75. Surah Al-Qiyaama

القيامةThe Resurrection · 40 ayahsفہم القرآن

تعارف

تعارف

سورة القیامہ کا تعارف اللہ تعالیٰ نے اس سورت کی ابتداء میں القیامۃ اور لفظ لوامۃ کی قسم کھا کر فرمایا ہے کہ قیامت کا منکر سمجھتا ہے کہ اس کے مرنے کے بعد ہم قیامت کے دن اس کی ہڈیوں کو جمع نہیں کرسکیں گے ؟ کیوں نہیں ! ہم تو اس کی انگلیوں کا یک ایک پور ٹھیک ٹھیک طریقے سے جمع کریں گے۔ جو لوگ قیامت کا انکار کرتے ہیں دراصل وہ چاہتے ہیں کہ ہم اس طرح ہی نافرمانیاں کرتے رہیں اور ہمیں پوچھنے والا کوئی نہیں ہونا چاہیے۔ اس لیے مذاق کے طور پر پوچھتے ہیں کہ قیامت کب آئے گی انہیں بتائیں کہ قیامت اس دن آئے گی جس دن آنکھیں پتھرا جائیں گی، چاند بےنور ہوجائے گا۔ اس دن انسان بھاگ جانے کی خواہش کرے گا لیکن وہ نہیں بھاگ سکے گا اور نہ ہی اس کے لیے کوئی پناہ کی جگہ ہوگی۔ اسے ہر صورت اپنے رب کے سامنے کھڑا ہونا ہوگا اور اپنے اعمال کا جواب دینا ہوگا۔ اس کے بعد نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تسلی دیتے ہوئے ارشاد فرمایا ہے کہ آپ وحی کو جلدی جلدی نہ پڑھا کریں ہم آپ کو قرآن مجید پڑھائیں گے اور یاد بھی کروائیں گے اور اسے بیان کروانا بھی ہماری ذمّہ داری ہوگی۔ اس کے بعد ایک مرتبہ پھر قیامت کے منکروں کو بتایا ہے کہ اس دن کچھ چہرے ترو تازہ ہوں گے اور وہ اپنے رب کو دیکھ رہے ہوں گے۔ کچھ چہرے اداس ہوں گے اور وہ سمجھ جائیں گے کہ ان کے ساتھ کمر توڑ دینے والا سلوک ہونے والا ہے۔ ان کے ساتھ اس سختی کا آغاز اس وقت ہوجائے گا جب ان پر موت کا وقت آئے گا۔ ایسے شخص کی موت اس لیے زیادہ سخت ہوگی کہ نہ وہ نماز پڑھتا تھا بلکہ دین اور قیامت کو جھٹلایا کرتا تھا۔ اس کے بعد قیامت کا انکار کرنے والے کو ان کی تخلیق کا حوالہ دے کر سمجھایا ہے کہ جس رب نے انسان کو ایک حقیر پانی کے قطرے سے پیدا کیا پھر اسے لوتھڑے میں تبدیل فرمایا پھر اس کا جسم بنایا اور اس کے اعضاء درست کیے پھر مرد اور عورت کی صورت میں اس کی دو قسمیں بنائیں جس رب نے یہ سب کچھ کیا ہے۔ کیا وہ اور ہر انسان کو اپنے کیے کا حساب دینا ہوگا۔ انسان کو اس کی موت کے بعد زندہ نہیں کرسکتا ؟ کیوں نہیں وہ قیامت کے دن ہر صورت ہر انسان کو زندہ کرے گا۔

Ayahs 75:1–2

لَاۤ اُقْسِمُ بِیَوْمِ الْقِیٰمَةِۙ Open ayah 75:1 in the Quran reader

میں قسم کھاتا ہوں قیامت کے دن کی

وَ لَاۤ اُقْسِمُ بِالنَّفْسِ اللَّوَّامَةِؕ Open ayah 75:2 in the Quran reader

اور میں قسم کھاتا ہوں ملامت کرنے والے نفس کی

فہم القرآن ربط سورت : انسان کی گمراہی کے اسباب میں سب سے بڑا سبب آخرت کی جوابدہی سے لاپرواہ ہونا اور اس کا انکار کرنا ہے اس لیے سورة القیامہ کی ابتدا لفظ ” لا “ سے کی گئی ہے۔ اس میں قیامت کا انکار کرنے والوں کے عقیدہ اور ان کے دلائل کی تردید کی گئی ہے۔ قیامت کا انکار کرنے والوں کے عقیدہ اور دلائل کی نفی کرنے کے لیے اس سورت کی ابتدا لفظ ” لا “ سے کی گئی ہے۔ ارشاد ہوا کہ قیامت کے دن کی قسم ! جو لوگ قیامت قائم ہونے کا انکار کرتے ہیں وہ اپنے عقیدہ اور دلائل میں جھوٹے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اس مقام پر قیامت کی قسم اٹھائی ہے ظاہر ہے کہ اگر قیامت کا کوئی وجود نہیں تو اللہ تعالیٰ کو اس کی قسم اٹھانے کی کیا ضرورت تھی ؟ اس کے ساتھ ہی اس نے نفس لوّامہ کی قسم کھائی ہے جس میں لطیف اشارہ ہے کہ جس طرح تم اپنے نفسِ لوّامہ کا انکار نہیں کرسکتے اسی طرح قیامت کا انکار کرنے کی بھی کوئی گنجائش نہیں باالفاظ دیگر انکار قیامت پر نفس لوامہ بھی تمہیں ملامت کرتا ہے۔ قسم کے بارے میں پہلے بھی عرض ہوچکا ہے کہ یہ کسی بات کو پکا کرنے کے لیے اٹھائی جاتی ہے عربوں کے ہاں رواج تھا اور ہے کہ وہ دوسری اقوام کی نسبت قسمیں زیادہ اٹھاتے ہیں۔ قرآن مجید انہی کی زبان میں نازل ہوا ہے اور عرب ہی قرآن مجید کے اولین مخاطب تھے۔ ان کے طرز تکلم کا خیال رکھتے ہوئے اہم باتوں کی اہمیت اور فرضیت اجاگر کرنے کے لیے قسمیں اٹھائی گئی ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں نفس انسانی کی تین حالتیں بیان کی ہیں : 1۔ نفس مطمئنّہ : ہر حال میں مطمئن یعنی نیکی پر قائم رہنے والا۔ (الفجر : 27) 2۔ نفسِ لوّامہ : گناہ پر ملامت کرنے والا۔ (القیامہ : 2) 3۔ نفسِِ امّارہ : گناہ پر ابھارنے والا۔ (یوسف : 53) یہ انسان کے دل کی تین حالتیں ہیں نفس مطمئنّہ صرف انبیاء کو نصیب ہوتا ہے باقی انسانوں کے نفس کی دو ہی کیفیتیں ہوتی ہیں۔ (1) نفس امّارہ اور نفس لوّامہ۔ ان دونوں کے درمیان مقابلہ رہتا ہے اگر نفس لوّامہ جیت جائے تو انسان کو نیک اعمال کی توفیق ملتی ہے۔ اگر نفسِ امّارہ غالب آجائے تو آدمی برائی کا مرتکب ہوتا ہے لیکن برائی کا خمار اتر جانے کے بعد مجرم کو پریشانی ضرور لاحق ہوتی ہے اس لیے قرآن مجید نے ہابیل اور قابیل کا واقعہ بیان کرتے ہوئے قابیل کی کیفیت بیان کی ہے کہ اپنے بھائی کو قتل کرنے کے بعد قابیل کے دل کا سکون جاتا رہا۔ (المائدۃ : 31) رہتی دنیا تک بدنامی اس کے مقدر میں آئی اور اس نے ظلم و زیادتی کی بری روایت قائم کی، آخرت میں جہنم کا ایندھن بنا اور ظالموں کا ساتھی قرار پایا۔ اس سے زیادہ اور نقصان کیا ہوسکتا ہے کہ جب بھی کوئی شخص ظلم کرتا ہے تو اسے ایسی ہی کیفیت کا سامنا کرنا پڑتا ہے کیونکہ نیکی میں اطمینان ہے اور برائی میں پریشانی اور پشیمانی ہوتی ہے۔ (عَنِ النَّوَّاسِ بْنِ سِمْعَانَ الْأَنْصَارِیِّ ؓ قَالَ سَأَلْتُ رَسُول اللّٰہِ ﷺ عَنِ الْبِرِّ وَالْإِثْمِ فَقَالَ الْبِرُّ حُسْنُ الْخُلُقِ وَالْإِثْمُ مَا حَاکَ فِی صَدْرِکَ وَکَرِہْتَ أَنْ یَطَّلِعَ عَلَیْہِ النَّاسُ ) (رواہ مسلم : کتاب البر والصلۃ، باب تفسیر البر والاثم) ” حضرت نواس بن سمعان انصاری ؓ کہتے ہیں میں نے رسول ﷺ سے نیکی اور گناہ کے بارے میں پوچھا آپ نے فرمایا نیکی حسن اخلاق ہے اور برائی جو تمہارے دل میں کھٹکے اور تو ناپسند کرے کہ اس کے متعلق لوگوں کو پتا چل جائے۔ “ ( فِیْ طُغْیَانِھِمْ یَعْمَھُوْن) (البقرۃ : 15) ” وہ اپنی نافرمانیوں میں بھٹک رہے ہیں۔ “ مسائل 1۔ اللہ تعالیٰ کا قیامت کی قسم اٹھانا اس بات کا دوٹوک ثبوت ہے کہ قیامت کا واقع ہونا برحق ہے۔ 2۔ اللہ تعالیٰ کا نفس لوّامہ کی قسم اٹھانا اس بات کا ثبوت ہے کہ انسان کا نفس بھی اسے برائی سے روکتا ہے۔ تفسیر بالقرآن نفس انسانی کی تین حالتیں : 1۔ نفس مطمئنہ۔ ہر حال میں مطمئن یعنی نیکی پر قائم رہنے والا نفس۔ (الفجر : 27) 2۔ نفس لوّامہ۔ گناہ پر ملامت کرنے والا۔ (القیامہ : 2) 3۔ نفس امّارہ۔ گناہ پر ابھارنے والا۔ (یوسف : 53) (تفصیل کے لیے دیکھیے فہم القرآن ج 2، ص 130)
Ayahs 75:3–9

