77. Surah Al-Mursalaat

المرسلاتThe Emissaries · 50 ayahsفہم القرآن

تعارف

تعارف

سورة المرسلات کا تعارف اس سورت کا پہلا لفظ ہی اس کا نام قرار پایا ہے اس کی پچاس آیات ہیں جو دو رکوع پر مشتمل ہیں، یہ سورت مکہ معظمہ میں نازل ہوئی اللہ تعالیٰ نے اس کی ابتداء میں ہوا کے متعلق پانچ قسمیں اٹھا کر فرمایا ہے کہ جس قیامت کا تمہیں وعدہ دیا جاتا ہے وہ ہر صورت برپا ہو کر رہے گی۔ اس کی ابتداء اس طرح ہوگی کہ ستارے بےنور ہوجائیں گے، آسمان پھاڑ دیا جائے گا، پہاڑ دھنی ہوئی روئی کی طرح اڑنے لگیں گے۔ انبیاء کو حاضری کا وقت دیا جائے گا اور اس دن فیصلے کیے جائیں گے۔ جھٹلانے والوں کے لیے یہ دن بڑا سخت ہوگا جو لوگ قیامت کو اس لیے جھٹلاتے ہیں کہ ان کے خیال میں انسان کو دوبارہ پیدا کرنا مشکل ہے کیا یہ غور نہیں کرتے کہ ہم نے انسان کو ایک حقیر پانی سے پیدا کیا ہے اور اسے ایک مقررہ مدّت تک ایک محفوظ مقام پر ٹھرائے رکھا۔ ہم نے زمین کو پیدا کیا اور پھر اس پر بلند وبالا پہاڑ گاڑ دئیے اور تمہارے لیے میٹھے پانی کا بندوبست کیا لیکن پھر بھی لوگ یہ خیال کرتے ہیں کہ ہم انہیں پیدا نہیں کرسکتے اور نہ ہی قیامت برپا ہوگی۔ جو لوگ قیامت کا انکار کرتے ہیں انہیں یاد ہونا چاہیے کہ ایک وقت ایسا آئے گا کہ جب انہیں حکم ہوگا کہ چلو اس کی طرف جیسے تم جھٹلایا کرتے تھے اور چلو اس سائے کی طرف جو تین شاخوں والا ہے اس میں ذرہ برابر ٹھنڈک ہے اور نہ یہ آگ کی شدت سے بچانے والا ہے۔ اس دن مجرم اپنے رب کے حضور معذرت کریں گے لیکن انہیں حکم ہوگا کہ آج کوئی معذرت قبول نہیں ہوگی۔ اس دن کو جھٹلانے والوں کے لیے بڑی ہلاکت ہوگی۔ انہیں بتلایا جائے گا کہ یہ وہی دن ہے جس دن جمع ہونے کا تم انکار کرتے تھے۔ ان کے مقابلے میں جو لوگ قیامت پر یقین رکھتے ہیں اور ” اللہ “ اور اس کے رسول کی نافرمانی سے بچ کر زندگی بسر کرتے ہیں یہ گھنے سائے اور جنت کے چشموں میں ہوں گے جو چاہیں گے وہی پھل پائیں گے اور انہیں حکم ہوگا کھاؤ اور مزے کرو کیونکہ ہم نیکی کرنے والوں کو اس طرح جزا دیتے ہیں۔

