Ayahs 74:1–3فہم القرآن
ربط سورت : سورة المزمل کی ابتداء اور اس کے آخر میں نبی ﷺ کو تہجد کا ایک فائدہ یہ بتلایا گیا کہ تہجد کی نماز انسان میں ضبط نفس اور مستعدی پیدا کرتی ہے۔ المدثر کے آغاز میں حکم ہوا کہ اب آرام کا وقت ختم ہوا اس لیے ” اللہ “ کے راستے میں اٹھ کھڑے ہوں اور اپنا لباس پاک صاف رکھیں، شرک کی نجاست سے دور رہیں، تبلیغ کا کام کسی معاوضہ کی غرض سے نہ کریں اور اس راستے میں آنے والے مصائب پر صبر کرتے رہیں۔
سورۃ العلق کی ابتدائی آیات نازل ہونے کے بعد ایک مدت تک آپ ﷺ پر وحی نازل نہ ہوئی۔ اس مدت کے بارے میں محدثین اور مفسرین میں اختلاف ہے۔ کچھ کا خیال ہے کہ ایک سال تک وحی نازل نہیں ہوئی لیکن ثقہ روایات سے ثابت ہوتا ہے کہ سورة العلق کے نزول کے کچھ دن بعد سورة المدثر کی ابتدائی آیات نازل ہوئیں۔ جن کے بارے میں نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے۔
(وَعَنْ جَابِرٍ ؓ اَنَّہُ سَمِعَ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ یُحَدِّثُ عَنْ فَتْرَۃِ الْوَحْیِ قَالَ فَبَیْنَا اَنَا اَمْشِیْ سَمِعْتُ صَوْتًا عَنِِ السَّمَاءِ فَرَفَعْتُ بَصَرِیْ فَاِذَاالْمَلَکُ الَّذِیْ جَآءَ نِیْ بِحِرَاءَ قَاعِدٌ عَلٰی کُرْسِیٍّ بَیْنَ السَّمَاءِ وَالْاَرْضِ فَجُءِثْتُ مِنْہُ رُعْبًاحَتّٰی ھَوَیْتُ اِلَی الْاَرْضِ فَجِءْتُ اِلٰی اَھْلِیْ فَقُلْتُ زَمِّلُوْنِیْ زَمِّلُوْنِیْ فَزَمَّلُوْنِْی فَاَنْزَلَ اللّٰہُ تَعَالٰی (یَا اَیُّھَاالْمُدَّثِّرُ قُمْ فَاَنْذِرْ وَرَبَّکَ فَکَبِّرْ وَثِیَابَکَ فَطَھِّرْ وَالرُّجْزَفَاھْجُرْ ) ثُمَّ حَمِیَ الْوَحْیُ وَتَتَابَعَ ) (رواہ مسلم : باب بَدْءِ الْوَحْیِ إِلَی رَسُول اللَّہِ ﷺ
” حضرت جابر ؓ بیان کرتے ہیں کہ میں نے اللہ کے رسول ﷺ سے سنا، آپ وحی کے منقطع ہونے کے بارے فرما رہے تھے فرمایا کہ ایک مرتبہ میں چل رہا تھا کہ میں نے آسمان سے آواز سنی۔ نظر اٹھائی تو وہی فرشتہ جو میرے پاس حراء میں آیا تھا، وہ آسمان اور زمین کے درمیان ایک کرسی پر بیٹھا ہوا تھا۔ اس سے مجھے اتنا خوف لاحق ہوا کہ میں زمین کے ساتھ لگا جا رہا تھا۔ میں واپس اپنے گھروالوں کے پاس آیا اور انہیں کہا کہ مجھے کپڑا اوڑھا دو ، مجھے کپڑادو۔ انہوں نے مجھے چادر اوڑھا دی۔ پھر اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل فرمائیں۔ ” اے کپڑا اوڑھنے والے ! کھڑے ہوجاؤ اور مخلوق کو اپنے رب کی کبریائی سے ڈراؤ اور اپنے کپڑوں کو پاک صاف رکھو، اور شرک سے کنارہ کش رہو اس کے بعد پے در پے اور مسلسل وحی آنے لگی۔ “
المدّثرکا آغاز بھی بڑے دلربا انداز میں ہوا۔ ارشاد ہوا کہ اے کپڑا اوڑھنے والے ! اللہ کے راستے میں کھڑے ہوجاؤ اور لوگوں کو ان کے برے اعمال کے برے انجام سے ڈراؤ اور لوگوں کو اپنے رب کی کبریائی سے آگاہ فرماؤ۔ یہ حکم سننے کے بعد اللہ کے رسول ﷺ اللہ کے راستے میں کھڑے ہوئے اور تیئس سال تک اس دعوت کے لیے کھڑے رہے نہ کاروبار کی طرف توجہ فرمائی اور نہ ہی اپنے آرام کا خیال رکھا۔ تہجد کی نماز میں بھی یہی فکر دامن گیر رہی اور دن بھی اسی کام میں گزرے۔ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے کئی بار آپ ﷺ کو ارشاد فرمایا کہ میرے نبی ! اگر یہ لوگ ایمان نہیں لاتے تو کیا آپ ان کے لیے اپنے آپ کو ہلاک کرلیں گے ؟ (الشعراء : 3، الکھف : 6)
