70. Surah Al-Ma'aarij

المعارجThe Ascending Stairways · 44 ayahsفہم القرآن

تعارف

تعارف

سورة المعارج کا تعارف المعارج کا نام اس کی تیسری آیت سے لیا گیا ہے یہ مکی سورت ہے اس کی چوالیس آیات ہیں جنہیں دو رکوع میں تقسیم کیا گیا ہے۔ اس سورت کی ابتداء اس بات سے کی جا رہی ہے کہ کفار مکہ عذاب کا مطالبہ کرتے ہیں لہٰذا ان پر عذاب ہر صورت نازل ہو کر رہے گا اور اس کا انکار کرنے والے اسے روک نہیں سکیں گے۔ اے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اگر یہ لوگ اس کا انکار کرتے ہیں تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کے مقابلے میں پورے تحمل کے ساتھ صبر کا مظاہرہ کریں۔ یہ لوگ عذاب کو دور سمجھتے ہیں اور ہم اسے قریب جانتے ہیں۔ کفار عذاب کے ساتھ اس بات کا بھی مطالبہ کرتے تھے کہ جس قیامت سے ہمیں ڈرایا اور دھمکایا جاتا ہے وہ کیوں برپا نہیں ہوتی ؟ اس کا یہ جواب دیا گیا ہے کہ یہ قیامت کو دور سمجھتے ہیں اور ہم اسے قریب سمجھتے ہیں۔ جب یہ دن آئے گا تو آسمان پگلی ہوئی چاندی کی طرح ہوجائے گا اور پہاڑ رنگ دار ڈھن کی ہوئی روئی کی طرح اڑنے لگیں گے۔ اس دن مجرموں کی یہ حالت ہوگی کہ کوئی اپنے جگری دوست کی مدد نہیں کرسکے گا حالانکہ وہ ایک دوسرے کو دیکھ اور پہچان رہے ہوں گے۔ مجرم اس دن کے عذاب سے بچنے کے لیے اپنی اولاد کو، اپنی بیوی کو، اپنے بھائی کو، اپنے خاندان کو جو دنیا میں اس کی حمایت کیا کرتے تھے اور جو کچھ بھی زمین میں ہے وہ سب کچھ دینے کے لیے تیار ہوگا۔ تاکہ عذاب سے نجات پا جائے لیکن وہ بھڑکتی ہوئی آگ سے نہیں بچ سکے گا۔ جو مجرم کے گوشت پوست کو چاٹ جائے گی جہنم کی آگ ہر اس شخص کا پیچھا کرے گی جس نے حق بات سے منہ موڑا اور ناجائز طریقے سے مال جمع کیا۔ اس سے وہ لوگ بچا لیے جائیں گے جو اپنی نمازوں پر ہمیشگی کرتے تھے، قیامت کے برپا ہونے کی تصدیق کرتے تھے اور اپنے رب کے عذاب سے ڈرتے تھے۔ یہ ایسے لوگ تھے جو اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرتے تھے اور امانتوں کا خیال رکھتے تھے اور شہادت حق پر قائم رہتے تھے انہیں بڑی عزت و تکریم کے ساتھ جنت میں رکھا جائے گا۔ ان کے مقابلے میں جو لوگ قیامت کو جھٹلاتے ہیں مگر پھر بھی چاہتے ہیں کہ انہیں جنت میں داخل کیا جائے انہیں بتائیں کہ ایسا ہرگز نہیں ہوگا جس قیامت کا مطالبہ کرتے ہیں اس دن ان کی حالت یہ ہوگی کہ ان آنکھیں پھٹی ہوئی ہوں گی اور ان کے چہروں پر ذلّت چھائی ہوئی ہوگی اس وقت انہیں کہا جائے گا کہ یہ وہ دن جس کا تمہیں وعدہ دیا جاتا تھا۔

Ayahs 70:1–2

سَاَلَ سَآئِلٌۢ بِعَذَابٍ وَّاقِعٍۙ Open ayah 70:1 in the Quran reader

سوال کرنے والے نے عذاب کے بارے میں سوال کیا جو ضرور آنے والا ہے

لِّلْكٰفِرِیْنَ لَیْسَ لَهٗ دَافِعٌۙ Open ayah 70:2 in the Quran reader

یہ کافروں کے لیے ہے۔ کوئی اسے ٹالنے والا نہیں

فہم القرآن ربط سورت : کفار بار بار نبی ﷺ سے عذاب کا مطالبہ کرتے تھے جس پر انہیں انتباہ کیا گیا ہے کہ جس عذاب کا تم مطالبہ کرتے ہو، وہ نازل ہوگا تو اسے ٹالنے والا کوئی نہیں ہوگا۔ المعارج کی ابتدا اس بات سے ہورہی ہے کہ ایک سوال کرنے والے نے سوال ہے کہ جس عذاب سے ہمیں ڈرایا جاتا ہے وہ اب تک وارد کیوں نہیں ہوا ؟ ” سَاَلَ سَآءِلٌ“ کے بارے میں مفسرین کا خیال ہے کہ بظاہر تو یہ الفاظ سوال کے لیے استعمال ہوتے ہیں لیکن اہل عرب ان الفاظ کو کسی چیز کا مطالبہ کرنے کے لیے بھی استعمال کرتے ہیں۔ اس معنٰی میں اس لیے گنجائش ہے کہ اکثر اوقات سائل اپنے سوال میں کسی نہ کسی بات کا مطالبہ ہی کیا کرتا ہے۔ حقیقت میں دونوں مفاہیم کا مقصد ایک ہے کہ کفار نبی معظم ﷺ سے بار بار مطالبہ کرتے تھے کہ جس عذاب کے بارے میں ہمیں ڈرایا اور دھمکایا جاتا ہے وہ اب تک نازل کیوں نہیں ہوا۔ اہل مکہ اس معاملے میں اس قدر بےباک اور دلیر ہوچکے تھے کہ ایک دن انہوں نے کعبۃ اللہ کا غلاف پکڑ کر مطالبہ کیا کہ الٰہی اگر یہ رسول اور قرآن برحق ہے تو پھر ہم پر پتھروں کی بارش برسا یا ہمیں عذاب الیم میں مبتلا کردے۔ اس مطالبے کے جواب میں یہ ارشاد ہوا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ تم اس لائق ہو کہ تمہیں تہس نہس کردیا جائے لیکن ہم اس لیے تم پر عذاب نازل نہیں کررہے کیونکہ تم میں رسول کی ذات اور استغفار کرنے والے مسلمان موجود ہیں۔ ( الانفال : 32، 33) لہٰذا اہل مکہ کو بتلایا گیا ہے کہ جب عذاب کا فیصلہ صادر ہوگا تو اس کا انکار اور مطالبہ کرنے والے کسی صورت بھی اسے ٹال نہیں سکیں گے۔ انکار کرنے والے ہر صورت اس میں مبتلا اور گرفتار ہو کر رہیں گے۔ یہ ایسی حقیقت ہے کہ جب بھی کسی قوم پر عذاب نازل ہوا تو پھر اسے بچانے والا کوئی نہیں تھا۔ قوم نوح، ثمود، عاد، آل فرعون اور دیگر اقوام کا انجام عذاب کا مطالبہ کرنے والوں کے لیے کھلی دلیل ہے جس پر انہیں غور کرنا چاہیے۔ اگلی آیات کے حوالے سے یہاں عذاب کا دوسرا معنٰی قیامت ہے۔ اس لیے کہ عذاب کے ذکر کے بعد متصل قیامت کی ہولناکیوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ ( اللہ اعلم ! )
Ayahs 70:3–4