Ayahs 77:1–6

وَ الْمُرْسَلٰتِ عُرْفًاۙ Open ayah 77:1 in the Quran reader

قسم ہے ان ہواؤں کی جو پے در پے بھیجی جاتی ہیں

فَالْعٰصِفٰتِ عَصْفًاۙ Open ayah 77:2 in the Quran reader

پھر طوفانی رفتار اختیار کرتی ہیں

وَّ النّٰشِرٰتِ نَشْرًاۙ Open ayah 77:3 in the Quran reader

اور بادلوں کو پھیلاتی ہیں

فَالْفٰرِقٰتِ فَرْقًاۙ Open ayah 77:4 in the Quran reader

پھر ان کو پھاڑ کر الگ، الگ کرتی ہیں

فَالْمُلْقِیٰتِ ذِكْرًاۙ Open ayah 77:5 in the Quran reader

پھر دلوں کو ” اللہ “ کی یاد دلاتی ہیں

عُذْرًا اَوْ نُذْرًاۙ Open ayah 77:6 in the Quran reader

عذر یا ڈر اوے کے طور پر

فہم القرآن ربط سورت : الدّہر کے آخر میں یہ ذکر ہوا ہے کہ انسان اپنی عجلت کی وجہ سے آخرت کے مقابلے میں دنیا کو ترجیح دیتا ہے اور آخرت کو فراموش کرتا ہے حالانکہ آخرت کی زندگی ہمیشہ ہمیش رہنے والی ہے۔ سورة المرسَلٰت کی ابتداء میں آخرت کے ابتدائی مراحل کا ذکر گیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی قدرت کی نشانیوں اور نعمتوں میں ہوا بھی اس کی عظیم نعمت اور اس کی قدرت کی زبردست نشانی ہے جو انسان اور ہر جاندار کے لیے اس قدر ناگزیر ہے کہ اس کے بغیر انسان اور ہر جاندار چند لمحوں کا مہمان ہوتا ہے۔ عام لوگ ہوا کو ایک جیسی جانتے اور دیکھتے ہیں۔ بیشک اپنی جنس میں ہوا ایک ہے لیکن اپنی کیفیت اور اثرات کے اعتبار سے ہوا کی کئی اقسام ہیں یہاں اس کی پانچ اقسام ذکر کی گئی ہیں یہ اپنے اپنے اثرات اور حیثیت کے اعتبار سے اتنی مؤثر ہیں کہ سینکڑوں میلوں پر محیط فضا اور موسم کو یکدم بدل کر رکھ دیتی ہیں۔ کیونکہ فضا کو بدلنے میں ہوا بہت اہم کردار ادا کرتی ہے۔ اس لیے ہوا کے اثرات اور کیفیت کو اجاگر کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے اس کی الگ الگ کیفیت کا نام لے کر قسمیں اٹھائی ہیں تاکہ انسان کو اس بات کا احساس ہوجائے کہ جس ہوا اور فضا میں رہتا ہے وہ رب کی عظیم نعمت اور اس کی قدرت کی نشانیوں میں سے ایک بہت بڑی نشانی ہے اس لیے اس کی یوں قسمیں اٹھائی ہیں۔ قسم ہے ان ہواؤں کی جو مسلسل چلی جارہی ہیں، قسم ہے ان ہواؤں کی جو طوفان کی شکل اختیار کرتی ہیں، قسم ہے ان ہواؤں کی جو بادلوں کو فضا میں پھیلاتی ہیں، قسم ہے ان ہواؤں کی جو بھاری بھرکم بادلوں کو پھاڑ کر ٹکڑیوں میں تبدیل کردیتی ہیں، قسم ہے ان ہواؤں کی جو اپنی طوفانی کیفیت سے لوگوں کے دلوں میں اللہ کا خوف اور اس کی یاد پیدا کرتی ہیں۔ جیسا کہ گرمیوں میں ٹھنڈی ہوا لوگوں کے دلوں میں بارش کی طلب پیدا کرتی ہے اور آندھی کے منفی اثرات سے بچنے کے لیے لوگ اپنے رب کی پناہ مانگتے ہیں۔ موجودہ سائنس نے ہوا کے فوائد کو بہت حد تک اجاگر کردیا ہے، اس کے لیے سائنسدان بڑی محنت اور طویل تحقیق کا سفر طے کر کے اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ ہوا کے ذریعے نر پودے کے اثرات مادہ پودوں تک پہنچتے ہیں اور ہوا کے سبب ہی ایک آدمی کی آواز ٹیوی اور ریڈیو کے ذریعے سینکڑوں میلوں تک سنائی دیتی ہے۔ تجربات کے ذریعے یہ حقیقت بھی واضح ہوگئی ہے کہ مختلف ہو ائیں اپنے اندر مختلف اثرات رکھتی ہیں، یہ بات بھی روز روشن کی طرح واضح ہے کہ مختلف علاقوں کی ہواؤں میں مدّت اور نمی کا تناسب بھی مختلف ہوتا ہے یہاں تک ہوا کی طاقت کا معاملہ ہے۔ اگر ہوا آندھی کی شکل اختیار کرجائے تو بڑے بڑے درخت اور مکانوں کو اڑا کر رکھ دیتی ہے، اگر ہوا ایک حد سے زیادہ تیز اور مسلسل چلے تو انسان کو سانس لینا بھی مشکل ہوجاتا ہے۔ بعض اہل تفسیر نے اس سورت کی ابتدائی پانچ آیات کی یہ تفسیر بھی کی ہے۔ ان الفاظ میں صرف صفات بیان کی گئی ہیں، یہ صراحت نہیں کی گئی کہ یہ کس چیز یا کن چیزوں کی صفات ہیں اس لیے مفسرین کے درمیان اس بات میں اختلاف ہے کہ آیا یہ پانچوں صفات ایک ہی چیز کی ہیں یا الگ الگ چیزوں کی ہیں اور یہ چیزیں کیا ہیں، ایک گروہ کہتا ہے کہ پانچوں سے مراد ہوائیں ہیں، دوسرا فریق کہتا ہے کہ پانچوں سے مراد فرشتے ہیں، تیسرا کہتا ہے کہ پہلے تین سے مراد ہوائیں ہیں اور باقی دو سے مراد فرشتے ہیں، چوتھی جماعت کہتی ہے کہ پہلی دو سے مراد ہوائیں اور باقی تین سے مراد فرشتے ہیں اور ایک گروہ کی رائے یہ بھی ہے کہ پہلے سے مراد عام ملائکہ اور دوسرے سے مراد عذاب کے ملائکہ اور باقی تین سے مراد قرآن مجید کی آیات ہیں۔ (تفہیم القرآن جلد 6) (عَنْ عَآءِشَۃَ ؓ قَالَتْ مَا رَاَےْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ ضَاحِکًا حَتّٰی اَرٰی مِنْہُ لَھَوَاتِہٖ اِنَّمَا کَانَ ےَتَبَسَّمُ فَکَانَ اِذَا رَاٰی غَےْمًا اَوْ رِےْحًا عُرِفَ فِیْ وَجْھِہٖ ۔ ) (رواہ البخاری : باب (فَلَمَّا رَأَوْہُ عَارِضًا مُسْتَقْبِلَ أَوْدِیَتِہِمْ قَالُوا ہَذَا عَارِضٌ مُمْطِرُنَا بَلْ ہُوَ مَا اسْتَعْجَلْتُمْ بِہِ ریحٌ فیہَا عَذَابٌ أَلِیمٌ) ” حضرت عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں کہ میں نے رسول محترم ﷺ کو کبھی کھل کھلا کر ہنستے نہیں دیکھا۔ آپ ﷺ اکثر مسکرایا کرتے تھے۔ آندھی یا بارش کے وقت خوف کے اثرات آپ کے چہرے پر نمایاں ہوتے تھے۔ “ مسائل 1۔ اللہ تعالیٰ نے ہوا کی کئی اقسام بنائی ہیں۔ 2۔ دنیا کے مختلف خطوں میں ہوا کے مختلف اثرات اور کیفیت ہوتی ہے۔
Ayahs 77:7–19

