Ayahs 67:1–2فہم القرآن
ربط سورت : سورة التحریم کا اختتام اچھے اور برے کردار کے بیان پر ہوا یہی انسان کی تخلیق کا مقصد ہے کہ اسے آزمایا جائے کہ یہ اچھے عمل کرتا ہے یا برے۔
” اللہ “ ہی کے ہاتھ میں زمین و آسمان کی بادشاہی ہے اور وہ بڑا ہی برکت والا اور ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے۔
تبارک کا دوسرا معنٰی کثرت خیر اور دوام خیر بھی کیا گیا ہے۔
ملک سے مراد ساری کائنات اور اس کی بادشاہی ہے۔ اس فرمان میں بیک وقت مادہ پرست سائنسدانوں اور مشرکانہ عقائد رکھنے والوں کی تردید کی گئی ہے۔ جو سائنسدان سمجھتے ہیں کہ یہ کائنات بگ بینگ (BIG BANG) کے ذریعے خود بخود معرض وجود میں آئی اور اسے کوئی بنانے اور چلانے والا نہیں ہے۔ مشرک یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے کائنات کا نظام چلانے کے لیے کچھ اختیارات دوسری ہستیوں کو بھی سونپ رکھے ہیں۔ ان کی تردید کے لیے فرمایا کہ بابرکت ہے وہ ذات جس کے ہاتھ میں پوری کائنات اور اس کی بادشاہی ہے۔ کائنات کا نظام چلانے کے لیے نہ اس کا کوئی معاون ہے اور نہ مدد گار، اسے کسی کی معاونت کی ضرورت نہیں کیونکہ وہ ہر چیز پر اقتدار اور اختیار رکھتا ہے۔ اسی نے موت اور زندگی پیدا فرمائی ہے تاکہ تمہیں آزمائے کہ تم میں سے کون اچھے عمل کرتا ہے۔ وہ ظالموں پر غلبہ پانے والا اور نیک بندوں کو معاف کرنے والا ہے۔ یہاں موت کا تذکرہ حیات سے پہلے کیا گیا ہے کیونکہ انسان اور پوری کائنات عدم سے وجود میں آئی ہے۔ گویا کہ پہلے موت پھر زندگی پھر موت اور پھر زندگی ہے۔ ( البقرۃ : 28) وہی موت وحیات پر اختیار رکھنے والا ہے۔ کوئی چیزنہ اپنی مرضی سے پیدا ہوتی ہے اور نہ ” اللہ “ کے حکم کے بغیر کسی کو موت آتی ہے۔ اس نے عدم کے بعد زندگی اور زندگی کے بعد موت کا سلسلہ اس لیے جاری کیا ہے تاکہ وہ آزمائے کہ کون بہتر عمل کرتا ہے۔ دین کے اعتبار سے بہتر عمل وہ ہے جس کا اللہ اور اس کے رسول نے حکم دیا ہے جو شخص اس کے مطابق عمل نہیں کرتا وہ چھوٹا ہو یا بڑا، امیرہو یا غریب، راعی ہو یا رعایا اس سے ضرور پوچھا جائے گا۔ جس نے اللہ اور اس کے رسول کا حکم مانا لیکن بتقاضا بشریت اس سے گناہ ہوگئے اللہ تعالیٰ اسے معاف کرے گا کیونکہ وہ معاف کرنے والا ہے۔
(وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ ؓ قَالَ اَخَذَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ بِبَعْضِ جَسَدِی فَقَالَ کُنْ فِی الدُّنْیَا کَأَنَّکَ غَرِیْبٌ أَوْ عَابِرُ سَبِیْلٍ وَعُدَّ نَفْسَکَ مِنْ أَھْلِ القُبُوْرِ.) (رواہ الترمذی : بَابُ مَا جَاءَ فِی قِصَرِ الأَمَلِ ، قال الالبانی ھٰذا حدیث صحیح)
حضرت ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی محترم ﷺ نے میرا کندھا پکڑکر اور فرمایا دنیا میں اجنبی یا مسافر کی طرح رہو اور اپنے آپ کو اہل قبور میں شمار کرو۔
(عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ؓ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ لِرَجُلٍ وَہُوَ یَعِظُہٗ اِغْتَنِمْ خَمْسًا قَبْلَ خَمْسٍ شَبَابَکَ قَبْلَ ہَرَمِکَ وَصِحَّتِکَ قَبْلَ سَقْمِکَ وَغِنَاکَ قَبْلَ فَقْرِکَ وَفِرَاغَکَ قَبْلَ شُغُلِکَ وَحَیَاتَکَ قَبْلَ مَوْتِکَ ) (رواہ الحاکم : کتاب الرقاق، قال الحاکم ہذا حدیث صحیح علی شرط الشیخین)
” حضرت عبداللہ بن عباس ؓ رسول اللہ ﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ آپ ﷺ ایک آدمی کو نصیحت فرما رہے تھے پانچ چیزوں کو پانچ چیزوں سے پہلے غنیمت جانو، جوانی کو بڑھاپے سے پہلے، تندرستی کو بیماری سے پہلے، خوشحالی کو تنگدستی سے پہلے فراغت کو مصروفیت سے پہلے اور زندگی کو موت سے پہلے۔ “
مسائل
1۔ اللہ تعالیٰ بڑا ہی بابرکت ہے۔ 2۔ اللہ تعالیٰ ساری کائنات کا مالک اور اس کا بادشاہ ہے۔
3۔ اللہ تعالیٰ نے لوگوں کو آزمانے کے لیے موت اور زندگی کا سلسلہ بنایا ہے۔
4۔ اللہ تعالیٰ دیکھنا چاہتا ہے کہ کون شخص بہتر عمل کرتا ہے۔
5۔ اللہ تعالیٰ قادر مطلق اور ہر چیز پر غالب ہونے کے باوجود معاف کرنے والا ہے۔
تفسیر بالقرآن
انسان سب سے بہتر ہے اور اسے بہترین عمل کرنے کا حکم دیا گیا ہے :
1۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو احسن التقویم بنایا ہے۔ ( التین : 4) 2۔ اللہ تعالیٰ نے احسن حدیث اتاری ہے۔ (الزمر : 33)
3۔ اللہ تعالیٰ کی توحید کی دعوت دینا احسن بات ہے۔ (حم ٓ السجدۃ : 33)
4۔ برائی کا جواب اچھائی سے دینا احسن طریقہ ہے۔ (حم ٓ السجدۃ : 34) (النحل : 125) ( الملک : 2)
Ayahs 67:3–4فہم القرآن
ربط کلام : جس بابرکت ذات کے ہاتھ میں کائنات کی بادشاہی ہے اور جس نے موت وحیات کو پیدا کیا ہے اسی نے اوپر تلے سات آسمان بنائے ہیں۔
اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں زمین و آسمانوں کی تخلیق کا کئی مرتبہ ذکر فرمایا ہے۔ ان کے لیے کبھی ” جَعَلَ “ کا لفظ استعمال کیا اور کبھی ” خَلَقَ “ کا لفظ استعمال فرمایا ہے۔ مفہوم کے اعتبار سے دونوں الفاظ کا ایک ہی معنٰی بنتا ہے۔ لیکن موقع محل کے مطابق ان کے استعمال میں بڑی لطافت پائی جاتی ہے۔ کبھی زمین و آسمانوں کی تخلیق اور بناوٹ کا بیک وقت ذکر کیا اور کبھی دونوں کا الگ الگ بیان کیا ہے۔ یہاں صرف آسمانوں کی تخلیق کا ذکر فرمایا اور ان کے بارے میں ” طَبَقًا “ کا لفظ استعمال کیا ہے جس کا معنٰی تہہ بہ تہہ اور اوپر نیچے کیا گیا ہے۔ ارشاد ہوا کہ اے دیکھنے والے ! تو الرّحمن کی تخلیق میں کسی قسم کا نقص نہیں دیکھے گا، پھر آنکھ اٹھا کر دیکھ ! کیا آسمان میں کسی قسم کا شگاف، جھکاؤ اور خلل نظر آتا ہے ؟ اگر تجھے یقین نہیں آتا تو بار بار دیکھ ! تو آسمان میں کوئی نقص نہیں دیکھ پائے گا البتہ تیری نظر تھک کر ضرور پلٹ آئے گی۔
