69. Surah Al-Haaqqa

الحاقةThe Reality · 52 ayahsفہم القرآن

تعارف

تعارف

سورة الحاقہ کا تعارف یہ سورت اپنے نام ہی سے شروع ہوتی ہے مکہ میں نازل ہوئی دو رکوع اور باون آیات پر مشتمل ہے، یہ مکہ معظمہ کے ابتدائی دور میں نازل ہوئی۔ اس میں مجموعی طور پر دو مضمون بیان کیے گئے ہیں۔ پہلے رکوع میں قیامت کی ہولناکیوں کا ذکر کرنے سے بتلایا کہ قوم ثمود کو سخت آندھی سے ہلاک کیا گیا جو سات راتیں اور آٹھ دن چلتی رہی اس نے قوم ثمود کو اس طرح پھٹک پھٹک کر زمین پردے مارا کہ ان کا کچومبر نکل گیا یہ زمین پر اس طرح پڑے ہوئے تھے جیسے کھجور کے گنے گرے پڑے ہوئے ہوں۔ قوم ثمود کے بعد فرعون اور اس کے لشکر کی ہلاکت کا ذکر کیا ہے جنہیں آنے والے لوگوں کے لیے عبرت کا نشان بنا دیا گیا بشرطیکہ کوئی نصیحت کے طور پر سننے والا ہو یہ وہ لوگ تھے جو اللہ اور اس کے رسول اور قیامت پر یقین نہیں رکھتے تھے حالانکہ قیامت ہر صورت برپا ہونے والی ہے۔ اس دن پہاڑ ایک ہی دھماکے سے ریزہ ریزہ ہوجائیں گے اور آسمان پھٹ جائے گا اور آٹھ ملائکہ اپنے رب کا عرش اٹھائے ہوئے ہوں گے۔ جس شخص کو اس کے دائیں ہاتھ میں اس کا اعمال نامہ دیا گیا وہ آواز پر آواز دے گا کہ آؤ میرا اعمال نامہ پڑھو۔ میرا ایمان تھا کہ ایک دن مجھے میر احساب ملنے والا ہے وہ جنت عالی میں بڑی عیش کی زندگی بسر کرے گا اس کے لیے ہر قسم کے پھل ہوں گے اسے کہا جائے گا کھاؤ اور پیو کیونکہ تم دنیا میں اچھے کام کیا کرتے تھے۔ جس شخص کو اس کا اعمال نامہ اس کے بائیں ہاتھ میں دیا گیا وہ اپنے آپ پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہے گا کہ کاش ! مجھے یہ اعمال نامہ نہ دیا جاتا اور نہ ہی مجھے اپنے حساب کتاب سے واسطہ پڑتا۔ وہ اپنے گزرے ہوئے وقت پر افسوس کرتے ہوئے کہے گا کہ نہ میرے مال نے مجھے فائدہ دیا اور نہ میرا اقتدار میرے کام آیا۔ وہ اس افسوس میں مبتلا ہوگا کہ اسے پکڑ لیا جائے گا اور ستر فٹ لمبی زنجیر میں جکڑ کر جہنم میں پھینک دیا جائے کیونکہ یہ اپنے عظیم رب پر حقیقی ایمان نہیں رکھتا اور نہ ہی مسکینوں کا خیال کرتا تھا۔ آج اس کا کوئی خیر خواہ نہیں ہوگا اور اسے کھانے کے لیے جہنمیوں کے زخموں کی پیپ دی جائے گی جسے صرف مجرم ہی کھائیں گے۔ اس سورت کا دوسرا بنیادی مضمون یہ ہے کہ اس میں اللہ تعالیٰ نے قسم اٹھا کر کفار کے الزامات کی تردید کی ہے کہ یہ قرآن جبرائیل امین کے ذریعے نازل ہوا ہے نہ کسی شاعر کا کلام ہے اور نہ کسی کاہن کی گفتگو ہے۔ اسے صرف رب العالمین نے نازل کیا ہے یہ ادھر ادھر کی مداخلت سے اس حد تک پاک ہے کہ اگر حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنی طرف سے اس میں کوئی بات ڈالنے کی کوشش کرتے تو ان کا بھی دایاں ہاتھ کاٹ دیا جاتا اور کوئی انہیں بچانے والا نہ ہوتا۔ یہ نصیحت ہے پرہیزگاروں کے لیے جو لوگ اس نصیحت سے فائدہ حاصل نہیں کرتے وہ کافر ہیں اور کفار کے لیے ہلاکت اور افسوس کے سوا کچھ نہیں ہوگا۔