اِنَّمَا تُوْعَدُوْنَ لَوَاقِعٌؕ Open ayah 77:7 in the Quran reader

جس چیز کا تم سے وعدہ کیا جا رہا ہے وہ ضرور واقع ہونے والی ہے

فَاِذَا النُّجُوْمُ طُمِسَتْۙ Open ayah 77:8 in the Quran reader

جب ستارے ماند پڑجائیں گے

وَ اِذَا السَّمَآءُ فُرِجَتْۙ Open ayah 77:9 in the Quran reader

اور آسمان پھاڑ دیا جائے گا

وَ اِذَا الْجِبَالُ نُسِفَتْۙ Open ayah 77:10 in the Quran reader

اور پہاڑ اڑا دئیے جائیں گے

وَ اِذَا الرُّسُلُ اُقِّتَتْؕ Open ayah 77:11 in the Quran reader

اور رسولوں کو وقت دیا جائے گا

لِاَیِّ یَوْمٍ اُجِّلَتْؕ Open ayah 77:12 in the Quran reader

کس دن کے لیے یہ کام اٹھا رکھا گیا ہے ؟

لِیَوْمِ الْفَصْلِۚ Open ayah 77:13 in the Quran reader

وہ فیصلے کا دن ہے

وَ مَاۤ اَدْرٰىكَ مَا یَوْمُ الْفَصْلِؕ Open ayah 77:14 in the Quran reader

اور آپ کو کیا خبر کہ فیصلے کا دن کیا ہے ؟

وَیْلٌ یَّوْمَئِذٍ لِّلْمُكَذِّبِیْنَ Open ayah 77:15 in the Quran reader

اس دن جھٹلانے والوں کے لیے تباہی ہے

اَلَمْ نُهْلِكِ الْاَوَّلِیْنَؕ Open ayah 77:16 in the Quran reader

کیا ہم نے اگلوں کو ہلاک نہیں کیا ؟

ثُمَّ نُتْبِعُهُمُ الْاٰخِرِیْنَ Open ayah 77:17 in the Quran reader

پھر انہی کے پیچھے ہم بعد والوں کو بھی ہلاک کردیں گے

كَذٰلِكَ نَفْعَلُ بِالْمُجْرِمِیْنَ Open ayah 77:18 in the Quran reader

مجرموں کے ساتھ ہم یہی کیا کرتے ہیں

وَیْلٌ یَّوْمَئِذٍ لِّلْمُكَذِّبِیْنَ Open ayah 77:19 in the Quran reader

تباہی ہے اس دن جھٹلانے والوں کے لیے

فہم القرآن ربط کلام : اللہ تعالیٰ نے جس دن کی اہمیت اجاگر کرنے کے لیے پانچ قسمیں اٹھائی ہیں اس دن کی حالت یہ ہوگی۔ ہوا کی طاقت بیان کرنے کے بعد قیامت کا اس لیے ذکر کیا ہے کہ جس آندھی سے تم خوف زدہ ہوتے ہو وہ قیامت کے مقابلے میں کوئی حیثیت نہیں رکھتی۔ جو ہر صورت واقع ہو کر رہے گی۔ اس کا آغاز اس طرح خوفناک ہوگا کہ اس دن ستاروں کی روشنی ختم کردی جائے گی، آسمان پھاڑ دیا جائے گا، پہاڑ اڑا دیئے جائیں گے اور انبیائے کرام (علیہ السلام) کے لیے وقت مقرر کیا جائے گا۔ آپ کو کیا خبر ! کہ فیصلے کا دن کیسا ہوگا ؟ اس دن جھٹلانے والوں کے لیے تباہی اور بربادی ہوگی۔ قرآن مجید نے کئی مقامات پر بتلایا ہے کہ قیامت کا دن اپنی ہولناکیوں کے اعتبار سے اس قدر سخت ہوگا کہ جس کا کوئی شخص تصور بھی نہیں کرسکتا۔ اس دن کی ابتدا اس طرح ہوگی کہ ستارے بےنور اور بےثقل ہو کر گرپڑیں گے، آسمان کے بندھن ڈھیلے ہوجائیں گے اور اس میں جگہ جگہ دراڑھیں پیدا ہوجائیں اور بالآخر نیچے گرپڑے گا اسی طرح پہاڑ ٹکڑے ٹکڑے کر دئیے جائیں گے اور یہ ریت بن کر اڑنے لگیں گے۔ پھر ایک طویل مدت کے بعد جسے اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا، محشرکا میدان قائم ہوگا جس میں لوگوں کے درمیان فیصلے کیے جائیں گے، ہر نبی کو ایک وقت دیا جائے گا جس میں وہ اپنی امت کے ساتھ رب ذوالجلال کے سامنے پیش ہوگا۔ جن لوگوں نے اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کی اور قیامت کے دن کو جھٹلایا ان کے لیے اس دن کا ایک ایک لمحہ بھاری ہوگا۔ اس کے باوجود لوگ قیامت کو جھٹلاتے ہیں کیا انہیں معلوم نہیں کہ ہم نے ان سے پہلے لوگوں کو ہلاک کیا ؟ پھر ان لوگوں کو ہلاک کیا جو ان کے بعد آنے والے تھے جو ان کے فکرو عمل کی پیروی کرتے تھے۔ ظالموں کو معلوم ہونا چاہیے کہ ہم مجرموں کے ساتھ اس طرح ہی سلوک کیا کرتے ہیں یہ تو دنیا میں سزا تھی اور آخرت میں انہیں ان کے کیے کی پوری پو ری سزا دی جائے گی۔ (عَنِ الْمِقْدَادِ ؓ قَالَ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ یَقُوْلُ تُدْ نَیْ الشَّمْسُ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ مِنَ الْخَلْقِ حَتّٰی تَکُوْنَ مِنْھُمْ کَمِقْدَارِ مِیْلٍ فَیَکُوْنُ النَّا سُ عَلٰی قَدْرِ اَعْمَالِھِمْ فِیْ الْعََرَ قِ فَمِنْھُمْ مَنْ یَّکُوْنُ اِلٰی کَعْبَیْہِ وَمِنْھُمْ مَنْ یَّکُوْنُ اِلٰی رُکْبَتَیْہِ وَمِنْھُمْ مَنْ یَّکُوْنُ اِلٰی حَقْوَیْہِ وَمِنْھُمْ مَنْ یُّلْجِمُھُمُ الْعَرَقُ اِلْجَامًا وَاَشَارَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ بِیَدِہٖ اِلٰی فِیْہِ ) (رواہ مسلم : باب فِی صِفَۃِ یَوْمِ الْقِیَامَۃِ أَعَانَنَا اللَّہُ عَلَی أَہْوَالِہَا) ” حضرت مقداد ؓ بیان کرتے ہیں کہ میں نے سروردو عالم ﷺ کو فرماتے سنا آپ ﷺ فرما رہے تھے کہ قیامت کے دن سورج لوگوں سے ایک میل کی مسافت پر ہوگا لوگوں کا پسینہ ان کے اعمال کے مطابق ہوگا بعض لوگوں کے ٹخنوں تک ‘ بعض کے گھٹنوں تک بعض کی کمر تک اور بعض کے منہ تک پسینہ ہوگا یہ بیان کرتے ہوئے رسول معظم ﷺ نے منہ کی طرف اشارہ کیا۔ “ مسائل 1۔ قیامت کے دن ستارے گِر پڑیں گے، آسمان پھاڑ دئیے جائیں گے، اور پہاڑ اڑا دئیے جائیں گے۔ 2۔ محشر کے میدان میں ہر نبی مقررہ وقت پر اپنی امت کے ساتھ اپنے رب کے حضور پیش ہوگا۔ 3۔ قیامت کا دن تکذیب کرنے والوں کے لیے بڑا بھاری ہوگا۔ تفسیر بالقرآن قیامت کا دن نہایت ہی بھاری ہوگا : 1۔ قیامت زمین و آسمانوں پر بھاری ہوگی۔ (الاعراف : 187) 2۔ جب زمین کو پوری طرح ہلا دیا جائے گا۔ (الزلزال : 1) 3۔ لوگو ! اپنے رب سے ڈر جاؤ قیامت کا زلزلہ بہت سخت ہے۔ (الحج : 1) (القارعہ : 4)
Ayahs 77:20–28

