Ayahs 66:1–2فہم القرآن
ربط سورت : التغابن کا اختتام اس بات پر ہوا کہ اللہ تعالیٰ اپنے علم سے ہر چیز کا احاطہ کیے ہوئے ہے۔ سورة التحریم کی ابتدا میں اس کا ثبوت نبی ﷺ اور آپ کے اہل خانہ کے حوالے سے دیا گیا ہے۔
التحریم کا لفظ حرمت سے نکلا ہے جو عام طور پر کھانے پینے کے بارے میں استعمال ہوتا ہے اس کا معنٰی ہے کہ کسی چیز کو حرام کرنا یاسمجھنا۔ اس سورت کا نام التحریم رکھا گیا اس لیے کہ اس کی پہلی آیت میں اس واقعہ کی نشاندہی کی گئی ہے جو نبی ﷺ کے ساتھ آپ کی ازواج مطہرات کی طرف سے پیش آیا۔ واقعہ اس طرح ہے کہ نبی کریم ﷺ عصر کی نماز کے بعد اپنی ازواج مطہرات کے ہاں باری باری کچھ وقت گزارتے تاکہ گھریلو حالات سے آگہی اور گھر والوں کی ضروریات کو پورا کیا جائے۔ آپ حضرت زینب ؓ کے ہاں تشریف لے جاتے تو وہ آپ کی خدمت میں شہد پیش کرتیں، بسا اوقات آپ ان کے ہاں زیادہ دیر ٹھہر جاتے۔ حضرت عائشہ اور حضرت حفصہ ؓ نے اس بات کو محسوس کیا اور انہوں نے آپس میں مشورہ کرنے کے بعد حضرت سودہ ؓ کو ساتھ ملایا اور کہا کہ جب اللہ کے رسول ہمارے گھروں میں آئیں تو ہم آپ سے یہ بات کہیں کہ کیا آپ نے مغافیر کا رس پیا ہے، یہ ایسا پھول ہے کہ جس سے تھوڑی سی بوساند آتی ہے۔ ازواج مطہرات کو معلوم تھا کہ آپ خوشبو سے رغبت رکھتے ہیں اور بدبو سے انتہائی نفرت کرتے ہیں۔ اللہ کے نبی حسب معمول اپنی بیوی زینب ؓ کے ہاں چند گھڑیاں بیٹھنے کے بعد یکے بعد دیگرے حضرت عائشہ، حضرت سودہ اور حضرت حفصہ ؓ کے گھر تشریف لے گئے تو طے شدہ پروگرام کے مطابق تینوں نے آپ سے یہ بات کہی کہ کیا آپ نے مغافیر کھایا ہے جس وجہ سے آپ کے منہ سے ہلکی سی بو محسوس ہو رہی ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا میں نے مغافیر نہیں بلکہ شہد کھایا ہے۔ ازواج مطہرات کی گفتگو سے متاثر ہو کر آپ نے قسم اٹھا لی میں آئندہ شہد نہیں کھاؤں گا۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ اے نبی ﷺ ! اللہ آپ کو معاف فرمائے کہ آپ نے اپنی بیویوں کی خاطر اس چیز کو حرام کرلیا ہے جسے اللہ تعالیٰ نے آپ کے لیے حلال قرار دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ایسی قسموں کو حلال کرنے کے لیے تمہارے لیے کفارہ مقرر کردیا ہے، اللہ ہی تمہارا کارساز ہے اور وہ سب کو جاننے والا ہے۔ اس کے ہر کام اور حکم میں حکمت پائی جاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کا مؤاخذہ کرنے کی بجائے نہایت ہی کریمانہ انداز میں ارشاد فرمایا ہے کہ اللہ غفور الرحیم ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ نے آپ کو معاف فرما دیا ہے۔ البتہ آپ کی یہ شان نہیں کہ اپنی بیویوں یا کسی دوسرے کی خاطر اللہ کی حلال کردہ چیز کو حرام قرار دیں۔ ان آیات کے آخر میں اللہ تعالیٰ نے اپنے بارے میں غفور الرحیم، علیم اور حکیم ہونے کے ساتھ فرمایا ہے کہ وہ تمہارا مولیٰ ہے جس میں یہ کھلا اشارہ ہے کہ اے نبی ﷺ ! آپ خود مختار نہیں کہ جو دل میں آئے کرلیں بلکہ اللہ آپ ﷺ کا مولیٰ ہے یعنی تمام اختیارات اس کے پاس ہیں۔ وہ آپ کا خیر خواہ ہے اس لیے ہر موقعہ پر آپ کی راہنمائی کرتا ہے۔
مسائل
1۔ نبی ﷺ کے اختیار میں میں نہیں تھا کہ وہ اللہ تعالیٰ کے متعین کردہ حلال و حرام میں تبدیلی کرسکیں۔
2۔ کسی شخص کو بھی یہ اختیار نہیں کہ وہ اپنے یا کسی کی خاطر حلال و حرام میں تبدیلی کرے۔
3۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی مہربانی سے نبی ﷺ کے تمام گناہوں کو معاف کردیا۔
4۔ اللہ ہی سب کا خیرخواہ اور مولیٰ ہے۔ 5۔ اللہ تعالیٰ سب کچھ جاننے والا اور حکیم ہے۔
تفسیر بالقرآن
قسم کا کفارہ اور اس کے مسائل :
1۔ لغو قسم پر کسی قسم کا مؤاخذہ نہیں۔ (البقرۃ : 225)
2۔ پختہ قسم کھانے کے کفارے کی تین صورتیں ہیں۔ دس مسکینوں کو کھانا کھلانایا کپڑے پہنانا یا ایک غلام آزاد کرنا یہ کام نہ ہو سکیں تو تین دن کے روزے رکھنا ہے۔ (المائدۃ : 89)
3۔ قسموں کو پورا کرنے کا حکم ہے۔ (النحل : 91 تا 94) 4۔ صدقہ نہ کرنے پر قسم کھانا منع ہے۔ (النور : 22)
