68. Surah Al-Qalam

القلمThe Pen · 52 ayahsفہم القرآن

تعارف

تعارف

سورة القلم کا تعارف اس سورت کے دو نام بیان کیے جاتے ہیں ن اور قلم۔ دونوں نام اس کی ابتداء میں موجود ہیں یہ سورت مکہ معظمہ میں نازل ہوئی یہ باون آیات پر مشتمل ہے جنہیں دو رکوع میں تقسیم کیا گیا ہے۔ یہ سورت مکہ معظمہ کے اس دور میں نازل ہوئی جس دور میں مشرکین مکہ آپ کی مخالفت میں اندھے ہوچکے تھے۔ ان کے اندھے پن کا عالم یہ تھا کہ وہ آپ کے شاندار ماضی اور اعلیٰ اخلاق کو جاننے کے باوجود آپ کو دیوانہ مشہور کرتے تھے۔ ان کے پروپیگنڈے کے توڑ اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اخلاق اور عزت کو اجاگر فرمانے کے لیے نون اور قلم کی قسم اٹھا کر واضح فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے آپ مجنون نہیں ہیں۔ نون اور قلم کی قسم اٹھا کر یہ ثابت کیا ہے کہ جس قرآن کی وجہ سے تم نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو مجنون کہتے ہو وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہی نازل کیا جارہا ہے، عنقریب وقت آنے والا ہے جب تمہیں پتہ چل جائے گا مجنون کون ہے اور سیدھے راستے سے کون بھٹک چکا ہے۔ کفار کے پروپیگنڈہ کا مقصد یہ تھا کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اس قدر بدنام اور خوف زدہ کردیا جائے کہ آپ خوف اور بےعزتی سے ڈر کر اپنی دعوت کو چھوڑ دیں یا کچھ نرمی کے لیے تیار ہوجائیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اس خوف سے بےنیاز کرنے اور کفار کی سازش سے بچانے کے لیے حکم ہوا کہ کسی حال میں جھوٹے لوگوں کے ساتھ نرمی نہیں کرنی اور نہ ہی کسی جھوٹے اور کمینے کی بات کو تسلیم کرنا ہے۔ اس کے بعد مشرکین کے ایک نمائندے کا کردار ذکر کیا گیا ہے یہ اس قدر کمینہ ہے کہ جھوٹی قسمیں کھانے والا اور چغلیایاں کرتا پھرتا ہے۔ بھلائی کے کاموں سے روکتا ہے، ظلم کرنے والا ہے اور پرلے درجے کا گھٹیا انسان ہے۔ یہ اس لیے اخلاقی حدود سے گزر چکا ہے کیونکہ اس کے پاس بہت مال اور جوان بیٹے ہیں اس لیے قرآن مجید کے ارشادات کو پہلے لوگوں کی کہانیاں قرار دیتا ہے۔ عنقریب اس کی سونڈ پر داغ لگائے جائیں گے۔ کیا ایسے لوگوں کو علم نہیں کہ ان سے پہلے کچھ لوگ ایسے گزر چکے ہیں جن کے پاس مال اور بہت بڑا باغ تھا۔ انہوں نے کمزوروں کے حقوق سلف کرنے کا فیصلہ کیا ان کے اپنے آدمی نے انہیں سمجھایا لیکن وہ باز نہ آئے جس کا نتیجہ نکلا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے باغ کو خاکستر کردیا اور وہ اپنے آپ پر افسوس کرنے کے علاوہ اور کچھ نہ کر پائے۔ اس بات کی طرف اشارہ کر کے اہل مکہ کو سمجھایا گیا ہے کہ اگر اپنی ہلاکت اور بربادی سے بچنا چاہتے ہو تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی دعوت قبول کرلو۔ جو تمہارا ہی ایک فرد ہے اگر تم برائی کے راستے سے بچ جاؤ اور نیکی کا راستہ اختیار کرلو، تو اللہ تعالیٰ تمہیں جنت نعیم میں داخل کرے گا۔ اس کے بعد مشرکین کو چند سوال کیے گئے ہیں اور پھر یہ سوال کیا کہ فرمابردار اور نافرمان برابر ہوسکتے ہیں ؟ کیونکہ اہل مکہ تعصب میں آکر نیکی اور برائی کا امتیاز ختم کرچکے تھے اس لیے فرمایا کہ تم کس طرح کے فیصلے کرتے ہو ؟ کیا تمہارے پاس کوئی آسمانی کتاب ہے جس سے پڑھ کر تم ایسی باتیں کرتے ہو ؟ جو لوگ اس طرح کی باتیں کرتے ہیں انہیں سمجھانے کے لیے ارشاد فرمایا کہ اس دن تمہارا کیا حال ہوگا جب رب ذوالجلال اپنی پنڈلی سے پردہ اٹھائیں گے تو نیک بندئے اس کے حضور سر بسجود ہوجائیں گے اور نافرمان کھڑے کے کھڑے رہ جائیں گے وہ سجدہ کرنے کی کوشش کریں گے لیکن کر نہیں پائیں گے۔

