Ayahs 68:34–41فہم القرآن
ربط کلام : مجرموں کے لیے آخرت میں بڑا عذاب ہوگا اور متقین کے لیے انعامات ہوں گے۔
فہم القرآن کا مطالعہ کرنے والے حضرات جانتے ہیں کہ قرآن مجید کا اسلوب بیان ہے کہ وہ نیکی اور برائی، متقین اور مجرمین جنت اور جہنم کا مقابلۃً ذکر کرتا ہے۔ اسی اسلوب کے پیش نظر یہاں بھی مجرموں کا انجام ذکر کرنے کے بعد متقین کے انعامات کا ذکر کیا ہے۔ ارشاد ہوا کہ کیا ہم تابعدار اور نافرمان لوگوں کو برابر کردیں ؟ ایساہرگز نہیں ہوگا یقیناً متقی لوگ اپنے رب کے ہاں انعام وکر ام والی جنت میں ہوں گے۔ جب جنتیوں کے انعام کا ذکر کیا جاتا ہے تو کفار اور مشرکین کہتے ہیں کہ ہم ایمانداروں سے دنیا میں بھی بہتر ہیں اور آخرت میں بھی بہتر ہوں گے۔ ان کے دعویٰ کی تردید کرتے ہوئے فرمایا کہ تم اپنے بارے میں کس طرح کے فیصلہ کرتے ہو۔ یعنی تمہیں فیصلے کرنے کا کہاں سے اختیار حاصل ہوا ہے۔ کیا تمہارے پاس فیصلہ کرنے کے لیے کوئی آسمانی کتاب ہے جسے پڑھ کر یہ فیصلہ دیتے ہو کہ اس کتاب میں لکھا ہے کہ جو تم پسند کرتے ہو وہی تمہیں ملے گا ؟ یا تم نے ہم سے حلف لے رکھا ہے جو قیامت کو ہم پر لاگو ہوگا کہ جو چیز تم چاہو گے وہ تمہارے سامنے پیش کردی جائے گی۔ اے پیغمبر ﷺ ! ان سے سوال کریں کہ یہ جو دعویٰ کرتے ہیں ان میں اس کی ذمہ داری کون لیتا ہے۔ کیا اس دعویٰ میں ان کے بنائے ہوئے شریک شامل اور وہ اس کے ضامن ہیں ؟ اگر ان کے شریک ضامن ہیں تو اپنے دعوے کی سچائی کے لیے اپنے شریکوں کو پیش کریں۔ ان آیات میں کفار کے اس دعویٰ کی تردید کی گئی ہے جو مسلمانوں کے سامنے کیا کرتے تھے، کفار کا دعویٰ تھا کہ جس طرح ہم دنیا میں وسائل کے اعتبار سے مسلمانوں سے آگے ہیں اسی طرح ہی قیامت کے دن بھی ہم ان سے بہتر ہوں گے۔ جس کے جواب میں یہ آیات نازل ہوئیں۔ ان آیات میں ان سے مختلف الفاظ اور انداز میں ان کے دعویٰ کی دلیل طلب کی گئی ہے کیونکہ وہ اپنے دعویٰ میں جھوٹے تھے اس لیے وہ اس میں لاجواب ہوگئے مگر پھر بھی یہ کہتے رہے اور کہتے رہیں گے کہ ہم آخرت میں مسلمانوں سے بہتر ہوں گے حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ اللہ کے ہاں نہ دنیا میں مسلمانوں سے کفار اور مشرکین بہتر ہیں اور نہ آخرت میں بہتر ہوں گے۔ ایماندار قیامت کے دن اپنے رب کے ہاں احترام اور مقام پائیں گے اور مجرم ذلیل ہوں گے اور بدترین سزا سے دوچار کیے جائیں گے۔
(عَنْ سَہْلِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ قَالَ رَسُول اللَّہِ ﷺ لَوْ کَانَتِ الدُّنْیَا تَعْدِلُ عِنْدَ اللَّہِ جَنَاحَ بَعُوضَۃٍ مَا سَقٰی کَافِرًا مِنْہَا شَرْبَۃَ مَاءٍ ) (رواہ الترمذی : کتاب الزہد وہو حدیث صحیح)