5۔ بلا اراداہ ٹھائی جانے والی قسموں پر مؤاخذہ نہیں ہوگا۔ (البقرۃ : 225)
6۔ بہانے کے طور پر اللہ کی قسم نہیں کھانا چاہیے۔ (البقرۃ : 224) (آل عمران : 77)
Ayahs 66:3–4فہم القرآن
ربط کلام : نبی ﷺ نے اپنی بیویوں کے کہنے پر قسم اٹھائی کہ میں آئندہ شہد نہیں کھاؤں گا اس لیے اس سورة کا آغاز اس فرمان سے ہوا کہ اے نبی ﷺ آپ اللہ کی حلال کردہ چیز کو حرام نہیں کرسکتے۔ اللہ تعالیٰ نے تمہیں قسموں کو توڑنے کا طریقہ بتلا دیا ہے اور یاد رکھو کہ اللہ تعالیٰ سب کچھ جاننے والا اور اس کے ہر حکم اور کام میں حکمت ہوا کرتی ہے یہ اس کی پُر حکمت تعلیم ہے تاکہ تمہیں معلوم ہو کہ کسی سے راز کی بات کرنے سے پہلے اس کی راز داری کی صلاحیت کو جاننا ضروری ہے۔
نبی (علیہ السلام) نے آئندہ شہد نہ کھانے کی قسم کھائی اور یہ بات صرف حضرت سودہ ؓ سے بیان فرمائی اور اسے ارشاد فرمایا کہ یہ بات کسی اور تک نہیں پہنچنی چاہیے، لیکن انہوں نے آپ کے فرمان کو راز میں رکھنے کی بجائے آگے ذکر کردیا اس پر اللہ تعالیٰ نے آپ کو آگاہ فرمایا۔ آپ نے اس کے متعلق سودہ ؓ سے پوچھا تو اس نے کہا کہ اللہ کے رسول ! آپ کو اس بات کا کس طرح علم ہوا ہے کہ میں نے آپ کا راز ظاہر کردیا ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ مجھے اس رب نے خبر دی ہے جو سب کچھ جانتا ہے اور ہر بات سے باخبر رہتا ہے۔ جن بیویوں نے یہ پالان بنایا تھا انہیں مخاطب کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ تم اللہ کے حضور توبہ کرو کیونکہ تمہارے دل ٹیڑھے ہوچکے ہیں، اگر تم نے نبی ﷺ کو تکلیف پہنچانے کے لیے آپس میں ایک دوسرے کی مدد کی تو یاد رکھو ! اللہ تعالیٰ اپنے نبی کا مددگار ہے اور جبر یل امین، صالح کردار مؤمن اور ملائکہ بھی اس کے مددگار ہیں۔ شہد کے بارے میں آپ کے راز کو افشاں کرنا بظاہر چھوٹا سا واقعہ ہے لیکن اگر اس کی حقیقت اور اس کے نتائج پر غور کیا جائے تو یہ بہت بڑا واقعہ تھا۔ جس وجہ سے اس کا مؤاخذہ کرتے ہوئے رب والجلال نے یہ عتاب نازل فرمایا ایک اے نبی آپ کی جن بیویوں نے آپس میں یہ پروگرام بنایا اور پھر آپ کے منع کرنے کے باوجود آپ کے راز کو ظاہر کردیا۔ یہ کوئی معمولی واقعہ نہیں تھا۔ کیونکہ اللہ کے نبی اپنی بیویوں کے خاوند ہی نہیں تھے بلکہ پوری امت کے نبی اور مملکت کے سربراہ تھے، اگر نبی کی بیویاں بھی آپ کے بتلائے ہوئے ذاتی اور مملکت کے راز کی حفاظت نہیں کرسکتیں تو دوسروں پر کتنا بھروسہ کیا سکتا ہے ؟ اس لیے انہیں توبہ کرنے کا حکم دینے کے ساتھ یہ بھی انتباہ کیا گیا کہ اگر تم نے آئندہ کے لیے کوئی ایسی لغزش کی تو یاد رکھنا اللہ تعالیٰ اپنے نبی کا خیر خواہ اور مولیٰ ہے۔ جبریل امین سمیت تمام ملائکہ اور سب مومن بھی آپ کے مددگار ہیں۔ ایسی صورت میں تمہاری کون حمایت اور حفاظت کرے گا ؟
مسائل
1۔ اللہ تعالیٰ نے نبی ﷺ کو آپ کا راز افشاں ہونے کی خبر دی۔ 2۔ اللہ تعالیٰ علیم اور خبیر ہے۔
3۔ انسان سے غلطی سرزد ہو تو اسے اللہ سے معافی مانگنی چاہیے۔
تفسیر بالقرآن
اللہ تعالیٰ نے ہر مشکل وقت پر اپنے نبی کی مدد فرمائی :
(التوبہ : 40) (آل عمران : 123) ( الاحزاب : 9) ( النصر : 1) (التوبہ : 25) (الروم : 5) (آل عمران : 126) (آل عمران : 150)
Ayah 66:5فہم القرآن
ربط کلام : اللہ تعالیٰ کی طرف سے نبی ﷺ کی ازواج مطہرات کو ایک اور تنبیہ۔
ازواج مطہرات کو توبہ کرنے کا حکم دینے کے بعد دوسری تنبیہ یہ کی گئی کہ اگر تم نے دوبارہ ایسی غلطی کی تو یاد رکھنا کہ نبی ﷺ نے تمہیں طلاق دے دی تو نبی ﷺ کا رب اپنے نبی کو تم سے بہتر بیویاں عطا فرمائے گا جو پکی مسلمان، مومن، نہایت فرمانبردار، توبہ کرنے والیاں، اخلاص کے ساتھ اللہ کی عبادت کرنے والیاں، روزہ رکھنے والیاں، جوان اور کنواریاں ہوں گی، یاد رہے کہ اس فرمان کا یہ مفہوم لینے کی ہرگز گنجائش نہیں کہ نبی ﷺ کی ازواج مطہرات میں یہ اوصاف نہیں پائے جاتے تھے، حقیقت یہ ہے کہ اس فرمان میں ازوج مطہرات اور ان کے حوالے سے دختر اسلام کو سمجھایا گیا ہے کہ وہ دنیا کی سہولیات کو مقدم رکھنے کی بجائے اپنے آپ کو ان اوصاف حمیدہ میں آگے بڑھانے کی کوشش کرتی رہیں جن کا یہاں ذکر کیا گیا ہے۔ کیونکہ مسلم خواتین کا حقیقی جمال و کمال دنیا کی ترقی اور آسائش میں نہیں ان کا جمال اور کمال مذکورہ بالا اوصاف میں مضمر ہے۔ مفسرین نے اس آیت کا پس منظر بیان کرتے ہوئے ایک واقعہ نقل کیا ہے جس کا تعلق آپ ﷺ کی تمام ازواج مطہرات کے ساتھ ہے۔ خیبر کی فتح کے بعد مسلمانوں کو بہت سی زمینیں اور مال غنیمت ہاتھ آیا جس سے غریب مسلمانوں کی حالت بھی کافی بہتر ہوگئی۔ مسلمانوں کی خوشحالی دیکھ کر ازواج مطہرات نے آپس میں مشورہ کرنے کے بعد رسول کریم ﷺ سے تکرار کے ساتھ مطالبہ کیا کہ اب مسلمانوں کی معاشی حالت پہلے سے بہتر ہوگئی ہے۔ اس لیے ہمیں بھی ان جیسی سہولیات ملنی چاہئیں۔ بیشک اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ کو مال غنیمت کا پانچواں حصہ اپنی ذات اور گھر والوں پر خرچ کرنے کی اجازت دی تھی۔ لیکن آپ نے اپنے اور اپنے گھروالوں کے لیے سہولتوں کو پسند نہ فرمایا۔ جس بنا پر آپ ﷺ نے اپنی ازواج مطہرات کو بار بار سمجھایا کہ ہمیں پہلی حالت پر ہی گزارہ کرنا چاہیے لیکن ازواج مطہرات کا اصرار جاری رہا۔ حضرت عمر ؓ کو اس بات کا علم ہوا تو انہوں نے اپنی بیٹی حضرت حفصہ ؓ جو نبی ﷺ کی ازواج میں شامل تھیں اسے سمجھایا کہ بیٹی اپنے آپ کو کسی دوسری پر قیاس نہ کرو اور اس معاملے میں دوسری عورتوں کا ساتھ نہ دو ۔ اس کے بعد حضرت عمر ؓ آپ کی ان بیویوں کے پاس گئے جو حضرت عمر کی ؓ رشتہ دار تھیں، انہیں بھی یہ بات سمجھائی لیکن انہوں نے حضرت عمر ؓ سے کہا کہ آپ کو نبی ﷺ کے گھریلو معاملات میں دخل نہیں دینا چاہیے، اس پر حضرت عمر ؓ نے انہیں سمجھاتے ہوئے فرمایا :
( عَسَی رَبُّہُ إِنْ طَلَّقَکُنَّ أَنْ یُبَدِّلَہُ أَزْوَاجًا خَیْرًا مِنْکُنّ ) (رواہ البخاری : باب قولہ (وَاتَّخِذُوا مِنْ مَقَامِ إِبْرَاہِیمَ مُصَلًّی)
کہ ہوسکتا ہے کہ نبی ﷺ اپنی بیویوں کو طلاق دے دیں اور اللہ تعالیٰ آپ کو تم سے بہتر بیویاں عطاکردے۔
حضرت عمر ؓ کے سمجھانے کے باوجود ازواج مطہرات اپنے مطالبہ سے پیچھے نہ ہٹیں تب نبی معظم ﷺ نے ایک ماہ کے لیے اپنی ازواج سے ایلاء یعنی ایک ماہ تک بائیکاٹ کر کیا اور بالاخانے میں قیام فرما ہوئے، جس کی تفصیل سورة الاحزاب کی آیت 51، 52 میں بیان ہوچکی ہے۔
مسائل
مومن عورتوں کو اپنے آپ میں یہ خوبیاں پیدا کرنی چاہئیں :
1۔ اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرتے رہنا چاہیے۔
2۔ اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لا کر اس پر استقامت اختیار کرنی چاہیے۔
3۔ اپنے خاوندوں کی تابعداری کرنی چاہیے۔ 4۔ اللہ کے حضور توبہ کرتے رہنا چاہیے۔
5۔ اللہ کی عبادت کرنی چاہیے۔ 6۔ فرضی اور نفلی روزوں کا اہتمام کرنا چاہیے۔
تفسیر بالقرآن
ْمسلمان خواتین کے بڑے بڑے اوصاف :
1۔ پاک دامن، حیا دار اور با پردہ ہوتی ہیں۔ (المائدۃ : 5، القصص : 25)
2۔ سچی مسلمان مطیع، توبہ کرنے والی، عبادت گزار اور روزے رکھنے والی ہوتی ہیں۔ (التحریم : 5)
3۔ صدقہ کرنے والی، صابرہ، ڈرنے والی، سچی، پاکدامنہ اور اللہ کا کثرت سے ذکر کرنے والی ہوتی ہیں۔ (الاحزاب : 35)
Ayahs 66:6–7فہم القرآن
ربط کلام : ازواج مطہرات کو انتباہ کرنے کے بعد تمام مسلمانوں کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ اپنے رب کی نافرمانی سے بچیں اور اپنے آپ اور اپنے اہل و عیال کو جہنم کی ہولناکیوں سے بچائیں۔
خاندان اور قوم کی اصلاح کا بنیادی اور بہترین طریقہ یہی ہے کہ ہر مسلمان اپنی اصلاح کرنے کے ساتھ ساتھ اپنے اہل و عیال کی اصلاح کرتا رہے یہ کام بڑا اہم ہے جس کے لیے انتباہ کے انداز میں فرمایا کہ اے ایمان والو ! اپنے آپ اور اپنے اہل و عیال کو جہنم کی آگ سے بچاؤ جس کا ایندھن لوگ اور پتھر ہوں گے۔ جہنم پر ایسے ملائکہ کی ڈیوٹی لگائی گئی ہے جو بڑے تند مزاج اور سخت ہیں، وہ اللہ کے حکم کی ایک لمحہ بھی نافرمانی نہیں کرتے۔ وہ اسی طرح ہی کرتے ہیں جس طرح انہیں حکم دیا جاتا ہے یادر کھو ! ٖ جو لوگ اللہ کے حکم کا انکار کرتے ہیں قیامت کے دن انہیں سے کہا جائے گا کہ اے کافرو ! آج کے دن کوئی بہانہ اور معذرت پیش نہ کرو ! کیونکہ آج تمہیں تمہارے کیے کی پوری پوری سزا دی جائے گی۔ یاد رہے کہ گناہ کرنے والا ہر شخص اپنے یا اپنے عزیز و اقرباء کی وجہ سے گناہ کرتا ہے۔ عزیز و اقرباء میں سب سے پہلے آدمی کی اپنی اولاد ہوتی ہے، جن کی محبت اور خیرخواہی میں آکر عام انسان ہی نہیں بلکہ بیشمار اچھے بھلے مسلمان بھی اللہ کے احکام کی نافرمانی کرتے ہیں، کیونکہ انسان اپنے یا اپنے عزیز و اقرباء کے فائدے اور خیرخواہی کے لیے گناہ کرتا ہے، اس لیے مسلمانوں کو انتباہ کیا ہے کہ آج اپنے اور اپنے عزیز و اقرباء کے فائدے اور خیر خواہی کے لیے اپنے رب کی نافرمانی کیے جارہے ہو۔ وہ وقت یاد کرو ! جب نافرمانوں کو جہنم کی آگ میں جھونکا جائے گا جس کا ایندھن لوگ اور پتھر ہوگے، وہاں عزیر واقربا کام نہیں آئیں گے۔ آہ وزاریاں اور معذرت پہ معذرت کریں گے لیکن ان کی کوئی معذرت قبول نہیں کی جائے گی۔ کہا جائے گا کہ آج اپنے کیے کی سزا پاؤ۔ دانا اور بہترین شخص وہ ہے جو اپنے آپ اور اپنے اہل و عیال کو جہنم کی آگ سے بچانے کی کوشش کرتا ہے۔
(عَن ابْنِ عُمَرَ ؓ عَنِ النَّبِیِّ ﷺ قَالَ کُلُّکُمْ رَاعٍ وَکُلُّکُمْ مَسْءُولٌ عَنْ رَّعِیَّتِہٖ وَالْأَمِیرُ رَاعٍ وَالرَّجُلُ رَاعٍ عَلٰی أَہْلِ بَیْتِہٖ وَالْمَرْأَۃُ رَاعِیَۃٌ عَلٰی بَیْتِ زَوْجِہَا وَوَلَدِہٖ فَکُلُّکُمْ رَاعٍ وَکُلُّکُمْ مَسْءُولٌ عَنْ رَعِیَّتِہٖ ) (رواہ البخاری : باب المرأۃ راعیۃ فی بیت زوجہا)
” حضرت عبداللہ بن عمر ؓ نبی اکرم ﷺ کا فرمان نقل کرتے ہیں آپ ﷺ نے فرمایا : تم میں سے ہر ایک نگران ہے اور ہر کسی کو اپنی ذمہ داری کے بارے میں جواب دینا ہے، امیر اپنی رعایا پر نگران ہے۔ آدمی اپنے گھر کا نگران ہے، عورت اپنے خاوند کے گھر اور اپنے بچوں کی نگران ہے۔ تم میں سے ہر کوئی ذمہ دار ہے اور ہر کسی سے اس کی ذمہ داری کے متعلق پوچھا جائے گا۔ “
مسائل
1۔ ہر ایماندار کو اپنے آپ اور اپنے اہل و عیال کو جہنم کی آگ سے بچانے کی کوشش کرنی چاہیے۔
2۔ اللہ تعالیٰ نے جہنم پر ایسے ملائکہ کی ڈیوٹی لگائی ہے جو بڑے تند مزاج اور سخت ہیں۔ وہ جہنمی کو اس طرح سزا دیں گے جس طرح انہیں حکم دیا جائے گا۔ 3۔ جہنم کی آگ کا ایندھن مجرم اور پتھر ہوں گے۔
4۔ جہنم میں کفار کی کوئی معذرت قبول نہیں ہوگی۔ 5۔ جہنمی کو کہا جائے گا کہ آج اپنے کیے کی سزا پاؤ۔
تفسیر بالقرآن
والدین کی اپنی اولاد کے بارے میں ذمہ داریاں :
1۔ اولاد کو شرک سے بچنے کا حکم دینا چاہیے۔ (لقمان : 13) 2۔ اولاد کو ایک الٰہ کی عبادت کا حکم دینا چاہیے۔ (البقرۃ : 132)
3۔ اولاد کو مسلمان رہنے کی نصیحت کرنی چاہیے۔ (البقرۃ : 132) 4۔ اولاد کو نماز پڑھنے کی تلقین کرنی چاہیے۔ (طٰہٰ : 132)
5۔ اولاد کو نیکی کی تبلیغ اور برائی سے منع کرنے کی تبلیغ کرنی چاہیے۔ (لقمان : 17)
6۔ اولاد کی بول چال اور چال ڈھال پر نظر رکھنی چاہیے۔ (لقمان : 18)
7۔ اولاد کو آخرت کی جوابدہی کا احساس دلانا چاہیے۔ (لقمان : 16)
8۔ نہ اسراف کرو، نہ زنا کرو اور نہ اپنی اولاد کو قتل کرو۔ (الممتحنہ : 12)
9۔ اے ایمان والو ! اپنے آپ اور اپنی اولاد کو جہنم کی آگ سے بچا لو۔ (التحریم : 6)
Ayah 66:8فہم القرآن
ربط کلام : نافرمانوں کو جہنم سے بچنے کے لیے توبہ کرنے کا حکم۔
اس سے پہلے کفار کے بارے میں بتلایا گیا ہے کہ قیامت کے دن وہ اپنے جرائم پر معذرت پیش کریں گے لیکن انہیں کہا جائے گا کہ آج تم اپنے کیے کی سزا پاؤ گے۔ اب ایمان والوں کو حکم ہوا کہ اے ایمان والو ! اللہ کے حضور ” تَوْبَۃً نَّصُوْحا “ کرو۔ ہوسکتا ہے کہ تمہارے گناہ مٹا دیئے جائیں اور تمہیں ایسی جنت میں داخل کیا جائے جس کے نیچے نہریں جاری ہوں گی، اللہ تعالیٰ اس دن اپنے نبی اور اس کے ایماندار ساتھیوں کو رسوا نہیں کرے گا۔ بلکہ ان کے ایمان کی روشنی ان کے آگے آگے اور دائیں جانب ہوگی اور وہ اپنے رب سے التجاء کریں گے کہ اے ہمارے رب ! ہمارے نور کو مزید بڑھا اور ہمارے گناہوں کو معاف فرما یقیناً تو ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے۔ اس فرمان میں ایمانداروں کو ” تَوْبَۃً نَّصُوْحا “ کا حکم دینے کے بعد یہ کہہ کر خوشخبری دی گئی ہے کہ ہوسکتا ہے کہ ” اللہ “ ” تَوْبَۃً نَّصُوْحا “ کی وجہ سے تمہارے گناہوں کو معاف فرما کر تمہیں جنت میں داخل کردے۔ اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ وہ سچی توبہ کرنے والوں کے گناہوں کو معاف کردے گا لیکن پھر بھی ” عَسیٰ “ کا لفظ استعمال کیا ہے جس کا معنٰی ہے کہ ہوسکتا ہے یہ لفظ استعمال فرما کر مومنوں کو سمجھایا کہ اپنے گناہوں سے بےفکر ہونے کی بجائے بار بار توبہ کرتے رہو۔ ” تَوْبَۃً نَّصُوْحا “ کا معنٰی ہے کہ توبہ محض کسی کے خوف کی وجہ سے نہیں بلکہ صرف اللہ کے خوف اور اس کی رضا کے لیے کی جائے۔ جو ایماندار سچی توبہ کریں گے، اللہ تعالیٰ نہ صرف ان کے گناہ معاف فرما کر انہیں جنت میں داخل کرے گا بلکہ محشر کے میدان سے لے کر جنت میں داخل ہونے تک ان کے ایمان اور ” تَوْبَۃً نَّصُوْحا “ کی وجہ سے ان کے لیے روشنی کا بندوبست بھی فرمائے گا، یہ روشنی ان کے آگے آگے اور دائیں جانب بھی پھیل رہی ہوگی۔ دائیں جانب کا ذکر فرما کر اس بات کی طرف اشارہ کیا ہے کیونکہ محشر کے میدان میں بائیں جانب والے جہنمی ہوں گے اور دائیں جانب والے جنتی ہوں گے۔ (الواقعہ : 8، 9)
جہنمی لوگ جہنم کی طرف جاتے ہوئے اپنے گناہوں کی معافی مانگیں گے اور اپنے لیے نور کی دعائیں کرتے جائیں گے۔ یہاں مفسرین نے گناہوں سے مراد نور کے ختم ہونے کا خوف لیا ہے کیونکہ گناہ معاف کرنے کے بعد ہی تو جہنمی کو جہنم میں داخلہ دیا جائے گا۔
(عَنْ نُعَیْمٍ الْمُجْمِرِ قَالَ رَقِیتُ مَعَ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ؓ عَلَی ظَہْرِ الْمَسْجِدِ فَتَوَضَّأَ فَقَالَ إِنِّی سَمِعْتُ النَّبِیَّ ﷺ یَقُولُ :إِنَّ أُمَّتِی یُدْعَوْنَ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ غُرًّا مُحَجَّلِینَ مِنْ آثَارِ الْوُضُوءِ فَمَنِ اسْتَطَاعَ مِنْکُمْ أَنْ یُطِیلَ غُرَّتَہُ فَلْیَفْعَلْ ) (رواہ البخاری : باب فَضْلِ الْوُضُوءِ )
” حضرت نعیم مجمر ؓ بیان کرتے ہیں کہ میں ابوہریرہ ؓ کے ساتھ مسجد کی چھت پر چڑھا۔ حضرت ابوہریرہ ؓ نے وضو کیا اور فرمایا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ میری امت کو قیامت کے دن جب بلایا جائے گا تو وضو کرنے کی وجہ سے ان کے پانچ کلیان چمکتے ہوئے ہوں گے۔ پھر حضرت ابوہریرہ ؓ نے فرمایا کہ تم سے جو اپنی چمک کو زیادہ کرنے کی طاقت رکھتا اسے ایسا کرنا چاہیے۔ “
(اللّٰہُمَّ اجْعَلْ فِی قَلْبِی نُورًا وَفِی بَصَرِی نُورًا وَفِی سَمْعِی نُورًا وَعَنْ یَمِینِی نُورًا وَعَنْ یَسَارِی نُورًا وَفَوْقِی نُورًا وَتَحْتِی نُورًا وَأَمَامِی نُورًا وَخَلْفِی نُورًا وَاجْعَلْ لِیّ نُورًا) (رواہ البخاری، کتاب الدعوات، باب الدعا اذا انتبدہ بالیل)
” اے اللہ میرے دل میں نور پیدا فرمادے میری نگاہ میں بھی نور، میرے کا نوں میں بھی نور، میرے دائیں بھی نور، میرے بائیں بھی نور، میرے اوپر بھی نور، میرے نیچے بھی نور، میرے آگے بھی نور، میرے پیچھے بھی نور، اور میرے لیے نور ہی نور پیدا فرما۔ “
یہاں توبہ کے لیے ” نَّصُوْحا “ کی شرط عائد کی گئی ہے۔ جس کا معنٰی ہے صرف اللہ کی رضا کے لیے توبہ کرنی چاہیے۔ صحابہ کرام ؓ نے ” تَوْبَۃً نَّصُوْحا “ کی کئی شرائط بیان کی ہیں جن میں بنیادی شرائط تین ہیں۔
1۔ اپنے گناہ پر نادم ہو کر اللہ سے معافی مانگنا۔ 2۔ آئندہ گناہ نہ کرنے کا عزم بالجزم کرنا۔
3۔ گنا کے اثرات کی تلافی کرنا۔
(عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ ؓ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ التَّاءِبُ مِنَ الذَّنْبِ کَمَنْ لَا ذَنْبَ لَہٗ )
(رواہ ابن ماجۃ : کتاب الزھد، باب ذکرا لتوبۃ)
” حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا گناہ سے توبہ کرنے والا ایسے ہی پاک ہوجاتا ہے جیسے اس نے کوئی گناہ نہیں کیا۔ “
مسائل
1۔ اللہ کے حضور ایمانداروں کو ” تَوْبَۃً نَّصُوْحا “ کرنی چاہیے۔
2۔ ” تَوْبَۃً نَّصُوْحا “ کے بدلے ایمانداروں کے گناہوں کو معاف کردیا جائے گا۔
