71. Surah Nooh

نوحNoah · 28 ayahsفہم القرآن

تعارف

تعارف

سورة نوح کا تعارف یہ سورت اسم بامسمّہ ہے کیونکہ اس میں حضرت نوح (علیہ السلام) کی دعوت اور اس کے ردّ عمل کا خلاصہ بیان کیا گیا ہے حضرت نوح (علیہ السلام) کا نام اس سورت میں دو مرتبہ آیا ہے۔ یہ سورت مکہ معظمہ میں نازل ہوئی اس کی اٹھائیس آیات ہیں جو دو رکوع پر مشتمل ہیں۔ حضرت نوح (علیہ السلام) کی دعوت کا دورانیہ ان کے بعد آنے والے تمام انبیاء کرام سے طویل ہے۔ حضرت نوح (علیہ السلام) نے ساڑھے نو سو سال اپنی قوم کو ” اللہ “ کی توحید اور اس کی عبادت کرنے کی دعوت دی اور سمجھایا کہ اے میری قوم اپنے رب کے حضور اپنے گناہوں کی معافی مانگو بیشک وہ توبہ قبول کرنے اور گناہوں کو معاف فرمانے والا ہے۔ توبہ استغفار کے بدلے وہ تمہیں بیٹے دے گا بروقت بارش نازل فرمائے گا اور تمہارے علاقے کو گلشن و گلزار بنا دے گا۔ لیکن قوم نے ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے نہ صرف اپنے کانوں میں انگلیاں ڈال لیں اور اپنے چہروں کو چھپالیا بلکہ انہوں نے کھلے لفظوں میں کہا کہ اے نوح ہم اپنے معبودوں بالخصوص ودّ ، یغوث، یعوق، سواعا اور نسر کو ہرگز نہیں چھوڑئیں گے۔ اگر تو اپنی دعوت میں سچا ہے تو ہم پر عذاب نازل کر دے۔ حضرت نوح (علیہ السلام) نے انہیں بار بار سمجھایا کہ عذاب کا مطالبہ کرنے کی بجائے شرک سے توبہ کرو اور اپنے گناہوں کی معافی مانگو، اللہ تعالیٰ تمہارے گناہوں کو معاف فرما کر اپنی نعمتوں سے تمہیں نوازے گا۔ لیکن قوم نے حضرت نوح (علیہ السلام) کو کہا کہ اگر آپ اپنی دعوت سے باز نہ آئے تو ہم تجھے سنگسار کردیں گے۔ حضرت نوح (علیہ السلام) نے اس صورت حال میں بےحد مجبور ہو کر فریاد کی کہ اے میرے رب میری قوم نے یکسر طور پر مجھے مسترد کردیا ہے اور جو بھی ان کی نسل سے پیدا ہوگا وہ فاسق اور فاجر ہی پیدا ہوگا۔ اس لیے میری تیرے حضور فریاد ہے کہ اب اس قوم کو تباہ و برباد کر دے اے بار الٰہا جب تیرا عذاب نازل ہو تو مجھے اور میرے والدین اور جو بھی مومن مرد اور عورت میرے گھر میں داخل ہو اسے محفوظ فرما۔ حضرت نوح (علیہ السلام) کی بدعا کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ نے اس قوم پر بارشوں کا ایسا سلسلہ شروع کیا کہ پانی پہاڑوں کی چوٹیوں سے اوپر بہنے لگا سورة القمر میں ارشاد ہوا کہ ہم نے آسمان کے دروازے کھول دئیے اور جگہ جگہ زمین میں چشمے جاری ہوگئے۔ جس کے نتیجے میں قوم نوح غرق ہوئی اور اسے عبرت کا نشان بنا دیا گیا۔

Ayahs 71:1–2

اِنَّاۤ اَرْسَلْنَا نُوْحًا اِلٰى قَوْمِهٖۤ اَنْ اَنْذِرْ قَوْمَكَ مِنْ قَبْلِ اَنْ یَّاْتِیَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 71:1 in the Quran reader

ہم نے نوح کو اس کی قوم کی طرف بھیجاتا کہ اپنی قوم کو ڈرائیں اس سے قبل کہ ان پر ایک دردناک عذاب آئے

قَالَ یٰقَوْمِ اِنِّیْ لَكُمْ نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌۙ Open ayah 71:2 in the Quran reader

