72. Surah Al-Jinn

الجنThe Jinn · 28 ayahsفہم القرآن

تعارف

تعارف

سورة الجنّ کا تعارف یہ سورت بھی اسم بامسمّہ ہے اس لیے کہ اس میں جن کا تذکرہ ہوا ہے، الجنّ کا لفظ اس سورت میں تین مرتبہ آیا ہے۔ اس کی اٹھائیس آیات ہیں جو دو رکوع پر مشتمل ہیں اور یہ سورت مکہ معظمہ میں نازل ہوئی۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) عکاز کی منڈی، بعض مفسرین نے طائف کے سفر سے بعد کا واقعہ لکھا ہے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہجرت کے دسویں سال اہل مکہ سے مایوس ہو کر طائف کی طرف گئے تاکہ طائف والوں کو دین کی دعوت دی جائے، لیکن طائف والوں نے آپ کے ساتھ بدترین سلوک کیا۔ آپ زخمی حالت میں مکہ واپس آرہے تھے کہ راستے میں جنوں کے ایک وفد نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے قرآن مجید کی تلاوت سنی جونہی انہوں نے قرآن پاک سنا تو وہ اپنے ساتھیوں سے کہنے لگے کہ ہم نے قرآن کی صورت میں عجب کلام سنا ہے جو ہدایت کی طرف رہنمائی کرتا ہے اس لیے ہم اس پر ایمان لے آئے اور ہم نے عہد کرلیا ہے کہ ہم اپنے رب کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرائیں گے۔ اس لیے کہ ہمارا رب بڑی شان والا ہے نہ اس کی اولاد ہے اور نہ ہی اس کا کوئی شریک ہے۔ اس کے باوجود ہم میں سے بیوقوف اللہ تعالیٰ کے بارے میں مختلف عقائد رکھتے ہیں۔ قرآن مجید سننے سے پہلے ہمارا خیال تھا کہ جن اور انسان اللہ تعالیٰ پر جھوٹ نہیں بول سکتے مگر قرآن مجید کی تلاوت سننے سے یہ ثابت ہوگیا ہے کہ بیشمار جن اور انسان اللہ تعالیٰ کے بارے میں جھوٹ بولتے ہیں۔ ہم نے ایک اور بات محسوس کی ہے کہ اب ہم میں کوئی بات سننے کے لیے آسمان کی طرف چڑھتا ہے تو ایک بڑھکتا ہوا شعلہ اس کا تعاقب کرتا ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ دنیا میں کوئی انقلاب آنے والا ہے اللہ تعالیٰ نے جنات کے خیالات ذکر کرنے کے بعد نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ” قل “ کا لفظ بول کر درجہ ذیل ہدایات سے سرفراز فرمایا : ١۔ اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حالات جیسے بھی ہوجائیں آپ یہی کہیں اور دعوت دیتے رہیں کہ میں صرف اپنے رب کی عبادت کروں گا اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں بناؤں گا۔ ٢۔ اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کو نفع نقصان اور ہدایت دینے کا اختیار نہیں ہے۔ ٣۔ اے لوگو ! اگر اللہ تعالیٰ میری گرفت کرنے پر آئے تو مجھے بھی کوئی نہیں بچا سکتا، یاد رکھو جو بھی اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نافرمانی کرے گا وہ ہمیشہ ہمیش کے لیے جہنم میں داخل کیا جائے گا۔ ٤۔ اے لوگو ! میں نہیں جانتا کہ جس چیز کا تمہارے ساتھ وعدہ کیا گیا ہے وہ قریب ہے یا میرے رب نے اس کی لمبی مدت مقرر کی رکھی ہے حقیقت یہ ہے کہ وہی غائب کو جاننے والا ہے اس کے سوا کوئی بھی غائب نہیں جانتا الّا یہ کہ جتنا چاہے وہ اپنے رسول کو بتادیتا ہے۔

Ayahs 72:1–7

قُلْ اُوْحِیَ اِلَیَّ اَنَّهُ اسْتَمَعَ نَفَرٌ مِّنَ الْجِنِّ فَقَالُوْۤا اِنَّا سَمِعْنَا قُرْاٰنًا عَجَبًاۙ Open ayah 72:1 in the Quran reader

اے نبی فرما دیں کہ میری طرف وحی کی گئی ہے کہ 3 کے ایک گروہ نے قرآن کو غور سے سنا اور پھر جا کر اپنے ساتھی سے کہا کہ ہم نے ایک عجیب قرآن سنا ہے

یَّهْدِیْۤ اِلَى الرُّشْدِ فَاٰمَنَّا بِهٖ١ؕ وَ لَنْ نُّشْرِكَ بِرَبِّنَاۤ اَحَدًاۙ Open ayah 72:2 in the Quran reader

جو سیدھے راستے کی طرف رہنمائی کرتا ہے اس لیے ہم اس پر ایمان لے آئے اور اب ہم اپنے رب کے ساتھ کسی کو ہرگز شریک نہیں کریں گے

وَّ اَنَّهٗ تَعٰلٰى جَدُّ رَبِّنَا مَا اتَّخَذَ صَاحِبَةً وَّ لَا وَلَدًاۙ Open ayah 72:3 in the Quran reader

کیونکہ ہمارے رب کی شان بہت اعلیٰ اور ارفع ہے اس نے کسی کو اپنی بیوی یا اولاد نہیں بنایا ہے

وَّ اَنَّهٗ كَانَ یَقُوْلُ سَفِیْهُنَا عَلَى اللّٰهِ شَطَطًاۙ Open ayah 72:4 in the Quran reader

اور ہمارے نادان جن اللہ کے بارے میں خلاف واقعہ باتیں کرتے رہے ہیں

وَّ اَنَّا ظَنَنَّاۤ اَنْ لَّنْ تَقُوْلَ الْاِنْسُ وَ الْجِنُّ عَلَى اللّٰهِ كَذِبًاۙ Open ayah 72:5 in the Quran reader

اور بیشک ہم نے سمجھا تھا کہ انسان اور 3 اللہ کے بارے میں جھوٹ نہیں بول سکتے

وَّ اَنَّهٗ كَانَ رِجَالٌ مِّنَ الْاِنْسِ یَعُوْذُوْنَ بِرِجَالٍ مِّنَ الْجِنِّ فَزَادُوْهُمْ رَهَقًاۙ Open ayah 72:6 in the Quran reader