المدّثر کی ابتدائی آیات میں آپ ﷺ کو بنیادی ہدایات دی گئیں جو ہر مبلغ اور راہنما کے لیے ضروری ہیں۔
1۔ راہنما اور مبلغ کا فرض ہے کہ وہ اپنی قوم کو خطرات سے آ گاہ کرے، بالخصوص آخرت کے بارے میں لوگوں کو متنبہ کرتا رہے کیونکہ فکر آخرت کی بنیاد پر ہی انسان اپنے افکار اور کردار کو ٹھیک کرسکتا ہے، جو شخص آخرت کی جواب دہی سے لاپرواہ ہوجائے اس کا درست ہونا ناممکن ہوتا ہے۔ اللہ کے رسول ﷺ اپنے رشتہ داروں اور ساتھیوں کو آخرت کے بارے میں ان الفاظ میں ڈرایا کرتے تھے۔
(عَنْ عَدِیِّ بْنِ حَاتِمٍ ؓ قَالَ قَال النَّبِیُّ ﷺ مَا مِنْکُمْ مِنْ أَحَدٍ إِلَّا وَسَیُکَلِّمُہُ اللّٰہُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ لَیْسَ بَیْنَ اللّٰہِ وَبَیْنَہٗ تُرْجُمَانٌ ثُمَّ یَنْظُرُ فَلَا یَرٰی شَیْءًا قُدَّامَہُ ثُمَّ یَنْظُرُ بَیْنَ یَدَیْہِ فَتَسْتَقْبِلُہُ النَّارُ فَمَنْ اسْتَطَاعَ مِنْکُمْ أَنْ یَتَّقِیَ النَّارَ وَلَوْ بِشِقِّ تَمْرَۃٍٍ ۔۔ فَمَنْ لَّمْ یَجِدْ فَبِکَلِمَۃٍ طَیِّبَۃٍ ) (رواہ البخاری : باب کلام الرب عزوجل یوم القیامۃ مع الأنبیاء وغیرھم)
” حضرت عدی بن حاتم ؓ بیان کرتے ہیں نبی ﷺ نے فرمایا تم میں سے ہر کسی کے ساتھ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کلام کریں گے، اللہ اور اس شخص کے درمیان کوئی ترجمان نہیں ہوگا، وہ دیکھے گا اس نے کیا عمل کیے ہیں، آدمی دیکھے گا تو سامنے آگ ہوگی تم میں جو استطاعت رکھتا ہے وہ آگ سے بچے چاہے اسے کھجور کا ایک ٹکڑا صدقہ کرنا پڑے۔۔ جو یہ نہ پائے تو وہ اچھی بات کہے۔ “
(یَافَاطِمَۃَ بِنْتَ مُحَمَّدٍ یَاصَفِیَّۃَ بِنْتَ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ یَابَنِیْ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ لَاأَمْلِکُ لَکُمْ مِنَ اللّٰہِ شَیْءًا سَلُوْنِیْ مِنْ مَّالِیْ مَا شِءْتُمْ ) (رواہ مسلم : باب فی قولہ وأنذر عشیرتک الأقربین)
” اے محمد کی بیٹی فاطمہ اور عبدالمطلب کی بیٹی صفیہ اور اے عبدلمطلب کی اولاد۔ میں تمہارے لیے اللہ کے ہاں کسی چیز کا مالک نہیں ہوں گا البتہ میرے مال میں سے جتنا چاہو مطالبہ کرسکتے ہو۔ “
2۔ رَبَّکَ فَکَبِّرْ :
جس بات سے لوگوں کو آگاہ کرنا اور ڈرانا ہے وہ اللہ تعالیٰ کی کبریائی ہے اگر انسان کو اپنے رب کی بڑائی اور کبریائی کا احساس ہوجائے تو وہ کبھی جان بوجھ کر اس کی نافرمانی نہ کرے۔ ہر انسان کو یہ احساس ہونا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ کے سامنے کوئی دم نہیں مار سکتا۔ وہ جب چاہے اور جس طرح چاہے انسان کو پکڑ سکتا ہے۔ اس کی پکڑ سے کوئی کسی کو چھڑا نہیں سکتا۔ اللہ تعالیٰ کی کبریائی کے تصور سے انسان میں بیک وقت کئی تبدیلیاں رونما ہوتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی کبریائی کا تصور رکھنے والے شخص کے دل میں تکبر کی بجائے عاجزی پیدا ہوتی ہے، وہ اپنوں کے سامنے عاجز اور متواضع ہوتا ہے اور اسلام کے دشمنوں کے سامنے شیر کی طرح دلیر اور پہاڑ کی مانند مضبوط ہوتا ہے۔ وہ رب ذوالجلال کے سوا کسی کو سپر پاور تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتا۔ اللہ تعالیٰ کی کبریائی کا احساس رکھنے کی وجہ سے وہ اپنے رب کے حکم کے سامنے سرفکندہ رہتا ہے۔ جس مبلغ کا ایمان ہو کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی کبریاء نہیں تو وہ دین بالخصوص اس کی توحید کا پرچار کرتے ہوئے کسی سے خوفزدہ نہیں ہوتا۔ اسی لیے المدثر یعنی دوسری وحی میں آپ ﷺ کو ارشاد ہوا کہ اپنے رب کی کبریائی بیان کرو۔ اللہ تعالیٰ کی کبریائی بیان کرنے کا اوّلین مقصد یہ ہے کہ مبلغ دلائل کے ثابت کرے کہ ” اللہ “ کے سوا کوئی خالق، مالک، رازق اور معبود برحق نہیں ہے وہی مشکل کشا اور حاجت روا ہے یہی وہ دعوت ہے جس کے لیے تمام انبیاء کرام مبعوث کیے گئے اور اسی کے لیے آپ ﷺ کو حکم ہوا کہ لوگوں کو اپنے رب کی کبریائی سے ڈرائیں۔
اللہ تعالیٰ کے کبریا ہونے کے عقیدے کی تقویت کے لیے اذان، اقامت، نماز اور اس کے بعد، عیدین کی نماز، عیدگاہ کی طرف آنے، جانے کے وقت، چڑھائی چڑھتے ہوئے، جانور ذبح کرتے ہوئے، یہاں تک کہ جمرات کو کنکریاں مارتے ہوئے اور حجر اسود کا بوسہ لیتے ہوئے بھی اللہ اکبر کہنے کا حکم ہے تاکہ مسلمان اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کو سپر پاور نہ سمجھے مسلمانوں نے جب سے اللہ تعالیٰ کو اپنا کبریا ماننا چھوڑ دیا اسی وقت سے ذلیل ہونا شروع ہوئے ہیں۔ حالانکہ اس کا حکم ہے۔
(وَلَہُ الْکِبْرِیَآءُ فِی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَہُوَ الْعَزِیْزُ الْحَکِیْمُ ) (الجاثیہ : 37)
” زمین اور آسمانوں میں بڑائی اسی کے لیے ہے اور وہی زبردست اور حکیم ہے۔ “
مسائل
1۔ اللہ تعالیٰ نے نبی آخر الزمان ﷺ کو مدثر کے لقب سے پکارا ہے۔
2۔ اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو لوگوں کو برے انجام سے ڈرانے کے لیے مبعوث فرمایا۔
3۔ نبی آخر الزمان ﷺ نے اپنے عزیز و اقرباء اور لوگوں کو اللہ کی پکڑ سے ڈرایا۔
4۔ ” اللہ “ بہت بڑا ہے اس کی کبریائی پر ایمان لاتے ہوئے اس کی بڑائی کرنا چاہیے۔
تفسیر بالقرآن
ہر قسم کی قوت اور کبریائی ” اللہ “ کے لیے ہے :
1۔ ” اللہ “ ہی رب ہے۔ ( لانعام : 102) 2۔ ” اللہ “ ہی ہر چیز کا خالق ہے۔ (الرعد : 16)
3۔ ” اللہ “ ہی ازلی اور ابدی ذات ہے۔ (الحدید : 3) 4۔ مشرق ومغرب ” اللہ “ کے لیے ہے۔ (البقرۃ : 142)
5۔ ” اللہ “ غنی اور تعریف کیا گیا۔ ( فاطر : 35) 6۔ زمین و آسمان پر ” اللہ “ کی بادشاہی ہے۔ (آل عمران : 189)
7۔ زمین و آسمانوں میں صرف ” اللہ “ ہی کبریا ہے اور وہ ہر چیز پر غالب اور بڑی حکمت والا ہے۔ (الجاثیہ : 27)
8۔ جو کچھ آسمان و زمین میں ہے وہ ” اللہ “ کی ملکیت ہے اور ا ” اللہ “ ہر چیز پر قادر ہے۔ (آل عمران : 189)
Ayahs 74:4–7فہم القرآن
ربط کلام : نبوت کے آغاز میں آپ ﷺ کو مزید ہدایات۔
دعوت دینے والے کی دعوت کتنی ہی اچھی کیوں نہ ہو اگر وہ ان باتوں کا خیال نہیں رکھتا تو لوگ اس کی شخصیت اور دعوت سے متاثر ہونے کی بجائے اس سے دور بھاگ جائیں گے اس لیے نبوت کے ابتدائی دور میں آپ ﷺ کو درج ذیل ہدایات دی گئیں۔