مِّنَ اللّٰهِ ذِی الْمَعَارِجِؕ Open ayah 70:3 in the Quran reader

اس اللہ کی طرف سے ہے۔ جو بلندیوں کا مالک ہے

تَعْرُجُ الْمَلٰٓئِكَةُ وَ الرُّوْحُ اِلَیْهِ فِیْ یَوْمٍ كَانَ مِقْدَارُهٗ خَمْسِیْنَ اَلْفَ سَنَةٍۚ Open ayah 70:4 in the Quran reader

ملائکہ اور روحیں اس کے حضور ایسے دن میں جائیں گئے، جس کی مقدار پچاس ہزار سال کے براب رہے

فہم القرآن ربط کلام : کفار کو جس عذاب یا قیامت کے بارے میں انتباہ کیا جاتا ہے وہ ” اللہ “ کی طرف سے آئے گی جو ” اللہ “ بڑا ہی بلندو بالا ہے۔ مَعَارِ جْ ” مَعْرِجٌ“ کی جمع ہے جس کا معنٰی سیڑھی یا بلندی ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ اپنی ذات، صفات اور مقام و مرتبہ کے لحاظ سے سب سے بلند وبالا ہے۔ اس لیے اس نے اپنی ذات کے بارے میں المعارج کا لفظ استعمال فرمایا ہے۔ کچھ مفسرین نے المعارج سے مراد وہ بلندیاں لی ہیں جس کو طے کرتے ہوئے ملائکہ اپنے رب کے حضور پیش ہوتے ہیں بظاہر یہ مفہوم لینے کی گنجائش بھی موجود ہے۔ تاہم اس سے پہلی مراد رب کبریاء کی ذات ہے۔ اسی کے حضور ملائکہ اور جبریل امین پیش ہوتے ہیں۔ جبریل امین کا اس لیے الگ ذکر کیا گیا ہے کیونکہ وہ ملائکہ کا سردار اور سب سے مقرب فرشتہ ہے، وہی اپنے رب کا پیغام انبیائے کرام (علیہ السلام) تک لاتا رہا۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے بارے میں ” ذِی الْمَعَارِجِ “ کا لفظ استعمال فرما کر کفار کی جلد بازی کا جواب دیا ہے کہ بیشک کفار اور نافرمان لوگ آپ ﷺ سے بار بار عذاب کا مطالبہ کرتے ہیں لیکن انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ جس طرح اللہ تعالیٰ مقام و مرتبہ کے اعتبار سے بلند وبالا ہے اسی طرح ہی بڑے حوصلے والا اور اعلیٰ ظرف ہے وہ کسی کی نافرمانی اور جلدبازی کی وجہ سے اپنے فیصلے تبدیل نہیں کرتا۔ وہ لوگوں کے درمیان اس دن عدل و انصاف پر مبنی فیصلے فرمائے گا جس دن کی طوالت پچاس ہزار سال پر مشتمل ہوگی۔ اس دن کفار اور نافرمانوں کی مدد کرنے والا کوئی نہیں ہوگا دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا۔ ” یہ لوگ عذاب کے لیے جلدی کر رہے ہیں اللہ اپنے وعدے کیخلاف ہرگز نہیں کرے گا مگر آپ کے رب کے ہاں ایک دن تمہارے شمار کے مطابق ایک ہزار برس کے برابر ہوا کرتا ہے۔ “ (الحج : 47) حدیث شریف میں بھی اس دن کی طوالت پچاس ہزار سال بتلائی گئی ہے۔ ” حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : چاندی سونے کا جو مالک ان کی زکوٰۃ نہیں دیتا اس چاندی، سونے کی تختیاں بنائی جائیں گی۔ انھیں جہنم کی آگ میں گرم کیا جائے گا، پھر مال دار کی پیشانی اور کروٹیں اس سے داغی جائیں گی جب اس کی پیٹھ پر تختیاں ٹھنڈی ہوجائیں گی تو پھر گرم کی جائیں گی پچاس ہزار سال کے دن میں اس کو یہی عذاب ہوگا یہاں تک کہ لوگوں کے بارے میں جنت اور جہنم کا فیصلہ ہوجائے۔۔ “ (رواہ مسلم : باب اثم مانع الزکاۃ)
Ayahs 70:5–9

