Ayahs 74:39–48فہم القرآن
ربط کلام : ہر انسان اپنے اعمال کے بدلے میں گروی ہے اسی بنیاد پر ہی نجات پائے گا یا پکڑا جائے گا۔
اپنے اعمال کی وجہ سے پکڑے جانے والے لوگوں سے جنتی مستثنیٰ ہوں گے انہیں نیک اعمال کے بدلے جنت میں داخلہ دیا جائے گا وہ جنت میں تشریف فرما ہونے کے باوجود گاہے گاہے جہنمیوں سے بات چیت کرسکیں گے تاکہ جہنمیوں کو یہ احساس ہو کہ دنیا میں ہمارے ساتھ رہنے والے لوگ جنہیں ہم حقیر سمجھتے تھے وہ آج جنت میں عیش و عشرت کے ساتھ رہ رہے ہیں اور ہم ان کے مقابلے میں اذّیت ناک سزائیں پا رہے ہیں۔ جب جنتی ان سے سوال کریں گے کہ تمہیں کون سی چیز جہنم میں لے آئی ہے تو وہ اقرار کریں گے کہ ہم نماز پڑھنے والوں میں نہ تھے او ہم مسکینوں کو کھانا نہیں کھلایا کرتے تھے اور ہم حق کے خلاف باتیں کرنے والوں میں شامل تھے اور قیامت کے دن کو جھوٹ قرار دیتے تھے۔ اسی حالت میں ہمیں موت آئے گی یہاں تک کہ ہمیں جہنم کے ساتھ واسطہ پڑا ہے جس پر ہم یقین نہیں کرتے تھے اب ہمیں یقین ہوگیا ہے۔ یہاں کلام کے سیاق وسباق سے معلوم ہوتا ہے کہ جہنمی جنتیوں سے درخواست کریں گے کہ اللہ تعالیٰ کے حضور ہماری نجات کی سفارش کی جائے۔ لیکن ان کی سفارش کرنے والا کوئی نہیں ہوگا۔ جن کی کوئی سفارش نہیں کرسکے گا وہ کافر، مشرک اور منافق ہوں گے یہ لوگ ہمیشہ ہمیش جہنم میں رہیں گے جہنمی جن گناہوں کا سب سے پہلے اعتراف کریں گے وہ تین ہیں۔
تارک نماز ہونا :
حقوق اللہ میں سب سے پہلے اللہ کا بندے پر حق یہ ہے کہ بندہ صرف ایک اللہ کی عبادت کرے اور عبادات میں سب سے پہلا فرض نماز ہے۔
(بَیْنَ الرَّجُلِ وَبَیْنَ الشِّرْکِ وَالْکُفْرِ تَرْکُ الصَّلٰوۃِ ) (رواہ مسلم : کتاب الایمان)
” مسلمان اور کفر و شرک کے درمیان ترک نماز کا فرق ہے۔ “
جہنمی کا اقرار کہ ہم کھانا نہیں کھلاتے تھے :
حقوق اللہ کے بعد حقوق العباد ہیں حقوق العباد میں سر فہرست وہ لوگ ہیں جو زندگی کی بنیادی ضروریات پوری کرنے سے قاصر ہیں۔ انسان کی بنیادی ضروریات میں اس کی پہلی ضرورت یہ ہے کہ اسے روح اور جسم کا رشتہ قائم رکھنے کے لیے خوراک میسر ہونی چاہئے اگر کوئی غریب دو وقت کی روٹی سے محروم ہے تو اس کے پڑوسی اور حکومت کا فرض ہے کہ وہ اس کی خوراک کا بندوبست کرے دین اسلام نے اس فرض کو اس حد تک لازم قرار دیتا ہے۔
(عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ؓ یَقُولُ سَمِعْتُ رَسُول اللّٰہِ ﷺ یَقُولُ لَیْسَ الْمُؤْمِنُ الَّذِی یَشْبَعُ وَجَارُہُ جَاءِعٌ إِلَی جَنْبِہِ ) (مَا جَاءَ فِی کَرَاہِیَۃِ إِمْسَاکِ الْفَضْلِ ، وَغَیْرُہُ مُحْتَاجٌ إِلَیْہِ )
” حضرت عبداللہ بن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا آپ فرما رہے تھے کہ وہ شخص مومن نہیں جو خود سیر ہو کر کھائے اور اس کا پڑوسی اس کے پڑوس میں بھوکا رہے۔ “
قیامت کا انکار کرنا :
قرآن مجید کا مطالعہ کرنے والا ہر شخص جانتا ہے کہ قرآن مجید کا تیسرا بڑا مضمون فکر آخرت ہے جو شخص آخرت پر یقین نہیں رکھتا اور اس کیلئے تیاری نہیں کرتا وہ قیامت کے دن پکڑا جائے گا اور وہاں اس کی کوئی سفارش کرنے والا نہیں ہوگا۔
مسائل
1۔ جنتیوں کے سوال کے جواب میں جہنمی اقرار کریں گے کہ ہم بےنماز تھے اور مسکینوں کو کھانا نہیں کھلایا کرتے تھے۔
2۔ جہنمی اقرار کریں گے کہ ہم حق کے مقابلے میں باتیں بنایا کرتے اور جہنم کو جھٹلایا کرتے تھے۔
3۔ جہنمیوں کے اقرار کرنے کے باوجود ان کی سفارش کرنے والا کوئی نہیں ہوگا۔
Ayahs 74:49–56فہم القرآن
