Ayahs 73:1–4فہم القرآن
ربط سورت : سورة الجن کے آخر میں یہ ارشاد ہوا کہ اللہ تعالیٰ جو وحی اپنے رسول پر بھیجتا ہے اس کی حفاظت کے لیے اس کے آگے پیچھے پہرے دار مقرر کرتا ہے تاکہ اس کی وحی من و عن اس کے رسول تک پہنچ جائے۔ الرّسول ﷺ کے منصب کا پہلا تقاضا ہے کہ رسول اس وحی کو یاد رکھے اور اسے لوگوں تک پہنچائے۔ یاد رکھنے کے لیے آپ کو تہجد پڑھنے کا حکم ہوا تاکہ ایک طرف آپ کو قرآن پر غور کرنے کا موقع ملے اور دوسری طرف آپ لوگوں تک پہنچانے کے لیے اپنے آپ پر ضبط کرنے کے عادی ہوجائیں کیونکہ تہجد اس کے آداب کے ساتھ ادا کی جائے تو آدمی کو اپنی طبیعت پر قابو پانا آسان ہوجاتا ہے۔
نبی کریم ﷺ چادر اوڑھ کر آرام فرما تھے کہ جبریل امین تشریف لائے اور انہوں نے سورة المزّمل کے پہلے رکوع پر مشتمل چند آیات تلاوت کیں۔ ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے بڑے ہی پیارے انداز میں آپ ﷺ کو مخاطب فرمایا کہ اے کپڑا اوڑھنے والے رسول ! پوری رات سونے اور آرام کرنے کی بجائے آدھی رات یا اس سے کم قیام کیا کرو بلکہ اس سے کچھ زیادہ کرو اور قیام میں ٹھہر ٹھہر کر قرآن مجید کی تلاوت کرو۔ قیام الیل کے دورانیہ کے لیے تین الفاظ استعمال فرمائے ہیں۔ آدھی رات یا اس سے کم یا اس سے کچھ زیادہ قیام کریں۔ آدھی رات یا اس سے کم کی اجازت اس لیے دی گئی تاکہ موسم اور طبیعت کا لحاظ رکھتے ہوئے پوری توجہ اور یکسوئی کے ساتھ رات کا قیام ہو سکے۔ تلاوت قرآن کا بنیادی اصول یہی ہے کہ اسے ٹھہر ٹھہر کر پوری توجہ کے ساتھ پڑھا جائے۔ تہجد میں یہ حکم اس لیے دیا گیا ہے کہ یہ وقت بڑا ہی سہانا اور بابرکت ہوتا ہے۔ اس میں ٹھہر ٹھہر کر قرآن مجید پڑھا جائے تو انسان کی طبیعت پر بڑے ہی اچھے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ اہل علم نے ترتیل کا معنٰی یہ لیا ہے کہ جن آیات میں عذاب کا تذکرہ ہو تو ان میں انسان کو اپنے رب سے ڈرنا چاہیے اور اس سے پناہ مانگنا چاہیے۔ جن آیات میں اللہ تعالیٰ کی نعمتوں اور اس کی جنت کا تذکرہ ہو تو ان آیات کی تلاوت کرتے وقت اللہ تعالیٰ سے التجا کرنی چاہیے، اس کے ساتھ ساتھ قرآن مجید کے احکام اور ارشادات پر بھی غور وفکر کرنا فرض ہے۔
فرض نماز کے بعد سب سے افضل نماز تہجد کی نماز ہے جسے نفل قرار دیا گیا ہے۔ نفل کا معنی ہے۔ ” زائد چیز “ رسول محترم نے نوافل کا فائدہ ذکر کرتے ہوئے ارشاد فرمایا ہے کہ قیامت کے دن فرض نماز کی کمی، بیشی نفل نماز سے پوری کی جائے گی۔ بعض اہل علم کے نزدیک آپ ﷺ پر پہلے تہجد فرض تھی بعد ازاں اسے نفل قرار دے دیا گیا۔ (بنی اسرائیل : 79) تہجد کا لفظ ” جہد “ سے نکلا ہے۔ جس کا مطلب ہے کوشش کرنا۔ مطلب یہ ہے کہ ” نیند کے بعد بیدار ہونا “ ظاہر ہے یہ کام ہمت اور کوشش کے بغیر نہیں ہوتا اس لیے کچھ اہل علم ضروری سمجھتے ہیں کہ تہجد کچھ دیر سونے کے بعد پڑھنی جائے۔ ان کے بقول سونے سے پہلے پڑھے جانے والے نوافل تہجد شمار نہیں ہوتے لیکن احادیث سے ثابت ہوتا ہے کہ آدمی اپنی صحت اور فرصت کے مطابق رات کے کسی حصے میں تہجد پڑھ سکتا ہے۔ البتہ اس کا افضل ترین وقت آدھی رات کے بعد شروع ہوتا ہے۔ سحری کا وقت حاجات و مناجات اور سکون و اطمینان کے لیے ایسا وقت ہے کہ لیل و نہار کا کوئی لمحہ ان لمحات کا مقابلہ نہیں کرسکتا زمین و آسمان کی وسعتیں نورانی کیفیت سے لبریز ہوتی ہیں۔
(عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ؓ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ یَنْزِلُ رَبُّنَا تَبَارَکَ وَتَعَالٰی کُلَّ لَیْلَۃٍ اِلَی السَّمَآء الدُّنْیَا حِیْنَ یَبْقَی ثُلُثُ اللَّیْلِ الْاٰخِرِ یَقُوْلُ مَنْ یَدْعُوْنِیْ فَأسْتَجِیْبَ لَہُ مَنْ یَسْاَلنِیْ فأُعْطِیَہٗ مَنْ یَسْتَغْفِرُنِیْ فَأَغْفِرَلَہُ ) (رواہ البخاری : باب التحریض علی قیام الیل)
” حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ رب تعالیٰ رات کے آخری حصے میں آسمان دنیا پر تشر یف لاکر فرماتے ہیں : کون ہے مجھ سے طلب کرنے والا میں اسکو عطاکروں اور کون ہے جو مجھ سے بخشش اور مغفرت چاہے میں اسکوبخش دوں۔ “
(عَنْ یَعْلَی بْنِ مَمْلَکٍ أَنَّہُ سَأَلَ أُمَّ سَلَمَۃَ زَوْجَ النَّبِیِّ ﷺ عَنْ قِرَاءَ ۃِ رَسُول اللہِ ﷺ وَصَلاَتِہِ ، قَالَتْ مَا لَکُمْ وَصَلاَتِہِ کَانَ یُصَلِّی ثُمَّ یَنَامُ قَدْرَ مَا صَلَّی ثُمَّ یُصَلِّی قَدْرَ مَا نَامَ ثُمَّ یَنَامُ بِقَدْرِ مَا صَلَّی حَتَّی یُصْبِحَ ثُمَّ نَعَتَتْ لَہُ قِرَاءَ تَہُ فَإِذَا ہِیَ تَنْعَتُ قِرَاءَ ۃً مُفَسَّرَۃً حَرْفًا حَرْفًا .) (رواہ النسائی : باب التَّرْتِیلِ فِی الْقِرَاءَ ۃِ )
” یعلی بن مملک نے حضرت ام سلمہ ؓ سے نبی اکرم ﷺ کی قراءت اور نماز کے بارے میں پوچھا تو ام سلمہ ؓ نے فرمایا کہ تمہیں آپ کی نماز سے کیا واسطہ۔ نبی ﷺ نماز پڑھتے پھر اتنی دیر سوتے جتنی دیر آپ نے نماز پڑھی ہوتی، پھر اتنی دیر ہی نماز پڑھتے جتنی دیر آپ نے آرام کیا ہوتا اس طرح پھر اتنی دیر ہی آرام کرتے جتنی دیر آپ نے نماز پڑھی ہوتی یہاں تک کہ صبح ہوجاتی۔ پھر آپ ﷺ کی قراءت کے بارے میں فرماتی ہیں کہ آپ بہترین انداز میں، واضح اور حرف حرف کرکے قراءت کیا کرتے تھے۔ “
(عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ؓ یَرْفَعُہُ قَالَ سُءِلَ أَیُّ الصَّلاَۃِ أَفْضَلُ بَعْدَ الْمَکْتُوبَۃِ وَأَیُّ الصِّیَامِ أَفْضَلُ بَعْدَ شَہْرِ رَمَضَانَ فَقَالَ أَفْضَلُ الصَّلاَۃِ بَعْدَ الصَّلاَۃِ الْمَکْتُوبَۃِ الصَّلاَۃُ فِی جَوْفِ اللَّیْلِ وَأَفْضَلُ الصِّیَامِ بَعْدَ شَہْرِ رَمَضَانَ صِیَامُ شَہْرِ اللَّہِ الْمُحَرَّمِ )
(رواہ مسلم :، باب فَضْلِ صَوْمِ الْمُحَرَّمِ )
” حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے اور وہ آپ ﷺ سے مرفوعاً بیان کرتے ہیں کہ آپ ﷺ سے سوال کیا گیا کہ فرض نماز کے بعد کونسی نماز افضل ہے اور رمضان کے روزوں کے بعد کون سے روزے افضل ہیں۔ آپ نے فرمایا فرض نمازوں کے بعد افضل نماز آدھی رات کے وقت پڑھی جانے والی نماز ہے اور رمضان کے روزوں کے بعد افضل روزہ ماہ محرم کا روزہ ہے۔ “
آ پ ﷺ کی تہجد کی کیفیت :
” حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ نبی معظم ﷺ عشاء کی نماز کے بعد اور فجر سے پہلے گیارہ رکعت ادا کیا کرتے تھے ہر دو رکعت کے بعد سلام پھیرتے اور ایک وتر ادا کرتے۔ اس قدر لمباسجدہ کرتے کہ اس دورانیہ میں اگر تم میں سے کوئی پچاس آیات کی تلاوت کرنا چاہے تو کرسکتا۔ جب مؤذن فجر کی اذان کہتا اور صبح نمایاں ہوجاتی تو آپ مختصر دورکعتیں ادا کرتے اور پھر دائیں جانب چند لمحے لیٹ جاتے پھر مؤذن نماز کی اطلاع کرتا تو آپ ﷺ گھر سے تشریف لے جاتے۔ “
(رواہ البخاری : باب ایذان المؤذنین الائمۃ الصلٰوۃ)
مسائل
1۔ اللہ کے نبی کو تہجد پڑھنے کا حکم تھا۔ 2۔ تہجد کا افضل وقت آدھی رات کے بعد شروع ہوتا ہے۔
3۔ تہجد میں ٹھہر ٹھہر کر قرآن مجید کی تلاوت کرنی چاہیے۔
تفسیر بالقرآن
قرآن مجید میں تہجد کا تذکرہ :
1۔ نماز قائم کرو سورج کے ڈھلنے سے لیکر رات تک اور فجر کے وقت قرآن پڑھا کرو۔ (بنی اسرائیل : 78)
2۔ دن کے دونوں کناروں یعنی صبح شام اور رات کی گھڑیوں میں نماز پڑھا کرو۔ (ہود : 114)
3۔ سورج طلوع ہونے سے پہلے اور غروب ہونے سے پہلے اللہ کی تسبیح بیان کرو۔ رات کے کچھ اوقات میں اور نماز کے بعد بھی۔ (ق : 39۔ 40)
4۔ سورج نکلنے اور غروب ہونے سے پہلے اور رات کے اوقات میں اور دن کے اطراف میں تسبیح وتحمید بیان کیا کریں۔ (طٰہٰ : 130)
Ayahs 73:5–10فہم القرآن
ربط کلام : نماز تہجد اور اس میں تلاوت قرآن کا فائدہ۔
نبوت کا فریضہ تمام کاموں سے مشکل ترین کام ہے کسب معاش اور گھریلو ذمہ داریوں کے ساتھ ساتھ کسی لالچ کے بغیر دن، رات لوگوں کی خدمت کرنا بالخصوص انہیں توحید کی دعوت دینا اور شرک سے منع کرنا انتہائی مشکل اور صبر آزما کام ہے۔ اس کے لیے انتہادرجے کی جفاکشی اور بڑے صبر و حوصلہ کی ضرورت ہے، صبر و حوصلہ اور جفاکش بننے کے لیے آدھی رات کو اٹھ کر مصلّے پر کھڑا ہونا اور غور وفکر کرتے ہوئے ٹھہر ٹھہر کر قرآن مجید کی تلاوت کرنا اپنے نفس پر قابو پانے کا بہترین طریقہ ہے۔ بشرطیکہ اسے صرف عادت اور عبادت کے طور پر نہیں بلکہ اپنے احتساب اور تربیت کے لیے بھی پڑھا جائے، پھر کوئی وجہ نہیں کہ تہجد گزار شخص میں حوصلہ اور ضبط نفس نہ پایا جائے اسی لیے آپ ﷺ کو فرمایا گیا کہ آپ رات کو اٹھا کریں کیونکہ رات کا قیام اور قرآن کی تلاوت نفس پر قابو پانے اور قرآن کو توجہ کے ساتھ پڑھنے کا بہترین وقت ہے۔ دن میں اور بھی مشاغل ہوتے ہیں اس لیے طبیعت میں وہ یکسوئی پیدا نہیں ہوتی جو آدھی رات یا رات کے پچھلے پہر میں پیدا ہوتی ہے۔ بس سب سے کٹ کر اسی کا ذکر کرو ! وہی مشرق و مغرب کا رب ہے۔ اس کے سوا کوئی عبادت اور اطاعت کے لائق نہیں وہی حاجت روا اور مشکل کشا ہے۔ بس اسی کو اپنے تمام کاموں اور پوری زندگی کے لیے وکیل سمجھو اور بناؤ ! وکیل کا معنٰی ہے کہ جسے اپنا کام سونپ دیا جائے۔ ظاہر ہے کہ آدمی اسی کو اپنا کام سونپا ہے جس پر اس کا پورا اعتماد ہوتا ہے کہ وہ میرا کام اچھی طرح کرے گا اسی لیے ارشاد فرمایا کہ جب آپ ﷺ نے اپنے رب کو وکیل بنا لیا تو اب مخالفوں کی مخالفت پر گھبرانے کی بجائے صبر و حوصلہ سے کام لینا اور ان سے بہترین طریقے سے الگ ہوجانا چاہیے۔ الگ ہونے کا یہ مقصد نہیں کہ انہیں سمجھانا نہیں، اس کا مطلب یہ ہے کہ ان سے الجھنے کی بجائے حکمت کے ساتھ سمجھانا اور ان کی بدکلامی اور ایذا پر صبر جمیل کرنا چاہے۔ صبر جمیل سے مراد ایسا صبر ہے جس میں کسی قسم کا شکوہ و شکایت نہ پایاجائے۔
(عَنِ ابْنِ عُمَرَ ؓ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ الْمُؤْمِنُ الَّذِيْ یُخَالِطُ النَّاسَ وَیَصْبِرُ عَلٰی أَذَاھُمْ أَعْظَمُ أَجْرًا مِّنَ الْمُؤْمِنِ الَّذِیْ لَایُخَالِطُ النَّاسَ وَلَا یَصْبِرُ عَلٰی أَذَاھُمْ )
(رواہ ابن ماجۃ : کتاب الفتن، باب الصبر علی البلاء، ھٰذا حدیث صحیح)
” حضرت عبداللہ بن عمر ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا : جو مومن لوگوں کے ساتھ مل جل کر رہتا ہے اور ان کی طرف سے پہنچنے والی تکلیفوں پر صبر کرتا ہے وہ اس مومن سے زیادہ اجر والا ہے جو نہ لوگوں میں گھل مل کر رہتا ہے اور نہ ان کی دی ہوئی تکلیفوں پر صبر کرتا ہے۔ “
مسائل
1۔ نفس پر قابو پانے کے لیے تہجد کی نماز بہترین عمل ہے۔
2۔ تہجد کی نماز میں قرآن پڑھنے کا زیادہ لطف آتا ہے۔ 3۔ اللہ تعالیٰ کا ذکر ہر تعلق سے بےتعلق ہو کر کرنا چاہیے۔
4۔ اللہ تعالیٰ کے سوا مشرق ومغرب میں کوئی الٰہ نہیں لہٰذا اسی کو اپنا کارساز سمجھنا چاہیے۔
5۔ حق کے خلاف لوگوں کی باتوں پر صبر کرنا چاہیے اور ان سے اچھے انداز میں الگ رہنا چاہیے۔
تفسیر بالقرآن
اللہ تعالیٰ ہی کارساز ہے اور ہر حال میں اسی پر توکل کرنا چاہیے :
1۔ رسول کریم ﷺ کو اللہ پر توکل کرنے کی ہدایت۔ (النمل : 79) 2۔ مومنوں کو اللہ تعالیٰ پر توکل کرنے کا حکم۔ (المجادلہ : 10)
3۔ انبیاء اور نیک لوگ اللہ ہی پر توکل کرتے اور کرتے ہیں۔ (یوسف : 67)
4۔ اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرنا چاہیے کیونکہ وہ عرش عظیم کا مالک ہے۔ (التوبہ : 129)
5۔ جو اللہ پر توکل کرتا ہے اللہ اسے کافی ہوجاتا ہے۔ (الطلاق : 3)
Ayahs 73:11–14فہم القرآن
ربط کلام : نبی ﷺ کو صبر کرنے اور جھگڑا کرنے والوں سے کنارہ کش ہونے کی تلقین کرنے کے بعد آپ کے مخالفین کو زبردست انتباہ۔