اَلَمْ نَخْلُقْكُّمْ مِّنْ مَّآءٍ مَّهِیْنٍۙ Open ayah 77:20 in the Quran reader

کیا ہم نے تمہیں ایک حقیر پانی سے پیدا نہیں کیا ؟

فَجَعَلْنٰهُ فِیْ قَرَارٍ مَّكِیْنٍۙ Open ayah 77:21 in the Quran reader

پھر اسے محفوظ جگہ ٹھہرائے رکھا

اِلٰى قَدَرٍ مَّعْلُوْمٍۙ Open ayah 77:22 in the Quran reader

اور اسے مقررہ مدت تک وہاں رکھا

فَقَدَرْنَا١ۖۗ فَنِعْمَ الْقٰدِرُوْنَ Open ayah 77:23 in the Quran reader

ہم اس پر قادر ہیں پس ہم بہت اچھا اندازہ لگانے والے ہیں

وَیْلٌ یَّوْمَئِذٍ لِّلْمُكَذِّبِیْنَ Open ayah 77:24 in the Quran reader

تباہی ہے اس دن جھٹلانے والوں کے لیے

اَلَمْ نَجْعَلِ الْاَرْضَ كِفَاتًاۙ Open ayah 77:25 in the Quran reader

کیا ہم نے زمین کو سمیٹنے والی نہیں بنایا

اَحْیَآءً وَّ اَمْوَاتًاۙ Open ayah 77:26 in the Quran reader

زندوں کے لیے بھی اور مردوں کے لیے بھی

وَّ جَعَلْنَا فِیْهَا رَوَاسِیَ شٰمِخٰتٍ وَّ اَسْقَیْنٰكُمْ مَّآءً فُرَاتًاؕ Open ayah 77:27 in the Quran reader