3۔ اللہ تعالیٰ ایمانداروں کو ایسی جنت میں داخل کرے گا جس کے نیچے نہریں جاری ہوں گی۔
4۔ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اپنے نبی اور آپ کے ساتھیوں کو رسوا نہیں کرے گا۔
5۔ جنتی کا ایمان ان کے لیے نور ثابت ہوگا۔
6۔ جنت کی طرف جاتے ہوئے اپنے رب سے نور کی تکمیل اور اپنے گناہوں کی معافی مانگیں گے۔
7۔ اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے۔
تفسیر بالقرآن
جنتی کی جنت میں جانے کی شان :
1۔ جب فرشتے پاکباز لوگوں کی روحیں قبض کرتے ہیں تو فرشتے انھیں سلام کہتے ہیں اور جنت کی خوشخبری دیتے ہیں۔ (النحل : 32)
2۔ فرشتے کہتے ہیں تم پر سلامتی ہو تم نے صبر کیا آخرت کا گھر بہت ہی بہتر ہے۔ (الرعد : 24)
3۔ داخل ہوجاؤ جنت میں سلامتی کے ساتھ آج تمہارے لیے داخلے کا دن ہے۔ (ق : 34)
4۔ فرشتے جب جنتی کے پاس جائیں گے تو انہیں سلام کہیں گے۔ (الزمر : 73)
5۔ اللہ کی توحید پر استقامت اختیار کرنے والوں پر فرشتوں کا نزول ہوتا ہے اور وہ انہیں خوشخبری دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ تمہیں غم اور حزن نہیں ہونا چاہیے کیونکہ تمہارے لیے جنت ہے جس کا تمہارے ساتھ وعدہ کیا گیا ہے۔ ( حٰم السجدۃ : 30)
Ayah 66:9فہم القرآن
ربط کلام : کفار اور منافقین کی ہر دم کوشش تھی کہ نبی ﷺ اور آپ کے ساتھیوں کو ناکام اور رسوا کیا جائے، جس وجہ سے کفار اور منافقین پر سختی کرنے کا حکم دیا گیا ہے اور ان کی سزا جہنم بیان کی گئی ہے۔
اس سے پہلی آیت میں ارشاد ہوا کہ اللہ تعالیٰ اپنے نبی اور اس کے ایماندار ساتھیوں کو رسوا نہیں کرے گا، وہ ایمانداروں کو جنت میں داخل فرمائے گا اور ان کا ایمان جنت کے راستے میں ان کے لیے روشنی ثابت ہوگا۔ ان کے مقابلے میں کفار اور منافقین کی سزا جہنم ہوگی جو نہایت ہی برا ٹھکانہ ہے۔ نبی کریم ﷺ نے قتال فی سبیل اللہ کا حکم آنے سے پہلے بےحد صبر اور اعلیٰ اخلاق کا مظاہرہ کرتے ہوئے دن رات کوشش فرمائی کہ کافر اور منافق صراط مستقیم پر گامزن ہوجائیں لیکن وہ لوگ کسی صورت بھی صراط مستقیم پر آنے کے لیے تیار نہ ہوئے۔ ایسے لوگوں کی سزا یہ ہے کہ ان کے جرائم کے مطابق ان پر سختی کی جائے تاکہ وہ اپنے عقیدہ اور کردار پر نظر ثانی کرنے پر غور کریں۔ سختی یہ بھی ہے کہ ان کے مقابلے میں مسلمانوں کو ترجیح دی جائے، اور حالت جنگ میں انہیں قتل کیا جائے۔
(عَنْ أَنَسٍ ؓ أَنَّ النَّبِیَّ ﷺ قَالَ جَاہِدُوا الْمُشْرِکِینَ بِأَمْوَالِکُمْ وَأَنْفُسِکُمْ وَأَلْسِنَتِکُمْ )
(رواہ ابوداؤد : باب کَرَاہِیَۃِ تَرْکِ الْغَزْوِ )
” حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اپنے مالوں، جانوں اور زبانوں کے ساتھ مشرکین سے جہاد کرو۔ “
مسائل
1۔ نبی معظم ﷺ کو کفار اور منافقین پر سختی کرنے کی تلقین کی گئی۔
2۔ کفار اور منافقین کا ٹھکانہ جہنم ہے جو رہنے کے اعتبار سے بدترین جگہ ہے۔
تفسیر بالقرآن
کفار اور منافقین کا انجام :
1۔ منافق اللہ کو دھوکہ دینے والے ہوتے ہیں۔ (النساء : 142)
2۔ منافق جہنم کے سب سے نچلے درجے میں ہوں گے۔ (النساء : 145) (التوبہ : 73، التحریم : 9) (التوبہ : 68)
Ayah 66:10فہم القرآن
ربط کلام : کفار، مشرکین اور منافقین کو ان کے انجام سے ڈرانے کے لیے دو عظیم انبیاء کی بیویوں کی مثال دی گئی ہے۔
مشرک اپنے شرک، کفار، اپنے کفر اور منافق اپنی منافقت کی بنیاد پر سمجھتے ہیں کہ قیامت کے دن ہمیں کوئی گرفت نہیں ہوگی۔ اللہ تعالیٰ نے ان کا زعم ختم کرنے کے لیے دو عظیم انبیاء کی بیویوں کی مثال بیان فرمائی ہے۔ حضرت نوح (علیہ السلام) کی بیوی نے برادری کو مقدم جانا اور اپنے کفر پر قائم رہی۔ حضرت لوط (علیہ السلام) کی بیوی نے رشتہ داری کو عزیز سمجھا اور اپنے خاوند حضرت لوط (علیہ السلام) کے بارے میں منافقت اپنائے رکھی۔ رب ذوالجلال نے نوح اور لوط (علیہ السلام) کی قوم پر عذاب نازل کیا تو نہ صرف ان عورتوں کو ان کی برادری نہ بچا سکی بلکہ عظیم پیغمبر بھی اپنی بیویوں کو عذاب الٰہی سے نہ بچا سکے۔ اس مثال میں اللہ تعالیٰ نے مشرکین، کفار اور منافقین پر یہ بات کھول دی ہے کہ قیامت کے دن کوئی اپنے رشتے داروں اور بزرگوں کی وجہ سے جہنم کے عذاب سے نجات نہیں پاسکے گا، اس بات کی مزید وضاحت کے لیے قرآن مجید نے نبی آخرالزمان ﷺ کے حقیقی چچا ابولہب کا نام لے کر یہ اصول بیان فرمایا ہے کہ دوسرے انبیائے کرام تو اپنے مقام پر سرور دوعالم ﷺ بھی اپنے رشتہ داروں کو جہنم سے نہیں بچاسکیں گے۔