Ayahs 69:1–3

اَلْحَآقَّةُۙ Open ayah 69:1 in the Quran reader

ثابت ہونے والی

مَا الْحَآقَّةُۚ Open ayah 69:2 in the Quran reader

وہ ثابت ہونے والی کیا ہے ؟

وَ مَاۤ اَدْرٰىكَ مَا الْحَآقَّةُؕ Open ayah 69:3 in the Quran reader

اور آپ کیا جانیں کہ کیا ہے وہ ثابت ہونے والی ؟

فہم القرآن ربط سورت : سورة القلم کے آخر میں قیامت کے بارے میں ارشاد فرمایا ہے کہ اس دن منکرین کے لیے ذلّت اور رسوائی ہوگی۔ سورة الحاقہ کی ابتدا میں قوم ثمود، قوم عاد اور آل فرعون کی ذلّت کا ذکر کرنے کے بعد قیامت کی ہولناکیوں کا قدرے تفصیل کے ساتھ ذکر کیا گیا ہے۔ اس میں یہ بتلایا گیا ہے کہ جس طرح یہ لوگ دنیا میں ذلیل ہوئے اس سے بڑھ کر آخرت میں ذلیل ہوں گے۔ ” اَلْحَاقَّۃُ “ ہر صورت واقع ہونے والی ہے، واقع ہونے والی کیا ہے ؟ آپ نہیں جانتے کہ واقعہ ہونے والی کیا ہے ؟ ” اَلْحَاقَّۃُ “ کا لفظ حق سے نکلا ہے۔ اس سے مراد قیامت ہے جس کا معنٰی ہے کہ اس کا واقع ہونا ہر قسم کے شک و شبہ سے بالا ہے۔ اس لیے وہ یقین بالیقین اپنے وقت پر واقع ہوکر رہے گی مفسرین نے ” اَلْحَاقَّۃُ “ کا یہ بھی مفہوم لیا ہے کہ اس دن حساب و کتاب کا ہونا برحق ہے جس میں سچ اور جھوٹ، حق اور باطل نیک اور بد کی جزا و سزا کا فیصلہ ہونا شک وشبہ سے بالا تر ہے اس لیے اسے ” اَلْحَاقَّۃُ “ کہا گیا ہے کیونکہ اس کا واقع ہونا یقینی ہے۔ وہ کب واقع ہوگی ؟ اس کا علم عام لوگوں کو تو درکنار انبیاء اور نبی آخر الزّمان (علیہ السلام) کو بھی نہیں تھا کہ وہ کب اور کس سال واقع ہوگی۔ نبی ﷺ سے جب یہ سوال کیا گیا کہ قیامت کب قائم ہوگی تو آپ نے یہی فرمایا کہ میں نہیں جانتا کہ قیامت کب واقع ہوگی یعنی کون سے سال، کس مہینے اور اس کے کون سے جمعہ کو واقع ہوگی انسان کا کام اس کی تیاری کرنا ہے۔ اس لیے آپ ﷺ نے ایک سائل کے جواب میں اسے توجہ دلائی کہ قیامت کی تاریخ جاننے کی بجائے اس کے حساب و کتاب کی فکر کرو۔ ” حضرت عمر بن خطاب ؓ فرماتے ہیں کہ ایک دن ہم رسول محترم ﷺ کی خدمت میں حاضر تھے۔ ہمارے پاس ایک ایسا شخص آیا کہ جس کا لباس بالکل سفید اور بال نہایت ہی سیاہ تھے۔ اس پر سفر کے اثرات دکھائی نہیں دیتے تھے اور ہم میں سے کوئی بھی اسے پہچان نہ سکا وہ آتے ہی نبی کریم ﷺ کے گھٹنوں کے ساتھ گھٹنے ملاکر اور اپنے ہاتھوں کو اپنی رانوں پر رکھتے ہوئے آپ سے استفسار کرنے لگا۔ اے محمد ﷺ مجھے قیامت کے بارے میں بتلایا جائے۔ آپ نے فرمایا جس سے قیامت کے متعلق پوچھا جا رہا ہے وہ سوال کرنے والے سے زیادہ نہیں جانتا پھر اس نے کہا مجھے اس کی نشانیوں سے ہی آگاہ فرمائیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا جب لونڈی اپنے آقا کو جنم دے گی، تم دیکھو گے ننگے پاؤں ننگے جسم نہایت غریب بکریوں کے چرواہے بڑے بڑے محلات بنانے پر فخر کریں گے۔ حضرت عمر ؓ فرماتے ہیں جب وہ چلے گئے تو میں کچھ دیر آپ کے پاس ٹھہرا رہا آپ ﷺ نے مجھے سے پوچھا اے عمر ! آپ جانتے ہیں کہ یہ سوال کرنے والا کون تھا ؟ میں نے عرض کیا اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں۔ فرمایا یہ جبریل امین تھے جو تمہیں تمہارا دین سکھلانے کے لیے آئے تھے۔ (رواہ البخاری : باب سُؤَالِ جِبْرِیل النَّبِیَّ ﷺ عَنِ الإِیمَانِ وَالإِسْلاَمِ وَالإِحْسَانِ وَعِلْمِ السَّاعَۃِ ) (وَعَنْ اَنَسٍ ؓ اَنَّ رَجُلاً قَالَ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ مَتَی السَّاعَۃُ قَالَ وَیْلَکَ وَمَا اَعْدَدْتَ لَھَا قَالَ مَا اَعْدَدْتُّ لَھَا اِلَّا اَنِّیْ اُحِبُّ اللّٰہَ وَرَسُوْلَہٗ قَالَ اَنْتَ مَعَ مَنْ اَحْبَبْتَ قَالَ اَنَسٌ فَمَا رَاَیْتُ الْمُسْلِمِیْنَ فَرِحُوْا بِشَیءٍ بَعْدَ الْاِسْلَامِ فَرَحَھُمْ بِھَا .) (رواہ البخاری : باب مَنَاقِبُ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ أَبِی حَفْصٍ الْقُرَشِیِّ الْعَدَوِیِّ ، رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ ) ” حضرت انس ؓ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے اللہ کے رسول ﷺ سے دریافت کیا کہ قیامت کب آئے گی ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : تجھ پرا فسوس تو نے قیامت کے لیے کیا تیاری کی ہے ؟ اس نے جواب دیا : میں تو صرف اللہ اور اس کے رسول ﷺ سے محبت کرتا ہوں۔ آپ نے فرمایا : تو اسی کے ساتھ ہوگا، جس سے محبت کرے گا۔ حضرت انس ؓ فرماتے ہیں میں نے مسلمانوں کو دیکھا، وہ اسلام لانے کے بعد کسی بات پر اتنے خوش نہیں ہوئے جتنے اس بات پر خوش ہوئے تھے۔ “ ” حضرت ابوہریرۃ ؓ آپ ﷺ کا فرمان بیان کرتے ہیں کہ دنوں میں سب سے بہتر دن جمعہ کا دن ہے اس دن آدم (علیہ السلام) کو پیدا کیا گیا اسی دن ان کو جنت میں داخلہ ملا اور جمعہ کو ہی دن ان کا جنت سے اخراج ہوا۔ اور اسی دن قیامت برپا ہوگی۔ “ (رواہ مسلم : باب فَضْلِ یَوْمِ الْجُمُعَۃِ ) مسائل 1۔ قیامت اپنے وقت پر ہر صورت واقع ہوگی۔ 2۔ نبی ﷺ بھی نہیں جانتے تھے کہ قیامت کون سے سال اور اس کے کون سے مہینے میں اور کونسے جمعہ کو واقع ہوگی۔ تفسیر بالقرآن اللہ تعالیٰ کے سوا قیامت کے وقت کو کوئی نہیں جانتا : 1۔ اللہ کے پاس قیامت کا علم ہے اس میں شک نہیں کرنا چاہیے۔ (الزخرف : 68) (الاعراف : 187) (الزخرف : 85)
Ayahs 69:4–8

كَذَّبَتْ ثَمُوْدُ وَ عَادٌۢ بِالْقَارِعَةِ Open ayah 69:4 in the Quran reader

ثمود اور عاد نے اچانک ٹوٹ پڑنے والی آفت کو جھٹلایا

فَاَمَّا ثَمُوْدُ فَاُهْلِكُوْا بِالطَّاغِیَةِ Open ayah 69:5 in the Quran reader

ثمود ایک سخت حادثہ سے ہلاک کیے گئے

وَ اَمَّا عَادٌ فَاُهْلِكُوْا بِرِیْحٍ صَرْصَرٍ عَاتِیَةٍۙ Open ayah 69:6 in the Quran reader

اور عاد شدید آندھی سے تباہ کر دئیے گئے

سَخَّرَهَا عَلَیْهِمْ سَبْعَ لَیَالٍ وَّ ثَمٰنِیَةَ اَیَّامٍ١ۙ حُسُوْمًا١ۙ فَتَرَى الْقَوْمَ فِیْهَا صَرْعٰى١ۙ كَاَنَّهُمْ اَعْجَازُ نَخْلٍ خَاوِیَةٍۚ Open ayah 69:7 in the Quran reader

اللہ تعالیٰ نے ان پر آندھی کو مسلسل سات راتیں اور آٹھ دن مسلط کیے رکھا آپ وہاں ہوتے تو دیکھتے کہ وہاں وہ اس طرح مرے پڑے تھے جیسے وہ کھجور کے بوسیدہ تنے ہوں

