64. Surah At-Taghaabun

التغابنMutual Disillusion · 18 ayahsفہم القرآن

تعارف

تعارف

سورة التغابن کا تعارف سورت التغابن کا نام اس کی نویں (٩) آیت میں موجود ہے یہ مدینہ منورہ میں نازل ہوئی اس کی اٹھارہ آیات اور دو رکوع ہیں۔ یہ سورت بھی ان سورتوں میں شامل ہے جنہیں مسبّحات کہا جاتا ہے اس کی ابتدا میں بتلایا گیا ہے کہ زمین و آسمانوں کی ہر چیز اللہ تعالیٰ کی تسبیح کرتی ہے اور اس بات کا اقرار کرتی ہے کہ زمین و آسمانوں کی بادشاہی اللہ ہی کے لیے ہے وہ بڑا قابل تعریف اور ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے۔ یہ اس کی قدرت کا نمونہ ہے کہ اس نے کھرب ہا انسان پیدا کیے جن میں کوئی کافر ہے اور کوئی ایمان لانے والا ہے۔ اس نے زمین و آسمانوں کو خاص مقصد کے لیے پیدا فرمایا اور وہی لوگوں کی بہترین شکل و صورت بناتا ہے، بالآخر سب نے اسی کی طرف پلٹ کر جانا ہے۔ وہ زمین و آسمانوں کی ہر چیز سے واقف ہے۔ وہ جانتا ہے جس بات کو لوگ چھپاتے ہیں اور جس کو ظاہر کرتے ہیں یہاں تک کہ وہ دلوں کے راز جاننے والا ہے۔ کیا لوگوں کے پاس اپنے سے پہلے کفار کی خبر نہیں پہنچی کہ اللہ تعالیٰ نے ان کی کس طرح گرفت کی اور فرمایا اپنے کیے کا سامنا کرو، اب تمہیں اذّیت ناک عذاب دیا جائے گا۔ عذاب پانے والوں کا ایک جرم یہ بھی تھا کہ جب بھی ان کے پاس رسول آئے تو انہوں نے یہ کہہ کر انہیں مسترد کردیا کہ تم ہماری طرح کے انسان ہو اس لیے ہماری کس طرح رہنمائی کرو گے۔ ان کا خیال تھا کہ ہمارے مرنے کے بعد اللہ تعالیٰ ہمیں دوبارہ زندہ نہیں کرے گا اور اہل مکہ بھی یہی کہتے ہیں کہ ہمیں دوبارہ زندہ نہیں کیا جائے گا۔ اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) انہیں قسم دے کر بتلائیں کہ اللہ تعالیٰ ضرور زندہ فرما کر تمہیں بتلائے گا جو کچھ تم کرتے رہے ہو۔ دوبارہ پیدا کرنا اور تم سے حساب لینا اللہ تعالیٰ کے لیے کوئی مشکل نہیں۔ تمہارے لیے یہی بہتر ہے کہ تم اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ اور اس روشنی کے پیچھے چلو جو اللہ تعالیٰ نے قرآن کی صورت میں تمہاری طرف نازل کی ہے اور اس دن کی پکڑ سے بچ جاؤ جس دن اللہ تعالیٰ سب کو جمع کرے گا اور وہ ہار جیت کا دن ہوگا۔ جو اللہ تعالیٰ پر ایمان لائے گا وہ جیت جائے گا اور اسے اس جیت کے بدلے نعمتوں والا گھر عطا کیا جائے گا، جن لوگوں نے اللہ اور اس کے رسول کا انکار کیا اور قیامت کے دن کو جھٹلایا، انہیں جہنم میں پھینکا جائے گا یہ ان کے لیے سب سے بڑی شکست ہوگی۔ اس سورت کے آخر میں مسلمانوں کو یہ نصیحت کی گئی ہے کہ تمہیں اپنی بیویوں اور اپنی اولادوں سے بچنا چاہیے کیونکہ بعض اوقات تمہاری بیویاں، تمہاری اولادیں تمہاری دشمن ثابت ہوتی ہیں۔ اس صورت میں تمہیں ان کے پیچھے لگ کر اپنے آپ کو مصیبت میں نہیں ڈالنا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ نے تمہیں جتنی صلاحیت اور استطاعت بخشی ہے اس کے مطابق اس سے ڈرتے رہو اس کا فرمان سنو اس کی اطاعت کرو اور اس کی راہ میں خرچ کرو یہ تمہارے لیے بہت بہتر ہے۔ جو لوگ بخل سے بچا لیے گئے اور اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرتے رہے وہ کامیاب ہوں گے۔

Ayahs 64:1–2

یُسَبِّحُ لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ۚ لَهُ الْمُلْكُ وَ لَهُ الْحَمْدُ١٘ وَ هُوَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 64:1 in the Quran reader

اللہ “ کی تسبیح کر رہی ہے ہر چیز جو آسمانوں میں ہے اور جو زمین میں ہے کہ اسی کی بادشاہی ہے اور اسی کے لیے تعریف ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے

هُوَ الَّذِیْ خَلَقَكُمْ فَمِنْكُمْ كَافِرٌ وَّ مِنْكُمْ مُّؤْمِنٌ١ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ Open ayah 64:2 in the Quran reader

وہی ہے جس نے تمہیں پیدا کیا پھر تم میں سے کچھ کافر ہیں اور کوئی مومن۔ جو تم کرتے ہو اللہ سب کچھ دیکھ رہا ہے