اور بیشک انسانوں میں سے کچھ لوگ جنوں میں سے کچھ لوگوں کی پناہ مانگا کرتے تھے، اس طرح انہوں نے جنوں کا غرور زیادہ کردیا ہے

وَّ اَنَّهُمْ ظَنُّوْا كَمَا ظَنَنْتُمْ اَنْ لَّنْ یَّبْعَثَ اللّٰهُ اَحَدًاۙ Open ayah 72:7 in the Quran reader

اور بیشک انسانوں نے بھی وہی گمان کیا جیسا تمہارا گمان تھا کہ اللہ کسی کو رسول بنا کر نہیں بھیجے گا

فہم القرآن ربط سورت : حضرت نوح (علیہ السلام) کی بعثت کا مقصد لوگوں کو شرک سے روکنا اور توحید کی دعوت دینا تھا اسی دعوت کے ساتھ نبی آخر الزمان ﷺ مبعوث کیے گئے جس کا تذکرہ اس سورت میں جنوں کی زبان سے کیا گیا ہے۔ اہل مکہ جب کسی سفر کے دوران صحراء یا جنگل میں پڑاؤ ڈالتے تو قافلے کا ایک فرد کسی اونچی جگہ پر کھڑے ہو کر آواز دیتا کہ اے جنوں کے سردار ہم نے یہاں پڑاؤڈالا ہے، ہماری تجھ سے درخواست ہے کہ اس صحراء میں ہماری حفاظت فرمانا۔ اس عقیدے کی تردید کے لیے نبی ﷺ کو ” قُلْ “ کے لفظ کے ساتھ حکم دیا گیا ہے کہ جو واقعہ آپ کے ساتھ پیش آیا ہے آپ یہ واقعہ اور جنوں کا عقیدہ اہل مکہ کے سامنے بیان فرمائیں۔ واقعہ اس طرح ہے کہ مکہ سے کچھ دور عکاظ کی منڈی لگتی تھی جو عکاظ بازار کے نام سے مشہور تھی۔ نبی ﷺ وہاں تبلیغ کی غرض سے جارہے تھے کہ راستے میں کہ آپ ﷺ نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ باجماعت نماز ادا کی آپ کی تلاوت جنوں کی ایک جماعت نے سنی۔ جنوں نے نبی ﷺ کی زبان اطہر سے قرآن مجید کی تلاوت سنی تو ان کے کلیجے ہل گئے اور وہ فوری طور پر شرک سے تائب ہو کر مسلمان ہوگئے۔ مفسرین کی دوسری جماعت کا خیال ہے کہ جب آپ ﷺ طائف سے مکہ واپس آرہے تھے تو یہ واقعہ اس وقت پیش آیا تھا۔ غالب بات یہی ہے کہ یہ واقعہ طائف سے واپسی کے وقت پیش آیا کیونکہ طائف والوں نے آپ کی دعوت کو مسترد کیا اور آپ پر بہت زیادتی کی تھی اس لیے آپ کو تسلی دی گئی کہ اگر طائف والوں نے آپ کی دعوت کو نہیں سنا تو آپ غم زدہ نہ ہوں یہ دعوت ایسی دعوت ہے کہ جس کو جن بھی قبول کرتے ہیں۔ لہٰذا اس موقع پر اللہ تعالیٰ نے یہ سورت نازل فرمائی جس میں جنوں کے تاثرات اور عقائد کا ذکر کیا گیا ہے ” اَسْتَمَعَ “ کا معنٰی ہے کہ توجہ سے کان لگا کر سنناجونہی جنوں کی جماعت نے توجہ کے ساتھ قرآن مجید سنا تو انہوں نے اپنے ساتھیوں میں جا کر کہا کہ اے ہمارے ساتھیو ! ہم نے ایک عجب قرآن سنا ہے جو بھلائی اور خیرخواہی کی راہنمائی کرتا ہے اس لیے ہم اس پر ایمان لاچکے ہیں۔ ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ ہم اپنے رب کے ساتھ کسی کو شریک نہیں بنائیں گے ہمیں یقین ہوگیا ہے کہ ہمارا رب بڑی عظمت والا، اعلیٰ اور ارفع ہے۔ وہ ہر قسم کے شرک سے پاک ہے اس لیے نہ اس کی بیوی ہے اور نہ اولاد۔ ہم میں سے جو جن ” اللہ “ کے ساتھ کسی کو شریک بناتے اور کہتے ہیں کہ اس کی بیوی اور اولاد ہے وہ بیوقوف ہیں وہ اللہ پر جھوٹ بولتے ہیں۔ ہمارا خیال تھا کہ کوئی انسان اور جن اللہ تعالیٰ پر جھوٹ بولنے کی جرأت نہیں کرسکتا اس لیے ہم اس باطل عقیدے میں مبتلا ہوگئے۔ بالخصوص جب انسانوں میں کچھ لوگوں نے جنوں سے پناہ حاصل کرنے کا عقیدہ اپنایا تو جن سرکشی اور شرک کرنے میں اور زیادہ آگے بڑھ گئے انہوں نے یہ گمان کرلیا کہ اللہ تعالیٰ اب کوئی نبی نہیں بھیجے گا۔ ان آیات میں جنوں کے حوالے سے سب سے پہلے قرآن مجید کی تاثیر، اس کی عظمت اور دعوت کا ذکر کیا گیا ہے۔ قرآن مجید اپنے الفاظ، انداز تکلم اور تاثیر کے لحاظ سے عجب کتاب ہے عجب کے لفظ میں مبالغہ پایا جاتا ہے۔ جس کا مطلب ہے کہ ایسی کتاب جس کا کسی اعتبار سے بھی مقابلہ نہ کیا جاسکے۔ اس کتاب کی پہلی دعوت یہ ہے کہ ” اللہ “ کے ساتھ کسی کو کسی اعتبار سے شریک نہ کیا جائے کیونکہ شرک پرلے درجے کی بیوقوفی اور زیادتی ہے اس لیے جنوں نے شرک کو حماقت اور اسے اللہ تعالیٰ پر جھوٹ بولنے کے مترادف قرار دیا ہے۔ قرآن مجید کی دعوت قبول کرنے سے پہلے جنوں کا عقیدہ تھا کہ جن اور انسان اللہ تعالیٰ پر جھوٹ نہیں بول سکتے، ایمان لانے کے بعد ان کا یہ عقیدہ غلط ثابت ہوا کیونکہ ہدایت پانے کے بعد انہیں معلوم ہوا کہ ہم جہالت میں تھے ورنہ جن اور انسان اللہ تعالیٰ پر بھی جھوٹ بولتے ہیں۔ گویا کہ جس طرح جن اللہ تعالیٰ پر جھوٹ بولنے والے ہیں اسی طرح انسانوں میں غیب کی خبریں دینے اور مشکل کشائی کا دعویٰ کرنے والے، کاہن، سادھو، جوگی، دنیا پرست پیر، فقیر اللہ تعالیٰ پر جھوٹ بولتے ہیں اور ثواب کا جھانسہ دے کر اللہ تعالیٰ پر جھوٹ بولتے ہیں۔ ان کے ساتھ وہ علماء بھی اللہ تعالیٰ پر جھوٹ بولتے اور حماقت کی باتیں کرتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کو داتا اور دستگیر کہتے ہیں اور شرک کی دعوت دیتے ہیں جنوں نے اپنے ساتھیوں کو یہ بھی بتلایا کہ جس طرح انسان سمجھتے ہیں کہ اب اللہ تعالیٰ نے کوئی نبی نہیں بھیجنا اسی طرح ہمارا بھی خیال تھا کہ اب کوئی نبی نہیں آئے گا۔ انسانوں کا اور ہمارا یہ عقیدہ بھی غلط ثابت ہوا، ہمیں یقین ہوگیا کہ آسمان کی حفاظت کے لیے جس طرح غیر معمولی اقدامات کرلیے گئے ہیں یہ اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ کوئی اہم ترین واقعہ رونما ہونے والا ہے یعنی نبی مبعوث ہوچکا ہے۔ مسائل 1۔ قرآن مجید بڑی ہی عظیم کتاب ہے۔ 2۔ قرآن مجید صراط مستقیم کی طرف راہنمائی کرتا ہے۔ اس کی سب سے بڑی دعوت ” اللہ “ کی توحیدکو ماننا اور شرک سے رکنا ہے۔ 3۔ اللہ تعالیٰ کی شان بڑی بلندوبالا ہے لہٰذا وہ بیوی اور اولاد سے مبرّا ہے۔ 4۔ جو لوگ اللہ تعالیٰ کے شریک ثابت کرتے ہیں وہ حماقت کی بات کرتے ہیں اور اپنے رب پر جھوٹ بولتے ہیں۔ 5۔ جو لوگ کسی نہ کسی انداز میں جنوں سے مدد مانگتے ہیں وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرنے کے کے ساتھ جنوں کی بغاوت میں اضافہ کرتے ہیں۔ 6۔ جنوں میں بہت سے جن اللہ کے ساتھ شرک کرنے کے ساتھ نبی ﷺ کی رسالت کا انکار کرتے ہیں۔ تفسیر بالقرآن اللہ پر جھوٹ بولنے والے لوگ : 1۔ اللہ کے ذمے جھوٹ لگانے والے فلاح نہیں پائیں گے ان کے لیے درد ناک عذاب ہے۔ (النحل : 116۔ 117) 2۔ اس شخص سے زیادہ ظالم کون ہے جو اللہ پر جھوٹ باندھتا ہے۔ (الاعراف : 37) 3۔ اس شخص نے نقصان اٹھایا جس نے اللہ پر جھوٹ بولا۔ (طٰہٰ : 61) (آل عمران ؛ 94)
Ayahs 72:8–15