فَهَلْ تَرٰى لَهُمْ مِّنْۢ بَاقِیَةٍ Open ayah 69:8 in the Quran reader

کیا آپ کو ان سے کوئی باقی نظر آتا ہے ؟

فہم القرآن ربط کلام : قیامت کو جھٹلانے والی اقوام میں سر فہرست قوم ثمود اور قوم عاد تھیں دونوں قوموں کا دنیا میں بدترین انجام ہوا۔ قرآن مجید نے قیامت کا تذکرہ کرتے ہوئے اس کے مختلف مراحل کے حوالے سے اس کا ذکر کیا ہے۔ قیامت کے مراحل میں ایک مرحلہ اتنا شدید ہوگا کہ ہر چیز آپس میں ٹکرا جائے گی یہاں تک کہ پہاڑ ریزہ ریزہ ہوجائیں گے۔ یہی بات صالح (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو اور حضرت ھود (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو بار بار بتلائی اور سمجھائی۔ مگر دونوں اقوام نے اپنے اپنے انبیاء (علیہ السلام) کی تکذیب کی اور قیامت کے برپا ہونے کو جھٹلایا جس کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ نے قوم ثمود اور قوم عاد کو نیست و نابود کردیا۔ قوم عاد کی خصوصیات اور جرائم : 1۔ اللہ تعالیٰ نے عاد کو قوم نوح کے بعد زمین پر اقتدار اور اختیار بخشا۔ (الاعراف : 69) 2۔ قوم عاد اس قدر کڑیل اور قوی ہیکل جوان تھے کہ ان جیسا دنیا میں کوئی اور پیدا نہیں کیا گیا۔ (الفجر 6 تا 8 ) حضرت ھود (علیہ السلام) پر قوم کے الزامات : 1۔ قوم نے حضرت ھود (علیہ السلام) کو بیوقوف قرار دیا۔ (الاعراف : 66) 2۔ ھود (علیہ السلام) ہماری طرح ہی طرح کھانے، پینے والا انسان ہے۔ (المؤمنون : 33) 3۔ انھوں نے کہا اے ھود تو اللہ پر جھوٹ باندھتا ہے۔ (المؤمنون : 38) 4۔ تیرے کہنے پر ہم اپنے معبودوں کو نہیں چھوڑ سکتے یہ محض پہلے لوگوں کی کہانیاں ہیں۔ (الشعراء : 137) 5۔ تم ہمیں سمجھاؤ یا نہ سمجھاؤ ہم نہیں مانیں گے۔ (شعراء : 136) 6۔ ہمارے معبودوں کی تجھے مار پڑے گئی ہے۔ (ھود : 54) 7۔ ہم پر کوئی عذاب آنے والا نہیں تو جھوٹ بولتا ہے۔ (الشعراء : 138 تا 139) 8۔ اگر تو اپنے دعوے میں سچا ہے تو ہم پر عذاب لے آ۔ (الاحقاف : 22) حضرت ھود (علیہ السلام) کی بددعا اور اللہ تعالیٰ کا عذاب : 1۔ میرے رب میری مدد فرما مجھے انھوں نے کلی طور پر جھٹلا دیا ہے۔ (المؤمنوں : 39) 2۔ سات راتیں اور آٹھ دن زبردست آندھی اور ہوا کے بگولے چلے۔ (الحاقہ : 7) قوم صالح کے جرائم : 1۔ قوم صالح اللہ کے ساتھ شرک کیا کرتی تھی۔ (ھود : 62۔ 61) 2۔ ثمود انبیاء کو جھوٹا قرار دیتے تھے۔ (الشعراء : 141) 3۔ وہ لوگ بہت زیادہ اسراف، تکبر اور زمین میں فساد کرنے والے تھے۔ (الشعراء : 152، 151) 4۔ قوم ثمود ہدایت کی بجائے گمراہی کو پسند کرتی تھی۔ (حٰم السجدۃ : 17) 5۔ انہوں نے اللہ کی نشانی کو جھٹلایا۔ (ھود : 66) قوم کی ہٹ دھرمی اور عذاب کا مطالبہ : 1۔ انھوں نے قسمیں اٹھائیں کہ حضرت صالح کو اہل و عیال سمیت ختم کردیں گے۔ (النمل : 49) 2۔ اے صالح ! ہم تمہارے عقیدے کا انکار کرتے رہیں گے۔ (الاعراف : 76) 3۔ قوم نے اونٹنی کی کونچیں کاٹ ڈالیں۔ (القمر : 29) 4۔ اے صالح ! تو جس چیز سے ہمیں ڈراتا ہے وہ لے آ۔ (الاعراف : 77) عذاب کا وقت اور اس کی تباہ کاری : 1۔ قوم ثمود کو تین دن کی مہلت دی گئی۔ (ھود : 45) 2۔ قوم ثمود کو صبح کے وقت ہولناک دھماکے نے آلیا اور ان کی کمائی ان کے کچھ کام نہ آئی۔ (الحجر 83۔ 84) 3۔ ہم نے ان پر ہولناک چیخ نازل کی وہ ایسے ہوگئے جیسے بوسیدہ اور سوکھی ہوئی باڑ ہوتی ہے۔ (القمر : 31)
Ayahs 69:9–10

وَ جَآءَ فِرْعَوْنُ وَ مَنْ قَبْلَهٗ وَ الْمُؤْتَفِكٰتُ بِالْخَاطِئَةِۚ Open ayah 69:9 in the Quran reader

اور اسی عظیم گناہ کا ارتکاب فرعون اور اس سے پہلے کے لوگوں اور الٹ جانے والی بستیوں نے کیا

فَعَصَوْا رَسُوْلَ رَبِّهِمْ فَاَخَذَهُمْ اَخْذَةً رَّابِیَةً Open ayah 69:10 in the Quran reader