فَاصْبِرْ صَبْرًا جَمِیْلًا Open ayah 70:5 in the Quran reader

پس آپ صبر جمیل سے کام لیں

اِنَّهُمْ یَرَوْنَهٗ بَعِیْدًاۙ Open ayah 70:6 in the Quran reader

یہ لوگ اس عذاب کو دور سمجھتے ہیں

وَّ نَرٰىهُ قَرِیْبًاؕ Open ayah 70:7 in the Quran reader

اور ہم اسے قریب دیکھ رہے ہیں

یَوْمَ تَكُوْنُ السَّمَآءُ كَالْمُهْلِۙ Open ayah 70:8 in the Quran reader

جس دن آسمان پگھلے ہوئے تانبے کی طرح ہوجائے گا

وَ تَكُوْنُ الْجِبَالُ كَالْعِهْنِۙ Open ayah 70:9 in the Quran reader

اور پہاڑ رنگ دار دھنی ہوئی اون کی طرح ہوجائیں گے

فہم القرآن ربط کلام : نبی ﷺ کی شب وروز کوشش تھی کہ کفار کو جہنم کے عذاب سے بچایا جائے اس کے باوجود کفار عذاب کا مطالبہ کرتے تھے جس پر نبی ﷺ کو پریشانی ہوتی تھی اس لیے آپ کو صبر جمیل کی تلقین کی گئی۔ کفار کا بار بار عذاب کا مطالبہ کرنا آپ ﷺ کے لیے دو وجہ سے پریشان کُن تھا پہلی وجہ یہ تھی کہ آپ اپنے آرام اور کام کی پرواہ کیے بغیر انتہائی خیرخواہی اور درد مندی کے ساتھ کوشش فرما رہے تھے کہ یہ لوگ کفر و شرک چھوڑ کر اپنے رب کے حضور تائب ہوجائیں مگر وہ لوگ تائب ہونے کی بجائے آپ کی مخالفت اور اللہ کی نافرمانی میں آگے ہی بڑھے جارہے تھے۔ دوسری وجہ یہ تھی کہ وہ آپ کو اس بات پر طعنہ دیتے اور جھوٹا قرار دیتے تھے کہ جس عذاب سے ہمیں ڈرایا جاتا ہے وہ اب تک نازل کیوں نہیں ہوا۔ اس پر بھی آپ ﷺ کو پریشانی لاحق ہوتی تھی۔ اس صورتحال میں آپ کو حکم ہوا کہ آپ کو پریشان اور غمگین ہونے کی بجائے صبر جمیل سے کام لینا چاہیے۔ جمیل کا معنٰی خوبصورت اور نہایت اچھا ہے یعنی ایسا صبر جس میں کسی قسم کی جلد بازی اور شکوہ، شکایت نہ ہو۔ آپ کو تسلی دینے اور حقیقت بتلانے کے لیے ارشاد ہوا کہ نادان اس عذاب کو دورسمجھتے ہیں مگر اللہ تعالیٰ کے نزدیک وہ بہت قریب ہے۔ جس دن انہیں عذاب دیا جائے گا وہ دن اپنی حدّت کے لحاظ اس قدر سخت ہوگا کہ آسمان پگھلے ہوئے تانبے کی مانند ہوجائے گا اور پہاڑ دھنی ہوئی روئی کی طرح ہوجائیں گے۔ ” اَلْمُہْلِ “ جلے ہوئے تیل کو بھی کہتے ہیں کیونکہ تیل آگ پر زیادہ دیرپڑے رہنے کی وجہ سے گہرا سرخ ہوجاتا ہے۔ قیامت کی حِدّت کی وجہ سے آسمان کا رنگ سرخ ہوجائے گا۔ اس لیے فرمایا کہ اس دن آسمان ” اَلْمُہْلِ “ کی مانند ہوگا۔ مسائل 1۔ کفار اور مشرکین کے طعنوں سے دل برداشتہ ہونے کی بجائے صبر جمیل سے کام لینا چاہیے۔ 2۔ کفار اور نافرمان لوگ قیامت کو دور سمجھتے ہیں حالانکہ قیامت بہت قریب ہے۔ 3۔ قیامت کے دن آسمان تانبے کی مانند اور پہاڑ دھنی ہوئی اون کی طرح ہوجائیں گے۔
Ayahs 70:10–18

وَ لَا یَسْئَلُ حَمِیْمٌ حَمِیْمًاۚۖ Open ayah 70:10 in the Quran reader

اور کوئی جگری دوست اپنے جگری دوست کی خبر نہیں لے گا

یُّبَصَّرُوْنَهُمْ١ؕ یَوَدُّ الْمُجْرِمُ لَوْ یَفْتَدِیْ مِنْ عَذَابِ یَوْمِئِذٍۭ بِبَنِیْهِۙ Open ayah 70:11 in the Quran reader

حالانکہ وہ ایک دوسرے کو دکھائے جائیں گے، مجرم چاہے گا کہ اس دن کے عذاب سے بچنے کے لیے اپنی اولاد کو

وَ صَاحِبَتِهٖ وَ اَخِیْهِۙ Open ayah 70:12 in the Quran reader

اپنی بیوی کو، اپنے بھائی کو

وَ فَصِیْلَتِهِ الَّتِیْ تُئْوِیْهِۙ Open ayah 70:13 in the Quran reader

اپنے قریب ترین خاندان کو جو اسے دنیا میں پناہ دینے والا تھا

وَ مَنْ فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا١ۙ ثُمَّ یُنْجِیْهِۙ Open ayah 70:14 in the Quran reader

اور روئے زمین میں جو کچھ ہے وہ سب فدیہ میں دے دے اور یہ اسے نجات دلا دے

كَلَّا١ؕ اِنَّهَا لَظٰىۙ Open ayah 70:15 in the Quran reader

ہرگز نہیں وہ بھڑکتی ہوئی آگ کی لپٹ ہوگی

نَزَّاعَةً لِّلشَّوٰىۚۖ Open ayah 70:16 in the Quran reader

جو چمڑیوں کو ادھیڑ دے گی

تَدْعُوْا مَنْ اَدْبَرَ وَ تَوَلّٰىۙ Open ayah 70:17 in the Quran reader

وہ آگ پکار پکار کر اپنی طرف بلائے گی، ہر اس شخص کو جس نے حق سے منہ موڑا۔ اور پیٹھ پھیری