Ayah 68:1

نٓ وَ الْقَلَمِ وَ مَا یَسْطُرُوْنَۙ Open ayah 68:1 in the Quran reader

نٓ۔ قسم ہے قلم کی اور اس چیز کی جسے لکھنے والے لکھ رہے ہیں

فہم القرآن ربط سورت : اللہ تعالیٰ نے سورة الملک کے آخر میں اپنی قدرت کی کئی نشانیوں کا ذکر فرمایا ہے۔ ان نشانیوں میں اس کی قدرت کی عظیم ترین نشانی یہ بھی ہے کہ اس نے زمین و آسمانوں کو پیدا کرنے سے پہلے قلم پیدا فرمایا اور اللہ تعالیٰ نے جو کچھ کرنا تھا قلم کو لکھنے کا حکم دیا۔ حرفِ ” ن “ حروف مقطّعات میں شامل ہے اس کا معنٰی اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ بعض مفسرین نے قلم کے ذکر کی وجہ سے ” ن “ کا معنٰی دوات لکھا ہے لیکن نبی ﷺ سے یہ معنٰی ثابت نہیں۔ حرف ” ن “ کے بعد واؤ کا حرف لایا گیا ہے جو ” قسم “ کے لیے ہے۔ قرآن مجید کی قسم اٹھانا : حضرت امام بخاری (رح) نے اپنی کتاب صحیح بخاری میں ایک باب باندھا ہے۔ (باب الْحَلِفِ بِعِزَّۃِ اللَّہِ وَصِفَاتِہِ وَکَلِمَاتِہٖ ) جس میں انہوں نے دو احادیث ذکر کی ہیں، جن سے ثابت ہوتا ہے کہ قرآن مجید کی قسم اٹھائی جاسکتی ہے کیونکہ قرآن مجید ” اللہ “ کا کلام اور اس کی صفت ہے اس لیے قرآن مجید کی قسم اٹھانا جائز ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قلم کی قسم اٹھا کر قلم کی اہمیت اور اس سے لکھنے والوں کی فضیلت بیان کی ہے۔ اللہ تعالیٰ اگر انسان کو قلم ایجاد کرنے اور لکھنے کی صلاحیت نہ بخشتا تو دنیا میں کسی علم کی اس طرح ترویج نہ ہوپاتی، قلم ایک ایسا ذریعہ ہے جس کے ساتھ ہر بات کو طویل مدت تک محفوظ رکھاجاسکتا ہے، جس کے ذریعے دنیا کی تاریخ، حساب و کتاب، ہر قسم کا علم اور دینی مسائل اگلی نسل تک پہنچائے جاتے ہیں۔ قلم سے مراد وہ ذرائع ہیں جن سے کوئی بات لکھی جاتی ہے بیشک ان کی کوئی بھی صورت ایجاد ہوجائے۔ لیکن یہاں ” القلم “ سے مرادوہ قلم ہے جسے اللہ تعالیٰ نے سب سے پہلے پیدا کیا اور اسے لکھنے کا حکم صادر فرمایا۔ اس نے اپنے خالق کے حکم سے لوح محفوظ پر سب کچھ لکھ دیا جو قیامت تک ہونے والا ہے۔ مفسرین کی دوسری جماعت کا نقطہ نظر یہ ہے کہ ” القلم “ سے مراد وہ قلم ہے جس کے ذریعے اللہ تعالیٰ کے حکم سے ملائکہ لوح محفوظ سے اپنے رب کے فیصلے نقل کرتے ہیں اور دوسرے ملائکہ تک پہنچاتے ہیں۔ تیسری جماعت کا خیال ہے کہ اس سے مراد وہ قلم ہے جس سے قرآن مجید لکھا گیا ہے۔ (عَنْ عُبَادَۃَ بْنِ الصَّامِتِ قَالَ سَمِعْتُ رَسُول اللَّہ ﷺ یَقُولُ إِنَّ أَوَّلَ مَا خَلَقَ اللَّہُ الْقَلَمَ فَقَالَ لَہُ اکْتُبْ فَجَرَی بِمَا ہُوَ کَاءِنٌ إِلَی الأَبَد وَفِی الْحَدِیثِ قِصَّۃٌ قَالَ ہَذَا حَدِیثٌ حَسَنٌ صَحِیحٌ غَرِیبٌ) (رواہ الترمذی : باب وَمِنْ سُورَۃِ ن) حضرت عبادہ بن صامت ؓ بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا کہ اللہ تعالیٰ نے سب سے پہلے قلم کو پیدا کیا پھر اسے فرمایا لکھ ! پھر ابد تک ہونے والا سلسلہ جاری فرمایا۔ “ (لَا یُؤَاخِذُکُمُ اللّٰہُ باللَّغْوِ فِیْٓ اَیْمَانِکُمْ وَ لٰکِنْ یُّؤَاخِذُکُمْ بِمَا عَقَّدْتُّمُ الْاَیْمَانَ فَکَفَّارَتُہٗٓ اِطْعَامُ عَشَرَۃِ مَسٰکِیْنَ مِنْ اَوْسَطِ مَا تُطْعِمُوْنَ اَہْلِیْکُمْ اَوْکِسْوَتُہُمْ اَوْ تَحْرِیْرُ رَقَبَۃٍ فَمَنْ لَّمْ یَجِدْ فَصِیَامُ ثَلٰثَۃِ اَیَّامٍ ذٰلِکَ کَفَّارَۃُ اَیْمَانِکُمْ اِذَا حَلَفْتُمْ وَ احْفَظُوْٓا اَیْمَانَکُمْ کَذٰلِکَ یُبَیِّنُ اللّٰہُ لَکُمْ اٰیٰتِہٖ لَعَلَّکُمْ تَشْکُرُوْنَ ) (المائدۃ : 89) ” اللہ تمہاری لغو قسموں پر مؤاخذہ نہیں کرتا۔ لیکن تمہارا اس پر مؤاخذہ کرتا ہے جو تم نے پختہ ارادے سے قسمیں کھائیں۔ اس کا کفارہ درمیانے درجے کا دس مسکینوں کو کھانا کھلانا ہے جو تم اپنے گھروالوں کو کھلاتے ہو یا انہیں کپڑے پہنانا، یا ایک گردن آزاد کرنا ہے، جو یہ نہ پائے تو تین دن روزے رکھنا ہے یہ تمہاری قسموں کا کفارہ ہے جب تم قسم کھالو اور اپنی قسموں کی حفاظت کرو، اسی طرح اللہ تمہارے لیے اپنی آیات کھول کر بیان کرتا ہے تاکہ تم شکرادا کرو۔ “ مسائل 1۔ اللہ تعالیٰ نے قلم پیدا فرما کر اسے کائنات کی ہر چیز لکھنے کا حکم دیا۔ 2۔ اللہ تعالیٰ نے قلم کو جو حکم دیا اس نے مِن و عن لکھ دیا۔ 3۔ قلم کے ذریعے ہر بات کو طویل مدت تک محفوظ رکھا جاسکتا ہے۔ 4۔ قلم نظام تعلیم میں موثر ترین ذریعہ ہے۔ تفسیر القرآن قسم کے مسائل : 1۔ قسموں کو پورا کرنے کا حکم ہے۔ (النحل : 91 تا 94) 2۔ صدقہ نہ کرنے پر قسم کھانا منع ہے۔ (النور : 22 تا 24) 3۔ بلا اراداہ ٹھائی جانے والی قسموں پر مؤاخذہ نہیں ہوگا۔ (البقرۃ : 225) 4۔ ڈھال کے طور پر اللہ کی قسم نہیں کھانا چاہیے۔ (البقرۃ : 224) 5۔ اللہ کے عہد اور قسموں کے ذریعے مال کمانے والوں کو عذاب الیم ہے۔ (آل عمران : 77) 6۔ قسم کو ڈھال نہ بنائیں۔ (البقرۃ : 224) 7۔ ناجائز قسموں پر عمل نہ کیا جائے۔ (التحریم : 1، 2) 8۔ جھوٹی قسمیں کھانے والوں کا انجام۔ (التوبۃ : 95) 9۔ بلا قصد قسموں پر مؤاخذہ نہیں۔ (المائدۃ : 89)
Ayahs 68:2–4

