Ayahs 70:36–42فہم القرآن
ربط کلام : ایمانداروں کو جنت کی خوشخبری سنانے پر کفار کا رد عمل۔
مکی دور میں اسلام کے مخالفوں کا یہ خیال بلکہ یقین تھا کہ نبی ﷺ کی دعوت قبولیت عامہ نہیں پاسکے گی۔ اسی بنا پر اسلام اور مسلمانوں کو اپنے سے حقیر جانتے اور ان الفاظ کے ساتھ نبی ﷺ اور مسلمانوں کو مذاق کیا کرتے تھے۔
” جب یہ لوگ آپ کو دیکھتے ہیں تو آپ کا مذاق اڑاتے ہیں ہاں یہ شخص ہے جسے ” اللہ “ نے رسول بنا کر بھیجا ہے ؟ “ (الفرقان : 41)
(وَ کَذٰلِکَ فَتَنَّا بَعْضَہُمْ بِبَعْضٍ لِّیَقُوْلُوْٓا اَہٰٓؤُلَآءِ مَنَّ اللّٰہُ عَلَیْہِمْ مِّنْ بَیْنِنَا اَلَیْسَ اللّٰہُ بِاَعْلَمَ بالشّٰکِرِیْنَ ) (الانعام : 53)
” اور اسی طرح ہم نے ان کے بعض کو دوسرے کے ساتھ آزمائش میں ڈالا تاکہ وہ کہیں کیا یہی لوگ ہیں جن پر اللہ نے ہم میں سے احسان فرمایا ہے ؟ کیا اللہ شکر کرنے والوں کو زیادہ جاننے والا نہیں ؟ “
اس کسم پرسی کے دور میں مسلمانوں کو یہ بشارت دی گئی کہ جن میں یہ اوصاف پائے جائیں گے وہ جنت میں عزت و اکرام کے ساتھ رکھے جائیں گے۔ جونہی یہ خوشخبری نازل ہوئی تو کفار کی حالت یہ تھی کہ نبی ﷺ کی طرف دوڑتے ہوئے آئے اور آپ کے دائیں بائیں جمع ہو کر اس بات کا دعویٰ کرنے لگے کہ ہم مسلمانوں سے دنیا میں بہتر ہیں اور آخرت میں بھی بہتر ہوں گے اور جنت میں ضرور داخل ہوں گے۔ کفار کے دعوے کی تردید کرتے ہوئے فرمایا کہ ایسا ہرگز نہیں ہوگا کہ وہ جنت میں داخل ہوں، بیشک ان میں سے ہر شخص یہ چاہتا اور دعویٰ کرتا ہے کہ وہ جنت میں داخل ہوگا۔
مشرقوں اور مغربوں کے رب کی قسم ! ہم اس بات پر طاقت رکھتے ہیں کہ انہیں تہس نہس کرکے ان کی جگہ دوسرے لوگ لے آئیں اور یہ کسی صورت بھی ہمیں عاجز نہیں کرسکتے۔ اللہ تعالیٰ نے اس مقام پر مشرقوں اور مغربوں کا نام لے کر اپنے رب ہونے کی قسم کھائی ہے۔ سورة المزمل میں ایک مشرق اور ایک مغرب کا ذکر ہے۔ ( المزمل : 9)
سورۃ الرّحمن میں میں دو مشرقوں اور دو مغربوں کا بیان ہے اور یہاں کئی مشرقوں اور کئی مغربوں کی قسم اٹھائی گئی ہے۔ سورة الرّحمن میں یہ وضاحت کی گئی ہے کہ سورج نہ ہر روز ایک مقام سے طلوع ہوتا اور نہ ایک مقام پر غروب ہوتا ہے بلکہ ہر روز سورج کے طلوع اور غروب ہونے کے مقام تبدیل ہوتے رہتے ہیں۔ (الرحمن : 17) اس حساب سے دو مشرق اور دو مغرب نہیں بنتے بلکہ کئی مشرق اور کئی مغرب بنتے ہیں اس لیے یہاں کئی مشرقوں اور کئی مغربوں کی قسم اٹھائی گئی ہے۔
مسائل
1۔ کفار دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ جنت میں داخل ہوں گے حالانکہ ایسا ہرگز نہیں ہوگا۔