وَ جَمَعَ فَاَوْعٰى Open ayah 70:18 in the Quran reader

اور مال کمایا اور اسے جمع کر کے رکھا

فہم القرآن ربط کلام : قیامت کے دن آسمان تابنے کی مانند ہوجائے گا اور پہاڑ دھنی اوئی روئی کی طرح ہوں گے اس دن باہمی محبتیں ختم اور رشتے ناطے ٹوٹ جائیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے جب انسان کو پیدا فرمایا تو اس کے وجود میں ایک دوسرے کے ساتھ محبت اور مہربانی کرنے کا جذبہ بھی پیدا فرمایا اور ایک دوسرے کے ساتھ لوگوں کے رشتے ناطے جوڑ دیئے، اسی ہمدردی اور رشتے ناطوں کی بنیاد پر دنیا کا نظام قائم اور چل رہا ہے۔ لیکن قیامت کے دن مجرموں کی ایک دوسرے کے ساتھ محبت اور رشتے ناطے ختم ہوجائیں گے، کیونکہ رب ذوالجلال کا فرمان ہے کہ قیامت کے دن کوئی جگری دوست اپنے جگری دوست کی خبر نہیں لے گا۔ حالانکہ وہ ایک دوسرے کو دیکھتے اور جانتے ہوں گے۔ مجرموں کی حالت یہ ہوگی کہ ہر مجرم خواہش کرے گا کہ کاش آج کے عذاب سے بچنے کے لیے اپنے بیٹوں کو اپنے بدلے میں دے کر اپنی جان بچا لے، وہ اپنے بدلے میں اپنی اولاد، اپنی بیوی، اپنے بھائیوں اور پورے خاندان کو پکڑوانے کے لیے تیار ہوگا۔ یہاں تک کہ اگر اس کا بس چلے تو جو کچھ زمین میں ہے وہ دے کر اپنی جان بچانے کی فکر کرے گا لیکن وہ کسی صورت بھی آگ سے چھٹکارا نہیں پا سکے گا۔ جہنم کی آگ مجرموں کی چمڑیاں ادھیڑ دینے والی ہوگی، آگ مجرموں کو آواز دے دے کر اپنی طرف بلائے اور کھینچے گی۔ وہ ہر اس شخص کو اپنی طرف بلائے گی اور کھینچے گی جس نے حق بات سے پیٹھ پھیری اور لوگوں کے حقوق مار مار کر اور ناجائز طریقے سے مال جمع کیا، مجرم کی یہ حالت دیکھ کر اس کے بھائی، اس کی والدہ، اس کا باپ، اس کی بیوی اور اس کے بیٹے بھی بھاگ جائیں گے وہ ایسا دن ہوگا کہ کوئی بھی مجرم کی مدد نہ کرپائے گا۔ (عبس : 34 تا 37) ” سیدہ عائشہ ؓ ایک دن قیامت کو یاد کر کے رورہی تھیں رسول کریم ﷺ نے پوچھا اے عائشہ ! تجھے کس چیز نے رولایا ہے۔ سیدہ عائشہ نے کہا جہنم کی آگ یاد آئی تو میں رو پڑی کیا قیامت کے دن آپ اپنے اہل و عیال کو یاد رکھ پائیں گے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تین مواقع ایسے ہیں جن میں کوئی کسی کو یاد نہیں کرے گا۔ 1 اعمال تولے جانے کے وقت جب تک یہ نہ پتہ چل جائے کہ اس کا نیکیوں والا پلڑا بھاری ہوا یا ہلکا۔ 2 ۔ نامہ اعمال دئیے جانے کے وقت جب کہنے والا کہے آؤ میرے نامہ اعمال کو پڑھ کر دیکھو حتٰی کہ اسے علم ہوجائے کہ اس کو نامہ اعمال دائیں ہاتھ میں دیا جا رہا ہے یا پیٹھ کے پیچھے سے بائیں ہاتھ میں 3 ۔ جب جہنم پر پل صراط کو رکھی جائے گا۔ “ (المستدرک للحاکم : کتاب الاہول قال اللّٰہ تبارک وتعالیٰ (ویوم ینفخ فی الصور) قال الذہبی ہذا حدیث صحیح ) مسائل 1۔ قیامت کے دن کوئی جگری دوست اپنے جگری دوست کی مدد نہیں کرسکے گا۔ حالانکہ وہ ایک دوسرے کو دیکھتے اور جانتے ہوں گے۔ 2۔ ہر مجرم کی خواہش ہوگی کہ میں اپنی اولاد، اپنی بیوی، اپنے بھائی، اپنا خاندان اور جو کچھ زمین میں ہے اپنے بدلے میں دے کر چھوٹ جاؤں۔ لیکن وہ جہنم کی آگ سے نہیں بچ سکے گا تفسیر بالقرآن قیامت کے دن کوئی بھی کسی مجرم کی مدد نہیں کرسکے گا : 1۔ قیامت کے دن کوئی دوست کسی کے کام نہیں آئے گا۔ ( البقرۃ : 254) 2۔ قیامت کے دن کوئی رشتہ دار کسی کو فائدہ نہیں دے گا۔ ( عبس : 34 تا 36) 3۔ قیامت کے دن کوئی دوست کسی دوست کے کام نہیں آئے گا۔ (الدخان : 41، 42) 4۔ قیامت کے دن دوستی اور سفارش کام نہ آئے گی۔ (ابراہیم : 31) 5۔ قیامت کے دن سفارشی کسی کو فائدہ یا نقصان نہیں دیں گے۔ (یونس : 18) 6۔ معبودان باطل اپنے پیروکاروں کے کام نہیں آئیں گے۔ ( البقرۃ : 166) (العنکبوت : 22)
Ayahs 70:19–28

اِنَّ الْاِنْسَانَ خُلِقَ هَلُوْعًاۙ Open ayah 70:19 in the Quran reader

انسان کم حوصلہ والا پیدا کیا گیا ہے

اِذَا مَسَّهُ الشَّرُّ جَزُوْعًاۙ Open ayah 70:20 in the Quran reader

جب اس پر مصیبت آتی ہے تو جزع فزع کرتا ہے

وَّ اِذَا مَسَّهُ الْخَیْرُ مَنُوْعًاۙ Open ayah 70:21 in the Quran reader

اور جب اسے خوشحالی نصیب ہوتی ہے تو بخل کرنے لگتا ہے

اِلَّا الْمُصَلِّیْنَۙ Open ayah 70:22 in the Quran reader

مگر وہ لوگ جو نماز پڑھنے والے ہیں

الَّذِیْنَ هُمْ عَلٰى صَلَاتِهِمْ دَآئِمُوْنَ۪ۙ Open ayah 70:23 in the Quran reader

جو اپنی نماز پر ہمیشگی کرتے ہیں

وَ الَّذِیْنَ فِیْۤ اَمْوَالِهِمْ حَقٌّ مَّعْلُوْمٌ۪ۙ Open ayah 70:24 in the Quran reader