(عَنِ الْحَسَنِ قَالَ قَالَتِ الْیَہُودُ خَلَقَ اللّٰہ تبارک وتعالی السماوات والأَرْضَ فِی سِتَّۃِ أَیَّامٍ وَاسْتَرَاحَ فِی الْیَوْمِ السَّابِعِ فَأَنْزَلَ اللّٰہُ تَبَارَکَ وَتَعَالَی عَلَی نَبِیِّہِ ﷺ (وَلَقَدْ خَلَقْنَا السَّمَاوَاتِ وَمَا بَیْنَہُمَا فِی سِتَّۃِ أَیَّامٍ وَمَا مَسَّنَا مِنْ لُّغُوْبٍ ) ( المجالسۃ وجواھر العلم، ج : 6)
” حضرت حسن (رح) بیان کرتے ہیں کہ یہودیوں نے کہا : اللہ تعالیٰ نے آسمان و زمین کو چھ دن میں پیدا کیا اور ساتویں دن آرام فرمایا تو اللہ تعالیٰ نبی ﷺ پر یہ آیت نازل فرمائی۔ (وَلَقَدْ خَلَقْنَا السَّمَاوَاتِ وَلْاَرْضَ وَمَا بَیْنَہُمَا فِی سِتَّۃِ أَیَّامٍ وَمَا مَسَّنَا مِنْ لُّغُوْبٍ ) ” ہم نے زمین اور آسمانوں کو اور جو ان کے درمیان چیزیں ہیں انہیں چھ دنوں میں پیدا کیا اور ہمیں کوئی تھکان نہیں ہوئی۔ “ (قٓ: 38)
” حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ نبی اکرم ﷺ اور آپ کے صحابہ ؓ بیٹھے ہوئے تھے کہ اچانک موسم ابرآلود ہوگیا آپ ﷺ نے صحابہ سے پوچھا کیا تم اس کے بارے میں جانتے ہو ؟ صحابہ نے جواب دیا اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں۔ آپ نے فرمایا یہ بادل زمین کو سیراب کرنے والے ہیں، اللہ تعالیٰ ان بادلوں کو ان لوگوں سے لے جاتا ہے جو اس کا شکر ادا نہیں کرتے اور نہ ہی اس سے دعا کرتے ہیں۔ پھر آپ نے پوچھا تمہارے اوپر کیا چیز ہے ؟ صحابہ نے عرض کی اللہ اور اس کا رسول زیادہ علم رکھتے ہیں۔ آپ نے فرمایا ہے یہ محفوظ اور مضبوط چھت اور بند موج ہے۔ پھر آپ نے پوچھا تمہارے اور آسمان کے درمیان کتنا فاصلہ ہے۔ صحابہ نے کہا اللہ اور اس کا رسول زیادہ جانتے ہیں۔ آپ نے فرمایا تمہارے اور آسمان کے درمیان پانچ سو سال کی مسافت ہے۔ پھر آپ نے ارشاد فرمایا کیا تم جانتے ہو کہ اس کے اوپر کیا ہے ؟ صحابہ نے پھر کہا کہ اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں۔ آپ نے فرمایا اس کے اوپر ایک اور آسمان ہے اور ہر دو آسمانوں کے درمیان پانچ سو سال کی مسافت ہے۔ یہاں تک کہ آپ نے سات آسمان شمار کیے اور ہر دو آسمانوں کے درمیان اتنی ہی مسافت بیان کی۔ “
(رواہ الترمذی : بَابٌ وَمِنْ سُورَۃِ الحَدِیدِ ، قال الترمذی ہذا حدیث غریب من ہذا وجہ)
مسائل
1۔ اللہ تعالیٰ نے اوپر نیچے سات آسمان پیدا کیے ہیں۔ 2۔ باربار دیکھنے کے باوجود آسمان میں کوئی شگاف نظر نہیں آتا۔
تفسیر بالقرآن
زمین و آسمانوں کی تخلیق :
1۔ اللہ تعالیٰ نے بغیر نمونے کے زمین و آسمان بنائے۔ (البقرۃ : 117)
3۔ اس نے آسمان و زمین کو برابر کیا۔ (البقرۃ : 29) 4۔ آسمان کو چھت اور زمین کو فرش بنایا۔ (البقرۃ : 22)
5۔ زمین اور آسمانوں کو چھ دنوں میں بنایا۔ (الاعراف : 54)
6۔ اللہ تعالیٰ نے آسمانوں و زمین کو برحق پیدا کیا ہے اللہ شرک سے بالا تر ہے۔ (النحل : 3)
7۔ اللہ تعالیٰ نے پہلے سے موجود بغیر نمونے اور میٹریل کے زمین و آسمانوں کو پیدا کیا۔ (البقرۃ : 117)
8۔ زمین و آسمان پہلے آپس میں جڑے ہوئے تھے۔ پھر اللہ نے انہیں ایک دوسرے سے الگ کیا۔ (الانبیاء : 30)
9۔ اللہ تعالیٰ نے دو دن میں آسمانوں کو پیدا کیا۔ (حٰم السجدۃ : 12) (الاعراف : 54)
Ayah 67:5فہم القرآن
ربط کلام : پہلے آسمان کی خصوصیت اور خوبصورتی۔
قرآن مجید میں یہ بات کئی مقامات پر بیان ہوئی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے پہلے آسمان کو ستاروں سے مزّین فرمایا ہے۔ ستاروں کے کئی فائدے ہیں، ان میں سے ایک فائدہ یہ بھی ہے کہ لوگ ستاروں کے ذریعے راستوں کی راہنمائی حاصل کرتے ہیں اور انہی ستاروں سے آسمان دنیا کی حفاظت کا بندو بست کیا گیا ہے۔ کیونکہ شیاطین آسمان دنیا کے دروازوں کے قریب جا کر ملائکہ کی گفتگو سننا چاہتے ہیں تو ستارے شیاطین پر انگارے بن کر برستے ہیں اس طرح شاتطین پر مستقل طور پر عذاب مسلّط کردیا گیا ہے۔
اس بندوبست سے پہلے شیاطین آسمان کے قریب جا کر ملائکہ کی کچھ نہ کچھ باتیں سن کر کاہنوں، نجومیوں اور اس قسم کے لوگوں کے دلوں میں جھوٹ، سچ ملا کر کوئی بات ڈال دیتے تھے۔ اسے آٹھویں پارے میں یوں بیان کیا گیا ہے۔
” تاکہ جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے ان کے دل اس جھوٹ کی طرف مائل ہوں اور وہ اسے پسند کریں اور تاکہ وہ، وہ برائیاں کریں۔ “ (الانعام : 113)
اہل مکہ اسی بات کو نبی ﷺ پر چسپاں کرتے اور کہتے کہ محمد ﷺ کے پاس فرشتہ نہیں بلکہ شیطان آتے ہیں جو پہلے لوگوں کے واقعات سنانے کے ساتھ اسے مزید باتیں بتاتے ہیں۔ اس الزام کی یہاں مجمل الفاظ میں تردید کی گئی ہے۔ انیسویں پارے میں کھلے الفاظ میں وضاحت فرمائی۔
” کیا میں تمہیں بتلاؤں کہ شیاطین کن لوگوں پر نازل ہوتے ہیں وہ ہر ایک جھوٹے اور گنہگار پر اترتے ہیں اور انہیں سنی سنائی باتیں پہاچ تے ہیں۔ “ (الشعراء : 221 تا 223)
