Ayahs 76:1–3فہم القرآن
ربط سورت : القیامہ کے آخر میں یہ بتلایا گیا ہے کہ انسان کو ایک نطفہ سے پیدا کیا گیا اور پھر نر اور مادہ کی صورت میں جوڑے بنا دئیے، دنیا میں انسان کا وجود نطفہ سے پہلے نہیں ہوتا جس کا ذکر اس سورت کی ابتداء میں یوں کیا گیا ہے کہ کیا انسان کو معلوم نہیں کہ زمانے میں اس کا ذکر تک موجود نہیں تھا پھر ” اللہ تعالیٰ “ نے اسے انسان کی شکل میں پیدا فرمایا۔
سورۃ الدھر کی ابتدا میں ” ھَلْ “ کا لفظ استعمال فرما کر سوال کیا ہے کہ انسان کو معلوم نہیں کہ اس پر ایک ایسا دور گزرا ہے کہ جب اس کا ذکر تک نہیں تھا اس دور سے مراد تین ادوار ہوسکتے ہیں۔
1۔ تخلیق آدم سے پہلے کا دور۔ 2۔ انسان کی تخلیق کا دورانیہ جب وہ رحم مادر میں ہوتا ہے۔ 3۔ انسان کے بچپن کا دور جب وہ کسی چیز پر اختیار نہیں رکھتا۔
اللہ تعالیٰ نے انسان کو ایک مخلوط نطفے سے پیدا فرمایا۔ ” مَشِیْجٍ “ کی جمع ” اَمْشَاجٍ “ ہے اس سے مراد میاں بیوی کے نطفے کے وہ اجزاء ہیں جو رحم مادر میں آپس میں ملتے ہیں۔ اسی سے انسان کا وجود بنتا ہے اور انہی اجزاء کی بنیاد پر انسان کی رنگت، لیاقت اور قدوقامت وجود میں آتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو پیدا فرما کر کھلا نہیں چھوڑ دیا بلکہ اس کی راہنمائی کا بندوبست فرمایا اور اسے سننے اور دیکھنے کی صلاحیتیں عطا فرمائیں جس کے لیے ” سمیع “ اور ” بصیر “ کے الفاظ استعمال فرمائے ہیں۔ بظاہر تو ہر جاندار کان اور آنکھیں رکھتا ہے مگر ” سمیع “ اور ” بصیر “ کے اعتبار سے جو صلاحیتیں انسان کو عطا کی گئی ہیں وہ کسی اور جاندار میں موجود نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے نہ صرف اسے ” سمیع “ اور ” بصیر “ بنایا ہے بلکہ اسے یہ صلاحیت بھی بخشی ہے کہ انسان جو کچھ سنتا اور دیکھتا ہے اس میں امتیاز کرنے کی دوسری مخلوق سے زیادہ صلاحیت رکھتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کی دیکھنے اور سننے کی صلاحیتوں کو صحیح سمت پر چلانے کے لیے اس کی راہنمائی کا بندوبست فرمادیا ہے کیونکہ انسان کو ” سمیع “ اور ” بصیر “ بنایا ہے اس لیے اسے یہ اختیار دیا گیا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی راہنمائی سے فائدہ اٹھائے یا انحراف کرے۔ یہ بات اس کے دل میں ڈال دی گئی ہے۔ ” بُرائی اور پرہیزگاری بتلائی دی گئی ہے۔ “ (الشمس : 8)
اللہ تعالیٰ نے آدم (علیہ السلام) کو زمین پر اترجانے کا حکم دیا، اس حکم کے ساتھ ہی یہ بھی حکم ہوا کہ اے آدم ! جب میری ہدایت تم تک پہنچے تو اس کی اتباع کرنا۔ جس نے میری راہنمائی کو قبول کیا اور اس کی اتباع کی تو اسے کوئی خوف وخطر نہیں ہوگا۔ اس ہدایت کو واضح کرنے اور لوگوں کے سامنے عملی نمونہ پیش کرنے لیے ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبر مبعوث کیے گئے جنہوں نے لوگوں کی راہنمائی کرنے کا حق ادا کردیا۔ انبیائے کرام (علیہ السلام) کی تشریف آوری اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل شدہ ہدایت کا پہلا مقصد یہ ہے کہ انسان اپنے رب کی پہچان حاصل کرے اور اس کی نعمتوں کا اعتراف کرے جس نے اس کی ذات کی معرفت پا لی اور اس کی نعمتوں کا ادراک کرلیا وہ ضرور اس کی بندگی بجالائے گا۔ ہدایت کے بنیادی اجزاء تین ہیں۔