جن کے مالوں میں ایک مقرر حق ہے

لِّلسَّآئِلِ وَ الْمَحْرُوْمِ۪ۙ Open ayah 70:25 in the Quran reader

سائل اور محروم کا

وَ الَّذِیْنَ یُصَدِّقُوْنَ بِیَوْمِ الدِّیْنِ۪ۙ Open ayah 70:26 in the Quran reader

جو جزا کے دن کو برحق مانتے ہیں

وَ الَّذِیْنَ هُمْ مِّنْ عَذَابِ رَبِّهِمْ مُّشْفِقُوْنَۚ Open ayah 70:27 in the Quran reader

جو اپنے رب کے عذاب سے ڈرتے ہیں

اِنَّ عَذَابَ رَبِّهِمْ غَیْرُ مَاْمُوْنٍ Open ayah 70:28 in the Quran reader

کیونکہ ان کے رب کا عذاب ایسا ہے جس سے بےخوف نہیں ہونا چاہیے

فہم القرآن ربط کلام : چمڑیاں ادھیڑدینے والی آگ سے بچنے والے لوگوں کے اوصاف۔ انسان کی طبعی کمزوریوں میں ایک کمزوری یہ ہے کہ وہ جلد باز ہے۔ اسی جلد بازی کی وجہ سے انسان دنیا کے فائدے کی خاطر حق بات سے منہ موڑ تا، ناجائز طریقے سے مال بناتا اور اسے جمع رکھتا ہے۔ اگر انسان اپنی جلدبازی پر قابو پالے تو وہ اللہ اور اس کے رسول کے فرمان سے منہ موڑ کر نہ کسی کا مال بٹورے اور ہی ناجائز طریقے سے مال جمع کرے۔ یہ جلد بازی کا نتیجہ ہے کہ جب اسے مال کی تنگی اور کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو وہ گھبرا اٹھتا ہے اور جزع فزع کرنے لگتا ہے جب اسے مال حاصل ہوتا ہے توبخیل بن جاتا ہے۔ یہاں گھبراہٹ اور بخل کا حوالہ دے کر دو حقیقتوں کی طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ اے انسان ! آج معمولی تکلیف پر تو چونک اٹھتا ہے۔ غور کر ! کہ تو جہنم کی آگ اور اس کی سختیوں کو کس طرح برداشت کرے گا ؟ پچھلی آیت میں مال جمع کرنے کا نقصان بتلایا گیا ہے، یہاں فرمایا ہے کہ جب انسان کو مال ملتا ہے تو اسے خرچ کرنے کی بجائے بخل کرتا ہے۔ یاد رہے ! جہاں مال کے فائدے ہیں وہاں اس کا یہ نقصان ہے کہ جوں جوں مال جمع ہوتا ہے توں توں انسان طبعی طور پر اتنا ہی حریص اور بخیل ہوتا جاتا ہے بالخصوص جو شخص حرام ذرائع سے مال جمع کرتا ہے اس میں دوسروں کی نسبت بخل زیادہ پایا جاتا ہے۔ جلد بازی اور بخل سے بچنے کے لیے ضروری ہے کہ نماز کو اس کے تقاضوں کا خیال رکھتے ہوئے ادا کیا جائے۔ جو شخص اطمینان کے ساتھ نماز ادا کرتا اور اس پر ہمیشگی اختیار کرتا ہے۔ اسے طبیعت کی جلد بازی پر قابو پانا آسان ہوجاتا ہے۔ جو حلال ذرائع سے مال کماتا ہے اس میں فی سبیل اللہ خرچ کرنے کا جذبہ پیدا ہوتا ہے کیونکہ اسے پتا ہوتا ہے کہ میرے رب نے میرے مال میں سائل اور غریب کا ایک حصہ مقرر کر رکھا ہے جو ہر صورت مجھے ادا کرنا چاہیے کیونکہ اس کا ایمان ہے کہ اگر میں نے یہ کام نہ کیے تو قیامت کے دن مجھے سزا ہوگی۔ اس لیے وہ جہنم کے عذاب سے ڈرتا ہے، اس کا ایمان ہوتا ہے کہ جہنم کے عذاب سے بےخوف نہیں ہونا چاہیے۔ (عَنْ أَبِيْ ھُرَیْرَۃَ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ قَال الصَّلَوَاۃُ الْخَمْسُ وَالْجُمْعَۃُ إِلَی الْجُمْعَۃِ کَفَّارَۃٌ لِّمَا بَیْنَھُنَّ مَالَمْ تُغْشَ الْکَبَاءِرُ ) (رواہ مسلم : کتاب الطھارۃ، باب الصلواۃ الخمس والجمعۃ إلی الجمعۃ۔۔ ) ” حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب کبیرہ گناہ کا ارتکاب نہ کیا جائے تو پانچ نمازیں اور جمعہ سے جمعہ تک کے گناہوں کا کفارہ بن جاتی ہے۔ “ (عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ؓ قَالَ کَانَ رَسُول اللّٰہِ ﷺ یَتَعَوَّذُ یَقُولُ ” اللّٰہُمَّ إِنِّی أَعُوذُ بِکَ مِنَ الْکَسَلِ وَأَعُوذُ بِکَ مِنَ الْجُبْنِ وَأَعُوذُ بِکَ مِنَ الْہَرَمِ وَأَعُوذُ بِکَ مِنَ الْبُخْلِ “ ) (رواہ البخاری : کتاب الدعوات، باب التعوذ من أرذل العمر) ” حضرت انس بن مالک ؓ بیان کرتے ہیں رسول معظم ﷺ اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگتے اور یہ دعا کرتے کہ اے اللہ میں سستی، بزدلی، ناکارہ پن بڑھاپے اور بخل سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔ “ مسائل 1۔ انسان طبعی طور پر جلد باز واقع ہوا ہے جس وجہ سے معمولی تکلیف پر گھبرا اٹھتا ہے۔ 2۔ انسان کو مال حاصل ہو تو اس میں بخل پیدا ہوجاتا ہے۔ 3۔ نماز کو ہمیشہ اس کے حقوق کے ساتھ ادا کرنے والا اپنی جلد بازی پر قابو پا لیتا ہے۔ 4۔ جس کا قیامت پر حقیقی ایمان ہے وہ اپنے مال میں سائل اور غریب کا حق سمجھتا ہے۔ 5۔ اللہ کے بندے اپنے رب کے عذاب سے ہمیشہ خوف زدہ رہتے ہیں۔ 6۔ رب کے عذاب سے کسی صورت بھی بےخوف نہیں ہونا چاہیے۔
Ayahs 70:29–31