خالقِ کائنات کا ارشاد ہے کہ ہم نے آسمان میں برج بنائے اور دیکھنے والوں کے لیے اسے خوبصورت بنایا اور شیاطین سے انہیں محفوظ کردیا۔ اگر کوئی شیطان چوری چھپے سننا چاہے تو ایک روشن اور بھڑکتا ہوا شعلہ اس کا تعاقب کرتا ہے۔ پہلے زمانے میں فلکیات کا علم رکھنے والے ماہرین نے آسمان دنیا کے بارہ برج متعین کر رکھے ہیں مگر قرآن مجید کے بروج سے مراد وہ برج نہیں ہیں۔ بروج سے مراد کچھ اہل علم نے پہلے آسمان کے دروازے لیے ہیں، جن دروازوں کے ذریعے ملائکہ زمین پر اترتے اور پھر آسمان میں داخل ہوتے ہیں۔ قرآن مجید کے الفاظ سے یہ نتیجہ اخذ کرنے کی گنجائش موجود ہے۔ ہوسکتا ہے کہ بروج سے مراد آسمان کے دروازوں میں ڈیوٹی دینے والے چوکیدار ملائکہ ہوں جن کو اللہ تعالیٰ نے شہاب ثاقب کی صورت میں اسلحہ دے رکھا ہو جن سے وہ شیاطین کو بھگاتے ہیں۔ اکثر علماء نے بروج سے مراد ستارے اور سیارے لیے ہیں جن سے آسمان کو خوبصورت اور محفوظ بنایا گیا ہے۔ حدیث رسول ﷺ سے برج کے بارے میں ہمیں کوئی وضاحت نہیں ملتی، البتہ آپ ﷺ نے آسمان کی حفاظت اور شیاطین کے تعاقب کے بارے میں یہ ارشاد فرمایا ہے :
” حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ انہیں نبی ﷺ کی یہ حدیث پہنچی جب اللہ تعالیٰ آسمان میں کسی کام کا فیصلہ فرماتا ہے تو فرشتے عاجزی کے ساتھ اپنے پر ہلاتے ہیں جس طرح کہ چٹان پر پھوار پڑتی ہے حضرت علی ؓ فرماتے ہیں کہ ملائکہ اس حکم کا نفاذ کرتے ہیں جب ان کے دلوں سے گھبراہٹ دور ہوجاتی ہے تو کہتے ہیں تمہارے رب نے کیا فرمایا وہ کہتے ہیں حق فرمایا۔ وہی سب سے بلند وبالا ہے پس شیاطین اسے چوری چھپے سنتے ہیں اور ان کے سننے کا طریقہ یہ ہے کہ ایک دوسرے کے کندھوں پر سوار ہوتے ہوئے آسمان تک پہنچنے کی کوشش کرتے ہیں۔ سفیان نے اپنے ہاتھوں کو ایک دوسرے کے اوپر رکھتے ہوئے اسے بیان کیا۔ بسا اوقات سننے والے شیطان پر شہاب ثاقب لپکتا ہے پہلے اس کے کہ وہ اس بات کو اپنے ساتھی تک پہنچائے وہ اس کو جلا دیتا ہے اور بسا اوقات شہاب ثاقب اسے نہیں پہنچتا یہاں تک کہ شیطان وہ بات نیچے والوں تک پہنچا دیتا ہے۔ یہ بات چلتے چلتے زمین والوں تک پہنچ جاتی ہے ابو سفیان کہتے ہیں یہاں تک کہ وہ اس بات کو زمین والوں تک پہنچا دیتا اور اسے جادو گر کے کان میں ڈالتے ہیں۔ وہ اس کے ساتھ سو جھوٹ ملاتا ہے اس کی ایک بات کی وجہ سے اس کی تصدیق ہوجاتی ہے وہ کہتا ہے میں نے فلاں فلاں موقع پر تمہیں فلاں فلاں بات نہیں بتلائی تھی جو حق ثابت ہوئی تھی اس وجہ سے کہ وہ بات انھوں نے آسمان سے سنی ہوتی ہے۔ “ (رواہ البخاری : باب قَوْلِہِ (إِلَّا مَنِ اسْتَرَقَ السَّمْعَ فَأَتْبَعَہُ شِہَابٌ مُّبِیْنٌ)
مسائل
1۔ اللہ تعالیٰ نے آسمان دنیا یعنی پہلے آسمان کو ستاروں سے مزین فرمایا ہے۔
2۔ اللہ تعالیٰ نے ستاروں کو شیطان کے لیے شباب ثاقب بنادیا ہے۔
3۔ اللہ تعالیٰ نے شیاطین کے لیے جلادینے والاعذاب تیار کیا ہے۔
تفسیر بالقرآن
ستاروں کے فوائد :
1۔ ہم نے آسمان میں برج بنائے اور دیکھنے والوں کے لیے انھیں آراستہ کیا۔ (الحجر : 16)
2۔ بابرکت ہے وہ ذات جس نے آسمان میں برج بنائے۔ (الفرقان : 61)
3۔ اللہ تعالیٰ نے آسمان کو ستاروں سے سجایا۔ (البروج : 1)
4۔ ہم نے آسمان دنیا کو ستاروں سے آراستہ کردیا ہے۔ (الصافات : 6)
5۔ ہم نے آسمان دنیا کو ستاروں سے مزین کیا اور شیطانوں سے محفوظ کردیا۔ (حٰم السجدۃ : 12) (ق : 6)
Ayahs 67:6–11فہم القرآن
ربط کلام : شیاطین جن میں سے ہوں یا انسانوں سے ان کے لیے اللہ تعالیٰ نے جہنم تیار کر رکھی ہے۔
جو لوگ شیاطین کا کردار اختیار کرتے ہیں، حقیقت میں وہ اپنے رب کے ساتھ کفر کرتے ہیں۔ ان کے لیے جہنم تیار کی گئی ہے جو نہایت ہی برا ٹھکانہ ہے۔ جہنم کی آگ اس قدر جوش مار رہی ہوگی کہ اس سے مختلف قسم کی خوفناک آوازیں نکلیں گی۔ دیکھنے اور سننے والوں کو یوں لگے گا جیسے جہنم اپنے جوش اور زور سے پھٹ جائے گی۔ جب جہنمی کو گروہ در گروہ جہنم میں ڈالا جائے گا تو جہنم کے داروغے ان سے پوچھیں گے کہ کیا تمہارے پاس جہنم سے ڈرانے والے نہیں آئے تھے ؟ جہنمی اقرار کریں گے کیوں نہیں ! ہمارے پاس ڈرانے والے آئے تھے لیکن ہم نے انہیں جھٹلایا اور کہا کہ تم سب کچھ اپنی طرف سے کہتے ہو۔ اللہ تعالیٰ نے کوئی ایسی بات نازل نہیں کی، یہاں تک کہ ہم نے انہیں یہ بھی کہا کہ تم خود کھلی گمراہی میں پڑے ہوئے ہو، جہنم کے عذاب میں مبتلا ہوں گے تو آہ و بکا کرتے ہوئے کہیں گے کہ کاش ! ہم ڈرانے والوں کی بات توجہ سے سنتے اور اس پر غور کرتے اور آج جہنمیوں میں شامل نہ ہوتے۔ باربار اپنے گناہوں کا اعتراف کرنے کے باوجود وہ اللہ کی رحمت سے دور رہیں گے ان کے لیے جہنم سے نجات کی کوئی صورت نہیں ہوگی، کیونکہ وہ اپنے رب کے ساتھ کفر و شرک کیا کرتے تھے۔ یاد رہے کہ ہدایت پانے کے لیے ضروری ہے کہ انسان اللہ اور اس کے رسول کی بات کو توجہ سے سنے اور اس پر غوروفکر کرے تاکہ وہ صراط مستقیم پر گامزن ہوجائے، ہدایت پانے کے لیے یہ شرط ہے۔
(اِِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَذِکْرٰی لِمَنْ کَانَ لَہٗ قَلْبٌ اَوْ اَلْقَی السَّمْعَ وَہُوَ شَہِیْدٌ) (قٓ: 37)
” اس میں عبرت کا سبق ہے ہر اس شخص کے لیے جو دل رکھتا ہو، یا جو بات کو توجہ سے سننے والا ہو۔ “
جو لوگ اللہ اور اس کے رسول کے فرمان پر توجہ نہیں دیتے، قرآن مجید نے انہیں چوپاؤں سے بدتر قرار دیا ہے اور ان کا ٹھکانہ جہنم ہے۔
(وَ لَقَدْ ذَرَاْنَا لِجَہَنَّمَ کَثِیْرًا مِّنَ الْجِنِّ وَ الْاِنْسِ لَہُمْ قُلُوْبٌ لَّا یَفْقَہُوْنَ بِہَا وَلَہُمْ اَعْیُنٌ لَّا یُبْصِرُوْنَ بِہَا وَلَہُمْ اٰذَانٌ لَّا یَسْمَعُوْنَ بِہَا اُولٰٓءِکَ کَالْاَنْعَامِ بَلْ ہُمْ اَضَلُّ اُولٰٓءِکَ ہُمُ الْغٰفِلُوْنَ ) (الاعراف : 179)
” اور بلاشبہ ہم نے بہت سے جن اور انسان جہنم کے لیے پیدا کیے ہیں ان کے دل ہیں جن سے وہ سمجھتے نہیں اور ان کی آنکھیں ہیں جن سے وہ دیکھتے نہیں اور ان کے کان ہیں جن سے وہ سنتے نہیں یہ لوگ چوپاؤں جیسے ہیں بلکہ زیادہ بھٹکے ہوئے ہیں یہی ہیں جو بالکل غافل ہیں۔ “ (الاعراف : 179)
(عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ؓ عَنِ النَّبِیِّ ﷺ قَالَ أُوقِدَ عَلَی النَّارِ أَلْفَ سَنَۃٍ حَتَّی احْمَرَّتْ ثُمَّ أُوقِدَ عَلَیْہَا أَلْفَ سَنَۃٍ حَتَّی ابْیَضَّتْ ثُمَّ أُوقِدَ عَلَیْہَا أَلْفَ سَنَۃٍ حَتَّی اسْوَدَّتْ فَہِیَ سَوْدَاءُ مُظْلِمَۃٌ) ( رواہ الترمذی : کتاب صفۃ جہنم)
” حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول معظم ﷺ نے فرمایا ایک ہزار سال تک دوزخ کی آگ کو بھڑکا یا گیا یہاں تک کہ وہ سرخ ہوگئی پھر اس کو ایک ہزار سال تک جلایا گیا تو وہ سفید ہوگئی پھر اس کو ایک ہزار سال تک جلایا گیا یہاں تک کہ وہ سیاہ ہوگئی اب اس کا رنگ سیاہ ہے۔ “
(اِِنَّہَا تَرْمِی بِشَرَرٍ کَالْقَصْرِ ) (المرسلات : 32)
” اس آگ کے محلات جیسی بڑی بڑی چنگاریاں پھینکے گی۔ “
مسائل
1۔ جوش کی وجہ سے جہنم کی آگ سے مختلف قسم کی آوازیں نکلیں گی۔
2۔ جہنم کی آگ میں اس قدر تیزی اور جوش ہوگا کہ دیکھنے والے کو یوں لگے گا جیسے جہنم ابھی پھٹ جائے گی۔
3۔ جہنم کے داروغوں کے سوال کے جواب میں جہنمی اعتراف کریں گے کہ ہمارے پاس جہنم سے ڈرانے والے آئے تھے۔ 4۔ جہنمی لوگ دنیا میں انبیاء اور علماء کو گمراہ قرار دیتے تھے۔
5۔ جہنمی اپنے گناہوں کا اقرار کرتے ہوئے کہیں گے کہ کاش ! ہم جہنم سے ڈرانے والوں کی بات کو توجہ سے سنتے اور اس پر غور کرتے۔
6۔ کفار اور مشرکین اپنے رب کی رحمت سے ہمیشہ ہمیش کے لیے دور ہوں گے۔
تفسیر بالقرآن
عقل وفکر کی حیثیت اور جہنمی کا اپنے گناہوں کا اعتراف کرنا :
1۔ حق پہچاننے کے لیے آفاق پر غور کرنے کی دعوت۔ (حٰمٓ السجدۃ : 53)
2۔ اپنی ذات پر غور وفکر کی دعوت۔ (الذاریات : 21) 3۔ رات کے سکون پر غور کرنے کی دعوت۔ (القصص : 72)
4۔ دن رات کے بدلنے میں غور و خوض کی دعوت۔ (المومنون : 80) 5۔ شہد کی بناوٹ پر غور کرنے کی دعوت۔ (النحل : 69)
6۔ ہم نے بابرکت کتاب نازل کی تاکہ لوگ اس کی آیات میں غور و فکر کریں اور نصیحت حاصل کریں۔ (ص : 29)
7۔ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ جہنمیوں سے فرمائے گا کیا آج کا عذاب برحق نہیں ہے ؟ وہ کہیں گے کیوں نہیں۔ (الاحقاف : 34)
8۔ ہر جہنمی کی خواہش ہوگی کہ دنیا میں واپس بھیج دیا جائے۔ (الانعام : 27 تا 28)
9۔ اے رب ہمارے ! ہمیں یہاں سے نکال ہم پہلے سے نیک عمل کریں گے۔ (الفاطر : 37)
10۔ اے رب ہمارے ! ہم کو یہاں سے نکال اگر دوبارہ ایسا کریں تو بڑے ظالم ہوں گے۔ (المؤمنون : 107)
Ayahs 67:12–14فہم القرآن
ربط کلام : جو لوگ اپنے رب سے ڈرگئے اور اس کی نافرمانی سے بچتے رہے ان کا اجر۔
دنیا میں بیشمار ایسے لوگ ہوتے ہیں جو برائی سے اس لیے نہیں بچتے کہ اللہ تعالیٰ نے اس سے بچنے کا حکم دیا ہے۔ وہ ملکی قانون، خاندانی روایات یا پھر معاشرے کے خوف کی وجہ سے برائی سے اجتناب کرتے ہیں۔ ایسا کرنا اچھی بات ہے اور اس کا دینا میں فائدہ ہوتا ہے لیکن قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے ہاں وہی لوگ اجر پائیں گے جو اللہ کے خوف کی وجہ سے برائی سے بچتے ہیں۔ ان سے جو گناہ بتقاضا بشریت ہوگا اللہ تعالیٰ نہ صرف اسے معاف فرمائے گا بلکہ انہیں اجر کبیر سے بھی ہمکنار کرے گا۔ اللہ تعالیٰ سے غائب میں ڈرنے کا یہ معنٰی نہیں کہ کوئی چیز اللہ تعالیٰ سے پوشیدہ ہے۔ غائب سے مرادوہ کام اور چیز ہے جو انسان ایک دوسرے سے چھپا سکتا ہے یا انسان کی آنکھوں سے اوجھل ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ کے لیے ظاہر اور پوشیدہ برابر ہے۔
” اللہ جانتا ہے جو ہر مادہ اٹھائے ہوئے ہے اور رحم جو کچھ کم کرتے ہیں اور جو زیادہ کرتے ہیں اور اس کے ہاں ہر چیز کا اندازہ مقرر ہے۔ وہ غیب اور ظاہر کو جاننے والا، بہت بڑا اور نہایت بلندو بالا ہے۔ برابر ہے اس کے لیے تم میں سے جو بات چھپا کر کرے یا اسے بلند آواز سے کرے۔ جو رات کو چھپا ہوا ہے اور جو دن کو ظاہر پھرنے والا ہے۔ اس کے لیے اس کے آگے اور اس کے پیچھے یکے بعد دیگرے مقرر کیے ہوئے نگران لگے ہوئے ہیں، جو اللہ کے حکم سے اس کی حفاظت کرتے ہیں۔ بیشک اللہ نہیں بدلتا کسی قوم کو، یہاں تک کہ وہ اپنے آپ کو خود بدل لے۔ “ (الرعد : 8 تا 11) اس لیے اس کا فرمان ہے کہ تم اپنی بات ظاہر کرو یا خفیہ رکھو۔ اسے اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کیونکہ وہ دلوں کے بھید جانتا ہے۔ سوچو اور غور کرو ! کیا جس نے انسان اور ہر چیز کو پیدا کیا ہے وہ کسی بات سے بیخبر ہوسکتا ہے ؟ ایسا ہرگز نہیں کیونکہ وہ باریک سے باریک تر چیز کی خبر رکھتا ہے۔
(عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ ؓ عَنْ النَّبِیِّ ﷺ قَالَ لَمَّا تَجَلّٰی اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ لِمُوْسیٰ ( علیہ السلام) کَانَ یَبْصُرُالنَّمْلَۃَ عَلیٰ الصَّفَا فِیْ الَّلیْۃِ الظُّلْمَاءِ مَسِیْرَۃَ عَشْرَۃِ فَرْسَخٍ ) ( تفسیر ابن کثیر، سورة الاعراف : 143)
” حضرت ابوہریرہ ؓ نبی ﷺ سے بیان کرتے ہیں آپ نے فرمایا جب اللہ نے موسیٰ (علیہ السلام) کے لیے تجلی فرمائی اس وقت وہ اندھیری رات میں دس فرسخ کے فاصلے سے پتھر پر چلنے والی چیونٹی کو دیکھ رہا تھا۔ “
(اِِلَّا مَنْ تَابَ وَاٰمَنَ وَعَمِلَ عَمَلًا صَالِحًا فَاُوْلٰٓءِکَ یُبَدِّلُ اللّٰہُ سَیِّاٰتِہِمْ حَسَنَاتٍ وَّکَان اللّٰہُ غَفُوْرًا رَحِیْمًا) (الفرقان : 70)
” ہاں جو توبہ کرے اور ایمان لاکرصالح عمل کرے ایسے لوگوں کی برائیوں کو اللہ تعالیٰ نیکیوں سے بدل دے گا کیونکہ اللہ غفورّرحیم ہے۔ “
