Ayahs 79:1–5فہم القرآن
ربط سورت : سورة النّبا کے آخر میں ارشاد ہوا کہ قیامت کا قائم ہونا برحق ہے۔ النّازعات کی ابتدا میں پانچ قسمیں اٹھا کر یہ ثابت کیا گیا ہے کہ جس طرح انسان کا مرنا برحق ہے اسی طرح اس کا دوبارہ اٹھایا جانا بھی برحق ہے۔
صحابہ کرام ؓ اور ان کے شاگردان عظام کے حوالے سے مفسرین نے ان آیات کی یہ تفسیر کی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے یہاں ان ملائکہ کی قسمیں اٹھائی ہیں جو انسان کی روح قبض کرکے آسمان کی طرف لے جاتے ہیں اور جو انہیں حکم ملتا ہے وہ اسے کر گزرتے ہیں۔ 1 ۔ قسم ہے ان فرشتوں کی جو مرنے والے کے جسم میں پوری طرح داخل ہو کر سختی کے ساتھ جان نکالتے ہیں۔ 2 ۔ قسم ہے ان کی جو مرنے والے کے جسم سے نرمی کے ساتھ روح نکالتے ہیں۔ 3 ۔ قسم ہے ان کی جو فضا میں بڑی تیزی سے تیرتے ہوئے جاتے ہیں۔ 4 ۔ قسم ہے ان کی جو ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ 5 ۔ قسم ہے ان کی جو اللہ تعالیٰ کے حکم کے نفاذ کی تدابیر کرتے ہیں۔ ان قسموں سے دو باتیں ثابت کی گئی ہیں۔
ہر شخص کے لیے موت برحق ہے اور موت کا وقت بڑا کٹھن اور مشکل ہوتا ہے البتہ نزع کے وقت مومن کی روح آسانی کے ساتھ نکل جاتی ہے اور برے شخص کی موت کا ہر لمحہ اس کے پہلے لمحے سے سخت ترین ہوتا ہے، جوں ہی عزرائیل مرنے والے کی روح جنت یا جہنم کے فرشتوں کے حوالے کرتا ہے تو وہ روح کو لے کر آسمان کی طرف اس تیزی کے ساتھ چڑھتے ہیں جیسے فضا میں کوئی چیز تیر رہی ہو، فرشتوں کو اوپر چڑھنے میں ذرہ بھر مشکل پیش نہیں آتی وہ ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے ہر حکم پر اس طرح عمل کرتے ہیں جس طرح اس پر عمل کرنے کا حق ہے۔ ان ملائکہ سے مراد اگر صرف موت کے ملائکہ لیے جائیں تو اس کا معنٰی ہوگا کہ وہ موت کے وقت مرنے والے کی روخ قبض کرتے ہیں اگر مدبّرات سے تمام فرشتے لیے جائیں تو اس کا معنٰی یہ ہے کہ جس فرشتے کی جو ڈیوٹی لگائی گئی ہے وہ اس پر اسی طرح ہی عمل کرتا ہے جس طرح اس پر عمل کرنے کا اسے حکم دیا جاتا ہے۔
” حضرت براء بن عازب ؓ بیان کرتے ہیں ہم نبی مکرم ﷺ کے ساتھ انصار کے کسی آدمی کے جنازہ کے لیے نکلے قبرستان پہنچے تو ابھی قبر کھودی نہیں گئی تھی۔ رسول اکرم ﷺ بیٹھ گئے ہم بھی آپ کے ارد گرد بیٹھ گئے جیسے ہمارے سروں پر پرندے بیٹھے ہوں، رسول ﷺ کے ہاتھ میں ایک چھڑی تھی آپ اس کے ساتھ زمین کرید رہے تھے آپ نے سر اٹھاتے ہوئے دو یا تین مرتبہ فرمایا قبر کے عذاب سے پناہ مانگو پھر فرمایا۔۔ جب کافر دنیا کو چھوڑ کر آخرت کی طرف جاتا ہے تو اس کی طرف آسمان سے کالے چہروں والے فرشتے آتے ہیں ان کے ہاتھ میں بدبودار کفن ہوتا ہے فرشتے حد نگاہ تک مرنے والے سے دور بیٹھ جاتے ہیں، پھر اس کے پاس ملک الموت آتا ہے یہاں تک کہ اس کے سر کے پاس بیٹھ جاتا ہے۔ وہ کہتا ہے اے خبیث نفس ! اللہ تعالیٰ کی ناراضگی اور اس کے غضب کا سامنا کر۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا وہ اس کی روح کو اس طرح نکالتے ہیں جس طرح گرم سلائی کو روئی سے نکالا جاتا ہے وہ اس کو نکال کر جس تھیلے میں ڈالتے ہیں اس سے اتنی بدبو آتی ہے جس طرح زمین سے گندی لاش کی بدبو نکلتی ہے وہ اس کو لے کر آسمانوں کی طرف بڑھتے ہیں، وہ فرشتوں کے جس گروہ کے قریب سے گزرتے ہیں تو وہ کہتے ہیں یہ خبیث روح کس کی ہے وہ کہتے ہیں یہ فلاں بن فلاں ہے۔ اس کا برے ناموں کے ساتھ ذکر کرتے ہیں یہاں تک کہ وہ آسمان دنیا تک پہنچتے ہیں۔ آسمان کو کھلوانا چاہتے ہیں مگر اسے کھولا نہیں جاتا، پھر نبی معظم ﷺ نے اس آیت مبارکہ کی تلاوت کی :” ان کے لیے آسمان کے دروازے نہیں کھولے جائیں گے نہ وہ جنت میں داخل ہوں گے یہاں تک کہ سوئی کے ناکے میں اونٹ داخل ہوجائے “ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اس کے لیے سجین یعنی زمین کی تہہ میں ٹھکانا بناؤ اس کی روح کو نیچے پھینک دیا جاتا ہے پھر نبی معظم ﷺ نے اس آیت مبارکہ کی تلاوت فرمائی ” جو اللہ کے ساتھ شرک کرے گا گویا کہ وہ آسمان سے گرا اور اسے پرندے اچک لیں یا اس کو ہوائیں کسی دور دراز مقام پر پھینک دیں “ پھر اس روح کو اس کے بدن میں لوٹا دیا جاتا ہے اور اس کے پاس دو فرشتے آتے ہیں جو اس کو بٹھاتے ہیں وہ اس سے پوچھتے ہیں کہ تیرا رب کون ہے ؟ وہ کہتا ہے ہائے ہائے میں نہیں جانتا، فرشتے پوچھتے ہیں تیرا دین کیا ہے وہ کہتا ہے ہائے ہائے میں نہیں جانتا، پھر فرشتے پوچھتے ہیں کہ یہ شخص کون ہے جو تم میں نبی مبعوث کیا گیا ؟ وہ کہتا ہے ہائے ہائے میں نہیں جانتا۔ آسمانوں سے آواز دینے والا آواز دیتا ہے کہ یہ جھوٹ بول رہا ہے اس کا بچھونا آگ کا بنا دو اور آگ کا دروازہ اس کی طرف کھول دو ۔ اس کو اس آگ کی گرمی اور بدبو آتی ہے اس پر اس کی قبر تنگ کردی جاتی ہے یہاں تک کہ اس کی پسلیاں ایک دوسرے میں گھس جاتی ہیں پھر اس کے پاس بدصورت گندے کپڑے اور بدبو دار جسم کے ساتھ آدمی آتا ہے تو وہ کہتا ہے آج خوش ہوجا تجھے حسب وعدہ ذلیل کیا جائے وہ پوچھتا ہے تو اتنی بری شکل والا کون ہے ؟ جو اتنی بری بات سنا رہا ہے وہ کہے گا میں تیرا برا عمل ہوں وہ کہے گا اے میرے رب کبھی قیامت نہ قائم کرنا۔ “ (مسند احمد : مسند البراء بن عازب، قال بیہقی ہذا حدیث کبیر صحیح الاسناد)
مسائل
1۔ موت کے فرشتے انسان کی رگ رگ سے جان نکالتے ہیں۔ 2۔ ملائکہ کو آسمان کی طرف جانے میں کوئی مشکل پیش نہیں آتی۔
3۔ ملائکہ انسان کی روح قبض کرکے ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کرتے ہیں۔