اس نے کہا اے میری قوم میں تمہیں واضح طور ڈرانے والا ہوں

فہم القرآن ربط سورت : سورة المعارج کے آخر میں یہ ارشاد ہوا ہے کہ اللہ تعالیٰ چاہے تو برے لوگوں کو ختم کر کے نیک لوگ لے آئے۔ سورة نوح میں اس کا عملی ثبوت دیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قوم نوح کو کس طرح ہلاک کیا اور نیک لوگوں کو آباد فرمایا اور انہیں ترقی دی۔ اس لیے المعارج کے بعد سورة نوح کو رکھا گیا ہے۔ حضرت نوح (علیہ السلام) کا نسب نامہ اس طرح ہے نوح (علیہ السلام) بن لامک بن متوشلخ بن خنوخ ( ادریس (علیہ السلام) بن یرد بن مھلا ییل بن قینن بن انوش بن شیث بن آدم (علیہ السلام) ۔ حضرت ابو امامہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے اللہ کے رسول ﷺ سے عرض کی کہ آدم (علیہ السلام) نبی تھے ؟ آپ نے فرمایا ہاں ! ان سے اللہ تعالیٰ نے کلام کیا۔ پھر اس نے سوال کیا کہ آدم (علیہ السلام) اور نوح (علیہ السلام) کے درمیان کتنی مدت ہے آپ نے فرمایا دس قرن (صحیح ابن حبان) قرن سے مراد اہل علم نے ایک نسل یا ایک صدی لی ہے ایک صدی یعنی سو سال نہیں ہوسکتے کیونکہ حضرت آدم اور نوح (علیہ السلام) کے درمیانئی نسلیں گزری ہیں لہٰذا نسل مراد لی جائے تو آدم (علیہ السلام) کی وفات اور نوح (علیہ السلام) کی پیدائش کے درمیان ہزاروں سال کی مدت بنتی ہے۔ کیونکہ پہلے لوگوں کی عمر صدیوں پر محیط ہوا کرتی تھی جس بنا پر حضرت آدم اور حضرت نوح (علیہ السلام) کے درمیان ہزاروں سال کا وقفہ ثابت ہوتا ہے، بہر حال اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح (علیہ السلام) کو اس وقت نبوت سے سرفراز فرمایا جب ان کی قوم کے لوگ مجسموں کے پجاری بن چکے تھے۔
Ayahs 71:3–9

اَنِ اعْبُدُوا اللّٰهَ وَ اتَّقُوْهُ وَ اَطِیْعُوْنِۙ Open ayah 71:3 in the Quran reader

یہ کہ تم اللہ کی بندگی کرو اور اس سے ڈرو اور میری اطاعت کرو

یَغْفِرْ لَكُمْ مِّنْ ذُنُوْبِكُمْ وَ یُؤَخِّرْكُمْ اِلٰۤى اَجَلٍ مُّسَمًّى١ؕ اِنَّ اَجَلَ اللّٰهِ اِذَا جَآءَ لَا یُؤَخَّرُ١ۘ لَوْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ Open ayah 71:4 in the Quran reader

اللہ تمہارے گناہوں کو معاف فرمائے گا اور تمہیں ایک وقت مقرر تک مہلت دے گا، حقیقت یہ ہے کہ اللہ کا مقرر کیا ہوا وقت آتا ہے تو پھر ٹالا نہیں جاتا کاش اس کو جان جاؤ

قَالَ رَبِّ اِنِّیْ دَعَوْتُ قَوْمِیْ لَیْلًا وَّ نَهَارًاۙ Open ayah 71:5 in the Quran reader

اس نے عرض کیا کہ اے میرے رب میں نے اپنی قوم کو شب وروز دعوت دی

فَلَمْ یَزِدْهُمْ دُعَآءِیْۤ اِلَّا فِرَارًا Open ayah 71:6 in the Quran reader

مگر میری دعوت نے اضافہ ہی کیا ہے ان کے دور ہونے میں

وَ اِنِّیْ كُلَّمَا دَعَوْتُهُمْ لِتَغْفِرَ لَهُمْ جَعَلُوْۤا اَصَابِعَهُمْ فِیْۤ اٰذَانِهِمْ وَ اسْتَغْشَوْا ثِیَابَهُمْ وَ اَصَرُّوْا وَ اسْتَكْبَرُوا اسْتِكْبَارًاۚ Open ayah 71:7 in the Quran reader

اور جب میں نے ان کو بلایا تاکہ تو انہیں معاف کر دے تو انہوں نے اپنے کانوں میں انگلیاں ڈال لیں اور اپنے کپڑوں سے منہ ڈھانپ لیے اور اپنی روش پر اڑ گئے اور بڑا تکبر کیا

ثُمَّ اِنِّیْ دَعَوْتُهُمْ جِهَارًاۙ Open ayah 71:8 in the Quran reader

پھر میں نے انہیں کھلم کھلا دعوت دی

ثُمَّ اِنِّیْۤ اَعْلَنْتُ لَهُمْ وَ اَسْرَرْتُ لَهُمْ اِسْرَارًاۙ Open ayah 71:9 in the Quran reader