مسائل
1۔ جو لوگ اپنے رب سے غائب کی حالت میں ڈرتے ہیں ان کے لیے بخشش اور اجر کبیر ہے۔
2۔ کوئی اپنی بات کو ظاہر کرے یا اسے چھپائے اللہ تعالیٰ اسے جانتا ہے۔ کیونکہ وہ دلوں کے بھید جاننے والا ہے۔
3۔ ہر انسان کو یہ معلوم ہونا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ باریک سے باریک تر چیز سے باخبر ہوتا ہے۔
تفسیر بالقرآن
اللہ تعالیٰ سے غائب کی حالت میں ڈرنے والے لوگوں کا صلہ اور مقام :
1۔ جو لوگ اللہ سے غیب میں ڈرتے ہیں ان کے لیے بخشش اور بڑا اجر ہے۔ (الملک : 12)
2۔ جو الرحمن سے غیب میں ڈرتے ہیں ان کے لیے بخشش کی خوشخبری ہے۔ (یٰس : 11)
3۔ آپ ﷺ ان لوگوں کو ڈرانے والے ہیں جو اپنے رب سے غیب میں ڈرتے ہیں اور نماز قائم کرتے ہیں۔ (الفاطر : 18)
4۔ غیب پر ایمان لانا، نماز قائم کرنا، اللہ کے دیئے ہوئے مال سے خرچ کرنا، قرآن مجید اور سابقہ کتب آسمانی پر ایمان لانا اور آخرت پر یقین رکھنے والوں کے لیے کامیابی ہے۔ (البقرۃ : 3، 4)
Ayah 67:15فہم القرآن
ربط کلام : جس رب نے انسان کو پیدا کیا ہے اسی نے انسان کے لیے زمین کو بنایا اور بچھایا ہے۔
اس سورت کی آیت 3 تا 5 میں آسمانوں کی تخلیق، تزئین اور حفاظت کا ذکر فرماکر انسان کو یہ حقیقت یاد کرائی گئی ہے کہ جس خالق نے سب کچھ پیدا کیا ہے وہ لوگوں کے سینوں کے رازوں سے واقف ہے اور جو رب لوگوں کے دلوں کے جذبات کو جانتا ہے اس نے ہی زمین کو اس قابل بنایا ہے تاکہ تم اس کے راستوں پر چلو اور اپنے رازق کا رزق کھاؤ اور یاد رکھو ! کہ تم نے اسی کے حضور پیش ہونا ہے۔ یہاں زمین کے لیے ” ذَلُوْلًا “ کا لفظ استعمال کیا ہے جس کا معنٰی نر م ہے۔ بیشک زمین میں پہاڑ اور چٹانیں بھی پائی جاتی ہیں مگر اللہ تعالیٰ نے ہر دور کے انسان کو فہم اور وسائل عطا فرمائے ہیں کہ وہ اپنی ضرورت کے مطابق زمین میں راستے بنائے اور انہیں ہموار کرے تاکہ وہ ایک مقام سے دوسرے مقام تک جاسکے۔ اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ صلاحیت کے سبب انسان نے زمین پر شاہرائیں بنائیں اور پہاڑوں کے سینے چیر کر راستے ہموار کیے یہاں تک کہ سمندر پر بھی راستے بنا لیے ہیں۔ جس سے ایک ملک کے وسائل اور اناج باآسانی دوسرے ملک میں پہنچ رہے ہیں۔ اس سے لوگوں کے رزق میں کشادگی پیدا ہوئی اور ایک دوسرے کے ساتھ تعلقات قائم کرنے میں آسانی میسر آئی۔ اگر اللہ تعالیٰ زمین پر راستے نہ بناتا اور انسان کو مواصلات کے ذرائع بنانے کی صلاحیت نہ دیتا تو لوگ اپنے اپنے علاقے میں قیدی بن کر رہ جاتے اور نہ ایک دوسرے کے وسائل سے فائدہ اٹھا سکتے تھے اور نہ ہی دنیا اس قدر ترقی کرسکتی تھی۔
مسائل
1۔ اللہ ہی نے زمین کو نرم بنایا اور اس پر راستے بنائے۔ 2۔ اللہ ہی لوگوں کو رزق دینے اور کھلانے والا ہے۔
3۔ ہر شخص نے اپنی اپنی قبر سے نکل کر اللہ کے حضور پیش ہونا ہے۔
تفسیر بالقرآن
ہرکسی نے ” اللہ “ کے حضور پیش ہونا ہے :
1۔ میں اسی کی طرف بلاتا ہوں اور اسی کی طرف مجھے واپس جانا ہے۔ (الرعد : 36)
2۔ اللہ کو ہی قیامت کا علم ہے اور اسی کی طرف تم نے لوٹنا ہے۔ (الزخرف : 85، مریم : 40، الزمر : 44، یونس : 56)
Ayahs 67:16–18فہم القرآن
ربط کلام : جس ذات نے تمہیں پیدا کیا اور زمین کو تمہارے لیے فرش کے طور پر بچھایا ہے کیا اس سے بےخوف ہو کر اس کی نافرمانیاں کرتے ہو۔ یاد رکھو اگر وہ چاہے تو نافرمانوں کو زمین میں دھنسا دے یا آسمان سے پتھروں کی بارش برسا کر انہیں نیست ونابود کر دے۔
جس رب کے حضور تم نے قبروں سے نکل کر پیش ہونا ہے وہ آسمانوں میں ہے۔ کیا تم اس سے بےخوف ہوگئے ہو کہ وہ زمین کو اس طرح ہلا دے کہ تمہیں زمین میں دھنسا کر رکھ دے۔ کیا تم اس ہستی سے بےپرواہ ہوگئے ہو جو آسمان میں ہے وہ چاہے تو تمہاری نافرمانیوں کی وجہ سے تم پر پتھروں کی بارش برسائے پھر تمہیں معلوم ہو کہ اس کا ڈرانا کیسا ہوتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ جو لوگ ان سے پہلے تھے وہ بھی ” اللہ “ کے ڈر سے بےخوف ہوگئے تھے۔ جب وہ ” اللہ “ کے ڈر سے بےخوف ہوئے تو ” اللہ “ نے کسی کو زمین میں دھنسا دیا اور کسی پر پتھروں کی بارش برسائی۔ غور کرو ! کہ میرا عذاب کیسا ہوگا ؟
اللہ تعالیٰ نے یہاں اپنے بارے میں دو مرتبہ اشارہ کیا ہے کہ وہ آسمان میں ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ آسمان کا اپنا وجود ہے لیکن یہاں آسمان سے مراد رفعت اور بلندی ہے۔ یہ مفہوم لینے کی اس لیے ضرورت ہے کہ اس کا ارشاد ہے کہ اللہ ہی تو ہے جس نے آسمانوں، زمین اور جو کچھ ان کے درمیان ہے اسے چھ دن میں پیدا فرمایا۔ پھر وہ عرش پر مستوی ہوا۔ ( السجدۃ : 3) دوسرے مقام پر فرمایا کہ یہ قرآن اس ذات کی طرف سے اتارا گیا ہے، جس نے زمین اور بلندو بالا آسمانوں کو پیدا کیا، وہ بڑا مہربان اور عرش پر متمکن ہے۔ ( طٰہٰ : 4، 5) ان دلائل کی روشنی میں ہمارا عقیدہ یہ ہونا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ اپنی ذات کے اعتبار سے عرش معلی پر جلوہ نما ہے اور اپنے علم، اقتدار اور اختیار کے اعتبار سے ہر جگہ موجود ہے۔
” معاویہ بن حکم ؓ بیان کرتے ہیں کہ میری ایک لونڈی تھی جو احد پہاڑ اور جوانیہ کے علاقہ میں میری بکریاں چرایا کرتی تھی۔ ایک دن میں نے دیکھا کہ میری بکریوں میں سے ایک بکری کو بھیڑیا اٹھا کرلے گیا ہے میں انسان تھا جس طرح دوسروں کو غصہ آتا ہے، مجھے بھی غصہ آگیا۔ میں نے اس لڑکی کے منہ پر طمانچہ دے مارا۔ اس حرکت کے بعد میں رسول مکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ آپ نے اسے میرا بڑا جرم قرار دیا۔ میں نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول ﷺ کیا میں اسے آزاد کردوں ؟ آپ ﷺ نے حکم دیا : اسے میرے پاس لاؤ میں لڑکی کو آپ کی خدمت میں لے گیا۔ آپ نے اس سے پوچھا کہ اللہ کہاں ہے ؟ اس نے جواب دیا آسمانوں میں ہے۔ پھر آپ نے پوچھا کہ میں کون ہوں ؟ اس نے جواب دیا : آپ ﷺ اللہ کے رسول ہیں۔ آپ نے فرمایا اسے آزاد کردو یہ ایمان دا رہے۔ “