4۔ نیک کی روح آسانی کے ساتھ اور برے کی روح بڑی تکلیف کے ساتھ نکالی جاتی ہے۔
تفسیر بالقرآن
قرآن مجید میں ملائکہ کی ذمہ داریوں کا تذکرہ :
1۔ فرشتے اللہ تعالیٰ کی ذات اور صفات کی گواہی دیتے ہیں۔ ( النساء : 166)
2۔ قرآن مجید میں 4 فرشتوں کا نام آیا ہے۔ جبرائیل، میکائیل، ملک الموت اور مالک۔ (البقرۃ، 98، السجدۃ : 11 الزخرف : 77)
3۔ حضرت جبریل امین (علیہ السلام) ملائکہ کے سردار ہیں۔ (نبا : 38) 4۔ جبریل (علیہ السلام) مقرب ترین فرشتہ ہے۔ (النجم : 8)
5۔ جبریل (علیہ السلام) طاقتور فرشتہ ہے۔ (النّجم : 5) 6۔ جبریل (علیہ السلام) دیانت دار فرشتہ ہے۔ (الشعراء : 193)
7۔ آپ ﷺ کے قلب اطہر پر جبرائیل (علیہ السلام) نے قرآن اتارا ہے۔ (البقرۃ : 97)
8۔ جبرئیل کی تمام ملائکہ تابعداری کرتے ہیں اور جبرئیل امین فرشتہ ہے۔ (التکویر : 21)
9۔ (اسرافیل) قیامت کے دن صور پھونکے گا۔ (الزمر : 68) 10۔ جہنم کے کنٹرولر فرشتے کا نام مالک ہے۔ (الزخرف : 77)
11۔ قیامت کے دن آٹھ فرشتے اللہ تعالیٰ کے عرش کو اٹھائے ہوئے ہوں گے۔ (الحاقہ : 17)
12 فرشتے جنت پر معمور ہیں۔ (الزمر : 73) 13۔ فرشتے جہنم پر ڈیوٹی کر رہے ہیں۔ ( الزمر 71)
14۔ فرشتے اللہ تعالیٰ کی حمد بیان کرتے ہیں۔ (البقرۃ : 30) 15۔ ملائکہ لوگوں کے اعمال درج کرتے ہیں۔ ( انفطار : 11)
16۔ اللہ تعالیٰ کے حکم سے فرشتے نافرمانوں کو عذاب دیتے ہیں۔ (ہود : 77)
17۔ اللہ تعالیٰ کے حکم سے فرشتے مسلمانوں کی مدد کرتے ہیں۔ ( آل عمران : 124، 125)
Ayahs 79:6–14فہم القرآن
ربط کلام : موت کے بعد پہلا مرحلہ۔
پانچ قسمیں اٹھا کر ہر شخص کو یہ حقیقت یاد کروائی گئی ہے کہ نیک ہو یا بد اس نے موت کے مشکل ترین لمحات سے گزرنا ہے اور موت کے بعد ایک وقت ایسا آنے والا ہے جب زمین کا چپہ چپہ کانپنے لگے گا کیونکہ اسے پے در پے جھٹکے لگیں گے اس طرح پوری زمین ہلا کر رکھ دی جائے گی یہاں تک کہ زمین چٹیل میدان میں تبدیل ہوجائے گی۔ اس دن لوگوں کے دل دہل جائیں گے اور ہر شخص یوں محسوس کرے گا جیسے اس کا کلیجہ منہ میں آکر پھنس گیا ہے۔ آنکھیں ڈری ڈری اور جھکی ہوں گی، چاہیے تو یہ کہ کافر قیامت پر ایمان لاتے لیکن وہ کہتے ہیں کہ کیا ہم قبروں سے نکل کر پہلی حالت پر لوٹ جائیں گے ؟ حالانکہ ہماری ہڈیاں بوسیدہ ہو کر مٹی کے ساتھ مٹی بن چکی ہوں گی یہ تو بڑے گھاٹے کا معاملہ ہوگا۔ قرآن مجید نے کئی بار بتلایا ہے کہ جو لوگ قیامت کے دن کا انکار کرتے ہیں وہ نقصان میں ہوں گے۔ کفار اس بات کو بھی مذاق کا نشانہ بناتے اور کہتے تھے کہ ہاں ہاں پھر ہم بڑے گھاٹے میں ہوں گے ! حالت یہ ہے کہ یہ لوگ قیامت پر ایمان رکھنے کے باوجود ہمارے مقابلے میں کنگال ہیں یہ اس دن فائدے میں ہوں گے اور ہم گھاٹے میں ہوں گے یہ کیسے ہوگا ؟ اہل ایمان کو مذاق اس طرح کفار کرتے تھے۔ انہیں کہا جا رہا ہے کہ آج قیامت کو مذاق سمجھتے ہو لیکن وہ دن ہر حال میں آنے والا ہے جس دن ایک زور دار آواز ہوگی قرآن مجید نے اسے ایک زلزلہ اور دھماکہ بھی کہا ہے۔ جوں ہی اسرافیل دوسری مرتبہ صور پھونکے گا تو اس کی آواز میں اتنی گرج اور کشش ہوگی کہ ہر کوئی میدان محشر کی طرف کھینچا آئے گا اور سب کے سب انسان حاضر ہوجائیں گے۔
منکرین قیامت کا جواب :
(کَیْفَ تَکْفُرُوْنَ باللّٰہِ وَ کُنْتُمْ اَمْوَاتًا فَاَحْیَاکُمْ ثُمَّ یُمِیْتُکُمْ ثُمَّ یُحْیِیْکُمْ ثُمَّ اِلَیْہِ تُرْجَعُوْنَ ) (البقرۃ : 28)
” تم اللہ کے ساتھ کیسے کفر کرتے ہو حالانکہ تم مردہ تھے اس نے تمہیں پیدا کیا پھر تمہیں مارے گا پھر زندہ کرے گا پھر اسی کی طرف تم لوٹائے جاؤ گے۔ “
(اَلَیْسَ ذٰلِکَ بِقٰدِرٍ عَلٰی اَنْ یُّحْیِ ےَ الْمَوْتٰی) (القیامہ : 40)
کیا ” اللہ “ اس پر قادر نہیں ہے کہ مرنے والوں کو پھر زندہ کرے ؟ “
(فَسُبْحٰنَ الَّذِیْ بِیَدِہِ مَلَکُوتُ کُلِّ شَیْءٍ وَّاِِلَیْہِ تُرْجَعُوْنَ ) (یٰس : 83)
” پاک ہے وہ ذات جس کے ہاتھ میں ہر چیز کا مکمل اقتدار ہے اور اسی کی طرف تم پلٹ کر جانے والے ہو۔ “
مسائل
1۔ اللہ تعالیٰ نے پانچ قسمیں اٹھا کر ثابت کیا ہے کہ قیامت ضرور برپا ہوگی۔
2۔ قیامت کے زلزلے پے درپے واقع ہوں گے۔
3۔ قیامت کے دن دل دھڑک رہے ہوں گے اور آنکھیں خوفزدہ ہوں گی۔
4۔ قیامت کے دن ایک جھٹکے سے سب لوگ میدان محشر کی طرف جارہے ہوں گے۔
تفسیر بالقرآن
منکرین قیامت کے بوسیدہ دلائل :
1۔ وہ کہتے ہیں ہمیں کون دوبارہ زندہ کرے گا ؟ فرما دیجیے جس نے پہلی بار پیدا کیا ہے وہی تمہیں پیدا کرے گا۔ (بنی اسرائیل : 51)
2۔ ہم نے زمین سے تمہیں پیدا کیا اسی میں لوٹائیں گے اور اسی سے دوبارہ اٹھائیں گے۔ (طٰہٰ : 55)
3۔ انہیں بتلائیں کہ پتھر بن جاؤ یا لوہا یا تمہارے دل میں جو آتا ہے اس کے مطابق ہوجاؤ وہ تمہیں ضرور اٹھائے گا۔ (التغابن : 7) 4۔” اللہ “ ہی مخلوق کو پیدا کرنے والا ہے، پھر وہی اسے دوبارہ لوٹائے گا۔ (یونس : 4)
5۔ ” اللہ “ وہ ذات ہے جس نے مخلوق کو پہلی بار پیدا کیا، پھر وہ اسے لوٹائے گا اور یہ کام اس کے لیے آسان ہے۔ (الروم : 27) 6۔ موت کے بعد تمہیں ضرور اٹھایا جائے گا۔ (ھود : 7)
7۔ ” اللہ “ ہی نے مخلوق کو پیدا کیا، پھر وہ اسے دوبارہ پیدا کرے گا، پھر تم اسی کی طرف لوٹائے جاؤ گے۔ (الروم : 11)
Ayahs 79:15–26فہم القرآن
ربط کلام : قیامت کو جھٹلانے والوں میں فرعون بھی شامل تھا اس لیے اس کا دنیا میں برا انجام ہے۔