1۔ اللہ تعالیٰ پر بلاشرکت غیرے ایمان لاکر خالص اس کی بندگی کرنا یعنی پوری زندگی کو اس کے حکم کے تابع کردینا۔ 2۔ اللہ تعالیٰ کی بندگی کا تقاضا ہے کہ نبی آخرالزمان ﷺ کی پوری طرح اتباع کی جائے اس کے بغیر کوئی عبادت قبول نہیں ہوگی۔ 3۔ اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرتے ہوئے یقین رکھنا کہ ایک دن آنے والا ہے جب مجھے نیکی کی جزا اور برائی کی سزا دی جائے گی۔
مسائل
1۔ ہر انسان پر ایسا دور گزرا ہے کہ اس کے بارے میں کوئی نہیں جانتا تھا۔
2۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو مخلوط نطفہ سے پیدا کیا ہے۔
3۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو آزمانے کے لیے اسے ” سمیع “ اور ” بصیر “ بنایا ہے۔
4۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو شکر اور کفر کے راستے میں فرق بتلا دیا ہے۔
تفسیر بالقرآن
اللہ تعالیٰ نے انسان کو ہدایت اور گمراہی سمجھا کر کھلا چھوڑ دیا ہے :
(البقرۃ : 120) (القصص : 56) (البقرۃ : 213) (الاعراف : 43) (الاعراف : 186) (النساء : 88)
Ayah 76:4فہم القرآن
ربط کلام : کفر اختیار کرنے والوں کی سزا۔
اللہ تعالیٰ نے انسان کو دیکھنے، سننے اور سوچنے کی اس قدر صلاحیتیں عطا فرمائی ہیں کہ اگر انسان اللہ تعالیٰ کی قدرتوں، اپنے وجود اور قرآن مجید پر معمولی سا غور کرلے تو انسان کبھی کفر کا راستہ اختیار نہ کرے، انسان اسی وقت ہی کفر کا راستہ اختیار کرتا ہے جب وہ اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ راہنمائی اور اس کی قدر توں اور نعمتوں پر غور نہیں کرتا، یہی غفلت اس کے جہنم جانے کا سبب بنے۔ اس لیے جب جہنمیوں سے پوچھا جائے گا کہ تم کس وجہ سے جہنم میں داخل کیے گئے تو وہ اس بات کا اقرار اور اظہار کریں گے کہ کاش ! ہم سننے اور عقل کرنے والے ہوتے تو جہنم میں داخل نہ کیے جاتے۔ ( الملک : 10، 11) جہنمیوں کو صرف جہنم میں داخل ہی نہیں کیا جائے گا بلکہ ان کے گلے میں طوق اور ان کے پاؤں میں بڑی بڑی بیڑیاں ڈالی جائیں گی اور انہیں زنجیروں میں جکڑ دیا جائے گا۔
” اسے پکڑو اور اس کی گردن میں طوق ڈال دو پھر اس کو جہنم میں جھونک دو اور پھر اس کو ستر ہاتھ لمبی زنجیر میں جکڑ دو ۔ “ (الحاقہ : 30 تا 32)
” آپ کیا جانیں کہ وہ چکنا چور کرنے والی کیا ہے ؟ اللہ کی آگ خوب بھڑکائی ہوئی ہے، جو دلوں تک پہنچے گی اور ان پر ڈھانک کر بند کردی جائے گی، جو اونچے اونچے ستونوں کی شکل میں ہوگی۔ (ہمزہ : 5 تا 9)
(عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ؓ عَنِ النَّبِیِّ ﷺ قَالَ أُوقِدَ عَلَی النَّارِ أَلْفَ سَنَۃٍ حَتَّی احْمَرَّتْ ثُمَّ أُوقِدَ عَلَیْہَا أَلْفَ سَنَۃٍ حَتَّی ابْیَضَّتْ ثُمَّ أُوقِدَ عَلَیْہَا أَلْفَ سَنَۃٍ حَتَّی اسْوَدَّتْ فَہِیَ سَوْدَاءُ مُظْلِمَۃٌ) ( رواہ الترمذی : کتاب صفۃ جہنم)
” حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول معظم ﷺ نے فرمایا کہ دوزخ کی آگ کو ایک ہزار سال تک بھڑکایا گیا یہاں تک کہ وہ سرخ ہوگئی پھر اس کو ایک ہزار سال تک بھڑکا یا گیا تو وہ سفید ہوگئی پھر اس کو ایک ہزار سال تک بھڑکایا گیا یہاں تک وہ سیاہ ہوگئی اب وہ سیاہ ہے۔ “
مسائل
1۔ اللہ تعالیٰ نے جہنم میں کفار کے لیے بڑی بڑی زنجیریں اور طوق تیار کر رکھے ہیں۔
2۔ اللہ تعالیٰ نے کفار کے لیے جہنم کی آگ کو دہکا رکھا ہے۔
Ayahs 76:5–6فہم القرآن
ربط کلام : کفر کرنے والوں کے مقابلے میں شکر کرنے والوں کا انعام۔