اَیَحْسَبُ الْاِنْسَانُ اَلَّنْ نَّجْمَعَ عِظَامَهٗؕ Open ayah 75:3 in the Quran reader

کیا انسان سمجھتا ہے کہ ہم اس کی ہڈیوں کو جمع نہیں کرسکیں گے ؟

بَلٰى قٰدِرِیْنَ عَلٰۤى اَنْ نُّسَوِّیَ بَنَانَهٗ Open ayah 75:4 in the Quran reader

کیوں نہیں ؟ ہم تو اس کی انگلیوں کے پور پور تک بنا دینے پر قادر ہیں

بَلْ یُرِیْدُ الْاِنْسَانُ لِیَفْجُرَ اَمَامَهٗۚ Open ayah 75:5 in the Quran reader

مگر انسان چاہتا ہے کہ آگے بھی برے کام کرتا رہے

یَسْئَلُ اَیَّانَ یَوْمُ الْقِیٰمَةِؕ Open ayah 75:6 in the Quran reader

پوچھتا ہے کہ قیامت کا دن کب آئے گا ؟

فَاِذَا بَرِقَ الْبَصَرُۙ Open ayah 75:7 in the Quran reader

جب آنکھیں پتھرا جائیں گی

وَ خَسَفَ الْقَمَرُۙ Open ayah 75:8 in the Quran reader

اور چاند بےنور ہوجائے گا

وَ جُمِعَ الشَّمْسُ وَ الْقَمَرُۙ Open ayah 75:9 in the Quran reader

چاند اور سورج جمع کردیے جائیں گے

فہم القرآن ربط کلام : قیامت کا انکار کرنے والوں کی سب سے بڑی دلیل کا جواب۔ قیامت کا انکار کرنے والے جس بات کو اپنے لیے بڑی دلیل سمجھتے ہیں وہ یہ ہے کہ جب ہم مر کر بےنام ونشان ہوجائیں گے تو پھر ہمیں کس طرح زندہ کیا جائے گا انہیں فرمایا ہے۔ ” کیا انسان دیکھتا نہیں ہے کہ ہم نے اسے نطفہ سے پیدا کیا اور پھر وہ واضح طور پر جھگڑالو بن جاتا ہے۔ اب وہ اپنی پیدائش کو بھول کر ہم پر باتیں بناتا ہے کہ ان ہڈیوں کو کون زندہ کرے گا جب یہ بوسیدہ ہوچکی ہوں۔ ان سے کہیں کہ انہیں وہی زندہ کرے گا جس نے پہلی مرتبہ انہیں پیدا کیا ہے۔ وہ سب کچھ پیدا کرنا جانتا ہے اسی نے تمہارے لیے ہرے بھرے درخت سے آگ پیدا کی ہے اور تم اس سے آگ جلاتے ہو کیا جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا ہے وہ انسان کو دوبارہ پیدا کرنے پر قادر نہیں کہ ان جیسوں کو پیدا کرے ؟ کیوں نہیں وہ تو سب کچھ جاننے والا اور سب کچھ پیدا کرنے والا ہے۔ جب کسی چیز کا ارادہ کرتا ہے تو اسے حکم دیتا ہے کہ ہوجا اور وہ چیز ہوجاتی ہے۔ پاک ہے وہ ذات جس کے ہاتھ میں ہر چیز کا مکمل اختیار ہے اور اسی کی طرف تم پلٹ کر جانے والے ہو۔ “ (یٰس : 77 تا 83) اللہ تعالیٰ نے منکرین قیامت کے سامنے عملی اور عقلی دلائل کے ساتھ یہ ثابت کیا ہے کہ قیامت ہر صورت برپا ہوگی اور ہر انسان کو زندہ کرکے اٹھا لیا جائے گا۔ جو لوگ یہ دلیل دیتے ہیں کہ بکھری ہوئی بوسیدہ ہڈیوں کو کس طرح اکٹھا کیا جائے گا انہوں نے کس طرح یہ گمان کرلیا ہے کہ ہم بوسیدہ ہڈیوں سے انہیں دوبارہ پیدا نہیں کرسکتے، انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ ہم نہ صرف انہیں دوبارہ پیدا کریں گے بلکہ ہم اس بات پر بھی قادر ہیں کہ ان کا جوڑ جوڑ سیدھا اور پور پور درست کرکے بنائیں گے۔ لیکن انسان دوبارہ اٹھنے کا اس لیے انکار کرتا ہے کیونکہ وہ چاہتا ہے کہ میں ہمیشہ زندہ رہوں اور اپنی مرضی کے کام کرتارہوں یعنی اسے نہ دوبارہ زندہ کیا جائے اور نہ ہی اس سے بازپرس کی جائے۔ اس لیے وہ قیامت کے بارے میں پوچھتے ہیں، ان کے پوچھنے کا مقصد قیامت کے بارے میں یقین اور اطمینان حاصل کرنا نہیں بلکہ اس کا مذاق اڑانا ہے۔ انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ جب قیامت بر پا ہوگی تو اس دن آنکھیں چندھیا جائیں گی، چاند بےنور ہوجائے گا اور سورج اور چاند جمع کردیئے جائیں گے۔ کیونکہ یہ بےنور ہو کر نیچے گرپڑیں گے۔ ” حضرت ابو سعید خدری ؓ نبی کریم ﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ تم سے پہلے ایک آدمی تھا اللہ تعالیٰ نے اس کو مال کی فراوانی دی تھی۔ اس نے اپنے بیٹوں کو بلاکر کہا کہ میں تمہارا کیسا باپ تھا ؟ انہوں نے کہا بہترین ! اس نے کہا یقیناً میں نے کبھی نیک عمل نہیں کیا، جب میں مرجاؤں تو تم مجھے جلا دینا پھر میری راکھ کو ہواؤں میں اڑا دینا اس کے بیٹوں نے اس کے مرنے کے بعد اس طرح کیا۔ اللہ تعالیٰ نے اس کو جمع کیا اور فرمایا تجھے کس چیزنے اس کام پر ابھارا تھا ؟ اس نے کہا تیرے خوف نے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کو اپنی رحمت میں لے لیا۔ “ (رواہ البخاری : کتاب احادیث الأنبیاء) ” حضرت ابو سلمہ ؓ فرماتے ہیں کہ ہمیں ابوہریرہ ؓ نے رسول اللہ ﷺ سے بیان کیا کہ آپ ﷺ نے فرمایا قیامت کے دن سورج اور چاند کو اکٹھاکر کے پھینک دیا جائے گا۔ حسن (رح) نے پوچھا ان کا جرم کیا ہے ؟ ابو سلمہ ؓ نے جواب دیا کہ میں تجھے نبی ؓ کی حدیث سنا رہا ہوں۔ ابو سلمہ کی بات سن کر حسن خاموش ہوگئے۔ “ (الابانۃ الکبریٰ لابن بطۃ : باب ذکر ما جاءت بہ السنۃ من طاعۃ رسول اللہ ﷺ مسائل 1۔ قیامت کا منکر سمجھتا ہے کہ اس کی بوسیدہ ہڈیوں کو اکٹھا نہیں کیا جائے گا۔ 2۔ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن ہر انسان کا جوڑ جوڑ بنائے گا اور اسے زندہ کرے گا۔ 3۔ قیامت کا انکار کرنے والے چاہتے ہیں کہ ہم اسی طرح اپنی مرضی کرتے رہیں اور ہم سے کوئی بات پرس نہ کی جائے۔ 4۔ قیامت کے دن آنکھیں چندھیا جائیں گی، چاند بےنور ہوجائے گا اور چاند اور سورج کو اکٹھا کردیا جائے گا۔
Ayahs 75:10–15

