے دل میں ہدایت کی طلب پیدا کرے اور اللہ تعالیٰ سے ڈرتا رہے جو شخص ہدایت کا طالب نہیں ہوتا اللہ تعالیٰ اسے ہدایت نہیں دیتا کیونکہ اس کا فرمان ہے جو چاہے ہدایت حاصل کرے اور جو چاہے اپنے آپ کو گمراہی کے حوالے کیے رکھے۔ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کے لیے ہدایت اور کفر کا راستہ واضح کردیا ہے۔ (الدھر : 3) قرآن مجید نصیحت کے لیے اتارا گیا ہے، قابل تکریم اوراق پر لکھا ہوا ہے جو اعلیٰ مقام پر رکھے ہوئے ہیں اور ہر قسم کی مداخلت سے پاک ہیں۔ ان تک ان ملائکہ کی رسائی ہے جو بڑے ہی معزز اور دیانت دار ہیں وہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے لوح محفوظ سے قرآن مجید کا وہی حصہ نقل فرما کر جبریل امین کے حوالے کرتے ہیں جس کا انہیں حکم دیا جاتا ہے۔ وہ نہایت امین اور ذمہ دار ہیں لہٰذا حضرت جبریل امین (علیہ السلام) سمیت کوئی فرشتہ بھی قرآن مجید کی زیر زبر میں فرق نہیں ڈال سکتا اس بات کو یوں بھی بیان کیا گیا ہے۔ ” اللہ “ عالم الغیب ہے وہ غیب پر کسی کو مطلع نہیں کرتا سوائے اس فرشتے کے جسے اس نے غیب کا علم دینے کے لیے پسند کرلیا ہو۔ اس کے آگے اور پیچھے محافظ لگا دیتا ہے تاکہ ” اللہ “ جان لے کہ ملائکہ نے اپنے رب کے پیغامات پہنچا دیے اور وہ ان کے پورے ماحول کا حاطہ کیے ہوئے ہے اور ” اللہ “ نے ایک ایک چیز کو شمار کر رکھا ہے۔ (الجن : 26 تا 28) مسائل 1۔ قرآن مجید نصیحت کے لیے اتارا گیا ہے جو نصیحت کا خواہش مند ہے اسے اس کی نصیحت پر عمل کرنا چاہیے۔ 2۔ قرآن آسمان میں اعلیٰ مقام پر ررکھا ہوا ہے اللہ کے حکم سے اس تک ان ملائکہ کی رسائی ہے جو دیانت دار اور معزز ہیں۔
Ayahs 80:17–23