وَّ اَنَّا لَمَسْنَا السَّمَآءَ فَوَجَدْنٰهَا مُلِئَتْ حَرَسًا شَدِیْدًا وَّ شُهُبًاۙ Open ayah 72:8 in the Quran reader

اور بیشک ہم نے آسمان کو ٹٹولا تو دیکھا کہ وہ پہرے داروں اور شہابوں سے بھرا پڑا ہے

وَّ اَنَّا كُنَّا نَقْعُدُ مِنْهَا مَقَاعِدَ لِلسَّمْعِ١ؕ فَمَنْ یَّسْتَمِعِ الْاٰنَ یَجِدْ لَهٗ شِهَابًا رَّصَدًاۙ Open ayah 72:9 in the Quran reader

اور یقیناً پہلے ہم کچھ سننے کے لیے آسمان میں بیٹھنے کی جگہ پالیتے تھے مگر اب جو سننے کی کوشش کرتا ہے وہ اپنے لیے گھات میں شہاب ثاقب پاتا ہے

وَّ اَنَّا لَا نَدْرِیْۤ اَشَرٌّ اُرِیْدَ بِمَنْ فِی الْاَرْضِ اَمْ اَرَادَ بِهِمْ رَبُّهُمْ رَشَدًاۙ Open ayah 72:10 in the Quran reader

اور بیشک ہماری سمجھ میں نہیں آیا کہ زمین والوں کے ساتھ کوئی برا فیصلہ کرنے کا ارادہ کیا گیا ہے یا ان کا رب ان کی راہنمائی کرنا چاہتا ہے

وَّ اَنَّا مِنَّا الصّٰلِحُوْنَ وَ مِنَّا دُوْنَ ذٰلِكَ١ؕ كُنَّا طَرَآئِقَ قِدَدًاۙ Open ayah 72:11 in the Quran reader

اور بیشک ہم میں سے کچھ لوگ صالح ہیں اور کچھ برے ہیں۔ ہم مختلف طریقوں میں بٹے ہوئے ہیں

وَّ اَنَّا ظَنَنَّاۤ اَنْ لَّنْ نُّعْجِزَ اللّٰهَ فِی الْاَرْضِ وَ لَنْ نُّعْجِزَهٗ هَرَبًاۙ Open ayah 72:12 in the Quran reader

اور بیشک ہم سمجھتے تھے کہ نہ زمین میں ہم اللہ کو عاجز کرسکتے ہیں اور نہ بھاگ کر اسے عاجز کرسکتے ہیں

وَّ اَنَّا لَمَّا سَمِعْنَا الْهُدٰۤى اٰمَنَّا بِهٖ١ؕ فَمَنْ یُّؤْمِنْۢ بِرَبِّهٖ فَلَا یَخَافُ بَخْسًا وَّ لَا رَهَقًاۙ Open ayah 72:13 in the Quran reader

اور بیشک ہم نے جب ہدایت کی بات سنی تو ہم اس پر ایمان لے آئے، اب جو کوئی بھی اپنے رب پر ایمان لائے گا اسے کسی حق تلفی یا ظلم کا خوف نہیں ہوگا

وَّ اَنَّا مِنَّا الْمُسْلِمُوْنَ وَ مِنَّا الْقٰسِطُوْنَ١ؕ فَمَنْ اَسْلَمَ فَاُولٰٓئِكَ تَحَرَّوْا رَشَدًا Open ayah 72:14 in the Quran reader