ربط کلام : مجرموں کو ان کا اقرار اور انجام بتلانے کے بعد ایک دفعہ پھر نصیحت کی گئی ہے
مجرموں کو کیا ہوگیا ہے کہ جب انہیں نصیحت کی جاتی ہے تو اس پر توجہ کرنے کی بجائے اس سے اس طرح منہ موڑتے ہیں گویا کہ جنگلی گدھے ہیں جو شیر کو دیکھ کر بھاگ کھڑے ہوں۔ ان لوگوں کی حالت یہ ہے کہ ان میں سے ہر ایک چاہتا ہے کہ اس کے نام کھلے خط بھیجے جائیں جن میں ان سے ایمان لانے کی درخواست کی جائے ایسا ہرگز نہیں ہوسکتا۔ کیونکہ ان کے پاس جب بھی کوئی نشانی آتی ہے تو کہتے ہیں ہم ہرگز ایمان نہیں لائیں گے یہاں تک کہ ہمیں وہی کچھ دیا جائے جو اللہ کے رسولوں کو دیا گیا ہے۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ زیادہ جانتا ہے کہ اپنی رسالت کہاں رکھے عنقریب وہ لوگ جنہوں نے جرم کیے اللہ کے ہاں انہیں ذلت پہنچے گی اور سخت عذاب ہوگا اس وجہ سے کہ وہ مکرو فریب کرتے تھے۔ “ (الانعام : 124)
(اَوْ یَکُوْنَ لَکَ بَیْتٌ مِّنْ زُخْرُفٍ اَوْ تَرْقٰی فِی السَّمَآءِ وَلَنْ نُّوْمِنَ لِرُقِیِّکَ حَتّٰی تُنَزِّلَ عَلَیْنَا کِتٰبًا نَّقْرَؤُہٗ قُلْ سُبْحَانَ رَبِّیْ ہَلْ کُنْتُ اِلَّا بَشَرًا رَّسُوْلًا) (بنی اسرائیل : 93)
” تیرے لیے سونے کا ایک گھر ہو یا تو آسمان میں چڑھ جائے اور ہم تیرے چڑھنے پر بھی یقین نہیں کریں گے یہاں تک کہ تو ہم پر کتاب لے آئے جسے ہم پڑھیں آپ فرما دیں کہ میرا رب پاک ہے میں تو ایک پیغام پہنچانے والا انسان ہوں۔ “
گویا کہ ان میں ہر ایک اپنے نام ہدایت کا پروانہ آنے کی خواہش رکھتا ہے وجہ یہ ہے کہ ان کے دل فکر آخرت سے عاری ہوچکے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ قرآن تو ایک نصیحت ہے جس کا دل چاہے اس سے نصیحت حاصل کرے مگر نصیحت اسے نصیب ہوتی ہے جس کے لیے اللہ تعالیٰ پسند کرتا ہے۔ ” اللہ “ ہی اس بات کا حق رکھتا ہے کہ اس سے ڈرا جائے کیونکہ وہی لوگوں کے گناہوں کو معاف کرنے والا ہے۔ ان آیات میں منکرین حق کی حق سے دوری اور نفرت کا ذکر کرنے کے بعد یہ حقیقت بیان کی ہے کہ جو لوگ آخرت کی جوابدہی کا فکر نہیں رکھتے وہ ہدایت نہیں پاسکتے۔ آخرت کی فکر اور ہدایت اسے نصیب ہوتی ہے جس کے لیے اللہ تعالیٰ پسند کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے لیے ہدایت پسند کرتا ہے جو اس سے ڈرتا اور ہدایت طلب کرتا ہے۔ کیونکہ اللہ کے ڈر کے بغیر فکر آخرت نصیب نہیں ہوتی اور جسے فکر آخرت نصیب نہیں وہ اللہ تعالیٰ سے نہیں ڈرتا۔ فہم القرآن کے کئی مقامات پر اس بات کی وضاحت کی گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہدایت اور گمراہی کو کھول کر بیان کردیا ہے جو شخص ہدایت کی خواہش اور اس کے لیے کوشش کرے گا اسے ہدایت مل جائے گی جو اس سے لاپرواہی کرے گا اسے گمراہی کے لیے کھلا چھوڑ دیا جائے گا اس لیے ارشاد فرمایا ہے کہ جس کے لیے اللہ پسند کرتا ہے ہدایت اسے نصیب ہوتی ہے۔
مسائل
1۔ جو لوگ اللہ تعالیٰ کی نصیحت سے اعراض کرتے ہیں ان میں کچھ ایسے ہوتے ہیں جو نصیحت سن کر جنگلی گدھوں کی طرح بھاگ جاتے ہیں۔
2۔ اہل مکہ میں کچھ لوگوں کا مطالبہ تھا کہ ان کے پاس براہ راست قرآن آنا چاہیے۔
3۔ اللہ تعالیٰ کا یہ اصول نہیں کہ وہ ہر شخص کے پاس براہ راست اپنا پیغام بھیجے۔
4۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے قرآن مجید نصیحت ہے۔ جس کا دل چاہے اسے قبول کرے اور جس کا دل چاہے اسے چھوڑ دے اللہ تعالیٰ کی طرف سے کسی پر کوئی جبر نہیں۔ 5۔ اللہ تعالیٰ جسے چاہتا ہے ہدایت کی توفیق دیتا ہے۔
6۔ اللہ تعالیٰ سے ڈرنا چاہیے۔ وہی ڈرنے کے لائق اور لوگوں کے گناہ بخشنے والا ہے۔