(رواہ مسلم : باب تَحْرِیمِ الْکَلاَمِ فِی الصَّلاَۃِ وَنَسْخِ مَا کَانَ مِنْ إِبَاحَتِہِ )
” حضرت حذیفہ بن اسید غفاری ؓ بیان کرتے ہیں ہم نبی معظم ﷺ کے حجرہ مبارک کے سائے میں بیٹھے باتیں کر رہے تھے دوران گفتگو ہم نے قیامت کا ذکر کیا۔ باتیں کرتے ہوئے ہماری آوازیں بلند ہوگئیں۔ رسول معظم ﷺ نے فرمایا : قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک اس سے پہلے دس نشانیاں نہ پوری ہوجائیں۔ سورج کا مغرب سے طلوع ہونا، دابہ جانور کا نکلنا، یاجوج و ماجوج کا ظاہر ہونا، دجال کا آنا، عیسیٰ ابن مریم [ کا زمین پر نازل ہونا، دھواں کا ظاہرہونا اور زمین کا تین مرتبہ دھنسنا ایک مرتبہ مغرب میں، ایک مرتبہ مشرق میں اور ایک مرتبہ جزیرۃ العرب میں اور آخر میں آگ یمن سے عدن کی طرف رونما ہوگی جو لوگوں کو محشر کے میدان میں اکٹھا کرے گی۔ “ (رواہ ابوداؤد : باب أمارات الساعۃ، قال البانی صحیح)
مسائل
1۔ اللہ تعالیٰ چاہے تو مجرموں کو زمین میں دھنسا دے۔ 2۔ اللہ تعالیٰ چاہے تو آسمان سے ظالموں پر پتھروں کی بارش برسائے۔
3۔ اللہ تعالیٰ نے مکہ والوں سے پہلے کئی ظالموں کی گرفت کی۔ غور کرو ! اللہ کی پکڑ کس قدر سخت ہوگی۔
تفسیر بالقرآن
اللہ تعالیٰ کا ظالم اقوام کی گرفت کرنا :
1۔ قوم نوح طوفان کے ذریعے ہلاک ہوئی۔ (الاعراف : 136) 2۔ عاد زبر دست آندھی کے ذریعے ہلاک ہوئے۔ (الحاقہ : 6)
3۔ ثمود زور دار دھماکے کے ساتھ ہلاک کیے گئے۔ (الحاقہ : 5) (الحجر : 74) (ھود : 82)
Ayah 67:19فہم القرآن
ربط کلام : اللہ تعالیٰ کی ایک اور قدرت جس پر لوگوں کو غور کرنا چاہیے۔
” اللہ “ ہی وہ ذات ہے جس نے زمین کو فرش کے طور پر بچھایا اور پھیلایا اور اس میں کشش اتصال پیدا فرمائی۔ اسی وجہ سے فضا میں ایک حد تک پھرنے والی چیز کو زمین اپنی طرف کھینچتی ہے۔ بیشک بندوق کی گولی ہو یا یا سکڈ میزائل بالآخر وہ زمین پر آتا ہے۔ مگر اللہ تعالیٰ نے پرندوں میں ایسی قوت اور شعور پیدا کیا ہے جس بنا پر وہ فضا میں اپنی مرضی کے مطابق اڑتے اور پھرتے ہیں۔ کبھی دونوں پَر کبھی ایک پر ہلاتے ہیں، کبھی دونوں پَر پھیلا کر فضا میں تیر رہے ہوتے ہیں اور کبھی دونوں پروں کو بند کرلیتے ہیں انہیں یہ قوت اور شعور دینے والی صرف اللہ تعالیٰ کی ذات ہے، اس لیے ارشاد فرمایا ہے کہ اپنے سروں پر اڑنے والے پرندوں پر غور کرو کہ جو کبھی پروں کو پھیلاتے ہیں اور کبھی انہیں سکیڑلیتے ہیں۔ الرّحمن کے سوا کوئی ایسی ذات اور طاقت نہیں جو انہیں تھام سکتی ہو۔ صرف اللہ تعالیٰ کی ذات ہے جو انہیں تھامتی ہے اور ہر چیز کو دیکھنے والی ہے۔
آج جس قدر فضاء میں ہوائی جہاز پرواز کررہے ہیں ان کی تکنیک کسی نہ کسی پرندے کی اڑان سے سیکھی گئی ہے۔ کچھ جہاز ایسے ہیں جنہیں لمبے رن وے (Run way) کی ضرورت ہوتی ہے اور کچھ ایسے ہیں جو ایک ہی جگہ پر کھڑے اوپراٹھتے ہیں۔ یہی پرندوں کی کیفیت ہے کہ کچھ پرندے آگے دوڑ کر اڑتے ہیں اور کچھ اپنے قدموں پر ہی اٹھ کر فضاء میں اڑنا شروع کردیتے ہیں۔
مسائل
1۔ اللہ ہی پرندوں کو فضا میں اڑانے اور تھامنے والا ہے۔ 2۔ اللہ تعالیٰ بڑا رحمن اور ہر چیز کو دیکھنے والا ہے۔
تفسیر بالقرآن
ہر چیز اللہ تعالیٰ کے احاطہ قدرت میں ہے :
(النساء : 126) (النساء : 108) (ھود : 92) (آل عمران : 120) (الطلاق : 12) (البقرۃ : 255) (البقرۃ : 116)
Ayahs 67:20–22فہم القرآن
ربط کلام : اللہ تعالیٰ کی مزید قدرتوں کا تذکرہ۔
اللہ تعالیٰ اپنی بڑی بڑی قدرتوں کا تذکرہ فرما کر منکرین حق کو دعوت فکر دیتے ہوئے سوال کرتا ہے کہ بتاؤ ! اگر ” اللہ “ تمہاری گرفت کرنے پر آئے تو کون ہے جو اللہ کے سوا تمہاری مدد کرسکے۔ ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ کے اذن کے سوا کوئی بھی تمہاری مدد نہیں کرسکتا لیکن اس کے باوجود کافر دھوکے میں مبتلا ہیں۔ اگر ” اللہ “ تمہارا رزق بند کرلے تو پھر کون تمہیں رزق دینے والا ہے، حقیقت یہ ہے کہ اس کے سوا کوئی نہیں۔ لیکن پھر بھی کافر اپنے رب کی نافرمانی کرتے ہوئے اس کی توحید سے نفرت کرتے ہیں۔ ان کے مقابلے میں اپنے رب پر حقیقی ایمان لانے والا شخص یقین رکھتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہی رزق دینے اور کم کرنے والا ہے، اگر وہ کسی کی گرفت کا فیصلہ کرلے تو زمین و آسمانوں میں کوئی نہیں جو کسی کی مدد کرسکے۔ یہاں مومن اور کافر کے عقیدہ اور کردار کے فرق کو واضح کرنے کے لیے یہ مثال دی ہے کہ ایک وہ شخص ہے جو منہ کے بل چلتا ہے اور دوسرا وہ ہے جو اپنے پاؤں پر سیدھا ہو کر سیدھے راستے پر چلتا ہے۔ کیا یہ دونوں برابر ہوسکتے ہیں ؟ بتاؤ کہ ان میں سے کس کی سوچ اور انداز بہتر ہے اور کون ان میں منزل مقصود پر پہنچنے والا ہے ؟ کھلی حقیقت ہے کہ جو سر کے بل چلنے والا ہے وہ ذلّت و رُسوائی اٹھانے کے باوجود اپنی منزل پر نہیں پہنچ سکتا اور جو صحیح فکر اور سیدھا ہو کر چلتا ہے وہ بالآخر منزل مقصود پانے والا ہے۔ اس مثال سے یہ ثابت کیا ہے کہ کافر، مشرک اور اللہ کے باغی کی سوچ بھی ہے الٹی ہے اور اس کا کردار بھی الٹا ہے۔ اللہ کا حکم ہے کہ مجھے ہر اعتبار سے ایک مانو ! کافر اس بات کا انکار کرتا ہے اور مشرک اس کے ساتھ دوسروں کو شریک بناتا ہے۔ باغی انسان اللہ تعالیٰ کا حکم ماننے کی بجائے اس کی نافرمانی کرتا ہے۔ جس طرح دونوں کے عقیدہ اور کردار میں فرق ہے اسی طرح ان کے انجام میں فرق ہوگا اسی لیے اس کا ارشاد ہے :