1 ۔ اپنے لباس کو صاف اور اجلا رکھیں، یاد رہے کہ اس زمانے میں لوگ اس شخص کو پارسا سمجھتے تھے جو دنیا کے امور سے الگ تھلگ رہتا اور صاف ستھرا لباس پہننے سے پرہیز کرتا تھا۔ اسلام ترک دنیا اور گندہ رہنے کو انتہائی ناپسند سمجھتا ہے، بیشک دین میں سادگی کو بڑی اہمیت حاصل ہے لیکن انسان کا پاک اور صاف ستھرا رہنا نہایت ضروری ہے۔ پاک صاف رہنے سے آدمی نا صرف دیکھنے میں معزز اور شائستہ نظر آتا ہے بلکہ اس کی طبیعت میں بھی خوشی اور چستی پیدا ہوتی ہے۔
2 ۔ جس طرح لباس پاک صاف رکھنے کا حکم ہے اسی طرح حکم ہے کہ انسان کو ہر قسم کی جسمانی اور اخلاقی غلاظت سے بھی پاک ہونا چاہیے۔ ایک آدمی لباس کے اعتبار سے کتنا ہی صاف ستھرا رہتاہو اگر وہ جسمانی اور اخلاقی لحاظ سے گندہ ہے تو وہ کسی اچھے مقصد میں کامیاب نہیں ہوسکتا، سب سے بڑی گندگی اخلاق اور اعتقاد کی گندگی شرک ہے۔ اس لیے کچھ اہل علم نے ” اَلرُّجْزَ “ سے مراد شرک لیا ہے کیونکہ قرآن مجید نے ایک مقام پر مشرک کو کھلے لفظوں میں گندہ قرار دیا ہے۔ (الحج : 30)
3 ۔ نبی ﷺ کو جس معاشرے اور قوم میں مبعوث کیا گیا وہ معاشرہ اور قوم ہر اعتبار سے گمراہی کی انتہا کو پہنچی ہوئی تھی۔ لوگ شرک کو اللہ تعالیٰ کی قربت کا ذریعہ سمجھتے اور گمراہی کو دین ابراہیم کا نام دیتے تھے۔ اس معاشرے میں توحید کی دعوت دینا اور لوگوں کو گمراہی سے نکالنا اس طرح تھا جیسے کوئی شخص خود مشکلات کو دعوت دے رہا ہو اس لیے آپ کو صبر کی تلقین کی گئی۔
4 ۔ ایک مسلمان کی دوسرے کے ساتھ سب سے بڑی خیرخواہی یہ ہے کہ وہ اس کو اللہ کی توحید سمجھائے اور صراط مستقیم کی دعوت دے۔ صراط مستقیم کی طرف لانے والا شخص حقیقت میں دوسرے کا سب سے بڑا محسن ہوتا ہے۔ نبی ﷺ رحمت عالم اور خاتم المرسلین بنا کر مبعوث کیے گئے ہیں۔ آپ نے مکہ والوں کی اصلاح کے لیے دن رات ایک کیا ہوا تھا۔ آپ ﷺ انسانیت کے عظیم محسن تھے مگر مکہ والوں نے آپ کے احسان کا برا بدلا دیا جس پر آپ کا رنجیدہ خاطر ہونا اور آپ کے دل میں اس سوچ کا آنا فطری بات تھی کہ میں ان کی خیرخواہی کرتا ہوں اور یہ میرے ساتھ برا سلوک کرتے ہیں۔ اس سوچ سے بچنے کے لیے ابتدا میں ہی آپ کو یہ بات سمجھا دی گئی کہ آپ نے تبلیغ یا کسی کے ساتھ نیکی اس لیے نہیں کرنی کہ وہ آپ کو اس کے بدلے میں کچھ دے اور نہ ہی اپنے کام کا کسی کو احسان جتلانا ہے بلکہ آپ کو کھلے الفاظ میں یہ کہنا ہے۔
(قُلْ مَا اَسْاَلُکُمْ عَلَیْہِ مِنْ اَجْرٍ وَّمَا اَنَا مِنَ الْمُتَکَلِّفِینَ ) (ص : 86)
” میں اپنے کام پر تم سے کوئی اجر نہیں مانگتا اور نہ میں تکلف کرنے والوں میں سے ہوں۔ “
5 ۔ آپ ﷺ کو یہ بات بھی سمجھا دی گئی کہ جس راستے پر آپ کو گامزن کیا گیا ہے یہ مصائب کا راستہ ہے آپ کو مصائب برداشت کرنے کے لیے ہر وقت تیار رہنا ہوگا۔
” پس اے نبی صبر کرو جس طرح اولو العزم رسولوں نے صبر کیا ہے اور لوگوں کے معاملہ میں جلدی نہ کرو، جس دن یہ لوگ اس چیز کو دیکھ لیں گے جس کا انہیں خوف دلایا جا رہا ہے، انہیں یوں معلوم ہوگا کہ دنیا میں دن کی ایک گھڑی سے زیادہ نہیں ٹھہرے۔ “ (الاحقاف : 35)
مسائل
1۔ ہر آدمی بالخصوص ایک مبلّغ کو لباس پاک صاف رکھنے کے ساتھ ہر قسم کی ناپاکی سے بچے رہنا چاہیے۔
2۔ زیادہ طلب کرنے کے لیے کسی پر احسان نہیں کرنا چاہیے۔ 3۔ اپنے رب کے لیے ہر حال میں صبر کرنا چاہیے۔