یَقُوْلُ الْاِنْسَانُ یَوْمَئِذٍ اَیْنَ الْمَفَرُّۚ Open ayah 75:10 in the Quran reader

اس وقت انسان کہے گا کہ میں بھاگ کر کہاں جاؤں ؟

كَلَّا لَا وَزَرَؕ Open ayah 75:11 in the Quran reader

ہرگز نہیں وہاں کوئی جائے پناہ نہیں ہوگی

اِلٰى رَبِّكَ یَوْمَئِذِ اِ۟لْمُسْتَقَرُّؕ Open ayah 75:12 in the Quran reader

اس دن آپ کے رب ہی کے سامنے جا کر ٹھہرنا ہے

یُنَبَّؤُا الْاِنْسَانُ یَوْمَئِذٍۭ بِمَا قَدَّمَ وَ اَخَّرَؕ Open ayah 75:13 in the Quran reader

اس دن انسان کو اس کا سب اگلا پچھلا کیا کر ایابتا دیا جائے گا

بَلِ الْاِنْسَانُ عَلٰى نَفْسِهٖ بَصِیْرَةٌۙ Open ayah 75:14 in the Quran reader

بلکہ انسان اپنے آپ کو خوب جانتا ہے

وَّ لَوْ اَلْقٰى مَعَاذِیْرَهٗؕ Open ayah 75:15 in the Quran reader

اگرچہ وہ کتنی ہی معذرتیں پیش کرے

فہم القرآن ربط کلام : جس قیامت کی ہولناکیوں کا ذکر ہو رہا ہے اس دن لوگوں کی کیا حالت ہوگی۔ پہلی مرتبہ اسرافیل کے صور پھونکنے پر چاند اور سورج بےنور ہوجائیں گے اور کائنات کا نظام درہم برہم ہوجائے گا اللہ تعالیٰ اس دن زمین و آسمانوں کو بدل دے گا۔ ( ابراہیم : 48) اسرافیل کے دوسری مرتبہ صورپھونکنے پر لوگ اپنے اپنے مدفن سے اٹھ کھڑے ہوں گے اور ہر فرد محشر کے میدان کی طرف اس طرح جائے گا جس طرح تیر اپنے نشانے پر جاتا ہے۔ (یٰس : 51) رب ذوالجلال کی تشریف آوری سے پہلے جنتیوں اور جہنمیوں کو لوگوں کے سامنے لایا جائے گا، ملائکہ جہنمیوں کو بڑی بڑی زنجیروں کے ساتھ کھینچ کر محشر کے میدان میں لاکھڑا کریں گے۔ یہ منظر دیکھ کر قیامت کا انکار کرنے والا اور ہر مجرم کہے گا کہ میں کہیں بھاگ جاؤں لیکن وہ کوئی پناہ گاہ نہیں پائے گا۔ اس دن سب کو اپنے رب کے حضور ہی کھڑا ہونا ہوگا اور انسان نے جو کچھ اپنے آگے بھیجا اور جو پیچھے چھوڑا اسے انسان کے سامنے کردیا جائے گا، یقیناً انسان اپنے آپ پر گواہ ہوگا اور وہ معذرت پر معذرت پیش کرے گا لیکن اس کی کوئی معذرت قبول نہیں کی جائے گی۔ ہر مجرم کی بھاگ جانے کی خواہش ہوگی لیکن کوئی بھی اپنا قدم نہیں اٹھا سکے گا۔ اس حالت میں سب کچھ اسے بتایا جائے گا اور اس کا نفس اس کے خلاف گواہی دے گا۔ دنیا میں بیشمار گناہ ایسے ہیں جنہیں انسان بھول جاتا ہے لیکن قیامت کے دن ہر انسان اپنے کیے کو اپنے سامنے پائے گا اور اس کا دل اور اعضاء گواہی دیں گے کہ واقعی ہی اس نے یہ کام کیے ہیں۔ (الملک : 11) وہ اس پر بار بار معذرت پیش کرے گا لیکن اس کی کوئی معذرت قبول نہیں کی جائے گی۔ یہاں ارشاد فرمایا ہے کہ جو انسان اپنے آگے بھیجتا اور جو اپنے پیچھے چھوڑتا وہ اسے اپنے سامنے پائے گا۔ پیچھے چھوڑنے سے مراد وہ نیکی یا برائی ہے جس کے اچھے یا برے اثرات انسان اپنی موت کے بعد چھوڑجاتا ہے۔ ہم یقیناً ایک دن مردوں کو زندہ کرنے والے ہیں جو اعمال انہوں نے کیے ہیں وہ ہم لکھتے جا رہے ہیں اور جو آثار انہوں نے پیچھے چھوڑے ہیں وہ بھی ہم لکھ رہے ہیں ہر بات کو ہم نے ایک کھلی کتاب میں درج کر رکھا ہے۔ “ (یٰس : 12) (عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ؓ أَنَّ رَسُول اللّٰہِ ﷺ قَالَ إِذَا مَاتَ الْإِنْسَانُ انْقَطَعَ عَنْہُ عَمَلُہُ إِلَّا مِنْ ثَلَاثَۃٍ إِلَّا مِنْ صَدَقَۃٍ جَارِیَۃٍ أَوْ عِلْمٍ یُنْتَفَعُ بِہٖ أَوْ وَلَدٍ صَالِحٍ یَدْعُو لَہُ ) (رواہ مسلم : بَاب مَا یَلْحَقُ الْإِنْسَانَ مِنْ الثَّوَابِ بَعْدَ وَفَاتِہِ ) ” حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں بلاشبہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جب انسان فوت ہوجاتا ہے تو اس کے اعمال منقطع کردیے جاتے ہیں مگر تین عمل باقی رہتے ہیں۔ (1) صدقہ جاریہ۔ (2) ایسا علم جس سے لوگ فائدہ اٹھائیں۔ (3) نیک اولاد جو اس کے لیے دعائیں کرے۔ “ مسائل 1۔ قیامت کے دن ہر مجرم کی خواہش ہوگی کہ وہ بھاگ جائے لیکن اس کے لیے کوئی بھی پناہ گاہ نہیں ہوگی۔ 2۔ قیامت کے دن ہر انسان اپنے رب کے حضور کھڑا ہوگا اور جو کچھ اس نے اپنے آگے بھیجا اور جو کچھ اپنے پیچھے چھوڑا اسے اپنے سامنے پائے گا۔ 3۔ قیامت کے دن ہر انسان اپنے کیے کا اعتراف کرے گا۔ 4۔ قیامت کے دن مجرم معذرت پر معذرت کرے گا لیکن اس کی کوئی معذرت قبول نہیں کی جائے گی۔ تفسیر بالقرآن قیامت کے دن مجرمین کی خواہش : 1۔ مٹی کے ساتھ مٹی ہوجانے کی خواہش۔ (النساء : 42، النباء : 40) 2۔ دنیا میں لوٹ کر نیک عمل کرنے کی تمنا۔ (السجدۃ : 12) 3۔ ظالم اپنے ہاتھ کاٹتے ہوئے کہے گا، کاش ! میں رسول کی اتباع کرتا۔ (الفرقان : 27) 4۔ کاش میں فلاں کو دوست نہ بناتا۔ (الفرقان : 28) 5۔ جہنم کے داروغہ سے درخواست کرنا۔ (الزخرف : 77) 6۔ اپنے مرشدوں اور لیڈروں کو دگنی سزا دینے کا مطالبہ کرنا۔ (الاحزاب : 68) 7۔ اللہ تعالیٰ سے مریدوں کا اپنے مرشدوں کو اپنے پاؤں تلے روندنے کا تقاضا کرنا۔ (السجدۃ : 29)
Ayahs 75:16–19