انہوں نے اپنے رب کے رسول کی نافرمانی کی۔ اس نے ان کو بڑی سختی کے ساتھ پکڑا

فہم القرآن ربط کلام : قوم عاد اور قوم ثمود کے انجام کے بعد فرعون اور اس کے ساتھیوں کا بدترین انجام۔ قوم عاد اور قوم ثمود کے بعد کئی اقوام ایسی گزریں ہیں جنہوں نے اپنے رسولوں کی تکذیب کی اور قیامت کے دن کو جھٹلا یا اس جرم کی پاداش میں انہیں تہہ وبالا کردیا گیا۔ اللہ تعالیٰ نے اس طرح ان کی پکڑ کی کہ کوئی بھی انہیں بچانے اور چھڑانے والا نہ تھا۔ ان کے بعد فرعون نے سرکشی اور بغاوت کی انتہا کی۔ اللہ تعالیٰ نے اسے اور اس کے ساتھیوں کو دریا میں ڈبکیاں دے دے کر ہلاک کیا فرعون بھی اپنے سے پہلے ہلاک ہونے والوں کی طرح دہائی دیتا رہا مگر اسے آنے والی نسلوں کے لیے عبرت کا نشان بنادیا گیا۔ فرعون نے دعویٰ کیا کہ مجھ سے بڑھ کر کوئی رب نہیں ہے میں ہی سب دیوتاؤں سے بڑا دیوتا اور سب سے بڑا رب ہوں۔ اللہ تعالیٰ نے اس کی جھوٹی خدائی کے پرخچے اڑانے اور اس کی کذب بیانی کا پول کھولنے کے لیے اس کے گھر میں پرورش پانے والے موسیٰ (علیہ السلام) کو رسول منتخب فرمایا۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا پہلا خطاب : موسیٰ (علیہ السلام) نے فرعون کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا مجھے رب العالمین کی طرف سے رسول بنایا گیا ہے اور میں وہی بات کہوں گا جس کے کہنے کا اللہ تعالیٰ نے مجھے حکم دیا ہے۔ میں تمہارے پاس اپنے رب کی ربوبیت اور وحدت کے ٹھوس اور واضح دلائل لایا ہوں۔ اس لیے تجھے اپنی خدائی چھوڑ کر صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کو اپنا رب ماننا چاہیے اس کے ساتھ میرا یہ مطالبہ ہے کہ بنی اسرائیل کو آزاد کردیا جائے۔ فرعون نے موسیٰ (علیہ السلام) کی دعوت کا جواب دیتے ہوئے کہا اگر تو اپنے دعویٰ میں سچا ہے تو کوئی معجزہ پیش کرو۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے فی الفور اپنا عصا زمین پر پھینکا جو بہت بڑا اژدھا بن کر لہرانے لگا۔ جس کے بارے میں مفسرین نے لکھا ہے کہ وہ اتنا بڑا اژدہا بن کر سامنے آیا کہ یوں لگتا تھا جیسے وہ اپنے جبڑوں میں سب کو نگل لے گا۔ یہ دیکھتے ہی فرعون اور اس کے درباری اپنی جان بچانے کے لیے دوڑتے ہوئے موسیٰ (علیہ السلام) سے فریادیں کرنے لگے کہ ہمیں اس اژدھا سے بچائیں، تب موسیٰ (علیہ السلام) نے اس کو پکڑ لیا جو پہلے کی طرح عصا بن گیا۔ اس کے بعد موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی بغل میں ہاتھ دبا کر باہر نکالا تو ان کے ہاتھ کے سامنے تمام روشنیاں ماند پڑگئیں۔ ہاتھ دیکھنے والے حیران اور ششد ررہ گئے کہ یہ تو سورج اور چاند سے زیادہ روشن ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ فرمایا کرتے تھے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے ہاتھ کے سامنے سورج کی روشنی ماند پڑتی دکھائی دیتی تھی۔ (روح المعانی و جامع البیان) فرعون اور اس کے ساتھیوں نے موسیٰ (علیہ السلام) کو جادو گر قرار دیا اور ان کے مقابلے میں ملک بھر کے جادوگر لا کھڑے کیے جادوگر نہ صرف موسیٰ (علیہ السلام) کے مقابلے میں شکست کھا گئے بلکہ وہ حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون (علیہ السلام) کے رب پر ایمان لے آئے جو زمین و آسمانوں اور پوری کائنات کا رب ہے۔ اس کے باوجود فرعون اور اس کے ساتھی ایمان نہ لائے۔ اللہ تعالیٰ نے فرعون اور اس کے لشکروں کو سمندر میں ڈبکیاں دے دے کر مارا جس کا خلاصہ یوں بیان کیا گیا ہے کہ اے اہل مکہ ہم نے تم سے پہلے قوم فرعون کو آزمایا اور ان کے پاس معزز رسول پیغام لے کر آیا اور اس نے کہا کہ میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے ذمہ دار اور امانت دار رسول بنا کر بھیجا گیا ہوں۔ لہٰذا اللہ کے بندوں کو میرے حوالے کردے یعنی انہیں آزاد کردیا جائے اللہ تعالیٰ کے ساتھ سرکشی نہ کرو میں تمہارے سامنے واضح دلائل پیش کر رہا ہوں۔ فرعون نے موسیٰ (علیہ السلام) کو سنگسار کرنے کی دہمکی دی تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا کہ مجھے اللہ تعالیٰ نے بچانے کی ضمانت دی ہے اگر تم میری بات نہیں مانتے تو میرا راستہ چھوڑ دو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کے درمیان ایک مدت تک کشمکش جاری رہی بالآخر موسیٰ (علیہ السلام) نے ان کے لیے بددعا کی جس کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اے موسیٰ میرے بندوں کو لے کر راتوں رات نکل جاؤ۔ ہاں یہ بات یاد رکھنا کہ فرعون اور اس کا لشکر تمہارا پیچھا کریں گے۔ لیکن سمندر کے پانی کو کھڑا چھوڑ کر پار ہوجانا کیونکہ ہم انہیں غرق کردیں گے۔ (الدخان : 17۔ 24) اس کے بعد فرعون اور اس کے ساتھی غرق کر دئیے گئے۔ مسائل 1۔ فرعون اور کئی اقوام نے اپنے رسولوں اور قیامت کی تکذیب کی جس کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ نے ان کی شدید گرفت کی اور انہیں ہلاک کردیا۔ تفسیر بالقرآن فرعون کے انجام کا ایک منظر : 1۔ فرعون اور اس کے لاؤلشکر کو اللہ تعالیٰ نے قحط سالی میں مبتلا کیا۔ (الاعراف : 130) 2۔ اللہ تعالیٰ نے فرعون اور اس کے لاؤلشکر کو غر ق کردیا۔ ( البقرۃ : 50) ( الانفال : 54) (الدخان : 29) (القصص : 79) (المومن : 45) (المومن : 46) (آل عمران : 11)
Ayahs 69:11–12

اِنَّا لَمَّا طَغَا الْمَآءُ حَمَلْنٰكُمْ فِی الْجَارِیَةِۙ Open ayah 69:11 in the Quran reader

جب پانی کا طوفان حد سے گزر گیا تو ہم نے تمہیں کشتی میں سوار کیا

لِنَجْعَلَهَا لَكُمْ تَذْكِرَةً وَّ تَعِیَهَاۤ اُذُنٌ وَّاعِیَةٌ Open ayah 69:12 in the Quran reader

تاکہ تمہارے لیے اس واقعہ کو ایک سبق آموز واقعہ بنا دیں اور یاد رکھنے والے کان اس کو یاد رکھیں

