78. Surah An-Naba

النبإThe Announcement · 40 ayahsفہم القرآن

تعارف

تعارف

سورة النبا کا تعارف یہ سورت مکہ معظمہ میں نازل ہوئی اس کی چالیس آیات ہیں جو دو رکوعات پر مشتمل ہیں۔ اس کا نام اس کی دوسری آیت میں مذکور ہے۔ اس سورت میں کائنات کی بڑی بڑی چیزوں کا ذکر فرما کر یہ ثابت کیا ہے کہ جس رب نے ان چیزوں کو پیدا کیا ہے وہی اس کائنات کو ختم کر کے قیامت قائم کرے گا۔ جو لوگ قیامت کا انکار کرتے ہیں جہنم ان کا انتظار کر رہی ہے انہیں اس جہنم میں پھینکا جائے گا جس میں وہ مدت بعید تک پڑھے رہیں گے۔ ان کے لیے نہ کسی قسم کا سکون ہوگا اور نہ ہی انہیں پینے کے لیے ٹھنڈا پانی نصیب ہوگا۔ جب وہ پانی طلب کریں گے تو انہیں ابلتا ہوا پانی اور ان کے زخموں کی پیپ پلائی جائے گی یہ سزا اس لیے ہوگی کہ وہ اللہ تعالیٰ کے فرامین کو جھٹلایا کرتے تھے اور قیامت کا انکار کرتے تھے ان کے مقابلے میں جنہوں نے ” اللہ “ اور اس کے رسول کی اطاعت کی اور قیامت پر یقین رکھا وہ کامیاب ٹھہریں گے۔ ان کے لیے ہر قسم کے باغات اور انگور ہوں گے، انہیں خوبصورت اور ان کی ہم عمر بیویاں دی جائیں گی۔ انہیں پینے کے لیے جھلکتے ہوئے جام پیش کیے جائیں گے وہ جنت میں ہمیشہ رہیں گے، اس میں کسی قسم کی بےہودگی اور آلودگی نہیں پائیں گے۔ ان پر ان کے رب کی طرف سے بےحساب مہربانی ہوگی۔ اس رب کی طرف سے جو زمینوں آسمانوں کا مالک ہے قیامت کے دن اس کے سامنے اس کی اجازت کے بغیر کوئی بات نہیں کرسکے گا۔ اس دن جبریل امین (علیہ السلام) سمیت تمام ملائکہ قطار اندر قطار کھڑے ہوں گے اور جسے بولنے کی اجازت ہوگی وہ صحیح بات کرئے گا، یہ دن ہر صورت قائم ہو کر رہے گا۔ اب ہر انسان کو اختیار ہے کہ وہ اپنے رب کی طرف جانے کا راستہ اختیار کرے یا اس کی نافرمانی میں پڑ کر اپنی آخرت تباہ کرلے۔ جس نے اپنی آخرت کو تباہ کرلیا وہ قیامت کے دن پشیمان ہوگا اور مٹی کے ساتھ مٹی بن جانے کی خواہش کرے گا۔ لیکن اس کی یہ خواہش کبھی پوری نہیں ہوگی۔ (ذٰلِکَ الْیَوْمُ الْحَقُّ فَمَنْ شَآءَ اتَّخَذَ اِِلٰی رَبِّہٖ مَآبًا اِِنَّا اَنذَرْنٰکُمْ عَذَابًا قَرِیْبًا یَّوْمَ یَنْظُرُ الْمَرْءُ مَا قَدَّمَتْ یَدٰہُ وَیَقُوْلُ الْکٰفِرُ یٰلَیْتَنِیْ کُنْتُ تُرَابًا) (النبا : ٣٩، ٤٠) ” اپنے رب کی طرف پلٹنے کا راستہ اختیار کرلے۔ ہم نے تمہیں اس عذاب سے ڈرادیا ہے جو قریب آچکا ہے جس دن آدمی سب کچھ دیکھ لے گا جو اس کے ہاتھوں نے آگے بھیجا ہے اور کافر پکار اٹھے گا کہ کاش میں مٹی بنا رہتا۔ “