لَا تُحَرِّكْ بِهٖ لِسَانَكَ لِتَعْجَلَ بِهٖؕ Open ayah 75:16 in the Quran reader

اے نبی وحی کو جلدی جلدی یاد کرنے کے لیے اپنی زبان کو حرکت نہ دیا کریں

اِنَّ عَلَیْنَا جَمْعَهٗ وَ قُرْاٰنَهٗۚۖ Open ayah 75:17 in the Quran reader

اس کو یاد اور بیان کروانا ہمارے ذمہ ہے

فَاِذَا قَرَاْنٰهُ فَاتَّبِعْ قُرْاٰنَهٗۚ Open ayah 75:18 in the Quran reader

لہٰذا جب ہم اسے پڑھ رہے ہوں تو اس کی قرأت غور سے سنتے رہیں

ثُمَّ اِنَّ عَلَیْنَا بَیَانَهٗؕ Open ayah 75:19 in the Quran reader

پھر اس کا بیان کروانا بھی ہمارے ذمہ ہے

فہم القرآن ربط کلام : نبی ﷺ کی دعوت کا تیسرا بڑا جز لوگوں کو قیامت کے احتساب سے آگاہ کرنا ہے۔ جب آپ ﷺ لوگوں کے سامنے قیامت کا ذکر کرتے تو لوگ اس پر غور کرنے کی بجائے جلد بازی میں آکر کہتے کہ قیامت کب آئے گی۔ نبی ﷺ وحی کے نزول کے وقت اس لیے جلدی فرماتے تاکہ وحی کا کوئی لفظ بھول نہ جائے۔ اس پر آپ کو جلد بازی سے روکا گیا اور تسلی دی گئی کہ جس وجہ سے آپ جلدی کرتے ہیں اس کا فکر نہ کریں آپ کو قرآن مجید ضبط کروانا اور اس کا ابلاغ کروانا ہمارے ذمہ ہے لہٰذا آپ اطمینان کے ساتھ وحی سنا کریں۔ وحی کے ابتدائی ایام میں نبی ﷺ کے سامنے جبریل امین قرآن مجید کی تلاوت شروع کرتے تو آپ جلدی جلدی اسے پڑھنے کی کوشش فرماتے تاکہ کوئی لفظ محو نہ ہوجائے۔ اس پر آپ ﷺ کو یہ یقین دلایا گیا کہ آپ اپنی زبان کو جلدی جلدی حرکت نہ دیا کریں۔ قرآن مجید کو آپ کے دل پر ثبت کرنا اور آپ کی زبان سے اس کی تلاوت کروانا ہماری ذمہ داری ہے، جب ہم وحی مکمل کرچکیں تو پھر آپ اسے پڑھا کریں، ہماری ذمہ داری یہی نہیں کہ ہم آپ کے دل پر قرآن نازل کریں، ہم اسے یاد بھی کروائیں گے اور پھر وحی کے مطابق اسے من وعن بیان کروانا بھی ہمارے ذمہ ہے۔ بیان کروانے کا محض یہ معنٰی نہیں کہ آپ وحی کے مطابق لوگوں کے سامنے صرف قرآن کی تلاوت کردیتے تھے، بیان سے مراد اس کی تفسیر بھی ہے جسے حدیث رسول کہا جاتا ہے۔ اس میں یہ بات خوبخود شامل ہے کہ جس طرح اللہ تعالیٰ نے قرآن کی تلاوت اور بیان اور اس کا جمع کرنا اپنے ذمہ لیا ہے اسی طرح حدیث کی حفاظت کروانا بھی اللہ تعالیٰ نے اپنے ذمہ لیا ہے جسے نبی ﷺ اور آپ کے متبعین کے ذریعے محفوظ فرما دیا گیا ہے۔ (کَان النَّبِیُّ ﷺ مِمَّا تَنَزَّلُ عَلَیْہِ الْآیَاتُ فَیَدْعُوْ بَعْضُ مَنْ کَانَ لَہٗ یَکْتُبُ لَہٗ وَیَقُوْلُ لَہٗ ضَعْ ہٰذِہِ الْاٰیَۃَ فِی السُّوْرَۃِ الَّتِیْ یُذْکَرُ فِیْہَا کَذَا وَکذَا) (رواہ ابوداؤد : کتاب الصلٰوۃ) ” جب نبی ﷺ پر آیات اترتیں تو کاتب وحی کو بلا کر فرماتے اس آیت کو فلاں سورت میں فلاں جگہ لکھو۔ “ (عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِ یکَرِبَ الْکِنْدِیِّ قَالَ قَالَ رَسُول اللَّہِ ﷺ أَلاَ إِنِّی أُوتِیتُ الْکِتَابَ وَمِثْلَہُ مَعَہُ أَلاَ إِنِّی أُوتِیتُ الْقُرْآنَ وَمِثْلَہُ مَعَہُ ) (مسند احمد : باب حدیث المقدام بن معدیکرب، قال الالبانی ھٰدا حدیث صحیح) ” مقدام بن معدیکرب ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا خبردار بیشک مجھے کتاب اور اس جیسی اور چیز بھی عطا کی گئی ہے خبردار مجھے قرآن اور اس جیسی ایک اور چیز بھی عطا کی گئی ہے۔ “ (عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَیْبٍ عَنْ أَبِیہِ عَنْ جَدِّہِ أَنَّہُ قَالَ یَا رَسُول اللہِ أَکْتُبُ مِنْکَ مَا أَسْمَعُ ؟ قَالَ نَعَمْ قَالَ قُلْتُ مَا قُلْتَ فِی الرِّضَا وَالْغَضَبِ ؟ قَالَ نَعَمْ فَإِنِّی لاَ أَقُولُ فِی ذَلِکَ کَلِمَۃً إِلاَّ الْحَقَّ ) (رواہ ابوبکر فی مسند البزار : باب ہَذَا مَا حَدَّثَ بِہِ عَبْدُ اللہِ بْنُ عَمْرٍو، عَنِ النَّبِیِّ ﷺ ھٰذا حدیث صحیح) ” عمر بن شعیب اپنے باپ اور وہ اپنے دادا سے بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے نبی اکرم ﷺ سے عرض کی اے اللہ کے رسول ﷺ ! جو کچھ میں آپ سے سنتا ہوں لکھ لیا کروں ؟ آپ نے فرمایا ہاں ! پھر میں نے کہا اے اللہ کے نبی ! آپ کبھی خوشی میں بات کرتے ہیں اور کبھی ناراضگی کی حالت میں۔ آپ ﷺ نے فرمایا لکھ لیا کرو ! کیونکہ میں حق کے علاوہ کوئی بات نہیں کرتا۔ “ (وَ اَنْزَلْنَآ اِلَیْکَ الذِّکْرَ لِتُبَیِّنَ للنَّاسِ مَا نُزِّلَ اِلَیْہِمْ وَ لَعَلَّہُمْ یَتَفَکَّرُوْنَ ) (النحل : 44) ” اور ہم نے آپ کی طرف نصیحت اتاری تاکہ آپ لوگوں کے سامنے کھول کر بیان کریں جو کچھ ان کی طرف اتارا گیا ہے اور تاکہ وہ غوروفکر کریں۔ “ مسائل 1۔ اللہ تعالیٰ نے نبی ﷺ کو قرآن مجید ضبط کروانا اور اسے بیان کروانا اپنے ذمہ لیا۔ 2۔ اللہ تعالیٰ نے نبی ﷺ کے ذریعے قرآن اور اس کی تفسیر کروانے کا ذمہ لیا۔ تفسیر بالقرآن قرآن مجید کی حفاظت : 1۔ ہم ہی قرآن مجید کو نازل کرنے والے ہیں اور ہم ہی اس کی حفاظت کرنے والے ہیں۔ (الحجر : 9)
Ayahs 75:20–23