” حضرت سہل بن سعد ؓ کہتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا : اگر دنیا کی وقعت اللہ کے نزدیک مچھر کے پر کے برابر بھی ہوتی تو وہ کافر کو ایک گھونٹ پانی کا نہ دیتا۔ “ (یعنی آخرت کے مقابلے میں دنیا کی کچھ حیثیت نہیں ہے۔ )
مسائل
1۔ متقی لوگ اپنے رب کے ہاں نعمتوں والی جنت میں ہوں گے۔ 2۔ کفار اور مشرکین بلادلیل اپنے آپ کو بہتر سمجھتے ہیں۔
3۔ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن تابعداروں اور مجرموں کو برابر نہیں کرے گا۔
تفسیر بالقرآن
دنیا اور آخرت میں کفار اور مشرکین مسلمانوں کے برابر نہیں ہوسکتے :
( التوبہ : 28) (السجدۃ : 18) (القلم : 35۔ 36) (المومن : 58) (الحشر : 20) (حٰم السجدۃ : 34) (التوبہ : 19)
Ayahs 68:42–45فہم القرآن
ربط کلام : جو لوگ بدعقیدہ اور برا کردار رکھنے کے باوجود اپنے آپ کو جنت کا مالک اور مسلمانوں سے بہتر ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں انہیں قیامت کے دن معلوم ہوجائے گا کہ حقیقت کیا ہے۔
محشر کے میدان میں ایک مرحلہ ایسا بھی آئے گا جب لوگوں کے سامنے کافر اور مومن، مشرک اور موحِّد، بد اور نیک کے درمیان فرق ظاہر کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ اپنی پنڈلی سے نور کے پردے ہٹائیں گے۔ اللہ تعالیٰ جونہی اپنی پنڈلی کو جلوہ گر کریں گے تو موحّد نمازی اللہ کے حضور سربسجود ہوجائیں گے۔ موحّد نماز یوں کو سربسجود ہوتے دیکھ کر کافر، مشرک، منافق اور بےنماز بھی سجدہ کرنے کی کوشش کریں گے لیکن ان کی کمریں پتھر کی طرح سخت ہوجائیں گی اور وہ رب ذوالجلال کے سامنے سجدہ ریز نہیں ہوسکیں گے۔ گویا کہ تابعداروں اور نافرمانوں کے درمیان یہ پہلا اقدام ہوگا جس سے واضح کیا جائے گا کہ تابع دار اور مجرم برابر نہیں ہوسکتے، اس دن مجرموں کی آنکھیں شرم کے مارے جھکی ہوئی ہوں گی اور ان کے چہروں پر ذلّت چھاجائے گی یہ اس لیے ہوگا کہ جب دنیا میں انہیں سجدے کے لیے بلایا جاتا تھا تو وہ استطاعت رکھنے کے باوجود اپنے رب کو سجدہ کرنے کے لیے تیار نہ تھے۔ سجدہ کرنے سے مراد نماز پڑھنا اور اللہ تعالیٰ کی تابعداری کرنا ہے۔ جو لوگ حقیقت واضح ہوجانے کے باوجود اسے قولاً یا عملاً جھٹلاتے ہیں ہم انہیں تدریجاً ایسے انداز میں پکڑیں گے کہ انہیں خبر تک نہ ہوگی۔ حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ انہیں مہلت دیئے جاتا ہے لیکن انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ میری گرفت بڑی مضبوط ہوتی ہے۔ حقیقت جھٹلانے والوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے ” فَذَرْنِیْ “ کا لفظ استعمال فرمایا ہے جس کا معنٰی ہے کہ مجھے چھوڑ دیجیے ! یہ انتہا درجے کی دھمکی ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہوتا کہ دھمکی دینے والی شخصیت کسی کی پابند یا کسی وجہ سے مجبور ہے اس لیے وہ کہتا ہے کہ مجھے چھوڑ دیجیے ایسا ہرگز نہیں بلکہ اس کا مفہوم یہ ہے کہ میں اس مجرم کو مہلت دے رہا ہوں اگر یہ اپنی حرکات سے باز نہ آیا تو عنقریب اسے اس طرح پکڑا جائے گا کہ اسے چھڑانے والا کوئی نہیں ہوگا۔
اس دھمکی کی وضاحت ان الفاظ میں کی گئی ہے کہ میری تدبیر یعنی گرفت بڑی مضبوط ہوتی ہے۔ ان آیات میں ” یَوْمَ یُکْشَفُ عَنْ سَاقٍ “ (جس دن اللہ تعالیٰ اپنی پنڈلی کھول دیں گے۔ ) کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں ان الفاظ کا مفہوم بیان کرتے ہوئے بعض مفسرین نے تاویل کی ہے۔ یہ تاویل کرنے کی ضرورت نہیں کیونکہ اللہ کے نبی نے اس کی یوں وضاحت فرمائی ہے۔
(عَنْ اَبِیْ سَعِیْدِنِ الْخُدْرِیِّ ؓ اِذَا کَانَ فَیَکْشِفُ عَنْ سَاقٍ فَلاَ یَبْقٰی مَنْ کَانَ یَسْجُدُ لِلّٰہِ تَعَالٰی مِنْ تِلْقَاءِ نَفْسِہٖ اِلَّا اَذِنَ اللّٰہٗ لَہُ بالسُّجُوْدِ وَلَا یَبْقٰی مَنْ کَانَ یَسْجُدُ اتِّقَاءً وَرِیَاءً اِلَّا جَعَلَ اللّٰہُ ظَھْرَہٗ طَبْقَۃً وَّاحِدَۃً کُلَّمَا اَرَادَاَنْ یَّسْجُدَ خَرَّ عَلٰی قَفَاہٗ ) (رواہ مسلم : باب مَعْرِفَۃِ طَرِیق الرُّؤْیَۃِ )
” حضرت ابو سعید خدری ؓ بیان کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ پنڈلی کھولیں گے تو اس موقع پر ہر اس شخص کو سجدہ کرنے کی توفیق مل جائے گی جو اخلاص کے ساتھ سجدہ کرتا تھا جو کسی کے ڈر سے یا دکھاوے کی خاطر سجدہ کرتا تھا اللہ تعالیٰ اس کی کمر کو تختہ بنا دیں گے، جب وہ سجدہ کرنے کا ارادہ کرے گا تو اپنی گدی کے بل گرپڑے گا۔ “
مسائل
1۔ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اپنی پنڈلی جلوہ نما کریں گے تو مواحد نمازی سجدہ ریز ہوجائیں گے۔
2۔ کافر، مشرک، منافق اور بےنماز سجدہ نہیں کرسکیں گے۔ کیونکہ وہ دنیا میں طاقت رکھنے کے باوجود ” اللہ “ کے سامنے نہیں جھکتے تھے۔
3۔ اللہ تعالیٰ مجرموں کو تدریجاً بھی پکڑا کرتا ہے۔ 4۔ اللہ تعالیٰ کی تدبیر اور گرفت بڑی مضبوط ہوتی ہے۔
تفسیر بالقرآن
نماز پڑھنے اور سجدہ کرنے کا حکم :
1۔ نماز قائم کرانا حکومت کی ذمہ داری ہے۔ (الحج : 41) 2۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور نماز۔ (ابراہیم : 37) (العنکبوت : 45)
3۔ حضرت موسیٰ ﷺ کو نماز کا حکم۔ (یونس : 87) 4۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اور نماز۔ (مریم : 31) (البقرۃ : 83) (البینۃ : 5)
Ayahs 68:46–50فہم القرآن