جن لوگوں نے سمع وبصر اور عقل و فکر سے کام لیا اور اپنے خالق کی پہچان کی اور اس کے حکم کی پیروی کرتے رہے وہ اپنے خالق کے ہاں نیکوکار تصور ہوں گے، انہیں جنت میں داخل کیا جائے گا جس میں انہیں پینے کے لیے صاف، پاکیزہ پانی، دودھ، شہد اور شراب دی جائے گی جس میں کافور کی آمیزش ہوگی اور اس میں کسی قسم کا نشہ اور فطور نہیں ہوگا۔ جنت میں شراب کا ایک چشمہ ہوگا جس سے جنتی اپنی مرضی سے چھوٹی چھوٹی نہریں نکال کرلے جائیں گے، ان سے جنتی شراب حاصل کریں گے اور نوش جاں کریں گے۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ جنتی کدالوں کے ذریعے نالیاں کھود کا شراب کو جدھر چاہیں گے لے جائیں گے۔ اس کا مطلب ہے کہ اللہ تعالیٰ شراب پر ان کو اختیار دے گا وہ جس طرح چاہیں گے پئیں گے اور جہاں چاہیں گے لے جائیں گے۔ (اللہ اعلم ! )
مسائل
1۔ نیک لوگ جنت میں کافور ملی ہوئی شراب نوش فرمائیں گے۔
2۔ جنت میں شراب کا چشمہ ہوگا جس سے بہت سی چھوٹی چھوٹی آبشاریں نکلیں گی۔
3۔ اللہ کے بندے جنت کی شراب سے لطف اندوز ہوں گے۔
تفسیر بالقرآن
جنت کی شراب کی کیفیت :
1۔ جنتیوں کو شراب طہور دی جائے گی۔ (الدھر : 21) (الصّافات : 46، 47، الواقعہ : 19)
Ayahs 76:7–11فہم القرآن
ربط کلام : جنتی کے مزید اوصاف۔
جنتی میں یہ اوصاف بھی بدرجہ اتم پائے جائیں گے کہ دنیا میں رہتے ہوئے وہ لوگ نذر مانتے تھے تو اس کو کماحقہٗ پورا کرتے تھے، نذر سے مراد وہ عمل یا صدقہ ہے جو مسلمان اپنے طور پر اپنے آپ پر واجب کرلیتا ہے، نذر وہی ماننی چاہیے جسے اللہ اور اس کے رسول نے جائز قرار دیا ہے، اس نذر کو پورا کرنا اس بات کا ثبوت ہے کہ نذر ماننے والا شخص دوسرے فرائض بھی بدرجہ اتم پورے کرنے والا ہے جو شخص نذر پوری کرتا ہے لیکن فرائض سے غافل رہتا ہے وہ اس اجر کا مستحق نہیں ہوگا جس کا یہاں ذکر کیا گیا ہے۔ اس لیے نذر پوری کرنے والوں کی یہ صفت بیان کی گئی ہے کہ وہ اس دن کے احتساب سے ڈرنے والے ہیں جس دن کی سختی پوری مخلوق کو گھیرے ہوئے ہوگی۔ جن و انس تو درکنار اس دن ملائکہ بھی اپنے رب کے جلال سے خوف زدہ ہوں گے، جو مسلمان اس تصور کے ساتھ اپنی نذریں پوری کرتے اور اپنے رب کی رضا کی خاطر مسکینوں، یتیموں اور قیدیوں کو کھانا کھلاتے ہیں اور اس عمل کے پیچھے ان کا مقصد بدلہ لینا یا شکریہ طلب کرنا نہیں ہوتا ان کا مقصد صرف یہ ہوتا ہے کہ ان کا رب ان پر راضی ہوجائے کیونکہ وہ اپنے رب سے اس دن کے بارے میں ڈرتے ہیں جس دن چہرے خوفزدہ ہوں گے اور دل کانپ رہے ہوں گے۔ نذر پوری کرنے، یتیموں، مسکینوں اور فقیروں کو کھانا کھلانے کی وجہ سے انہیں اللہ تعالیٰ نہ صرف اس دن کی سختیوں سے محفوظ فرمائے گا بلکہ ان کے چہروں کو تازگی اور ان کے دلوں کو سرور بخشے گا۔ قرآن مجید کے دوسرے مقام پر بیان ہوا ہے کہ قیامت کے دن کچھ چہرے سیاہ ہوجائیں گے اور کچھ چہرے روشن ہوں گے (آل عمران : 106، 107)
جو چہرے کالے ہوں گے ان پر ذلّت اور نحوست چھائی ہوگی اور جو چہرے سفید ہوں گے وہ تروتازہ اور ہشاش بشاش ہوں گے۔ ( القیامہ : 22، 24)
(عَنْ أَبِيْ ھُرَیْرَۃَ ؓ أَنَّ رَجُلًا شَکَا إِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ قَسْوَۃَ قَلْبِہٖ فَقَالَ لَہٗ إِنْ أَرَدْتَّ تَلْیِیْنَ قَلْبِکَ فَأَطْعِمِ الْمِسْکِیْنَ وَامْسَحْ رَأْسَ الْیَتِیْمِ ) (رواہ احمد : باب مسند أبی ہریرہ ھٰذا حدیث صحیح)
” حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے رسول اللہ ﷺ سے اپنے دل کی سختی کے متعلق شکایت کی تو آپ نے فرمایا : اگر تو اپنے دل کو نرم کرنا چاہتا ہے تو مسکین کو کھانا کھلا اور یتیم کے سر پر ہاتھ پھیرا۔ “