كَلَّا بَلْ تُحِبُّوْنَ الْعَاجِلَةَۙ Open ayah 75:20 in the Quran reader

ہرگز نہیں اصل بات یہ ہے کہ تم لوگ دنیا کو پسند کرتے ہو

وَ تَذَرُوْنَ الْاٰخِرَةَؕ Open ayah 75:21 in the Quran reader

اور آخرت کو چھوڑ دیتے ہو

وُجُوْهٌ یَّوْمَئِذٍ نَّاضِرَةٌۙ Open ayah 75:22 in the Quran reader

اس دن کچھ چہرے تروتازہ ہوں گے

اِلٰى رَبِّهَا نَاظِرَةٌۚ Open ayah 75:23 in the Quran reader

اور وہ اپنے رب کی طرف دیکھ رہے ہوں گے

فہم القرآن ربط کلام : اس سورت کا مرکزی مضمون قیامت کا قائم ہوناثابت کرنا ہے، اس بات کے لیے اللہ تعالیٰ نے دو قسمیں اٹھائیں اور دلائل کے ساتھ ثابت فرمایا ہے کہ قیامت ہر صورت واقع ہوگی۔ قیامت کے انکار کے پیچھے دیگر اسباب کے ساتھ ایک سبب یہ بھی ہے کہ انسان جلد باز واقع ہوا ہے۔ جلد بازی کی وجہ سے انسان چاہتا ہے کہ جو اسے ملنا ہے وہ دنیا میں ہی مل جائے اور اس سے کوئی پوچھ گچھ نہ کی جائے۔ اس سوچ کی بنا پر وہ آخرت کو فراموش کردیتا ہے۔ جلدی کرنے والوں کے مقابلے میں وہ لوگ بہتر ہیں جو دنیا میں بھرپور کردار ادا کرنے کے باوجود آخرت کو نہیں بھولتے وہ دنیا کی خاطر جان بوجھ کر کوئی ایسا قدم نہیں اٹھاتے جس سے ان کی آخرت کھوٹی ہوجائے۔ قیامت کے دن ان لوگوں کو دائیں ہاتھ میں اعمالنامے دیے جائیں گے تو ان کے چہرے روشن اور ہشاش بشاش ہوجائیں گے اور وہ اپنے رب کے انوار و تجلیات کو دیکھ رہے ہوں گے۔ قرآن مجید نے اس منظر کو ان الفاظ میں بیان فرمایا ہے کہ اس دن کچھ چہرے ہشاش بشاش ہوں گے اور وہ اپنے رب کو دیکھ رہے ہوں گے۔ (عَنْ اَبِیْ سَعِیْدِنِ الْخُدْرِیِّ ؓ اَنَّ نَا سا قالُوْا یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ ھَلْ نَرٰی رَبَّنَا یَوْمَ الْقِیَا مَۃِ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ نَعَمْ ھَلْ تُضَارُّوْنَ فِیْ رُؤیَۃِ الشَّمْسِ بالظَّھِیْرَۃِ صَحْوًا لَیْسَ مَعَھَا سَحَابٌ وَھَلْ تُضَارُّوْنَ فِیْ رُؤْیَۃِ الْقَمَرِ لَیْلَۃَ الْبَدْرِ صَحْوًا لَیْسَ فِیْھَا سَحَابٌ قَالُوْا لاَ یَارَسُوْلَ اللّٰہِ قَالَ مَا تُضَارُّوْنَ فِیْ رُؤْیَۃِ اللّٰہِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ اِلَّا کَمَا تُضَارُّوْنَ فِیْ رُؤْیَۃِ اَحَدِھِمَا۔۔ ) (رواہ البخاری : باب (إِنَّ اللَّہَ لاَ یَظْلِمُ مِثْقَالَ ذَرَّۃٍ ) ” حضرت ابو سعید خدری ؓ بیان کرتے ہیں کہ کچھ لوگوں نے دریافت کیا اے اللہ کے رسول ﷺ ! قیامت کے دن کیا ہم اپنے پروردگار کا دیدار کریں گے ؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہاں ! کیا تم دوپہر کے وقت جب بادل نہ ہوں سورج کو دیکھنے میں دقّت محسوس کرتے ہو ؟ کیا بادل نہ ہوں تو چودھویں رات میں چاند کے دیکھنے میں تنگی محسوس کرتے ہو ؟ صحابہ نے جواب دیا، نہیں ! اے اللہ کے رسول ! آپ نے فرمایا : قیامت کے دن تم اللہ تعالیٰ کے دیدار میں ہرگز مشکل نہیں پاؤ گے جس قدر تم ان دونوں میں سے کسی ایک کے دیکھنے میں تنگی پاتے ہو۔۔ “
Ayahs 75:24–30