ربط کلام : کفار اور مشرکین کو انتباہ کرنے کے بعد نبی ﷺ کو تسلی رکھنے کی تلقین کی گئی ہے۔
نبی کریم ﷺ شب وروز اس فکر اور کوشش میں تھے کہ کفار اور مشرکین اللہ تعالیٰ پر ایمان لے آئیں اور اپنے آپ کو سیدھے راستے پر گامزن کرلیں لیکن وہ لوگ دن بدن مخالفت اور گمراہی میں آگے ہی بڑھتے جارہے تھے۔ انہیں سمجھانے اور نبی کریم ﷺ کو تسلی دینے کے لیے ارشاد ہوا کہ کیا آپ ان سے کوئی صلہ مانگتے ہیں جس وجہ سے وہ آپ کی ذات اور دعوت کو اپنے لیے بوجھ سمجھتے ہیں یا پھر ان کے پاس غیب کا علم ہے جس سے یہ اپنے مستقبل کے بارے میں آگاہ ہیں ؟ ان سے الجھنے کی بجائے آپ اپنے رب کے حکم کا انتظار کریں اور مچھلی والے کی طرح نہ ہوجائیں۔ جب اس نے اپنے رب کو آواز دی تو وہ بہت غمگین تھا اگر اس کے رب کی مہربانی اس کے شامل حال نہ ہوتی تو وہ مذموم ہو کر چٹیل میدان میں پڑا رہتا۔ اس کے رب نے اسے پسند فرمایا اور اسے صالح بندوں میں شامل کرلیا۔ تفصیل کے لیے سورة الانبیاء آیت 87 تا 88 کی تفسیر ملاحظہ فرمائیں !
خلاصہ یہ ہے کہ حضرت یونس (علیہ السلام) عرصہ دراز تک اپنی قوم کو سمجھاتے رہے لیکن ناہنجارقوم نے ان کی دعوت تسلیم کرنے کی بجائے ان کی مخالفت میں ایڑھی چوٹی کا زور لگا دیا۔ جس پر یونس (علیہ السلام) نے انہیں انتباہ کیا کہ اگر تم اپنے رب کی نافرمانی سے باز نہ آئے تو فلاں دن تم پر عذاب نازل ہوگا۔ جب اس دن عذاب نازل نہ ہوا تو قوم نے یونس (علیہ السلام) کو استہزاء کا نشانہ بنایا جس سے پریشان ہو کر یونس (علیہ السلام) اللہ تعالیٰ کا اِ ذن آنے سے پہلے ہی قوم کو چھوڑ کر ہجرت کے لیے نکل کھڑے ہوئے دریا عبور کرنے کے لیے بیڑے پر سوار ہوئے اس دوران بیڑا ڈگمگانے لگا۔ ملّاح کے کہنے پر یونس (علیہ السلام) دریا میں اتر گئے جونہی دریا میں اترے تو مچھلی نے انہیں نگل لیا۔ اس المناک صورتحال میں یونس (علیہ السلام) نے اپنے رب سے ان الفاظ میں معافی مانگی اور اس کی مدد طلب کی۔
” اور مچھلی والے کو ہم نے نوازا۔ یاد کرو جب وہ ناراض ہو کر چلا گیا تھا اور سمجھا کہ ہم اس پر گرفت نہیں کریں گے آخرکار اس نے تاریکیوں میں پکارا کہ تو پاک ہے اور تیرے سوا کوئی معبود نہیں بیشک میں نے ظلم کیا ہے۔ ہم نے اس کی دعا قبول کی اور اس کو غم سے نجات دی اور ہم مومنوں کو اسی طرح نجات دیا کرتے ہیں۔ “ (الانبیاء : 78، 88)
اللہ تعالیٰ نے یونس (علیہ السلام) کو مچھلی کے پیٹ سے باہر نکالا اور ان کی فریاد قبول کرتے ہوئے انہیں برگزیدہ فرمایا اور اپنے بندوں میں شامل رکھا۔ بندوں سے مراد انبیائے کرام (علیہ السلام) کی جماعت ہے۔ یونس (علیہ السلام) کا واقعہ بیان کرنے کا مقصد یہ ہے کہ اے نبی ﷺ ! حالات جس قدر بھی غمناک اور خطرناک ہوجائیں۔ آپ اور آپ کے ساتھیوں کو عقیدہ توحید اور دعوت حق پر قائم رہنا چاہیے۔ یادرکھیں ! کہ اللہ تعالیٰ بالآخر اپنے بندوں کی دعاؤں کو مستجاب کرتا ہے۔