” بھلا یہ ہوسکتا ہے کہ جو شخص مومن ہے وہ اس شخص کی طرح کردیا جائے جو فاسق ہے دونوں برابر نہیں ہوسکتے۔ جو لوگ ایمان لائے ہیں اور انہوں نے نیک عمل کیے ہیں ان کے اعمال کے بدلے ان کی ضیافت کے لیے جنتوں کی قیام گاہیں ہیں اور جنہوں نے نافرمانی اختیار کی ہے ان کا ٹھکاناآگ ہے، جب اس سے نکلنا چاہیں گے تو اسی میں دھکیل دیے جائیں گے، اور ان سے کہا جائے گا کہ اب آگ کے عذاب کا مزا چکھو جسے تم جھٹلایا کرتے تھے۔ “ (السجدۃ : 18 تا 20)
مسائل
1۔ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی کسی کی مدد نہیں کرسکتا۔
2۔ اللہ تعالیٰ کسی کا رزق بند یا تنگ کردے تو کوئی اسے رزق دینے والا نہیں۔
3۔ اللہ تعالیٰ کی قدرتیں جاننے کے باوجود کافر اور مشرک ” اللہ “ کو بلا شرکت غیرے حقیقی داتا اور مددگار ماننے کے لیے تیار نہیں۔
4۔ کفار اور مشرکین کی مثال منہ کے بل چلنے والے کی طرح اور موحِّد کی مثال پاؤں کے بل سیدھا ہو کر راستے پر چلنے والے کی طرح ہے۔
تفسیر بالقرآن
کافر، مشرک، منافق اور مومن کے درمیان فرق :
1۔ مومن اور فاسق برابر نہیں ہوسکتے۔ (السجدۃ : 18) 2۔ جنتی اور جہنمی برابر نہیں ہوسکتے۔ (الحشر : 20)
3۔ سیدھا اور الٹا چلنے والا برابر نہیں ہوتا۔ (الملک : 22) 4۔ اندھا اور بینا برابر نہیں ہوتا۔ (الانعام : 50)
5۔ روشنی اور اندھیرے برابر نہیں ہوتے۔ (فاطر : 20) 6۔ مجاہد اور غیر مجاہد برابر نہیں (النساء : 95)
7۔ مومن اور کافر برابر نہیں ہیں۔ (الانعام : 122) 8۔ مومن کافروں سے سربلند ہیں۔ (آل عمران : 55)
9۔ متقین قیامت کو سربلند ہوں گے۔ (البقرۃ : 212)
Ayahs 67:23–26فہم القرآن
ربط کلام : اللہ تعالیٰ نے اس سورت کی آیت 16 سے لے کر 22 تک چھ مرتبہ سوالیہ انداز میں اپنی قدرتیں سمجھائی ہیں اور اب نبی ﷺ کو چھ مرتبہ ” قُلْ “ کے لفظ سے حکم دیا ہے کہ آپ اپنے رب کی ذات اور اس کی قدرتوں سے لوگوں کو آگاہ فرمائیں کہ اللہ کی قدرت کی عظیم نشانیوں میں سے یہ بھی ایک بڑی نشانیاں ہیں کہ اس نے تمہیں پیدا فرمایا، تمہارے کان، آنکھیں اور دل بنائے ہیں مگر تھوڑے لوگ ہیں جو اس کا شکر ادا کرتے ہیں، یہ بھی انہیں بتلائیں کہ اس نے تمہیں پیدا کرنے کے بعد زمین پر پھیلایا ہے اور اسی کی طرف تم اکٹھے کیے جاؤ گئے۔
ان آیات میں بڑے اختصار کے ساتھ انسان کی تخلیق، اس کی صلاحیتوں اور لوگوں کے کردار کی نشاندہی کرتے ہوئے بتلایا ہے کہ بالآخر تم سب نے اسی کی طرف اکٹھا ہونا ہے۔ اگر انسان اپنی تخلیق پر غور کرے تو اسے یقین ہوجائے گا کہ انسانِ اوّل کو مٹی سے اور ہر انسان پانی کی ایک بوند سے پیدا کرنا اللہ تعالیٰ کی قدرت کا عظیم شاہکار ہے پھر اس نے انسان کو کان، آنکھیں اور دل دیا تاکہ وہ کانوں کے ساتھ حقیقت سنے، آنکھوں کے ساتھ اس کی قدرتوں کا مشاہدہ کرے اور دل میں غور کرے اور اس نتیجے پر پہنچے کہ جس ذات نے اسے ان صلاحیتوں سے سرفراز فرمایا اسے اس کی ذات اور بات کا انکار کرنے کی بجائے اس کا شکر ادا کرنا چاہیے۔ شکرگزار بننے کے لیے ضروری ہے کہ انسان کے ذہن میں یہ بات سما جائے کہ اگر میں نے اپنے خالق اور مالک کا شکر ادا نہ کیا تو مجھے قیامت کے دن اس کا حساب دینا ہوگا۔ لیکن ناشکرے لوگوں کی حالت اور عادت یہ ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ اگر تم سچے ہو تو بتاؤ کہ قیامت کب آئے گی۔ قرآن مجید میں کفار کے سوال کا متعدد مرتبہ جواب دیا گیا ہے۔ لیکن اس کے باوجود وہ یہی کہتے تھے اور کہتے رہیں گے کہ قیامت کب آئے گی۔ ان کے کہنے کا یہ مقصد نہیں کہ وہ قیامت کی آمد پر یقین رکھتے ہیں بلکہ ان کے کہنے کا مقصد یہ ہے کہ ہر دور میں انبیاء اور ان کے ماننے والے کہتے رہے ہیں کہ قیامت آنے والی ہے لیکن آج تک قیامت نہیں آئی۔ بقول ان کے یہ بات لوگوں کو ڈرانے دھمکانے کے سوا کوئی حقیقت نہیں رکھتی ان کا کہنا ہے کہ انسان اسی طرح ہی پیدا ہوتے اور مرتے رہے ہیں اور پیدا ہوتے اور مرتے رہیں گے اور دنیا کا نظام جس طرح چل رہا ہے اسی طرح چلتا رہے گا۔ موت وحیات کا سلسلہ بھی اس نظام کا ایک حصہ ہے لہٰذا جو شخص مَر چکا وہ کبھی نہیں اٹھایا جائے گا۔
(وَقَالُوْا مَا ہِیَ اِِلَّا حَیَاتُنَا الدُّنْیَا نَمُوتُ وَنَحْیَا وَمَا یُہْلِکُنَا اِِلَّا الدَّہْرُ وَمَا لَہُمْ بِذٰلِکَ مِنْ عِلْمٍ اِِنْ ہُمْ اِِلَّا یَظُنُّونَ ) (الجاثیہ : 24)
” یہ لوگ کہتے ہیں کہ زندگی بس یہی ہماری دنیا کی زندگی ہے یہیں ہمارا مرنا اور جینا ہے اور گردش ایام کے سوا کوئی چیزجو ہمیں ہلاک نہیں کرتی۔ حقیقت یہ ہے کہ ان کے پاس علم نہیں ہے محض گمان کی بنا پر یہ باتیں کرتے ہیں۔ “
مسائل
1۔ ” اللہ “ ہی نے انسانوں کو پیدا کیا اور انہیں کان، آنکھیں اور دل عطا فرمائے۔
2۔ ” اللہ “ ہی نے لوگوں کو زمین میں پھیلا یا اور وہی انہیں اپنے حضور اکٹھا کرے گا۔
3۔ قیامت کا علم صرف اللہ تعالیٰ کو معلوم ہے۔ 4۔ نبی ﷺ کا کام لوگوں کو ان کے برے انجام سے ڈرانا تھا۔
تفسیر بالقرآن
اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا کہ قیامت کب برپا ہوگی :
1۔ اللہ کے پاس قیامت کا علم ہے اس میں شک نہیں کرنا چاہیے۔ (الزخرف : 68)
2۔ قیامت کا علم اللہ تعالیٰ کے پاس ہے۔ (الاعراف : 187)
3۔ اللہ کو ہی قیامت کا علم ہے اور اسی کی طرف تم نے لوٹنا ہے۔ (الزخرف : 85)