وَ وُجُوْهٌ یَّوْمَئِذٍۭ بَاسِرَةٌۙ Open ayah 75:24 in the Quran reader

اور کچھ چہرے بےرونق ہوں گے

تَظُنُّ اَنْ یُّفْعَلَ بِهَا فَاقِرَةٌؕ Open ayah 75:25 in the Quran reader

اور وہ سمجھ رہے ہوں گے کہ ان کے ساتھ کمر توڑ سلوک ہونے والا ہے

كَلَّاۤ اِذَا بَلَغَتِ التَّرَاقِیَۙ Open ayah 75:26 in the Quran reader

ہرگز نہیں جب جان حلق میں اٹک جائے گی

وَ قِیْلَ مَنْ١ٚ رَاقٍۙ Open ayah 75:27 in the Quran reader

اور کہا جائے گا کہ ہے کوئی جھاڑ پھونک کرنے والا۔ ؟

وَّ ظَنَّ اَنَّهُ الْفِرَاقُۙ Open ayah 75:28 in the Quran reader

اور آدمی سمجھ لے گا کہ دنیا سے جدائی کا وقت ہے

وَ الْتَفَّتِ السَّاقُ بِالسَّاقِۙ Open ayah 75:29 in the Quran reader

اور پنڈلی سے پنڈلی جڑ جائے گی

اِلٰى رَبِّكَ یَوْمَئِذِ اِ۟لْمَسَاقُ٢ؕ۠ Open ayah 75:30 in the Quran reader

وہ دن تیرے رب کی طرف روانگی کا ہوگا

فہم القرآن ربط کلام : نیک لوگوں کے مقابلے میں آخرت کا انکار کرنے والوں کا حال۔ جوں ہی قیامت کے منکرین کو ان کے اعمال نامے ان کے بائیں ہاتھوں میں دئیے جائیں گے تو ان کے رنگ پیلے اور چہرے بجھ جائیں گے وہ فوراً سمجھ جائیں گے کہ ہمارے ساتھ کمرتوڑ سلوک ہونے والا ہے، کمرتوڑ سلوک سے مراد انتہادرجے کی ذلّت اور سزا ہے۔ اس مشکل گھڑی کی ابتدا اسی وقت سے ہوجائے گی جب ان پر موت وارد ہوگی۔ ایسے آدمی کی موت کے وقت یہ حالت ہوتی ہے جیسے اس کی جان ہنسلی میں آکراٹک گئی سو یہ ایسا وقت ہے جب کوئی دوا اثر نہیں کرتی اور اس کے لواحقین اس وقت کہتے ہیں کہ اب کسی سے دعا کروانی چاہیے۔ جن کا عقیدہ کمزور ہوتا ہے وہ تعویذ، گنڈھے اور جھاڑ پھونک کے پیچھے بھاگتے ہیں حالانکہ مرنے والا سمجھ جاتا ہے کہ میرا آخری وقت آن پہنچا ہے۔ اس کی ایک پنڈلی دوسری پنڈلی کے ساتھ لگ جاتی ہے یعنی اسے انتہا درجے کی کمزوری لاحق ہوجاتی ہے کیونکہ انسان کی روح اس کے پاؤں کی طرف سے نکل کر اس کے سر کی طرف سے پرواز کرتی ہے۔ اس لیے پنڈلیوں کی کمزوری کا پہلے ذکر کیا ہے یہاں تک اس کے عزیز و اقرباء بھی اس کے ہاتھ پاؤں سیدھے کرنے شروع کردیتے ہیں تاکہ موت کے بعد اس کا وجود ٹیڑا نہ ہوجائے۔ (وَ لَوْ تَرٰٓی اِذْ یَتَوَفَّی الَّذِیْنَ کَفَرُوا الْمَلآءِکَۃُ یَضْرِبُوْنَ وُجُوْہَہُمْ وَ اَدْبَارَہُمْ وَ ذُوْقُوْا عَذَابَ الْحَرِیْقِ ) (الانفال : 50) ” اور کاش ! آپ دیکھیں جب فرشتے کافر لوگوں کی جان قبض کرتے ہیں تو ان کے چہروں اور پشتوں پر مارتے ہوئے کہتے ہیں کہ جلا دینے والا عذاب چکھو۔ (عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ؓ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ إِنَّ الْعَبْدَ الْکَافِرَ إِذَا کَانَ فِی انْقِطَاعٍ مِنَ الدُّنْیَا وَإِقْبَالٍ مِنَ الآخِرَۃِ نَزَلَ إِلَیْہِ مِنَ السَّمَآءِ مَلَآءِکَۃٌ سُوْدُ الْوُجُوْہِ مَعَہُمُ الْمُسُوْحُ فَیَجْلِسُوْنَ مِنْہُ مَدَّ الْبَصَرِ ثُمَّ یَجِیْءُ مَلَکُ الْمَوْتِ حَتّٰی یَجْلِسَ عِنْدَ رَأْسِہٖ فَیَقُولُ أَیَّتُہَا النَّفْسُ الْخَبِیْثَۃُ اخْرُجِیْٓ إِلَی سَخَطٍ مِّنَ اللّٰہِ وَغَضَبٍ قَالَ فَتُفَرَّقُ فِیْ جَسَدِہٖ فَیَنْتَزِعُہَا کَمَا یُنْتَزَعُ السَّفُّوْدُ مِنَ الصُّوْفِ الْمَبْلُوْلِ ) (رواہ أحمد : مسند براء بن عازب) ” حضرت براء بن عازب ؓ بیان کرتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب دنیا سے کافر کا رخصت ہونے اور موت کا وقت آتا ہے تو آسمان سے کالے چہروں والے فرشتے اترتے ہیں، ان کے پاس ٹاٹ کا لباس ہوتا ہے، فرشتے فوت ہونے والے کافر سے حد نگاہ تک دور بیٹھ جاتے ہیں۔ ملک الموت اس کے سرہانے آکر کہتا ہے۔ اے خبیث جان۔ اللہ کی ناراضگی اور غضب کا سامنا کر پھر روح اس کے جسم سے الگ ہوتی، فرشتے اسے اس طرح کھینچتے ہیں جیسے گرم سلاخ کو روئی سے کھینچا جاتا ہے۔ “ مسائل 1۔ آخرت کے دن بہت سے چہرے مایوس ہوں گے اور وہ اس خیال میں ہوں گے کہ ہم پر بھاری مصیبت ٹوٹنے والی ہے۔ 2۔ برے انسان کو موت کے وقت ہی اپنے انجام کا پتہ چل جاتا ہے۔ 3۔ فوت ہونے والے اکثر لوگوں کو یقین ہوجاتا ہے کہ اب میرا آخری وقت آن پہنچا ہے۔ 4۔ موت کے وقت آدمی کی پنڈلی سے پنڈلی جڑ جاتی ہے۔ 5۔ موت کے وقت اس کے لواحقین دوا کی بجائے دعا پر زیادہ متوجہ ہوتے ہیں۔ تفسیر بالقرآن قیامت کے دن برے لوگوں کے چہرے مایوس اور ذلیل ہوں گے : 1۔ کفار کے چہرے بگڑے ہوئے ہوں گے۔ (الحج : 73) 2۔ کفار کے چہرے مرجھائے اور اڑے ہوئے ہوں گے۔ (القیامہ : 24) 3۔ کفار کے چہروں پر گردوغبار ہوگا۔ (عبس : 40) 4۔ مجرموں کے چہرے ڈرے اور اوندھے ہوں گے۔ (الغاشیہ : 2) 5۔ اللہ تعالیٰ کفار کو ان کے چہروں کے بل اوندھا کرکے اٹھائے گا یہ ان کی سزا ہے۔ (الاسراء : 97 تا 98) 6۔ برے لوگوں کے چہروں پر ذلت چھائی ہوگی اور انہیں اللہ تعالیٰ سے کوئی نہ بچا سکے گا۔ (یونس : 27)
Ayahs 75:31–36

فَلَا صَدَّقَ وَ لَا صَلّٰىۙ Open ayah 75:31 in the Quran reader

چناچہ نہ اس نے سچ کی تصدیق کی اور نہ نماز پڑھی

وَ لٰكِنْ كَذَّبَ وَ تَوَلّٰىۙ Open ayah 75:32 in the Quran reader

بلکہ جھٹلایا اور پلٹ گیا

ثُمَّ ذَهَبَ اِلٰۤى اَهْلِهٖ یَتَمَطّٰىؕ Open ayah 75:33 in the Quran reader

پھر اکڑتا ہوا اپنے گھر والوں کی طرف چل پڑا

اَوْلٰى لَكَ فَاَوْلٰىۙ Open ayah 75:34 in the Quran reader

تیرے لیے ہلاکت ہی ہلاکت ہے

ثُمَّ اَوْلٰى لَكَ فَاَوْلٰىؕ Open ayah 75:35 in the Quran reader

پھر تیرے لیے ہلاکت ہی ہلاکت ہے

اَیَحْسَبُ الْاِنْسَانُ اَنْ یُّتْرَكَ سُدًىؕ Open ayah 75:36 in the Quran reader