پھر میں نے علانیہ بھی ان کو تبلیغ کی اور چپکے چپکے بھی سمجھایا

فہم القرآن ربط کلام : نوح (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو بار بار سمجھایا کہ اے میری قوم شرک اور اللہ کی نافرمانی سے تائب ہو کر اللہ کی بندگی کرو اور میری اطاعت کرتے رہو اللہ تعالیٰ اس کے بدلے تمہارے گناہ معاف فرمائے گا اور تمہیں عافیت کی زندگی عطا کرے گا۔ حضرت نوح (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو اللہ کی عبادت کی دعوت دیتے ہوئے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ سے ڈرتے ہوئے اور ہر قسم کے شرک سے باز آؤ اور میری اطاعت قبول کرو۔ اس کے بدلے اللہ تعالیٰ تمہارے گناہ معاف کردے گا اور تمہیں وقت مقررہ تک مہلت دے گا۔ وقت مقرر سے مراد ہر انسان کی موت ہے اگر اس سے مراد کسی قوم یا برادری اور جماعت کا مقرر وقت سمجھا جائے تو اس سے مراد اس کا وہ دور ہے جس میں وہ دوسری برادری یا قوم پر حکومت کرتی ہے وہ دور خیر و عافیت اور عزت واقبال کے ساتھ گزرتا ہے۔ عبادت کا مفہوم جاننے کے لیے سورة الذاریات آیت 56 کی تفسیر ملاحظہ فرمائیں ! یاد رکھو ! کہ جب اللہ تعالیٰ کا مقرر کیا ہوا وقت یعنی اس کا عذاب آتا ہے تو پھر اس میں تاخیر نہیں کی جاتی۔ حضرت نوح (علیہ السلام) نے ساڑھے نو سو سال اپنی قوم کو رات اور دن، صبح اور شام، انفرادی اور اجتماعی، خفیہ اور اعلانیہ سمجھایا مگر وہ لوگ آپ کی دعوت پر غور کرنے کی بجائے اپنے کانوں میں انگلیاں ٹھونس لیتے اور اپنے چہروں کو کپڑوں سے چھپالیا کرتے تھے، وہ کفر و شرک پر اڑ گئے اور انہوں نے تکبر کرنے کی انتہاکردی۔ (عَنْ أَبِی عُبَیْدَۃَ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ عَنْ أَبِیہِ قَالَ قَالَ رَسُول اللّٰہِ ﷺ التَّاءِبُ مِنْ الذَّنْبِ کَمَنْ لَا ذَنْبَ لَہُ ) (رواہ ابن ماجۃ : باب ذکر التوبۃ) ” حضرت ابو عبیدہ بن عبداللہ اپنے والد سے بیان کرتے ہیں کہ رسول معظم ﷺ نے فرمایا گناہوں سے توبہ کرنے والا اسی طرح ہے جیسے اس نے گناہ کیا ہی نہ ہو۔ “ مسائل 1۔ حضرت نوح (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو اللہ کی عبادت کرنے کی تلقین کی اور فرمایا کہ اللہ سے ڈر کر کفر و شرک چھوڑ دو ۔ 2۔ حضرت نوح (علیہ السلام) اللہ کے پیغمبر تھے اس لیے انہوں نے اپنی قوم سے فرمایا کہ میری اطاعت کرو۔ 3۔ نوح (علیہ السلام) نے قوم کو سمجھایا کہ اللہ کی عبادت کرنے اور میری اطاعت کرنے پر اللہ تعالیٰ اپنے عذاب کو ٹال دے گا۔ 4۔ نوح (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو دن اور رات انفرادی اور اجتماعی اعلانیہ اور خفیہ طور پر دعوت دی مگر انہوں نے اپنے چہروں کو چھپالیا اور اپنے کانوں میں انگلیاں ٹھونس لیں۔ 5۔ قوم نے نوح (علیہ السلام) کے خلاف بڑی سازشیں اور تکبر کا مظاہرہ کیا۔ تفسیر بالقرآن حضرت نوح (علیہ السلام) کی عظیم اور طویل جدوجہد کی ایک جھلک : 1۔ حضرت نوح نے اپنی قوم کو ایک اللہ کی عبادت کی دعوت دی اور فرمایا کہ شیاطین کی عبادت نہ کرو۔ (المومنون : 23) 2۔ حضرت نوح (علیہ السلام) نے فرمایا کہ میں تم سے کچھ نہیں مانگتا میرا اجر اللہ رب العالمین کے ذمہ ہے۔ (الشعراء : 109) 3۔ حضرت نوح نے فرمایا میں تم سے اس تبلیغ پر کوئی معاوضہ نہیں مانگتا۔ (ہود : 29) (ھود : 35) (ہود : 31) (یونس : 71)
Ayahs 71:10–12

فَقُلْتُ اسْتَغْفِرُوْا رَبَّكُمْ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ غَفَّارًاۙ Open ayah 71:10 in the Quran reader

میں نے کہا اپنے رب سے معافی مانگو، بیشک وہ بڑا معاف کرنے والا ہے

یُّرْسِلِ السَّمَآءَ عَلَیْكُمْ مِّدْرَارًاۙ Open ayah 71:11 in the Quran reader

وہ آسمان سے تم پر خوب بارشیں برسائے گا

وَّ یُمْدِدْكُمْ بِاَمْوَالٍ وَّ بَنِیْنَ وَ یَجْعَلْ لَّكُمْ جَنّٰتٍ وَّ یَجْعَلْ لَّكُمْ اَنْهٰرًاؕ Open ayah 71:12 in the Quran reader

تمہیں مال اور اولاد سے نوازے گا تمہارے لیے باغ پیدا کرے گا اور تمہارے لیے نہریں جاری کر دے گا۔