Ayahs 78:1–11

عَمَّ یَتَسَآءَلُوْنَۚ Open ayah 78:1 in the Quran reader

یہ لوگ کس چیز کے بارے میں پوچھتے ہیں

عَنِ النَّبَاِ الْعَظِیْمِۙ Open ayah 78:2 in the Quran reader

کیا اس بڑی خبر کے بارے میں

الَّذِیْ هُمْ فِیْهِ مُخْتَلِفُوْنَؕ Open ayah 78:3 in the Quran reader

جس کے متعلق یہ اختلاف کرتے ہیں

كَلَّا سَیَعْلَمُوْنَۙ Open ayah 78:4 in the Quran reader

ہرگز نہیں عنقریب انہیں معلوم ہوجائے گا

ثُمَّ كَلَّا سَیَعْلَمُوْنَ Open ayah 78:5 in the Quran reader

ہاں ہرگز نہیں بہت جلد انہیں پتہ چل جائے گا

اَلَمْ نَجْعَلِ الْاَرْضَ مِهٰدًاۙ Open ayah 78:6 in the Quran reader

کیا یہ حقیقت نہیں کہ ہم نے زمین کو فرش بنایا ہے

وَّ الْجِبَالَ اَوْتَادًا۪ۙ Open ayah 78:7 in the Quran reader

اور پہاڑوں کو میخوں کے طور پر گاڑ دیا ہے

وَّ خَلَقْنٰكُمْ اَزْوَاجًاۙ Open ayah 78:8 in the Quran reader

اور تمہیں جوڑوں کی شکل میں پیدا کیا ہے

وَّ جَعَلْنَا نَوْمَكُمْ سُبَاتًاۙ Open ayah 78:9 in the Quran reader

اور تمہاری نیند کو باعث سکون بنایا ہے

وَّ جَعَلْنَا الَّیْلَ لِبَاسًاۙ Open ayah 78:10 in the Quran reader

اور رات کو پردہ بنا دیا ہے

وَّ جَعَلْنَا النَّهَارَ مَعَاشًا۪ Open ayah 78:11 in the Quran reader

اور دن کو معاش کے لیے بنایا ہے

فہم القرآن ربط سورت : المرسلات میں ان لوگوں کی تردید کی گئی ہے جو قیامت کی تکذیب کرتے ہیں۔ سورت النّباء میں بتایا گیا ہے کہ قیامت بڑی ہولناک چیز ہے اور اس کا برپا ہونا ہر صورت یقینی ہے لیکن قیامت کا انکار کرنے والے اس کے باوجود اس کے بارے میں قیل وقال کرتے ہیں عنقریب ان لوگوں کو اس کی حقیقت کا علم ہوجائے گا۔ قرآن مجید کے مرکزی مضامین میں تیسرا بڑا مضمون قیام قیامت ہے جو اس دنیا کا آخری دن ہوگا۔ جس نے قرآن مجید کی ہدایت کے مطابق زندگی بسر کی وہ کامیاب ہوگا اور جس نے قرآن مجید کی ہدایت سے انحراف کیا وہ اپنے کیے کی سزا پائے گا۔ اس دنیا کا انجام آخرت ہے اس لیے چند سورتوں کے سوا المرسلات سے لے کر تیسویں پارے کی تمام سورتوں میں آخرت کے مختلف مراحل کا ذکر کیا گیا ہے تاکہ قرآن مجید کی تلاوت کرنے والا اپنے انجام کے بارے میں غوروفکر کرسکے۔ مکہ کے لوگ قیامت کے بارے میں مختلف قسم کی باتیں کرتے تھے۔ کچھ لوگوں کا کہنا تھا کہ انسان جب مر کر مٹی کے ساتھ مٹی ہوجاتا ہے تو اسے زندہ نہیں کیا جاسکتا ہے، کچھ لوگ قیامت کی تردید کرتے ہوئے یہ دلیل پیش کرتے تھے کہ اب تک جتنے لوگ مرچکے ہیں ان میں کوئی بھی پلٹ کر واپس نہیں آیا، یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ دوبارہ پیدا نہیں ہونا اور نہ ہی قیامت برپا ہوگی۔ مکہ میں یہ بات کہنے والے بھی موجود تھے کہ اللہ تعالیٰ نے ایک شغل کے طور پر انسان اور اس کائنات کو پیدا کیا ہے، اس لیے جب انسان مرجاتا ہے تو پھر اس سے کوئی پوچھ گچھ نہیں ہوتی۔ بس ایک سلسلہ ہے جو صدیوں سے جاری ہے اور اسی طرح جاری رہے گا، کچھ لوگ قیامت کے مسئلہ کو صرف اختلافی بات اور جھگڑا سمجھتے تھے اور یہی جھگڑا نبی ﷺ کے ساتھ کرتے تھے۔ اس پس منظر میں یہ سورت نازل ہوئی جس کا آغاز اس بات سے ہوا کہ لوگ آپس میں کس چیز کے بارے میں سوال کرتے ہیں ؟ کیا ایک بڑی خبر کے بارے میں یہ ایک دوسرے کے ساتھ اختلاف کرتے ہیں ؟ ان کا کہنا ہے کہ قیامت برپا نہیں ہوگی، حالانکہ ان کی بات ہر اعتبار سے غلط ہے قیامت ہر صورت برپا ہوگی اور لوگوں کو دوبارہ پیدا کیا جائے گا اور پھر انہیں پتہ چل جائے گا کہ قیامت کیا ہے ؟ جب انہیں معلوم ہوگا تو اس پر ایمان لائیں گے مگر اس وقت ایمان لانے کا انہیں کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ (النزعات : 42، 43) یہ لوگ قیامت کا اس لیے انکار کرتے ہیں کیونکہ ان کے نزدیک یہ ناممکن بات ہے، حالانکہ یہ نہیں سوچتے کہ ہم نے زمین کو مخلوق کے لیے گہوارہ بنایا اور اس پر پہاڑوں کو میخوں کے طور پر گاڑ دیا اور تمہیں جوڑے جوڑے پیدا کیا اور نیند کو تمہارے لیے باعث سکون بنایا اور دن کو معاش کے لیے بنایا۔ انسان اگر ان باتوں پر غور کرے تو ان میں ہر کام ایسا ہے جس میں قیامت کا ثبوت ملتا ہے زمین پر غور فرمائیں کہ اللہ تعالیٰ نے اسے پانی پر ٹھہرایا ہے لیکن آج تک نہ کہیں سے ڈھل کی ہے اور نہ پانی میں غرق ہوئی ہے، زمین کا توازن قائم رکھنے کے لیے اس پر فلک بوس پہاڑگاڑ دیئے ہیں جو اپنی چوڑائی، لمبائی اور اونچائی کے لحاظ سے اپنے خالق کی قدرت کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ انسان اپنی تخلیق پر غور کرے تو اپنے رب کی قدرت کا اعتراف کیے بغیر نہیں رہ سکتا کہ حضرت آدم (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ نے مٹی سے پیدا کیا، پھر اس سے اس کی بیوی کو پیدا کیا اور پھر قیامت تک تخلیق انسانی کا سلسلہ شروع فرمایا اور میاں بیوی کے درمیان ایسا رشتہ قائم کیا کہ اس سے پہلے وہ اس تعلق اور محبت کا تصور بھی نہیں کرسکتے تھے۔ انسان اپنی سرگرمیوں پر غور کرے کہ سارا دن اپنی معاش کی فکر میں لگا رہتا ہے جس سے اس کا وجود اور دماغ تھک جاتا ہے لیکن جونہی رات کے تاریک لباس میں سوتا ہے تو سارے دن کی تھکن دور ہوجاتی ہے۔ کیا انسان غور نہیں کرتا کہ یہ کس کا کمال ہے جو اسے ہر صبح تازہ دم کرکے اٹھاتا ہے اور اس کی قوت کار کو بحال کرتا ہے۔ جس خالق نے یہ چیزیں پیدا کی ہیں کیا وہ قیامت کے دن انسان کو پیدا نہیں کرسکتا ؟ کوئی شک نہیں کہ وہ انسان کو نہ صرف دوبارہ پیدا کرے گا بلکہ اسے اپنی بارگاہ میں حاضر کر کے اس سے پورا پورا حساب لے گا۔ انسان غور کرے کہ قیامت کے انکار کرنے کا اس پاس کیا جواز رہ جاتا ہے ؟ اسی لیے فرمایا کہ لوگ بہت بڑی خبر کے بارے میں ایک دوسرے سے تکرار کرتے ہیں جس نے ہر صورت آکر رہنا ہے حقیقت یہ ہے کہ انسان کا یہ کام نہیں کہ وہ قیامت کے بارے میں بحث مباحثہ کرے اس کا کام یہ ہے کہ وہ اپنے آپ کو قیامت کے لیے تیار کرے۔ (وَعَنْ اَنَسٍ ؓ اَنَّ رَجُلاً قَالَ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ مَتَی السَّاعَۃُ قَالَ وَیْلَکَ وَمَا اَعْدَدْتَ لَھَا قَالَ مَا اَعْدَدْتُّ لَھَا اِلَّا اَنِّیْ اُحِبُّ اللّٰہَ وَرَسُوْلَہٗ قَالَ اَنْتَ مَعَ مَنْ اَحْبَبْتَ قَالَ اَنَسٌ فَمَا رَاَیْتُ الْمُسْلِمِیْنَ فَرِحُوْا بِشَیءٍ بَعْدَ الْاِسْلَامِ فَرَحَھُمْ بِھَا۔ ) (رواہ البخاری : باب مَنَاقِبُ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ أَبِی حَفْصٍ الْقُرَشِیِّ الْعَدَوِیِّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ ) ” حضرت انس ؓ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے اللہ کے رسول ﷺ سے دریافت کیا کہ قیامت کب آئے گی ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : تجھ پرا فسوس تو نے قیامت کے لیے کیا تیاری کی ہے ؟ اس نے جواب دیا : کہ میں تو صرف اللہ اور اس کے رسول ﷺ سے محبت کرتا ہوں۔ آپ نے فرمایا : تو اسی کے ساتھ ہوگا، جس کے ساتھ محبت کرتا ہے۔ حضرت انس ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے مسلمانوں کو دیکھا، وہ اسلام لانے کے بعد کسی بات پر اتنے خوش نہیں ہوئے جتنے اس بات پر خوش ہوئے تھے۔ “ مسائل 1۔ اللہ ہی نے زمین کو لوگوں کے لیے گہوارہ بنایا ہے۔ 2۔ اللہ ہی نے زمین پر پہاڑوں کو میخوں کی طرح گاڑ دیا ہے۔ 3۔ اللہ ہی نے لوگوں کو جوڑا جوڑا پیدا کیا ہے۔ 4۔ اللہ ہی نے نیند کو لوگوں کے لیے باعث سکون بنایا ہے۔ 5۔ اللہ ہی نے رات کو سونے کے لیے لباس بنایا ہے۔ 6۔ اللہ ہی نے دن کو معاش کا ذریعہ بنایا ہے۔ تفسیر بالقرآن قیامت کے دلائل : 1۔ یقیناً قیامت آنے والی ہے۔ (الحجر : 85) 2۔ یقیناً قیامت آنے والی ہے اور اللہ قبروالوں کو اٹھائے گا۔ (الحج : 7) 3۔ اللہ کا وعدہ سچا ہے اور قیامت برپا ہونے میں کوئی شک نہیں۔ (الکہف : 21) 4۔ بیشک قیامت آنے والی ہے۔ میں اس کو پوشیدہ رکھنا چاہتا ہوں تاکہ ہر کسی کو جزا یا سزا دی جائے۔ (طہٰ : 15) 5۔ اے لوگو ! اللہ سے ڈر جاؤ بیشک قیامت کا زلزلہ بہت بڑی چیز ہے۔ (الحج : 1) 6۔ کافر ہمیشہ شک میں رہیں گے، یہاں تک کہ قیامت اچانک آجائے۔ (الحج : 55) 7۔ ہم نے قیامت کے دن جھٹلانے والوں کے لیے آگ کا عذاب تیار کیا ہے۔ (الفرقان : 11)
Ayahs 78:12–30