کیا انسان نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ وہ اسی حالت میں چھوڑ دیا جائے گا

فہم القرآن ربط کلام : قیامت کے منکر کو موت کے وقت اس لیے زیادہ تکلیف ہوتی ہے کیونکہ وہ نہ قیامت پر یقین رکھتا ہے اور نہ نمازی ہوتا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ موت کے لمحات بڑے سخت ہوتے ہیں، ان لمحات سے مراد وہ لمحات ہیں جو روح نکلنے سے پہلے شروع ہوتے ہیں۔ جب مومن کی روح نکلنا شروع ہوتی ہے تو اس کے لیے وہ لمحات بہت آسان کر دئیے جاتے ہیں، جس کا حوالہ پچھلی آیت کی تفسیر میں دیا گیا ہے۔ جو شخص اللہ اور اس کے رسول پر ایمان نہ لایا اور نہ اس نے قیامت کی تصدیق کی اور نہ نماز پڑھی، نزع کے وقت اس کی بری حالت ہوتی ہے۔ اس کی حالت کا درج ذیل حدیث میں ذکر کیا گیا ہے۔ ایسا اس لیے ہوتا ہے کہ وہ اعتقاداً یا عملاً اس شخص کی طرح ہوتا ہے جس کا تذکرہ ان آیات میں کیا گیا ہے۔ بعض مفسرین نے اس سے مراد ابوجہل لیا ہے۔ جس نے ایک موقعہ پر نبی معظم ﷺ کے ساتھ یہ انداز اختیار کیا تھا۔ اس نے نبی ﷺ اور قیامت کو جھٹلایا اور پھر متکبرانہ چال کے ساتھ پلٹا اور اپنے گھر کی طرف چل دیا۔ اس کے بارے میں کہا گیا کہ اس کے لیے بربادی ہی بربادی ہے یہ سمجھتا ہے کہ اسے یوں ہی چھوڑ دیا جائے گا حالانکہ ایسا ہرگز نہیں ہوگا بلکہ اسے جہنم کی آگ میں جھونکا جائے گا جس میں وہ اپنے کیے کی پوری پوری سزا پائے گا۔ (عَنْ عُبَادَۃَ بْنِ الصَّامِتِ ؓ عَنِ النَّبِیِّ ﷺ قَالَ مَنْ أَحَبَّ لِقَاء اللّٰہِ أَحَبَّ اللّٰہُ لِقَاءَ ہٗ وَمَنْ کَرِہَ لِقَاء اللّٰہِ کَرِہَ اللّٰہُ لِقَاءَ ہٗ قَالَتْ عَاءِشَۃُ أَوْ بَعْضُ أَزْوَاجِہٖ إِنَّا لَنَکْرَہُ الْمَوْتَ قَالَ لَیْسَ ذَاکِ وَلٰکِنَّ الْمُؤْمِنَ إِذَا حَضَرَہُ الْمَوْتُ بُشِّرَ بِرِضْوَان اللّٰہِ وَکَرَامَتِہِ فَلَیْسَ شَیْءٌ أَحَبَّ إِلَیْہِ مِمَّا أَمَامَہٗ فَأَحَبَّ لِقَاء اللّٰہِ وَأَحَبَّ اللّٰہُ لِقَاءَ ہٗ وَإِنَّ الْکَافِرَ إِذَا حُضِرَ بُشِّرَ بِعَذَاب اللّٰہِ وَعُقُوبَتِہٖ فَلَیْسَ شَیْءٌ کْرَہَ إِلَیْہِ مِمَّا أَمَامَہٗ کَرِہَ لِقَاء اللّٰہِ وَکَرِہَ اللّٰہُ لِقَاءَ ہٗ ) (رواہ البخاری : کتاب الرقاق، باب، من أحب لقاء اللّٰہ أحَب اللّٰہ لقاء ہ) ” حضرت عبادہ بن صامت ؓ نبی کریم ﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا : جو اللہ کی ملاقات کو پسند کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کی ملاقات کو پسند کرتا ہے اور جو اللہ کی ملاقات کو ناپسند کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کی ملاقات کو ناپسند کرتا ہے۔ حضرت عائشہ ؓ یا آپ ﷺ کی بیویوں میں سے کسی ایک نے عرض کی کہ ہم تو موت کو ناپسند کرتے ہیں۔ آپ نے فرمایا بات یہ نہیں بلکہ بات یہ ہے کہ جب مومن کی موت کا وقت آتا ہے تو اس کو اللہ کی رضامندی اور انعام واکرام کی بشارت دی جاتی ہے، اس بشارت کی وجہ سے موت اسے تمام چیزوں سے زیادہ محبوب ہوجاتی ہے اس وجہ سے وہ اللہ کی ملاقات کو پسند کرتا ہے اور اللہ اس کی ملاقات کو پسند کرتا ہے۔ جب کافر کی موت کا وقت آتا ہے تو اسے اللہ کے عذاب کی وعید سنائی جاتی ہے۔ یہ وعید اسے اپنے سامنے چیزوں سے سب سے زیادہ ناپسند ہوتی ہے اسی وجہ سے وہ اللہ کی ملاقات کو ناپسند کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ اس کی ملاقات کو ناپسند کرتا ہے۔ (مومن موت سے پہلے گھبراتا اور تکلیف محسوس کرتا ہے جب اسے موت آتی ہے تو اپنے مالک کی ملاقات پر خوش ہوجاتا ہے۔ ) مسائل 1۔ موت کے وقت بےدین شخص کو احساس ہوتا ہے کہ نہ اس نے اللہ اور اس کے رسول کی تصدیق کی اور نہ ہی نماز پڑھی۔ 2۔ قیامت کو جھٹلانے والے اور بےنماز کی موت کے وقت بری حالت ہوتی ہے۔ تفسیر بال قرآن قیامت کے منکر اور بےنماز کا انجام : 1۔ قیامت کو جھٹلانے اور لوگوں کو اللہ کے راستہ سے روکنے والے کے لیے جلا دینے والا عذاب ہوگا۔ (الحج : 9) 2۔ اللہ کی آیات کے ساتھ کفر کرنے والے اور قیامت کو جھٹلانے والے عذاب میں مبتلا کیے جائیں گے۔ (الروم : 16) 3۔ قیامت کو جھٹلانے والوں کے لیے آگ کا عذاب ہوگا۔ (الفرقان : 11) 4۔ بےنماز لوگ جہنم کا ایندھن بنیں گے۔ (المدثر : 43)
Ayahs 75:37–40

اَلَمْ یَكُ نُطْفَةً مِّنْ مَّنِیٍّ یُّمْنٰىۙ Open ayah 75:37 in the Quran reader

کیا انسان ایک حقیر پانی کا نطفہ نہ تھا جو رحم مادر میں ٹپکایا جاتا ہے ؟

ثُمَّ كَانَ عَلَقَةً فَخَلَقَ فَسَوّٰىۙ Open ayah 75:38 in the Quran reader

پھر وہ ایک لوتھڑا بنا پھر اللہ نے اس کا جسم بنایا اور اس کے اعضا درست کیے

فَجَعَلَ مِنْهُ الزَّوْجَیْنِ الذَّكَرَ وَ الْاُنْثٰىؕ Open ayah 75:39 in the Quran reader

پھر اس سے مرد اور عورت کی دو قسمیں بنائیں

اَلَیْسَ ذٰلِكَ بِقٰدِرٍ عَلٰۤى اَنْ یُّحْیَِۧ الْمَوْتٰى۠ Open ayah 75:40 in the Quran reader