فہم القرآن ربط سورت : مسبِّحات میں سے یہ پانچویں سورت ہے۔ ارشاد ہوا کہ زمین و آسمانوں کی ہر چیز اللہ کی تسبیح بیان کررہی ہے۔ ہر کسی کی تسبیح میں یہ اقرار شامل ہے کہ زمین و آسمان کی بادشاہی ” اللہ “ کے لیے ہے اور وہی ہر قسم کی تعریف کے لائق ہے، نہ صرف زمین و آسمانوں کی ہر چیز کا بادشاہ ہے بلکہ وہ ہر چیز پر پوری طرح اقتدار اور اختیار بھی رکھتا ہے۔ اس فرمان میں یہ بات بالکل واضح کردی گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے زمین و آسمانوں اور جو کچھ ان کے درمیان ہے اسے پیدا فرما کر یونہی نہیں چھوڑ دیا بلکہ ساری کائنات اور اس کا نظام اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے وہ جو چاہے جب چاہے اور جس طرح چاہے اپنا حکم نافذ کرتا ہے۔ اس کے حکم کے سامنے کوئی چیزدم نہیں مار سکتی وہی لوگوں کو پیدا کرنے والا ہے پھر ان میں کوئی کافر ہوا اور کوئی مومن بنا۔ اللہ تعالیٰ سب کچھ دیکھتا ہے جو لوگ کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے یہاں جمع مخاطب کی ضمیر استعمال فرما کر خطاب کیا ہے کہ اے لوگو ! میں نے تمہیں پیدا کیا ہے لیکن تم میں کچھ لوگ میری ذات اور فرمان کا انکار کرتے ہیں اور کچھ میری ذات کا اقرار اور میرے حکم کو ماننے والے ہیں، یاد رکھو ! جو بھی تم عمل کرتے ہو میں اسے دیکھنے والا ہوں۔ یہ فرمان ایک لحاظ سے ہر انسان کو انتباہ ہے کہ اے انسان ! تجھے وہی کرنا چاہے جس کا تجھے حکم دیا گیا ہے، مگر لوگوں کی حالت یہ ہے کہ ان کی غالب اکثریت اپنے رب کے ساتھ کفر کرنے والی ہے۔ انسان کے کفر کرنے کی درج ذیل صورتیں ہیں۔ 1 ۔ اللہ کی ذات یا اس کی صفات کا انکار کرنا۔ 2 ۔ اللہ کے احکام کا انکار کرنا۔ 3 ۔ اللہ تعالیٰ پر اس طرح ایمان نہ لانا جس طرح ایمان لانے کا اس نے حکم دیا ہے۔ 4 ۔ اللہ تعالیٰ کی صفات کو اس کے حکم کے مطابق ماننے کی بجائے ان میں تاویلات کرتا۔ 5 ۔ اللہ تعالیٰ کی ذات یا صفات میں کسی کو شریک بنا نا۔ 6 ۔ اس کے احکام میں کسی ایک کا انکار کرنا۔ مسائل 1۔ ہر چیز اللہ تعالیٰ کی تسبیح کرتی ہے۔ 2۔ زمین و آسمانوں اور ہر چیز کا بادشاہ اور مختار کل ” اللہ “ ہے۔ 3۔ تمام تعریفات اللہ کے لیے ہیں۔ 4۔ اللہ ہی وہ ذات ہے جس نے انسانوں کو پیدا فرمایا۔ 5۔ لوگوں میں کافر اور مومن دو قسم کے انسان ہوتے ہیں۔ 6۔ اللہ تعالیٰ لوگوں کو ہر حال میں دیکھنے والا ہے۔ تفسیر بالقرآن اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے : 1۔ اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے (البقرۃ : 20) 2۔ ” اللہ “ آسمانوں و زمین کی ہر چیز کو جانتا ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ (آل عمراٰن : 29) 3۔ ” اللہ “ ہر اس چیز کو جانتا ہے جو زمین میں داخل ہوتی اور نکلتی ہے۔ ( الحدید : 4) 4۔ ” اللہ “ آسمانوں و زمین کی ہر چیز کو جانتا ہے۔ ( المجادلہ : 7) 5۔” اللہ “ حاضر اور غیب کو جاننے والا ہے۔ ( الرعد : 9) 6۔ تم جہاں کہیں بھی ہوگے اللہ تمہیں قیامت کے دن جمع فرمائے گا وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ (البقرۃ : 148) 7۔ اللہ جسے چاہے عذاب دے جسے چاہے معاف کردے وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ (البقرۃ : 284) 8۔ ہر چیز اللہ تعالیٰ کے احاطہ علم میں ہے۔ (الطلاق : 12) 9۔ بیشک میرا پروردگار جو تم عمل کرتے ہو اس کا احاطہ کیے ہوئے ہے۔ (ھود : 92) 10۔ یقیناً اللہ ہر چیز کو گھیرنے والا ہے۔ (حٰم السجدۃ : 54) 11۔ اللہ ہر چیزکا احاطہ کرنے والا ہے۔ (النساء : 126)
Ayahs 64:3–4

خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ بِالْحَقِّ وَ صَوَّرَكُمْ فَاَحْسَنَ صُوَرَكُمْ١ۚ وَ اِلَیْهِ الْمَصِیْرُ Open ayah 64:3 in the Quran reader

اس نے زمین اور آسمانوں کو برحق پیدا کیا ہے اور تمہاری بہت اچھی شکلیں بنائیں اور اسی کی طرف تم نے پلٹ کر جانا ہے

یَعْلَمُ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ یَعْلَمُ مَا تُسِرُّوْنَ وَ مَا تُعْلِنُوْنَ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ Open ayah 64:4 in the Quran reader

زمین و آسمانوں کی ہر چیز کا اسے علم ہے اور جو کچھ تم چھپاتے ہو اور جو کچھ تم ظاہر کرتے ہو سب کچھ اسے معلوم ہے، اور وہ دلوں کے راز جاننے والا ہے