(وَعَنْ عِمْرَانَ ابْنِ حُصَیْنٍ ؓ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ لَا وَفَاءَ لِنَذْرٍ فِیْ مَعْصِیَۃٍ وَلَا فِیْمَا لَا یَمْلِکُ الْعَبْدُ ) (رواہ مسلم : باب لا وفاء لنذر فی معصیۃ)
” حضرت عمران بن حصین ؓ بیان کرتے ہیں رسول اکرم ﷺ نے فرمایا نافرمانی کی نذر کو پورا نہ کیا جائے اور جو چیز انسان کے قبضہ میں نہیں اسکی نذر نہ مانی جائے۔ “
مسائل
1۔ جو لوگ اپنی نذریں پوری کرتے ہیں اور قیامت کی سختیوں سے ڈرتے ہیں اللہ تعالیٰ ان کے چہرے تروتازہ فرمائے گا۔
2۔ جو لوگ صرف اپنے رب کی رضا کی خاطر مسکینوں، یتیموں اور قیدیوں کو کھانا کھلاتے ہیں اللہ تعالیٰ انہیں قیامت کی سختیوں سے بچائے گا اور ان کے چہروں کو ہشاش بشاش کردے گا۔
3۔ اللہ کے بندے مسکینوں، یتیموں اور قیدیوں کو کھانا کھلاکر بدلے اور شکریے کے طلبگار نہیں بنتے۔
تفسیر بالقرآن
قیامت کے دن جنتی کے چہرے ہشاش بشاش اور روشن ہوں گے :
1۔ متقین کے چہرے ہشاش بشاش ہوں گے۔ (یونس : 26)
2۔ جنتی کے چہرے پرنور ہوں گے۔ (آل عمران : 107) 3۔ مومنوں کے چہرے تروتازہ ہوں گے۔ (الغاشیہ : 8)
4۔ مومنوں کے چہرے خوش وخرم ہوں گے۔ (العبس : 38) 5۔ مومنوں کے چہرے تروتازہ ہوں گے۔ (القیامۃ : 22)
Ayahs 76:12–22فہم القرآن
ربط کلام : نیک لوگوں کی جزا اور انعام کا ذکر جاری ہے۔
نیک لوگوں کو جزا اور انعام اس لیے دیا جائے گا کیونکہ وہ اللہ کی توحید پر ایمان رکھتے تھے اور نبی ﷺ کی اطاعت کیا کرتے رہے اور دیگر نیک اعمال کے ساتھ اپنی نذروں کو پورا کرتے تھے، صرف اللہ کی رضا کی خاطر مسکینوں، یتیموں اور قیدیوں کو کھانا کھلاتے تھے۔ کیونکہ یہ کام بڑے حوصلے کے ہیں اس لیے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ صبر کرنے والوں کو بغیر حساب کے جنت میں داخل کیا جائے گا۔ صابر حضرات کو دیگر انعامات کے ساتھ ریشم کے لباس پہنائے جائیں گے، وہ تکیوں پر ایسے مقامات پر جلوہ افروز ہوں گے جنہیں نہ دھوپ لگے گی اور نہ ہی سردی چھوئے گی، ان پر اس طرح کے سایہ دار درخت ہوں گے جن کی شاخوں پر پھل ٹپک رہے ہوں گے۔ جنت کے خدّام شیشے اور چاندی سے بنے ہوئے صاف اور شفاف جام لیے ہوئے جنتی کے آگے پیچھے پھریں گے۔ جنتی کو ایسی شراب پیش کی جائے گی جس میں زنجبیل کی آمیزش ہوگی یہ جنت میں اس چشمے سے نکلے گی جس کا نام سلسبیل ہے۔ جنتی کو شراب پلانے اور ان کی خدمت کرنے والے غلمان ہمیشہ ایک جیسے رہیں گے، ان کے حسن و جمال کا عالم یہ ہوگا کہ دیکھنے والا انہیں چمکتے ہوئے موتی تصور کرے گا۔ جنتی جنت میں جدھر بھی آنکھ اٹھائے گا وہ ہر قسم کی نعمتیں پانے کے ساتھ اپنے لیے بہت بڑی سلطنت پائے گا۔ گویا کہ اسے وسیع ترین جنت دی جائے گی۔ انہیں دیباج اور اطلس کے زرق برق لباس پہنائے جائیں گے اور چاندی کے کنگن ان کی کلائیوں میں ہوں گے۔ ان کے رب کے حکم سے انہیں شراب طہور پلائی جائے گی۔ ارشاد ہوگا کہ یہ تمہاری کوشش کا صلہ ہے جو ہمارے ہاں قبول ہوچکی ہے۔
(عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ قَیْسٍ ؓ عَنْ أَبِیْہِ عَنِ النَّبِیِّ ﷺ قَالَ إِنَّ لِلْمُؤْمِنِ فِی الْجَنَّۃِ لَخَیْمَۃً مِنْ لُؤْلُؤَۃٍ وَاحِدَۃٍ مُجَوَّفَۃٍ طُوْلُھَا سِتُّوْنَ مِیْلًا لِلْمُؤْمِنِ فِیْھَا أَھْلُوْنَ یَطُوْفُ عَلَیْھِمُ الْمُؤْمِنُ فَلَا یَرٰی بَعْضُھُمْ بَعْضًا) (رواہ مسلم : باب فی صفۃ خیام الجنۃ ....)