اور بیشک ہم میں سے کچھ تابعدار ہیں اور کچھ حق سے انحراف کرنے والے ہیں۔ جنہوں نے اسلام قبول کرلیا انہوں نے نجات کی راہ پالی

وَ اَمَّا الْقٰسِطُوْنَ فَكَانُوْا لِجَهَنَّمَ حَطَبًاۙ Open ayah 72:15 in the Quran reader

اور جو حق سے منحرف ہوئے وہ جہنم کا ایندھن بننے والے ہیں

فہم القرآن ربط کلام : جنوں کے واقعہ اور بیان کا ذکر جاری ہے۔ جنوں نے اپنے ساتھیوں کو کہا کہ نبی کے آنے کے بارے میں ہمارا اور انسانوں کا گمان اس لیے غلط ثابت ہوا کہ پہلے ہم آسمان کے قریب جاکر ملائکہ کی کوئی نہ کوئی بات سن لیا کرتے تھے لیکن اب ہم آسمان کے قریب جاتے ہیں تو اسے سخت پہرے داروں اور بھڑکتے ہوئے شعلوں سے بھرا ہوا پاتے ہیں، ہم میں جو بھی سننے کے لیے آسمان کے قریب جاتا ہے تو وہ اپنے تعاقب میں بھڑکتا ہوا شعلہ پاتا ہے۔ ہمیں معلوم نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے زمین پر رہنے والوں کے ساتھ سختی کرنے کا ارادہ کیا ہے یا ان کی راہنمائی کرنے کا فیصلہ فرمایا ہے۔ ہم میں سے کچھ صالح ہیں اور باقی برے ہیں اور ہم نے کئی طرح کے مذہب اختیار کر رکھے ہیں۔ قرآن مجید کی تلاوت سننے کے بعد ہمیں یقین ہوگیا ہے کہ ہم اللہ تعالیٰ کو نہ تو کسی معاملے میں زمین میں عاجز کرسکتے ہیں اور نہ ہی اس سے بھاگ کر بچ سکتے ہیں اس لیے جونہی ہم نے ہدایت کی بات سنی تو ہم فوری طور پر اس پر ایمان لے آئے، جو بھی اپنے رب پر ایمان لائے گا اسے نہ کسی نقصان کا خوف ہوگا اور نہ ہی اس پر زیادتی ہوگی۔ ہم میں کچھ مسلمان ہیں اور باقی نافرمان ہیں۔ جنہوں نے اپنے رب کا فرمان تسلیم کرلیا وہ ہدایت کے راستے پر چل پڑے اور جنہوں نے نافرمانی اختیار کی وہ جہنم کا ایندھن بنیں گے۔ نبی ﷺ کی بعثت سے پہلے جن آسمان کے دروازوں کے قریب جاکر کوئی نہ کوئی بات سن لیا کرتے تھے اور وہ باتیں کاہن قسم کے لوگوں کے دلوں میں ڈالتے تھے۔ اس بنا پر کاہن لوگ غیب دانی کا دعویٰ کرتے تھے اور کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے نبی ﷺ کو خاتم المرسلین بنایا تو آسمان کی حفاظت کا خصوصی بندوبست فرمادیا تاکہ جن کسی طرح بھی آسمان کی باتیں نہ سن سکیں۔ اس لیے مسلمان ہونے والے جنوں نے اپنے ساتھیوں کو بتلایا کہ اب آسمان کی حفاظت کے لیے پہرے دار بٹھادیئے گئے ہیں اور شہاب ثاقب ہمارا تعاقب کرتے ہیں۔ انہوں نے اپنے ساتھیوں کو یہ بات بھی سمجھائی کہ ہمیں اپنے رب کی نافرمانی کرنے کی بجائے اس کی تابعداری اختیار کرنی چاہیے۔ کیونکہ جو اپنے رب کی تابعداری اختیار کرے گا اسے نہ کسی نقصان کا اندیشہ ہوگا اور نہ ہی اسے خوف ہوگا اور جس نے اس کی تابعداری نہ کی اسے جہنم کا ایندھن بننا ہوگا۔ جنوں نے اپنے ساتھیوں کو یہ کہہ کر ایمان لانے کی ترغیب دی کہ ایمان لانے میں تمہارا کوئی نقصان نہیں ہوگا بلکہ تم اپنے رب پر ایمان لا کر اس کی نعمتوں کے حقدار بن جاؤ گے اور اس کی جہنم سے محفوظ ہوجاؤ گے۔ بیشک جن آگ سے پیدا کیے گئے ہیں لیکن جنوں کی آگ کے مقابلے میں ان کی آگ کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔ اس لیے مسلمان جنوں نے اپنے ساتھیوں کو جہنم کی آگ سے ڈرایا تاکہ وہ اپنے رب پر ایمان لے آئیں۔ (عَنْ عَاءِشَۃَ ؓ قَالَتْ قَالَ رَسُول اللّٰہِ ﷺ خُلِقَتِ الْمَلاَ ءِکَۃُ مِنْ نُورٍ وَخُلِقَ الْجَانُّ مِنْ مَارِجٍ مِنْ نَارٍ وَخُلِقَ آدَمُ مِمَّا وُصِفَ لَکُمْ ) (رواہ مسلم : باب فِی أَحَادِیثَ مُتَفَرِّقَۃٍ ) ” حضرت عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ملائکہ کو نور سے پیدا کیا گیا ہے اور جنوں کو بھڑکتی ہوئی آگ سے اور آدم کو مٹی سے پیدا کیا گیا ہے۔ “ (عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ؓ یَبْلُغُ بِہِ النَّبِیَّ ﷺ قَالَ ۔۔ فَیَسْمَعُہَا مُسْتَرِقُو السَّمْعِ وَمُسْتَرِقُو السَّمْعِ ہَکَذَا وَاحِدٌ فَوْقَ آخَرَ وَوَصَفَ سُفْیَانُ بِیَدِہِ وَفَرَّجَ بَیْنَ أَصَابِعِ یَدِہٖ الْیُمْنَی نَصَبَہَا بَعْضَہَا فَوْقَ بَعْضٍ فَرُبَّمَا أَدْرَکَ الشِّہَابُ الْمُسْتَمِعَ قَبْلَ أَنْ یَرْمِیَ بِہَا إِلَی صَاحِبِہِ فَیُحْرِقَہُ ) (رواہ البخاری : باب قَوْلِہِ (إِلاَّ مَنِ اسْتَرَقَ السَّمْعَ فَأَتْبَعَہُ شِہَابٌ مُبِینٌ) ” حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ مجھے اس بات کی خبر رسول اللہ ﷺ نے دی شیاطین آسمان سے چوری چھپے باتیں سنتے ہیں اور ان کے سننے کا طریقہ یہ ہے کہ ایک دوسرے کے کندھوں پر سوار ہوتے ہوئے آسمان تک پہنچنے کی کوشش کرتے ہیں۔ سفیان نے اپنے ہاتھوں کو ایک دوسرے کے اوپر رکھتے ہوئے سے اس کو بیان کرتے کیا بسا اوقات سننے والے شیطان پر شہاب ثاقب لپکتا ہے پہلے اس کے کہ وہ اس بات کو اپنے ساتھی تک پہنچائے وہ اس کو جلا دیتا ہے۔ “ مسائل 1۔ اللہ تعالیٰ نے آسمان دنیا کی حفاظت کے لیے چوکیدار اور شہاب ثاقب مقرر کر رکھے ہیں۔ 2۔ نبی ﷺ کی بعثت کے بعد جن آسمان کی کوئی بات نہیں سن سکتے۔ 3۔ جنوں میں نیک بھی ہوتے ہیں اور گمراہ بھی۔ 4۔ اللہ تعالیٰ کو کوئی طاقت کسی معاملے میں بےبس نہیں کرسکتی اور نہ ہی کوئی اللہ کی گرفت سے بھاگ سکتا ہے۔ 5۔ جو شخص اپنے رب پر ایمان لائے گا اسے نہ نقصان ہوگا اور نہ اس پر زیادتی ہوگی۔ تفسیر بالقرآن اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے : 1۔ اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے (البقرۃ : 20) 2۔ ” اللہ “ آسمانوں و زمین کی ہر چیز کو جانتا ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ (آل عمراٰن : 29) 3۔ اللہ تعالیٰ ہر اس چیز کو جانتا ہے جو زمین میں داخل ہوتی اور اس سے نکلتی ہے۔ ( الحدید : 4) 4۔ اللہ تعالیٰ آسمانون و زمین کی ہر چیز کو جانتا ہے۔ ( المجادلہ : 7) (البقرۃ : 284) 5۔ تم جہاں کہیں بھی ہوگے اللہ تمہیں قیامت کے دن جمع فرمائے گا وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ (البقرۃ : 148)
Ayahs 72:16–24