” مَکْظُوْمٌ“ کا معنٰی ہے غم سے بھرا ہوا، مصیبت زدہ اور غصے سے بھرپور۔ مذموم کا معنٰی ہے ملامت کیا ہوا۔
مسائل
1۔ نبی معظم ﷺ اپنے بیگانوں پر کسی قسم کی بوجھ نہ تھے۔
2۔ اللہ تعالیٰ نے یونس (علیہ السلام) کی فریاد کو قبول فرمایا اور انہیں انبیائے کرام (علیہ السلام) کی جماعت شامل رکھا۔
3۔ مومن کو ہر حال میں صبر اور حوصلے سے کام لینا چاہیے۔ 4۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی دعائیں قبول کرنے والا ہے۔
تفسیر بالقرآن
صبر کی فضیلت اور اس کا صلہ :
ا۔ صبر اہم کاموں میں اہم ترین کام ہے۔ (الاحقاف : 35) 2۔ نبی ﷺ کو صبر کا حکم دیا گیا۔ (المعارج : 5)
3۔ اللہ تعالیٰ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔ (البقرۃ : 153) 4۔ صبر کا انجام بہتر ہوتا ہے۔ (الحجرات : 5)
5۔ صبر کرنے والے کامیاب ہوں گے۔ (المومنون : 111) 6۔ مسلمان صابر کی آخرت اچھی ہوگی۔ (الرعد : 24)
7۔ صبر کرنے والوں کو جنت میں سلامتی کی دعائیں دی جائیں گی۔ (الفرقان : 75)
Ayahs 68:51–52فہم القرآن
ربط کلام : اس آیت سے چند آیات پہلے یہ ارشاد ہوا کہ اے پیغمبر ﷺ ! ان لوگوں کو ان کی حالت پر چھوڑ دیں جو ہمارے ارشادات کی تکذیب کرتے ہیں ان کی حالت یہ ہے جب آپ ان کو نصیحت کرتے ہیں تو آپ کو ڈراؤنی آنکھوں سے دیکھتے ہیں اور آپ کو مجنون کہتے ہیں حالانکہ آپ انہیں قرآن مجید کے ساتھ نصیحت کرتے ہیں جو ان کے لیے نازل کیا گیا ہے۔
نبی (علیہ السلام) کسی پر کسی اعتبار سے بھی بوجھ نہ تھے لیکن اس کے باوجود کفار اور مشرکین آپ کی مخالفت کرتے اور آپ پر الزامات لگاتے تھے۔ حالانکہ نبی کریم ﷺ نبوت سے پہلے بھی کفار میں انتہائی سمجھدار اور محترم جانے جاتے تھے۔ کفار مشکل وقت میں آپ ﷺ سے فیصلے کرواتے اور اپنی امانتیں آپ کے پاس رکھا کرتے تھے، لیکن جونہی آپ نے اپنی دعوت کا آغاز کیا تو مشرک آپ کو استہزاء کا نشانہ بناتے اور آپ پر کئی قسم کے الزامات لگاتے تھے۔ ان کے الزامات میں ایک الزام یہ تھا کہ اس کا دماغ چل چکا ہے حالانکہ آپ ﷺ کا کوئی فرمان اور عمل ایسا نہ تھا جس میں رتی برابر بھی شائبہ پایا جائے کہ آپ کی عقل میں فتور آچکا ہے آپ فطری طور پر بڑے مدبّر انسان تھے۔ نبوت کے بعد آپ کے تدبر میں اتنا اضافہ ہوا کہ جس تک پہنچنا کسی انسان کے بس کی بات نہیں۔ آپ ﷺ ہر اعتبار سے کامل اور اکمل انسان، خاتم المرسلین اور امام الانبیاء تھے۔ لیکن اس کے باوجود آپ کے مخالف آپ کو دیوانہ کہتے تھے، جب آپ انہیں سمجھاتے اور خطاب فرماتے تو وہ آپ کو اس طرح ڈراؤنی اور نفرت انگیز نظروں سے دیکھتے جیسے آنکھوں آنکھوں میں آپ کو کھا جائیں گے حالانکہ آپ جو کچھ انہیں بتلاتے اور سمجھاتے تھے وہ قرآن تھا جو رب العالمین کی طرف سے نصیحت کے طور پر نازل کیا گیا ہے۔