تفسیر بالقرآن
صبر کی اہمیت اور اس کے فوائد :
ا۔ صبر اہم کاموں میں اہم ترین کام ہے۔ (الاحقاف : 35) 2۔ نبی ﷺ کو صبر کا حکم دیا گیا۔ (المعارج : 5)
3۔ اللہ تعالیٰ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔ (البقرۃ : 153) 4۔ صبر کا انجام اچھا ہوتا ہے۔ (الحجرات : 5)
5۔ صبر کرنے والے کامیاب ہوں گے۔ (المومنون : 111) 6۔ مسلمان صابر کی آخرت اچھی ہوگی۔ (الرعد : 24)
7۔ صبر کرنے والوں کو جنت میں سلامتی کی دعائیں دی جائیں گی۔ (الفرقان : 75)
8۔ صابر بغیر حساب کے جنت میں جائیں گے۔ (الزمر : 10)
Ayahs 74:8–25فہم القرآن
ربط کلام : اللہ کے رسول نے جونہی لوگوں کو اللہ کی توحید کی دعوت دی تو وہ لوگ آپ کی جان کے دشمن ہوگئے اور انہوں نے آپ کی مخالفت میں ایڈی چوٹی کا زور لگا دیا۔ ایسے لوگوں کو ان کا انجام بتلایا گیا ہے کہ آج تم اپنی طاقت پر گھمنڈ کرتے ہو۔ وہ وقت یاد کرو جس دن صور پھونکا جائے گا۔ انکار کرنے والوں کے لیے یہ دن بڑا سخت ہوگا اور اس کی سختی کا کوئی مقابلہ نہیں کرسکے گا۔
سرداران مکہ نے بڑی کوشش کی کہ نبی ﷺ کی دعوت کی طرف لوگ متوجہ نہ ہوسکیں لیکن دعوت کی کشش، آپ کے اخلاق اور آپ ﷺ کی عظیم جدوجہد کے نتیجہ میں لوگ آپ کی ذات کے گرویدہ اور توحید کی دعوت قبول کیے جا رہے تھے یہ بات سرداران مکہ کے لیے انتہائی تکلیف دہ تھی۔ اس کے لیے وہ سرجوڑ کر بیٹھتے اور غور کرتے کہ اس دعوت کو کس طرح روکا جائے بالخصوص حج کے موقع پر ان کی نیندیں حرام ہوجاتیں، وہ بار بار اس بات پر غور کرتے کہ زائرین حرم کو آپ کی ذات اور دعوت سے کس طرح روکا جائے۔ اسی ایجنڈے کے پیش نظر سرداران مکہ نے ایک نمائندہ اجلاس بلایا اور لوگوں کے سامنے یہ مسئلہ پیش کیا کہ حج کی آمد آمد ہے۔ اس لیے ہمیں پہلے سے ہی اس بات کی منصوبہ بندی کرلینی چاہیے تاکہ ہمارے مؤقف میں کوئی تضاد نہ پایا جائے اس طرح ہم لوگوں کو (محمد ﷺ سے روک سکتے ہیں۔ ایک شخص نے یہ تجویز پیش کی کہ ہم لوگوں کو یہ بات کہیں گے کہ یہ شاعر ہے اور شاعرانہ کلام سے لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کرلیتا ہے۔ صدر مجلس ولید نے اس بات کی تردید کی کہ ہم شاعرانہ کلام کو اچھی طرح سمجھتے ہیں یہ بات آپ پر لاگو نہیں ہوتی۔ دوسرے نے کہا کہ ہم اسے کاہن کے طور پر پیش کریں گے لیکن ولید نے اس کی بھی تردید کرتے ہوئے کہا کہ کاہن تو اوٹ پٹانگ باتیں کرتے ہیں یہ الزام بھی اس پر صادق نہیں آتا بالآخر اس نے خود تجوید دی کہ ہم اسے جادو گر کہیں گے کیونکہ اس کے کلام میں جادو کا اثر پایا جاتا ہے جو بھی اس کی بات توجہ سے سنتا ہے وہ اس کا ہو کر رہ جاتا ہے۔ اس پر مجمع نے اسے بڑی داد دی جس پر اس نے فاخرانہ انداز میں ناک چڑھائی اور منہ بسوڑا اور متکبرانہ انداز میں مجلس برخواست کرتا ہوا اٹھ کھڑا ہوا، پھر پوری رعونت کے ساتھ اپنے گھر کی طرف چلا گیا۔ بظاہر تو یہ ایک شخص کا واقعہ ہے لیکن حق سے روگردانی کرنے والا ہر بڑا شخص ایسا ہی کردار رکھتا ہے۔ اس لیے اس کے کردار کی نشاندہی کرتے ہوئے اسے یوں انتباہ کیا گیا۔