” حضرت عبداللہ بن قیس اپنے باپ سے اور وہ نبی کریم ﷺ سے بیان کرتے ہیں آپ کا فرمان ہے کہ جنت میں مومن کے لیے موتی کا ایک ایسا خیمہ ہوگا جس کی لمبائی ساٹھ میل ہوگی وہاں مومن کے گھر والے ہوں گے جن کے ہاں وہی جائے گا دوسرا انہیں دیکھ نہیں پائے گا۔ “
(عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ؓ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ قَال اللّٰہُ تَعَالٰی اَعْدَدْتُّ لِعِبَادِیَ الصَّالِحِیْنَ مَالَا عَیْنٌ رَأَتْ وَ لَآ اُذُنٌ سَمِعَتْ وَلَا خَطَرَ عَلٰی قَلْبِ بَشَرٍ وَّاقْرَءُ وْا إِنْ شِءْتُمْ (فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَّآاُخْفِیَ لَھُمْ مِّنْ قُرَّۃِ اَعْیُنٍ ) (رواہ البخاری : باب ماجاء فی صفۃ الجنۃ وأنھا مخلوقۃ)
” حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں رسول محترم ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں میں نے اپنے
نیک بندوں کے لیے وہ نعمتیں تیار کی ہیں، جن کو نہ کسی آنکھ نے دیکھا اور نہ ہی ان کے متعلق کسی کان
نے سنا اور نہ ہی کسی انسان کے دل میں ان کا خیال پیدا ہوا۔ اگر چاہو تو اس آیت کی تلاوت کرو۔ (کوئی نہیں جانتا کہ ان کی آنکھوں کی ٹھنڈک کے لیے کیا چیز چھپا کے رکھی گئی ہے۔ “ )
” حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول ﷺ نے فرمایا : جو شخص اللہ اور اس کے رسول ﷺ پر ایمان لایا، نماز قائم کی، رمضان کے روزے رکھے ‘ اللہ تعالیٰ نے ذمّہ لے لیا ہے کہ وہ اسے جنت میں داخل فرمائے گا۔ خواہ اس نے اللہ کے راستے میں جہاد کیا یا اپنی پیدائش کے علاقے میں رہا صحابہ ؓ نے عرض کیا، اے اللہ کے رسول ! اجازت ہو تو ہم لوگوں کو یہ خوش خبری سنائیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا : بلاشبہ جنت کی سومنزلیں ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں ان لوگوں کے لیے تیار کیا ہے، جو اللہ کے راستے میں جہاد کرتے ہیں۔ ان میں سے ہر دو منزلوں کے درمیان زمین و آسمان کے برابر فاصلہ ہے۔ جب تم اللہ سے جنت کا سوال کرو تو اس سے جنت الفردوس کا سوال کروکیون کہ وہ اعلیٰ و افضل جنت ہے اس کے اوپر اللہ تعالیٰ کا عرش ہے اور وہیں سے جنت کی نہریں نکلتی ہیں۔ “
(رواہ البخاری : کتاب الجہاد)
(عن عَبْداللّٰہِ بْنَ عُکَیْمٍ قَالَ کُنَّا مَعَ حُذَیْفَۃَ ؓ بِالْمَدَآءِنِ فَاسْتَسْقٰی حُذَیْفَۃُ فَجَآ ءَ ہٗ دِہْقَانٌ بِشَرَابٍ فِیْ إِنَاءٍ مِّنْ فِضَّۃٍ فَرَمَاہُ بِہٖ وَقَالَ إِنِّیْٓ أُخْبِرُکُمْ أَنِّیْ قَدْ أَمَرْتُہٗ أَنْ لاَّ یَسْقِیَنِیْ فِیْہِ فَإِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ قَالَ لاَ تَشْرَبُوْا فِیْ إِنَآء الذَّہَبِ وَالْفِضَّۃِ وَلاَ تَلْبَسُوا الدِّیْبَاجَ وَالْحَرِیْرَ فَإِنَّہٗ لَہُمْ فِی الدُّنْیَا وَہُوَ لَکُمْ فِی الآخِرَۃِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ ) (رواہ مسلم : کتاب اللباس والزینۃ، باب تَحْرِیمِ اسْتِعْمَالِ إِنَاء الذَّہَبِ وَالْفِضَّۃِ عَلَی الرِّجَالِ وَالنِّسَاءِ )
” حضرت عبداللہ بن عکیم ؓ بیان کرتے ہیں کہ ہم حذیفہ ؓ کے ساتھ مدائن میں تھے۔ حذیفہ ؓ نے پانی طلب کیا تو ایک کاشتکار چاندی کے برتن میں پانی لے کر حاضر ہوا۔ حضرت حذیفہ ؓ نے اسے پھینک دیا اور فرمایا کہ میں تمہیں یہ بات بتلاتے ہوئے حکم دیتا ہوں کہ کوئی مجھے ایسے برتن میں پلائے کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے کہ سونے اور چاندی کے برتنوں میں نہ پیو۔ زیور اور ریشمی لباس نہ پہنو (مرد) یہ دنیا میں کافروں کے لیے ہیں اور تمہارے لیے آخرت میں ہیں۔ “
مسائل
1۔ جنت میں جنتی ایسی جگہوں پر تکیہ لگائے تشریف فرما ہوں گے جہاں اللہ تعالیٰ انہیں دھوپ اور سردی سے بچائے گا۔