وَّ بَنَیْنَا فَوْقَكُمْ سَبْعًا شِدَادًاۙ Open ayah 78:12 in the Quran reader

اور ہم نے تم پر سات مضبوط آسمان بنائے

وَّ جَعَلْنَا سِرَاجًا وَّهَّاجًا۪ۙ Open ayah 78:13 in the Quran reader

اور ایک نہایت روشن چراغ بنایا

وَّ اَنْزَلْنَا مِنَ الْمُعْصِرٰتِ مَآءً ثَجَّاجًاۙ Open ayah 78:14 in the Quran reader

اور بھرے بادلوں سے لگاتار پانی برسایا

لِّنُخْرِجَ بِهٖ حَبًّا وَّ نَبَاتًاۙ Open ayah 78:15 in the Quran reader

تاکہ اس کے ساتھ دانے اور سبزہ نکالیں

وَّ جَنّٰتٍ اَلْفَافًاؕ Open ayah 78:16 in the Quran reader

اور گھنے باغ

اِنَّ یَوْمَ الْفَصْلِ كَانَ مِیْقَاتًاۙ Open ayah 78:17 in the Quran reader

بیشک فیصلے کے دن کا وقت مقرر ہے

یَّوْمَ یُنْفَخُ فِی الصُّوْرِ فَتَاْتُوْنَ اَفْوَاجًاۙ Open ayah 78:18 in the Quran reader

جس دن صور میں پھونک ماری جائے گی، تم گروہ در گروہ نکل آؤ گے

وَّ فُتِحَتِ السَّمَآءُ فَكَانَتْ اَبْوَابًاۙ Open ayah 78:19 in the Quran reader

اور آسمان کھول دیا جائے گا۔ حتی کہ وہ دروازوں کی شکل اختیار کر جائے گا

وَّ سُیِّرَتِ الْجِبَالُ فَكَانَتْ سَرَابًاؕ Open ayah 78:20 in the Quran reader

اور پہاڑ چلائے جائیں یہاں تک کہ وہ سراب بن جائیں گے

اِنَّ جَهَنَّمَ كَانَتْ مِرْصَادًا۪ۙ Open ayah 78:21 in the Quran reader

درحقیقت جہنم ایک گھات ہے

لِّلطَّاغِیْنَ مَاٰبًاۙ Open ayah 78:22 in the Quran reader

سرکشوں کا ٹھکانا ہے

لّٰبِثِیْنَ فِیْهَاۤ اَحْقَابًاۚ Open ayah 78:23 in the Quran reader

جس میں وہ مدتوں پڑے رہیں گے

لَا یَذُوْقُوْنَ فِیْهَا بَرْدًا وَّ لَا شَرَابًاۙ Open ayah 78:24 in the Quran reader

اس میں کوئی ٹھنڈک اور پینے کی چیز لطف کے قابل نہیں چکھیں گے

اِلَّا حَمِیْمًا وَّ غَسَّاقًاۙ Open ayah 78:25 in the Quran reader

انہیں ملے گا تو بس کھولتا ہوا پانی اور زخموں کی پیپ پوری پوری سزا

جَزَآءً وِّفَاقًاؕ Open ayah 78:26 in the Quran reader

وہ کسی حساب کی توقع نہیں رکھتے تھے

اِنَّهُمْ كَانُوْا لَا یَرْجُوْنَ حِسَابًاۙ Open ayah 78:27 in the Quran reader

انہوں نے ہماری آیات کو بالکل جھٹلا دیا تھا

وَّ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا كِذَّابًاؕ Open ayah 78:28 in the Quran reader

حالانکھ ہم نے ہر چیز کو لکھ رکھا ہے

وَ كُلَّ شَیْءٍ اَحْصَیْنٰهُ كِتٰبًاۙ Open ayah 78:29 in the Quran reader

اب چکھو مزہ ہم تمہارے لیے عذاب کے سوا کسی چیز میں بالکل اضافہ نہیں کریں گے

فَذُوْقُوْا فَلَنْ نَّزِیْدَكُمْ اِلَّا عَذَابًا۠ Open ayah 78:30 in the Quran reader