فہم القرآن ربط کلام : حضرت نوح (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو اللہ تعالیٰ کے عذاب سے ڈراتے ہوئے اس کے حضور توبہ استغفار کرنے کا حکم دیا، اور اس کے دنیا اور آخرت کے فائدے بتلائے۔ حضرت نوح (علیہ السلام) نے توحید و رسالت کی دعوت دیتے ہوئے فرمایا کہ اے میری قوم کے لوگو ! اللہ سے ڈر جاؤ ! اس سے ڈرنے کا حقیقی تقاضا یہ ہے کہ انسان اپنے گناہوں سے توبہ کرے یعنی آئندہ گناہ کرنے سے رک جائے۔ قوم نوح کا سب سے بڑا گناہ ” اللہ “ کے ساتھ شرک کرنا تھا، جس سے حضرت نوح (علیہ السلام) نے انہیں بار بار منع کیا۔ حضرت نوح (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو استغفار کا فائدہ بتلاتے ہوئے فرمایا کہ تمہارے استغفار کرنے پر تمہارا رب تمہارے سابقہ گناہوں کو معاف فرمادے گا، دنیا میں اس کا فائدہ یہ ہوگا کہ اللہ تعالیٰ تمہاری ضرورت کے مطابق بارش برسائے گا، تمہیں مال دے گا، بیٹے عطا فرمائے گا اور تمہیں باغ باغیچے دے گا، ان میں نہریں جاری ہوں گی ان باغات سے مراد جنت کے باغات بھی ہیں اور دنیا کے باغات بھی۔ امیر المومنین سیدنا حضرت عمر فاروق ؓ کے زمانے میں بارش ہوئے ایک عرصہ گزر چکا تھا۔ لوگوں نے آپ سے درخواست کی کہ بارش کے لیے دعا کریں۔ امیر المومنین ہاتھ اٹھا کر بارش مانگنے کی بجائے بار بار توبہ استغفار کرتے رہے کسی نے عرض کی کہ آپ نے بارش کی دعا کی ہی نہیں۔ فرمایا آپ نے قرآن نہیں پڑھا سورة نوح (علیہ السلام) میں اللہ تعالیٰ نے توبہ استغفار کے بدلے بارش کا وعدہ فرمایا ہے۔ (إِسْتَغفِرُوْا رَبَّکُمْ إِنَّہٗ کَانَ غَفَّارًا۔ ےُرْسِلِ السَّمَاءَ عَلَےْکُمْ مِدْرَارًا۔ ) (نوح : 10، 11) ” اپنے رب سے معافی مانگو بیشک وہ بڑا معاف کرنے والا ہے۔ وہ تم پر آسمان سے خوب بارش بر سائے گا۔ “ تاریخ کی نامور شخصیت مشہور ترین تابعی حضرت حسن بصری (رح) جن کی والدہ نبی اکرم ﷺ کی زوجہ مکرمہ حضرت ام سلمہ ؓ کی خادمہ تھیں۔ اس لیے حسن بصری ؓ کو بچپن میں حضرت ام سلمہ ؓ کی رضاعت کی سعادت حاصل ہے حسن بصری ؓ بلوغت تک نبی ﷺ کے گھر میں حضرت اُمّ سلمہ ؓ کی تربیت میں رہے۔ ان کے پاس یکے بعد دیگرے تین آدمی حاضر ہوئے ایک نے نرینہ اولاد، دوسرے نے غربت و افلاس کی شکایت کی اور تیسرا بارش کی دعا کروانے کے لیے حاضر ہوا۔ آپ نے تینوں حضرات کو کثرت کے ساتھ توبہ استغفار کرنے کا حکم فرمایا۔ بعد ازاں ان کے ایک عزیز نے پوچھا کہ آپ نے مختلف حاجات اور مشکلات کے حل کے لیے صرف ایک ہی وظیفہ بتایا ہے حضرت بصری ؓ نے مندرجہ بالا آیات تلاوت کی۔ ” حضرت ابو سعید خدری ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا بنی اسرائیل میں ایک شخص نے ننانوے قتل کیے پھر وہ توبہ کے لیے کسی راہب کے پاس گیا، اس نے کہا کہ تیری توبہ کسی صورت قبول نہیں ہوسکتی، اس نے طیش میں آکر راہب کو بھی قتل کردیا، اس کے بعد وہ کسی دوسرے عالم دین کے پاس گیا۔ اس نے کہا کہ آپ کی توبہ قبول ہوسکتی ہے (لیکن آپ کو توبہ پر قائم رہنے کے لیے) اپنا علاقہ چھوڑدینا چاہیے وہ اپنے گھر سے نکل کھڑا ہوا، راستے میں اس کو موت نے آلیا، وہ منہ کے بل نیچے گرا، اس صورت حال میں رحمت اور عذاب کے فرشتوں میں سے ہر کوئی اس کی روح کو اپنی طرف لے جانے کے لیے تکرار کررہا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے منزل مقصود والے حصے کو حکم دیا کہ وہ سکڑجائے، جب ملائکہ نے دونوں طرف سے زمین کی پیمائش کی تو وہ اپنی منزل کی جانب صرف ایک بالشت قریب تھا، اس طرح دوزخ کے فرشتے ناکام ہوئے اور وہ اللہ کی جنت میں داخل ہوگیا۔ “ (رواہ البخاری : باب التوبۃ والإستعفار) مسائل 1۔ حضرت نوح (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو استغفار کرنے کا حکم دیا۔ 2۔ حضرت نوح (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو بتلایا کہ استغفار کے بدلے اللہ تعالیٰ بروقت بارشیں نازل فرمائے گا۔ 3۔ حضرت نوح (علیہ السلام) نے یہ بھی فرمایا کہ استغفار کی برکت سے اللہ تعالیٰ تمہیں مال، اولاد اور بیٹے عطا فرمائے گا۔ تفسیر بالقرآن توبہ و استغفا کا حکم اور اس کے فائدے : 1۔ توبہ کرنا مومن کا شیوہ ہے۔ (التوبہ : 112) 2۔ توبہ کرنے والوں سے اللہ تعالیٰ محبت کرتا ہے۔ (البقرۃ : 222) 3۔ توبہ قبول کرنا اللہ تعالیٰ کی صفت ہے۔ (البقرۃ : 160) 4۔ توبہ کرنے والے کا میاب ہوں گے۔ (القصص : 67) 5۔ توبہ کرنے والوں کے لیے فرشتے مغفرت کی دعا کرتے ہیں۔ (المؤمن : 7 تا 9) 6۔ توبہ کرنے والے کے گناہ نیکیوں میں تبدیل ہوجاتے ہیں۔ (الفرقان : 70)
Ayahs 71:13–20