اور اس میں بلند وبالا پہاڑ جمائے، اور تمہیں میٹھا پانی پلایا

وَیْلٌ یَّوْمَئِذٍ لِّلْمُكَذِّبِیْنَ Open ayah 77:28 in the Quran reader

تباہی ہے اس دن کو جھٹلانے والوں کے لیے

فہم القرآن ربط کلام : قیامت کا انکار کرنے والوں کو اپنی تخلیق پر غور کرنے کی دعوت۔ سور ۃ الدّھر کی ابتدائی آیات میں یہ بیان ہوا کہ کیا انسان کو معلوم نہیں کہ اس پر ایک ایسا زمانہ گزرا ہے کہ اس کا کائنات میں ذکر تک نہیں تھا۔ اب ارشاد فرمایا ہے کہ کیا لوگ اس بات پر غور نہیں کرتے کہ ہم نے انہیں ایک حقیر پانی سے پیدا کیا اور اپنی قدرت سے اسے ایک محفوظ مقام پر ٹھہرایا اور ہم پوری قدرت رکھنے والے ہیں یعنی انسان کی پوری زندگی اور اسے دوبارہ زندہ کرنے پھر اپنے حضور پیش کرنے پر قادر ہیں۔ گویا کہ انسان اپنے رب کے سامنے بےبس ہے نہ اپنی مرضی سے پیدا ہوتا ہے اور نہ اپنی مرضی سے جیتا اور مرتا ہے۔ لیکن اس کے باوجود انسان قیامت کے دن کا انکار کرتا ہے۔ تباہی ہے ان لوگوں کے لیے جو قیامت کے دن کو جھٹلاتے اور اس کا انکار کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے قیامت قائم کرنے کے بارے میں بہت سے دلائل دیئے ہیں ان میں ایک دلیل یہ ہے کہ انسان اپنی تخلیق پر غور کرے کہ اللہ تعالیٰ نے اسے پانی کی ایک حقیر بوند سے پیدا کیا ہے۔ بظاہر اس پانی کی بوند میں نہ زندگی کی رمق دکھائی دیتی ہے اور نہ ہی انسانی ڈھانچے کا وجود پایا جاتا ہے اس کے باوجود اس کی قدرت کا کرشمہ ہے کہ اس نے معمولی جرثومے کے اندر انسان کے وجود اور کردار کو چھپا رکھا ہے۔ غور کرو کہ جو ذات انسان کو عدم سے وجود میں لاتی ہے کیا وہ اس کے مرنے کے بعد اسے دوبارہ پیدا نہیں کرسکتی ؟ ظاہر ہے کہ وہ پیدا کرسکتا ہے اور کرے گا۔ اسی نے زمین کو اس قابل بنایا کہ وہ زندہ اور مردہ اور ہر چیز کو اپنے اندر سمیٹ لیتی ہے۔ اسی نے زمین میں بلندوبالا پہاڑ جمائے اور تمہارے لیے میٹھے پانی کا انتظام فرمایا۔ زمین کی خصوصیت بیان فرماکر یہ ثابت کیا ہے کہ جس زمین میں مدتوں پڑے ہوئے بیج اللہ کے حکم سے اگ آتے ہیں کیا اس خالق کے حکم سے قیامت کے دن مردے دوبارہ پیدا نہیں ہوسکتے ؟ پھر سوچو ! جس نے زمین پر بلندو بالا پہاڑ گاڑ دیئے ہیں اور وہی زمین اور پہاڑوں سے میٹھے چشمے جاری کرتا ہے کیا وہ انسان کو دوبارہ پیدا کرنے پر قادر نہیں ؟ زمین سے ہزارہا چیزیں نکلتی ہیں اور ہزاروں چیزیں اس میں دفن ہوتی ہیں، معلوم نہیں یہ عمل کب سے جاری ہے اور کب تک جاری رہے گا۔ جس ذات کے حکم سے یہ عمل جاری ہے اسی کے حکم سے قیامت قائم ہوگی اور زمین ہر چیز اگل دے گی بلکہ وہ سب کچھ بتائے گی جو انسان اس کے سینے پر کیا کرتا تھا لہٰذا جو لوگ قیامت کو جھٹلاتے ہیں ان کے لیے بڑی مصیبت اور بربادی ہے۔ ” جب زمین پوری شدت کے ساتھ ہلادی جائے گی اور زمین اپنے اندر کے بوجھ نکال کر باہر پھینک دے گی اور انسان کہے گا کہ اس کو کیا ہوگیا ہے ؟ اس دن وہ اپنے حالات بیان کرے گی کیونکہ آپ کے رب نے اسے ایسا کرنے کا حکم دیا ہوگا۔ “ (الزلزال : 1 تا 5) ” حضرت انس بن مالک ؓ سے روایت ہے وہ حدیث کو مرفوع بیان کرتے ہیں آپ ﷺ نے فرمایا : اللہ تعالیٰ نے رحم میں ایک فرشتہ مقرر کیا ہے وہ پوچھتا ہے اے میرے رب ! یہ نطفہ ہے اے میرے رب ! یہ گوشت کا لوتھڑا ہے آپ ﷺ نے فرمایا جب اللہ تعالیٰ کسی کی تخلیق کا فیصلہ فرماتا ہے تو فرشتہ کہتا ہے اے میرے رب مذکر یا مؤنث بدبخت یا خوش بخت اس کا رزق کتنا ہے اس کی عمر کتنی ہے اسی طرح اس کا نیک اور بد ہونا اس کی ماں کے پیٹ میں لکھ دیا جاتا ہے۔ “ (رواہ مسلم : باب کَیْفِیَّۃِ الْخَلْقِ الآدَمِیِّ فِی بَطْنِ أُمِّہِ وَکِتَابَۃِ رِزْقِہِ وَأَجَلِہِ وَعَمَلِہِ وَشَقَاوَتِہِ وَسَعَادَتِہِ ) مسائل 1۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو حقیر پانی سے پیدا کیا ہے۔ 2۔ اللہ ہی جرثومے رحم مادر میں ایک جگہ ایک مقررہ مدت تک ٹھہراتا ہے۔ 3۔ اللہ تعالیٰ ہر قسم کی قدرت رکھنے والا ہے۔ 4۔ قیامت کو جھٹلانے والوں کے لیے تباہی اور ہلاکت ہوگی۔ تفسیر بالقرآن تخلیق انسانی کے مختلف مراحل : (النحل : 4) (آل عمران : 59) (النساء : 1) (المومنون : 12) (الدھر : 2) (النساء : 1)
Ayahs 77:29–40