فہم القرآن ربط کلام : اے لوگو ! جس ” اللہ “ کی ہر چیز تعریف کرتی ہے اسی نے تمہیں بہترین شکل و صورت میں پیدا کیا ہے اور وہ تمہارے ہر عمل کو دیکھنے والا ہے اس لیے کہ اس سے تمہاری کوئی خفیہ اور ظاہر بات پوشیدہ نہیں جب اس سے کوئی بات پوشیدہ نہیں ہے تو تمہیں ایسی ذات کے ساتھ کفر و شرک نہیں کرنا چاہیے۔ (ہُوَ الَّذِیْ خَلَقَ لَکُمْ مَّا فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا ثُمَّ اسْتَوٰٓی اِلَی السَّمَآءِ فَسَوّٰہُنَّ سَبْعَ سَمَوٰتٍ وَ ہُوَ بِکُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ) (البقرۃ : 29) ” اللہ وہ ذات ہے جس نے تمہارے لیے زمین کی تمام چیزوں کو پیدا کیا پھر آسمان کا ارادہ فرمایا تو ان کو ٹھیک ٹھیک سات آسمان بنایا اور وہ ہر چیز کو جاننے والا ہے۔ “ (ہُوَ الَّذِیْ یُصَوِّرُکُمْ فِی الْاَرْحَامِ کَیْفَ یَشَآءُ لَآ اِلٰہَ اِلَّا ہُوَ الْعَزِیْزُ الْحَکِیْمُ ) (آل عمران : 6) ” جس طرح چاہتا ہے وہ ماں کے پیٹ میں تمہاری صورتیں بناتا ہے۔ اس کے سوا کوئی معبود برحق نہیں وہ نہایت غالب خوب حکمت والا ہے۔ “ (عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ؓ وَرَفَعَ الْحَدِیْثَ أَنَّہُ قَالَ إِنَّ اللَّہَ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ وَکَّلَ بالرَّحِمِ مَلَکًا فَیَقُوْلُ أَیْ رَبِّ نُطْفَۃٌ أَیْ رَبِّ عَلَقَۃٌ أَیْ رَبِّ مُضْغَۃٌ فَإِذَا أَرَاد اللَّہُ أَنْ یَقْضِیَ خَلْقًا قَالَ قَالَ الْمَلَکُ أَیْ رَبِّ ذَکَرٌ أَوْ أُنْثٰی شَقِیٌّ أَوْ سَعِیْدٌ فَمَا الرِّزْقُ فَمَا الأَجَلُ فَیُکْتَبُ کَذَلِکَ فِی بَطْنِ أُمِّہٖ ) (رواہ مسلم : باب کَیْفِیَّۃِ الْخَلْقِ الآدَمِیِّ فِی بَطْنِ أُمِّہِ وَکِتَابَۃِ ۔۔ ) ” حضرت انس بن مالک ؓ سے روایت ہے وہ حدیث کو مرفوع بیان کرتے ہیں آپ ﷺ نے فرمایا : اللہ تعالیٰ نے رحم میں ایک فرشتہ مقرر کیا ہے وہ پوچھتا ہے اے میرے رب ! یہ نطفہ ہے اے میرے رب ! یہ گوشت کا لوتھڑا ہے آپ ﷺ نے فرمایا جب اللہ تعالیٰ کسی کی تخلیق کا فیصلہ فرماتا ہے تو فرشتہ کہتا ہے اے میرے رب مذکر یا مؤنث بدبخت یا خوش بخت اس کا رزق کتنا ہے اس کی عمر کتنی ہے اسی طرح اس کا نیک اور بد ہونا اس کی ماں کے پیٹ میں ہی لکھ دیا جاتا ہے۔ “ (وَ عِنْدَہٗ مَفَاتِحُ الْغَیْبِ لَا یَعْلَمُہَآ اِلَّا ہُوَ وَ یَعْلَمُ مَا فِی الْبَرِّ وَ الْبَحْرِ وَ مَا تَسْقُطُ مِنْ وَّ رَقَۃٍ اِلَّا یَعْلَمُہَا وَ لَا حَبَّۃٍ فِیْ ظُلُمٰتِ الْاَرْضِ وَ لَا رَطْبٍ وَّ لَا یَابِسٍ اِلَّا فِیْ کِتٰبٍ مُّبِیْنٍ ) (الانعام : 59) ” اور اسی کے پاس غیب کی چابیاں ہیں انہیں اس کے سوا کوئی نہیں جانتا اور وہ جانتا ہے جو کچھ خشکی اور سمندر میں ہے اور کوئی پتا نہیں گرتا مگر وہ اسے جانتا ہے اور زمین کے اندھیروں میں کوئی تر اور خشک دانہ نہیں مگر وہ ایک واضح کتاب میں لکھا ہوا ہے۔ “ ” تم چپکے سے بات کرو یا اونچی آواز سے کرو۔ اللہ کے لیے برابر ہے وہ تو دلوں کا حال جانتا ہے۔ کیا جس نے پیدا کیا وہ نہیں جانتا ہے ؟ حالانکہ وہ نہایت باریک بین اور پوری طرح خبردار ہے۔ “ (الملک : 13، 14) مسائل 1۔ اللہ تعالیٰ نے زمین و آسمانوں کو برحق اور بامقصدپیدا کیا ہے۔ 2۔ اللہ تعالیٰ دلوں کے راز جاننے والا ہے۔ 3۔ اللہ تعالیٰ نے ہی لوگوں کی صورتیں بنائیں اور وہ بہترین شکل و صورت بنانے والا ہے۔ 4۔ سب نے اسی کی طرف لوٹ کرجانا ہے۔ 5۔ اللہ تعالیٰ زمین و آسمانوں کی ہر چیز کو جانتا ہے۔ 6۔ اللہ تعالیٰ وہ بھی جانتا ہے جو لوگ چھپاتے ہیں اور وہ بھی جانتا ہے جو لوگ ظاہر کرتے ہیں۔ تفسیر بالقرآن اللہ تعالیٰ انسان کو پیدا کرنے والا اور وہی اس کی شکل و صورت بناتا ہے : 1۔ اللہ تعالیٰ نے تمام انسانوں اور زمین و آسمانوں کو پیدا فرمایا۔ (البقرۃ : 22) 2۔ اللہ نے انسان کو مٹی سے پیدا کیا۔ (الروم : 20) 3۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو ایک نطفے سے پیدا کیا۔ (الدھر : 2) 4۔ اللہ نے ایک ہی جان سے سب انسانوں کو پیدا کیا۔ (الاعراف : 189) 5۔ اللہ ہی نے انسان کو بڑی اچھی شکل و صورت میں پیدا فرمایا۔ (التین : 4) 6۔ اللہ ہی پیدا کرنے والا ہے اور اس کا ہی حکم چلنا چاہیے۔ (الاعراف : 54) 7۔ لوگو اس رب سے ڈر جاؤ جس نے تمہیں پیدا کیا ہے۔ (النساء : 1)
Ayahs 64:5–6

اَلَمْ یَاْتِكُمْ نَبَؤُا الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْ قَبْلُ١٘ فَذَاقُوْا وَبَالَ اَمْرِهِمْ وَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 64:5 in the Quran reader

کیا تمہیں ان لوگوں کی خبر نہیں پہنچی جنہوں نے اس سے پہلے کفر کیا اور پھر اپنے اعمال کا مزہ چکھ لیا ؟ اور ان کے لیے درد ناک عذاب ہے

ذٰلِكَ بِاَنَّهٗ كَانَتْ تَّاْتِیْهِمْ رُسُلُهُمْ بِالْبَیِّنٰتِ فَقَالُوْۤا اَبَشَرٌ یَّهْدُوْنَنَا١٘ فَكَفَرُوْا وَ تَوَلَّوْا وَّ اسْتَغْنَى اللّٰهُ١ؕ وَ اللّٰهُ غَنِیٌّ حَمِیْدٌ Open ayah 64:6 in the Quran reader