مَا لَكُمْ لَا تَرْجُوْنَ لِلّٰهِ وَقَارًاۚ Open ayah 71:13 in the Quran reader

تمہیں کیا ہوگیا ہے کہ تم اللہ کے وقار کا خیال نہیں رکھتے ؟

وَ قَدْ خَلَقَكُمْ اَطْوَارًا Open ayah 71:14 in the Quran reader

حالانکہ اس نے تمہیں مختلف مراحل سے گزار کر پیدا کیا ہے

اَلَمْ تَرَوْا كَیْفَ خَلَقَ اللّٰهُ سَبْعَ سَمٰوٰتٍ طِبَاقًاۙ Open ayah 71:15 in the Quran reader

کیا دیکھتے نہیں ہو کہ اللہ نے کس طرح تہہ بہ تہہ سات آسمان بنائے ہیں

وَّ جَعَلَ الْقَمَرَ فِیْهِنَّ نُوْرًا وَّ جَعَلَ الشَّمْسَ سِرَاجًا Open ayah 71:16 in the Quran reader

اور ان میں چاند کو روشن اور سورج کو چمکتا ہوا چراغ بنایا ہے

وَ اللّٰهُ اَنْۢبَتَكُمْ مِّنَ الْاَرْضِ نَبَاتًاۙ Open ayah 71:17 in the Quran reader

اور اللہ نے تم کو زمین سے اگایا ہے

ثُمَّ یُعِیْدُكُمْ فِیْهَا وَ یُخْرِجُكُمْ اِخْرَاجًا Open ayah 71:18 in the Quran reader