قُتِلَ الْاِنْسَانُ مَاۤ اَكْفَرَهٗؕ Open ayah 80:17 in the Quran reader

ہلاک ہوگیا انسان کہ وہ کس قدر ناشکرا ہے

مِنْ اَیِّ شَیْءٍ خَلَقَهٗؕ Open ayah 80:18 in the Quran reader

کس چیز سے اسے پیدا کیا ہے ؟

مِنْ نُّطْفَةٍ١ؕ خَلَقَهٗ فَقَدَّرَهٗۙ Open ayah 80:19 in the Quran reader

اس نے نطفہ کی ایک بوند سے اسے پیدا کیا پھر اس کا وقت مقرر کیا

ثُمَّ السَّبِیْلَ یَسَّرَهٗۙ Open ayah 80:20 in the Quran reader

پھر اس کے لیے راستہ آسان کیا

ثُمَّ اَمَاتَهٗ فَاَقْبَرَهٗۙ Open ayah 80:21 in the Quran reader

پھر اسے موت دی اور قبر میں پہنچا دیا

ثُمَّ اِذَا شَآءَ اَنْشَرَهٗؕ Open ayah 80:22 in the Quran reader

جب چاہے گا اسے دوبارہ اٹھا لے گا

كَلَّا لَمَّا یَقْضِ مَاۤ اَمَرَهٗؕ Open ayah 80:23 in the Quran reader

ہرگز نہیں جس کا اسے حکم دیا اس نے اسے پورا نہیں کیا

فہم القرآن ربط کلام : اللہ تعالیٰ نے انسان کی ہدایت کے لیے قرآن مجید نازل فرمایا ہیجس شخص نے قرآن کی نصیحت سے انکار کیا وہ تباہ ہوجائے گا۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید اس لیے نازل کیا ہے کہ انسان اس پر اخلاص کے ساتھ عمل پیرا ہو کر قیامت کی جوابدہی کی تیاری کرے اور دنیا میں رہ کر اپنے فکر وعمل کو سنوار لے۔ جس نے اس کا انکار کیا وہ قیامت کے دن پکڑا جائے گا اور جو قیامت کے دن پکڑا گیا وہ تباہ ہوجائے گا۔ جو لوگ قیامت کا انکار کرتے ہیں اور یہ دلیل پیش کرتے ہیں کہ جب انسان مٹی کے ساتھ مٹی ہوجائے گا تو پھر اسے کون پیدا کرے گا ؟ کیا انکار کرنے والے کو یہ معلوم نہیں کہ اسے کس چیز سے پیدا کیا گیا ہے ؟ اللہ تعالیٰ نے اسے ایک نطفے سے پیدا کیا پھر اس کی پیدائش کا وقت مقرر فرمایا اور پھر اس کے لیے رحم مادر سے نکلنے کا راستہ بنایا، پھر اسے موت دی اور قبر تک پہنچا دیا جب چاہے گا اسے اٹھا کھڑا کرے گا۔ انسان اپنی پیدائش سے لے کر قیامت کے دن اٹھنے تک اللہ تعالیٰ کے حکم کے سامنے مجبور ہے ہر انسان نہ اپنی مرضی سے پیدا ہوتا ہے اور نہ اپنی مرضی سے مرتا ہے اور نہ ہی اپنی مرضی سے دوبارہ زندہ ہوگا۔ اللہ کی نافرمانی کرنے والے اور قیامت کے منکر اپنی زندگی کے ایک ایک مرحلے پر غور کریں تو انہیں یقین ہوجائے گا کہ واقعی قیامت کے دن زندہ ہونا اور اپنے رب کے سامنے پیش ہونا برحق ہے کیونکہ جو خالق انسان کو ایک جرثومے سے پیدا فرما کر اس کی پیدائش کا وقت اور اس کی قدوقامت، شکل و صورت اور رحم مادر میں اس کی تقدیر مقرر کرتا ہے اور پھر اس کی پیدائش کے لیے رحم مادر کا راستہ آسان کرتا ہے کیا وہ اسے قیامت کے دن نہیں اٹھا سکتا ؟ کیوں نہیں ! وہ ہر انسان کو ہر صورت قیامت کے دن اٹھائے گا جس نے اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق زندگی بسر نہ کی اس کا کڑا حساب لیا جائے گا۔ ” حضرت عبداللہ ؓ بیان کرتے ہیں صادق و مصدوق رسول ﷺ نے فرمایا کہ تم میں سے ہر کوئی اپنی ماں کے پیٹ میں چالیس دن ٹھہرتا ہے جو جما ہوا خون بن جاتا ہے پھر چالیس دن بعد گوشت کا لوتھڑا بن جاتا ہے اس کے بعد اللہ تعالیٰ فرشتہ بھیجتے ہیں اسے آدمی کا عمل، رزق، موت اور نیک وبد ہونا لکھنے کا حکم دیتے ہیں پھر اس میں روح پھونک دی جاتی ہے۔ تم میں ایک بندہ عمل کرتارہتا ہے حتی کہ اس کے اور جنت کے درمیان ایک ہاتھ کا فاصلہ رہ جاتا ہے تو اس کی تقدیر غالب آجاتی ہے وہ جہنمیوں والے کام شروع کردیتا ہے۔ ایسے ہی آدمی برے عمل کرتا رہتا ہے حتٰی کہ اس کے اور جہنم کے درمیان ایک ہاتھ کا فاصلہ رہ جاتا ہے تو وہ جنتیوں والے اعمال شروع کردیتا ہے۔ “ (رواہ البخاری : کتاب بدء الخلق، باب ذکر الملائکۃ) مسائل 1۔ اللہ تعالیٰ ہی انسان کو ایک نطفے سے پیدا کرتا ہے اور اسے خاص مدت تک رِ حم مادر میں ٹھہرا کر مختلف مراحل سے گزارتا ہے۔ 2۔ اللہ تعالیٰ ہی انسان کے لیے رِ حم مادر سے نکلنے کا راستہ آسان کرتا ہے۔ 3۔ اللہ تعالیٰ ہی انسان کو موت دیتا ہے اور پھر مٹی کے ساتھ مٹی بنا دیتا ہے۔ 4۔ اللہ تعالیٰ جب چاہے گا قیامت کے دن انسان کو اٹھا کھڑا کرے گا۔ 5۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ بیشمار انسان اپنے رب کے حکم کی سرتابی کرتے ہیں۔ تفسیر بالقرآن پیدائش سے لے کر دوبارہ پیدا ہونے تک انسان کی زندگی کا مختصر خاکہ : 1۔ کیا تو اس ذات کا انکار کرتا ہے جس نے انسان کو مٹی سے پیدا کیا پھر نطفہ سے تجھے آدمی بنایا۔ (الکہف : 37) 2۔ اللہ نے انسان کو مٹی سے پیدا کیا۔ (آل عمران : 59) 3۔ اللہ نے انسان کو مٹی کے جوہر سے پیدا کیا۔ (المومنون : 12) 4۔ حواکو آدم سے پیدا فرمایا۔ (النساء : 1) 5۔ اللہ نے انسان کو مخلوط نطفہ سے پیدا کیا۔ (الدھر : 2) 6۔ اللہ نے تمہیں مٹی سے پیدا کیا، پھر نطفہ، پھر لوتھڑا بنا کر تمہیں پیدا کرتا ہے کہ تم بچے ہوتے ہو۔ پھر تمہیں بوڑھا کرتا اور کچھ تم میں بڑھاپے سے پہلے فوت ہوجاتے ہیں اور کچھ اپنی عمر کو پہنچ جاتے ہیں کیا پھر بھی تم عقل نہیں کرتے۔ (المومن : 67)
Ayahs 80:24–32