وَ الَّذِیْنَ هُمْ لِفُرُوْجِهِمْ حٰفِظُوْنَۙ Open ayah 70:29 in the Quran reader

جو اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرتے ہیں

اِلَّا عَلٰۤى اَزْوَاجِهِمْ اَوْ مَا مَلَكَتْ اَیْمَانُهُمْ فَاِنَّهُمْ غَیْرُ مَلُوْمِیْنَۚ Open ayah 70:30 in the Quran reader

سوائے اپنی بیویوں یا اپنی لونڈیوں پر جن کے بارے میں ان پر کوئی ملامت نہیں

فَمَنِ ابْتَغٰى وَرَآءَ ذٰلِكَ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْعٰدُوْنَۚ Open ayah 70:31 in the Quran reader

البتہ جو اس کے علاوہ کچھ اور چاہیں وہی حد سے گزرنے والے ہیں

فہم القرآن ربط کلام : بیشک اللہ کے عذاب سے بےخوف نہیں ہونا چاہیے لیکن جن لوگوں نے قرآن کے بیان کردہ اوصاف اپنائے وہ جہنم کے عذاب سے بےخوف ہوں گے، جہنم کے عذاب سے مامون رہنے والوں کے اوصاف میں یہ صفت بھی ہوتی ہے۔ جہنم کے عذاب سے محفوظ رہنے والوں میں یہ وصف بھی ہوتا ہے کہ وہ اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرتے ہیں ہاں انہیں اپنی بیویوں اور لونڈیوں کے پاس جانے کا حق ہے۔ اس سے ان پر کوئی ملامت نہیں جو لوگ اپنی بیویوں اور لونڈیوں کے سوا کسی اور کے ساتھ ازدواجی تعلقات اور اس جیسی حرکات کریں گے وہ حد سے نکل جانے والے ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ نے ہر مرد اور عورت میں ایک دوسرے کے ساتھ ملاپ کرنے کا جذبہ اور قوت رکھی ہے، اس کے لیے میاں بیوی کا رشتہ قائم فرمایا ہے۔ اگر کسی شخص میں جنسی قوت زیادہ ہو یا اس کی معاشرتی ضرورت ہو تو اسے چار بیویوں کے ساتھ لونڈیاں رکھنے کا حق دیا گیا ہے بشرطیکہ وہ شریعت کے مقرر کردہ اصولوں کی پابندی کرے۔ سورة النساء کی آیت 25 کی تشریح میں یہ تفصیل موجود ہے کہ اسلام نے لونڈیاں رکھنے کی کن حالات میں اجازت دی ہے اس کا خلاصہ یہاں عرض کیا جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے آزاد عورتوں کو چھوڑ کر لونڈیوں سے شادی کرنے کی دو وجوہ بیان کی ہیں انہیں ذہن نشین رکھنا چاہیے۔ 1۔ آزاد عورت سے شادی کے اخراجات برداشت نہ کرسکتا ہو۔ 2۔ بدکاری میں ملوث ہونے کے خوف سے لونڈی رکھنا جائز ہے۔ ان دو وجوہات کے علاوہ اسے لونڈی سے شادی کرنے سے گریز کرنا چاہیے۔ جو لوگ مذکورہ بالا اجازت سے ہٹ کر ازواجی تعلقات یا اس کے متعلقات اختیار کریں گے تو وہ حدود اللہ سے نکل جانے والے ہوں گے جنہیں جہنم میں داخل کیا جائے گا۔ (عَنْ سَہْلِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ رَسُول اللَّہ ﷺ قَالَ مَنْ یَضْمَنْ لِی مَا بَیْنَ لَحْیَیْہِ وَمَا بَیْنَ رِجْلَیْہِ أَضْمَنْ لَہُ الْجَنَّۃَ ) (رواہ البخاری : باب حفظ اللسان) ” سہل بن سعد ؓ نبی کریم ﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا جو شخص مجھے اپنی زبان اور شرمگاہ کی ضمانت دے میں اسے جنت کی ضمانت دیتا ہوں۔ “ (عن أبی ہُرَیْرَۃَ عَنِ النَّبِیِّ ﷺ إِنَّ اللّٰہَ کَتَبَ عَلٰی ابْنِ آدَمَ حَظَّہٗ مِنَ الزِّنَا أَدْرَکَ ذٰلِکَ لَا مَحَالَۃَ فَزِنَا الْعَیْنِ النَّظَرُ وَزِنَا اللِّسَانِ الْمَنْطِقُ وَالنَّفْسُ تَمَنّٰی وَتَشْتَہِی وَالْفَرْجُ یُصَدِّقُ ذٰلِکَ کُلَّہٗ وَیُکَذِّبُہُ ) (رواہ البخاری : کتاب الاستئذان، باب زنا الجوارح دون الفرج) ” حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے آدم کی اولاد پر اس کا حصہ زنا کا مقرر کردیا ہے وہ اس سے بچ نہیں سکتا وہ اس کو پالے گا، آنکھوں کا زنا دیکھنا ہے اور زبان کا زنا فحش باتیں کرنا ہے، انسان کا نفس اس کی خواہش کرتا ہے اور شرمگاہ اس کی تصدیق یا تکذیب کرتی ہے۔ “ (تصدیق کرنے سے مراد عملاً بدکاری کرنا اور تکذیب سے مراد اس سے بچے رہنا ہے۔ ) (عَنْ اَبِیْ ھُرَےْرَۃَ ؓ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ لَا ےَزْنِی الزَّانِیْ حِےْنَ ےَزْنِیْ وَھُوَ مُؤْمِنٌ وَلَا ےَسْرِقُ السَّارِقُ حِےْنَ ےَسْرِقُ وَھُوَ مُؤْمِنٌ وَّلَا ےَشْرَبُ الْخَمْرَ حِےْنَ ےَشْرَبُھَا وَھُوَ مُؤْمِنٌ وَلَا ےَنْتَھِبُ نَھْبَۃً یَّرْفَعُ النَّاسُ اِلَےْہِ فِےْھَا اَبْصَارَھُمْ حِےْنَ ےَنْتَھِبُھَا وَھُوَ مُؤْمِنٌ وَلَا ےَغُلُّ اَحَدُکُمْ حِےْنَ ےَغُلُّ وَھُوَ مُؤْمِنٌ فَاِیَّاکُمْ اِیَّاکُمْ ۔ ) (رواہ البخاری : کتاب الأشربۃ) حضرت ابوہریرہ ؓ نبی کریم ﷺ کا فرمان بیان کرتے ہیں کہ زانی زنا کرتے وقت مومن نہیں ہوتا، چور چوری کرتے ہوئے ایمان سے خارج ہوتا ہے، شرابی شراب پیتے وقت ایماندار نہیں ہوتا۔ جب ڈاکو کسی ایسی چیز پر ڈاکہ ڈالتا ہے کہ لوگ اس کی طرف نظریں اٹھا کر دیکھتے ہیں۔ وہ ایمان سے تہی دامن ہوتا ہے۔ خائن خیانت کرتے ہوئے مومن نہیں رہ سکتا۔ تمہیں اپنے آپ کو ان گناہوں سے دور رکھنا چاہیے۔ “ (عَنْ عَبْدِاللّٰہِ ابْنِ مَسْعُوْدٍ ؓ قَالَ قَالَ رَجُلٌ ےَا رَسُوْلَ اللّٰہِ اَیُّ الذَّنْبِ اَکْبَرُ عِنْدَاللّٰہِ قَالَ اَنْ تَدْعُوَلِلّٰہِ نِدًّا وَّھُوَ خَلَقَکَ قَالَ ثُمَّ اَیٌّ قَالَ اَنْ تَقْتُلَ وَلَدَکَ خَشْےَۃَ اَنْ یَّطْعَمَ مَعَکَ قَالَ ثُمَّ اَیٌّ قَالَ اَنْ تُزَانِیَ حَلِےْلَۃَ جَارِکَ فَاَنْزَلَ اللّٰہُ تَعَالٰی تَصْدِےْقَھَا (وَالَّذِےْنَ لَا ےَدْعُوْنَ مَعَ اللّٰہِ اِلٰھًا اٰخَرَ وَلَا ےَقْتُلُوْنَ النَّفْسَ الَّتِیْ حَرَّمَ اللّٰہُ اِلَّا بِاْلحَقِّ وَلَا ےَزْنُوْنَ ۔۔ الایۃ) (پ 19: ع 4) (رواہ البخاری : کتاب الدیات) حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ فرماتے ہیں ایک شخص رسول محترم ﷺ سے سوال کرتا ہے کہ اللہ کے نزدیک سب سے بڑا گناہ کون سا ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : تو اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرائے حالانکہ اس نے تجھے پیدا کیا ہے۔ اس نے پوچھا اسکے بعد کونسا بڑا گناہ ہے ؟ فرمایا تو اپنی اولاد کو اس لئے قتل کرے کہ وہ تیرے ساتھ کھائے پیے گی وہ پھر پوچھتا ہے۔ اسکے بعد کونسا ؟ فرمایا ؛ تو اپنے پڑوسی کی بیوی کے ساتھ بدکاری کرے۔ اللہ تعالیٰ نے اسکی تصدیق میں فرمایا ” مومن وہ ہیں جو اللہ کے ساتھ کسی کو نہیں پکارتے نہ وہ ناجائز کسی کو قتل کرتے ہیں اور نہ ہی وہ بدکاری کرتے ہیں۔ “ (عَنْ عُبَادَۃَ بْنِ الصَّامِتِ ؓ قَالَ قَالَ رَسُول اللّٰہ ﷺ خُذُوا عَنِّی خُذُوا عَنِّی قَدْ جَعَلَ اللہُ لَہُنَّ سَبِیلًا الْبِکْرُ بالْبِکْرِ جَلْدُ ماءَۃٍ وَنَفْیُ سَنَۃٍ وَالثَّیِّبُ بالثَّیِّبِ جَلْدُ ماءَۃٍ ، وَالرَّجْم) (صحیح مسلم : بَابُ حَدِّ الزِّنَی) ” حضرت عبادہ بن صامت ؓ بیان کرتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : مجھ سے سیکھ لو اللہ تعالیٰ نے عورتوں اور مردوں کے لیے اصول بنائے ہے اگر کنوار مرد کنواری عورت سے زنا کرے تو اسے سو کوڑے مارو اور ایک سال کے لیے جلا وطن کر دو اور اگر شادی شدہ مرد شادی شدہ عورت سے زنا کرے تو اسے سو کوڑے مارو اور رجم کر دو ۔ “ مسائل 1۔ اللہ کے عذاب سے بےخوف نہیں ہونا چاہیے۔ 2۔ لونڈیوں کے ساتھ ازواجی تعلقات قائم کرنا جائز ہے۔ 3۔ ہر مسلمان مرد اور عورت کو اپنی شرمگاہ کی حفاظت کرنی چاہیے۔ 4۔ اللہ کی مقرر کردہ حدود سے آ گے بڑھنا ان سے تجاوز کرنا ہے۔ تفسیر بالقرآن بدکاری کا گناہ اور اس کی سزا : 1۔ تہمت لگانے والے کی سزا۔ (النور : 4) 2۔ کنوارے زانی مرد وزن کو سو کوڑے مارنے کا حکم۔ (النور : 2)
Ayahs 70:32–35

وَ الَّذِیْنَ هُمْ لِاَمٰنٰتِهِمْ وَ عَهْدِهِمْ رٰعُوْنَ۪ۙ Open ayah 70:32 in the Quran reader

اور وہ اپنی امانتوں کی حفاظت اور اپنے وعدے کی پاسداری کرتے ہیں

وَ الَّذِیْنَ هُمْ بِشَهٰدٰتِهِمْ قَآئِمُوْنَ۪ۙ Open ayah 70:33 in the Quran reader

جو اپنی گواہی پر قائم رہتے ہیں

وَ الَّذِیْنَ هُمْ عَلٰى صَلَاتِهِمْ یُحَافِظُوْنَؕ Open ayah 70:34 in the Quran reader