وَّ اَنْ لَّوِ اسْتَقَامُوْا عَلَى الطَّرِیْقَةِ لَاَسْقَیْنٰهُمْ مَّآءً غَدَقًاۙ Open ayah 72:16 in the Quran reader

اور اگر لوگ راہ راست پر ثابت قدمی سے چلتے تو ہم انہیں خوب سیراب کرتے

لِّنَفْتِنَهُمْ فِیْهِ١ؕ وَ مَنْ یُّعْرِضْ عَنْ ذِكْرِ رَبِّهٖ یَسْلُكْهُ عَذَابًا صَعَدًاۙ Open ayah 72:17 in the Quran reader

تاکہ اس نعمت سے ان کی آزمائش کریں، اور جو اپنے رب کے ذکر سے منہ موڑے گا اس کا رب اسے سخت عذاب میں مبتلا کرے گا

وَّ اَنَّ الْمَسٰجِدَ لِلّٰهِ فَلَا تَدْعُوْا مَعَ اللّٰهِ اَحَدًاۙ Open ayah 72:18 in the Quran reader

اور بیشک مسجدیں اللہ کی ہیں لہٰذا ان میں اللہ کے ساتھ کسی اور کو نہ پکارا جائے

وَّ اَنَّهٗ لَمَّا قَامَ عَبْدُ اللّٰهِ یَدْعُوْهُ كَادُوْا یَكُوْنُوْنَ عَلَیْهِ لِبَدًا٢ؕ۠ Open ayah 72:19 in the Quran reader

اور بیشک جب اللہ کا بندہ اس کو پکارنے کے لیے کھڑا ہوتا ہے تو لوگ اس پر ٹوٹ پڑنے کے لیے تیار ہوگئے

قُلْ اِنَّمَاۤ اَدْعُوْا رَبِّیْ وَ لَاۤ اُشْرِكُ بِهٖۤ اَحَدًا Open ayah 72:20 in the Quran reader

اے نبی فرما دیں کہ میں تو اپنے رب کو پکارتا ہوں۔ اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کرتا

قُلْ اِنِّیْ لَاۤ اَمْلِكُ لَكُمْ ضَرًّا وَّ لَا رَشَدًا Open ayah 72:21 in the Quran reader

کہو میں تم لوگوں کے لیے نہ کسی نقصان کا اختیار رکھتا ہوں نہ کسی بھلائی کا

قُلْ اِنِّیْ لَنْ یُّجِیْرَنِیْ مِنَ اللّٰهِ اَحَدٌ١ۙ۬ وَّ لَنْ اَجِدَ مِنْ دُوْنِهٖ مُلْتَحَدًاۙ Open ayah 72:22 in the Quran reader

کہو مجھے اللہ کی گرفت سے کوئی بچا نہیں سکتا۔ اور نہ میں اس کے دامن کے سوا کوئی جائے پناہ پاسکتا ہوں

اِلَّا بَلٰغًا مِّنَ اللّٰهِ وَ رِسٰلٰتِهٖ١ؕ وَ مَنْ یَّعْصِ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ فَاِنَّ لَهٗ نَارَ جَهَنَّمَ خٰلِدِیْنَ فِیْهَاۤ اَبَدًاؕ Open ayah 72:23 in the Quran reader

میرا کام اس کے سوا کچھ نہیں ہے کہ اللہ کی بات اور اس کے پیغامات پہنچا دوں۔ جو کوئی اللہ اور اس کے رسول کی بات نہ مانے گا اس کے لیے 3 کی آگ ہے اور وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے

حَتّٰۤى اِذَا رَاَوْا مَا یُوْعَدُوْنَ فَسَیَعْلَمُوْنَ مَنْ اَضْعَفُ نَاصِرًا وَّ اَقَلُّ عَدَدًا Open ayah 72:24 in the Quran reader

یہ لوگ اپنی اس روش سے باز نہ آئیں گے یہاں تک کہ جب اس چیز کو دیکھ لیں گے جس کا ان سے وعدہ کیا جا رہا ہے تو انہیں معلوم ہوجائے گا کہ کس کے مددگار کمزور ہیں اور تعداد میں کون کم ہے