یہ اس لیے ہوا کہ ان کے پاس ان کے رسول کھلی دلیلیں اور نشانیاں لے کر آئے مگر انہوں نے کہا کیا انسان ہماری راہنمائی کریں گے ؟ انہوں نے ماننے سے انکار کیا اور منہ پھیرلیا تب اللہ بھی ان سے بےپرواہ ہوگیا اور اللہ تو بےنیاز اور حمد کے لائق ہے

فہم القرآن ربط کلام : اس سے پہلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے اپنے خالق اور بہترین مصّور ہونے کا ذکر کرتے ہوئے بتلایا ہے کہ وہ جانتا ہے جو لوگ ظاہر اور خفیہ طور پر کرتے ہیں اور وہ دلوں کے راز بھی جانتا ہے۔ جو ذات دلوں کی راز اور سب کچھ جانتی ہے اس کی بغاوت کر کے انسان کہاں جاسکتا ہے۔ اس لیے اس نے پہلے نافرمانوں کا انجام بتلا کر دوسروں کو انتباہ کیا ہے کہ اے نافرمان لوگوں کیا تمہیں پہلے لوگوں کے انجام کا علم نہیں ؟ کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں کس طرح اذیت ناک عذاب میں مبتلا کیا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے لوگوں کو راہ راست پر لانے کے لیے کئی انداز اختیار فرمائے ہیں۔ ان میں ایک انداز یہ اختیار فرمایا کہ لوگوں کو بار بار دعوت دی کہ وہ اپنے سے پہلی قوموں کے کردار اور انجام پر غور کریں تاکہ وہ برے اعمال کے برے انجام سے بچ جائیں، کبھی ارشاد فرمایا کہ کیا ان لوگوں نے زمین پر چل پھر کر نہیں دیکھا کہ ان سے پہلے مجرموں کا کیا انجام ہوا۔ (آل عمران : 137) پھر ارشاد ہوا کیا ان کے پاس ان لوگوں کی خبر نہیں پہنچی جن لوگوں نے اللہ کی ذات اور اس کے احکام کا انکار کیا۔ جب وہ ایک حد سے آگے بڑھ گئے تو اللہ تعالیٰ نے ان پر اپنا غضب نازل کیا۔ (طٰہٰ : 128) غضب کا مزید اظہار کرتے ہوئے فرمایا کہ اب اپنے کیے کا مزہ چکھو اور قیامت کے دن تمہارے لیے اذیّت ناک عذاب ہوگا۔ تباہ ہونے والی اقوام کا ایک جرم یہ بھی تھا کہ جب ان کے پاس اللہ کے رسول واضح دلائل لے کر آئے تو انہوں نے یہ کہہ کر ان کی بات کا انکار کیا۔ کیا ہمارے جیسا انسان ہماری راہنمائی کرے گا اور ہم اس کی تابعداری کریں ؟ اس وجہ سے انہوں نے انبیاء ( علیہ السلام) کی نبوت کو ماننے سے انکار کیا اور حق بات کو تسلیم کرنے سے انکاری ہوئے، ان کے انکار کے پیچھے تکبر اور ان کی لاپرواہی شامل تھی اس لیے اللہ تعالیٰ نے بھی ان سے لاپرواہی کا اظہار فرمایا۔ اللہ تعالیٰ ہر اعتبار سے بےنیاز اور لائقِ تعریف ہے یہاں جن قوموں کے انجام کا اشارہ کیا گیا ہے ان سے مراد وہی اقوام ہیں جن کے انجام کا قرآن مجید نے تفصیل کے ساتھ ذکر کیا ہے۔ ان میں سرفہرست قوم نوح، قوم عاد، قوم ثمود، قوم مدین، قوم لوط اور آل فرعون ہیں ان میں ہر قوم نے اپنے نبی کی ذات اور بات کا یہ کہہ کر انکار کیا کہ یہ تو ہمارے جیسا انسان ہے۔ لہٰذا ہم تیری پیروی نہیں کریں گے۔ یہاں تک ان کے اس بہانے کا تعلق ہے کہ نبی کو بشر نہیں ہونا چاہیے تھا۔ اللہ تعالیٰ نے اس اعتراض کے کئی جواب دیئے ہیں۔ ان میں سے تین جواب یہ ہیں : ” ان کے رسولوں نے کہا ہم نہیں ہیں مگر تمہارے جیسے بشر ہیں۔ لیکن اللہ احسان فرماتا ہے اپنے بندوں میں سے جس پر چاہتا ہے اور ہمارے لیے ممکن نہیں کہ تمہارے پاس کوئی دلیل اللہ کے اذ ن کے بغیر لے آئیں۔ پس لازم ہے کہ ایمان والے اللہ پر بھروسہ کریں۔ “ (ابراہیم : 11) مسائل 1۔ لوگوں کو مجرم اقوام کے انجام سے سبق حاصل کرنا چاہیے۔ 2۔ مجرم لوگ دنیا میں بھی عذاب میں مبتلا ہوئے اور آخرت میں بھی ان کو اذّیت ناک عذاب دیا جائے گا۔ 3۔ حقائق کا انکار کرنے والے لوگ انبیاء کے بشر ہونے پر اعتراض کرتے ہیں۔ 4۔ اللہ تعالیٰ کو لوگوں کے کفرو شرک کوئی پرواہ نہیں وہ ہر لحاظ سے بےپرواہ اور لائقِ تعریف ہے۔ تفسیر بالقرآن تمام انبیاء ( علیہ السلام) بشر تھے : 1۔ انبیاء ( علیہ السلام) نے فرمایا کہ ہم تمہاری طرح بشر ہیں لیکن اللہ جس پر چاہتا ہے احسان فرماتا ہے۔ (ابراہیم : 11) 2۔ نوح (علیہ السلام) کی قوم نے کہا نہیں ہے یہ مگر تمہارے جیسا بشر اور یہ تم پر فضیلت حاصل کرنا چاہتا ہے۔ (المومنون : 24) 3۔ نہیں ہے تو مگر ہمارے جیسا بشر کوئی نشانی لے کر آ اگر تو سچا ہے۔ (الشعراء : 154) 4۔ نہیں ہے یہ مگر تمہارے جیسا بشر جس طرح تم کھاتے ہو، ویسے وہ کھاتا ہے۔ (المومنون : 33) 5۔ ہم نے آپ سے پہلے جتنے بھی نبی بھیجے وہ بشر تھے۔ (النحل : 43) 6۔ کسی بشر کو ہمیشگی نہیں ہے۔ (الانبیاء : 34) 7۔ نبی آخر الزماں ﷺ کا اعتراف کہ میں تمہاری طرح بشر ہوں۔ (الکہف : 110، حم السجدۃ : 6) 8۔ ہم نے آپ سے پہلے جتنے نبی بھیجے وہ بشر ہی تھے۔ (النحل : 43) (الشعراء : 186) 9۔ آپ ﷺ اعلان فرمائیں کہ میں تمہارے جیسا انسان ہوں۔ (الکہف : 110)
Ayahs 64:7–8

زَعَمَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اَنْ لَّنْ یُّبْعَثُوْا١ؕ قُلْ بَلٰى وَ رَبِّیْ لَتُبْعَثُنَّ ثُمَّ لَتُنَبَّؤُنَّ بِمَا عَمِلْتُمْ١ؕ وَ ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ یَسِیْرٌ Open ayah 64:7 in the Quran reader

انکار کرنے والوں نے بڑے دعوے سے کہا ہے کہ وہ مرنے کے بعد ہرگز نہیں اٹھائے جائیں گے ان سے فرمائیں کیوں نہیں میرے رب کی قسم تم ضرور اٹھائے جاؤ گے پھر ضرور تمہیں بتایا جائے گا کہ تم نے دنیا میں کیا کچھ کیا ہے اور ایسا کرنا اللہ کے لیے بہت آسان ہے

فَاٰمِنُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ النُّوْرِ الَّذِیْۤ اَنْزَلْنَا١ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ Open ayah 64:8 in the Quran reader

پس اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ اور اس روشنی پر جو ہم نے نازل کی ہے۔ جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اس سے باخبر ہے

فہم القرآن ربط کلام : ہلاک ہونے والی اقوام کا ایک اور سنگین جرم۔ انسان جب آخرت کی جوابدہی کے عقیدے کا انکار کرتا ہے تو پھر وہ شتر بےمہار بن جاتا ہے جس بنا پر وہ بڑے بڑے حقائق کو ٹھکرا دیتا ہے جن حقائق کو انسان ٹھکراتا ہے ان میں آخرت کا عقیدہ بھی شامل ہے۔ قیامت کا انکار کرنے والے سب سے بڑی دلیل یہ دیتے ہیں کہ جب انسان کی ہڈیاں بوسیدہ ہوجاتی ہیں اور وہ مٹی کے ساتھ مٹی بن جاتی ہیں تو پھر اس کو کیسے زندہ کیا جاسکتا ہے۔ قرآن مجید نے دوبارہ زندہ ہونے کے درجنوں دلائل دیئے ہیں حتی کہ یہاں تک فرمایا کہ اے نبی ! انہیں فرمادیں ! ” کہ تم پتھر بن جاؤ یا لوہا یا کوئی ایسی مخلوق جو تمہارے دلوں میں بڑی ہے عنقریب وہ کہیں گے کون ہمیں لوٹائے گا ؟ فرما دیں جس نے تمہیں پہلی بار پیدا کیا۔ پھر وہ آپ کے سامنے اپنے سر ہلائیں گے اور کہیں گے یہ کب ہوگا ؟ فرمادیں امید ہے عنقریب ہوگا۔ جس دن وہ تمہیں بلائے گا تم اس کی تعریفیں کرتے ہوئے چلے آؤ گے اور سمجھو گے کہ تم تھوڑا عرصہ ہی دنیا میں ٹھہرے تھے۔ “ (بنی اسرائیل : 50 تا 52) یہاں ارشاد ہوا کہ اے رسول ! انہیں فرمائیں ! کیوں نہیں ! مجھے اپنے رب کی قسم ! نہ صرف تمہیں دوبارہ زندہ کیا جائے گا بلکہ تمہیں وہ سب کچھ بتلایاجائے گا جو کچھ تم نے دنیا میں کیا ہوگا۔ تمہیں دوبارہ زندہ کرنا اور تمہارے اعمال سے تمہیں آگاہ کرنا اللہ تعالیٰ کے لیے بالکل آسان ہے، بہتر یہی ہے کہ تم اللہ اور اس کے رسول اور جو کچھ اللہ اس نے اپنے رسول پر نازل کیا ہے اس پر ایمان لاؤ اور ہر دم خیال رکھو کہ جو تم عمل کرتے ہو اللہ تعالیٰ اس سے ہر حال میں باخبر ہوتا ہے۔ ” حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ایک آدمی نے بہت زیادہ گناہ کیے تھے جب اس کی موت کا وقت قریب آیا تو اس نے اپنے بیٹوں کو وصیت کی کہ جب وہ مرجائے تو اس کو جلا دینا پھر اس کے جسم کا نصف حصہ خشکی میں پھینک دینا اور نصف حصہ سمندر میں بہا دینا۔ اگر اللہ تعالیٰ نے اس کو پکڑ لیا تو اسے ایسا عذاب دے گا اس طرح کا عذاب جہاں والوں میں سے کسی کو نہیں ہوگا جب وہ مرگیا تو اس کے بیٹوں نے اس کے حکم کی تعمیل کی۔ اللہ تعالیٰ نے سمندر کو حکم دیا۔ اس نے اس کا نصف حصہ جمع کردیا اللہ تعالیٰ نے خشکی کو حکم دیا اس نے بھی اس کا نصف حصہ اکٹھا کردیا پھر اسے فرمایا کہ تو نے ایسا کیوں کیا اس نے کہا اے میرے رب ! تو جانتا ہے کہ میں نے تیرے خوف سے یہ وصیت کی تھی اللہ تعالیٰ نے اس کو معاف فرما دیا۔ “ (رواہ مسلم : باب فِی سَعَۃِ رَحْمَۃِ اللَّہِ تَعَالَی وَأَنَّہَا سَبَقَتْ غَضَبَہُ ) مسائل 1۔ قیامت کے منکرین کا کہنا ہے کہ ہمیں دوبارہ زندہ نہیں کیا جائے گا۔ 2۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی سے حلفاً کہلوایا ہے کہ وہ ہر صورت لوگوں کو دوبارہ زندہ کرے گا۔ 3۔ اللہ تعالیٰ کے لیے لوگوں کو دوبارہ زندہ کرنا اور انہیں ان کے اعمال بتلانا بالکل آسان ہے۔ 4۔ لوگوں کو اوٹ پٹانگ باتیں کرنے کی بجائے اللہ نے جو کچھ اپنے رسول پر نازل کیا ہے اس پر ایمان لانا چاہیے۔ 5۔ لوگ جو بھی عمل کرتے ہیں اللہ تعالیٰ ہر حال میں ان سے باخبر رہتا ہے۔ تفسیر بالقرآن قیامت کے دن زندہ ہونے کے دلائل : 1۔ وہ کہتے ہیں ہمیں کون دوبارہ زندہ کرے گا ؟ فرما دیجیے جس نے پہلی بار پیدا کیا ہے۔ (بنی اسرائیل : 51) 2۔ ہم نے زمین سے تمہیں پیدا کیا اسی میں لوٹائیں گے اور اسی سے دوبارہ اٹھائیں گے۔ (طٰہٰ : 55) 3۔ اللہ ہی مخلوق کو پیدا کرنے والا ہے، پھر وہی اسے دوبارہ لوٹائے گا۔ (یونس : 4) 4۔ اللہ وہ ذات ہے جس نے مخلوق کو پہلی بار پیدا کیا، پھر وہ اسے لوٹائے گا اور یہ کام اس کے لیے آسان ہے۔ (الروم : 27) 5۔ اللہ ہی نے مخلوق کو پیدا کیا، پھر وہ اسے دوبارہ پیدا کرے گا، پھر تم اسی کی طرف لوٹائے جاؤ گے۔ (الروم : 11) 6۔ کیا ” اللہ “ کو اس بات پر قدرت نہیں ؟ کہ وہ مردوں کو زندہ فرمائے۔ (القیامہ : 40)
Ayahs 64:9–10