اور جو اپنی نماز کی حفاظت کرتے ہیں

اُولٰٓئِكَ فِیْ جَنّٰتٍ مُّكْرَمُوْنَ٢ؕ۠ Open ayah 70:35 in the Quran reader

اور یہ لوگ پورے اکرام کے ساتھ جنت کے باغات میں رہیں گے

فہم القرآن ربط کلام : جہنم سے بچنے والوں کے مزید اوصاف کا تذکرہ۔ اللہ تعالیٰ جن لوگوں کو جہنم کی بھڑکتی ہوئی آگ سے بچائے گا اور انہیں جنت میں داخل فرمائے گا ان میں مذکورہ بالا اوصاف کے ساتھ یہ وصف بھی پائیں جائیں گے کہ وہ اپنی امانتوں اور وعدوں کی پاسداری کرنے والے ہوں گے، وہ شہادتِ حق پر قائم رہتے ہیں اور اپنی نمازوں کی حفاظت کرتے ہیں، انہیں جنت میں عزت واحترام کے ساتھ رکھا جائے گا۔ اس مقام پر اللہ تعالیٰ نے مفصل مضامین کو چند الفاظ میں بیان فرمایا ہے۔ جنتی لوگ دنیا میں اپنی امانتوں کی حفاظت کرنے والے ہوتے ہیں : مومنوں کے اوصاف میں یہ صفت بھی شامل ہوتی ہے کہ وہ امانت کی حفاظت اور عہد کی پاسداری کرتے ہیں۔ امانت سے مراد صرف سونا چاندی اور کرنسی کی حفاظت نہیں بلکہ اس سے مراد ہر قسم کی امانت ہے۔ بیشک وہ کسی منصب کے حوالے سے عائد ہونے والی ذمہ داری ہو۔ سرور دو عالم ﷺ نے امانت کے تصور کو وسعت دیتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ باضابطہ مجالس میں ہونے والی گفتگو بھی امانت ہوتی ہے۔ جس طرح ہر قسم کی امانت کا خیال رکھنا فرض اور مومن کی صفت ہے اسی طرح جائز کاموں پر کیے گئے عہد کی ذمہ داری بھی پوری کرنی چاہیے۔ عہد سے پہلی مراد عقیدہ توحید کے حوالے سے کیا ہوا وہ عہد ہے جو ہر انسان نے عالم ارواح میں اپنے رب کے ساتھ کیا تھا (الاعراف : 172) اس کے ساتھ وہ عہد وقیود بھی شامل ہیں جو ایک انسان دوسرے کے ساتھ اور ایک قوم دوسری قوم کے ساتھ کرتی ہے۔ لوگوں کے ساتھ کیے ہوئے عہد کی پاسداری کرنے سے مسلمان کو نہ صرف آخرت میں اجر ملے گا بلکہ دنیا میں بھی اچھی شہرت اور لوگوں کا اعتماد حاصل ہوتا ہے جس سے سیاست، تجارت اور معاملات میں فائدہ پہنچتا ہے۔ (عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ ؓ قَالَ قَالَ رَسُول اللَّہِ ﷺ الْمَجَالِسُ بالأَمَانَۃِ إِلاَّ ثَلاَثَۃَ مَجَالِسَ سَفْکُ دَمٍ حَرَامٍ أَوْ فَرْجٌ حَرَامٌ أَوِ اقْتِطَاعُ مَالٍ بِغَیْرِ حَقٍّ ) (رواہ ابو داؤد : باب فِی نَقْلِ الْحَدِیثِ ، قال الالبانی ھٰذا حدیث صحیح) ” حضرت جابر بن عبداللہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : مجالس امانت ہوا کرتی ہیں۔ مگر تین قسم کی مجالس امانت نہیں ہوا کرتیں ایک وہ جس میں کسی کا ناحق خون بہایا جائے، جس میں زنا کیا جائے اور وہ جس میں کسی کا مال ناحق کھایا جائے۔ “ جنتی شہادتِ حق پر قائم رہنے والے ہوں گے : (عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ؓ قَالَ ذَکَرَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ الْکَبَآءِرَ فَقَال الشِّرْکُ باللّٰہِ وَقَتْلُ النَّفْسِ وَعُقُوْقُ الْوَالِدَیْنِ فَقَالَ أَلَآ أُنَبِّءُکُمْ بِأَکْبَرِ الْکَبَاءِرِ قَالَ شَھَادَۃُ الزُّوْرِ ) (رواہ البخاری : کتاب الأدب، باب عقوق الوالدین من الکبائر) ” حضرت انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے کبیرہ گناہوں کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا : ” بڑے گناہ یہ ہیں : اللہ کے ساتھ شرک کرنا، ناحق خون کرنا، والدین کی نافرمانی کرنا۔ “ پھر فرمایا : کیا میں تمہیں بڑے گناہ سے آگاہ نہ کروں ؟ وہ جھوٹی گواہی دینا ہے۔ “ مسائل 1۔ ایماندار لوگ امانتوں کی حفاظت کیا کرتے ہیں۔ 2۔ نیک لوگ اپنے عہد کی پاسداری کرتے ہیں۔ 3۔ نیک لوگ شہادتِ حق پر قائم رہتے ہیں۔ 4۔ ایماندار لوگ ہر طرح اپنی نمازوں کی حفاظت کرتے ہیں۔ 5۔ جنتی جنت میں بڑے احترام و اکرام کے ساتھ رہیں گے۔ تفسیر بالقرآن جنتی کے انعام واکرام : 1۔ ہم نے اس میں کھجوروں، انگوروں کے باغ بنائے ہیں اور ان میں چشمے جاری کیے ہیں۔ (یٰس : 34) 3۔ یقیناً متقین باغات اور چشموں میں ہوں گے۔ (الذاریات : 15) 4۔ یقیناً متقی نعمتوں والی جنت میں ہوں گے۔ (الطور : 17) 5۔ جنت میں سونے اور لولو کے زیور پہنائے جائیں گے۔ (فاطر : 33) 6۔ جنت میں تمام پھل دو ، دو قسم کے ہوں گے۔ (الرحمن : 52) 7۔ جنتی سبز قالینوں اور مسندوں پر تکیہ لگا کر بیٹھے ہوں گے۔ (الرحمن : 76) 8۔ جنتی کو شراب طہور دی جائے گی۔ (الدھر : 21) 9۔ جنتی کو ملائکہ ہر مقام پر سلام عرض کریں گے۔ (الزمر : 73)