(تَبَّتْ یَدَا اَبِیْ لَہَبٍ وَّتَبَّ مَآ اَغْنٰی عَنْہُ مَالُہٗ وَمَا کَسَبَ سَیَصْلٰی نَارًا ذَاتَ لَہَبٍ وَامْرَأَتُہٗ حَمَّالَۃَ الْحَطَبِ فِیْ جِیْدِہَا حَبْلٌ مِّنْ مَّسَدٍ ) (سورۃ اللہب)
” ابو لہب کے ہاتھ ٹوٹ گئے اور وہ تباہ ہوگیا۔ جو اس نے مال کمایا وہ اس کے کسی کام نہ آیا۔ ضرور وہ بھٹکنے والی آگ میں ڈالا جائے گا اور اس کی بیوی کو بھی جو لکڑیاں اٹھانے والی ہے۔ اس کی گردن میں مونجھ کی رسی ہوگی۔
(عَنْ أَبِيْ ھُرَیْرَۃَ ؓ قَالَ قَامَ رَسُوْلُ اللّٰہ ﷺ حِیْنَ أَنْزَلَ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ (وَأَنْذِرْ عَشِیْرَتَکَ الْأَقْرَبِیْنَ ) قَالَ یَامَعْشَرَ قُرَیْشٍ أَوْ کَلِمَۃً نَحْوَھَا اشْتَرُوْٓا أَنْفُسَکُمْ لَآأُغْنِيْ عَنْکُمْ مِنَ اللّٰہِ شَیْءًا یَابَنِيْ عَبْدِ مَنَافٍ لَآأُغْنِيْ عَنْکُمْ مِنَ اللّٰہِ شَیْءًا یَاعَبَّاسَ بْنَ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ لَآأُغْنِيْ عَنْکَ مِنَ اللّٰہِ شَیْءًا وَیَاصَفِیَّۃُ عَمَّۃُ رَسُوْلِ اللّٰہِ لَآأُغْنِيْ عَنْکِ مِنَ اللّٰہِ شَیْءًا وَیَافَاطِمَۃُ بِنْتُ مُحَمَّدٍ سَلِیْنِيْ مَاشِءْتِ مِنْ مَالِيْ لَآأُغْنِيْ عَنْکِ مِنَ اللّٰہِ شَیْءًا)
(رواہ البخاری : کتاب الوصایا، باب ھل یدخل النساء والولد فی الأقارب)
” حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں جب یہ آیت (اپنے قریبی رشتہ داروں کو ڈرائیے) نازل ہوئی تو رسول اللہ ﷺ کھڑے ہوئے اور فرمایا : اے قریش کے لوگو ! اپنے لیے کچھ کرلو میں تمہیں اللہ کے عذاب سے کوئی فائدہ نہیں دے سکوں گا۔ اے بنی عبد منامیں تمہیں اللہ کے عذاب سے بچا نہیں سکوں گا۔ اے عباس بن عبدالمطلب ! میں تمہیں اللہ کے عذاب سے کچھ فائدہ نہیں دے سکوں گا۔ اے صفیہ ! رسول کی پھوپھی ! میں تمہیں اللہ کے عذاب سے کچھ فائدہ نہیں دے سکوں گا۔ اے فاطمہ بنت محمد ! میرے مال سے جو چاہتی ہے مانگ لے میں مگر تجھے اللہ کے عذاب سے نہیں بچا سکوں گا۔ “
مسائل
1۔ اللہ تعالیٰ نے ایمان اور ایثار کی خاطر فرعون جیسے ظالم اور نافرمان کی بیوی کو جنت میں داخل فرمایا۔
2۔ اللہ تعالیٰ مظلوم کی دعا قبول کرتا ہے اس لیے اس نے فرعون کے مظالم سے اس کی بیوی کو نجات عطا فرمائی۔
تفسیر بالقرآن
اللہ تعالیٰ ہی ظالموں سے نجات دینے والا ہے :
1۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح (علیہ السلام) اور آپ کے ساتھیوں کو ظالموں سے نجات دی۔ ( الشعراء : 119)
2۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور آپ کے ساتھیوں کو فرعون کے مظالم سے نجات عطا فرمائی۔ (الشعراء : 65)
3۔ اللہ تعالیٰ نے لوط (علیہ السلام) کو بےحیا قوم سے نجات عطا فرمائی۔ (الشعراء : 170)
4۔ حضرت شعیب (علیہ السلام) اور ان کے ساتھیوں کو اللہ تعالیٰ نے ظالموں سے نجات عطا فرمائی۔ (ہود : 97)
5۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت ہود اور ان کے ساتھیوں کو ظالموں سے نجات دی۔ (ہود : 58)
6۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت صالح (علیہ السلام) اور ان کے ساتھیوں کو ظالموں سے نجات دی۔ (ہود : 66)
Ayahs 66:11–12فہم القرآن
ربط کلام : بد قسمت عورتوں کا انجام ذکر کرنے کے بعد دو عظیم عورتوں کے کردار اور انعام کا ذکر۔
اس سے پہلے دو بدقسمت عورتوں کے انجام کا ذکر کیا ہے جو دو عظیم انبیاء (علیہ السلام) کی بیویاں تھیں لیکن ایمان اور صالح کردار نہ ہونے کی وجہ سے ان کو ان کی قوم کے ساتھ ہی تباہ کردیا گیا اور آخرت میں انہی کے ساتھ جہنم کا ایندھن بنیں گی۔ اب ان دو معزز خواتین کا ذکر کیا جاتا ہے۔ جن میں ایک دنیا کے بدترین انسان فرعون کی بیوی تھیجو ہر قسم کا آرام اور مقام چھوڑ کر اللہ تعالیٰ اور موسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان لے آئی۔ جونہی وہ اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لائی تو فرعون نے اس پر جو رو استبداد کے پہاڑ ڈھادیئے۔