مجھے اور اس شخص کو چھوڑ دیں جسے میں نے اکیلا پیدا کیا اور اسے بہت سا مال دیا اور اس کو بیٹے دیئے جو ہر وقت اس کے سامنے حاضر رہتے ہیں اور اسے ہر طرح کی کشادگی دی اس کے باوجود یہ امید رکھتا ہے کہ اسے مزید دیا جائے یہ ہرگز نہیں ہوگا کیونکہ وہ ہماری آیات کے ساتھ عناد رکھتا ہے عنقریب کٹھن منزل کی طرف چڑھایا جائے گا۔ اس نے سوچا اور اپنی طرف سے بات بنانے کی کوشش کی، اس پر اللہ کی مار ہو کیونکہ اس نے ہماری آیات کو جھٹلایا اور رسول ﷺ پر جادوگر ہونے کا الزام لگایا پھر لوگوں کی طرف فاخرانہ انداز میں دیکھا اور اپنی پیشانی پر تیور چڑھائے، منہ بسوڑا اور متکبرانہ انداز میں اٹھ کھڑا ہوا اور کہا کہ یہ تو پہلے دورکا جادو ہے جو اسی طرح چلا آرہا ہے اور انسان کا بنایا ہوا کلام ہے۔ اسے معلوم ہونا چاہیے کہ عنقریب میں اسے دوزخ میں جھونک دوں گا۔ ان آیات میں ولید بن مغیرہ کا کردار اور اس کے گھریلو حالات کا ذکر کیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس شخص کو بہت سامال دیا اور بارہ بیٹے عطا فرمائے جو ہر وقت اس کے حکم کے منتظر رہتے تھے۔ چاہیے تو یہ تھا وہ اللہ کا شکر ادا کرتے ہوئے نبی ﷺ کی دعوت پر غور کرتا اور حلقہ اسلام میں داخل ہوجاتا لیکن اس نے اپنی مالی حیثیت اور افرادی قوت کو اللہ اور اس کے رسول کے خلاف استعمال کیا اور اس کے نتیجے میں دنیا اور آخرت میں ذلیل ہوا۔ ذلیل اور نافرمان ہونے کے باوجود اس کی خواہش اور کوشش تھی کہ مجھے اور زیادہ مال و اسباب دیئے جائیں تاکہ میں عرب کا بادشاہ بن جاؤں۔ فرمایا کہ اب اسے کچھ نہیں دیا جائے گا اب تو اس کا مقدر بربادی ہے کیونکہ وہ ہماری آیات کے ساتھ عناد رکھتا ہے عنقریب اسے مشکل ترین گھاٹی پر چڑھایا جائے گا اس نے برا سوچا اور بری بات بنانے کی کوشش کی اس پر اللہ کی مار ہے۔ گھاٹی سے مراد مشکل اور زلت ہے چناچہ یہ شخص بدر کے میدان میں ذلّت کی موت مرا۔
مسائل
1۔ اللہ تعالیٰ جسے مال اور اولاد دے اسے چاہیے کہ وہ اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرے۔
2۔ جو شخص اللہ کی آیات کی پرواہ نہیں کرتا اور دین کے بارے میں بری باتیں بناتا ہے۔
3۔ ” اللہ “ کی آیات سے منہ پھیرنا اور تکبر کرنا انتہا درجے کا جرم ہے۔
4۔ قرآن مجید اللہ کا کلام ہے اسے جادو یا کسی انسان کا کلام کہنا اس کے ساتھ کفر کرنا ہے۔
5۔ جو شخص قرآن مجید کو کسی انسان کا کلام قرار دیتا اسے جہنم میں دھکیلاجائے گا۔
6۔ جہنم کی آگ مجرموں کی چمڑیاں ادھیڑ دے گی۔
تفسیر بالقرآن
جہنم کی آگ کی تفصیل۔
1۔ جہنم سے نکلنے کی کوئی صورت نہیں ہوگی۔ (البقرۃ : 167) 2۔ جہنم سے چھٹکارا پانا مشکل ہے۔ (الزخرف : 77)
3۔ جہنم میں موت وحیات نہیں ہوگی۔ (طٰہٰ : 74) 4۔ جہنم کی سزا میں وقفہ نہیں ہوگا۔ (فاطر : 36)
5۔ جہنم کا عذاب چمٹ جانے والا ہے۔ (الفرقان : 65) 6۔ جہنم بدترین ٹھکانا ہے۔ (آل عمران : 197)
7۔ جہنمی کو آگ کے ستونوں سے باندھ دیا جائے گا۔ (ہمزہ : 9)
Ayahs 74:26–31فہم القرآن
ربط کلام : مجرم شخص کو جس کٹھن گھاٹی پر چڑھائے جانے کی دھمکی دی گئی ہے وہ جہنم ہے۔