قرآن مجید نے توحید، رسالت اور آخرت کے بارے میں سینکڑوں دلائل دیئے مگر پھر بھی اہل مکہ آپ ﷺ کو جھوٹا قرار دیتے تھے۔ اس پر ایک طرف آپ کو صبر کی تلقین کی گئی ہے اور دوسری طرف یہ فرمایا کہ اے نبی ! مجھے جھٹلانے والوں سے نبٹ لینے دیں یہ اپنی دولت کے نشے میں مست ہیں انہیں تھوڑی سی مزید مہلت دیں۔ اللہ تعالیٰ نے اس موقع پر اپنے لیے ” ذَرْنِیْ “ کا لفظ استعمال کیا ہے۔ اس کا معنٰی ہے کہ مجھے چھوڑ دیں تاکہ جو لوگ بالخصوص سرمایہ دار آپ کو جھٹلاتے ہیں ان کے ساتھ نبٹ لوں۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ کفار سے نبٹنے کے لیے اللہ تعالیٰ آپ ﷺ یا کسی دوسرے کے ہاتھیوں مجبور تھا اور ہے، یہ تنبیہ کا ایک انداز ہے جو ہر زبان میں مخالف کو ڈرانے اور دھمکانے کے لیے اختیار کیا جاتا ہے۔ مقصد دوسرے کو زبردست انداز میں انتباہ کرنا ہوتا ہے دولت مند سے مراد کوئی خاص شخص نہیں بلکہ اس سے مراد مکہ کے وہ سردار ہیں جو وسائل اور افرادی قوت کی بنا پر اپنے آپ کو بڑا سمجھتے تھے اور آپ ﷺ کے ساتھیوں کو حقیر جانتے تھے۔ انہیں بتلایا گیا کہ آخرت میں تمہارا انجام یہ ہوگا کہ ہمارے پاس تمہارے لیے بھاری بھر کم بیڑیاں ہیں اور بھڑکتی ہوئی آگ اور گلے میں پھنس جانے والا کھانا اور اذّیت ناک عذاب ہوگا۔ اس دن زمین اور پہاڑ لرزا اٹھیں گے۔ جب بلند وبالا اور مضبوط ترین پہاڑ لرز اٹھیں گے تو ان کی کیا مجال کے یہ اپنے رب کے سامنے دم مار سکیں، اس مقام پر فرمایا کہ پہاڑ ریت کے ٹیلے بن جائیں گے دوسرے مقام پر ارشاد ہوا :
(وَیَسْءَلُوْنَکَ عَنِ الْجِبَالِ فَقُلْ یَنْسِفُہَا رَبِّیْ نَسْفًا۔ فَیَذَرُہَا قَاعًا صَفْصَفًا۔ لَّا تَرٰی فِیْہَاعِوَجًا وَّ لَآ اَمْتًا) (طٰہٰ : 105 تا 107)
” یہ لوگ آپ سے پوچھتے ہیں کہ یہ پہاڑکہاں چلے جائیں گے فرمادیں کہ میرا رب ان کو دھول بناکر اڑا دے گا اور زمین کو چٹیل میدان بنا دے گا۔ تم زمین میں کوئی اونچ نیچ نہیں دیکھ پاؤ گے۔ “
(عَنْ صُہَیْبٍ ؓ قَالَ قَالَ رَسُول اللّٰہِ ﷺ عَجَبًا لِأَمْرِ الْمُؤْمِنِ إِنَّ أَمْرَہٗ کُلَّہٗ خَیْرٌ وَلَیْسَ ذَاکَ لِأَحَدٍ إِلَّا لِلْمُؤْمِنِ إِنْ أَصَابَتْہُ سَرَّاءُ شَکَرَ فَکَانَ خَیْرًا لَہٗ وَإِنْ أَصَابَتْہُ ضَرَّاءُ صَبَرَ فَکَانَ خَیْرًا لَہٗ ) (رواہ مسلم : کتاب الزہد والرقائق، باب المؤمن أمرہ کلہ خیر)
” حضرت صہیب ؓ بیان کرتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا مومن کے معاملات عجیب ہیں اس کے تمام معاملات میں خیر ہے اور یہ صرف مومن کے لیے ہے اگر اسے آسانی ملتی ہے تو وہ اللہ کا شکر ادا کرتا ہے یہ اسکے لیے بہتر ہے اگر اسے تکلیف پہنچتی ہے تو صبر کرتا ہے یہ بھی اس کے لیے بہتر ہے۔ “
مسائل
1۔ جھگڑالو لوگوں کے مقابلے میں صبر کرنا چاہیے اور ان سے بہترین انداز میں اپنا دامن بچانا چاہیے۔
2۔ اللہ تعالیٰ نے مکذبین کے لیے بیڑیاں اور بھڑکتی ہوئی آگ تیار کی ہے۔
3۔ مکذبین کے لیے بدترین کھانا اور اذیت ناک عذاب تیار کیا گیا ہے۔