اِنْطَلِقُوْۤا اِلٰى مَا كُنْتُمْ بِهٖ تُكَذِّبُوْنَۚ Open ayah 77:29 in the Quran reader

چلواس کی طرف جسے تم جھٹلایا کرتے تھے

اِنْطَلِقُوْۤا اِلٰى ظِلٍّ ذِیْ ثَلٰثِ شُعَبٍۙ Open ayah 77:30 in the Quran reader

چلو اس سائے کی طرف جو تین شاخوں والا ہے

لَّا ظَلِیْلٍ وَّ لَا یُغْنِیْ مِنَ اللَّهَبِؕ Open ayah 77:31 in the Quran reader

نہ ٹھنڈک دینے والا ہے اور نہ آگ کی لپٹ سے بچانے والا ہے

اِنَّهَا تَرْمِیْ بِشَرَرٍ كَالْقَصْرِۚ Open ayah 77:32 in the Quran reader

وہ آگ کے بڑے بڑے محلات کی مانند انگارے پھینکے گی

كَاَنَّهٗ جِمٰلَتٌ صُفْرٌؕ Open ayah 77:33 in the Quran reader

گویا کہ وہ طاقتور اونٹ ہیں

وَیْلٌ یَّوْمَئِذٍ لِّلْمُكَذِّبِیْنَ Open ayah 77:34 in the Quran reader

تباہی ہے اس دن جھٹلانے والوں کے لیے

هٰذَا یَوْمُ لَا یَنْطِقُوْنَۙ Open ayah 77:35 in the Quran reader

یہ وہ دن ہے جس میں وہ کچھ نہیں بول سکیں گے

وَ لَا یُؤْذَنُ لَهُمْ فَیَعْتَذِرُوْنَ Open ayah 77:36 in the Quran reader

اور نہ انہیں موقع دیا جائے گا کہ کوئی عذر پیش کریں

وَیْلٌ یَّوْمَئِذٍ لِّلْمُكَذِّبِیْنَ Open ayah 77:37 in the Quran reader

تباہی ہے اس دن جھٹلانے والوں کے لیے

هٰذَا یَوْمُ الْفَصْلِ١ۚ جَمَعْنٰكُمْ وَ الْاَوَّلِیْنَ Open ayah 77:38 in the Quran reader