اس کربناک اور نازک ترین آزمائش میں اس نے اللہ کی بارگاہ میں فریاد کی کہ اے میرے مالک ! میں اس گھر سے تنگ آچکی ہوں، فرعون اور اس کے عملے کے ظلم کے سامنے بےبس ہوچکی ہوں۔ تیرے حضور میری فریاد ہے کہ مجھے جنت میں اپنے پاس گھر عطا فرما، فرعون اور اس کے ظالم عملے سے نجات نصیب فرما۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی مومن بندی کی فریاد قبول فرمائی اور اس کی موت سے پہلے اسے اس کے جنت کے گھر کا دیدار نصیب کیا۔ نبی محترم ﷺ نے اس عظیم عورت کا نام آسیہ بتلایا ہے۔
” حضرت ابو موسیٰ اشعری ؓ بیان کرتے ہیں نبی ﷺ نے فرمایا : عورتوں میں عائشہ کی فضیلت ایسے ہے جیسے تمام کھانوں پر ثرید کی ہے، مردوں میں بہت سے کامل لوگ ہیں لیکن عورتوں میں مریم بنت عمران اور آسیہ زوجۂ فرعون کے علاوہ کوئی کامل نہیں۔ “ (رواہ البخاری : باب قول اللہ تعالیٰ إذ قالت الملائکۃ یا مریم إن اللہ یبشرک)
حضرت مریم بنت عمران جو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی والدہ ماجہ ہیں۔ قرآن مجید نے ان کی حیات طیبہ اور پاکدامنی کا ذکر بڑی تفصیل کے ساتھ کیا ہے۔ یہاں تک کہ قرآن مجید کی ایک سورت کا نام ہی مریم ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس میں اپنی روح پھونک دی۔ اس نے اپنے رب کے فرمان اور اس کی کتابوں کی تصدیق کی اور بڑی فرمانبردار تھی۔ ارشاد ہوا کہ ہم نے اس میں اپنی روح پھونک دی۔ جبرئیل امین کی پھونک کے ساتھ وہ حاملہ ہوگئیں تو اس حالت میں مسجد اقصیٰ سے دور ایک مکان میں جا ٹھہریں جب اسے زچگی کی تکلیف محسوس ہوئی تو وہ ایک کھجور کے تنے کے قریب آئیں۔ بدنامی اور ولادت کی تکلیف کی وجہ سے بےساختہ کہنے لگی کاش ! میں اس سے پہلے مرجاتی اور لوگوں کے ذہن میں بھولی بسری ہوچکی ہوتی۔ اس مشکل وقت میں فرشتے نے کھجور کے نیچے سے آواز دی اے مریم [! پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔ آپ کے رب نے تیرے پاؤں تلے ایک چشمہ جاری کردیا ہے اور کھجور کے تنے کو ہلاؤ تیرے سامنے ترو تازہ کھجوریں آگریں گی۔ کھجوریں کھاؤ، پانی پیو اور بیٹے سے اپنی آنکھیں ٹھنڈی کرو۔ اگر کسی آدمی کو اپنی طرف آتے ہوئے دیکھو تو اسے کہو کہ میں نے رب رحمن کے لیے چُپ رہنے کی منت مانی ہے اس لیے میں آج کسی مرد و زن سے بات نہیں کروں گی۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت مریم [ کو بڑی عزت اور تکریم سے سرفراز فرمایا جن کا یہاں مختصر ذکر کیا گیا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح (علیہ السلام) اور حضرت لوط (علیہ السلام) کی ازواج اور ان کے مقابلے میں فرعون کی بیوی آسیہ اور مریم بنت عمران کا ذکر فرما کر یہ واضح کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں کسی کا حسب نسب اور رشتہ کوئی حیثیت نہیں رکھتا۔ اس کے حضور جو چیز قابل قبول ہے وہ انسان کا ایمان اور صالح کردار ہے۔ اس اصول کی بنا پر دو انبیاء کی بیویاں جہنم کا ایندھن بنیں اور فرعون کی بیوی اور عمران کی بیٹی مریم دنیا اور آخرت میں اعلیٰ مقام سے سرفراز کی گئیں۔
مسائل
1۔ اللہ تعالیٰ نے فرعون کی بیوی کی دعا قبول کی اور اسے فرعون اور اس کے ظالم عملے سے نجات عطا فرمائی۔
2۔ اللہ تعالیٰ نے فرعون کی بیوی کو اس کی موت سے پہلے جنت کی خوشخبری عطا فرمائی۔ 3۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت مریم میں اپنی روح پھونکی۔ 4۔ حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) کی والدہ مریم بنت عمران بڑی ہی پاکباز اور معزز خاتون تھی۔
5۔ حضرت مریم بڑی صالح کردار اور اللہ کے فرمان اور اس کی کتابوں کی تصدیق کرنے والی تھی۔
تفسیر بالقرآن
حضرت مریم [ کا تذکرہ :
(البقرۃ : 87) (آل عمران : 45) (البقرۃ : 253) (المائدۃ : 75) (آل عمران : 59) (النساء : 171) (المائدۃ : 75)