2۔ اللہ تعالیٰ انہیں ہمیشہ خوش وخرم رکھے گا۔ 3۔ جنتی کو جنت کے باغات اور ریشمی لباس دیئے جائیں گے۔
4۔ جنتی کے سامنے جنت کے پھل لٹک رہے ہوں گے۔
5۔ جنتی کے غلمان چاندی اور شیشے سے بنے ہوئے جاموں میں جنتی کو شراب پیش کریں گے۔
6۔ جنت میں شراب کا ایک چشمہ ہوگا جس کا نام سلسبیل ہے اس شراب میں زنجبیل کی آمیزش ہوگی۔
تفسیر بالقرآن
جنت کے چشمے اور نہریں :
1۔ ہم نے اس میں کھجوروں، انگوروں کے باغ بنائے ہیں اور ان میں چشمے جاری کیے ہیں۔ (یٰس : 34)
2۔ یقیناً متقین باغات اور چشموں میں ہوں گے۔ (الذاریات : 15)
3۔ اللہ نے مومن مرد اور عورتوں سے جنت کا وعدہ کیا ہے جس کے نیچے نہریں جاری ہیں۔ اللہ کی رضابڑی بات ہے۔ (التوبہ : 72)
4۔ ایمان والوں کو جنت میں داخل کیا جائے گا جس میں نہریں بہتی ہیں اور وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔ (النساء : 57)
5۔ جس جنت کا مومنوں کے ساتھ وعدہ کیا گیا ہے۔ اس کے نیچے سے نہریں جاری ہیں اور اس کے پھل اور سائے ہمیشہ کے لیے ہوں گے۔ (الرعد : 35)
6۔ اللہ سے ڈرنے والوں کے لیے جنت ہے جس کے نیچے نہریں جاری ہیں۔ (آل عمران : 198)
7۔ مومنوں کے ساتھ جس جنت کا وعدہ کیا گیا ہے اس میں چار قسم کی نہریں ہوں گی۔ پانی کی نہر، دودھ کی نہر، شراب کی نہر اور شہد کی نہر۔ ( سورة محمد : 15)
8۔ متقین گھنے سایوں اور چشموں والی جنت میں ہوں گے۔ (المرسلات : 41)
Ayahs 76:23–26فہم القرآن
ربط کلام : اس سورت کی ابتداء میں ارشاد ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو پیدا فرما کر اسے یہ بات بتلا دی ہے کہ اے انسان تو شکر اور کفر میں جس کا چاہے انتخاب کرلے جو لوگ کفر کریں گے انہیں جہنم میں رنجیروں سے جھکڑا جائے گا اور ان کے لیے جہنم کی آگ تیار کی گئی ہے، جو لوگ شکر کا راستہ اختیار کریں گے ان کے اعمال کی قدر دانی کی جائے گی۔ ان کے لیے جنت کی نعمتیں ہوں گی۔ قرآن مجید میں ” اللہ تعالیٰ “ نے ہدایت کے راستے کو واضح کردیا ہے اس کے باوجود لوگ ہدایت کے راستہ پر نہیں آتے تو داعی کو صبر کے ساتھ اپنا کام جاری رکھنا چاہے۔ نبی ﷺ کو اسی بات کی تلقین کی گئی ہے۔
قرآن مجید کا مطالعہ کرنے والا ہر شخص جانتا ہے کہ قرآن مجید کے بڑے بڑے مضامین تین میں اور یہ مضمون بنیادی حیثیت رکھتے ہیں۔ 1 ۔ توحید 2 ۔ رسالت 3 ۔ آخرت۔
اہل مکہ اور ہر دور کے لوگوں کی اکثریت ان تینوں باتوں کا انکار کرتی رہی ہے۔ ان مضامین کو قرآن مجید بار بار مختلف الفاظ اور انداز میں پیش کرتا ہے تاکہ لوگ ان پر ایمان لائیں اور اپنی دنیا و آخرت کو بہتر بنا لیں کیونکہ ان مضامین پر قرآن مجید بار بار زوردیتا ہے اس لیے اہل مکہ قرآن مجید کا انکار کرنے کے لیے مختلف بہانے کیا کرتے تھے۔ ان بہانوں میں ان کا ایک بہانہ یہ بھی تھا کہ قرآن مجید یکبارگی کیوں نازل نہیں کیا جاتا۔ قرآن مجید نے کفار کے ان اعتراضات کے جواب درج ذیل تفسیر بالقرآن میں پیش کیے گئے ہیں۔ لیکن ٹھوس دلائل پانے کے باوجود اہل مکہ یا وہ گوئی کرتے رہے۔ جس پر آپ ﷺ کو حکم ہوا کہ آپ اپنے رب کے حکم کے مطابق صبر و حوصلہ سے کام لیں اور حالات جیسے بھی ہوں آپ کو کسی بدعمل اور ناشکرے کی بات نہیں ماننی چاہیے، صبر کرنے کے لیے ضروری ہے کہ آپ اپنے رب کو صبح و شام یاد کریں اور رات کے کچھ حصوں میں اپنے رب کے حضور سجدے کیا کریں اور اس کی تسبیحات پڑھیں۔ یاد رہے کہ ” اللہ “ کا ذکر انسان کو ایک طرف اس کے رب کے قریب کرتا ہے اور دوسری طرف اسے مشکلات پر قابو پانے کے لیے حوصلہ دیتا ہے۔ ” بکرۃ “ سے مراد صبح کی نماز اور ” اصیل “ کا لفظ زوال کے وقت سے لے کر مغرب کے وقت تک ہوتا ہے اس میں ظہر اور عصر کی نمازیں شامل ہیں۔ ” وَمِنَ الَّیْلِ فَاسْجُدْ لَہٗ “ سے مراد غروب آفتاب سے آدھی رات ہے۔ ان اوقات میں مغرب اور عشاء کی نماز ادا کی جاتی ہے۔” لَیْلاً طَوِیْلًا “ سے مراد تہجد کا وقت ہے جو صبح صادق تک جاری رہتا ہے۔
