Ayah 65:1فہم القرآن
ربط سورت : سورة التغابن کے اختتام میں مسلمانوں کو یہ سمجھایا ہے کہ تم میں سے کچھ لوگوں کی بیویاں اور اولاد ان کے دشمن ہوجاتے ہیں۔ اگر کسی مرد کو ایسی بیوی کے ساتھ واسطہ پڑے اور وہ اس سے جان چھڑانا چاہئے تو وہ اسے طلاق دے کر جان چھڑا سکتا ہے۔ اسی لیے اس سورت کے آغاز میں طلاق کا طریقہ بتلایا گیا ہے۔
اے نبی ﷺ ! جب تم عورتوں کو طلاق دو تو ان کی عدت کے شروع میں طلاق دو اور ان کی عدت شمار کرو۔ اللہ سے ڈرتے رہو جو تمہار رب ہے۔ مطلقہ عورتوں کو ان کی عدت کے دور ان ان کے گھروں سے نہ نکالو مگر اس صورت میں کہ وہ واضح بےحیائی کا ارتکاب کریں، یہ اللہ کی حدیں ہیں ان کا خیال رکھو۔ جس نے اللہ کی حدوں سے تجاوز کیا اس نے اپنے آپ پر ظلم کیا۔ تم نہیں جانتے کہ ہوسکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ طلاق کے دوران صلح کی راہ پیدا کردے۔ یہ بات پہلے بھی عرض ہوچکی ہے کہ بعض مسائل کی اہمیت اور افادیت اجاگر کرنے کے لیے نبی کو مخاطب کیا گیا ہے تاکہ مسلمان مسئلے کی اہمیت اور رفرضیت کو پوری طرح سمجھ جائیں۔ طلاق سے نہ صرف میاں بیوی کے درمیان جدائی واقع ہوتی ہے بلکہ اکثر اوقات انکی اولاد اور دو خاندانوں کے درمیان بھی منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ میاں بیوی اور ان کے متعلقین کو منفی اثرات سے بچانے کے لیے نبی ﷺ کو مخاطب کیا گیا ہے جس سے مراد آپ کی امت کو سمجھانا ہے۔ خطاب کے آغاز میں نبی ﷺ کو مخاطب فرمایا لیکن پھر ” طَلَّقْتُمُ النِّسَاءَ “ کے الفاظ استعمال فرماکر خطاب کا رخ امت کی طرف پھیر دیا۔ چناچہ ارشاد ہوا کہ اے لوگو ! جب تم اپنی بیویوں کو ان کی عدت کے شروع میں طلاق دو تو طلاق کے دن شمار کیا کرو۔ طلاق کے دوران تمہیں حق نہیں پہنچتا کہ تم بلاوجہ اپنی بیویوں کو ان کے گھروں سے نکال باہر کرو۔ ایسا کرنا اللہ کی حدود کو توڑنے کے ساتھ اپنے آپ پر زیادتی کرنا ہے۔ طلاق کے لیے ” لِعِدَّتِھِنَّ “ کا لفظ استعمال کیا ہے جس کا مطلب ہے کہ طلاق حیض کے دوران یا مجامعت کے بعد نہیں دینی چاہیے۔ عدت کی ابتدا میں طلاق دینے سے عورت کی عدت تین مہینے سے زیادہ نہیں ہوگی اور عدت شمار کرنے میں غلطی کا امکان ختم ہوجائے گا۔ یہ حدود اس لیے مقرر کی گئی ہیں کہ اگر میاں، بیوی ان کا خیال کریں گے تو ہوسکتا ہے کہ طلاق رجعی کی صورت میں ان کے درمیان اللہ تعالیٰ صُلح اور آشتی کے حالات پیدا کر دے۔ اس بنا پر مرد کو سمجھایا ہے کہ وہ اپنی بیوی کو اس کی عدت کے دوران گھر میں رہنے دے اس گھر میں رہنا اس کا حق ہے۔ عورت کو یہ سمجھایا گیا ہے کہ وہ کسی قسم کی گستاخی، زیادتی اور بےحیائی کی حرکت نہ کرے۔ میاں بیوی میں سے جو بھی ان باتوں کا خیال نہیں رکھے گا۔ نہ صرف وہ اپنے آپ پر ظلم کرے گا بلکہ وہ اللہ کی حدود کو توڑنے والا ہوگا۔ اللہ کی حدود توڑنے والے ظالموں میں شمار ہوں گے۔
مسائل
1۔ بیوی کو طلاق اس کے طہر میں دینی چاہیے۔ 2۔ عدت کے دوران عورت کا اپنے گھر میں رہنا اس کا حق ہے۔
3۔ عدت کے دوران عورت کو شرعی عذر کے بغیر گھر سے نکالنا اللہ کی حد سے تجاوز کرنا ہے۔
4۔ عورت اپنے خاوند کے گھر میں عدت گزارے تو اللہ تعالیٰ صُلح کا کوئی نہ کوئی راستہ نکال دے گا۔