یَوْمَ یَجْمَعُكُمْ لِیَوْمِ الْجَمْعِ ذٰلِكَ یَوْمُ التَّغَابُنِ١ؕ وَ مَنْ یُّؤْمِنْۢ بِاللّٰهِ وَ یَعْمَلْ صَالِحًا یُّكَفِّرْ عَنْهُ سَیِّاٰتِهٖ وَ یُدْخِلْهُ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَاۤ اَبَدًا١ؕ ذٰلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ Open ayah 64:9 in the Quran reader

وہ سب کو جمع کرنے کے دن اکٹھا کرے گا اور وہ ہار جیت کا دن ہوگا جو اللہ پر ایمان لایا اور نیک عمل کرتا رہا اللہ اس کے گناہ مٹا دے گا اور اسے ایسی جنتوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی یہ لوگ ہمیشہ ہمیش ان میں رہیں گے، یہی بڑی کامیابی ہے

وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَاۤ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ النَّارِ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ؕ وَ بِئْسَ الْمَصِیْرُ۠ Open ayah 64:10 in the Quran reader

اور جن لوگوں نے کفر کیا اور ہماری آیات کو جھٹلایا وہ آگ میں جانے والے ہیں وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے جو برا ٹھکانہ ہے

فہم القرآن ربط کلام : اللہ تعالیٰ لوگوں کے اعمال سے پوری طرح باخبر ہے اور وہی لوگوں کو ان کے اعمال کی جزا و سزا دینے کے لیے قیامت برپا کرے گا۔ قیامت کا دن پچاس ہزار سال پر مشتمل ہوگا اور اس میں کئی مراحل آئیں گے، نامعلوم ! ایک مرحلہ دنیا کے کتنے سالوں پر محیط ہوگا۔ قیامت کے مختلف مراحل کی وجہ سے اس کے مختلف نام ہیں، قرآن مجید ہر مرحلہ کا نام لے کر اس کا تذکرہ کرتا ہے۔ یہاں قیامت کے ابتدائی اور آخری مرحلے کے لیے دو الفاظ استعمال کیے ہیں۔ پہلے مرحلے میں لوگوں کو قبروں سے اٹھا کر ان کے اعمال کے مطابق انہیں محشر کے میدان میں اکٹھا کیا جائے گا اس وجہ سے قیامت کے دن کو ” یَوْمَ الْجَمْعِ “ کا نام دیا ہے، قیامت کے آخری مرحلہ میں لوگوں کے درمیان فیصلہ کردیا جائے گا۔ کچھ لوگ اپنے اعمال کے نتیجے میں جہنم میں جائیں گے اور کچھ جنت میں داخل کیے جائیں گے۔ اس مرحلہ کو ” یَوْمُ التَّغَابُنِ “ یعنی وہ دن جس میں لوگوں کے درمیان ہارجیت کا فیصلہ ہوگا۔ ہارنے والے جہنم میں جائیں گے اور جیتنے والے جنت میں داخل ہوں گے، جو لوگ جہنم میں داخل کیے جائیں گے یہ وہ لوگ ہوں گے جو آخرت کے مقابلے میں دنیا کے مفاد اور جیت کو ترجیح دیا کرتے تھے۔ دنیا میں تو یہ لوگ نیک لوگوں کے مقابلے میں ترقی کرگئے اور بعض دفعہ حق کے مقابلے میں جیت گئے۔ لیکن قیامت کے دن وہ ایسی شکست سے دوچار ہوں گے جو کبھی کامیابی میں تبدیل نہیں ہوگی۔ ان کے مقابلے میں جو لوگ دین کی خاطر نقصان برداشت کرتے ہوئے دنیا کی بازی ہار گئے قیامت کے دن انہیں وہ جیت اور کامیابی حاصل ہوگی جو کبھی ناکامی میں تبدیل نہیں ہوگی۔ اللہ تعالیٰ ان کے سچے ایمان اور صالح کردار کی وجہ سے ان کی غلطیوں کو معاف فرمائے گا اور انہیں ایسی جنت میں داخل کرے گا جس کے نیچے سے نہریں بہتی ہوں گی وہ اس میں ہمیشہ ہمیش رہیں گے یہ ان کے لیے بڑی کامیابی ہوگی، ان کے مقابلے میں جو لوگ دنیا میں حق بات کا انکار اور اس کی تکذیب کرتے رہے وہ ہمیشہ کے لیے آگ میں جھونکے جائیں گے جو رہنے کے اعتبار سے بدترین جگہ ہوگی۔ ” حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں رسول معظم ﷺ نے فرمایا میری امت کا جنت میں داخل ہونے والا گروہ چودھویں رات کے چاند کی طرح چمکتے چہروں والا ہوگا پھر ان کے بعد آسمان پر روشن ستاروں کی طرح پھر درجہ بدرجہ ہوں گے۔ جنتی نہ پیشاب کریں گے نہ قضائے حاجت کی ضرورت ہوگی وہ تھوکیں گے۔ ان کی کنگھیاں سونے کی ہوں گی، ان کی انگیٹھیاں عود کی اور ان کے پسینے مشک عنبر کی طرح ہوں گے۔ ان سب کا ایک جیسا اخلاق ہوگا اور قدو قامت آدم (علیہ السلام) کے برابر ساٹھ ہاتھ ہوگی۔ “ (رواہ مسلم : باب أَوَّلُ زُمْرَۃٍ تَدْخُلُ الْجَنَّۃَ عَلَی صُورَۃِ الْقَمَرِ لَیْلَۃَ الْبَدْرِ ) ” حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ایک دفعہ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا دنیا کی آگ جہنم کی آگ کے سترویں درجے پر ہے۔ رسول معظم ﷺ سے عرض کیا گیا کیا جلانے کے لیے یہ آگ کافی تھی ؟ آپ نے فرمایا وہ اس سے انہتر درجے زیادہ تیز ہوگی اس کا ہر درجہ ایک دوسرے کے برابر ہوگا۔ “ ( رواہ البخاری : کتاب بدء الخلق، باب صفۃ النار) مسائل 1۔ قیامت کے دن تمام لوگوں کی جمع کرلیا جائے گا۔ 2۔ قیامت کا دن ہار جیت کا دن ہوگا۔ 3۔ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن سچے ایمان اور صالح کردار لوگوں کی غلطیوں کو معاف فرمادے گا اور انہیں ہمیشہ کے لیے جنت میں داخل کرے گا۔ 4۔ مسلمان کے لیے قیامت کے دن کی جیت سب سے بڑی جیت ہوگی۔ 5۔ اللہ اور اس کے رسول اور قیامت کو جھٹلانے والے بدترین ناکامی سے دوچار ہوں گے اور انہیں ہمیشہ کے لیے جہنم کی آگ میں پھینک دیا جائے گا۔
Ayah 64:11