قرآن مجید کی تلاوت کرنے والا ہر شخص یہ بات جانتا ہے کہ جہاں نبی ﷺ کی مشکلات کا ذکر ہوتا ہے وہاں آپ کو نماز پڑھنے اور ذکر کرنے کی یاد دہانی کروائی جاتی ہے کیونکہ نماز اور اللہ کے ذکر کے بغیر مشکلات پر قابو نہیں پایا جاسکتا جو شخص مشکلات کے وقت اپنے آپ پر قابو نہیں پاتا وہ اپنے مقصد میں کامیاب نہیں ہوتا۔
” حضرت عمر ؓ فرمایا کرتے تھے وہ شخض زندگی کے حقائق سے لطف اندوز نہیں ہوسکتا جو صبر و استقامت کا مظاہرہ نہیں کرتا۔ “ (سیرت عمر فاروق ؓ
مسائل
1۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید کو وقفے وقفے سے نازل فرمایا ہے۔
2۔ مسلمان کو مشکلات کے وقت اپنے رب کے حکم کے مطابق صبر کرنا چاہیے اور کسی حال میں بھی برے لوگوں کے پیچھے نہیں لگنا چاہیے۔ 3۔ مسلمان کو ہر حال میں اپنے رب کو یاد کرنا چاہیے۔
4۔ اللہ کے ذکر اور نماز پڑھنے سے مسلمان کو حوصلہ نصیب ہوتا ہے۔
تفسیر بالقرآن
قرآن مجید یک بار کیوں نازل نہیں کیا گیا :
1۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن کو یک بار اس لیے نازل نہیں کیا تاکہ قرآن کو آپ ﷺ کے دل پر اچھی طرح ثبت کردیا جائے اور آپ اس کو ٹھہر ٹھہر کر پڑھیں۔ (الفرقان : 32)
2۔ قرآن مجید کو اس لیے آہستہ آہستہ نازل کیا گیا تاکہ آپ ﷺ تھوڑا تھوڑا کرکے لوگوں تک پہنچائیں۔ (بنی اسرائیل : 106)
Ayahs 76:27–31فہم القرآن
ربط کلام : جو لوگ صبر سے کام نہیں لیتے حقیقت یہ ہے کہ وہ اعتقاداً یا عملاً آخرت کے مقابلے میں دنیا کو مقدم سمجھتے ہیں۔
صبر کا معنٰی یہ ہے کہ آدمی مصیبت کے وقت اپنے آپ پر قابو پائے اور ہر حال میں اپنے آپ کو شریعت کا پابند رکھے۔ صبر نہ کرنے والا شخص شعوری یا غیر شعوری طور پر آخرت کے مقابلے میں دنیا کے مفاد اور ترقی کو مقدم سمجھتا ہے وہ اس لیے عجلت کرتا ہے کہ اس کے سامنے قیامت کے دن کی مشکلات نہیں ہوتیں اگر وہ قیامت کی مشکلات کو اپنے سامنے رکھے تو اسے معلوم ہوجائے گا کہ دنیا کی مشکلات آخرت کی مصیبتوں کے مقابلے میں کوئی حیثیت نہیں رکھتیں۔ جس کے ذہن میں یہ عقیدہ پختہ ہوجائے۔ اسے صبر کرنا آسان ہوجاتا ہے۔ صبر کرنے سے ہی انسان قرآن کی تعلیمات پر عمل کرسکتا ہے۔ صبر کا دوسرا مفہوم مستقل مزاجی ہے جو مستقل مزاجی کے ساتھ صراط مستقیم پر چلتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے لیے اپنا راستہ آسان کردیتا ہے کیونکہ اسی نے انسان کو پیدا کیا ہے اور اسی نے اس کے وجود کو مضبوط بنایا ہے۔ اس کا فرمان ہے کہ ہم جب چاہیں تو لوگوں کی شکلیں بدل کر رکھ دیں ان الفاظ کے مفسرین نے تین مفہوم بتلائے ہیں۔
1۔ ہم چاہیں تو انہیں ہلاک کرکے ان کی جگہ دوسرے لوگ لے آئیں جو فکرو عمل کے اعتبار سے ان سے بہتر ہوں گے۔
2۔ ہم چاہیں تو ان کی شکلیں بدل دیں کیونکہ ہم نے ہی انہیں کمزور سے مضبوط بنایا ہے۔
3۔ ہم چاہیں تو انہیں موت کے بعد کسی اور شکل و صورت میں پیدا کریں۔
انسان جب پیدا ہوتا ہے تو اس کا وجود نازک اور ناتواں ہوتا ہے۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ اس کے وجود کو درجہ بدرجہ مضبوط کرتا ہے انسان کو توانا بنانے اور صبر وشکر کا راستہ بتلانے کے بعد کھلا چھوڑ دیا گیا ہے چاہے۔ تو اپنے رب کا راستہ اختیار کرے نہ چاہے تو وہ کفر اور ناشکری کا راستہ اختیار کرلے تاہم انسان کو یاد رکھنا چاہیے کہ وہ اپنی طاقت کے بل بوتے پر کچھ نہیں کرسکتا، یہ اللہ تعالیٰ کی مرضی پر منحصر ہے البتہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو آزمانے کے لیے مہلت دی ہے۔ انسان کو آزمانے کا یہ معنٰی نہیں کہ اللہ تعالیٰ اس کے ماضی، حال اور مستقبل کو نہیں جانتا اسے تو سب کچھ معلوم ہے لیکن اس کی حکمت کا تقاضا ہے کہ وہ انسان کو کھلا چھوڑ کر آزمائے کہ وہ اس کی رحمت کا حقدار بنتا ہے یا اس کے عذاب کا مستحق ٹھہرتا ہے۔ جو اس کی رحمت کے لیے کوشش کرے گا اللہ تعالیٰ اسے ہمت اور توفیق عطا فرمائے گا اور اسے اپنی رحمت میں داخل کرے گا، جو اس کی رحمت سے بےپرواہی اختیار کرے گا۔ اسے مہلت دی جائے گی اور وہ ظالموں میں شامل ہوگا اور ظالموں کے لیے اذیت ناک عذاب تیار کیا گیا ہے۔ یہاں ایک مخصوص انداز میں ایک داعی کو تسلی دی گئی ہے کہ اس کا کام لوگوں کو بتلانا اور سمجھانا ہے۔ بیشک اس کی خواہش اور کوشش ہونی چاہیے کہ لوگ ہدایت یافتہ ہوجائیں مگر اسے یہ سمجھ لینا چا ہے کہ وہی ہوتا ہے جو اللہ رب العزت چاہتا ہے۔
(عَنْ أَبِیْ الدَّرْدَاءِ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ تَفْرَغُوْا مِنْ ہَمُوْمِ الدُّنِیَا مَا اسْتَطَعْتُمْ فَاِنَّہٗ مَنْ کَانَتِ الدُّنِیَا اَکْبَرُ ہَمَّہٗ اَفْشَی اللّٰہُ ضَیِّعَتَہٗ وَجَعْلَ فَقْرَہٗ بَیْنَ عَیْنَیْہِ وَمَنْ کَانَتِ الْاٰخِرَۃِ اَکْبَرُ ہَمَّہٗ جَمَعَ اللّٰہُ لَہٗ اَمُوْرَہٗ وَجَعَلَ غِنَاہُ فِیْ قَلْبِہٖ وَمَا اَقْبَلَ عَبْدٌ بِقَلْبِہٖ إِلَی اللّٰہِ إِلاَّ جَعَلَ اللّٰہُ قُلُوْبَ الْمُؤْمِنِیْنَ تَفِدُّ إِلَیْہِ بالْوَدِّ وَالرَّحْمَۃِ وَکَان اللّٰہُ إِلَیْہِ بِکُلِّ خَیْرٍ اَسْرَعُ ) (معجم الاوسط : باب من اسمہ محمد، قال الالبانی ھٰذا حدیث ضعیف)
” حضرت ابو درداء ؓ بیان کرتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جہاں تک ہو سکے تم دنیا کے غموں سے چھٹکارا حاصل کرلو جس نے دنیا کی فکر کو بڑ اجان لیا اللہ تعالیٰ اس پر دنیا تنگ کردے گا، محتاجی اس کی آنکھوں سے ٹپک رہی ہوگی۔ جس نے آخرت کو اپنے لیے بڑی فکر سمجھ لیا۔ اللہ تعالیٰ اس کے معاملات کو سنوار دے گا۔ اس کے دل میں غنا پیدا کردے گا۔ جو انسان اللہ تعالیٰ کی طرف سچے دل سے متوجہ ہوجائے اللہ تعالیٰ اس کے لیے مومنوں کے دلوں میں محبت اور رحمت پیدا کردیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اس کے لیے ہر بھلائی میں جلدی کرتا ہے۔ “
نبی ﷺ کی دعا :
(اَللّٰہُمَّ رَحْمَتَکَ أَرْجُوْ فَلاَ تَکِلْنِیْ إِلٰی نَفْسِیْ طَرْفَۃَ عَیْنٍ وَّأَصْلِحْ لِی شَأْنِیْ کُلَّہُ لاَ إِلٰہَ إِلاَّ أَنْتَ ) (رواہ ابو داؤد : باب مایقول اذا اصبح)
” اے اللہ میں تیری رحمت کی امید رکھتا ہوں مجھے ایک لمحے کے لیے بھی میرے نفس کے حوالے نہ کرنا اور میرے تمام معاملات درست فرما دے تیرے علاوہ کوئی الٰہ نہیں۔ “
مسائل
1۔ بیشمار لوگ آخرت کے مقابلے میں دنیا کو ترجیح دیتے ہیں حالانکہ آخرت کا دن بڑا بھاری ہوگا۔
2۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو پیدا کیا اور اس کے وجود کو مضبوط بنایا۔ جب چاہے وہ اس میں تبدیلی لاسکتا ہے۔
3۔ اللہ کی نصیحت پر عمل کرنا اس کی طرف جانے کا راستہ ہے۔
4۔ اللہ تعالیٰ جسے چاہتا ہے اپنی رحمت میں داخل فرماتا ہے اور جسے چاہتا ہے اس کے نفس کے حوالے کردیتا ہے۔ البتہ ظالموں کے لیے اذیت ناک ہوگا۔
تفسیر بالقرآن
آخرت پر دنیا کو ترجیح دینے والے لوگوں کا انجام :
1۔ جو لوگ دنیا کو آخرت پر ترجیح دیتے ہیں اور اللہ کی راہ سے روکتے ہیں اور اس میں کجی تلاش کرتے ہیں یہی دور کی گمراہی میں ہیں۔ (ابراہیم : 3)
2۔ یہی ہیں وہ لوگ جنہوں نے دنیا کو آخرت پر ترجیح دی بیشک اللہ کافروں کو ہدایت نہیں دیتا۔ (النحل : 107)
3۔ وہ لوگ جو دین کو کھیل تماشا بناتے ہیں اور دنیا کی زندگی نے انہیں دھوکے میں ڈال رکھا، قیامت کے دن ہم ان کو بھلا دیں گے۔ (الاعراف : 51)
4۔ جس نے سرکشی اختیار کی اور دنیا کو ترجیح دی اس کا ٹھکانہ جہنم ہے۔ (الناز عات : 9 3)