فہم القرآن ربط کلام : قوم ثمود، عاد اور فرعون سے پہلے ہلاک ہونے والی بستیوں اوراقوام میں سرفہرست نوح (علیہ السلام) کی قوم ہے جسے اللہ تعالیٰ نے شدید طوفان کے ذریعے ہلاک کیا جس کا یہاں مختصر ذکر کیا گیا ہے۔ قرآن مجید نے حضرت نوح (علیہ السلام) کی قوم کے جرائم میں جس جرم کا تفصیل کے ساتھ ذکر کیا ہے وہ شرک ہے جس کی ابتدا اس قوم سے ہوئی تھی۔ اللہ تعالیٰ نے شرک کی وجہ سے اس قوم کو سیلاب کے ذریعے ہلاک کیا۔ حضرت نوح (علیہ السلام) اور ان کے ساتھیوں کو ایک کشتی کے ذریعے سیلاب سے محفوظ فرما لیا۔ جس کا تذکرہ ان الفاظ میں کیا جارہا ہے کہ جب پانی کا طوفان حد سے بڑھا تو ہم نے تمہیں کشتی میں سوار کیا تاکہ ہم اسے تمہارے لیے عبرت کا نشان بنائیں اور یاد رکھنے والے کان اسے ہمیشہ یاد رکھیں۔ سب کو معلوم ہے کہ جس واقعہ کی طرف اشارہ کیا جارہا ہے کہ یہ قوم نوح کا واقعہ ہے لیکن اسے بیان کرتے ہوئے۔ ” حَمَلْنٰٰکُمْ فِی الْجَارِیَۃِ “ کے الفاظ استعمال کیے گئے ہیں کہ ہم نے تمہیں چلنے والی کشتی پر سوار کیا۔ مخاطب کی ضمیر لاکر اہل مکہ اور دنیا والوں کو توجہ دلائی گئی ہے کہ فی الحقیقت تم نیک لوگوں کی اولاد ہو۔ جو حضرت نوح (علیہ السلام) کے ساتھی تھے جن کے ایمان اور صالح اعمال کی وجہ سے انہیں کشتی کے ذریعے بچا لیا گیا یہ ایسا واقعہ ہے کہ جسے غور کے ساتھ سنا جائے اور اس پر توجہ دی جائے تو انسان اپنے رب کے ساتھ شرک اور اس کی نافرمانی سے بچ سکتا ہے۔ اے قرآن سننے والو ! تمہیں اس واقعہ کو نصیحت حاصل کرنے کے لیے سننا چاہیے اگر تم نصیحت حاصل نہیں کرو گے تو تمہیں بھی قوم نوح کی طرح تباہ کردیا جائے گا۔ اللہ تعالیٰ نے قوم نوح پر پانی کا ایسا عذاب نازل کیا کہ جس کے بارے میں سورة القمر آیت 11، 12 اور سورة المؤمنون، آیت 27 میں بیان ہوا ہے کہ آسمان کے دروازے کھل گئے، زمین سے چشمے پھوٹ نکلے یہاں تک کہ تنور پھٹ پڑا۔ اس طرح نوح (علیہ السلام) کے نافرمان بیٹے سمیت ان کی قوم کو پانی میں ڈبکیاں دے دے کر ختم کردیا گیا۔ حضرت نوح (علیہ السلام) کی قوم کا سب سے بڑا جرم شرک تھا : حضرت عبداللہ بن عباس ؓ نے فرمایا کہ جب نوح (علیہ السلام) کی قوم کے نیک لوگ فوت ہوگئے تو شیطان نے ان کی اولاد کے دل میں یہ خیال ڈالا کہ جہاں تمہارے بزرگ بیٹھا کرتے تھے وہاں ان کے مجسمے تراش کر رکھ دیے جائیں تاکہ ان کا نام اور عقیدت باقی رہے۔ انھوں نے ایسا کیا جب یہ کام کرنے والے لوگ فوت ہوگئے تو ان کے بعد آنے والے لوگوں نے ان مجسموں کو اللہ تعالیٰ کی قربت کا وسیلہ بناناشروع کردیا اور پھر ان کی بالواسطہ عبادت کرنے کے ساتھ ان کے حضور نذرانے پیش کیے جانے لگے۔ عبداللہ بن عباس ؓ یہ بھی فرمایا کرتے تھے کہ سورة نوح میں ودّ ، سواع، یغوث اور یعوق کے نام پر جن بتوں کا تذکرہ پایا جاتا ہے وہ نوح (علیہ السلام) کی قوم کے صالح لوگوں کے نام ہیں۔ (رواہ البخاری : کتاب التفسیر 4920) مسائل 1۔ اللہ تعالیٰ نے قوم نوح کے نافرمانوں کو سیلاب کے ذریعے تباہ کیا اور نوح (علیہ السلام) اور ان کے ساتھیوں کو کشتی کے ذریعے بچا لیا۔ 2۔ نصیحت حاصل کرنے والوں کے لیے نوح (علیہ السلام) اور ان کے ساتھیوں کا واقعہ بڑی عبرت کی حیثیت رکھتا ہے۔ تفسیر بالقرآن قوم نوح (علیہ السلام) کے جرائم اور ان کی تباہی کا ایک منظر : 1۔ نوح (علیہ السلام) کی قوم ظالم تھی۔ (النجم : 52) 2۔ قوم نوح کی ہلاکت کا سبب بتوں کی پرستش تھی۔ (نوح : 23) 3۔ قوم نوح طوفان کے ذریعے ہلاک ہوئی۔ (الاعراف : 136) 4۔ قوم نوح کو تباہ کرنے کے لیے آسمان سے موسلاد ھار بارش کے دھانے کھول دئیے گئے۔ ( القمر : 11) 5۔ قوم نوح پر عذاب کے وقت تندور نے ابلنا شروع کردیا۔ ( ہود : 40) 6۔ قوم نوح پر عذاب کی صورت میں آسمان سے پانی برسا اور زمین سے جگہ جگہ چشمے ابل پڑے۔ (ہود : 44) 7۔ اللہ نے نوح (علیہ السلام) کی تکذیب کرنے والوں کو تباہ و برباد کردیا۔ (الشعراء : 120) 8۔ حضرت نوح (علیہ السلام) نے اپنے بیٹے کو فرمایا آج کے دن اللہ کے عذاب سے کوئی بچانے والا نہیں۔ (ہود : 43) 9۔ قوم نوح نے جب رسولوں کی تکذیب کی تو ہم نے انھیں غرق کردیا اور لوگوں کے لیے باعث عبرت بنا دیا۔ (الفرقان : 37) 10۔ ہم نے نوح (علیہ السلام) اور اس کے ساتھیوں کو نجات دی اور تکذیب کرنے والوں کو غرق کردیا۔ (الاعراف : 64)
Ayahs 69:13–16

فَاِذَا نُفِخَ فِی الصُّوْرِ نَفْخَةٌ وَّاحِدَةٌۙ Open ayah 69:13 in the Quran reader

پھر جب ایک دفعہ صور میں پھونک ماری جائے گی

وَّ حُمِلَتِ الْاَرْضُ وَ الْجِبَالُ فَدُكَّتَا دَكَّةً وَّاحِدَةًۙ Open ayah 69:14 in the Quran reader

اور زمین اور پہاڑوں کو اٹھا کر ایک ہی دھماکے سے ریزہ ریزہ کردیا جائے گا

فَیَوْمَئِذٍ وَّقَعَتِ الْوَاقِعَةُۙ Open ayah 69:15 in the Quran reader

اس دن ہونے والا واقعہ ضرور پیش آجائے گا

وَ انْشَقَّتِ السَّمَآءُ فَهِیَ یَوْمَئِذٍ وَّاهِیَةٌۙ Open ayah 69:16 in the Quran reader