فہم القرآن ربط کلام : جنوں کے خیالات کی تائید قرآن مجید کے الفاظ میں۔ اس سے پہلے ایماندار جنوں کے خیالات کو قرآن کے الفاظ میں بیان کیا گیا ہے اور اب اللہ تعالیٰ نبی ﷺ کے ذریعے براہ راست اپنے بندوں کو سمجھاتا ہے۔ اے نبی ﷺ ! بتلائیں کہ مجھ پر وحی کی گئی ہے کہ اگر لوگ صحیح راستے پر چلیں تو اللہ تعالیٰ انہیں کثیر پانی سے سیراب فرمائے گا۔ یاد رہے کہ دنیا کی زندگی اور انسانی وسائل کا تعلق پانی سے ہے اس لیے فرمایا کہ ہم انہیں پانی سے سیراب کریں گے یعنی ان کی روزی اور وسائل میں اضافہ فرمائیں گے۔ انہیں پھر بتلائیں کہ جو اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کرے گا وہ اسے سخت ترین عذاب میں مبتلا کرے گا۔ اے نبی ! انہیں یہ بھی بتلائیں کہ مساجد ” اللہ “ کی ہیں ان میں اللہ کے ساتھ کسی اور کی عبادت نہ کی جائے۔ ان کا حال یہ ہے کہ جب اللہ کا بندہ یعنی محمد رسول اللہ ﷺ اللہ کی عبادت کرنے اور اس کی دعوت دینے کے لیے بیت اللہ میں کھڑے ہوتے ہیں تو یہ لوگ آپ ﷺ پر ٹوٹ پڑتے ہیں تاکہ آپ ڈر کر اللہ کی عبادت اور اس کی توحید کی دعوت چھوڑ دیں۔ اے نبی ! ان سے ڈرنے کی بجائے کھلے دل سے اعلان فرماتے جائیں کہ میں صرف اپنے رب کی عبادت کرتا ہوں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں بناتا۔ اے نبی ! انہیں یہ بھی فرمائیں کہ اگر میں اللہ کی عبادت اور اس کی دعوت میں کوتاہی کروں تو مجھے اللہ کے عذاب سے بچانے والا کوئی نہیں ہوگا اور نہ ہی مجھے اس کے سوا کوئی اور پناہ دکھائی دیتی ہے۔ میرا کام اللہ تعالیٰ کے پیغام کو لوگوں تک پہچانا ہے لہٰذا یارکھو ! جو بھی اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کرے گا اس کے لیے جہنم کی آگ ہے اور وہ اس میں ہمیشہ ہمیش رہے گا، جو لوگ اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی پر تلے ہوئے ہیں ان سے وعدہ کیا جاتا ہے وہ اس وعدے کو ضرور پالیں گے، پھر انہیں معلوم ہوگا کہ مدد کرنے میں اور افرادی قوت کے اعتبار سے کون کمزور ہے۔ کفار مالی وسائل اور افرادی قوت کی بنیاد پر نبی ﷺ کو ڈراتے اور دھمکاتے تھے تاکہ آپ ﷺ توحید کی دعوت لوگوں تک نہ پہنچائیں۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے بار بار آپ کو ” قل “ کے لفظ سے مخاطب کیا اور حکم فرمایا کہ اے نبی ! کہتے جائیں کہ میں اپنے رب کی دعوت اور عبادت میں کسی کو شریک نہیں کرتا اور نہ ہی میں اس کی خدائی میں اختیارات رکھنے کا دعویٰ کرتا ہوں۔ میری دعوت تو یہ ہے کہ میں نہ تمہارے نفع اور نقصان کا مالک ہوں اور نہ اپنے بارے میں کوئی اختیارات رکھتا ہوں۔ اگر اللہ تعالیٰ مجھے پکڑنے پر آئے تو مجھے کوئی پناہ نہیں دے سکتا اور نہ اس کی پکڑ سے مجھے کوئی چھڑسکتا ہے۔ جہاں تک تمہاری طاقت اور مخالفت کا معاملہ ہے۔ جس دن کی تم تکذیب کرتے ہو اس دن تمہیں معلوم ہوجائے گا کہ تمہارے مددگار کتنے کمزور ہیں اور اللہ تعالیٰ کی طاقت اور لشکروں کے مقابلے میں تم کتنے حقیر اور تھوڑے ہو۔ یہاں فرمایا ہے کہ مساجد اللہ کے لیے ہیں ان میں اللہ کے سوا کسی اور کی عبادت نہیں ہونی چاہیے۔ مشہورتابعی حضرت حسن بصری ؓ فرمایا کرتے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے اس امت کے لیے پوری زمین کو مسجدبنایا ہے یعنی جہاں نماز کا وقت ہوجائے وہاں مسلمان نماز پڑھ سکتے ہیں۔ اس لیے اللہ کے ساتھ کسی دوسرے کی عبادت کرنا یا کسی سے مددمانگنا کسی جگہ بھی جائز نہیں۔ ” حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا مجھے تمام انبیاء (علیہ السلام) پر چھ فضیلتیں عطا کی گئی ہیں : 1۔” مجھے جوامع الکلم کی صلاحیت عطا کی گئی ہے۔ 2۔ اللہ تعالیٰ نے خصوصی رعب اور دبدبہ سے میری مدد فرمائی ہے۔ 3۔ مال غنیمت میرے لیے حلال کردیا گیا ہے۔ 4۔ میرے لیے ساری زمین کو پاک اور مسجد بنا دیا گیا۔ 5۔ مجھے تمام انسانوں کے لیے رسول بنایا گیا ہے۔ 6۔ مجھ پر سلسلۂ نبوت ختم کردیا گیا ہے۔ “ (رواہ مسلم : کتاب المساجد ومواضع الصلاۃ ) مسائل 1۔ اللہ کے نبی اپنے رب کی عبادت اور دعوت میں کسی کو شریک نہیں سمجھتے تھے۔ 2۔ اللہ کے نبی لوگوں کے نفع اور نقصان پر اختیار نہیں رکھتے تھے۔ 3۔ اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کو کوئی بھی بچا اور پناہ نہیں دے سکتا۔ 4۔ جو کوئی اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کرے گا وہ جہنم میں داخل ہوگا۔ 5۔ اللہ اور اس کے رسول کے نافرمانوں کو جلد معلوم ہوجائے گا کہ وسائل اور افرادی قوت کے اعتبار سے کتنے کمزور ہیں۔ تفسیر بالقرآن نفع اور نقصان کا مالک صرف ” اللہ “ ہے : 1۔ کیا تم اللہ کے سوا دوسروں کو خیر خواہ سمجھتے ہو جو اپنے بھی نفع و نقصان کے مالک نہیں ہیں۔ (الرعد : 16) 2۔ میں انپے نفع و نقصان کا بھی مالک نہیں۔ (یونس : 49) 3۔ کیا تم اللہ کے سوا ان کی عبادت کرتے ہو جو نفع و نقصان کے مالک نہیں ہیں ؟ (المائدۃ : 76) 4۔ اگر اللہ تمہیں نقصان میں مبتلا کرنا چاہے تو کون تمہیں اس سے بچائے گا۔ (الفتح : 11) 5۔ (اے نبی کریم ﷺ آپ فرما دیں کہ میں تمہارے کسی نفع و نقصان کا اختیار نہیں رکھتا۔ (الجن : 21)
Ayahs 72:25–28