4۔ قیامت کے دن زمین اور پہاڑ اس طرح ہلا دئیے جائیں گے جس سے پہاڑ ریت کے ذرات بن جائیں گے۔
تفسیر بالقرآن
اللہ کے نافرمانوں کا انجام :
1۔ قیامت کے دن مجرموں کو با ہم زنجیروں میں جکڑدیا جائے گا۔ (ابراہیم : 49)
2۔ قیامت کے دن کفار کو طوق پہنا کر جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔ (الحاقہ : 30۔ 31)
3۔ قیامت کے دن مجرموں کی آنکھیں جھکی ہوئی ہوں گی اور ان پر ذلت چھا رہی ہوگی۔ (المعارج : 44)
4۔ قیامت کے دن مجرموں کے ابرو پاؤں کے انگوٹھے کے بال سے باندھ دیے جائیں گے۔ (الرحمن : 41)
5۔ اس دن آپ دیکھیں گے کہ مجرم اپنے سروں کو جھکائے پروردگار کے سامنے پیش ہوں گے۔ (السجدۃ : 12)
6۔ مجرم تھور کے درخت سے اپنے پیٹ بھریں گے اور کھولتا ہوا پانی پئیں گے۔ (الصٰفٰت : 66۔ 67)
7۔ بیشک مجرم ہمیشہ جہنم میں رہیں گے۔ (الزخرف : 74)
Ayahs 73:15–16فہم القرآن
ربط کلام : جن مکذبین کو بیڑیوں سے جکڑا جائے گا اور ان کو اذّیت ناک عذاب میں مبتلا کیا جائے گا ان میں سرفہرست فرعون اور اس کے پیروکار ہوں گے۔
سورة مزمل کی چوتھی آیت میں ارشاد ہوا ہے کہ ہم آپ پر بھاری فرمان نازل کرنے والے ہیں اس کی تفسیر کرتے ہوئے یہ عرض کی ہے کہ کفار اور مشرکین کے سامنے قرآن مجید کی دعوت پیش کرنا فی نفسہٖ بڑا مشکل اور بھاری کام ہے۔ اس بھاری کام کو آپ ﷺ صبح وشام مکہ اور اس کے گرد ونواح میں سرانجام دے رہے تھے۔ اس کا رد عمل وہی تھا جس کا مظاہرہ فرعون اور اس کے ساتھیوں نے موسیٰ (علیہ السلام) کے سامنے کیا تھا۔ فرعون اور اس کے ساتھیوں کا انجام بتلانے کے لیے اہل مکہ کو براہ راست مخاطب کرتے ہوئے فرمایا کہ ہم نے تمہاری طرف ایسا رسول مبعوث کیا ہے جیسا رسول فرعون کی طرف مبعوث کیا تھا، فرعون نے موسیٰ (علیہ السلام) کی نافرمانی کی جس کے نتیجے میں ہم نے فرعون اور اس کے ساتھیوں کی سخت ترین گرفت کی۔
(النَّارُ یُعْرَضُوْنَ عَلَیْہَا غُدُوًّا وَعَشِیًّا وَیَوْمَ تَقُوْمُ السَّاعَۃُ اَدْخِلُوْا آلَ فِرْعَوْنَ اَشَدَّ الْعَذَابِ )
(المومن : 46)
” آل فرعون صبح وشام جہنم کی آگ کے سامنے پیش کیے جاتے ہیں، اور قیامت کے دن حکم ہوگا کہ آل فرعون کو شدید ترین عذاب میں داخل کردو۔ “
(عَنْ أَبِی عُبَیْدَۃَ عَنْ أَبِیہِ قَالَ أَتَیْتُ النَّبِیَّ ﷺ فَقُلْتُ قَدْ قُتِلَ أَبُو جَہْلٍ اَوْ قَدْ قَتَلْتُ أَبَا جَہْلٍ قَالَ أَنْتَ رَأَیْتَہُ ؟ قُلْتُ نَعَم قَال آللَّہِ مَرَّتَیْنِ ؟ قُلْتُ نَعَمْ قَالَ فَاذْہَبْ حَتَّی أَنْظُرَ إِلَیْہِ فَذَہَبَ فَأَتَاہُ وَقَدْ غَیَّرَتِ الشَّمْسُ مِنْہُ شَیْءًافَأَمَرَ بِہِ وَبِأَصْحَابِہِ فَسُحِبُوا حَتَّی أُلْقُوا فِی الْقَلِیبِ قَالَ وَأُتْبِعَ أَہْلُ الْقَلِیبِ لَعْنَۃً وَقَالَ کَانَ ہَذَا فِرْعَوْنَ ہَذِہِ الأُمَّۃِ )
(رواہ احمد : باب حدیث العباس، اسنادہ ضعیف)