آسمان پھٹ جائے گا اور اس کی بندش ڈھیلی پڑجائے گی

فہم القرآن ربط کلام : قوم ثمود، قوم عاد اور آل فرعون کی ذلّت اور انجام ذکر کرنے کے بعد ارشاد فرمایا کہ جو لوگ قرآن مجید کے بیان کردہ واقعات اور نصائح توجہ کے ساتھ سنتے ہیں انہیں اس دن سے پہلے نصیحت حاصل کرنی چاہیے جس دن ایک ہی دفعہ صور پھونکنے سے ہر چیز الٹ پلٹ ہوجائے گی اور اس دن مجرموں کو زنجیروں کے ساتھ جکڑ دیا جائے گا۔ اس سورت کی ابتدا اس فرمان سے ہوئی ہے کہ قیامت ہر صورت واقع ہو کر رہے گی اور اس کے لیے ” اَلْحَاقَّۃُ “ کا لفظ استعمال کیا ہے جس کا ایک معنٰی یہ بھی ہے کہ ایک دوسرے کو ٹکرا کر ریزہ ریزہ کردینے والی۔ اب اسی کی تھوڑی سی تفصیل بیان کی جاری ہے۔ اسرافیل کے صورپھونکنے کی وجہ سے قیامت واقع ہوگی۔ جب اسرافیل پہلی مرتبہ صورپھونکے گا تو زمین میں اس قدر زلزلے واقع ہوں گے کہ پہاڑ آپس میں ٹکرا کر ریزہ ریزہ ہوجائیں گے۔ یہاں قیامت کو ” اَلْحَاقَّۃُ “ کہا گیا ہے اور یہ ہر صورت واقع ہو کررہے گی۔ آسمان کے بندھن ٹوٹ جائیں گے اور وہ ٹکڑے ٹکڑے ہو کر نیچے گرپڑے گا۔ دوسرے مقام پر قیامت کے پہلے مرحلے کے بارے میں یوں بیان کیا ہے۔ ” آپ ﷺ سے قیامت کے بارے میں پوچھتے ہیں کہ یہ کب واقع ہوگی ؟ فرمادیں اس کا علم میرے رب کے پاس ہے اسے اس کے وقت پر ” اللہ “ کے سوا کوئی ظاہر نہیں کرے گا قیامت آسمانوں اور زمین پر بھاری واقع ہوگی اور تم پر اچانک ہی آئے گی۔ “ (الاعراف : 187) ” لوگو ! اپنے رب سے ڈرو حقیقت یہ ہے کہ قیامت کا زلزلہ بڑا ہولناک ہے۔ اس دن تم دیکھو گے کہ ہر دودھ پلانے والی اپنے دودھ پیتے بچے کو پھینک دے گی ہر حاملہ کا حمل گرجائے گا اور دیکھنے والے دیکھیں کہ لوگ مدہوش نظر آئیں گے حالانکہ وہ نشے میں نہیں ہوں گے بلکہ اس دن اللہ کا عذاب بہت سخت ہوگا۔ “ (الحج : 1، 2) (عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ؓ أَنَّ رَسُول اللَّہِ ﷺ قَالَ لاَ تَقُوم السَّاعَۃُ حَتَّی تَطْلُعَ الشَّمْسُ مِنْ مَغْرِبِہَا فَإِذَا طَلَعَتْ فَرَآہَا النَّاسُ آمَنُوا أَجْمَعُونَ ، فَذَلِکَ حینَ لاَ یَنْفَعُ نَفْسًا إِیمَانُہَا، لَمْ تَکُنْ آمَنَتْ مِنْ قَبْلُ ، أَوْ کَسَبَتْ فِی إِیمَانِہَا خَیْرًا، وَلَتَقُومَنَّ السَّاعَۃُ وَقَدْ نَشَرَ الرَّجُلاَنِ ثَوْبَہُمَا بَیْنَہُمَا فَلاَ یَتَبَایَعَانِہِ وَلاَ یَطْوِیَانِہِ ، وَلَتَقُومَنَّ السَّاعَۃُ وَقَدِ انْصَرَفَ الرَّجُلُ بِلَبَنِ لِقْحَتِہِ فَلاَ یَطْعَمُہُ ، وَلَتَقُومَنَّ السَّاعَۃُ وَہْوَ یَلِیطُ حَوْضَہُ فَلاَ یَسْقِی فیہِ ، وَلَتَقُومَنَّ السَّاعَۃُ وَقَدْ رَفَعَ أُکْلَتَہُ إِلَی فیہِ فَلاَ یَطْعَمُہَا) (رواہ البخاری : باب قَوْلِ النَّبِیِّ ﷺ بُعِثْتُ أَنَا وَالسَّاعَۃَ کَہَاتَیْنِ ) ” حضرت ابوہریرہ ؓ رسول اللہ ﷺ سے بیان کرتے ہیں آپ نے فرمایا قیامت نہیں قائم ہوگی یہاں تک کہ سورج مغرب سے طلوع ہوجائے۔ جب سورج مغرب سے طلوع ہوگا تو اسے دیکھ کر سب کے سب لوگ ایمان لے آئیں گے لیکن اس وقت ان کے ایمان لانے کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا جو اس سے قبل نہ ایمان لایا اور نہ اس نے نیک اعمال کیے۔ دو آدمیوں نے کپڑا پھیلایا ہوگا دکاندار کپڑے کو بیچ اور سمیٹ نہیں پائے گا کہ قیامت قائم ہوجائے گی، دودھ دوہنے والادودھ پی نہیں سکے گا کہ قیامت قائم ہوجائے گی، حوض پر پہنچنے والا پانی نہیں پی سکے گا کہ قیامت قائم ہوجائے گی، انسان اپنے منہ میں ڈالا ہوا لقمہ کھا نہیں پائے گا کہ قیامت قائم ہوجائے گی۔ “ مسائل 1۔ اسرافیل جب پہلا صورپھونکے گا تو زمین میں زلزلے ہوں گے اور پہاڑ ریزہ ریزہ ہوجائیں گے۔ 2۔ آسمان کے بندھن ڈھیلے ہوجائیں گے اور وہ ٹکڑے ٹکڑے ہو کر گرپڑے گا۔ 3۔ قیامت ہر صورت واقع ہوگی اور پہاڑریزہ ریزہ ہوجائیں گے اور آسمان پھٹ جائیں گے۔ تفسیر بالقرآن اسرافیل کے پہلے صور کے بعد ہونے والے واقعات کی ایک جھلک : 1۔ پہلے نفخہ سے لوگ بےہوش ہوجائیں گے، اور دوسرے نفخہ سے تمام لوگ اٹھ کھڑے ہوں گے۔ (الزّمر : 68) 2۔ ایک چیخ سے ہی تمام لوگ ہمارے سامنے حاضر ہوجائیں گے۔ (یٰس : 53) 3۔ جس دن صور پھونکا جائے گا تم گروہ در گروہ چلے آؤ گے۔ (النبا : 18) 4۔ جس دن صور پھونکا جائے گا اور ہم مجرموں کو نیلی پیلی آنکھوں کے ساتھ گھیر لائیں گے۔ (طہٰ : 102) (النّمل : 87)
Ayahs 69:17–24

وَّ الْمَلَكُ عَلٰۤى اَرْجَآئِهَا١ؕ وَ یَحْمِلُ عَرْشَ رَبِّكَ فَوْقَهُمْ یَوْمَئِذٍ ثَمٰنِیَةٌؕ Open ayah 69:17 in the Quran reader

فرشتے عرش کے اردگرد ہوں گے اور آٹھ فرشتے اس دن آپ کے رب کا عرش اپنے اوپر اٹھائے ہوئے ہوں گے

یَوْمَئِذٍ تُعْرَضُوْنَ لَا تَخْفٰى مِنْكُمْ خَافِیَةٌ Open ayah 69:18 in the Quran reader

اس دن تم لوگ پیش کیے جاؤ گے تمہارا کوئی راز بھی چھپا نہیں رہے گا

فَاَمَّا مَنْ اُوْتِیَ كِتٰبَهٗ بِیَمِیْنِهٖ١ۙ فَیَقُوْلُ هَآؤُمُ اقْرَءُوْا كِتٰبِیَهْۚ Open ayah 69:19 in the Quran reader