5۔ اللہ تعالیٰ سے ڈرتے ہوئے اس کی معین کردہ حدود کا احترام کرنا چاہیے۔
تفسیر بالقرآن
عدّت کے مسائل :
1۔ مطلقہ کی عدّت تین حیض ہے۔ (البقرۃ : 228) 2۔ بیوہ کی عدت چار ماہ دس دن ہے۔ (البقرۃ : 234)
3۔ حیض نہ آنے کی صورت میں عدّت تین ماہ ہے۔ (الطلاق : 4، 5)
4۔ حاملہ کی عدّت وضع حمل ہے۔ (الطلاق : 4) 5۔ عدّت کے دن شمار کرنے چاہئیں۔ (الطلاق : 1)
Ayahs 65:2–3فہم القرآن
ربط کلام : عدّت کے دوران میاں بیوی کی آپس میں صلح نہ ہو تو انہیں اچھے طریقے سے ایک دوسرے سے الگ ہوجانا چاہیے۔
بیوی کو کسی اہم وجہ کے بغیر طلاق دینا اللہ تعالیٰ کے نزدیک نہایت ہی ناپسندیدہ فعل ہے۔ اس لیے قرآن مجید میں طلاق دینے سے پہلے میاں بیوی اور ان کے لواحقین کو کچھ اقدامات اٹھانے کا حکم دیا گیا ہے۔ اگر طلاق دینا ناگزیر ہوجائے تو اس کا طویل طریقہ کار متعین کیا ہے تاکہ جہاں تک ہوسکے صورت حال کو طلاق تک پہنچنے سے روکاجائے۔ اگر بالفرض نباہ کی کوئی صورت باقی نہ رہے تو حکم ہے کہ جب عورتیں اپنی عدت پوری کرنے کو پہنچ جائیں تو طلاق رجعی کی صورت میں انہیں اچھے طریقے سے رکھنا ہے یا پھر بہترین انداز میں رخصت کرنا ہے۔ دونوں صورتوں میں دو منصف مزاج اور حق گو گواہوں کا ہونا لازم ہے تاکہ وہ بوقت ضرورت اللہ کے حکم کے مطابق ٹھیک، ٹھیک گواہی دیں۔ ان باتوں کی ان لوگوں کو نصیحت کی جاتی ہے جو اللہ اور آخرت پر ایمان رکھتے ہیں۔ جو اللہ سے ڈرے گا اللہ تعالیٰ اس کے لیے مشکل سے نکلنے کا راستہ پیدا کردے گا اور اسے ایسی جگہ سے رزق عطا فرمائے گا جہاں سے اسے وہم و گمان بھی نہیں ہوگا، جو اللہ پر بھروسہ کرتا ہے اللہ اس کے لیے کافی ہوجاتا ہے۔ یقیناً اللہ تعالیٰ جو کام کرنا چاہتا ہے وہ ہو کر رہتا ہے۔ اس نے ہر چیز کا وقت مقرر کر رکھا ہے۔ یہاں تک رجوع اور فارغ کرنے کے وقت دو گواہ مقرر کرنے کا تعلق ہے، یہ قطعی حکم نہیں کیونکہ اس کے لیے نصیحت کا لفظ استعمال فرمایا ہے۔ اس لیے تمام مفسرین نے لکھا ہے کہ اس موقعہ پر گواہ بنانا بہتر ہے فرض نہیں۔ اس لیے سب کا اتفاق ہے کہ گواہوں کے بغیر رجوع اور طلاق واقع ہوجاتی ہے۔ طلاق کے وقت بالخصوص عورت کے دل میں اپنے مستقبل کے بارے میں فکر پیدا ہوتی ہے کہ آئندہ زندگی گزارنا اس کے لیے کس طرح ممکن ہوگا۔ اس خوف سے نکالنے کے لیے ارشادہوا کہ جو اللہ پر بھروسہ کرے گا اللہ تعالیٰ اسے ایسے مقام سے رزق عطا کرے گا جس کا وہ تصور بھی نہیں کرسکتا۔ رزق سے مراد ہر قسم کی نعمت اور زندگی کا سامان ہے۔ آدمی کے لیے اس میں یہ ہدایت ہے کہ اگر وہ اللہ کا حکم مان کر عورت کو رخصت کرتے وقت کچھ دیتا ہے تو اسے یقین کرنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ اسے ایسی جگہ سے رزق عطا فرمائے گا جہاں سے وہ توقع بھی نہیں کرتا تھا۔ اس آیت کی تفسیر میں اکثر مفسرین نے علامہ قرطبی کے حوالے سے یہ واقعہ لکھا ہے۔ عوف بن مالک اشجعی نبی کریم ﷺ کی خدمت میں آکر عرض کرتے ہیں کہ میرا بیٹا دشمن کی قید میں ہے۔ اس کی ماں اس کی جدائی میں بےچین اور نڈھال ہوچکی ہے۔ آپ اس کا کوئی حل ارشاد فرمائیں۔ نبی ﷺ نے فرمایا اپنے بیٹے اور بیوی کو کہو کہ وہ کثرت سے ” لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ إِلَّا باللّٰہِ “ کا ورد کریں۔ انہوں نے ورد کیا تو ان کا بیٹا تھوڑے ہی دن بعد دشمن کی قید سے رہا ہوگیا۔ (الرغیب و الترہیب : باب الذکر والدعاء)