جو لوگ اللہ تعالیٰ کے فرامین کا انکار کرتے ہیں انہیں بہت جلد جہنم میں جھونکا جائے گا۔ اے قرآن پڑھنے والے ! تو نہیں جانتا ہے کہ جہنم کیا ہے ؟ وہ اللہ کا تیار کیا ہوا عقوبت خانہ ہے جس میں مجرم کو موت نہیں آئے گی اور نہ اس کی زندگی ہوگی گویا کہ وہ موت وحیات کی کشمکش میں مبتلا رہے گا۔ وہ چمڑی ادھیڑ دینے والی آگ ہے اس پر انیس فرشتے مقرر کیے گئے ہیں اور یہ تعداد کفار کے لیے آ زمائش بنا دی گئی ہے ہاں یہ ان لوگوں کے لیے آزمائش نہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے ایمان لانے کی توفیق بخشی ہے۔ جنت کے فرشتوں کی تعداد اس لیے بتائی گئی ہے تاکہ اہل کتاب کو یقین ہو اور اہل ایمان کے ایمان میں اضافہ ہو اور انہیں کسی قسم کا شک باقی نہ رہے۔ جن کے دل میں شک کی بیماری ہے اور جنہوں نے کفر اختیار کر رکھا ہے وہ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اس مثال سے کیا سمجھایا ہے ؟ سنو ! اس مثال کا مقصد یہ ہے کہ اس کے ساتھ اللہ تعالیٰ لوگوں کی آزمائش کرے کہ کون اس کے فرمان کو مِن و عن مانتا ہے اور کون اس میں باتیں بناتا ہے۔ اللہ تعالیٰ جسے چاہتا ہے گمراہ کرتا ہے اور جسے چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے۔ یقین کرو ! کہ ” اللہ “ کے لشکروں کو اس کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ نبی ﷺ نے جب کفار کے سامنے ان آیات کی تلاوت کی تو انہوں نے اپنے انجام پر غور کرنے کی بجائے اس بات کا مذاق اڑایا کہ ایک طرف یہ نبی کہتا ہے کہ جو لوگ مجرم ہوں گے انہیں جہنم میں پھینکا جائے گا ظاہر ہے کہ اس کے بقول لاتعداد لوگ جہنم میں جائیں گے کیا کروڑوں کھربوں انسانوں کو صرف انیس فرشتے قابو کریں گے اور سزا دیں گے یہ کیسے ممکن ہوسکتا ہے۔ اس بات پر مزید ہرزہ سرائی کرتے ہوئے ایک دوسرے کو کہنے لگے کہ کیا ہم اتنے گئے گزرے ہیں کہ انیس فرشتوں کو قابو نہیں کرسکیں گے مکہ کا ایک پہلوان کہنے لگا کہ فکر نہ کرو کہ سترہ ملائکہ کو میں اکیلا ہی سنبھال لوں گا باقی کو سنبھالنے کے لیے تم کافی ہوگے۔ یاد رہے کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں کچھ مسائل مثال کے ذریعے سمجھائے ہیں جن لوگوں کے دلوں میں نفاق کی کھوٹ ہے وہ اس مثال کو سمجھنے کی بجائے اس کا مذاق اڑاتے ہیں حالانکہ جس بات کو مثال کے ذریعے سمجھایا جائے اس میں کوئی ابہام باقی نہیں رہتا۔ لیکن جن کے دلوں میں کفر و نفاق کا مرض ہوتا ہے وہ حق کو تسلیم کرنے کی بجائے اس سے مزید دور ہوجاتے ہیں۔ ایسے لوگوں کے لیے اصول یہ ہے کہ انہیں گمراہی کے لیے کھلا چھوڑ دیا جاتا ہے۔ ہدایت اور گمراہی اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے جو اللہ تعالیٰ سے ہدایت کا طالب ہوتا ہے وہ اسے ہدایت سے نوازتا ہے اور جو ہدایت سے بےاعتنائی کرتا ہے اسے گمراہی میں کھلا چھوڑ دیا جاتا ہے۔ جہاں تک اہل کتاب کے یقین کرنے کا تعلق ہے ان کی اصل کتابوں میں جہنم کے ملائکہ کی تعداد انیس موجود ہے وہ یہ بھی جانتے ہیں کہ کوئی نبی ” اللہ “ پر جھوٹ نہیں بولتا اس لیے قرآن مجید نے جہنم کے فرشتوں کی جو تعداد بتلائی ہے وہ حق پر مبنی ہے۔
جہنم کی آگ کی کیفیت :
(اِِنَّہَا عَلَیْہِمْ مُوْصَدَۃٌ فِیْ عَمَدٍ مُّمَدَّدَۃٍ ) (ہمزہ : 8، 9)
” وہ ان پر ڈھانک دی جائے گی۔ لمبے لمبے ستونوں کی طرح ہوگی۔ “
(اِنَّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا بِاٰیٰتِنَا سَوْفَ نُصْلِیْھِمْ نَارًاکُلَّمَا نَضِجَتْ جُلُوْدُھُمْ بَدَّلْنٰھُمْ جُلُوْدًاغَیْرَھَا لِیَذُوْقُوا الْعَذَابَ اِنَّ اللّٰہَ کَانَ عَزِیْزًا حَکِیْمًا) (النساء : 56)