مَاۤ اَنْتَ بِنِعْمَةِ رَبِّكَ بِمَجْنُوْنٍۚ Open ayah 68:2 in the Quran reader

آپ اپنے رب کے فضل سے دیوانے نہیں ہو

وَ اِنَّ لَكَ لَاَجْرًا غَیْرَ مَمْنُوْنٍۚ Open ayah 68:3 in the Quran reader

اور یقیناً آپ کے لیے ایسا اجر ہے جو کبھی ختم ہونے والا نہیں

وَ اِنَّكَ لَعَلٰى خُلُقٍ عَظِیْمٍ Open ayah 68:4 in the Quran reader

اور بیشک آپ اخلاق کے اعلیٰ مرتبے پر فائز ہیں

فہم القرآن ربط کلام : قلم اور اس کے لکھنے والوں کی عظمت کا ذکر فرما کر کفار کے بدترین الزام کی تردید کی گئی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ کو صورت اور سیرت کے اعتبار سے سب سے ممتاز پیدا فرمایا تھا۔ اسی سورت کی آیت 4 میں آپ کے عظیم اخلاق کی تعریف فرمائی ہے۔ آپ ﷺ کی صورت و سیرت اور حسن اخلاق کو آپ کے بدترین دشمن بھی جانتے اور مانتے تھے مگر قرآن بالخصوص دعوت توحید کی وجہ سے لوگ نہ صرف آپ کے مخالف ہوئے بلکہ ہر قسم کی سچائی کا انکار کرتے ہوئے آپ کو مجنون کہتے تھے، حالانکہ وہ جانتے تھے کہ دیوانہ اس قسم کی حرکات اور باتیں نہیں کرتا لیکن پھر بھی آپ کو مجنون قراردیتے تھے۔ یہ آپ کی ذات پر بہت بڑا اور بدترین الزام تھا۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے قلم کی قسم کھا کر فرمایا کہ اے نبی ﷺ ! آپ اپنے رب کے فضل وکرم سے مجنون نہیں ہیں۔ آپ کے لیے بیش بہا اجر ہے جو کبھی کم نہیں ہوگا۔ جسے آپ بھی دیکھیں گے اور آپ کے مخالف بھی دیکھ لیں گے اور انہیں یہ بھی معلوم ہوجائے گا کہ دیوانہ کون ہے ؟ اللہ تعالیٰ آپ کو ایسا اجر دے گا جو اعلیٰ اور سب سے زیادہ ہوگا۔ کفار لوگوں کے سامنے آپ ﷺ کو کبھی مجنون کہتے اور کبھی شاعر کہتے اور اپنے ساتھیوں کو دلاسہ دیتے کہ گھبرانے کی ضرورت نہیں اپنے نظریات پر قائم رہیے ! یہ عنقریب حوادث زمانہ کا شکار ہو کر ختم ہوجائے گا۔ اللہ تعالیٰ نے اس صورت حال میں آپ ﷺ کو اطمینان دلاتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ آپ کو ان کی یا وہ گوئی کی طرف توجہ نہیں کرنی چاہیے کیونکہ آپ اپنے رب کے فضل سے کاہن اور دیوانہ نہیں ہیں۔ پاگل تو وہ ہیں جو بیک وقت متضاد باتیں کررہے ہیں۔ ان کے پاگل پن کی دلیل یہ ہے کہ ایک طرف آپ کو کاہن کہتے ہیں اور دوسری طرف آپ کو مجنون کہتے ہیں۔ حالانکہ مجنون اور کاہن کے درمیان زمین اور آسمان کا فرق ہوتا ہے۔ مجنون شخص اَب نارمل (UBNORMAL) اور حواس باختہ ہوتا ہے۔ اسے کچھ خبر نہیں ہوتی کہ وہ اپنے منہ سے کیا کہہ رہا ہے یہاں تک کہ وہ اپنے لباس کا بھی خیال نہیں رکھ سکتا۔ مجنون کے مقابلے میں کاہن شخص اپنے فن میں ماہر اور چالاک ہوتا ہے وہ لوگوں کو پھنسانے اور بھلانے کے لیے ایسے الفاظ اور انداز اختیار کرتا ہے کہ عقل مند اور جہاندیدہ لوگ بھی اس کے جال میں پھنس جاتے ہیں۔ مجنون کو اپنے تن کی ہوش نہیں ہوتی، کاہن باتوں باتوں میں زمین و آسمان کے قلابے ملا دیتا ہے۔ جہاں تک شاعر کا معاملہ ہے شاعر کے کلام میں نہ صرف مبالغہ پایا جاتا ہے بلکہ اس کے کلام میں تضاد بیانی بھی ہوا کرتی ہے۔ شاعروں کی غالب ترین اکثریت بےعمل ہوتی ہے وہ جو کہتے ہیں اس پر عمل پیرا نہیں ہوتے، ان کے مقابلے میں نبی ﷺ پوری دنیا کے لیے اسوہ حسنہ بنائے گئے ہیں، نبوت کے اعلیٰ مقام پر فائزہونے سے پہلے بھی آپ اعلیٰ کردار اور عظیم اخلاق کے پیکر تھے اور اہل مکہ آپ کو عظیم دانشور سمجھتے تھے اکثر شاعر عاشق مزاج ہوتے ہیں نبی ﷺ نے زندگی بھر کسی غیرمحرم عورت کو نظر اٹھا کر نہیں دیکھا۔ شاعر کا کلام زیادہ عرصہ تک باقی نہیں رہتانبی معظم ﷺ جو کلام پیش کررہے تھے اس کی رہتی دنیا تک گارنٹی دی گئی ہے۔ شاعراپنا کلام پیش کرکے لوگوں سے مالی یا اخلاقی داد وصول کرتے ہیں۔ نبی ﷺ ان باتوں سے مبرّہ اور ارفع تھے۔ آپ نے زندگی بھر اپنے خطاب میں کبھی شعر نہیں پڑھا اور نہ ہی آپ کی شان اور مقام کے لائق تھا۔ (یٰسٓ: 69) یہاں تک اہل مکہ کی اس بات کا تعلق ہے کہ نبی ﷺ کا نام اور کام بہت جلد حوادث زمانہ کا شکار ہوجائے گا۔ اس بات کا انہیں آپ ﷺ کی زبان اطہر سے یوں چیلنج دیا گیا ہے کہ تم بھی انتظار کرو میں بھی انتظار کرتا ہوں۔ زمانہ گواہ ہے کہ آپ ﷺ کے بارے میں ہرزہ سرائی کرنے والے مٹ گئے لیکن آپ کا نام اور کام ہر دور میں زندہ رہا اور رہے گا۔ اس لیے فرمایا کہ کیا ان کی عقلیں انہیں ایسی باتیں سکھاتی ہیں یا حقیقت میں یہ لوگ باغی اور شرارتی ہیں گویا کہ آپ ﷺ کے مخالف بےعقل بھی تھے، باغی اور شرارتی بھی۔ بےعقل اور شرارتی لوگ اپنے کام میں حقیقی کامیابی نہیں پایا کرتے۔ (عَنْ اَنَسٍ ؓ قَالَ خَدَمْتُ النَّبِیَّ ﷺ عَشْرَ سِنِیْنَ فَمَا قَالَ لِیْ اُفٍّ وَّلَا لِمَ صَنَعْتَ وَلَا اَلَّا صَنَعْتَ ) (رواہ البخاری : بَابٌ حُسْنِ الْخُلُقِ وَالسَّخَاءِ وَمَا یُکْرَہُ مِنَ الْبُخْلِض) حضرت انس ؓ نے بتایا کہ میں نے نبی رحمت ﷺ کی دس سال خدمت کی۔ آپ نے مجھے کبھی اف تک نہ کہا اور نہ کبھی یہ کہا کہ تم نے یہ کام کیوں کیا ؟ یا وہ نہیں کیا ؟ “ (عَنْ اَنَسٍ ؓ قَالَ کُنْتُ اَمْشِیْ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ وَعَلَیْہِ بُرْدٌ نَجْرَانِیٌّ غَلِیْظُ الْحَاشِیَۃِ فَاَدْرَکَہٗ اَعْرَابِیٌّ فَجَبَذَہٗ بِرِدَاءِہٖ جَبْذَۃً شَدِیْدَۃً وَرَجَعَ نَبِیُّ اللّٰہِ ﷺ فِیْ نَحْرِ الْاَعْرَابِیِّ حَتّٰی نَظَرْتُ اِلٰی صَفْحَۃِ عَاتِقِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ قَدْ اَثَّرَتْ بِھَا حَاشِیَۃُ الْبُرْدِ مِنْ شِدَّۃِ جَبْذَتِہٖ ثُمَّ قَالَ یَامُحَمَّدُ ! مُرْلِیْ مِنْ مَّال اللّٰہِ الَّذِیْ عِنْدَکَ فَالْتَفَتَ اِلَیْہِ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ ثُمَّ ضَحِکَ ثُمَّ اَمَرَ لَہٗ بِعَطَاءٍ ) (رواہ البخاری : باب مَا کَان النَّبِیُّ ﷺ یُعْطِی الْمُؤَلَّفَۃَ قُلُوبُہُمْ وَغَیْرَہُمْ مِنَ الْخُمُسِ وَنَحْوِہِ ) ” حضرت انس ؓ ہی سے روایت ہے کہ میں رسول معظم ﷺ کے ساتھ چل رہا تھا اور آپ پر گہری حاشیہ دار نجرانی چادر تھی۔ ایک دیہاتی سامنے آیا اور اس نے بڑے زور سے آپ کی چادر کھینچی۔ نبی رحمت ﷺ اس کے سینے کی طرف جھک گئے۔ یہاں تک کہ میں نے رسول کریم ﷺ کی گردن مبارک کے ایک طرف، چادر کے کنارے کو زور سے کھینچنے کی رگڑ کا نشان دیکھا، دیہاتی نے کہا، اے محمد ﷺ ! آپ اللہ کے عطا کردہ مال میں سے مجھے بھی کچھ دیں۔ آپ نے اس کی طرف دیکھا مسکرائے اور اس کو کچھ دینے کا حکم دیا۔ “ ” حضرت عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کو دو کاموں میں اختیار دیا جاتا تو آپ دونوں میں سے آسان کام کو اختیار کرتے بشرطیکہ وہ گناہ کا کام نہ ہوتا۔ اگر کام گناہ کا ہوتا تو آپ سب سے زیادہ اس سے دور رہتے۔ آپ نے اپنی ذات کے لیے کسی سے انتقام نہ لیا البتہ جب اللہ کی حرمتوں کو پامال کیا جاتا تو اللہ کے لیے انتقام لیتے۔ “ (رواہ البخاری : کتاب المناقب، باب صفۃ النبی ﷺ (وَ عَنْہُ قَالَ قَالَ رسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ اِنَّ مِنْ خِیَارِکُمْ اَحْسَنَکُمْ اَخْلَاقًا) (رواہ البخاری : باب صفۃ النبی ﷺ ” عبداللہ بن عمر ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول معظم ﷺ نے فرمایا۔ تم میں سے وہ بہتر ہیں ‘ جو اخلاق کے لحاظ سے بہتر ہیں۔ “ مسائل 1۔ نبی محترم ﷺ مجنون نہیں تھے بلکہ آدم (علیہ السلام) کی ساری اولاد میں سب سے اعلیٰ اخلاق کے مالک اور سب سے بڑھ کر دانشور تھے۔ 2۔ اللہ تعالیٰ نے نبی ﷺ کو صورت و سیرت اور اخلاق کے حوالے سے بےمثال بنایا تھا۔ 3۔ کفار نے آپ ﷺ کی مخالفت اور گستاخیاں کرنے کی وجہ سے دنیا میں برا انجام دیکھا اور قیامت کے دن بھی برے اور بڑے عذاب کا سامنا کرنا کریں گے۔ تفسیر بالقرآن اللہ تعالیٰ نے نبی ﷺ کو ہر حوالے سے افضل اور عظیم تر بنایا : 1۔ آدم (علیہ السلام) کو اللہ نے خلیفہ بنایا۔ (البقرۃ : 30) 2۔ ابراہیم (علیہ السلام) کو اللہ نے اپنا خلیل بنایا۔ (النساء : 125) 3۔ سلیمان (علیہ السلام) کو اللہ نے سب سے بڑا حکمران بنایا۔ (ص : 35) 4۔ داؤد (علیہ السلام) کو اللہ نے دانائی عطا فرمائی۔ (ص : 20) 5۔ یعقوب (علیہ السلام) کو اللہ نے صبر جمیل عطا فرمایا۔ (یوسف : 83) 6۔ یوسف (علیہ السلام) کو اللہ نے حکمرانی اور پاک دامنی عطا فرمائی۔ (یوسف : 31) 7۔ نبی مکرم ﷺ کو رحمۃ للعالمین وخاتم النبیّین اور خلق عظیم کا مالک بنایا۔ (الانبیاء : 107، الاحزاب : 40)
Ayahs 68:5–9