اس وقت جس کا اعمال نامہ اس کے دائیں ہاتھ میں دیا جائے گا وہ کہے گا پڑھو اپنا اعمال نامہ

اِنِّیْ ظَنَنْتُ اَنِّیْ مُلٰقٍ حِسَابِیَهْۚ Open ayah 69:20 in the Quran reader

میں سمجھتا تھا کہ میں ضرور اپنا حساب پانے والا ہوں

فَهُوَ فِیْ عِیْشَةٍ رَّاضِیَةٍۙ Open ayah 69:21 in the Quran reader

پس وہ دل پسند عیش میں ہوگا

فِیْ جَنَّةٍ عَالِیَةٍۙ Open ayah 69:22 in the Quran reader

عالی مقام جنت میں

قُطُوْفُهَا دَانِیَةٌ Open ayah 69:23 in the Quran reader

جس کے پھلوں کے گچھے جھکے ہوئے ہوں گے

كُلُوْا وَ اشْرَبُوْا هَنِیْٓئًۢا بِمَاۤ اَسْلَفْتُمْ فِی الْاَیَّامِ الْخَالِیَةِ Open ayah 69:24 in the Quran reader

مزے سے کھاؤ اور پیو اپنے ان اعمال کے بدلے جو تم نے گزرے ہوئے دنوں میں کیے ہیں

فہم القرآن ربط کلام : قیامت کے دن آسمان پھٹ جائے گا اور رب ذوالجلال کے عرش کو آٹھ ملائکہ اٹھائے ہوئے ہوں گے۔ اسرافیل کے پہلی مرتبہ صور پھونکنے کے بعد زمین و آسمانوں کی موجودہ حالت ختم ہوجائے گی۔ اللہ تعالیٰ زمین و آسمانوں کو نئی صورت میں بنائیں گے جن کے بارے میں ارشاد فرمایا : ” اس دن اس زمین کو دوسری زمین کے ساتھ بدل دیا جائے گا اور آسمان بھی بدل دیا جائے گا اور لوگ اللہ کے سامنے پیش ہوں گے، جو اکیلا اور بڑا زبر دست ہے۔ “ (ابراہیم : 48) اللہ تعالیٰ کے عرش کو اس دن آٹھ فرشتے اٹھائے ہوئے ہوں گے۔ اس حالت میں رب ذوالجلال زمین پر جلوہ افروز ہوں گے جس طرح اس کی ذات کے لائق ہے۔ ہمیں یہ بات سوچنے سے اللہ کی پناہ مانگنی چاہیے کہ اللہ کا عرش کتنا بڑا ہوگا، ذات کبریاء کس طرح اس پر جلوہ افروز ہوگی، ملائکہ عرش کو کس طرح اٹھائیں گے اور اللہ تعالیٰ کس طرح نزول فرمائے گا۔ یہ انسان کے سوچنے کی باتیں نہیں ہمارا کام اپنے رب کے فرمان پر یقین کرنا اور قیامت کے دن کی تیاری کرنا ہے۔ اس بارے میں جس شخص کی سوچ آگے بڑھنے کی کوشش کرے اسے ” اعوذ باللہ “ اور ” لاحول ولاقوۃ الاباللہ “ پڑھنا چاہیے۔ رب ذوالجلال کے نزول سے پہلے سب لوگ محشر کے میدان میں جمع ہوچکے ہوں گے اور تمام ملائکہ جن میں جبرائیل امین بھی شامل ہوں گے صف بستہ حاضر ہوں اجازت کے بغیر کوئی بات نہیں کرسکے گا۔ ( النبا : 38) اس موقع پر کچھ اور امور بھی طے کیے جائیں گے جن کا تذکرہ قرآن مجید میں تفصیل کے ساتھ موجود ہے۔ بالآخر وہ مرحلہ آجائے گا جب لوگوں کو ان کے اعمال نامے ان کے ہاتھوں میں تھمادیئے جائیں گے اس وقت کوئی شخص کوئی بات چھپا نہیں سکے گا۔ جس کو اس کا اعمال نامہ اس کے دائیں ہاتھ میں دیا جائے گا اعمال نامہ ملنے کے ساتھ ہی اس کا چہرہ چمک اٹھے گا وہ ہشاش بشاش اور مسکراتے چہرے کے ساتھ اپنے دائیں بائیں والوں کو کہے گا کہ یہ میرا اعمال نامہ ہے۔ آؤ ! اسے پڑھو ! مجھے پہلے سے یقین تھا کہ میرا حساب مجھے ملنے والا ہے اس کے ساتھ ہی اسے معلوم ہوجائے گا کہ مجھے جنت میں داخلہ ملنے والا ہے چناچہ اسے عالی مقام جنت میں داخلہ دیا جائے گا جس کے پھلوں کے گچھے جھکے ہوئے ہوں گے۔ گویا کہ وہ زبان حال سے جنتیوں کو اپنی طرف بلا رہے ہوں گے، اعلان کرنے والا اعلان کرے گا کہ یہ تمہارے گزرے ہوئے ایام میں تمہارے صالح اعمال کا صلہ ہے اب تم جنت میں ہمیشہ ہمیش عیش کے ساتھ رہو اور مزے سے کھاتے پیتے رہو۔ مسائل 1۔ قیامت کے دن کوئی شخص کوئی بات بھی اپنے رب سے چھپا نہیں سکے گا۔ 2۔ جس شخص کو اس کا اعمال نامہ دائیں ہاتھ میں دیا گیا وہ اپنے دائیں بائیں والوں سے کہے گا کہ آؤ میرا اعمال نامہ پڑھو ! 3۔ جسے اس کا اعمال نامہ دائیں ہاتھ میں دے دیا گیا وہ عالی شان جنت میں بڑی عیش کے ساتھ رہے گا۔ 4۔ جنت کے پھل جھکے ہوئے ہوں گے جنتی انہیں مزے لے لے کر کھائیں گے۔ تفسیر بالقرآن جنت کے پھلوں کی ایک جھلک : 1۔ ہم نے اس میں کھجوروں، انگوروں کے باغ بنائے ہیں اور ان میں چشمے جاری کیے ہیں۔ (یٰس : 34) 2۔ یقیناً متقین باغات اور چشموں میں ہوں گے۔ (الذاریات : 15) 3۔ یقیناً متقی نعمتوں والی جنت میں ہوں گے۔ (الطور : 17) 4۔ جنتیوں کو شراب طہور دی جائے گی۔ (الدھر : 21) 5۔ جنت میں تمام پھل دو ، دو قسم کے ہوں گے۔ (الرحمن : 52)
Ayahs 69:25–37

وَ اَمَّا مَنْ اُوْتِیَ كِتٰبَهٗ بِشِمَالِهٖ١ۙ۬ فَیَقُوْلُ یٰلَیْتَنِیْ لَمْ اُوْتَ كِتٰبِیَهْۚ Open ayah 69:25 in the Quran reader

اور جس کا اعمال نامہ اس کے بائیں ہاتھ میں دیا جائے گا، وہ کہے گا کاش میرا اعمال نامہ مجھے نہ دیا جاتا