اب چکھو مزہ ہم تمہارے لیے عذاب کے سوا کسی چیز میں بالکل اضافہ نہیں کریں گے

فہم القرآن ربط کلام : اللہ تعالیٰ کی عظیم تخلیقات کے مزید دلائل۔ اللہ تعالیٰ کی بےمثال تخلیقات میں آسمان بھی اس کی تخلیق کا عظیم شاہکار ہے جسے بغیر ستونوں کے کھڑا کیا گیا ہے اس کے حسن و کمال کے بارے میں ارشاد ہے : ” جس نے اوپر نیچے سات آسمان بنائے، تم رحمٰن کی تخلیق میں کسی قسم کا خلل نہیں پاؤ گے پھر پلٹ کر دیکھو کہیں تمہیں خلل نظر آتا ہے ؟ بار بار نظر دوڑاؤ تمہاری نظر تھک کر واپس پلٹ آئے گی۔ ہم نے آسمان دنیا کو عظیم الشان چراغوں سے آراستہ کیا ہے اور انہیں شیاطین کو مار بھگانے کا ذریعہ بنایا ہے شیطانوں کے لیے ہم نے بھڑکتی ہوئی آگ تیار کر رکھی ہے۔ “ (الملک : 3 تا 5) آسمان کے نیچے اور زمین کے اوپر کے حصے کو روشن رکھنے کے لیے چمکتا ہوا سورج بنایا۔ اس کے متعلق ارشاد ہوا ہے کہ یہ چمکنے اور بھڑکنے والا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے سورج کو زمین سے ایک خاص فاصلے پر رکھا ہے۔ سورج میں اس قدر حرارت اور حِدّت ہے کہ اگر یہ اپنے مدار سے چند میل نیچے آجائے تو ہر چیز تباہ ہو کر رہ جائے۔ یہ اللہ کی قدرت کا عظیم مظہر ہے کہ سورج کو ایک مقررہ فاصلے پر رکھا اور اس میں اتنی روشنی اور تپش پیدا کی ہے کہ جس سے نہ فضا میں رہنے والی مخلوق جلتی ہے اور نہ ہی نباتات کو کوئی نقصان پہنچتا ہے اگر سورج زمین کو خاص مقدار میں روشنی اور حرارت نہ دے تو نہ فصلیں پک سکتی ہیں اور نہ ہی پھلوں میں مٹھاس پیدا ہوگی۔ یہ سورج کی تپش کا نتیجہ ہے سمندر سے بخارات اٹھتے ہیں اور پھر بادل بن کر زمین پر برستے ہیں۔ ” اَلْمُعْصِرَاتِ “ کا معنٰی پانی، نچوڑنے والے بادل اور ” ثَجَّاجاً “ کا معنٰی بہت برسنے والی بارش۔ اگر ایک مدت تک بارش کا سلسلہ بند ہوجائے تو ہر جاندار کی خوراک ختم ہوجائے یہ اللہ تعالیٰ کی قدرت اور رحمت کا ثمرہ ہے کہ وہ بارش برسا کر اناج، سبزیاں اور باغات سے پھل پیدا کرتا ہے۔ آسمان اور سورج ایسی چیزیں ہیں جن کے بارے میں انسان گمان کرتا ہے کہ یہ ہمیشہ رہیں گے حالانکہ جب قیامت برپا ہوگی تو ہر چیز فنا کے گھاٹ اتر جائے گی ان کے فنا ہونے کا وقت مقرر ہے۔ اس دن صور پھونکا جائے گا تو لوگ فوج در فوج زمین سے نکل کھڑے ہوں گے، قیامت کے دن آسمان کے بندھن کھول دیئے جائیں گے۔ پہلے مرحلے میں آسمان دروازوں کی شکل اختیار کر جائے گا اور پھر ٹکڑے ٹکڑے ہو کر گرپڑے گا۔ پہاڑ بھی ٹکڑے ٹکڑے ہو کر ریت کی صورت اختیار کرجائیں گے۔ ان آیات میں پہلی اور دوسری مرتبہ صور پھونکنے کے نتیجے میں پیدا ہونے والی صورت حال کا مختصر ذکر فرما کر قیامت کے دو مناظر پیش کیے ہیں۔ جس کا اختصار یہ ہے کہ اسرافیل کے پہلی مرتبہ صور پھونکنے سے ہر چیز تباہ ہوجائے گی اور دوسری مرتبہ صور پھونکنے سے انسان اپنے اپنے مرقد سے نکل کر گروہ درگروہ محشر کے میدان میں حاضر ہوجائیں گے۔ اس وقت حساب و کتاب ہوگا اور جو لوگ قیامت کو جھٹلاتے ہیں انہیں کہا جائے گا کہ کیا تم وہی لوگ ہو جو ہمارے فرمودات کو جھٹلایا کرتے تھے، تم سمجھتے تھے کہ تمہارا حساب و کتاب رکھنے والا کوئی نہیں ہے حالانکہ ہم نے ہر چیز کا ایک کتاب میں ا ندراج کر رکھا ہے۔ ایسے لوگوں کے لیے جہنم گھات لگائے ہوئے ہے جو نافرمانوں کا ٹھکانہ ہے وہ اس میں مدت مدید تک پڑے رہیں گے اس میں نہ سکون پائیں گے اور نہ ہی پینے کے لیے کوئی ٹھنڈا مشروب ہوگا۔ سوائے اس کے کہ انہیں پینے کے لیے کھولتا ہوا پانی اور جہنم کی پیپ دی جائے گی یہ سزا ان کے اعمال کا نتیجہ ہوگی اس لیے انہیں کہا جائے گا کہ اب تم ہمیشہ کے لیے صرف عذاب ہی عذاب پاؤ گے۔ مسائل 1۔ اللہ تعالیٰ نے لوگوں کے اوپر سات آسمان بنائے ہیں۔ 2۔ اللہ تعالیٰ نے زمین و آسمان کے درمیان چمکتا اور بھڑکتا ہوا سورج بنایا ہے۔ 3۔ اللہ تعالیٰ ہی بادلوں سے بارش نازل کرتا ہے اور بارش سے دانے، سبزیاں اور پھل پیدا کرتا ہے۔ 4۔ قیامت کا ایک دن اور وقت مقر رہے۔ 5۔ قیامت کے دن پہلی دفعہ صورپھونکنے سے آسمان دروازوں کی شکل اختیار کرجائے گا اور پہاڑ بالآخر بکھری ہوئی ریت کی طرح ہوجائیں گے۔ 6۔ قیامت کے دن دوسری مرتبہ صورپھونکنے سے لوگ اپنی اپنی جگہوں سے اٹھ کر فوج درفوج محشر کے میدان میں جمع ہوجائیں گے۔ 7۔ اللہ کے نافرمانوں کے لیے جہنم گھات لگائے ہوئے ہے جو ان کے رہنے کی بدترین جگہ ہے۔ 8۔ جہنم میں نہ سایہ ہوگا اور نہ ہی پینے کے لیے ٹھنڈا پانی۔ 9۔ جہنم کو کھولتا ہوا پانی اور ان کے زخموں کی پیپ پلائی جائے گی۔ 10۔ جہنمی کو اس یے جہنم میں جھونکا جائے گا کیونکہ وہ قیامت اور حساب و کتاب کا انکار کیا کرتے تھے۔ 11۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے پاس لوح محفوظ میں ہر چیز کا اندراج کر رکھا ہے۔
Ayahs 78:31–36