فَسَتُبْصِرُ وَ یُبْصِرُوْنَۙ Open ayah 68:5 in the Quran reader

عنقریب آپ بھی دیکھ لیں گے اور وہ بھی دیکھ لیں گے

بِاَىیِّكُمُ الْمَفْتُوْنُ Open ayah 68:6 in the Quran reader

کہ تم میں سے کون دیوانہ ہے

اِنَّ رَبَّكَ هُوَ اَعْلَمُ بِمَنْ ضَلَّ عَنْ سَبِیْلِهٖ١۪ وَ هُوَ اَعْلَمُ بِالْمُهْتَدِیْنَ Open ayah 68:7 in the Quran reader

تمہارا رب ان لوگوں کو خوب جانتا ہے جو اس کی راہ سے بھٹکے ہوئے ہیں اور وہ ہدایت یافتہ لوگوں کو اچھی طرح جانتا ہے

فَلَا تُطِعِ الْمُكَذِّبِیْنَ Open ayah 68:8 in the Quran reader

لہٰذا آپ جھٹلانے والوں کی ہرگز اطاعت نہ کریں

وَدُّوْا لَوْ تُدْهِنُ فَیُدْهِنُوْنَ Open ayah 68:9 in the Quran reader

یہ تو چاہتے ہیں کہ کچھ آپ نرمی کریں اور کچھ وہ نرم ہوجاتے ہیں

فہم القرآن ربط کلام : آپ ﷺ کو یوانہ کہنے والوں کا انجام کفار قرآن مجید اور دعوت توحید کی مخالفت کی وجہ سے آپ ﷺ کو مجنون کہنے کے ساتھ یہ الزام بھی دیتے تھے کہ آپ راہ راست سے بھٹک گئے ہیں کیونکہ آپ جو انہیں دعوت دیتے تھے وہ انہوں نے پہلے نہیں سنی تھی۔ وہ اس دعوت کو اپنی مذہبی اور معاشرتی روایات کے خلاف سمجھتے تھے اس لیے پراپیگنڈہ کرتے کہ آپ صراط مستقیم سے بھٹک گئے ہیں۔ سورة یٰس کی ابتدائی آیات میں اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کی ذات اور قرآن کی قسم اٹھا کر فرمایا ہے کہ آپ ﷺ صراط مستقیم پر گامزن ہیں۔ یہاں یہ ارشاد فرمایا کہ آپ کا رب اچھی طرح جانتا ہے کہ کون اس کے راستے سے بھٹک چکا ہے اور کون سیدھے راستے پر گامزن ہے۔ کفار کی مخالفت اور الزام بازی کے باوجود نبی معظم ﷺ نے پوری جرأت کے ساتھ دعوت کے کام کو جاری رکھا۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے مکی زندگی کے ابتدائی سالوں میں ہی وہ حالات پیدا فرمادیئے کہ اہل مکہ سوچنے اور یقین کرنے پر مجبور ہوگئے کہ نبی کی دعوت جلد غلبہ پاجائے گی۔ اس لیے انہوں نے اپنے رویے کو تبدیل کرتے ہوئے مفاہمت کا راستہ اختیار کرنے کی کوشش کی، جس کے لیے آپ کے چچا ابوطالب کے پاس حاضر ہو کر درخواست کرتے ہیں کہ محمد ﷺ کے ساتھ ہماری مفاہمت کروائیں۔ جس کے لیے کچھ ہم نرم ہوتے ہیں اور کچھ اسے اپنے مؤقف سے پیچھے ہٹنا چاہیے۔ اس کی تفصیل سورة الکافرون میں دیکھنی چاہیے۔ کفار کے مطالبے کو مسترد کرتے ہوئے آپ ﷺ کو حکم ہوا کہ یہ لوگ چاہتے ہیں کہ کچھ آپ نرم ہوجائیں اور کچھ وہ نرم ہوجاتے ہیں۔ آپ کو حکم دیا جاتا ہے کہ جھوٹے لوگوں کی بات کو ہرگز نہیں ماننا اور نہ ہی ان کی قسموں پر یقین کرنا چاہیے۔ (أَنّ قُرَیْشًا حینَ قَالُوا لِأَبِی طَالِبٍ ہَذِہِ الْمَقَالَۃَ بَعَثَ إلَی رَسُول اللّٰہِ ﷺ فَقَالَ لَہُ یَا ابْنَ أَخِی إنّ قَوْمَک قَدْ جَاءُ ونِی فَقَالُوا لِی کَذَا وَکَذَا لِلّذِی کَانُوا قالُوا لَہُ فَأَبْقِ عَلَیّ وَعَلَی نَفْسِک وَلَا تُحَمّلْنِی مِنْ الْأَمْرِ مَا لَا أُطِیقُ فَظَنّ رَسُول اللّٰہِ ﷺ أَنّہُ قَدْ بَدَا لِعَمّہِ فیہِ أَنّہُ خَاذِلُہُ وَمُسْلِمُہُ وَأَنّہُ قَدْ ضَعُفَ عَنْ نُصْرَتِہِ وَالْقِیَامِ مَعَہُ قَالَ رَسُول اللّٰہِ ﷺ یَا عَمّ وَاللّٰہِ لَوْ وَضَعُوا الشّمْسَ فِی یَمِینِی وَالْقَمَرَ فِی یَسَارِی عَلَی أَنْ أَتْرُکَ ہَذَا الْأَمْرَ حَتّی یُظْہِرَہُ اللہُ أَوْ أَہْلِکَ فیہِ مَا تَرَکْتہ قالَ ثُمّ اسْتَعْبَرَ رَسُول اللّٰہِ ﷺ فَبَکَی ثُمّ قَامَ فَلَمّا وَلّی نَادَاہُ أَبُو طَالِبٍ فَقَالَ أَقْبِلْ یَا ابْنَ أَخِی، قَالَ فَأَقْبَلَ عَلَیْہِ رَسُول اللّٰہِ ﷺ فَقَالَ اذْہَبْ یَا ابْنَ أَخِی، فَقُلْ مَا أَحْبَبْت، فَوَاَللہِ لَا أُسْلِمْک لِشَیْءِ أَبَدًا) (سیرت ابن ہشام : باب مشی قریش الی ابی طالب ) ” جب قریش آپ کے چچا ابو طالب کے پاس آئے انہوں نے آپ ﷺ کے بارے میں برا بھلا کہا تو آپ کے چچا ابو طالب نے آپ سے کہا کہ اے بھتیجے تیری قوم میرے پاس آئی تھی اور انہوں نے مجھے تیرے بارے بہت برا ہے کہ میں تمہیں اس بات سے روکتا ہوں جو مکہ والوں کو کہتا ہے۔ تو اپنے آپ پر رحم کر اور مجھ پر بھی رحم کر اور مجھ پر ایسا بوجھ نہ ڈال جس کی میں طاقت نہیں رکھتا۔ رسول اللہ ﷺ نے خیال کیا کہ آپ کا چچا آپ کو چھوڑ کر الگ ہونا چاہتا ہے اور وہ اس بات سے عاجز آگیا ہے کہ وہ آپ کی مدد کرئے یا آپ کے ساتھ کھڑا ہو۔ رسول اللہ ﷺ نے اپنے چچا کو فرمایا اے چچا اگر میرے دائیں ہاتھ پر سورج اور بائیں پر چاند لا کر رکھ دیں کہ میں اس دین کو چھوڑ دوں پھر بھی میں اس دین کو نہیں چھوڑسکتا۔ حتی کہ اللہ تعالیٰ اس کو غالب کردیں یا میں قتل کردیا جاؤں۔ یہ کہتے ہی آپ ﷺ کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔ پھر آپ ﷺ کھڑے ہوئے اور واپس جانے لگے تو ابوطالب نے کہا کہ اے بھتیجے قریب آؤ آپ ﷺ قریب ہوے تو آپ ﷺ کے چچا نے کہا جاؤ جو بات تمہیں پسند ہے اس کا اعلان کرو اللہ کی قسم میں تمہیں کسی بات سے منع نہیں کروں گا۔ “ مسائل 1۔ اہل مکہ نبی ﷺ کو مجنون کہتے تھے۔ 2۔ اللہ تعالیٰ ہدایت یافتہ اور گمراہ لوگوں کو اچھی طرح جانتا ہے۔ 3۔ کفرو شرک کے ساتھ دین اور ایمان میں مفاہمت نہیں ہوسکتی۔ 4۔ جھوٹے لوگوں کے پیچھے نہیں لگنا چاہیے۔ تفسیر بالقرآن حق اور باطل، نیک اور بد برابر نہیں ہوسکتے : 1۔ حق آگیا اور باطل بھاگ گیا، باطل کا کام ہی بھاگ جانا ہے۔ (بنی اسرائیل : 81) (الحشر : 20) 2۔ اللہ تعالیٰ باطل کو مٹاتا اور حق کو واضح کرتا ہے۔ (الشوریٰ : 24) 3۔ روشنی اور اندھیرا برابر نہیں ہوسکتے۔ (فاطر : 20) 4۔ اللہ تعالیٰ حق کو حق اور باطل کو باطل کردیتا ہے اگرچہ مجرم اسے ناپسند سمجھیں۔ (الانفال : 8) (السجدۃ : 18)
Ayahs 68:10–16

وَ لَا تُطِعْ كُلَّ حَلَّافٍ مَّهِیْنٍۙ Open ayah 68:10 in the Quran reader

کسی ایسے شخص کے پیچھے نہ لگو جو قسمیں کھانے والا ذلیل ہے

هَمَّازٍ مَّشَّآءٍۭ بِنَمِیْمٍۙ Open ayah 68:11 in the Quran reader

طعنے دیتا ہے، چغلیاں کھاتا پھرتا ہے

مَّنَّاعٍ لِّلْخَیْرِ مُعْتَدٍ اَثِیْمٍۙ Open ayah 68:12 in the Quran reader

بھلائی سے روکتا ہے، ظلم و زیادتی میں حد سے گزرجانے والا ہے

عُتُلٍّۭ بَعْدَ ذٰلِكَ زَنِیْمٍۙ Open ayah 68:13 in the Quran reader

بڑا بدعمل ہے، جفا کار ہے، اور ان سب عیوب کے ساتھ بداصل ہے

اَنْ كَانَ ذَا مَالٍ وَّ بَنِیْنَؕ Open ayah 68:14 in the Quran reader

اس بنا پر کہ وہ بہت مال اور اولاد رکھتا ہے

اِذَا تُتْلٰى عَلَیْهِ اٰیٰتُنَا قَالَ اَسَاطِیْرُ الْاَوَّلِیْنَ Open ayah 68:15 in the Quran reader