مسائل
1۔ مطلقہ عورت اپنی عدت پوری کرلے تو اسے اچھے انداز میں رکھنا ہے یا اچھے طریقے سے فارغ کرنا چاہیے۔
2۔ مطلقہ عورت کو فارغ کرتے ہوئے دو منصف مزاج گواہوں کی گواہی ڈالنی چاہیے۔ 3۔ اللہ تعالیٰ اپنا فیصلہ نافذ کرنے والا ہے۔
4۔ جو اللہ سے ڈر کر معاملات طے کرے گا اللہ تعالیٰ اس کے لیے آسانی کا راستہ کھول دے گا۔
5۔ جو اللہ سے ڈر کر زندگی بسر کرے گا اللہ تعالیٰ اسے نامعلوم جگہ سے رزق عطا فرمائے گا۔
6۔ جو اللہ پر بھروسہ کرتا ہے اللہ اس کے لیے کافی ہوجاتا ہے۔ 7۔ اللہ کے لیے سچی گواہی پر قائم رہنا چاہیے۔
8۔ اللہ تعالیٰ نے ہر کام کے لیے ایک وقت اور طریقہ مقرر کر رکھا ہے۔
Ayahs 65:4–5فہم القرآن
ربط کلام : عورتوں کے مسائل کا بیان جاری ہے۔ حیض سے ناامید اعورتوں کی عدت کا ذکر۔
1۔ آسیہ یعنی وہ عورت جو عمررسیدہ ہونے کی و جہ سے حیض آنے سے ناامید ہوچکی ہو۔ طلاق ہونے کی صورت میں اس کی عدت تین قمری مہینے ہوگی۔ اس کے بارے میں ” اِنِ ا رْتَبْتُمْفَعِدَّتُہُنَّ ثَلَاثَۃُ اَشْہُرٍ “ کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں جن کا معنٰی ہے کہ اگر تمہیں شک ہو تو اس کی عدت تین مہینے ہوگی۔ ان الفاظ سے کچھ لوگوں کو یہ شبہ پیدا ہوا ہے کہ شاید جس عورت کا حیض بند ہوچکا ہو اسے طلاق کے بعد تین مہینے کی عدت گزارنے کی ضرورت نہیں، یہ استدلال ٹھیک نہیں ہے بلکہ اسے بھی عدت گزارنی چاہیے۔
2۔ جو عورت بلوغت کی عمر کو نہیں پہنچی اور اس کے خاوند نے اسے طلاق دے دی تو اس کی عدت بھی تین مہینے ہوگی۔ اس سے ثابت ہوا کہ بلوغت سے پہلے عورت سے نکاح ہوسکتا ہے۔
3۔ حاملہ عورت کو طلاق ہوجائے تو اس کی عدت بچہ پیدا ہونے تک ہے۔ اسکی عدت میں صحابہ کرام [ کے درمیان دو نقطہ نظر پائے جاتے تھے۔
(أَخْبَرَنِی أَبُو سَلَمَۃَ ؓ قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَی ابْنِ عَبَّاسٍ وَأَبُو ہُرَیْرَۃَ ؓ جَالِسٌ عِنْدَہُ فَقَالَ أَفْتِنِی فِی امْرَأَۃٍ وَلَدَتْ بَعْدَ زَوْجِہَا بِأَرْبَعِینَ لَیْلَۃً فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ ؓ آخِرُ الأَجَلَیْنِ قُلْتُ أَنَا (وَأُولاَتُ الأَحْمَالِ أَجَلُہُنَّ أَنْ یَضَعْنَ حَمْلَہُنَّ ) قَالَ أَبُو ہُرَیْرَۃَ ؓ أَنَا مَعَ ابْنِ أَخِی یَعْنِی أَبَا سَلَمَۃَ فَأَرْسَلَ ابْنُ عَبَّاسٍ ؓ غُلاَمَہُ کُرَیْبًا إِلَی أُمِّ سَلَمَۃَ ؓ یَسْأَلُہَا فَقَالَتْ قُتِلَ زَوْجُ سُبَیْعَۃَ الأَسْلَمِیَّۃِ وَہْیَ حُبْلَی فَوَضَعَتْ بَعْدَ مَوْتِہِ بِأَرْبَعِینَ لَیْلَۃً فَخُطِبَتْ فَأَنْکَحَہَا رَسُول اللّٰہِ ﷺ وَکَانَ أَبُو السَّنَابِلِ فیمَنْ خَطَبَہَا) ( رواہ البخاری : کتاب التفسیر : باب (وَأُولاَتُ الأَحْمَالِ أَجَلُہُنَّ أَنْ یَضَعْنَ حَمْلَہُنَّ ، وَمَنْ یَتَّقِ اللَّہَ یَجْعَلْ لَہُ مِنْ أَمْرِہِ یُسْرًا)