قُلْ اِنْ اَدْرِیْۤ اَقَرِیْبٌ مَّا تُوْعَدُوْنَ اَمْ یَجْعَلُ لَهٗ رَبِّیْۤ اَمَدًا Open ayah 72:25 in the Quran reader

فرما دیں کہ میں نہیں جانتا جس چیز کا وعدہ تم سے کیا جاتا ہے وہ قریب ہے یا میرے رب نے اس کی لمبی مدت مقرر کر رکھی ہے

عٰلِمُ الْغَیْبِ فَلَا یُظْهِرُ عَلٰى غَیْبِهٖۤ اَحَدًاۙ Open ayah 72:26 in the Quran reader

وہ عالم الغیب ہے اپنے غیب پر کسی کو مطلع نہیں کرتا

اِلَّا مَنِ ارْتَضٰى مِنْ رَّسُوْلٍ فَاِنَّهٗ یَسْلُكُ مِنْۢ بَیْنِ یَدَیْهِ وَ مِنْ خَلْفِهٖ رَصَدًاۙ Open ayah 72:27 in the Quran reader

سوائے اس رسول کے جسے اس نے غیب کا علم دینے کے لیے پسند کرلیا ہو۔ وہ اس کے آگے اور پیچھے محافظ لگا دیتا ہے

لِّیَعْلَمَ اَنْ قَدْ اَبْلَغُوْا رِسٰلٰتِ رَبِّهِمْ وَ اَحَاطَ بِمَا لَدَیْهِمْ وَ اَحْصٰى كُلَّ شَیْءٍ عَدَدًا۠ Open ayah 72:28 in the Quran reader

تاکہ وہ جان لے کہ ملائکہ نے اپنے رب کے پیغامات پہنچا دیے ہیں اور وہ ان کے پورے ماحول کا احاطہ کیے ہوئے ہے اور ہر چیز کو اس نے شمار کر رکھا ہے