اہل مکہ قیامت کا بار بار مذاق اڑا رہے تھے اس پر انہیں انتباہ کرنے کے لیے موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کے درمیان ہونے والی کشمکش اور اس کے نتیجہ میں فرعون کے ساتھ پیش آنے والے واقعہ کا حوالہ دے کر سمجھایا کہ کیا آپ کو موسیٰ (علیہ السلام) کے واقعہ کا علم ہے کہ جب طویٰ وادی میں اسے اس کے رب نے فرمایا کہ فرعون کے پاس جاؤ ! کیونکہ وہ بڑا باغی بن چکا ہے جس کا بڑا سبب یہ ہے کہ وہ قیامت کا منکر ہے۔ اسے سمجھاؤ کہ کیا تو تیار ہے کہ شرک اور ظلم وستم سے بچنے کی کوشش کرے ؟ میں تیرے رب کی طرف سے تیری راہنمائی کروں تاکہ تجھ میں خوف خدا پیدا ہوجائے۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے فرعون کے پاس جا کر اسے سمجھایا اور بڑا معجزہ دکھایا مگر اس نے اسے جھٹلادیا اور نہ مانا پھر مخالفت اور مکرو فریب کرنے کے لیے پلٹا اور لوگوں کو جمع کیا، ان سے کہا کہ میں تمہارا بڑا رب ہوں۔ اللہ تعالیٰ نے اسے دنیا اور آخرت میں پکڑ لیا۔ اس میں عبرت کا سبق ہے ہر اس شخص کے لیے جو اپنے رب سے ڈرنے کے لیے تیار ہے۔ یہ بات پہلے بھی عرض ہوچکی ہے کہ قرآن مجید کا یہ طرز بیان ہے کہ موقع کی مناسبت سے ہر واقعہ کا اتنا ہی حصہ بیان کرتا ہے جتنا اس سے استدلال کرنا مقصود ہوتا ہے۔ اسی اصول کے تحت یہاں بھی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کا واقعہ اتنا ہی بیان کیا گیا ہے جس قدر اس سے استدلال کرتا تھا۔
” جب موسیٰ (علیہ السلام) نے مدین میں رہنے کی مدت پوری کرلی اور وہ اپنے اہل و عیال کو لے کر مصر کی طرف واپس چلے تو راستے میں طور کے قریب آگ دیکھی۔ انہوں نے اپنے گھروالوں سے فرمایا ٹھہرو میں نے آگ دیکھی ہے شاید وہاں سے کوئی خبر لاؤں یا اس سے کوئی انگارہ اٹھا لاؤں جسے آپ تاپیں۔ موسیٰ (علیہ السلام) وہاں پہنچے تو وادی کے دائیں کنارے مبارک مقام پر ایک درخت سے آواز آئی اے موسیٰ میں ہی ” اللہ “ ہوں سارے جہانوں کا مالک۔ اپنی لاٹھی پھینک دے جونہی موسیٰ نے لاٹھی پھینکی دیکھا تو لاٹھی سانپ کی طرح بل کھا رہی ہے موسیٰ (علیہ السلام) پیٹھ پھیر کر بھاگے اور مڑکر نہ دیکھا اللہ تعالیٰ نے فرمایا : اے موسیٰ پلٹ آؤ خوف نہ کرو تو بالکل محفوظ ہے۔ (القصص : 29 تا 31)
” اے موسیٰ تو اور تیرا بھائی میری نشانیاں لے کر فرعون کے پاس جاؤ۔ کیونکہ وہ سرکش ہوچکا ہے اور میری یاد سے غافل نہ ہونا۔ اس سے نرمی کے ساتھ بات کرنا ہوسکتا ہے کہ وہ نصیحت قبول کرے یا ڈر جائے۔ موسیٰ اور ہارون نے عرض کی پروردگار ہمیں ڈر ہے کہ وہ ہم پر زیادتی کرے گا یا ہم پر حملہ آور ہوگا فرمایا ڈرو نہیں میں تمہارے ساتھ ہوں سب کچھ سن رہا ہوں اور سب کچھ دیکھ رہا ہوں۔ جاؤ اس کے پاس اور کہو کہ ہم تیرے رب کے رسول ہیں۔ بنی اسرائیل کو ہمارے ساتھ جانے کے لیے آزاد کر دے اور ان کو تکلیف نہ دے۔ ہم تیرے پاس تیرے رب کی نشانی لے کر آئے ہیں جو ہدایت کی راہ اختیار کرے گا اس کے لیے سلامتی ہے ہم کو وحی کے ذریعے بتایا گیا ہے کہ جو اسے جھٹلائے اور منہ موڑے گا اسے عذاب ہوگا۔ فرعون نے کہا اے موسیٰ تم دونوں کا رب کون ہے ؟ موسیٰ نے جواب دیا ہمارا رب وہ ہے جس نے ہر چیز کو اس کی ساخت بخشی پھر اس کی راہنمائی فرمائی۔ فرعون نے کہا جو لوگ پہلے گزر چکے ہیں ان کا کیا ہوگا ؟ موسیٰ نے کہا اس کا علم میرے رب کے پاس ہے جو ایک کتاب میں محفوظ ہے میرا رب نہ چوکتا ہے اور نہ بھولتا ہے۔ (طٰہٰ : 42 تا 52)
” موسیٰ نے کہا مشرق ومغرب اور جو کچھ ان کے درمیان ہے سب کا رب ایک ہے اگر تم لوگ کچھ عقل رکھتے ہو۔ فرعون نے کہا اگر تو نے میرے سوا کسی اور کو معبود مانا تو تجھے بھی ان لوگوں کے ساتھ قیدی بنا دوں گا جو قید خانوں میں پڑے ہوئے ہیں۔ موسیٰ نے کہا اگرچہ میں تیرے سامنے واضح دلیل پیش کروں فرعون نے کہا اچھا اگر سچا ہے تو دلیل لاؤ موسیٰ نے اپنا عصا پھینکا وہ یکایک بڑا اژدہا بن گیا پھر اپنا ہاتھ نکالا اور وہ دیکھنے والوں کے سامنے چمک رہا تھا۔ فرعون نے اپنے اردوگرد پیش بیٹھے ہوئے وزیروں، مشیروں سے کہا یقیناً یہ شخص ایک ماہر جادوگر ہے۔ چاہتا ہے کہ اپنے جادو کے زور سے تمہیں تمہارے ملک سے نکال دے اب بتاؤ تمہارا کیا فیصلہ ہے ؟ انہوں نے کہا اسے اور اس کے بھائی کو روک لیں اور شہروں میں ہر کارے بھجیں جو ہر ماہر جادوگر کو آپ کے پاس لے آئیں چناچہ ایک دن مقرر وقت پر جادوگر اکٹھے کرلیے گئے اور لوگوں سے کہا گیا کہ تم اس اجتماع میں شرکت کرو ؟ تاکہ ہم ان جادوگروں کی پیروی کریں اگر جادوگر غالب رہے۔ جب جادوگر میدان میں آئے تو انہوں نے فرعون سے کہا کہ اگر ہم غالب آگئے تو ہمیں کیا انعام ملے گا۔ ؟ اس نے کہا ہاں تم مقربین میں شامل ہوجاؤ گے۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے جادوں گروں کو فرمایا پھینکو جو تم پھینکنا چاہتے ہو جادوگروں نے فوراً اپنی رسیّاں اور لاٹھیاں پھینکیں اور نعرہ لگایا کہ فرعون کی عزت کی قسم ہم ہی غالب رہیں گے پھر موسیٰ نے اپنا عصا پھینکا وہ یکایک ان کی رسیوں اور لاٹھیوں کو ہڑپ کرگیا اس پر تمام جادوگر بےاختیار سجدے میں گرپڑے اور بول اٹھے کہ ہم رب العالمین پر ایمان لے آئے ہاں موسیٰ اور ہارون کے رب پر ایمان لاتے ہیں، فرعون نے کہا تم میری اجازت سے پہلے ہی موسیٰ پر ایمان لے آئے ہو ؟ یہ ضرور تمہارا بڑا ہے جس نے تمہیں جادوسکھایا ہے اچھا، ابھی تمہیں معلوم ہوجائے گا کہ جب تمہارے ہاتھ پاؤں مخالف سمتوں سے کٹواؤں گا اور سب کو سولی چڑھادوں گا۔ انہوں نے جواب دیا کچھ پرواہ نہیں ہم اپنے رب کے حضور پہنچ جائیں گے۔ اور ہمیں امید ہے کہ ہمارا رب ہمارے گناہ معاف کردے گا ہم سب سے پہلے ایمان لانے والے ہیں۔ “ (الشعراء : 28 تا 51)