” ابو سلمہ ؓ کہتے ہیں کہ ابن عباس ؓ کے پاس ایک شخص آیا۔ اس وقت حضرت ابوہریرہ ؓ بھی ان کے پاس بیٹھے تھے وہ شخص کہنے لگا کہ ایک عورت کے ہاں اس کا خاوند فوت ہونے کے چالیس دن بعد بچہ پیدا ہوا ؟ اس کی عدت کے بارے میں آپ کا کیا فتویٰ ہے۔ ابن عباس ؓ نے کہا کہ وہ لمبی عدت (چار ماہ دس دن) پوری کرے۔ ابوسلمہ ؓ کہنے لگے پھر اس آیت کا کیا مطلب ہوا کہ ” حاملہ کی عدت ان کے وضع حمل تک ہے۔ “ سیدنا ابوہریرہ ؓ کہنے لگے میں تو اپنے بھتیجے ابوسلمہ ؓ کی رائے سے اتفاق کرتا ہوں۔ ابن عباس ؓ نے یہی مسئلہ پوچھنے کے لیے اپنے غلام کریب کو ام المومنین ام سلمہ ؓ کے پاس بھیجا۔ ام سلمہ ؓ نے فرمایا سبیعہ اسلمیہ کا خاوند (سعد بن خولہ) اس وقت فوت ہوا جب وہ حاملہ تھی۔ خاوند کی وفات کے چالیس دن بعد اس کے ہاں بچہ پیدا ہوا تو اسے نکاح کے پیغام آنے لگے۔ آپ ﷺ نے اسے نکاح کی اجازت دے دی پیغام دینے والوں میں سے ابوسنابل بھی شامل تھا۔ “
یہ ” اللہ “ کے احکام ہیں جن پر ہر صورت عمل ہونا چاہیے۔ جو شخص اللہ سے ڈرے گا اللہ تعالیٰ اس کے لیے آسانی پیدا فرمائے گا اور اس کے گناہ معاف فرما کر اسے اجر عظیم سے سرفراز فرمائے گا۔ یاد رہے کہ کچھ معاملات ایسے ہوتے ہیں جن پر قانون کے ذریعے پوری طرح گرفت کرنا ممکن نہیں ہوتا ان معاملات میں میاں بیوی کے آپس کے تعلقات بھی شامل ہیں اگر ان میں بگاڑ پیدا ہوجائے تو صرف ایک ہی طریقہ ہے جس کے ذریعے معاملات کو آسانی کے ساتھ سدھارا جاسکتا ہے وہ طریقہ اللہ کا خوف اختیار کرنا ہے۔ اگر فریقین میں اللہ کا خوف پیدا ہوجائے تو معاملات کو سدھارنے میں آسانی پیدا ہوجائے گی۔ اس وجہ سے عائلی قوانین کا ذکر کرتے ہوئے بار بار میاں بیوی کو ” اِتَّقُوْا اللّٰہ “ کا حکم دیا گیا ہے۔ تقویٰ اختیار کرنے سے اللہ تعالیٰ میاں بیوی کے لیے آسانی پیدا فرمائے گا اس کا دوسرا مفہوم یہ ہے کہ اگر تم اللہ کے احکام پر عمل کروگے تو علیحدگی کی صورت میں اللہ تعالیٰ دونوں کے لیے آسانی پیدا فرمائے گا۔
مسائل
1۔ حیض سے مایوس عورتیں بھی طلاق کے بعد تین مہینے عدت پوری کریں گی۔
2۔ نابالغ عورت کو بھی طلاق کے بعد تین مہینے عدت پوری کرنا ہوگی۔
3۔ حاملہ عورت کی عدت بچہ جنم دینے کے ساتھ ہی پوری ہوجائے گی۔
تفسیر بالقرآن
مطلقہ اور بیوہ عور توں کی عدت کے احکام :
1۔ مطلقہ کی عدّت تین حیض ہے۔ (البقرۃ : 228) 2۔ بیوہ کی عدت چار ماہ دس دن ہے۔ (البقرۃ : 234)
3۔ حیض نہ آنے کی صورت میں مطلقہ کی عدّت تین ماہ ہے۔ (الطلاق : 4، 5)
4۔ عورت شوہر کے گھر عدّت گزارسکتی ہے۔ (الطلاق : 1) 5۔ دورانِ عدّت نکاح جائز نہیں۔ (البقرۃ : 235)
6۔ مباشرت سے قبل طلاق ہونے کی صورت میں عدّت نہیں ہوگی۔ (الاحزا ب : 49)
7۔ طلاق والی حاملہ بچہ جنم دینے تک مکان اور نفقہ کی حق دار ہے۔ (الطلاق : 6)
8۔ عدّت والی حمل نہ چھپائے۔ (البقرۃ : 228) 9۔ عدّت میں منگنی کا اشارہ کرنے میں گناہ نہیں۔ (البقرۃ : 235)
تقویٰ کے فوائد :
1۔ متقین کے لیے کامیابی ہے۔ (الانبیاء : 31 تا 33)
2۔ متقین کا بہتر انجام ہے۔ (ہود : 49) 3۔ متقین کے لیے جنت ہے۔ (الحجر : 45)
4۔ اللہ تعالیٰ نے متقین کے ساتھ جنت کا وعدہ فرمایا ہے اور کافروں کا انجام دوزخ کی آگ ہے۔ (الرعد : 35)
5۔ قیامت کے دن متقین کے چہرے ہشاش بشاش ہوں گے۔ (یونس : 26۔ 27)
6۔ متقین کے لیے ان کے رب کے پاس نعمتوں والی جنت ہے۔ (القلم : 34)