جب ہماری آیات اس کو سنائی جاتی ہیں تو کہتا ہے یہ تو پہلے دور کے افسانے ہیں

سَنَسِمُهٗ عَلَى الْخُرْطُوْمِ Open ayah 68:16 in the Quran reader

عنقریب ہم اس کی سونڈ پر داغ لگائیں گے

فہم القرآن ربط کلام : اہل مکہ قرآن مجید کے دلائل کا جواب نہ پا کر آپ ﷺ کو مجنون کہتے تھے اس موقع پر ان کے اس الزام کا صرف یہ جواب دیا گیا کہ عنقریب وقت آئے گا کہ جب یہ دیکھ لیں گے کہ مجنون کون ہے۔ آپ ﷺ کو حقیقت بتلانے اور تسلی دینے کے لیے ارشاد ہوا کہ آپ کا رب خوب جانتا ہے کہ کون اس کے راستے سے بھٹک گیا اور کون ہدایت یافتہ ہے۔ لہٰذا آپ کو جھوٹے لوگوں کے پیچھے لگنے کی بجائے اپنا کام پوری مستعدی کے ساتھ جاری رکھنا چاہیے اور اس میں کسی قسم کی مداہنت اختیار نہیں کرنی چاہیے۔ مفسرین کا خیال ہے کہ یہ آیات ولید بن مغیرہ، اسود بن یغوث اور اخنس بن شریک میں سے کسی ایک کے بارے میں نازل ہوئیں کیونکہ قرآن مجید نے کسی شخص کا نام نہیں لیا گیا اس لیے کسی کا نام متعین کرنا مشکل ہے، البتہ یہ بات مسلّمہ ہے کہ مکہ کے جو سردار نبی ﷺ کی مخالفت میں پیش پیش تھے ان میں اکثر کا کردار یہی تھا جس کی ان آیات میں نشاندہی کی گئی ہے، جس شخص میں یہ عاداتیں اور خصائل پائے جائیں اس سے خیر کی توقع رکھنا عبث ہے۔ جو لوگ بھی ایسے شخص کے پیچھے لگیں گے وہ ذلیل ہوں گے۔ مسلمانوں کو اس ذلّت سے بچانے کے لیے واحد مخاطب کا صیغہ استعمال کرتے ہوئے نبی ﷺ سے خطاب کیا گیا ہے کہ آپ کو ایسے شخص کے پیچھے نہیں لگنا چاہیے جس کا کردار یہ ہے کہ وہ جھوٹی قسمیں اٹھانے والا اور ذلیل آدمی ہے، غیبت کرنے کا عادی ہے اور لوگوں کو بھلائی کے کاموں سے روکتا ہے ان نقائص کے ساتھ بد اصل بھی ہے یہ شخص ان خرابیوں کا اس لیے عادی ہوچکا ہے کہ یہ مال دار، صاحب اولاد اور افرادی قوت رکھنے والا ہے، اس کے سامنے قرآن مجید کی آیات تلاوت کی جاتی ہیں تو کہتا ہے کہ یہ تو پہلے دور کی کہانیاں ہیں، عنقریب ہم اس کی ناک ذلیل کریں گے اور یہ ذلیل ہو کررہے گا۔ جس شخص میں یہ عادتیں ہوں اور مال اور افرادی قوت رکھنے والا ہو تو اس کی اصلاح کی کوئی صورت باقی نہیں رہتی۔ ایک تو اسے سمجھانا مشکل ہوتا ہے اور دوسرا یہ کہ وہ سمجھتا ہے کہ کہ اگر میں برا ہوتا تو مجھے وسائل اور افرادی قوت کیونکر نصیب ہوتی، اب ان عادتوں کا ایک ایک کر کے جائزہ لیا جاتا ہے تاکہ ان کی کراہت اور قباحت سے بچا جائے۔ 1۔ جھوٹی قسمیں اٹھانا فی نفسہٖ بہت بڑا گناہ ہے بڑا گناہ کرنے کے ساتھ جھوٹی قسمیں اٹھانے والے کو معلوم ہوتا ہے کہ اس کی بات پر لوگ اعتماد نہیں کرتے جس وجہ سے اسے بار بار قسمیں اٹھانی پڑتی ہیں یہ شخص اس لیے بھی ذلیل ہوتا ہے کہ یہ اپنی ذات اور مفاد کی خاطر رب عظیم کا نام غلط استعمال کرتا ہے۔ 2۔ لوگوں کی غلطیاں تلاش کرنا اور چغل خوری کرنا بھی ذلیل آدمی کا کام ہوتا ہے۔ دوسروں کی عیب جوئی کرنے والے میں سب سے بڑا عیب یہ ہوتا ہے کہ وہ شعوری یا غیرشعوری طور پر اپنے آپ کو دوسروں سے نیک اور بہتر سمجھتا ہے۔ عیب جو انسان میں عام طور پر یہ غلطی ضرور پائی جاتی ہے کہ وہ چغل خور بھی ہوتا ہے کیونکہ عیب جوئی کی عادت اسے دوسروں کی چغل خوری پر مجبور کرتی ہے اس وجہ سے وہ لوگوں کی نظروں میں حقیر بن جاتا ہے۔ 3۔ آدمی کا سخت خو اور ترش رو ہونا بھی ایک بہت بڑا نقص ہے جس شخص میں بےجا سختی اور ترش روئی پائی جائے، عام لوگ تو درکنار اس کے عزیز و اقرباء بھی اس سے نفرت کرتے ہیں اس سے ہر صورت بچنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ 4۔ ” زَنِیْمٌ“ کے مفسرین نے دو معانی بیان کیے ہیں۔ ” وَلْدُ الزَّنَا “ یعنی حرامی اور بدذات۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اسلام میں ذات پات کوئی حیثیت نہیں رکھتی لیکن بسا اوقات کسی ذات اور برادری میں مجموعی طور پر ایسی کمزوریاں پائی جاتی ہیں جس سے اس برادری کا ہر شخص اس سے متأثر ہوجاتا ہے۔ 5۔ گھٹیا شخص کے پاس مال کے ساتھ ساتھ افرادی قوت بھی موجود ہو تو اس سے کسی اچھے کام کی توقع رکھنا عبث ہوتا ہے۔ ایسے شخص کے سامنے اچھے سے اچھے انداز میں بہترین بات کی جائے تب بھی اسے درخور اعتناء نہیں سمجھتا۔ کیونکہ اچھی بات کو قبول کرنا وہ اپنی انا کے خلاف سمجھتا ہے۔ یہی وہ بری عادات تھیں جس کا ان آیات میں ذکر فرما کر ہر مسلمان کو منع کیا گیا ہے کہ ایسے شخص کے پیچھے نہیں لگنا چاہیے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ ایسے شخص کو دنیا میں رسوا کرتا ہے اور وہ آخرت میں بھی ذلیل ہوگا۔ مسائل 1۔ جھوٹی قسمیں اٹھانے والے کے پیچھے نہیں لگنا چاہیے۔ 2۔ عیب جوئی اور چغل خوری کرنا بدترین عمل ہیں۔ 3۔ برائی اور بخل انسان کو ذلیل کردیتا ہے۔ 4۔ سخت خو اور کمینہ پن ذلت کا باعث بنتا ہے۔ 5۔ کمینے آدمی کے پاس وسائل اور افرادی قوت ہو تو وہ مزید کمینہ ہوجاتا ہے۔ اس لیے وہ قرآن مجید کی نصیحت کو قصے کہانیاں سمجھتا ہے۔ 6۔ مذکورہ بالا عادات رکھنے والا شخص دنیا میں رسوا ہوتا ہے اور آخرت میں بھی ذلیل ہوگا۔
Ayahs 68:17–33

اِنَّا بَلَوْنٰهُمْ كَمَا بَلَوْنَاۤ اَصْحٰبَ الْجَنَّةِ١ۚ اِذْ اَقْسَمُوْا لَیَصْرِمُنَّهَا مُصْبِحِیْنَۙ Open ayah 68:17 in the Quran reader

ہم نے اہل مکہ کو اسی طرح آزمائش میں ڈالا ہے جس طرح ایک باغ کے مالکوں کو آزمائش میں ڈالا تھا جب انہوں نے قسم کھائی کہ صبح سویرے ضرور اپنے باغ کے پھل توڑیں گے

وَ لَا یَسْتَثْنُوْنَ Open ayah 68:18 in the Quran reader

انہوں نے کوئی استثناء (یعنی انشاء اللہ) نہیں کہا تھا

فَطَافَ عَلَیْهَا طَآئِفٌ مِّنْ رَّبِّكَ وَ هُمْ نَآئِمُوْنَ Open ayah 68:19 in the Quran reader

وہ رات کو سوئے پڑے تھے کہ تمہارے رب کی طرف سے ایک آفت اس باغ پر پھر گئی

فَاَصْبَحَتْ كَالصَّرِیْمِۙ Open ayah 68:20 in the Quran reader

اور اس طرح ہوگیا جیسے کٹی ہوئی فصل ہوتی ہے

فَتَنَادَوْا مُصْبِحِیْنَۙ Open ayah 68:21 in the Quran reader

صبح ان لوگوں نے ایک دوسرے کو بلایا

اَنِ اغْدُوْا عَلٰى حَرْثِكُمْ اِنْ كُنْتُمْ صٰرِمِیْنَ Open ayah 68:22 in the Quran reader