یہ فیصلے کا دین ہے ہم نے تمہیں اور تم سے پہلے گزرے ہوئے لوگوں کو جمع کردیا ہے

فَاِنْ كَانَ لَكُمْ كَیْدٌ فَكِیْدُوْنِ Open ayah 77:39 in the Quran reader

اب اگر کوئی چال تم چل سکتے ہو تو میرے مقابلہ میں چل کر دیکھو

وَیْلٌ یَّوْمَئِذٍ لِّلْمُكَذِّبِیْنَ۠ Open ayah 77:40 in the Quran reader

تباہی ہے اس دن جھٹلانے والوں کے لیے

فہم القرآن ربط کلام : جب لوگوں کو قبروں سے اٹھایا جائے گا اور حساب و کتاب ہوجائے گا تو مجرموں کو حکم ہوگا کہ اب اس کی طرف چلو جسے تم جھٹلایا کرتے تھے۔ چلو ! اس سائے کی طرف جو تین شاخوں والا ہے نہ ٹھنڈک دینے والا ہے اور نہ آگ سے بچانے والا ہے اس آگ سے محلات کی مانند بڑے بڑے انگارے اچھل رہے ہوں گے۔ دیکھنے میں یوں لگیں گے جیسے زرد رنگ کے اونٹ اچھل کود رہے ہوں۔ اس دن مجرم نہ بول سکیں گے اور نہ ہی انہیں اپنا عذر پیش کرنے کا موقع دیا جائے گا۔ اس دن تمام مجرموں کو جمع کرلیا جائے گا اور انہیں کہا جائے گا کہ اگر تم میرے مقابلے میں چال چل سکتے ہو تو چل کر دکھاؤ ! لیکن یہ جھٹلانے والوں کے لیے تباہی کا دن ہوگا۔ قرآن مجید نے کئی مقامات پر یہ حقیقت واضح کی ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کے حکم سے قیامت کے دوسرے مرحلے کے لیے دوسرا صور پھونکا جائے گا تو ہر انسان اپنی اپنی قبر سے اٹھ کر محشر کے میدان کی طرف چلنے لگے گا اور لوگوں کا حساب ہوگا۔ اس وقت آواز دینے والا مجرموں کو آواز دے گا کہ تم اس کی طرف چلو ! جس کو تم جھٹلایا کرتے تھے چلو ! اس سائے کی طرف جو تین شاخوں والا ہے نہ اس میں ٹھنڈک ہے اور نہ آگ سے بچانے والا ہے۔ اس مقام پر جہنم کی آگ کی یہ کیفیت بیان کی گئی ہے کہ اس آگ سے دھوئیں کے بڑے بڑے غول اٹھیں گے۔ جیسے کہ سرخ رنگ کے اونٹ اچھل کود رہے ہوں۔ محشر کی گرمی کے ستائے ہوئے مجرم دور سے سمجھیں گے کہ یہ ایسا سایہ ہے جس میں ہمیں سکون مل جائے گا مگر جب اس کے قریب جائیں گے تو دیکھیں گے کہ اس میں آگ کے شعلے محلات کی مانند بھڑک رہے ہیں اور اس سے نکلنے والا دھواں آگ کی شدت کی وجہ سے سیاہ ہونے کی بجائے زرد رنگ کا ہوگا اور اس میں اس قدر تیزی اور شدت ہوگی کہ بل کھاتا ہوا دھواں ایسے لگے گا جیسے زرد رنگ کے اونٹ اچھل کود رہے ہیں۔ یاد رہے کہ قیامت کے دن لوگوں کو پوری طرح صفائی پیش کرنے کے بعد ایک مرحلہ ایسا آئے گا کہ جب انہیں بولنے اور معذرت کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔ اس دن اگلے پچھلے مجرمین کو جمع کرلیا جائے گا اور انہیں کہا جائے گا کہ اگر تم میں کوئی چال چلنے کی طاقت ہے تو چل سکتے ہو۔ دنیا میں بڑی بڑی چالیں چلنے والے بڑے مکار اور فریب کار لوگ بےبس ہوں گے انہیں یقین ہوجائے گا کہ آج کا دن ہمارے لیے تباہی اور بربادی کا دن ہے اس لیے وہ کسی قسم کی چال نہیں چل سکیں گے۔ مسائل 1۔ قیامت کے دن حکم ہوگا کہ جسے تم جھٹلایا کرتے تھے اس کے لیے اکٹھے ہوجاؤ۔ 2۔ قیامت کے دن مجرموں کے لیے بڑا بھاری ہوگا۔ 3۔ قیامت کے دن مجرم کوئی چال نہیں چل سکیں گے۔