7۔ متقی کا کام آسان اور اس کی سب خطائیں معاف اور ان کے لیے بڑا اجر ہوگا۔ (الطلاق : 4 تا 5)
8۔ متقین اولیاء اللہ ہیں جو قیامت کے دن بےخوف ہوں گے۔ ( یونس : 61 تا 64)
Ayahs 65:6–7فہم القرآن
ربط کلام : مطلقہ اور بیوہ عورت کی عدت کے دوران نان نفقہ کی ذمہ داری کا ذکر۔
اسی سورت کی پہلی آیت میں یہ حکم دیا گیا ہے کہ مطلقہ عورتوں کو عدّت کے دوران ان کے گھروں سے نکالنا جائز نہیں جو شخص بلاوجہ انہیں ان کے گھروں سے نکالے گا وہ اللہ کی حدود کو توڑنے کی وجہ سے ظالم ٹھہرے گا۔ اس آیت میں یہ ہدایت کی گئی ہے کہ مطلقہ عورتوں کو ان کی عدت کے دوران ان کے خاوند اپنے پاس رکھیں اور انہیں پریشان کرنے کے لیے کسی قسم کی تکلیف نہ دیں۔ اگر وہ حمل سے ہوں تو بچہ پیدا ہونے تک ان کے اخراجات اٹھانا ان کے خاوندوں کی ذمہ داری ہوگی اگر وہ تمہارے کہنے سے اپنے بچے کو دودھ پلائیں تو پھر انہیں نان ونفقہ دینا ہوگا۔ اگر میاں بیوی کے درمیان بچے کے دودھ پلانے میں موافقت نہ ہوسکے تو پھر کوئی دوسری عورت بچے کو دودھ پلائے گی۔ مال دار آدمی اپنی وسعت کے مطابق اور تنگدست اپنی بساط کے مطابق خرچ کرے گا اگر تم اپنی اپنی بساط کے مطابق خرچ کرو گے تو اللہ تعالیٰ تمہارے لیے وسعت پیدا فرمائے گا۔
” اور مائیں اپنی اولاد کو پورے دو سال دودھ پلائیں جن کا ارادہ دودھ پلانے کی مدت پوری کرنے کا ہو اور باپ کے ذمہ دستور کے مطابق ان کا نان ونفقہ ہے ہر شخص کو اتنی ہی تکلیف دی جاتی ہے جتنی اس کی طاقت ہو۔ ماں کو اس کے بچہ کی وجہ سے، باپ کو اس کی اولاد کی وجہ سے کوئی تکلیف نہ دی جائے۔ وارثوں پر بھی اس جیسی ذمہ داری ہے، پھر اگر ماں باپ اپنی رضا مندی اور باہمی مشورے سے دودھ چھڑانا چاہیں تو ان دونوں پر کچھ گناہ نہیں اور اگر تمہارا ارادہ اپنی اولاد کو دودھ پلوانے کا ہو تو بھی تم پر کوئی گناہ نہیں جب کہ تم دستور کے مطابق جو طے کیا ہے وہ ان کے حوالے کر دو ۔ اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو اور جان لو کہ اللہ تعالیٰ تمہارے اعمال کو دیکھ رہا ہے۔ “ (البقرۃ : 233)
مسائل
1۔ طلاق دینے والا شخص اپنی بیوی کو تین مہینے اپنے گھر رہنے کی اجازت دے۔
2۔ تین مہینے کی عدت کے دوران عورت کو اس کے خاوند کی طرف سے کسی قسم کی تکلیف نہیں ہونی چاہیے۔
3۔ باہمی رضامندی سے بچے کو دودھ پلایا جائے تو بچے کے باپ کے ذمہ عورت کو نان ونفقہ دینا چاہیے۔
4۔ اگر بچے کو کوئی اور دایہ دودھ پلائے تو اسے بھی اجرت دینی چاہیے۔
5۔ اللہ تعالیٰ ہی ہر کسی کے لئے آسانی اور کشادگی پیدا کرنے والا ہے۔
تفسیر بالقرآن
طلاق دینے کے بعد عورت اور مرد کی ذمہ داریاں :
1۔ عورت شوہر کے گھر عدّت گزارسکتی ہے۔ (الطلاق : 1) 2۔ عدّت والی عورت حمل نہ چھپائے۔ (البقرۃ : 228)
3۔ خاوند اپنی بیوی سے ہاتھ لگائے بغیر طلاق دے تو عورت کے لیے عدّت نہیں۔ (الاحزا ب : 49)
4۔ عدّت والی حاملہ ہو تو بچہ جنم دینے تک مکان اور نفقہ کی حق دار ہے۔ (الطلاق : 6)
5۔ عدّت میں منگنی کا اشارہ کرنے میں گناہ نہیں۔ (البقرۃ : 235) 6۔ دورانِ عدّت نکاح جائز نہیں۔ (البقرۃ : 235
Ayahs 65:8–10فہم القرآن