پھر وہ تمہیں اسی زمین میں واپس لے جائے گا اور پھر اس زمین سے تم کو نکالے گا

وَ اللّٰهُ جَعَلَ لَكُمُ الْاَرْضَ بِسَاطًاۙ Open ayah 71:19 in the Quran reader

اور اللہ نے زمین کو تمہارے لیے فرش بنا دیا ہے

لِّتَسْلُكُوْا مِنْهَا سُبُلًا فِجَاجًا۠ Open ayah 71:20 in the Quran reader

تاکہ تم اس کے کھلے راستوں پر چلو

فہم القرآن ربط کلام : حضرت نوح (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو اللہ تعالیٰ کا تعارف ان الفاظ میں کروایا۔ حضرت نوح (علیہ السلام) نے ساڑھے نو سو سال اپنی قوم کو جو تبلیغ فرمائی اس کا خلاصہ اس سورت میں ذکر کیا گیا ہے۔ حضرت نوح (علیہ السلام) کی تبلیغ کا مرکزی نقطہ اللہ کی توحید کی دعوت دینا اور لوگوں کو شرک سے منع کرنا تھا۔ توحید کی دعوت دیتے ہوئے انہوں نے ایسے دلائل دیئے کہ جن سے انکار کرنا کسی مشرک اور کافر کے بس کی بات نہیں لیکن اس کے باوجود کفار اور مشرکین نے ان کی دعوت کو مسترد کردیا۔ جس پر حضرت نوح (علیہ السلام) نے انہیں تنبیہ کرتے ہوئے فرمایا کہ اے میری قوم کے لوگو ! تمہیں کیا ہوگیا ہے کہ تم اللہ تعالیٰ کے وقار اور جلال کا احترام نہیں کرتے۔ اللہ تعالیٰ کے وقار کا تقاضا ہے کہ تم بتوں اور دیگر چیزوں کی عبادت چھوڑ کر صرف ایک اللہ کی عبادت کرو۔ حضرت نوح (علیہ السلام) کی ساڑھے نو سو سال کی محنت کے باوجود وہ لوگ شرک سے باز نہ آئے۔ یہی ہر دور کے مشرک کا وطیرہ رہا ہے کہ جو احترام اور آداب صرف اللہ تعالیٰ کے لیے ہونے چاہئیں مشرک دوسروں کو دیتے ہیں اور ان کے سامنے جھکتے ہیں۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو مختلف حالتوں سے گزار کر اشرف المخلوق بنایا ہے۔ اے لوگو ! اللہ تعالیٰ کا وقار اور جلال جاننا چاہتے ہو تو غور کرو ! کہ اس نے کس طرح تہہ بہ تہہ سات آسمان پیدا کیے، اسی نے چاند کو منور کیا اور سورج کو چمکتا ہوا بنایا۔ اسی نے تمہیں زمین سے پیدا کیا، پھر اسی میں تمہیں لوٹائے گا اور پھر اسی سے تمہیں دوبارہ پیدا کرے گا۔ اسی ذات نے زمین کو فرش بنایا اور پھر زمین میں کشادہ راستے بنائے تاکہ تم ایک جگہ سے دوسری جگہ جاسکو۔ حضرت نوح (علیہ السلام) نے بڑے سادہ اور ٹھوس دلائل کے ساتھ اپنی قوم کو ” اللہ “ کی توحید اور اس کی بندگی کرنے کی دعوت دی، مگر قوم نے اپنے کانوں میں انگلیاں ڈل لیں اور اپنے چہروں کو ان سے چھپالیا۔ حضرت نوح (علیہ السلام) نے اللہ کی توحید کے وہ دلائل دیئے جن کی تفصیل کے لیے ہر نبی کی شریعت اور قرآن مجید میں درجنوں دلائل موجود ہیں مگر ہر دور کا مشرک ان دلائل کو ماننے کے باوجود اللہ کی ذات اور اس کی صفات کو اس طرح ماننے کے لیے تیار نہیں ہوتا جس طرح اس نے ماننے کا مطالبہ کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی ذات، صفات اور بات کو اس کے تقاضوں کے ساتھ نہ ماننے والا اللہ تعالیٰ کے وقار اور احترام کا انکار کرتا ہے۔ حالانکہ اس کے وقار اور جلال کا تقاضا ہے کہ اس کی ذات اور صفات کو ہر اعتبار سے وحدہٗ لاشریک سمجھا جائے، اس کی بندگی کا تقاضا ہے کہ صرف اسی کے سامنے جھکا جائے اور اسی کے قانون کی تابع داری کی جائے اور اس کی ذات، صفات میں کسی کو شریک نہ بنایا جائے۔ حضرت آدم (علیہ السلام) مٹی سے پیدا کیے گئے باقی انسان آدم (علیہ السلام) کی اولاد ہیں اس لیے حضرت نوح (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں مٹی سے پیدا کیا ہے۔ (عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَیْرِ بْنِ مُطْعِمٍ عَنْ أَبِیہِ ؓ قَالَ : سَمِعْتُ النَّبِیَّ ﷺ یَقْرَأُ فِی الْمَغْرِبِ بالطُّورِ فَلَمَّا بَلَغَ ہَذِہِ الآیَۃَ (أَمْ خُلِقُوا مِنْ غَیْرِ شَیْءٍ أَمْ ہُمُ الْخَالِقُونَ أَمْ خَلَقُوا السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضَ بَلْ لاَ یُوقِنُونَ أَمْ عِنْدَہُمْ خَزَاءِنُ رَبِّکَ أَمْ ہُمُ الْمُسَیْطِرُونَ ) کَادَ قَلْبِی أَنْ یَطِیرَ ) (رواہ البخاری : باب وسبح بحمد ربک قبل طلوع الشمس وقبل الغروب) ” حضرت محمد بن جبیر بن مطعم اپنے والد سے بیان کرتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ مغرب کی نماز میں سورة طور سنی جب آپ اس آیت پر پہنچے۔ ” کیا یہ کسی خالق کے بغیر پیدا ہوگئے ہیں ؟ یا یہ خود اپنے آپ کے خالق ہیں ؟ یا زمین اور آسمانوں کو انہوں نے پیدا کیا ہے ؟ اصل بات یہ ہے کہ یہ یقین نہیں رکھتے، کیا تیرے رب کے خزانے ان کے قبضے میں ہیں ؟ یا ان پر ان کا کنٹرول ہے ؟ “ قریب تھا کہ میرا دل پھٹ جاتا۔ “ مسائل 1۔ حضرت نوح (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو اللہ کی ذات، اس کی صفات اور اس کے ارشادات کا احترام کرنے کا حکم فرمایا۔ 2۔ اللہ تعالیٰ نے اوپر نیچے سات آسمان پیدا کیے ہیں۔ 3۔ اللہ تعالیٰ نے چاند کو منور کیا اور سورج کو چمکنے والا بنایا ہے۔ 4۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو زمین سے پیدا فرمایا ہے۔ 5۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو مختلف مراحل سے گزار کر کامل اور اکمل انسان بنایا ہے۔ 6۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو اس زمین میں پیدا کیا پھر اس میں لوٹائے گا اور پھر لوگوں کو اسی سے دوبارہ نکال کھڑا کرے گا۔ 7۔ اللہ تعالیٰ نے لوگوں کے لیے زمین کو فرش بنایا اور اس میں کھلے راستے بنائے۔
Ayahs 71:21–28

قَالَ نُوْحٌ رَّبِّ اِنَّهُمْ عَصَوْنِیْ وَ اتَّبَعُوْا مَنْ لَّمْ یَزِدْهُ مَالُهٗ وَ وَلَدُهٗۤ اِلَّا خَسَارًاۚ Open ayah 71:21 in the Quran reader

نوح نے کہا اے میرے رب انہوں نے میرا انکار کردیا ہے اور ان کی پیروی کی جن کے مال اور اولادنے انہیں نقصان میں زیادہ کیا