اِنَّ لِلْمُتَّقِیْنَ مَفَازًاۙ Open ayah 78:31 in the Quran reader

یقیناً متقیوں کے لیے کامیابی ہے

حَدَآئِقَ وَ اَعْنَابًاۙ Open ayah 78:32 in the Quran reader

باغ اور انگور ہیں

وَّ كَوَاعِبَ اَتْرَابًاۙ Open ayah 78:33 in the Quran reader

اور نوخیز ہم عمر بیویاں ہیں

وَّ كَاْسًا دِهَاقًاؕ Open ayah 78:34 in the Quran reader

اور چھلکتے ہوئے جام ہیں

لَا یَسْمَعُوْنَ فِیْهَا لَغْوًا وَّ لَا كِذّٰبًاۚ Open ayah 78:35 in the Quran reader

وہاں لغو اور جھوٹی بات نہیں سنیں گے

جَزَآءً مِّنْ رَّبِّكَ عَطَآءً حِسَابًاۙ Open ayah 78:36 in the Quran reader

تمہارے رب کی طرف سے جزاء اور انعام ہوگا جو اعمال کے مطابق دیا جائے گا

فہم القرآن ربط کلام : جہنم کی سزاؤں کے مقابلے میں جنت کے انعامات۔ جب محشر کے میدان میں لوگوں کے درمیان فیصلہ ہوجائے گا تو جہنمی کو جہنم کی طرف جانے کا حکم ہوگا اور جنتی کو جنت میں داخلے کی اجازت عطا فرمائی جائے گی۔ جونہی جنتی جنت کی طرف قدم اٹھائیں گے تو یہ اعلان ہوگا کہ اے خوش نصیبو ! تم اس جنت میں داخل ہوجاؤ جس میں تمہیں نہ کوئی خوف ہوگا اور نہ ہی پریشانی، یہ ہے وہ کامیابی جس کے حصول کے لیے تم دنیا میں کوشش کیا کرتے تھے۔ جس جنت میں تمہیں داخلہ دیا جارہا ہے اس میں بڑے بڑے باغات ہیں جن میں انگور اور ہر قسم کے پھل موجود ہیں۔ وہاں جنتی مردوں کے لیے ان کی ہم عمر اور نہایت جوان خوبصورت حوریں ہوں گی۔ جنتی میں جنت نہ کوئی بےہودہ بات سنیں گے اور نہ ہی کوئی جھوٹ۔ یہاں جنت کے لیے ” مَفَازاً “ کا لفظ استعمال کیا گیا ہے۔ جس کا معنٰی کامیابی حاصل کرنا اور ہر قسم کی پریشانی سے نجات پانا ہے۔ جنتی نہ صرف دنیا کے غموں اور پریشانیوں سے نجات پائیں گے بلکہ جہنم کی ہولناکیوں سے بھی بچالیے جائیں گے یہ آپ کے رب کی طرف سے بدلہ ہے جو نیک لوگوں کو ان کے اعمال کے مطابق ملے گا۔ جنت میں ہر قسم کی نعمت اور آزادی ہوگی لیکن اس میں کسی قسم کی بےہودگی نہیں پائی جائے گی۔ (کُلُّ نَفْسٍ ذَآءِقَۃُ الْمَوْتِ وَ اِنَّمَا تُوَفَّوْنَ اُجُوْرَکُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ فَمَنْ زُحْزِحَ عَنِ النَّارِ وَ اُدْخِلَ الْجَنَّۃَ فَقَدْ فَازَ وَ مَا الْحَیٰوۃُ الدُّنْیَآ اِلَّا مَتَاعُ الْغُرُوْرِ ) (آل عمران : 185) ” ہر جان موت کا مزہ چکھنے والی ہے اور قیامت کے دن تم پوری پوری جزا دیے جاؤ گے۔ جو شخص آگ سے بچا لیا گیا اور جنت میں داخل کردیا گیا یقیناً وہ کامیاب ہوگیا اور دنیا کی زندگی تو صرف دھوکے کا سامان ہے۔ “ (وَلَوْ اَنَّ اِمْرَاَۃً مِّنْ نِّسَآءِ أَھْلِ الْجَنَّۃِ اطَّلَعَتْ اِلَی الْاَرْضِ لَاَضَآءَ تْ مَا بَیْنَھُمَا وَلَمَلَاَتْ مَا بَیْنَھُمَا رِیْحًا وَلَنَصِیْفُھَا یَعْنِی الْخِمَارَ خَیْرٌ مِّنَ الدُّنْیَا وَمَا فِیْھَا) (رواہ البخاری : کتاب الرقاق، باب صفۃ الجنۃ والنار ) ” اگر اہل کی عورتوں سے کوئی عورت زمین کی طرف جھانک لے تو مشرق و مغرب اور جو کچھ اس میں ہے روشن اور معطر ہوجائے، نیز حور کے سر کا دوپٹہ دنیا اور جو کچھ دنیا میں ہے اس سے قیمتی ہے۔ “ (لَوْ أَنَّ امْرَأَۃً مِنْ أَہْلِ الْجَنَّۃِ اطَّلَعَتْ إِلَی أَہْلِ الأَرْضِ لأَضَاءَ تْ مَا بَیْنَہُمَا) (رواہ البخاری : کتاب الجہاد، باب الحور العین) ” اگر جنت کی حور آسمان سے نیچے جھانکے تو ہر چیز منور ہوجائے۔ “ مسائل 1۔ جنت میں جانے والے ہر لحاظ سے کامیاب ہوں گے۔ 2۔ جنت میں دوسرے باغات کے ساتھ انگوروں کے باغ بھی ہوں گے۔ 3۔ جنت میں جنتی کسی قسم کی جھوٹی اور بےہودہ بات نہیں سنیں گے۔ 4۔ جنتی کو ان کے رب کی طرف سے پورا پورا صلہ دیا جائے گا۔ تفسیر بالقرآن جنت کی نعمتوں کی ایک جھلک : 1۔ ہم نے اس میں کھجوروں، انگوروں کے باغ بنائے ہیں اور ان میں چشمے جاری کیے ہیں۔ (یٰس : 34) 2۔ یقیناً متقین باغات اور چشموں میں ہوں گے۔ (الذاریات : 15) 3۔ یقیناً متقی نعمتوں والی جنت میں ہوں گے۔ (الطور : 17) 4۔ جنتی کو شراب طہور دی جائے گی۔ (الدھر : 21) 5۔ جنتی میں جنت کو سونے اور لولو کے زیور پہنائے جائیں گے۔ (فاطر : 33) 6۔ جنت میں تمام پھل دو ، دو قسم کے ہوں گے۔ (الرحمن : 52) (الرحمن : 56) 7۔ جنتی سبز قالینوں اور مسندوں پر تکیہ لگا کر بیٹھے ہوں گے۔ (الرحمن : 76) 8۔ ہم ان کے دلوں سے کینہ نکال دیں گے اور سب ایک دوسرے کے سامنے تکیوں پر بیٹھے ہوں گے۔ انہیں کوئی تکلیف نہیں پہنچے گی اور نہ وہ اس سے نکالے جائیں گے۔ (الحجر : 47۔ 48) 9۔ حوریں نوجوان، کنواریاں اور ہم عمر ہوں گی۔ (الواقعہ : 25 تا 38) 10۔ یا قوت و مرجان کی مانند ہوں گی۔ (الرحمن : 58) 11۔ خوبصورت اور خوب سیرت ہوں گی۔ (الرحمن : 70) 12۔ خیموں میں چھپی ہوئی ہوں گی۔ (الرحمن : 72)
Ayahs 78:37–40

رَّبِّ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ مَا بَیْنَهُمَا الرَّحْمٰنِ لَا یَمْلِكُوْنَ مِنْهُ خِطَابًاۚ Open ayah 78:37 in the Quran reader

نہایت مہربان رب کی طرف سے جو زمین و آسمانوں کا اور ان کے درمیان کی ہر چیز کا مالک ہے جس کے سامنے کسی کو بولنے کی ہمت نہیں ہوگی

یَوْمَ یَقُوْمُ الرُّوْحُ وَ الْمَلٰٓئِكَةُ صَفًّا١ۙۗؕ لَّا یَتَكَلَّمُوْنَ اِلَّا مَنْ اَذِنَ لَهُ الرَّحْمٰنُ وَ قَالَ صَوَابًا Open ayah 78:38 in the Quran reader

جس دن جبریل اور ملائکہ قطار اندر قطار کھڑے ہوں گے کوئی بھی بات نہیں کر پائے گا سوائے اس کے جسے رحمن اجازت دے گا اور وہ صحیح بات کرے گا

ذٰلِكَ الْیَوْمُ الْحَقُّ١ۚ فَمَنْ شَآءَ اتَّخَذَ اِلٰى رَبِّهٖ مَاٰبًا Open ayah 78:39 in the Quran reader

وہ دن برحق ہے جس کا جی چاہے اپنے رب کی طرف پلٹنے کا راستہ اختیار کرلے

اِنَّاۤ اَنْذَرْنٰكُمْ عَذَابًا قَرِیْبًا١ۖۚ۬ یَّوْمَ یَنْظُرُ الْمَرْءُ مَا قَدَّمَتْ یَدٰهُ وَ یَقُوْلُ الْكٰفِرُ یٰلَیْتَنِیْ كُنْتُ تُرٰبًا۠ Open ayah 78:40 in the Quran reader