ربط کلام : اللہ تعالیٰ کے احکام کی جو لوگ پرواہ نہیں کرتے انہیں اپنے سے پہلے نافرمان لوگوں کے انجام کو سامنے رکھنا چاہیے۔
اللہ تعالیٰ نے عائلی قوانین بیان کرتے ہوئے انہیں کئی مرتبہ حدود اللہ قرار دیا ہے اور بار بار حکم دیا ہے کہ میاں، بیوی کو حدود کے بارے اللہ تعالیٰ سے ڈرنا چاہیے۔ اگر دونوں کے درمیان نباہ کی کوئی صورت باقی نہ رہے تو علیحدگی بھی اچھے انداز میں ہونی چاہیے۔ انہیں یاد رکھنا چاہیے کہ جو لوگ اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کرتے ہیں اللہ تعالیٰ انہیں سخت عذاب دینے والا ہے۔ اگر لوگوں کو اس بات پر یقین نہیں آتا تو انہیں اپنے سے پہلے نافرمان لوگوں کا انجام اپنے سامنے رکھنا چاہیے۔ جب انہوں نے اللہ اور اس کے رسول کی مسلسل نافرمانی کی تو اللہ تعالیٰ نے انہیں ایسے عذاب میں مبتلا کیا جس کی مثال اس سے پہلے موجود نہ تھی ان لوگوں نے اپنے گناہوں کا انجام پایا اور ایسے لوگوں کا انجام برا ہی ہوا کرتا ہے۔ یہ ان کی دنیا میں سزاتھی آخرت میں انہیں شدید ترین عذاب دیا جائے گا۔ جو شخص اللہ کے عذاب سے بچنا چاہتا ہے اسے ہر حال میں اس سے ڈرتے رہنا چاہیے کیونکہ اس کا فرمان ہے کہ اے عقل والو ! ہر حال میں اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو اور اس پر ٹھیک طریقے سے ایمان لاؤ کیونکہ اس نے تمہارے لیے اپنی نصیحت یعنی کتاب نازل فرمائی ہے جس میں تمہارے لیے مکمل راہنمائی کا بندوبست کیا ہے۔
(یٰٓا أَ یُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اِنْ تَتَّقُوا اللّٰہَ یَجْعَلْ لَّکُمْ فُرْقَانًا وَّ یُکَفِّرْ عَنْکُمْ سَیِّاٰتِکُمْ وَ یَغْفِرْلَکُمْ وَ اللّٰہُ ذُوالْفَضْلِ الْعَظِیْمِ ) (الانفال : 29)
” اے لوگوجو ایمان لائے ہو ! اگر تم اللہ سے ڈرو گے تو وہ تمہیں حق و باطل میں فرق کرنے کی صلاحیت دے گا اور تم سے تمہاری برائیاں دور کرے گا اور تمہیں بخش دے گا اور اللہ بڑے فضل والا ہے۔ “
مسائل
1۔ جن لوگوں نے اللہ اور اس کے رسولوں کی نافرمانی کی اللہ تعالیٰ نے ان کا سخت محاسبہ کیا اور انہیں ہولناک عذاب میں مبتلا کیا۔
2۔ اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کرنے والے بالآخر اپنپے کیے کی سزا پاتے ہیں۔ نافرمانوں کا انجام کبھی اچھا نہیں ہوا کرتا۔
3۔ اللہ تعالیٰ نے نافرمان لوگوں کے لیے آخرت میں شدید ترین عذاب تیار رکھا ہے۔
4۔ اللہ تعالیٰ نے لوگوں کے لیے اپنی کتاب نازل فرمائی ہے تاکہ عقل مند لوگ اس سے نصیحت حاصل کریں۔
تفسیر بالقرآن
اللہ تعالیٰ کی نصیحت کی مختلف صورتیں۔
1۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید کو نصیحت کے لیے نازل فرمایا۔ (آ : 29)
2۔ اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں مثالیں بیان کرتا ہے تاکہ لوگ نصیحت حاصل کریں۔ (الزمر : 27)
3۔ اللہ تعالیٰ لوگوں کے لیے اپنی آیات کھول کھول کر بیان کرتا ہے تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں۔ (البقرۃ : 221)
4۔ صاحب عقل ہی نصیحت حاصل کرتے ہیں۔ (الزمر : 9)
5۔ ہم نے جو کتاب نازل کی ہے اس میں تمہارے لیے نصیحت ہے تم عقل کیوں نہیں کرتے۔ (الانبیاء : 10)
6۔ ہم نے قرآن مجید کو واضح کردیا تاکہ لوگ نصیحت حاصل کریں۔ (بنی اسرئیل : 41)