4۔ قیامت قریب آگئی اور اس کے آنے کو اللہ کے سوا کوئی نہیں روک سکتا۔ (النجم : 57۔ 58)
5۔ قیامت کے بارے میں اللہ کے علاوہ کسی کو علم نہیں کہ قیامت کب واقع ہوگی۔ (الانعام : 59)
6۔ قیامت قریب آگئی ہے لیکن لوگ اسے اعراض کرتے ہیں۔ ( الانبیاء : 1)
Ayahs 67:27–29فہم القرآن
ربط کلام : ان آیات میں کفار کو بتلائی جانے والی چوتھی اور پانچویں حقیقت۔
اس سے پہلے ” قُلْ “ کا لفظ استعمال فرما کر نبی کو حکم ہوا کہ کفار کو یہ بتلا یا جائے کہ تمہیں ” اللہ “ ہی نے پیدا کیا اور اسی نے تمہیں کان، آنکھیں اور دل عطا فرمائے ہیں، اسی نے تمہیں زمین میں پھیلایا اور وہی تمہیں اپنے حضور دوبارہ اکٹھا کرے گا اور وہی جانتا ہے کہ قیامت کب برپا ہوگی۔ اب حکم ہوا کہ اے نبی ﷺ ! انہیں بتلائیں کہ اگر اللہ تعالیٰ مجھے اور میرے ساتھیوں کو ہلاک کرے یا ہم پر مہربانی فرمائے تو کافرو ! تم بتلاؤ کہ تمہیں عذاب الیم سے کون بچائے گا ؟ انہیں یہ بھی بتلائیں کہ جو ہلاک کرنے اور بچانے والا ہے اسی الرحمن پر ہمارا بھروسہ اور ایمان ہے، وقت آئے گا کہ تمہیں پتا چل جائے گا کہ کون کھلی گمراہی میں مبتلا ہے اور کون ہدایت کے راستے پر ہے۔ اللہ تعالیٰ کے ہلاک کرنے اور مہربانی فرمانے کا ذکر فرما کر کفار کو یہ حقیقت بتلائی گئی ہے کہ موت اور زندگی، نفع اور نقصان صرف ” اللہ “ کے ہاتھ میں ہے لہٰذا تمہاری مخالفت ہمارا کچھ نہیں بگاڑ سکتی، البتہ تم یاد رکھو کہ تمہیں اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچانے والا کوئی نہیں ہوگا کیونکہ تم کھلی گمراہی میں مبتلا ہو۔
(یَّوْمَ تَبْیَضُّ وُجُوْہٌ وَّ تَسْوَدُّ وُجُوْہٌ فَاَمَّا الَّذِیْنَ اسْوَدَّتْ وُجُوْہُہُمْ اَکَفَرْتُمْ بَعْدَ اِیْمَانِکُمْ فَذُوْقُوا الْعَذَابَ بِمَا کُنْتُمْ تَکْفُرُوْنَ ) (آل عمران : 106)
” جس دن بعض چہرے سفید ہوں گے اور بعض سیاہ، کالے چہروں والوں سے کہا جائے گا کیا تم نے ایمان لانے کے بعد کفر کیا ؟ اب عذاب چکھو کیونکہ تم انکار کرتے تھے۔ “
” نہایت مہربان رب کی طرف سے جو زمینوں اور آسمان اور ان کے درمیان کی ہر چیز کا مالک ہے جس کے سامنے کسی کو بولنے کی ہمت نہیں ہوگی۔ جس دن جبریل اور ملائکہ صف بستہ کھڑے ہوں گے کوئی بات نہیں کر پائے گا سوائے اس کے جسے الرّحمن اجازت دے اور وہ ٹھیک بات کہے وہ دن برحق ہے جس کا جی چاہے اپنے رب کی طرف پلٹنے کا راستہ اختیار کرلے۔ ہم نے تمہیں اس عذاب سے ڈرادیا ہے جو قریب آچکا ہے جس دن آدمی سب کچھ دیکھ لے گا جو اس کے ہاتھوں نے آگے بھیجا ہے اور کافر پکار اٹھے گا کہ کاش میں مٹی بنا رہتا۔ “ (عبس : 37 تا 42)
مسائل
1۔ اللہ تعالیٰ کسی پر رحم فرمائے یا اسے ہلاک کرے اس کے کام میں کوئی دخل نہیں دے سکتا۔
2۔ کفار جس قدر چاہیں مسلمانوں کی مخالفت کرلیں بالآخر انہیں عذاب الیم میں مبتلا ہونا ہے۔
3۔ مسلمان کو ہر حال میں ” اللہ “ پر بھروسہ کرنا چاہیے جو سب سے بڑا مہربان ہے۔
تفسیر بالقرآن
اللہ تعالیٰ جس پر گرفت فرمائے اسے دنیا اور آخرت میں کوئی بچانے والا نہیں :
1۔ ” اللہ “ کا عذاب برحق ہے اور تم اس کو عاجز نہیں کرسکتے۔ (یونس : 53)
2۔ کفار کے چہروں پر ذلت چھا جائے گی انہیں اللہ کے عذاب سے کوئی بچانے والا نہیں ہوگا۔ (یونس : 27)
3۔ آج کے دن اللہ کے عذاب سے کوئی نہیں بچ سکتا مگر جس پر اللہ تعالیٰ رحم فرمائے۔ (ہود : 43)
4۔ اس دن وہ پیٹھ پھیر کر بھاگیں گے ” اللہ “ کی پکڑ سے انہیں کوئی بچانے والا نہیں ہوگا۔ (المومن : 33)
5۔ اگر اللہ کسی کو تکلیف دے تو کون ہے جو اسے اس تکلیف سے بچا سکے۔ (الاحزاب : 17)
6۔ جسے اللہ رسوا کرے اسے کوئی عزت نہیں دے سکتا۔ (الحج : 18)
Ayah 67:30فہم القرآن
ربط کلام : دنیا اور آخرت کے عذاب کو ٹالنا تو درکنار انسان ” اللہ تعالیٰ “ کے سامنے اس قدر عاجز اور بےبس ہے کہ وہ اپنی زندگی کی اہم ترین ضرورت پانی پر بھی اختیار نہیں رکھتا۔
انسان کی بنیادی ضروریات میں پانی اس کی زندگی کا اہم ترین جز ہے، پانی کے بغیر انسان زیادہ دیر تک زندہ نہیں رہ سکتا۔ قدیم زمانے میں عرب میں پانی کی بہت زیادہ قلت ہوا کرتی تھی۔ پانی کی قلت کی وجہ سے عرب کے اکثر لوگ خانہ بدوشی کی زندگی گزارتے تھے بیشتر علاقوں میں پانی کا دارومدار صرف بارش پر تھا اگر ایک مدت تک بارش نہ ہوتی تو چشمے خشک ہوجاتے اور کنوؤں کا پانی اتنا گہرا ہوجاتا کہ اسے حاصل کرنا کسی کے بس میں نہیں تھا۔ پانی کی قلت کی وجہ سے جانور مرجاتے اور لوگوں کو اپنی جان کے لالے پڑجاتے تھے، بارش برستی تو لوگوں کو اس قدر خوشی ہوتی کہ جس طرح کسی کو دوبارہ زندگی حاصل جائے۔ قرآن مجید نے کئی بار اس بات کی طرف توجہ دلائی ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ بارش نازل نہ کرے تو کون بارش برسانے والا ہے۔ ؟ علاقہ زرخیز ہو یا بنجر، پہاڑی ہو یا ہموار پانی کا انحصار بارش پر ہے اگر ایک مدّت تک بارش نہ ہو تو زمین کا پانی اتنا گہرا ہوجائے کہ عام آدمی تو درکنار بہت زیادہ وسائل رکھنے والی حکومت بھی زمین سے پانی حاصل نہ کرسکے۔ اس لیے اس حقیقت کی طرف توجہ دلائی گئی ہے کہ جس پانی کو تم پیتے اور استعمال کرتے ہو اگر اسے زمین میں گہرا کردیا جائے تو کون ہے جو اسے حاصل کرسکے گا ؟
مسائل
1۔ اگر اللہ تعالیٰ زمین کے پانی کو خشک کردے تو زمین و آسمانوں میں کوئی ایسی طاقت نہیں جو پانی حاصل کرسکے۔
2۔ اللہ تعالیٰ ہی لوگوں کو پانی دینے والا ہے۔
تفسیر بالقرآن
پانی کی اہمیت اور بارش کا نظام :
( الطارق : 6) ( طٰہٰ : 53) ( النساء : 63) ( النحل : 65) (البقرۃ : 22) ( ق : 9)