” حضرت ابو عبیدہ بیان کرتے ہیں کہ ان کے باپ نے کہا کہ میں نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا میں نے کہا اے اللہ کے رسول ﷺ ! ابوجہل قتل ہوگیا ہے یا میں نے ابو جہل کو قتل کردیا ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا تو نے اس کو دیکھا ہے ؟ میں نے کہا کیوں نہیں ! آپ نے دو مرتبہ اللہ کی قسم کھائی میں نے کہا جی ہاں ! آپ نے فرمایا میرے ساتھ چلو یہاں تک کہ میں بھی اسے دیکھ لوں۔ آپ چلے، جب اس کی لاش کے پاس پہنچے تو دیکھا کہ دھوپ کی وجہ سے اس کا رنگ تبدیل ہوچکا ہے۔ آپ ﷺ نے اس کو اور اس کے ساتھیوں کو کنویں میں ڈالنے کا حکم دیا تو انہیں گندے پانی کے کنویں میں پھینک دیا گیا۔ پھر کنویں والوں پر لعنت کی گئی۔ آپ ﷺ نے فرمایا ابوجہل اس امت کا فرعون ہے۔ “
مسائل
1۔ اللہ تعالیٰ نے نبی ﷺ کی نبوت کو موسیٰ (علیہ السلام) کی نبوت کے ساتھ مشابہ قرار دیا۔
2۔ جس طرح فرعون نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی مخالفت اور نافرمانی کی اسی طرح اہل مکہ نے نبی ﷺ کی مخالفت اور نافرمانی کی۔
3۔ جس طرح فرعون اور اس کے ساتھیوں کا انجام ہوا بالکل ایسے ہی ابو جہل اور اس کے ساتھیوں کا بدترین انجام نکلا۔
تفسیر بالقرآن
فرعون اور اس کے ساتھیوں کا انجام :
1۔ ہم آج تیرے جسم کو بچائیں گے تاکہ بعد میں آنے والوں کے لیے نشان عبرت بنائیں۔ (یونس : 92)
2۔ ہم نے ان کو ان کے گناہوں کی وجہ سے ہلاک کردیا اور آل فرعون کو غرق کیا۔ (الاعراف : 64)
3۔ ہم نے فرعونیوں سے انتقام لیا اور انہیں دریا برد کردیا۔ (الزخرف : 55)
4۔ ہم نے فرعون اور اس کے ساتھیوں کو غرق کردیا۔ (بنی اسرائیل : 103)
5۔ ہم نے موسیٰ اور اس کے ساتھیوں کو نجات دی اور آل فرعون کو غرق کردیا۔ (الشعراء : 66)
6۔ ہم نے انہیں اور ان کے لشکروں کو پکڑ کر دریا میں پھینک دیا۔ (الذاریات : 40)
7۔ قیامت کے دن (فرعون) اپنی قوم کے آگے آگے چلے گا اور وہ انہیں دوزخ میں لے جائے گا۔ (ہود : 98)
Ayahs 73:17–19فہم القرآن
ربط کلام : فرعون کا انجام بتلا کر اہل مکہ کو ان کا آخرت کا انجام بتلایا گیا ہے۔
انبیائے کرام (علیہ السلام) کی دعوت کا انکار کرنے والی اقوام کا دنیا میں بدترین انجام ہوا جن میں سر فہرست فرعون اور اس کے ساتھی ہیں۔ ان کا انجام بتلاتے ہوئے اہل مکہ کو ایک دفعہ پھر براہ راست خطاب کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ اگر تم نبی ﷺ کی مخالفت اور آپ کی دعوت کا انکار کروگے تو بتاؤ اس دن کی سختیوں سے کس طرح بچ سکو گے جو دن بچوں کو بوڑھا کردے گا ؟ اور آسمان پھٹ جائے گا۔ یاد رکھو کہ یہ سب کچھ ہو کر رہے گا کیونکہ یہ رب ذوالجلال کا وعدہ ہے جو ہر صورت پورا ہوگا۔ جس قرآن کے ذریعے تمہیں ڈرایا جاتا ہے اس میں تمہارے لیے نصیحت ہے۔ انسان کو چاہیے کہ وہ قرآن کی نصیحت کو قبول کرے اور اپنے رب کی طرف جانے والے راستے پر گامزن ہوجائے، اسی میں اس کی دنیا اور آخرت کی کامیابی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ہدایت اور گمراہی کا راستہ واضح فرما کر انسان کو اختیار دیا ہے کہ وہ ان میں سے جس کا چاہے انتخاب کرے۔