7۔ اللہ تعالیٰ نے آل فرعون کو مختلف عذابوں سے دو چار کیا تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں۔ (الاعراف : 130)
8۔ نہیں ہے تمہارے لیے اللہ کے سوا کوئی دوست اور سفارشی پھر تم نصیحت کیوں نہیں حاصل کرتے۔ (السجدۃ : 4)
Ayah 65:11فہم القرآن
ربط کلام : جس ذکر کا اس سے پہلے بیان ہوا ہے وہ ذکر ” اللہ “ نے اپنے رسولوں پر نازل فرمایا جن میں آخری رسول حضرت محمد ﷺ ہیں۔ الرّسول کی ذمہ داری ہے کہ وہ اللہ کے احکام لوگوں کے سامنے کھول کھول کر بیان فرمائے۔
اللہ تعالیٰ نے نبی آخر الزماں ﷺ پر اپنا ذکر یعنی آخری کتاب نازل فرمائی۔ جس کے بارے میں سورة الجمعہ کی ابتدا میں ارشادہوا کہ اسی نے اَن پڑھ قوم میں انہی میں سے ایک رسول منتخب کیا جو ان کے سامنے اس کی آیات پڑھتا ہے اور ان کا تزکیہ کرتے ہوئے انہیں کتاب و حکمت کی تعلیم دیتا ہے الرّسول کی بعثت سے پہلے لوگ کھلی گمراہی میں مبتلا تھے۔ سورت ابراہیم کی پہلی آیت میں فرمایا کہ اس کتاب کو ہم نے آپ ﷺ پر نازل فرمایا اس لیے کہ آپ اپنے رب کے حکم سے لوگوں کو ہر قسم کے اندھیروں سے نکال کر نور کی طرف لائیں۔ اللہ تعالیٰ ہر اعتبار سے غالب اور لائقِ تعریف ہے۔ یہاں ارشاد فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ذکر نازل کرنے کے ساتھ اپنا رسول بھیجا تاکہ تمہارے سامنے اللہ کے احکام کھول کھول کر بیان کرے اور ان لوگوں کو اندھیروں سے روشنی کی طرف لے آئے۔ جو اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لاتے ہیں اور ایمان لاکر صالح اعمال کرتے ہیں۔ جو بھی اللہ پر ایمان لاکر صالح اعمال کرے گا اللہ تعالیٰ اسے جنت میں داخل فرماے گا جس کے نیچے سے نہریں جاری ہیں اور وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔ اللہ تعالیٰ انہیں بہترین رزق عطا فرمائے گا۔
نبی ﷺ کی صبح کی نماز سے پہلے دعا :
(اللّٰہُمَّ اجْعَلْ فِی قَلْبِی نُورًا وَفِی بَصَرِی نُورًا وَفِی سَمْعِی نُورًا وَعَنْ یَمِینِی نُورًا وَعَنْ یَسَارِی نُورًا وَفَوْقِی نُورًا وَتَحْتِی نُورًا وَأَمَامِی نُورًا وَخَلْفِی نُورًا وَاجْعَلْ لِیّ نُورًا) (رواہ البخاری، کتاب الدعوات، باب الدعا اذا انتبدہ بالیل)
” اے اللہ میرے دل میں نور پیدا فرمادے میری نگاہ میں بھی نور، میرے کا نوں میں بھی نور، میرے دائیں بھی نور، میرے بائیں بھی نور، میرے اوپر بھی نور، میرے نیچے بھی نور، میرے آگے بھی نور، میرے پیچھے بھی نور، اور میرے لیے نور پیدا فرما۔ “
مسائل
1۔ الرسول لوگوں کے سامنے اللہ کے احکام کھول کھول کر بیان کرتے تھے۔ تاکہ لوگوں کو اندھیروں سے روشنی کی طرف لایا جائے۔
2۔ جو لوگ اللہ پر ایمان لائیں اور صالح اعمال کریں گے اللہ تعالیٰ انہیں ہمیشہ ہمیش کے لیے جنت میں داخل فرمائے گا۔
3۔ اللہ تعالیٰ جنتیوں کو بہترین رزق عطا فرمائے گا۔
تفسیر بالقرآن
انبیائے کرام (علیہ السلام) کی بعثت کا مقصد :
1۔ انبیاء کرام (علیہ السلام) کا پہلا مقصد ” اللہ “ کی توحید کی دعوت دینا تھا۔ (الانبیاء : 25)
2۔ ” اللہ تعالیٰ “ نے ہر امت میں رسول مبعوث فرمائے ان کی بعثت کا مقصد لوگوں کو ” اللہ “ کی بندگی کی طرف بلانا اور شیطان کی بندگی سے روکنا تھا۔ (النمل : 36)