2۔ مشرقوں اور مغربوں کا رب اس بات پر قادر ہے کہ کفار کو ختم کرکے ان کی جگہ اور لوگ لے آئے۔
3۔ اللہ تعالیٰ ہر کام کرنے پر قادر ہے اسے کوئی بےبس اور عاجز نہیں کرسکتا۔
تفسیر بالقرآن
اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے :
1۔ اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے (البقرۃ : 20)
2۔ اللہ آسمانوں و زمین کی ہر چیز کو جانتا ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ (آل عمراٰن : 29)
3۔ تم جہاں کہیں بھی ہوگے اللہ تمہیں قیامت کے دن جمع فرمائے گا وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ (البقرۃ : 148)
4۔ اللہ تعالیٰ جسے چاہے عذاب دے جسے چاہے معاف کردے وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ (البقرۃ : 284)
Ayahs 70:43–44فہم القرآن
ربط کلام : کفار اور نافرمان لوگ حقیقت تسلیم نہیں کرتے تو انہیں ان کے حال پر چھوڑ دینا چاہیے۔
نبی مکرم ﷺ انتہائی ہمدردی درد مندی کے ساتھ کفار کو اللہ کی توحید اور اس کے دین کی طرف دعوت دیتے لیکن وہ آپ کے قریب آنے اور آپ کی دعوت قبول کرنے کی بجائے آپ پر مختلف قسم کے الزامات لگاتے اور آپ سے نفرت کا اظہار کرتے تھے۔ جس پر آپ ﷺ کو ارشاد ہوا کہ آپ ان کو ان کے حال پر چھوڑ دیں تاکہ یہ دنیاوی مشاغل میں لگے رہیں۔ یہاں تک کہ انہیں موت آلے یہ اس دن اپنے رب کے حضور پیش ہوں جس دن کا ان کے ساتھ وعدہ کیا جاتا ہے۔ یہ لوگ آج آپ کی دعوت سن کر دور بھاگتے ہیں لیکن جس دن صور پھونکا جائے گا تو یہ اس کی آواز پر اپنی اپنی قبروں سے نکل کر دوڑتے ہوئے اس طرح پہنچیں گے جس طرح وہ اپنے بتوں کی طرف دوڑ رہے ہوں۔ آج یہ نفرت اور حقارت کی بنا پر آپ کو آنکھیں پھاڑ پھا ڑکردیکھتے ہیں لیکن اس دن ذلّت اور خوف کی وجہ سے ان کی آنکھیں جھکی ہوں گی اور کہنے والا کہے گا یہ وہی دن ہے جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا تھا اور تم اس کو جھٹلایا کرتے تھے۔
دوسرے نفخہ کے بعد لوگ قبروں سے نکل کر محشر کے میدان کی طرف اس طرح جائیں گے جیسے شکاری شکار کی طرف دوڑتا ہے یا مشرک اپنے بتوں اور درباروں کی طرف جاتے ہیں۔ اللہ کے باغی قبروں سے نکلتے ہی واویلا کریں گے، ہائے افسوس ! ہمیں کس نے قبروں سے نکال باہر کیا ہے۔ قیامت کی ہولناکیوں اور محشر کے میدان میں اکٹھے کیے جانے کا حال دیکھ کر انہیں یقین ہوجائے گا کہ یہی قیامت کا دن ہے جس کا ہمارے ساتھ ربِّ رحمن نے وعدہ کیا تھا اور جس کی پیغمبریاد دہانی کروایا کرتے تھے۔ جس قیامت کے بارے میں یہ لوگ جھگڑتے اور کہتے ہیں کہ یہ کبھی نہیں آئے گی وہ تو اسرافیل کی ایک پھونک کا نتیجہ ہوگی۔ اللہ تعالیٰ کے حکم سے جوں ہی اسرافیل صور میں پھونک ماریں گے تو زمین میں شدید ترین زلزلے ہوں گے یہاں تک کہ زمین جگہ جگہ سے پھٹ جائے گی اور ہر کوئی اپنے اپنے مدفن سے نکل کھڑا ہوگا اور سب کے سب ربِّ ذوالجلال کے حضور حاضر ہوجائیں گے، لوگ پسینے سے شرابور ہوں گے اور اس طرح حواس باختہ ہوں گے جیسے انہوں نے نشہ کیا ہوا ہو۔ یہ حالت ان کی نشہ کی وجہ سے نہیں بلکہ محشر کی سختی اور ربِّ ذوالجلال کے جلال کی وجہ سے ہوگی۔ (الحج : 2) اس موقع پر اعلان ہوگا کہ آج کسی پر رائی کے دانے کے برابر ظلم نہیں ہوپائے گا۔ (یٰس : 54)
(عَنْ عَاءِشَۃَ ؓ قَالَتْ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ یَقُوْلُ یُحْشَرُالنَّا سُ یَوْمَ الْقِیاَمَۃِ حُفَاۃً عُرَاۃً غُرْلًا قُلْتُ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ اَلرِّجَالُ وَالنِّسَاءُ جَمِیْعًا یَنْظُرُ بَعْضُھُمْ اِلٰی بَعْضٍ فَقَالَ یَا عَاءِشَۃُ اَلْاَمْرُ اَشَدُّ مِنْ اَنْ یَّنْظُرَ بَعْضُھُمْ اِلٰی بَعْضٍ ) (رواہ البخاری : باب کَیْفَ الْحَشْر)
” حضرت عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں کہ میں نے رسول معظم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ لوگ قیامت کے دن ننگے پاؤں، ننگے بدن اور بلا ختنہ اٹھائے جائیں گے۔ میں نے کہا اے اللہ کے رسول کیا مرد اور عورتیں اکٹھے ہوں گے وہ ایک دوسرے کی طرف نہیں دیکھیں گے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : اس دن معاملہ اس کے برعکس ہوگا یعنی کوئی ایک دوسرے کی طرف نہیں دیکھ سکے۔ “
مسائل
1۔ اللہ کی توحید کا انکار اور حق سے انحراف کرنے والے کو بالآخر انہی کی حالت پر چھوڑ دینا چاہیے۔
2۔ جو لوگ اللہ کی توحید اور اس کے دین کا انکار کرتے ہیں قیامت کے دن وہ صور کی آواز پر دوڑتے ہوئے جمع ہوجائیں گے۔
3۔ اللہ کی توحید اور اس کے دین کا انکار کرنے والوں کی آنکھیں ذلت اور خوف کی وجہ سے جھکی ہوں گی۔
4۔ قیامت کا وعدہ سچا ہے جو ہر صورت پورا ہو کر رہے گا۔
تفسیر بالقرآن
قیامت کے دن لوگوں کا محشر میں اکٹھا ہونا :
1۔ یقیناً قیامت کے دن اللہ تمہیں جمع کرے گا جس میں کوئی شک نہیں۔ (الانعام : 12)
2۔ آپ فرما دیں تمہارے پہلے اور آخر والے کو ضرور اکٹھا کیا جائے گا۔ (الواقعہ : 47 تا 50)
3۔ پھر ہم تمہیں تمہاری موت کے بعد اٹھائیں گے۔ (البقرۃ : 56)
4۔ جس دن اللہ رسولوں کو جمع کرے گا۔ (المائدۃ : 109)
5۔ جس دن تم سب کو جمع ہونے والے دن اللہ جمع کرے گا۔ (التغابن : 9)
6۔ یہ فیصلہ کا دن ہے ہم نے تمہیں بھی جمع کردیا ہے اور پہلوں کو بھی۔ (المرسلات : 38)