” اور ہم نے بنی اسرائیل کو سمندر سے پار کیا تو فرعون اور اسکے لشکروں نے سر کشی اور زیادتی کرتے ہوئے ان کا تعاقب کیا، یہاں تک کہ فرعون غرق ہونے لگا تو کہا کہ میں ایمان لایا یقیناً سچ یہ ہے کہ اس کے سوا کوئی معبود برحق نہیں جس پر بنی اسرائیل ایمان لائے ہیں اور میں فرمانبرداروں سے ہوں، کہا گیا کیا اب ؟ حالانکہ تو نافرمان تھا اور تو فساد کرنیوالوں میں سے تھا۔ “ (یونس : 90 تا 91)
المقدس طویٰ سے مراد وہ وادی ہے کہ مدین سے مصر آتے ہوئے جہاں اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو نبوت اور دو معجزے عطا کیے گئے۔
مسائل
1۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے فرعون کے سامنے بڑے بڑے معجزات پیش کیے مگر اس نے انہیں جھٹلادیا جس کے نتیجے میں دنیا میں ذلیل ہوا اور آخرت میں شدید عذاب میں مبتلا ہوگا۔
2۔ فرعون اس قدر سرکش تھا کہ اس نے دعویٰ کیا کہ میں سب سے بڑا رب ہوں۔
Ayahs 79:27–33فہم القرآن
ربط کلام : قیامت کے منکرین کی سب سے بڑی دلیل کا جواب۔
قیامت کا انکار کرنے والوں کی سب سے بڑی دلیل یہ رہی ہے کہ جب انسان مٹی کے ساتھ مٹی بن جاتا ہے تو پھر اسے کس طرح زندہ کیا جاسکتا ہے ان کے نزدیک یہ بات ناممکنات میں سے ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ایسی سوچ رکھنے والے اللہ تعالیٰ کی عظیم قدرتوں پر توجہ نہیں دیتے ؟ ان کی سوچ صرف اپنی حد تک رہتی ہے اور وہ دنیا کے اسباب پر ہی نظر رکھتے ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ساری دنیا کے انسان مل کر بھی چھوٹی سے چھوٹی جاندار چیز پیدا نہیں کرسکتے اگر یہ لوگ اللہ تعالیٰ کی عظیم قدرتوں پر توجہ دیں تو انہیں یقین آجائے گا کہ واقعی اللہ تعالیٰ کا فرمان برحق ہے کہ وہ قیامت کے دن لوگوں کو اٹھائے گا اور اپنی بارگاہ میں پیش کرے گا۔ ایسے لوگوں کی سوچ کے دریچے کھولنے کے لیے ارشاد فرمایا کہ کیا تمہیں پیدا کرنا مشکل ہے یا آسمان کو بنانا مشکل ہے ؟ اللہ تعالیٰ نے نہ صرف آسمان کو بنایا بلکہ اسے بنا کر بغیر ستونوں کے فضا میں کھڑا کردیا ہے، دیکھنے والا نہ اس میں کوئی دراڑ دیکھتا ہے اور نہ ہی آج تک کہیں سے وہ جھکا ہے یہ اسی طرح فضا میں معلق اور قائم ہے جس طرح اسے پہلے دن بنایا اور ٹھہرایا گیا تھا۔ پھر ” اللہ تعالیٰ “ ہی زمین و آسمان کے درمیان رات اور دن کو پیدا کرتا ہے، رات اپنی تاریکی اور سکون میں لوگوں کو سلا دیتی ہے اور دن کی روشنی لوگوں کو جگا دیتی ہے۔ اسی ذات کبریا نے زمین کو پانی پر پھیلایا اور بچھایا ہے، وہی زمین سے پانی نکالتا ہے اور اس پانی کے ذریعے لوگوں اور جانوروں کے لیے چارہ نکالتا ہے، اسی نے زمین پر پہاڑ گاڑ دیئے ہیں اور اس میں انسانوں اور ان کے چوپاؤں کے لیے ہر قسم کے فوائد رکھ دئیے ہیں، اگر انسان ان باتوں پر غور کرے تو یہ حقیقت اس پر واضح ہوجائے گی کہ جس خالق نے یہ چیزیں پیدا کی ہیں وہی انسانوں کو دوبارہ پیدا کرے گا۔ غور کریں کہ آسمان اور زمین آپس میں ملے ہوئے تھے اللہ تعالیٰ نے ان کو الگ الگ کیا۔ ( الانبیاء : 30) اور دھوئیں سے ٹھوس آسمان پیدا کیے۔ (حمٓ السجدۃ : 11) اس طرح زمین پر غور کریں کہ اللہ تعالیٰ نے اس سے پانی نکالا اور پھر زمین کو فرش کے طور پر بچھادیا۔ ( ھود : 7، البقرۃ : 22) زمین پر پہاڑ اس لیے گاڑ دیئے تاکہ اس میں ایک طرف جھکاؤ پیدا نہ ہوسکے۔ یہ ایسے دلائل ہیں جس پر معمولی سا غور کرنے سے ایک طرف اللہ تعالیٰ کی خالقیت پر ایمان مضبوط ہوتا ہے اور دوسری طرف قیامت کے دن جی اٹھنے کا ثبوت ملتا ہے۔ زمین جس دانے کو اپنے پیٹ میں ایک مدت تک چھپائے رکھتی ہے جب اس کے اگنے کا وقت آتا ہے تو اپنے خالق کے حکم سے اس کے نکلنے کے لیے زمین اپنا سینہ کھول دیتی ہے کیا قیامت کے دن زمین ایسا کرنے سے انکار کردے گی ؟ ایسا ہرگز نہیں ہوگا جونہی اللہ تعالیٰ اسے حکم دے گا تو زمین پھٹ جائے گی اور لوگ اپنے اپنے مقام سے اٹھ کھڑے ہوں گے۔
” حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول محترم ﷺ نے فرمایا دوسرا صور پھونکنے کا عرصہ چالیس کا ہوگا۔ حضرت ابوہریرہ ؓ سے ان کے شاگردوں نے پوچھا چالیس دن ؟ حضرت ابوہریرہ ؓ نے فرمایا کہ میں یہ نہیں جانتا۔ انہوں نے استفسار کیا چالیس ماہ ؟ حضرت ابوہریرہ ؓ نے جواباً فرمایا میرا کوئی جواب نہیں۔ انہوں نے پھر پوچھا چالیس سال ہیں ؟ ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں میں یہ بھی نہیں کہتا۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ بارش نازل فرمائے گا۔ لوگ یوں اگیں گے جس طرح انگوری اگتی ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا، انسان کی دمچی کے علاوہ ہر چیز مٹی ہوجائے گی۔ قیامت کے دن اسی سے تمام اعضاء کو جوڑا جائے گا۔ (رواہ مسلم : باب مَا بَیْنَ النَّفْخَتَیْنِ )
(قُلْ کُوْنُوْا حِجَارَۃً اَوْ حَدِیْدًا) (بنی اسرائیل : 50) ” فرما دیں کہ تم پتھر بن جاؤ یا لوہا۔ “
مسائل
1۔ اللہ تعالیٰ نے آسمان کو بنایا اور اسے بلند فرمایا۔ 2۔ اللہ تعالیٰ ہی رات کو تاریک کرتا ہے اور دن کو روشن فرماتا ہے۔
3۔ اللہ تعالیٰ نے زمین کو فرش بنایا اور وہی اس سے پانی اور چارہ نکالتا ہے۔
4۔ اللہ تعالیٰ نے پہاڑوں کو زمین پر بوجھ کے طور پر ڈال رکھا ہے۔
5۔ اللہ تعالیٰ نے لوگوں اور ان کے چوپاؤں کے لیے ان کی زندگی کا سامان پیدا کیا ہے۔