3۔ اللہ تعالیٰ نے نبی ﷺ پر اس لیے قرآن مجید نازل کیا تاکہ آپ لوگوں کو ہر قسم کی جہالت سے نکال کر دین کی روشنی کی طرف لانے کی کوشش کریں۔ (ابراہیم : 1)
4۔ ” اللہ تعالیٰ “ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو ان کی قوم کی طرف اس لیے مبعوث فرمایا کہ وہ انہیں ظلمات سے نکال کر دین کی روشنی کی طرف لائیں۔ (ابراہیم : 5)
5۔ ” اللہ تعالیٰ “ نے نبی ﷺ کو اس لیے مبعوث فرمایا کہ آپ لوگوں کے سامنے اللہ کی کتاب پڑھیں انہیں گناہوں سے پاک کریں، اور انہیں کتاب و حکمت کی تعلیم دیں۔ (الجمعہ : 2)
6۔” اللہ تعالیٰ “ نے نبی ﷺ کو اس لیے مبعوث فرمایا کہ آپ انہیں نیکی کا حکم کریں اور برائی سے منع کریں، طیب چیزوں کو ان کے لیے حلال کریں اور گندی چیزوں کو ان کے لیے حرام قرار دیں اور ان سے ناروا بوجھ اتار دیں اور ان کی گردنوں کو ناجائز پابندیوں سے آزاد کریں۔ (اعراف : 157)
Ayah 65:12فہم القرآن
ربط کلام : اللہ تعالیٰ پر اس لیے ایمان لانا اور اس کے حکم کے مطابق نیک اعمال کرنے ہیں کیونکہ رب نے زمین و آسمانوں کو پیدا فرمایا اور وہی پورے نظام کو چلا رہا ہے۔
سورۃ البقرہ کی آیات 21 اور 22 میں اللہ تعالیٰ نے تمام انسانوں کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ اے لوگو ! اپنے رب کی عبادت کرو جس نے تمہیں اور تم سے پہلے لوگوں کو پیدا کیا تاکہ تم پرہیزگار ہوجاؤ۔ اسی نے تمہارے لیے زمین کو فرش اور آسمان کو چھت بنایا وہی آسمان سے پانی نازل کرتا ہے اور اس کے ذریعے تمہیں پھلوں سے رزق عطا کرتا ہے، اس کے سوا نہ کوئی پیدا کرنے والا اور نہ تمہیں رزق دینے والا ہے، حقیقت جاننے کے باوجود اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ بناؤ۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں بڑی تفصیل کے ساتھ سات آسمانوں کا ذکر کیا ہے۔ الارض عربی زبان میں واحد اور جمع دونوں کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ اسی لیے اس مقام پر یہ الفاظ کی وضاحت فرما دی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے سات آسمان پیدا کیے اور ان کی مثل یعنی سات زمینیں پیدا فرمائیں۔ وہ ان کے درمیان اپنے احکام نازل کرتا ہے تاکہ تم انہیں جاننے اور سمجھنے کی کوشش کرو کہ یقیناً اللہ ہر چیز پر قادر ہے اور وہی اپنے علم، اقتدار اور اختیارات کے حوالے سے ہر چیز کا احاطہ کیے ہوئے ہے۔
(عَنِ الْحَسَنِ قَالَ قَالَتِ الْیَہُودُ خَلَقَ اللّٰہ تَبَارَکَ وَتَعَالَی السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ فِی سِتَّۃِ أَیَّامٍ وَاسْتَرَاحَ فِی الْیَوْمِ السَّابِعِ فَأَنْزَلَ اللہُ تَبَارَکَ وَتَعَالَی عَلَی نَبِیِّہِ ﷺ (وَلَقَدْ خَلَقْنَا السَّمَاوَاتِ وَمَا بَیْنَہُمَا فِی سِتَّۃِ أَیَّامٍ وَمَا مَسَّنَا مِنْ لُّغُوبٍ ) ( المجالسۃ وجواھر العلم : ج : 6، ص : 223)
” حضرت حسن (رح) بیان کرتے ہیں کہ یہودیوں نے کہا : اللہ تعالیٰ نے آسمان و زمین کو چھ دن میں پیدا کیا اور ساتویں دن آرام فرمایا تو اللہ تعالیٰ نبی ﷺ پر یہ آیت نازل فرمائی۔” ہم نے زمین اور آسمانوں کو اور جو کچھ ان کے درمیان ہے اسے چھ دنوں میں پیدا کیا اور ہمیں تھکان نہیں ہوئی۔ “