وَ مَكَرُوْا مَكْرًا كُبَّارًاۚ Open ayah 71:22 in the Quran reader

ان لوگوں نے بڑا مکر کیا ہے

وَ قَالُوْا لَا تَذَرُنَّ اٰلِهَتَكُمْ وَ لَا تَذَرُنَّ وَدًّا وَّ لَا سُوَاعًا١ۙ۬ وَّ لَا یَغُوْثَ وَ یَعُوْقَ وَ نَسْرًاۚ Open ayah 71:23 in the Quran reader

انہوں نے کہا ہرگز نہ چھوڑو اپنے معبودوں کو اور نہ چھوڑو وَد اور سواع کو، اور نہ یغوث اور یعوق اور نسر کو

وَ قَدْ اَضَلُّوْا كَثِیْرًا١ۚ۬ وَ لَا تَزِدِ الظّٰلِمِیْنَ اِلَّا ضَلٰلًا Open ayah 71:24 in the Quran reader

انہوں نے بہت لوگوں کو گمراہ کیا ہے اور تو بھی ان ظالموں کو گمراہی کے سوا کسی چیز میں ترقی نہ دینا

مِمَّا خَطِیْٓئٰتِهِمْ اُغْرِقُوْا فَاُدْخِلُوْا نَارًا١ۙ۬ فَلَمْ یَجِدُوْا لَهُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ اَنْصَارًا Open ayah 71:25 in the Quran reader

وہ اپنی خطاؤں کی وجہ سے غرق کیے گئے اور آگ میں جھونک دیے گئے۔ انہوں نے اپنے لیے اللہ کے سوا کوئی مددگار نہ پایا

وَ قَالَ نُوْحٌ رَّبِّ لَا تَذَرْ عَلَى الْاَرْضِ مِنَ الْكٰفِرِیْنَ دَیَّارًا Open ayah 71:26 in the Quran reader

اور نوح نے کہا میرے رب ان کافروں میں سے کوئی زمین پر بسنے والا نہ چھوڑ

اِنَّكَ اِنْ تَذَرْهُمْ یُضِلُّوْا عِبَادَكَ وَ لَا یَلِدُوْۤا اِلَّا فَاجِرًا كَفَّارًا Open ayah 71:27 in the Quran reader

اگر تو نے ان کو چھوڑ دیا تو یہ تیرے بندوں کو گمراہ کریں گے اور ان کی نسل سے جو بھی پیدا ہوگا برا اور کافر پیدا ہوگا

رَبِّ اغْفِرْ لِیْ وَ لِوَالِدَیَّ وَ لِمَنْ دَخَلَ بَیْتِیَ مُؤْمِنًا وَّ لِلْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ١ؕ وَ لَا تَزِدِ الظّٰلِمِیْنَ اِلَّا تَبَارًا۠ Open ayah 71:28 in the Quran reader

میرے رب مجھے اور میرے والدین کو اور ہر اس شخص کو جو میرے گھر میں مومن کی حیثیت سے داخل ہوا ہے اور سب مومن مردوں اور مومن عورتوں کو معاف فرما دے، اور ظالموں کے لیے ہلاکت کے سوا کسی چیز میں اضافہ نہ کرنا