کیا ” اللہ “ اس پر قادر نہیں ہے کہ مرنے والوں کو پھر زندہ کرے ؟

فہم القرآن ربط کلام : قیامت کا انکار کرنے والے کے لیے اس کے وجود سے قیامت کی دلیل۔ قرآن مجید نے موت کے بعد زندہ ہونے کو جن دلائل کے ساتھ ثابت کیا ہے ان دلائل میں ایک بڑی دلیل انسان کے اپنے وجود میں پائی جاتی ہے۔ جو شخص قیامت کے دن زندہ ہونے کا انکار کرتا ہے کیا وہ یہ نہیں سوچتا کہ وہ منی کے ایک قطرہ تھا۔ جو رحم مادر میں ٹپکایا گیا اللہ تعالیٰ نے پھر اسے لوتھڑا بنایا پھر اسے انسانی شکل میں ڈھالا پھر اسے مرد یا عورت کی قسم میں تبدیل فرمایا۔ کیا اب اللہ تعالیٰ اس بات پر قادر نہیں کہ مردوں کو زندہ کرے ؟ کیوں نہیں ! وہ اس بات پر پوری طرح قادر ہے کہ وہ مردوں کو زندہ فرما کر اپنی بارگاہ میں پیش کرے اور یہ کام ہر صورت ہو کر رہے گا۔ انسان حضرت آدم (علیہ السلام) کی تخلیق پر غور کرے کہ اللہ تعالیٰ نے آدم (علیہ السلام) کو مٹی سے پیدا کیا جو بےحرکت تھی اس بےحرکت مٹی سے اللہ تعالیٰ نے حسین و جمیل اور چلتا پھرتا انسان پیدا فرما دیا۔ ہر انسان اپنی تخلیق پر غور کرے کہ جس جرثومے سے پیدا کیا گیا ہے وہ ایک بےجان سی چیز ہوتا ہے، اور یہ جرثومہ اس قدر چھوٹا ہوتا ہے کہ سوائے خاص قسم کی دوربین اسے دیکھا نہیں جاسکتا۔ اللہ تعالیٰ ہی اس جرثومے میں روح پیدا کرتا ہے، اگر اللہ تعالیٰ اس میں روح نہ ڈالے تو وہ مردہ ہی ہوتا ہے۔ جو اللہ اس مردہ جرثومے سے زندہ بچہ یا بچی پیدا کرتا ہے کیا وہ مردہ ہڈیوں سے قیامت کے دن انسان کو پیدا نہیں کرسکتا ؟ اس کا ارشاد ہے کہ میرے لیے دوسری مرتبہ پیدا کرنا پہلی مرتبہ پیدا کرنے سے زیادہ آسان ہے۔ (الروم : 27) ” لوگو ! اگر تمہیں زندگی کے بعد موت کے بارے میں شک ہے تو تمہیں معلوم ہونا چاہیے کہ ہم نے تمہیں مٹی سے پیدا کیا ہے پھر نطفے سے پھر خون کے لوتھڑے سے پھر گوشت سے جس کی بناوٹ کامل بھی ہوتی ہے اور ناقص بھی۔ تاکہ تم پر حقیقت واضح کریں کہ ہم جس نطفے کو چاہتے ہیں ایک خاص وقت تک رحموں میں ٹھہرائے رکھتے ہیں پھر تم کو ایک بچے کی صورت میں نکالتے ہیں تاکہ انسان جوان ہوجا اور تم میں سے کوئی پہلے ہی واپس بلالیا جاتا ہے اور کوئی ناکارہ عمر کی طرف پھیر دیا جاتا ہے تاکہ سب کچھ جاننے کے بعد سب کچھ بھول جائے تم دیکھتے ہو کہ زمین خشک ہوتی ہے پھر ہم نے اس پر بارش برسائی کہ یکایک وہ ابھری اور پھول گئی اور اس نے ہر قسم کی خوش نما نباتات اگلنی شروع کردی۔ “ (الحج : 5) (عَنْ عَبْدِاللّٰہِ ؓ قَالَ حَدَّثَنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ وَھُوَ الصَّادِقُ الْمَصْدُوْقُ قَالَ إِنَّ أَحَدَکُمْ یُجْمَعُ خَلْقُہٗ فِیْ بَطْنِ أُمِّہٖ أَرْبَعِیْنَ یَوْمًانُطْفَۃً ثُمَّ یَکُوْنُ عَلَقَۃً مِثْلَ ذٰلِکَ ثُمَّ یَکُوْنُ مُضْغَۃً مِثْلَ ذٰلِکَ ثُمَّ یَبْعَثُ اللّٰہُ مَلَکًا فَیُؤْمَرُ بِأَرْبَعِ کَلِمَاتٍ وَیُقَالُ لَہٗ أُکْتُبْ عَمَلَہٗ وَرِزْقَہٗ وَأَجَلَہٗ وَشَقِیٌّ أَوْ سَعِیْدٌ ثُمَّ یُنْفَخُ فِیْہِ الرُّوْحُ ۔۔ ) (رواہ البخاری : باب ذکر الملائکۃ) ” حضرت عبداللہ ؓ بیان کرتے ہیں صادق و مصدوق رسول مکرم ﷺ نے بیان فرمایا کہ تم میں سے ہر کوئی اپنی ماں کے پیٹ میں چالیس دن ٹھہرتا ہے پھر جما ہوا خون بن جاتا ہے پھر چالیس دن بعد گوشت کا لوتھڑا بن جاتا ہے اس کے بعد اللہ تعالیٰ فرشتہ بھیجتے ہیں اسے آدمی کا عمل، رزق، موت اور نیک وبد ہونا لکھنے کا حکم ہوتا ہے پھر اس میں روح پھونک دی جاتی ہے۔۔ “ ” حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول ﷺ نے فرمایا دوسرا صور پھونکنے کا عرصہ چالیس ہوگا۔ حضرت ابوہریرہ ؓ سے ان کے شاگردوں نے پوچھا چالیس دن ؟ حضرت ابوہریرہ ؓ نے فرمایا کہ میں یہ نہیں جانتا۔ انہوں نے استفسار کیا چالیس ماہ ؟ حضرت ابوہریرہ ؓ نے جواباً فرمایا میرا کوئی جواب نہیں۔ انہوں نے پھر پوچھا چالیس سال ہیں ؟ ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں میں یہ بھی نہیں کہتا اس کے بعد اللہ تعالیٰ بارش نازل فرمائے گا لوگ یوں اگیں گے جس طرح انگوری اگتی ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا، انسان کی دمچی کے علاوہ ہر چیز مٹی ہوجائے گی اور قیامت کے دن دمچی سے تمام اعضاء کو جوڑا جائے گا۔ “ (رواہ البخاری : باب (یوم ینفخ فی الصور فتأتون أفواجا) زمرا) مسائل 1۔ انسان منی کے ایک قطرے سے پیدا ہوتا ہے۔ 2۔ اللہ تعالیٰ منی کے قطرے سے انسان کا وجود اور جوڑ بناتا ہے۔ 3۔ اللہ تعالیٰ ہی رحم مادر میں بچہ یا بچی پیدا کرنے کا فیصلہ کرتا ہے۔ 4۔ اللہ تعالیٰ مردوں کو دوبارہ زندہ کرنے کی طاقت رکھتا ہے۔ تفسیر بالقرآن تخلیق انسانی کے مختلف مراحل : 1۔ ہم نے انسان کو مٹی کے جوہر سے پیدا کیا۔ (المومنون : 12) 2۔ ” اللہ “ نے آدم کو مٹی سے پیدا کیا۔ (آل عمران : 59) 3۔ حواکو آدم سے پیدا کیا۔ (النساء : 1) 4۔” اللہ “ نے انسان کو نطفہ سے پیدا کیا۔ (النحل : 4) 5۔ ہم نے انسان کو مخلوط نطفہ سے پیدا کیا۔ (الدھر : 2)