نبی کریم ﷺ مکہ کی تیرہ سالہ نبوت کی زندگی میں شب وروز کفار کو سمجھا تے رہے کہ آؤ اس دعوت کو قبول کرو اور جنت کے وارث بن جاؤ گے لیکن بدنصیبوں کا حال یہ تھا کہ وہ آپ کی دعوت قبول کرنے کی بجائے آپ کو دیوانہ کہتے تھے، اس صورت حال میں اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو اطمینان دلاتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ آپ کو ان کی یا وہ گوئی کی طرف توجہ نہیں کرنی چاہیے کیونکہ آپ اپنے رب کے فضل سے دیوانہ نہیں ہیں۔ پاگل تو وہ ہیں جو بیک وقت متضاد باتیں کر رہے ہیں ان کے پاگل پن کی دلیل یہ ہے کہ ایک طرف آپ کو کاہن کہتے ہیں اور دوسری طرف آپ کو مجنون کہتے ہیں حالانکہ مجنون اور کاہن کے درمیان زمین و آسمان کا فرق ہوتا ہے۔ کاہن اور دیوانے کا فرق صفحہ 676 پر ملاحظہ فرمائیں۔
مسائل
1۔ نبی ﷺ توحید کی دعوت دیتے تو کفار آپ کو اس طرح گھور گھور کر دیکھتے جیسے وہ آنکھوں آنکھوں میں آپ کو کھا جائیں گے۔
2۔ مشرکین لوگوں کو آپ کی دعوت سے دور کرنے کے لیے آپ کو دیوانہ کہتے تھے۔
3۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید کو لوگوں کی نصیحت کے لیے نازل فرمایا ہے۔
تفسیر بالقرآن
انبیاء کرام (علیہ السلام) پر کفار کے الزامات :
1۔ حضرت نوح (علیہ السلام) کو ان کی قوم نے کہا کہ ہم تمہیں جھوٹا تصور کرتے ہیں۔ (ہود : 27)
2۔ کفار نے تمام انبیاء ( علیہ السلام) کو جادوگر اور دیوانہ قرار دیا۔ (الذاریات : 52)
3۔ نبی ﷺ کو اہل مکہ نے جادوگر کہا۔ (الصف : 6) 4۔ کفار آپ ﷺ کو شاعر قرار دیتے تھے۔ (الطور : 30)
5۔ قوم فرعون نے موسیٰ (علیہ السلام) کو جادوگر ہونے کا الزام لگایا۔ (القصص : 36)
6۔ کفار نبی کریم ﷺ کو جادوگر کہا کرتے تھے۔ (یونس : 3)
7۔ کفار آپ کو کاہن اور مجنون کہتے تھے اللہ تعالیٰ نے جواباً فرمایا کہ آپ کاہن اور مجنون نہیں ہیں۔ (الطور : 29)
8۔ کفار آپ پر الزام لگاتے تھے کہ آپ قرآن مجید خود بنا لیتے ہیں۔ (النحل : 101)
9۔ کفار نبی اکرم کو جادوگر اور کذاب کہتے تھے۔ (ص : 4)
10۔ ظالموں نے کہا تم جادو کیے گئے شخص کی پیروی کرتے ہو۔ (الفرقان : 8)
11۔ کفار نے کہا کہ آپ ﷺ نے قرآن کو خودبنالیا ہے۔ (ہود : 35)
12۔ کفار کے سامنے جب حق آیا تو انہوں نے کہا یہ تو جادو ہے۔ (سبا : 43)
13۔ کفارکہتے ہیں کہ آپ ﷺ مجنوں ہیں۔ (القلم : 51)
14۔ کفار نے کہا کیا ہم اپنے معبودوں کو شاعر ومجنوں کی خاطر چھوڑ دیں ؟ (الصافات : 36)