مسائل
1۔ قیامت کے دن آسمان پھٹ جائے گا اور یہ ہو کر رہے گا کیونکہ یہ ” اللہ “ کا وعدہ ہے۔
2۔ قرآن مجید لوگوں کے لیے نصیحت ہے اب جس کا دل چاہے نصیحت حاصل کرے اور اپنے رب کی طرف جانے والے راستے پر گامزن ہوجائے۔
3۔ قیامت کے دن بچے بھی بوڑھے ہوجائیں گے۔
Ayah 73:20فہم القرآن
ربط کلام : لوگوں کو واضح الفاظ میں نصیحت کرنے کے بعد ایک دفعہ پھر نبی ﷺ کو تہجد اور اسلام کے بنیادی ارکان کی طرف توجہ دلائی گئی ہے۔
اس سورت کی ابتدائی چار آیات میں نبی ﷺ کو تہجد پڑھنے کا حکم دیا گیا، حکم ہوا کہ آپ آدھی رات یا رات کا تہائی حصہ اپنے رب کے حضور قیام کریں اور اس میں قرآن مجید کو ٹھہر ٹھہر کر پڑھا کریں۔ اب حکم ہوا کہ آپ کا رب جانتا ہے کہ آپ اور آپ کے ساتھی کبھی دوتہائی رات، کبھی آدھی رات اور کبھی ایک تہائی رات قیام کرتے ہیں اسے معلوم ہے کہ تم اتنا طویل قیام مسلسل نہیں کرسکوگے اس لیے اس نے تم پر اپنی مہربانی فرمائی ہے لہٰذا تم رات کے قیام میں اپنی آسانی کے مطابق قرآن پڑھ لیا کرو۔ اسے معلوم ہے کہ تم میں بعض لوگ بیمار ہوجاتے ہیں، کچھ اللہ کا فضل تلاش کرنے کے لیے دن کے وقت کام کاج کرنے کے لیے زمین میں ادھر ادھر پھرتے ہیں اور کچھ اس کی راہ میں قتال کرتے ہیں۔ اس لیے تمہارے لیے آسانی کی جاتی ہے اب رات کو اتنا ہی قرآن پڑھو جتنا تم اپنے لیے آسان سمجھو۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید کی تلاوت میں تخفیف کی اجازت دے کر تہجد کے طویل قیام کو مختصر کردیا ہے۔ تہجد کی نماز زیادہ سے زیادہ تیرہ رکعت ہے ان کی طوالت کا انحصار قرآن مجید کی تلاوت پر ہے۔ تہجد میں جتنا قرآن زیادہ پڑھا جائے گا اتنی رکعات طویل ہوں گی اگر قرآن تھوڑا پڑھا جائے گا تو رکعات کی طوالت تھوڑی ہوجائے گی۔ اس لیے اجازت دی گئی ہے کہ جتنا آسانی کے ساتھ قرآن پڑھ سکتے ہو اتنا ہی پڑھ لیا کرو۔ اس سے یہ بات ثابت ہوئی کہ حتی المقدور تہجد کا قیام لمبا کیا جائے تاکہ اس میں زیادہ سے زیادہ قرآن مجید کی تلاوت ہوسکے۔ دوسرا حکم فرض نماز کا دیا گیا ہے کہ اسے ہر حال میں قائم رکھو قائم رکھنے سے مراد اسے بر وقت پڑھنا اور اس کے تقاضے پورے کرنا ہے۔ تیسرا حکم زکوٰۃ کا دیا ہے جو اللہ تعالیٰ کو قرض دینے کے مترادف ہے زکوٰۃ ادا کرنے کے علاوہ یہاں عام صدقہ کرنے کا بھی اشارہ موجود ہے۔ نماز اور زکوٰۃ کا حکم دینے کے بعد ارشاد فرمایا ہے کہ جو کچھ تم اپنے لیے آگے بھیجو گے اسے اللہ تعالیٰ کے ہاں بہت بہتر اور بہت زیادہ پاؤ گے۔ نماز اور زکوٰۃ ادا کرنے کے ساتھ ساتھ اللہ کے حضور استغفار کرتے رہو اور یقین رکھو کہ اللہ تعالیٰ معاف کرنے والا اور نہایت مہربان ہے۔