” جن لوگوں نے ہماری آیتوں سے کفر کیا انہیں ہم یقیناً آگ میں ڈال دیں گے جب ان کی کھالیں جل جائیں گی تو ان کی جگہ ہم دوسری کھالیں بدل دیں گے تاکہ وہ عذاب چکھتے رہیں یقیناً اللہ تعالیٰ غالب، حکمت والا ہے۔ “
(وَالَّذِیْنَ یَقُوْلُوْنَ رَبَّنَآ اصْرِفْ عَنَّا عَذَابَ جَہَنَّمَ اِِنَّ عَذَابَہَا کَانَ غَرَامًا) (الفرقان : 65)
” اللہ کے بندے دعائیں کرتے ہیں کہ اے ہمارے رب ہمیں جہنم کے عذاب سے بچالے جہنم کا عذاب چمٹ جانے والا ہے۔ “
(ثُمَّ لَا یَمُوتُ فِیْہَا وَلَا یَحْیٰی) (الاعلیٰ : 13)
” پھر اس میں موت نہیں آئے گی اور نہ ہی زندگی ہوگی۔ “
مسائل
1۔ جہنم کی سختیوں کا کوئی شخص اندازہ نہیں کرسکتا۔ 2۔ جہنمی جہنم میں ہمیشہ ہمیش موت وحیات کی کشمکش میں رہیں گے۔
3۔ جہنم کی آگ جہنمیوں کی چمڑیاں ادھیڑ دے گی۔
4۔ اللہ تعالیٰ نے جہنم پرانیس ملائکہ مقرر کیے ہیں۔ کفار اس تعداد کا مذاق اڑاتے ہیں مومن اور اہل کتاب اس پر یقین رکھتے ہیں۔ 5۔ ہدایت اور گمراہی اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے۔
تفسیر بالقرآن
جہنم کی ہولناکیوں کا ایک منظر :
1۔ جہنم کا ایندھن لوگ اور پتھر ہوں گے۔ (البقرۃ : 24) 2۔ جہنم پر سخت گیر فرشتوں کی ڈیوٹی لگائی گئی ہے۔ (التحریم : 6)
3۔ مجرم جہنم کے گرجنے برسنے کی آوازیں سنیں گے۔ (الفرقان : 12) 4۔ جہنم کی آگ بہت زیادہ تیز ہوگی۔ (التوبۃ : 81)
5۔ جہنم بھرنے کا نام نہیں لے گی۔ (ق : 30) 6۔ جہنم کے شعلے بڑے بڑے مکانوں کی طرح بلند ہوں گے۔ (المرسلٰت : 32)
Ayahs 74:32–38فہم القرآن
ربط کلام : جہنم کی ہولناکیوں کا مزید ذکر۔
سابقہ آیات میں جہنم کی ہولناکیوں اور اس پر مقرر کردہ ملائکہ کی تعداد کا ذکرہوا جسے اہل مکہ نے مذاق کا نشانہ بنایا اس پر ارشاد ہوا کہ یہ لوگ جہنم کے ملائکہ کی تعدا پر اعتراض کررہے ہیں انہیں کیا خبر ! کہ آپ کے رب کے لشکر کتنی تعداد میں ہیں اور کس قدر طاقتور ہیں ان کی تعداد اور طاقت کو صرف اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے لہٰذا تمہیں جہنم سے ڈرنا چاہیے۔ قسم ہے چاند کی اور رات کی جب وہ پلٹتی ہے اور صبح کی قسم جب وہ روشن ہوجاتی ہے جس جہنم کا یہ مذاق اڑاتے ہیں وہ اللہ تعالیٰ کی بنائی ہوئی خوفناک چیزوں میں بڑی ہی خوفناک جگہ ہے، چاند، رات اور دن کا حوالہ دے کر یہ حقیقت واضح کی گئی ہے کہ جس طرح اللہ تعالیٰ نے چاند، رات اور دن پیدا کیے ہیں اسی طرح ہی اس نے جہنم بنائی ہے اور اس پر انیس فرشتے مقرر کیے ہیں، جس طرح چاند، رات اور دن کو مانتے ہو اسی طرح مانو کہ جہنم بھی موجود ہے جو بڑی خوف ناک جگہ ہے اور اس پر انیس فرشتے کنٹرولر ہیں۔ اب یہ انسان کی مرضی پر منحصر ہے کہ وہ اس سے ڈرتا ہے اور ایمان لانے میں آگے بڑھتا ہے یا پیچھے رہتا ہے البتہ انسان کو یاد رکھنا چاہیے کہ ہر کوئی اپنے کیے کے بدلے رہن ہے یعنی اسے اپنے اعمال کا بدلہ پانا ہے۔
مسائل
1۔ چاند، رات اور صبح روشن کی قسم ! جہنم بہت بڑی آفت گاہ ہے۔
2۔ جہنم سے بچنا یا اس میں گرنا انسان کے اپنے اعمال کا نتیجہ ہوگا۔
3۔ ہر انسان اپنے اعمال کے بدلے اپنے آپ کو گروی رکھے ہوئے ہے۔