کہ اگر پھل توڑنے ہیں تو سویرے سویرے اپنی کھیتی کی طرف نکلو۔ اس کی طرف نکل چلو

فَانْطَلَقُوْا وَ هُمْ یَتَخَافَتُوْنَۙ Open ayah 68:23 in the Quran reader

چناچہ وہ چل پڑے اور آپس میں چپکے چپکے کہتے جاتے تھے

اَنْ لَّا یَدْخُلَنَّهَا الْیَوْمَ عَلَیْكُمْ مِّسْكِیْنٌۙ Open ayah 68:24 in the Quran reader

کہ آج کوئی مسکین تمہارے پاس باغ میں نہ آنے پائے

وَّ غَدَوْا عَلٰى حَرْدٍ قٰدِرِیْنَ Open ayah 68:25 in the Quran reader

وہ کسی کو کچھ نہ دینے کا فیصلہ کیے ہوئے صبح سویرے جلدی جلدی اس طرح وہاں گئے جیسے کہ وہ پھل توڑنے پر قادر ہیں

فَلَمَّا رَاَوْهَا قَالُوْۤا اِنَّا لَضَآلُّوْنَۙ Open ayah 68:26 in the Quran reader

مگر جب باغ کو دیکھا تو کہنے لگے ہم راستہ بھول گئے ہیں

بَلْ نَحْنُ مَحْرُوْمُوْنَ Open ayah 68:27 in the Quran reader

نہیں بلکہ ہم محروم رہ گئے

قَالَ اَوْسَطُهُمْ اَلَمْ اَقُلْ لَّكُمْ لَوْ لَا تُسَبِّحُوْنَ Open ayah 68:28 in the Quran reader

ان میں سے سب سے بہتر آدمی نے کہا میں نے تم سے کہا نہیں تھا کہ تم اللہ کو یاد کیوں نہیں کرتے

قَالُوْا سُبْحٰنَ رَبِّنَاۤ اِنَّا كُنَّا ظٰلِمِیْنَ Open ayah 68:29 in the Quran reader

وہ پکار اٹھے کہ ہمارا رب پاک ہے اور بلاشبہ ہم گناہگار ہیں

فَاَقْبَلَ بَعْضُهُمْ عَلٰى بَعْضٍ یَّتَلَاوَمُوْنَ Open ayah 68:30 in the Quran reader

پھر ان میں سے ہر ایک دوسرے کو ملامت کرنے لگا

قَالُوْا یٰوَیْلَنَاۤ اِنَّا كُنَّا طٰغِیْنَ Open ayah 68:31 in the Quran reader

آخر انہوں نے کہا ہمارے حال پر افسوس بیشک ہم سرکش ہوگئے تھے

عَسٰى رَبُّنَاۤ اَنْ یُّبْدِلَنَا خَیْرًا مِّنْهَاۤ اِنَّاۤ اِلٰى رَبِّنَا رٰغِبُوْنَ Open ayah 68:32 in the Quran reader

دور نہیں کہ ہمارا رب ہمیں بدلے میں اس سے بہتر باغ عطا فرمائے ہم اپنے رب کی طرف رجوع کرتے ہیں

كَذٰلِكَ الْعَذَابُ١ؕ وَ لَعَذَابُ الْاٰخِرَةِ اَكْبَرُ١ۘ لَوْ كَانُوْا یَعْلَمُوْنَ۠ Open ayah 68:33 in the Quran reader

اللہ کا عذاب ایسا ہی ہوتا ہے اور آخرت کا عذاب اس سے بھی بڑا ہے۔ کاش لوگ اس کو جانتے