فہم القرآن ربط کلام : حضرت نوح (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو مدت مدید تک دن اور رات سمجھایا مگر قوم نے کھلے لفظوں میں ان کی دعوت ماننے سے انکار کردیا۔ جس کے نتیجے میں حضرت نوح (علیہ السلام) نے ان الفاظ میں اپنے رب کے حضور فریاد کی۔ حضرت نوح (علیہ السلام) ساڑھے نو سو سال تک اپنی قوم کو دن اور رات، جلوت اور خلوت میں اللہ کی طرف بلاتے رہے مگر قوم نے کہا کہ تیرے کہنے پر وَدّ ، سواع، یغوث، یعوق اور نسر کو نہیں چھوڑ سکتے۔ یاد رہے یہ اس قوم کے سب سے بڑے بت تھے اور اس قوم کے فوت شدہ بزرگوں کے تخیلاتی مجسمے تھے جو انہوں نے ان کی یاد میں بنائے ہوئے تھے۔ قوم نے نوح (علیہ السلام) کو یہ بھی دھمکی دی کہ اگر تو باز نہ آیا تو ہم پتھر مار مار کر تجھے مار ڈالیں گے۔ (الشعراء : 116) اس کے ساتھ یہ کہنے لگے کہ اے نوح (علیہ السلام) ! تیرے اور ہمارے درمیان جھگڑا طول پکڑ گیا اس لیے جس عذاب کا ہم سے وعدہ کرتا ہے اسے لے آؤ اگر تو سچا ہے۔ (ہود : 32) بالآخر حضرت نوح (علیہ السلام) قوم کے رویے اور کردار سے مجبور ہو کر فریاد کرتے ہیں کہ اے میرے رب میری قوم نے مجھے یکسر طور پر جھٹلادیا ہے اور یہ اپنے بڑے لوگوں کے پیچھے لگ چکے ہیں جن کے مال اور اولاد یعنی ان کے اسباب اور افرادی قوت نے انہیں آخرت کے نقصان میں ہی آگے بڑھا یا ہے۔ انہوں نے دعوت توحید اور میرے خلاف بڑی سازشیں اور مجھ پر زیادتیاں کی ہیں۔ انہوں نے ایک دوسرے کو ہمیشہ یہی کہا کہ اپنے معبودوں بالخصوص وُد، سواع، یغوث، یعوق اور نسر کو نہ چھوڑاجائے، الٰہی ! انہوں نے بیشمار لوگوں کو گمراہ کیا ہے۔ اے میرے رب ! اب ان کافروں میں کوئی بھی زمین پر بسنے والا باقی نہیں رہنا چاہیے اگر تو نے انہیں چھوڑ دیا تو وہ تیرے بندوں کو گمراہ کرتے رہیں گے اور ان سے جو بھی پیدا ہوگا وہ بدکردار اور پرلے درجے کا کافرپیدا ہوگا۔ میرے رب ! جب تو ان کی گرفت کرنے پر آئے تو مجھے، میرے والدین اور جو مرد و عورت مجھ پر ایمان لائے ہیں انہیں معاف فرما دے۔ نوح (علیہ السلام) کی قوم نے دیگر معبودوں کے ساتھ اپنے لیے پانچ بڑے معبود بنا رکھے تھے جن کے سامنے رکوع و سجود کرتے، نذرو نیاز پیش کرتے اور انہیں حاجت روا اور مشکل کشا سمجھتے تھے جن کے بارے میں حضرت عبداللہ بن عباس ؓ فرماتے ہیں۔ ” حضرت عبداللہ بن عباس ؓ بیان کرتے ہیں کہ نوح (علیہ السلام) کی قوم جن بتوں کی پوجا کرتی تھی یہی بت لوگ عرب میں لے آئے۔ ودّ کو دومۃ الجندل والوں نے اپنا معبود بنا لیا اور سواع کو ھذیل والوں نے، یغوث کو مراد قبیلے والوں نے اور ان کے بعد بنی غطیف نے سبا بستی میں جرف مقام پر اور یعوق کو ہمدان والوں نے اور نسر کو قبیلہ حمیر والوں نے، جوذی الکلاع کی اولاد تھے اپنا معبود بنا لیا۔ یہ تمام نام نوح (علیہ السلام) کی قوم کے برگزیدہ لوگوں کے تھے، جب وہ فوت ہوگئے تو شیطان نے ان کی قوم کو القاء کیا۔ انہوں نے ان کے مجسموں کو اس جگہ پر نصب کیا، جہاں بزرگ بیٹھا کرتے تھے اور بتوں کے نام ان کے ناموں پر رکھ دیئے گئے، پہلے لوگ ان کی عبادت نہیں کیا کرتے تھے جب پہلے لوگ مرگئے تو ان کے بعدوالوں نے ان مورتیوں کی عبادت شروع کردی۔ “ (رواہ البخاری : باب (وَدًّا وَلاَ سُوَاعًا وَلاَ یَغُوثَ وَیَعُوقَ ) اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح (علیہ السلام) کی بدعا کو قبول کیا اور ان پر ایسا سیلاب بھیجا کہ انہیں ڈبکیاں دے دے کر موت کے گھاٹ اتار دیا۔ (تفصیل کے لیے القمر کی تفسیر ملاحظہ فرمائیں۔ ) مسائل 1۔ قوم نے حضرت نوح (علیہ السلام) کی تابعداری کرنے کی بجائے اپنے لیڈروں اور سرمایہ داروں کی پیروی کی۔ 2۔ قوم نے نوح (علیہ السلام) کے بارے میں بڑی بڑی سازشیں اور ان پر بہت زیادتی کی۔ 3۔ نوح (علیہ السلام) کی قوم کے سرداروں اور راہنماؤں نے اپنی عوام سے کہا کہ وُد، سواع، یغوث، یعوق اور نسر یعنی خداؤں ہرگز نہ چھوڑنا۔ 4۔ حضرت نوح (علیہ السلام) نے قوم کے ہاتھوں مجبورہو کر بالآخر ان کے لیے بدعا کی۔ 5۔ اللہ تعالیٰ نے نوح (علیہ السلام) کی بدعا کے بدلے ان کی قوم کو بدترین سیلاب کے ذریعے ڈبکیاں دے دے کر موت کے گھاٹ اتار دیا۔ 6۔ حضرت نوح (علیہ السلام) نے اپنے اور اپنے والدین، مومن مردوں اور عورتوں کے لیے بخشش کی دعا کی۔ تفسیر بالقرآن حضرت نوح (علیہ السلام) کی قوم پر آنے والے سیلاب کا ایک منظر : 1۔ نوح (علیہ السلام) کی قوم ظالم تھی۔ (النجم : 52) 2۔ قوم نوح طوفان کے ذریعے ہلاک ہوئی۔ (الاعراف : 136) 3۔ یہاں تک کہ جب ہمارا حکم آپہنچا اور تنور ابل پڑا۔ ہم نے فرمایا بیڑے میں ہر جنس دو دو جوڑے سے نرومادہ اور اپنے گھر والوں کو سوار کرلو۔ (ھود : 40) 4۔ حکم دیا گیا اے زمین ! اپنا پانی نگل لے اور اے آسمان تھم جاؤ۔ پانی خشک کردیا گیا اور کام تمام ہوا اور کشتی جودی پہاڑ پر جاٹھہری اور کہا گیا ظالم لوگوں کے لیے دوری ہو۔ “ (ھود : 44) 5۔ قوم نوح کو تباہ کرنے کے لیے آسمان سے موسلاد ھار بارش کے دھانے کھول دئیے گئے۔ ( القمر : 11)