وَ لَمْ اَدْرِ مَا حِسَابِیَهْۚ Open ayah 69:26 in the Quran reader

اور میں نہ جانتا کہ میرا حساب کیا ہے

یٰلَیْتَهَا كَانَتِ الْقَاضِیَةَۚ Open ayah 69:27 in the Quran reader

کاش میری دنیا کی موت ہی فیصلہ کن ہوتی

مَاۤ اَغْنٰى عَنِّیْ مَالِیَهْۚ Open ayah 69:28 in the Quran reader

آج میرا مال میرے کچھ کام نہ آیا

هَلَكَ عَنِّیْ سُلْطٰنِیَهْۚ Open ayah 69:29 in the Quran reader

میرا اقتدارختم ہوگیا

خُذُوْهُ فَغُلُّوْهُۙ Open ayah 69:30 in the Quran reader

حکم ہوگا پکڑو اسے اور اس کی گردن میں طوق ڈال دو

ثُمَّ الْجَحِیْمَ صَلُّوْهُۙ Open ayah 69:31 in the Quran reader

پھر اسے دھکتی ہوئی 3 میں جھونک دو

ثُمَّ فِیْ سِلْسِلَةٍ ذَرْعُهَا سَبْعُوْنَ ذِرَاعًا فَاسْلُكُوْهُؕ Open ayah 69:32 in the Quran reader

اس کو ستر ہاتھ لمبی زنجیر میں جکڑ دو

اِنَّهٗ كَانَ لَا یُؤْمِنُ بِاللّٰهِ الْعَظِیْمِۙ Open ayah 69:33 in the Quran reader

یہ نہ عظیم اللہ پر ایمان لایا تھا

وَ لَا یَحُضُّ عَلٰى طَعَامِ الْمِسْكِیْنِؕ Open ayah 69:34 in the Quran reader

اور نہ مسکین کو کھانا کھلانے کی ترغیب دیتا تھا

فَلَیْسَ لَهُ الْیَوْمَ هٰهُنَا حَمِیْمٌۙ Open ayah 69:35 in the Quran reader

لہٰذا آج یہاں اس کا کوئی غم خوار نہیں ہے

وَّ لَا طَعَامٌ اِلَّا مِنْ غِسْلِیْنٍۙ Open ayah 69:36 in the Quran reader

اور نہ زخموں کی پیپ کے سوا اس کے لیے کوئی کھانا

لَّا یَاْكُلُهٗۤ اِلَّا الْخَاطِئُوْنَ۠ Open ayah 69:37 in the Quran reader

جسے خطا کاروں کے سوا کوئی نہیں کھاتا

فہم القرآن ربط کلام : جنتی کے مقابلے میں جہنمی کا حال اور ان کی بدنصیبی۔ رب ذوالجلال کے حکم سے نیک لوگوں کے اعمال نامے ان کے دائیں ہاتھ میں پہنچ چکے ہوں گے اور انہیں جنت میں داخلہ دیا جائے گا۔ ان کے مقابلے میں برے لوگوں کے اعمال نامے ان کے بائیں ہاتھ میں دئیے جائیں گے، جونہی برے شخص کا اعمال نامہ اس کے بائیں ہاتھ میں دیا جائے گا تو وہ چیخ اٹھے گا اور کہے گا ہائے افسوس ! کاش کہ مجھے میرا اعمال نامہ نہ دیا جاتا اور مجھے یہ علم ہی نہ ہوتا کہ میرا حساب کیا ہے، کاش ! دنیا کی موت ہی آخری موت ثابت ہوتی۔ آج نہ میرا مال میرے کام آیا اور نہ ہی میرے اقتدار اور اختیار نے مجھے فائدہ دیا یہاں اختصار سے کام لیا گیا ہے۔ جبکہ دوسرے مقامات پر یہ تفصیل موجود ہے کہ لوگوں کو ان کے اعمال نامے دیئے جانے کے بعد کیا کیا معاملات پیش آئیں گئے۔ جب برے لوگوں کو ان کے اعمال دیئے جائیں گے تو وہ فریاد کریں گے کہ کاش ! ہم مٹی کے ساتھ مٹی ہوجائیں بالآخر مجرم ہر طرف سے مایوس ہوجائے گا۔ حکم ہوگا کہ اسے پکڑ لو اور اسے ستر گز لمبی زنجیر میں جھکڑ کر جہنم میں پھینک دو ، یہ نہ اللہ پر ایمان لایا اور نہ ہی مسکین کو کھلانے کی ترغیب دیتا تھا، آج اس کا کوئی خیر خواہ نہیں ہوگا اور اسے جہنم کے پیپ کے سوا کوئی چیز کھانے کو نہیں دی جائے گی یہی مجرموں کا کھانا ہوگا۔ یہاں جہنمی کے دو گناہوں کا ذکر کیا گیا ہے جبکہ دوسرے مقامات پر ان کے دیگر گناہوں کا ذکر بھی موجود ہے ان میں پہلا گناہ یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ پر اس طرح ایمان نہ لائے جس طرح اللہ تعالیٰ نے اپنی ذات پر ایمان لانے کا حکم دیا ہے یہ کافر، مشرک منافق لوگ ہوں گے۔ ان کا دوسرا گناہ یہ ہوگا کہ وہ غریبوں اور محتاجوں کا خیال نہیں کرتے تھے گویا کہ حقوق اللہ اور حقوق العباد سے غافل تھے۔ اس لیے ان کے گلے میں طوق ڈال کر اور ستر گز لمبی زنجیر میں جکڑ کر جہنم میں پھینک دیا جائے گا۔ ان کے کھانے میں جہنم کی پیپ بھی شامل ہوگی جو صرف ان کے لیے ہوگی۔ ” سلطان “ کا لفظ دلیل و حجت کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے اور اقتدار کے لیے بھی۔ اگر اسے دلیل وحجت کے معنٰی میں لیا جائے تو مطلب ہوگا کہ مجرم دنیا میں جو حجت بازیاں کیا کرتا تھا وہ قیامت کے دن نہیں چل سکیں گی، اگر سلطان کا لفظ اقتدار کے معنٰی میں لیا جائے تو مراد ہوگی کہ دنیا میں جس طاقت کے بل بوتے پر وہ اکڑتا تھا وہ قیامت کے دن ختم ہوجائے گی۔ وہ اقرار کرے گا کہ اب یہاں کوئی میرا لشکر نہیں، کوئی میرا حکم ماننے والا نہیں، میں بےبس اور لاچار مجرم کی حیثیت سے کھڑا ہوں جو اپنے دفاع کے لیے کچھ نہیں کرسکتا۔ مسائل 1۔ جسے دائیں ہاتھ میں اس کا اعمال نامہ دیا گیا وہ پچھتائے گا اور اپنی موت کی تمنا کرے گا۔ 2۔ جہنمی اقرار کرے گا کہ آج میرا مال اور میرا اقتدار میرے کچھ کام نہیں آیا۔ 3۔ جہنمی کے جرائم میں سر فہرست یہ جرم ہوں گے کہ وہ اللہ پر ایمان نہ لائے اور مسکینوں کا خیال نہیں رکھتے تھے۔ 4۔ جہنمی کے گلے میں طوق پہناکر انہیں زنجیروں میں جکڑ دیا جائے گا۔