فَلْیَنْظُرِ الْاِنْسَانُ اِلٰى طَعَامِهٖۤۙ Open ayah 80:24 in the Quran reader

چناچہ انسان اپنی خوراک پر غور کرے

اَنَّا صَبَبْنَا الْمَآءَ صَبًّاۙ Open ayah 80:25 in the Quran reader

ہم نے خوب پانی برسایا

ثُمَّ شَقَقْنَا الْاَرْضَ شَقًّاۙ Open ayah 80:26 in the Quran reader

پھر زمین کو پھاڑا

فَاَنْۢبَتْنَا فِیْهَا حَبًّاۙ Open ayah 80:27 in the Quran reader

پھر اس سے اناج اگائے

وَّ عِنَبًا وَّ قَضْبًاۙ Open ayah 80:28 in the Quran reader

اور انگور اور ترکاریاں

وَّ زَیْتُوْنًا وَّ نَخْلًاۙ Open ayah 80:29 in the Quran reader

اور زیتون اور کھجوریں

وَّ حَدَآئِقَ غُلْبًاۙ Open ayah 80:30 in the Quran reader

اور باغات

وَّ فَاكِهَةً وَّ اَبًّاۙ Open ayah 80:31 in the Quran reader

اور ہر طرح کے پھل اور چارے

مَّتَاعًا لَّكُمْ وَ لِاَنْعَامِكُمْؕ Open ayah 80:32 in the Quran reader

جو تمہارے اور تمہارے مویشیوں کے فائدے کے لیے ہیں

فہم القرآن ربط کلام : انسان کی خوراک سے قیامت کا ثبوت۔ اس سے پہلے انسان کو اس کی تخلیق کے مختلف مراحل کا ذکر فرما کر قیامت کے دن اٹھائے جانے کا ثبوت مہیا فرمایا۔ اب انسان کو اس کی خوراک کے حوالے سے سمجھایا جارہا ہے کہ اے انسان ! تجھے اپنے کھانے پینے پر غور کرنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ تیری خوراک کا کس طرح بندوبست کرتا ہے ؟ ارشاد ہوا کہ یقیناً ہم نے آسمان سے پانی برسایا اور ہم نے زمین کو پھاڑا، پھر ہم نے اس میں اناج اگایا، اناج میں انگور، سبزیاں، زیتون، کھجوریں، گنجان اور لہلاتے ہوئے باغ، ہر قسم کے پھل اور چارہ پیدا کیا، انہیں تمہارے اور تمہارے جانوروں کے فائدے کے لیے پیدا فرمایا ہے۔ انسان کو اس کی اور چوپاؤں کی خور اک کا حوالہ دے کر یہ بات سمجھائی ہے کہ اے قیامت کا انکار کرنے والو ! دیکھو اور غور کرو ! کہ زمین میں پڑے ہوئے دانے کو اس سے کون نکالتا ہے ؟ اللہ تعالیٰ کے سوا اس دانے کو کوئی نکالنے اور اگانے والا نہیں ہے۔ وہی آسمان سے بارش نازل کرتا ہے، اس کے سوا کوئی بارش نازل نہیں کرسکتا۔ بارش کی وجہ سے زمین میں نم پیدا ہوا اور اس نَم کی وجہ سے زمین میں پڑا ہوا بیج پھول پڑا اور ہر دانہ اپنی اصلیت کی بنیاد پر زمین سے شگوفے یا تنے کی شکل میں نکل پڑتا ہے ان میں انگور، سبزیاں، زیتون، کھجوریں اور مختلف قسم کے باغات ہیں، ان میں کچھ درخت اور پودے پھل دار ہوتے ہیں اور کچھ چارے کے کام آتے ہیں۔ دانے کے زمین سے نکلنے اور اگنے کے اصول کی بنیاد پر ہی انسان کی زندگی کو قیاس کرنا چاہیے۔ فرق صرف یہ ہے کہ دانہ زمین میں پرورش پاتا اور نکلتا ہے اور انسان رحم مادر میں پرورش پاتا اور اپنی ماں کے پیٹ سے نکلتا ہے تخلیق کا عمل تو ایک جیسا ہے۔ فرق یہ ہے کہ جاندار چیزوں کے علاوہ ہر چیز مٹی کے ساتھ بالآخر مٹی ہوجاتی ہے لیکن ہر جاندار کو قیامت کے دن اٹھایا جانا ہے پھر جانداروں کے درمیان فرق یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ جنوں اور انسانوں کو قیامت کے دن اٹھاکر اپنی بارگاہ میں پیش کرے گا اور حساب و کتاب کے بعد نیک لوگوں کو جنت میں داخل کرے گا اور مجرموں کو جہنم میں جھونک دیا جائے گا اور باقی جاندار چیزوں کا معاملہ محشر کے میدان میں نپٹا کر انہیں ختم کردیا جائے گا۔ (عَنْ اَبِی ھُرَیْرَۃَ ؓ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ لَتُؤَدُّنَّ الْحُقُوْقَ إِلٰی أَھْلِھَا یَوْمَ الْقِیَامَۃِ ‘ حَتّٰی یُقَاد للشَّاۃِ الْجَلْحَاءِ مِنَ الشَّاۃِ الْقَرْنَاءِ ) (رواہ مسلم : کتاب البروالصلۃ، باب تحریم الظلم) ” حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول معظم ﷺ نے فرمایا : تمہیں قیامت کے دن لوگوں کے حقوق ان کے مالکوں کو ادا کرنا پڑیں گے، یہاں تک کہ جس بکری کے سینگ نہیں ہیں اس کو سینگ والی بکری سے بدلہ دلایا جائے گا۔ “ مسائل 1۔ انسان اپنے کھانے پر غور کرے تو اپنے رب کو پہچان جائے گا اور قیامت پر یقین کر جائے گا۔ 2۔ اللہ تعالیٰ ہی زمین سے پانی کے ذریعے بیج نکالتا ہے۔ 3۔ اللہ تعالیٰ ہی چوپاؤں کے لیے چارہ پیدا کرنے والا ہے۔ 4۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کے لیے مختلف قسم کے پھل، سبزیاں اور اناج پیدا کیا ہے۔ تفسیر بالقرآن قرآن مجید میں پھلوں اور سبزیوں کا ذکر : 1۔ اے ہمارے پروردگار میں نے اپنی اولاد کو بےآب وگیاہ وادی میں تیرے حرمت والے گھر کے قریب ٹھہرایا ہے تاکہ وہ نماز قائم کریں لوگوں کے دل ان کی طرف مائل فرما دے اور انھیں پھلوں کا رزق عطا فرما۔ (ابراہیم : 37) 2۔ ” اللہ “ نے پانی کے ذریعے پھلوں سے رزق عطا فرمایا : (البقرۃ : 22) 3۔ اللہ تعالیٰ نے آسمان سے برکت والا پانی نازل فرما کر اس کے ذریعے بہت سے باغات سرسبز و شاداب کر دئیے۔ ( ق : 9) 4۔ ” اللہ “ نے آسمان سے پانی اتارا اور اس سے مختلف انواع کے پھل پیدا فرمائے۔ (فاطر : 27) 5۔ ” اللہ “ پانی سے تمہارے لیے کھیتی، زیتون، کھجور اور انگور اگاتا ہے۔ (النحل : 11) 6۔ ” اللہ “ نے کھجوروں اور انگوروں کے باغات پیدا کیے۔ (المومنون : 19، یٰس : 34) 7۔ ” اللہ “ نے پانی سے ہر قسم کی نباتات کو پیدا کیا۔ (الانعام : 99) 8۔ ” اللہ “ نے باغات، کھجور کے درخت اور کھیتی پیدا کی جو ذائقہ کے لحاظ سے مختلف ہیں۔ (الانعام : 141)