فہم القرآن ربط کلام : اہل مکہ کی آزمائش۔ نبی معظم ﷺ کی جدوجہد کے سامنے بےبس ہو کر اہل مکہ نے یہ مطالبہ کیا تھا کہ کچھ آپ نرم ہوجائیں اور کچھ ہم نرم ہوجاتے ہیں نبی ﷺ نے اسے مکمل طور پر مسترد کردیا۔ اس کے ردِّ عمل میں انہوں نے مزدور صحابہ کرام ؓ کی مزدوریاں روک لیں اور اپنے غریب رشتہ دار صحابہ کے ساتھ تعاون کرنے سے ہاتھ کھینچ لیا، ان کے سرداروں نے مہم چلائی کہ مسلمانوں کے ساتھ کسی قسم کا تعاون نہ کیا جائے۔ اس پر یہ آیات نازل ہوئیں جس میں انتباہ کرتے ہوئے فرمایا کہ ہم مکہ والوں کو اس طرح آزمائیں گے جس طرح ان سے پہلے باغ والوں کو آزما چکے ہیں۔ واقعہ یوں ہے کہ ایک شخص کا باغ تھا وہ اپنے باغ کی آمدنی کو تین حصوں میں تقسیم کیا کرتا تھا۔ ایک حصہ اپنے گھر والوں کے لیے اور دوسرا باغ کی نشوونما پر لگاتا اور تیسرا حصہ غریبوں پر تقسیم کیا کرتا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے باغ اور مال میں بڑی برکت عطا فرمائی۔ جب وہ فوت ہوگیا تو اس کے بیٹوں نے سوچا اور فیصلہ کیا کہ ہمارا باپ اپنی آمدنی کو خوامخواہ ضائع کرتا تھا انہوں نے قسمیں اٹھائیں کہ ہم ایسا نہیں کریں گے۔ جب غریب لوگ سوئے ہوئے ہوں گے، تو ہم صبح سویرے اٹھ کر باغ کا پھل توڑلیں گے۔ پھل توڑنے کا فیصلہ کرنے کے وقت انہوں نے انشاء اللہ پڑھنے کی ضرورت محسوس نہ کی، وہ اپنے گھر میں سوئے ہوئے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے ایسی آندھی جاری کی کہ جس میں آگ کے بگولے تھے آندھی نے پل جھپکنے میں ان کے باغ کو جلاکر خاکستر کردیا، ادھر یہ اپنے فیصلے کے مطابق علیٰ الصبح اٹھے اور ایک دوسرے کو یہ کہہ کر جگا رہے تھے کہ اگر پھل توڑنا اور اسے غریبوں سے بچانا ہے تو اپنی کھیتی کی طرف جلد پہنچ جاؤ، وہ صبح سویرے اٹھ کر چپکے چپکے اپنے باغ کی طرف چل پڑے تاکہ کوئی مسکین وہاں نہ پہنچ پائے، جب اپنے باغ کی جگہ پر پہنچے تو انہوں نے اس جگہ کو چٹیل میدان پایا وہ کہنے لگے اندھیرے کی وجہ سے ہم اپنے باغ کا راستہ بھول گئے ہیں، کچھ نے کہا نہیں ہم بدنصیب ہوچکے ہیں یوں لگتا ہے کہ ہمارا باغ جلا دیا گیا ہے۔ ان کے درمیانے بھائی نے کہا کہ کیا میں نے تمہیں نہیں کہا تھا کہ تم اللہ کی تسبیح کرو یعنی اس کا شکرادا کرو کہ اس نے تمہیں اپنے باپ کی وراثت میں بہترین باغ عطا فرمایا ہے لیکن تم نے اپنے رب کی ناشکری کی اور یہ فیصلہ کیا کہ ہم غریبوں پر خرچ نہیں کریں گے جس کا نتیجہ ہے کہ ہمارا باغ جلاکر راکھ کردیا گیا ہے۔ قرآن مجید نے زیادہ تفصیل بیان نہیں کی تاہم معلوم ہوتا ہے کہ ان کی بحث و تکرار کے دو ران صبح کی روشنی نمودار ہوئی ہوگی اور اس روشنی میں ان کے منجھلے بھائی نے باغ کی جگہ پر پڑی ہوئی راکھ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ہوگا کہ ہمارا باغ یہاں ہی واقع تھا۔ لیکن بگولہ دارآندھی سے اسے جلاکر راکھ بنا دیا گیا ہے۔ اس پر وہ سخت نادم اور پشیمان ہو کر کہنے لگے کہ ہمارا رب پاک ہے اس نے ہم پر ظلم نہیں کیا، ہم خود ہی اپنے آپ پر ظلم کرنے والے ہیں۔ اس کے بعد ایک بھائی دوسرے کو کہتا ہے کہ تم نے یہ مشورہ دیا تھا۔ دوسرا پہلے کو کہتا ہے کہ یہ تمہاری تجویز تھی اور تم ہی ایسا کرنے پر اصرار کرتے تھے۔ اس طرح وہ ایک دوسرے کو الزام دیتے اور ملامت کرتے رہے بالآخر سب نے مل کر اعتراف کیا کہ یہ مصیبت ہماری وجہ سے آئی ہے کیونکہ ہم اپنے رب کے نافرمان ہوچکے تھے۔ اس کے بعد اپنے رب کے حضور دعائیں کرنے لگے کہ امید ہے کہ ہمارا رب ہمیں اس سے بہتر باغ عطا فرمائے گا یقیناً ہم اپنے رب کی طرف ہی رجوع کرتے ہیں۔ یہ واقعہ بیان کرنے کے بعد اہل مکہ اور ان کے حوالے سے ہر دور کے مجرموں کو یہ سمجھایا ہے کہ دیکھو اور غور کرو کہ جس مال پر تم اتراتے اور تکبر کرتے ہو۔ اللہ تعالیٰ اسے دنیا میں کس طرح تباہ کرتا ہے اور آخرت میں اس کا عذاب اس سے بھی بڑا ہوگا۔ کاش ! مجرم اسے سمجھنے کی کوشش کریں۔ اس عذاب کے بارے میں ” عَلَیْھَا طَاءِفَۃٌ“ کے الفاظ استعمال کیے ہیں کہ اس باغ پر ایک آفت پھر گئی۔ مفسرین نے آفت سے مراد آندھی لی ہے جس میں آگ کے بگولے تھے آندھی میں آگ کے بگولے ہونا عجب بات نہیں کیونکہ دنیا میں آندھی کے ذریعے آگ لگنے کے کئی واقعات مشہور ہیں۔ دور جانے کی ضرورت نہیں میں نے پاکستان میں ضلع سرگودھا کی تحصیل بھلوال کے قریب وہ علاقہ دیکھا ہے کہ جہاں 2001 ء میں ایسی آندھی آئی جس میں آگ کے بڑے بڑے بگولے تھے جس نے نہ صرف کھیتی اور باغوں کو جلایادیا تھا بلکہ مکانوں کی چھتیں بھی جل کر گر پڑی تھیں۔ یہ خوفناک منظر ٹیوی چینلز پر دکھایا گیا اور اخبارات میں اس کی تفصیلات شائع ہوئی۔ آیت 17 میں ارشاد ہوا کہ ہم نے مکہ والوں کو اسی طرح ہی آزمایا ہے جس طرح باغ والوں کو آزمایا تھا، باغ والوں نے اپنے رب کا شکر ادا کرنے اور اس کا حکم ماننے سے انکار کیا جس کے نتیجے میں ذلیل ہوئے اللہ تعالیٰ نے مکہ والوں میں نبی ﷺ مبعوث فرمائے جن کی ذات اور دعوت کائنات کی سب سے بڑی نعمت تھی اور ہے بالخصوص مکہ والوں کے لیے یہ بڑے اعزاز کی بات تھی کہ اللہ تعالیٰ نے انہی میں سے آپ ﷺ کو نبی بنایا لیکن انہوں نے آپ ﷺ کی ذات اور دعوت کی قدر نہ کی اور اس آزمائش میں ناکام ہوئے جس کی پاداش میں ذلیل کر دئیے گئے۔ اللہ تعالیٰ کو یاد کرنے کا دنیا میں فائدہ : (عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَبَّاسٍ ؓ قَالَ قَالَ رَسُول اللَّہِ ﷺ مَنْ لَزِمَ الاِسْتِغْفَارَ جَعَلَ اللَّہُ لَہُ مِنْ کُلِّ ہَمٍّ فَرَجًا وَمِنْ کُلِّ ضیقٍ مَخْرَجًا وَرَزَقَہُ مِنْ حَیْثُ لاَ یَحْتَسِبُ ) (رواہ ابوداؤد : باب الاستغفار) ” حضرت عبداللہ بن عباس ؓ بیان کرتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس نے استغفار کو لازم پکڑ ا، اللہ تعالیٰ اسے ہر غم سے نجات عطا فرما دیتا ہے اور ہر تنگی سے نکلنے کی جگہ بنا دیتا ہے اور اسے وہاں سے رزق عطا فرماتا ہے جہاں سے اسے خیال بھی نہ ہو۔ “ مسائل 1۔ اللہ تعالیٰ ہر دور کے ظالموں کو کسی نہ کسی عذاب میں مبتلا کرتا ہے۔ 2۔ بعض دفعہ بخل کی دنیا میں بھی سزا ملتی ہے۔ 3۔ جب اللہ کا عذاب نازل ہوتا ہے تو پھر ظالم اس کا اقرار کرتے ہیں۔ 4۔ عذاب کے وقت ظالم لوگ ایک دوسرے کو عذاب آ نے کا موجب قرار دیتے ہیں۔ 5۔ انسان کو مصیبت میں اپنے رب کی طرف متوجہ ہونا چاہیے۔ 6۔ دنیا کے عذاب سے آخرت کا عذاب بڑا سخت ہوگا۔ تفسیر بالقرآن دنیا میں عذاب نازل ہونے کی حکمت : 1۔ اللہ تعالیٰ نے آل فرعون کو مختلف عذابوں سے دو چار کیا تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں۔ (الاعراف : 130) 2۔ ” اللہ تعالیٰ “ بڑھے عذاب سے پہلے چھوٹے عذاب میں اس لیے مبتلا کرتا ہے تاکہ وہ اپنے رب کی طرف پلٹ آئیں۔ (السجدہ : 21) 3۔ صالح (علیہ السلام) نے اپنی قوم سے کہا اے قوم ! یہ اونٹنی تمہارے لیے ایک نشانی ہے، اسکو چھوڑ دو تاکہ اللہ کی زمین میں چرے اور اس کو کسی طرح تکلیف نہ دینا ورنہ تمہیں جلد عذاب آپکڑے گا۔ مگر انہوں نے اس کی کونچیں کاٹ دیں تو صالح نے کہا تین دن فائدہ اٹھا لو، یہ وعدہ ہے جو جھوٹا نہ ہوگا۔ (ھود : 64، 65) 4۔ پہلے لوگوں کو بڑی بڑی آزمائشوں سے دو چار کیا گیا تاکہ پتہ چل جائے کہ سچا کون ہے اور جھوٹا کون۔ (العنکبوت : 3) 5۔ آج ہم تیرے جسم کو بچائیں گے تاکہ بعد میں آنے والوں کے لیے نشان عبرت بنائیں۔ (یونس : 92) 6۔ ہم نے قرآن میں طرح طرح کے دلائل دیے ہیں تاکہ لوگ نصیحت حاصل کریں۔ (بنی اسرائیل : 41)