ہم نے تمہیں اس عذاب سے ڈرادیا ہے جو قریب آچکا ہے جس دن آدمی سب کچھ دیکھ لے گا جو اس کے ہاتھوں نے آگے بھیجا ہے اور کافر پکار اٹھے گا کہ کاش میں مٹی بنا رہتا

فہم القرآن ربط کلام : جہنمی کے عقیدے کی تمیز۔ جہنم میں جانے والوں کے جرائم میں ایک جرم یہ ہوگا کہ وہ دنیا میں یہ عقیدہ رکھتے تھے کہ قیامت کے دن ان کے پیر، فقیر اور معبود انہیں اللہ تعالیٰ کی گرفت سے بچالیں گے لیکن وہاں صورت حال یہ ہوگی کہ کسی کو رب ذوالجلال کی گرفت سے بچانا تو درکنار کوئی اس کے سامنے بات کرنے کی جرأت نہیں کرسکے گا کیونکہ وہی زمین و آسمانوں اور جو کچھ ان کے درمیان ہے ان کا پیدا کرنے والا اور مالک ہے۔ دنیا میں اس نے ہر انسان کو ایک حد تک اپنی مرضی کرنے کی اجازت دے رکھی ہے لیکن قیامت کے دن اس کے سا منے کوئی دم نہیں مار سکے گا۔ اس دن حالت یہ ہوگی کہ جبریل امین اور تمام ملائکہ اپنے رب کے حضور قطار اندر قطار کھڑے ہوں گے، کوئی فرشتہ ہو یا انسان گنہگار ہو یا پاکباز، ولی ہو یا نبی کوئی بھی رب ذوالجلال کی اجازت کے بغیر بات کرنے کی جرأت نہیں پائے گا۔ اس کے حضور وہی بات کرسکے گا جسے وہ اجازت عطا فرمائے گا اور جسے اجازت دی جائے گی وہ وہی بات اور الفاظ استعمال کرے گا جو صحیح ہوں گے، اس دن کا آنا اور قیامت کا قائم ہونا برحق ہے۔ اللہ تعالیٰ نے لوگوں کو بتلا دیا ہے کہ وہ دن اور اس کا عذاب دور نہیں بلکہ بالکل قریب ہے اب جس کا دل چاہے وہ اپنے رب کی طرف واپس جانے کا صحیح راستہ اختیار کرلے اور جو چاہے اپنی مرضی کرتا رہے۔ جس نے اپنی مرضی کا راستہ اختیار کیا وہ کہے گا کہ کاش ! میں مٹی کے ساتھ مٹی ہوجاؤں۔ ” ہم نے تمہیں اس عذاب سے ڈرادیا ہے جو قریب آچکا ہے جس دن آدمی سب کچھ دیکھ لے گا جو اس کے ہاتھوں نے آگے بھیجا ہے اور کافر پکار اٹھے گا کہ کاش میں مٹی بنا رہتا۔ “ (النبا : 40) (عَنْ اَبِی ھُرَیْرَۃَ ؓ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ لَتُؤَدُّنَّ الْحُقُوْقَ إِلٰی أَھْلِھَا یَوْمَ الْقِیَامَۃِ حَتّٰی یُقَاد للشَّاۃِ الْجَلْحَاءِ مِنَ الشَّاۃِ الْقَرْنَاءِ ) (رواہ مسلم : کتاب البروالصلۃ، باب تحریم الظلم) ” حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول معظم ﷺ نے فرمایا : تمہیں قیامت کے دن لوگوں کے حقوق ان کے مالکوں کو ادا کرنا پڑیں گے، یہاں تک کہ جس بکری کے سینگ نہیں ہیں اس کو سینگ والی بکری سے بدلہ دلایا جائے گا۔ “ مسائل 1۔ قیامت کے دن جبریل امین اور تمام ملائکہ قطار اندر قطار کھڑے ہوں گے۔ 2۔ قیامت کے دن الرحمن کی اجازت کے بغیر کوئی بات نہیں کرسکے گا۔ 3۔ قیامت کے دن جسے بات کرنے کی اجازت ہوگی وہ صحیح بات کرئے گا۔ 4۔ قیامت کا دن ہر صورت برپا ہو کر رہے گا اس کے برپا ہونے میں کوئی شک نہیں۔ 5۔ قیامت کے دن ہر شخص اپنے اعمال کو اپنے سامنے پائے گا۔ 6۔ قیامت کے دن کافر اس بات کی تمنا کرے گا کہ کاش ! میں مٹی کے ساتھ مٹی بنا رہتا۔ 7۔ اللہ تعالیٰ نے قیامت کے قائم ہونے کے ٹھوس دلائل دیئے ہیں۔ تفسیر بالقرآن قیامت کے دن کوئی شخص رب رحمن کی اجازت کے بغیر بات نہیں کرسکے گا : 1۔ کون ہے جو اس کے حکم کے بغیر سفارش کرے۔ (البقرۃ : 255) 2۔ قیامت کے دن سفارشی کسی کو فائدہ یا نقصان نہیں دیں گے۔ (یونس : 18) 3۔ سفارش بھی اللہ تعالیٰ کی مرضی کے مطابق ہوگی۔ (الانبیاء : 38) (المدثر : 38)