فہم القرآن ربط کلام : نبی آخر الزمان ﷺ کی تشریف آوری کا مقصد لوگوں کو اللہ کی توحید اور اس کے دین سے آگاہ کرنا تھا آپ نے اہل مکہ کو توحید کی دعوت دی تو انہوں نے اسے قبول کرنے کی بجائے بغاوت اور اپنی طاقت کا مظاہرہ کیا اور گھمنڈ میں آکر آپ ﷺ سے عذاب لانے کا مطالبہ کرنے لگے جس کے جواب میں آپ کو حکم ہوا کہ آپ انہیں فرمائیں عذاب لانا میرے بس کی بات نہیں اور نہ میں یہ جانتا ہوں کہ عذاب کب آئے گا البتہ میرا رب چاہے تو اس عذاب کو جلد یا بدیر نازل کرسکتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے نبی ﷺ کو خوشخبری دینے و الا اور ڈرانے والا بنا کر بھیجا ہے۔ جب آپ برے لوگوں کو ان کے برے انجام سے ڈرتے تو وہ لوگ کفر و شرک چھوڑنے کی بجائے آپ سے مطالبہ کرتے کہ جس عذاب یا قیامت کا ہمیں وعدہ دیا جاتا ہے وہ عذاب اور قیامت کب برپا ہوگی۔ کفار کے اس مطالبے کے جواب میں قرآن مجید نے کئی دلائل دئیے۔ ان میں سے ایک دلیل اور جواب یہ دیا کہ اے نبی ! انہیں بتلائیں کہ میں نہیں جانتا جس دن کا تم سے وعدہ کیا جاتا ہے وہ قریب ہے یا میرے رب نے اس کی مدت دراز کر رکھی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ وہی غیب کے معاملات جاننے والا ہے وہ اپنے غیب کے معاملات کو کسی پر ظاہر نہیں کرتا۔ البتہ جس بات کو وہ اپنے رسول کے لیے پسند فرمائے صرف اس بات سے رسول کو آگاہ کرتا ہے۔ جب وہ اپنے غیب کے بارے میں اپنے رسول کو وحی کرتا ہے تو اس وحی کی حفاظت کے لیے اس کے آگے پیچھے نگران مقرر کردیتا ہے تاکہ اس کے سامنے یہ بات واضح ہوجائے کہ ملائکہ نے اپنے رب کے احکام ٹھیک ٹھیک انداز میں اس کے رسول تک پہنچادیئے ہیں۔ یاد رکھو کہ اللہ تعالیٰ نے ہر چیز کا احاطہ کیا ہوا ہے اور ہر چیز کا شمار اس کے پاس موجود ہے۔ اس آیت میں یہ الفاظ آئے ہیں کہ ” اللہ تعالیٰ کو معلوم ہوجائے۔ “ اس کے مفسرین نے تین مفہوم بیان کیے ہیں۔ 1۔ واضح ہوجائے کہ فرشتے نے اللہ کی وحی اس کے نبی تک پہنچادی ہے۔ 2۔ ثابت ہوجائے کہ نبی ﷺ نے اللہ کا پیغام لوگوں تک پہنچا دیا ہے۔ 3۔ اللہ تعالیٰ نے وحی کی حفاظت کا بندوبست اس لیے فرمایا تاکہ ٹھیک ٹھیک طریقے سے نبی تک اس کا پیغام پہنچ جائے۔ کیا انبیائے کرام (علیہ السلام) غیب جانتے تھے : اس آیت میں فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ غیب کی باتیں رسول کے سوا کسی پر ظاہر نہیں کرتا اس سے کچھ لوگوں کو مغالطہ ہوا یا انہوں نے جان بوجھ کر یہ مطلب لیا کہ نبی ﷺ غیب جانتے ہیں۔ جن لوگوں کو مغالطہ ہوا ان میں تفسیر ضیاء القرآن کے مفسر بھی شامل ہیں۔ چناچہ فرماتے ہیں : ” عَالِمُ الْغَیْبِ “ خبر ہے اور اس کی مبتدا ” ھُوَ “ محذوف ہے یعنی ” ھُوَعَالِمُ الْغَیْبِ “ یہاں مبتدا اور خبر دونوں معرفہ ہیں اس لیے حصر کا معنٰی پایا جائے گا۔ یعنی وہی غیب کو جاننے والا ہے۔ اس سے پتہ چل گیا کہ کوئی انسان خواہ وہ کتنا ذہین و فطین ہو، اس کے علم و عرفان کا قیاس کتنا بلند پایا ہو اس کے درجات کتنے ہی رفیع ہوں وہ غیب نہیں جان سکتا۔ نہ اپنے حواس سے، نہ قوت سے، نہ فراست سے، نہ علم قیاس سے اور نہ عقل سے سوائے اس کے کہ خداوند عالم جو عالم الغیب ہے وہ خود اس کو اس نعمت سے سرفر از فرمادے۔ یہ بھی بتادیا کہ علم غیب کے دروازے ہر ایرے غیرے کے لیے کھلے نہیں بلکہ وہ صرف ان رسولوں کو اس نعمت سے نوازتا ہے جن کو وہ چن لیا کرتا ہے یہ ہے وہ صاف اور سیدھا مطلب جو اس آیت سے بغیر کسی تکلف کے سمجھ میں آتا ہے۔ (ضیاء القرآن جلد 5، آیت ہذا) بعض حضرات نے رائے ظاہر کی ہے کہ جن علوم غیبیہ سے اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو آگاہ کیا ہے وہ فقط علوم شرعیہ ہیں وہ اس طرح رسول کریم ﷺ سے علوم تکوینیہ کی نفی کرنا چاہتے ہیں۔ میری گزارش ہے کہ ان حضرات نے کیا ” وَعَلَّمَ اٰدَمَ الْاَسْمَاءَ کُلَّھَا “ ارشاد الٰہی نہیں پڑھا کہ اللہ تعالیٰ نے آدم (علیہ السلام) کو سب کے سب اسماء سکھا دئیے جب آدم (علیہ السلام) کی یہ شان ہے جو زمین میں اللہ تعالیٰ کے خلیفہ ہیں تو سیدعالم ﷺ جو رحمۃ للعالمین ہیں اور سارے جہانوں میں اللہ تعالیٰ کے خلیفۂ اعظم ہیں ان کے علوم و معارف کا کوئی کیسے اندازہ لگا سکتا ہے۔ اس لیے سلامتی اسی میں ہے کہ ہم آیات کو وہ معانی نہ پہنائیں جن کو ان کے کلمات قبول نہیں کرتے اور سیدھی اور صاف بات جو قرآن نے فرمائی ہے اس کو صدق دل سے تسلیم کرلیں کہ اللہ تعالیٰ ہی تمام غیبوں کو جاننے والا ہے اور اپنے علوم غیبیہ پر کسی کو آگاہ نہیں کرتابجز اپنے رسولوں کے ان کو جنتا چاہتا ہے علوم غیبیہ عطا فرماتا ہے۔ یہ جنتا کتنا ہے، اس کو اللہ تعالیٰ جس نے دیا ہے اور اس کا رسول، جس نے لیا ہے وہی بہتر جانتے ہیں یہ حدبندیاں اختراع بندہ ہیں۔ (ضیاء القرآن : جلد 5، ص : 397) اگر اس آیت کا یہی معنٰی لیا جائے جو موصوف نے لیا ہے تو پھر درج ذیل آیات کا کیا معنٰی ہے۔ جس میں نبی ﷺ کی زبان سے بار بار اعلان کروایا گیا ہے کہ میں غیب نہیں جانتا، حقیقت یہ ہے کہ نبی ﷺ غیب نہیں جانتے تھے۔ انبیائے کرام (علیہ السلام) اتنا ہی جانتے تھے جس قدر ان کی طرف وحی کی جاتی تھی۔ اس لیے نبی ﷺ سے اس بات کی وضاحت کروائی گئی کہ میں غیب نہیں جانتا اس کے باوجود کوئی شخص الفاظ کے ہیر پھیر سے ثابت کرنا چاہتا ہے کہ نبی ﷺ غیب جانتے تھے تو وہ بتلائے کہ قرآن مجید نے نبی ﷺ سے پھر کس غیب کی نفی کروائی ہے۔ اس طرح کی تاویل کرنے والا کھلے الفاظ میں رب ذوالجلال کے ارشادات کو جھٹلاتا ہے۔ تفسیر بالقرآن کے حوالے ملاحظہ فرمائیں۔ مسائل 1۔ اللہ ہی غیب جانتا ہے اس کے سوا کوئی غیب نہیں جانتا۔ 2۔ اللہ تعالیٰ نے غیب کی کچھ باتیں انبیائے کرام (علیہ السلام) پر وحی فرمائیں۔ 3۔ نزول وحی کے دوران ملائکہ کا ایک دستہ وحی کی حفاظت کیا کرتا تھا۔ 4۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے علم اور قدرت کے ساتھ ہر چیز کا احاطہ کر رکھا ہے اور اس نے ہر چیز کو شمار کر رکھا ہے۔ تفسیر بالقرآن اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی غیب نہیں جانتا : 1۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو فرشتوں کے متعلق علم نہ ہوسکا۔ (ھود : 69) 2۔ حضرت لوط (علیہ السلام) فرشتوں کو نہ پہچان سکے۔ (ھود : 77) 3۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا اگر مجھے غیب کا علم ہوتا تو میں بہت سی بھلائیاں جمع کرلیتا۔ (الاعراف : 188) 4۔ حضرت نوح نے فرمایا کہ میں غیب نہیں جانتا۔ (ھود : 31) 5۔ نبی کریم غیب نہیں جانتے تھے۔ (الانعام : 50) 6۔ جنات غیب نہیں جانتے۔ (سبا : 14) 7۔ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی بھی غیب نہیں جانتا۔ (الانعام : 59) 8۔ آپ فرما دیں کہ زمین اور آسمانوں کے غیب اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ (النمل : 65)