مَاۤ اَصَابَ مِنْ مُّصِیْبَةٍ اِلَّا بِاِذْنِ اللّٰهِ١ؕ وَ مَنْ یُّؤْمِنْۢ بِاللّٰهِ یَهْدِ قَلْبَهٗ١ؕ وَ اللّٰهُ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ Open ayah 64:11 in the Quran reader

کوئی مصیبت اللہ کے اذن کے بغیر نہیں آتی، جو شخص اللہ پر ایمان رکھتا ہے۔ اللہ اس کے دل کو ہدایت دیتا ہے، اللہ ہر چیز کو جاننے والا ہے

فہم القرآن ربط کلام : دنیا میں ایمانداروں کو پہنچنے والی تکالیف کی حقیقت اور اس میں راہنمائی۔ پچھلی آیت میں قیامت کے دن کو ہار جیت کا دن قرار دیا گیا ہے۔ ہارنے والے کفار، مشرکین اور منافقین ہوں گے جو دنیا میں اللہ اور اس کے رسول کی خاطر کسی نقصان کو برداشت کرنے کے لیے تیار نہ تھے۔ ان کے مقابلے میں جو لوگ اللہ اور اس کے رسول کی خاطر ہر قسم کے نقصان کو سے برداشت کرتے ہیں۔ ان کے بارے میں ارشاد ہوا کہ انہیں جو مصیبت آتی ہے وہ اللہ کے اذن سے ہی آتی ہے۔ جو شخص سچے دل کے ساتھ اللہ پر ایمان لائے اور اس کی رضا کی خاطر مصائب برداشت کرے ایک وقت آتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کے دل کی راہنمائی کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ ہر چیز کا علم رکھنے والا ہے۔ اس مختصر فرمان میں مومن کو تین انداز میں تسلی دی گئی ہے۔ 1۔ اے مومنوں گھبرانے کی ضرورت نہیں جو مصیبت تمہیں آتی ہے وہ اللہ تعالیٰ کے اذن کے مطابق آتی ہے۔ یعنی کوئی مصیبت اپنے آپ نازل نہیں ہوتی بلکہ وہ اللہ کے حکم سے نازل ہوتی ہے۔ جو ایماندار کے لیے اجر کا باعث اور نافرمان کے لیے عذاب ثابت ہوتی ہے۔ 2۔ اللہ کے حکم سے نازل ہونے والی مصیبت جب کسی ایماندار پر آتی ہے تو اس کے گناہوں کا کفارہ بنتی ہے جس سے ایماندار کے ایمان میں نہ صرف اضافہ ہوتا ہے بلکہ وہ اپنے رب کا پہلے سے زیادہ قرب محسوس کرتا ہے اور اسے اپنے گناہوں کی معافی کی توفیق ملتی ہے، یہی وہ ہدایت ہے جو مصیبت کے وقت ایماندار شخص کو نصیب ہوتی ہے۔ اس کے مقابلے میں نافرمان شخص مصیبت کے وقت اپنے رب کا مزید نافرمان بن جاتا ہے۔ یاد رہے کہ ایماندار پر آنے والی مصیبت کی دواقسام ہوتی ہے ایک مصیبت آزما ئش کے طور پر آتی ہے۔ (البقرۃ : 155) دوسری ایماندار کی اپنی کسی کوتاہی کا نتیجہ ہوتی ہے۔ ( الشوریٰ : 30) 3۔ ” وَاللّٰہُ بِکُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ“ کے الفاظ استعمال فرما کر ایماندار کو تسلی دی گئی ہے کہ یہ کبھی نہ سوچنا کہ جو کفار کی طرف سے یا کسی اور صورت میں تمہیں تکلیف پہنچتی ہے اللہ تعالیٰ اس سے بیخبر ہے۔ ایسا ہرگز نہیں کیونکہ وہ ایمانداروں کے صبر و استقلال اور کفار کے مظالم کو اچھی طرح جانتا ہے، اسے یہ بھی معلوم ہے کہ ایماندار لوگ صرف اپنے رب کے لیے تکلیفیں برداشت کرتے ہیں۔ (عَنْ اَبِیْ ھُرَےْرَۃَ ؓ وَعَنْ اَبِیْ سَعِےْدٍ ؓ عَنِ النَّبِیِّ ﷺ قَالَ مَا ےُصِےْبُ الْمُسْلِمَ مِنْ نَّصَبٍ وَّلَا وَصَبٍ وَلَا ھَمِّ وَّلَا حُزْنٍ وَّلَا اَذًی وَّلَا غَمٍّ حَتَّی الشَّوْکۃِی ےُشَاکُھَا اِلَّا کَفَّرَ اللّٰہُ بِھَامِنْ خَطَاے اہُ ) (رواہ البخاری : باب ماجاء فی کفارۃ المرض) ” حضرت ابوہریرہ اور حضرت ابوسعید ؓ نبی کریم ﷺ کا یہ فرمان بیان کرتے ہیں کوئی بھی مسلمان کسی طرح کی تھکاوٹ، درد، فکر، غم، تکلیف اور پریشانی میں مبتلا ہو یہاں تک کہ اس کو کانٹا بھی چبھے تو اللہ تعالیٰ اسے گناہوں کا کفارہ بنا دیتا ہے۔ “ (عن أُمَّ سَلَمَۃَ زَوْجَ النَّبِیِّ ﷺ تَقُولُ سَمِعْتُ رَسُول اللَّہِ ﷺ یَقُولُ مَا مِنْ عَبْدٍ تُصِیبُہُ مُصِیبَۃٌ فَیَقُولُ إِنَّا لِلَّہِ وَإِنَّا إِلَیْہِ رَاجِعُونَ ” اللَّہُمَّ أْجُرْنِی فِی مُصِیبَتِی وَأَخْلِفْ لِی خَیْرًا مِنْہَا إِلاَّ أَجَرَہُ اللَّہُ فِی مُصِیبَتِہِ وَأَخْلَفَ لَہُ خَیْرًا مِنْہَا “ ) (رواہ مسلم : باب مَا یُقَالُ عِنْدَ الْمُصِیبَۃِ ) ” آپ ﷺ کی زوجہ ام سلمہ ؓ بیان کرتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ کہتے ہوئے سنا آپ نے فرمایا کہ جب کسی بندے کو کوئی مصیبت پہنچتی ہے تو وہ یہ دعا پڑھتے ہم اللہ کے لیے ہیں اور اسی کی طرف لوٹائے جانے والے ہیں۔ اے اللہ ! میری مصیبت دور فرما اور اس کے مقابلے میں بہتر اجر عطا فرما۔ “ اللہ تعالیٰ اس مصیبت کو دور کردیتے ہیں اور اس کے مقابلے میں اسے بہتری عطا فرماتے ہیں۔ “ مسائل 1۔ ہر مصیبت اللہ کے اِ ذن سے نازل ہوتی ہے۔ 2۔ اللہ تعالیٰ ہر مصیبت اور چیز کو جانتا ہے۔ 3۔ جو شخص سچے دل کے ساتھ اللہ پر ایمان لائے اور اس پر استقامت اختیار کرے اللہ تعالیٰ اس کی رہنمائی کرتا ہے۔ تفسیر بالقرآن اللہ تعالیٰ کن لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا ہے : 1۔ ظالموں کو ہدایت نہیں ملتی۔ (البقرۃ : 258) 2۔ کافروں کو ہدایت نہیں دی جاتی۔ (النساء : 168) 3۔ فاسقوں کو ہدایت سے نہیں دی جاتی۔ (المائدۃ : 108) 4۔ جھوٹوں کو ہدایت نہیں ملتی۔ (الزمر : 3) 5۔ اللہ تعالیٰ کی توفیق کے بغیر کوئی ہدایت نہیں پاسکتا۔ (الاعراف : 43) 6۔ ہدایت وہی ہے جسے اللہ تعالیٰ ہدایت قرار دے۔ (البقرۃ : 120) 7۔” اللہ “ جسے چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے۔ (البقرۃ : 213) 8۔ ہدایت اللہ کے اختیار میں ہے۔ (القصص : 56) 9۔ مشرک اللہ کی ہدایت سے محروم ہوتا ہے۔ (النساء : 48)
Ayahs 64:12–13

وَ اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ١ۚ فَاِنْ تَوَلَّیْتُمْ فَاِنَّمَا عَلٰى رَسُوْلِنَا الْبَلٰغُ الْمُبِیْنُ Open ayah 64:12 in the Quran reader

اللہ کی اطاعت کرو اور رسول کی اطاعت کرو، اگر تم اطاعت سے منہ موڑلو تو ہمارے رسول پر صاف طور پر حق پہنچا دینا ہے

اَللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ؕ وَ عَلَى اللّٰهِ فَلْیَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُوْنَ Open ayah 64:13 in the Quran reader

اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں۔ ایمان والوں کو چاہیے کہ وہ اللہ پر بھروسہ کریں

فہم القرآن ربط کلام : ایمانداروں کا فرض ہے کہ وہ عسر اور یسر میں اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرتے رہیں اور اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کریں۔ مومن ہو یا نافرمان، کافر ہو یا مسلمان، امیر ہو یا غریب ہر کسی کی زندگی نشیب و فراز، سُکھ اور دکھ پر مشتمل ہوتی ہے۔ فرق یہ ہے کہ نافرمانوں کے مقابلے میں ایمانداروں کی زندگی قدرے مشکل ہوتی ہے۔ کیونکہ ایماندار شخص اللہ اور اس کے رسول کا پابند ہوتا ہے جس وجہ سے دنیا میں وہ فوائد اور آسائشیں حاصل نہیں کرسکتا جو نافرمان حاصل کرلیتے ہیں۔ مصیبت ہو یا راحت، مشکل ہو یا آسانی، نفع ہو یا نقصان ایمانداروں کو حکم ہے کہ وہ ہر حال میں اللہ پر توکل کرتے ہوئے اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرتے رہیں۔ ایماندار کو اس بات پر یقین رکھنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی ہستی ایسی نہیں جو اسے مصیبت سے نجات دے۔ لہٰذا ایماندار کو ” اللہ “ پر ہی توکل اور اعتماد کرنا چاہیے۔ اس میں اسی کا فائدہ ہے اگر ایمان کا دعویٰ رکھنے والے لوگ اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت سے منہ پھیر لیں تو ہمارے رسول پر حق بات پہنچانا ہے منوانا نہیں۔ قرآن و سنت کی روشنی میں توکل کا معنٰی ہے کہ وسائل اور اسباب کو استعمال کرتے ہوئے کام کا نتیجہ اور انجام اللہ کے سپرد کیا جائے، توکل پریشانیوں سے نجات پانے کا پہلا ذریعہ ہے اگر کسی کا اللہ تعالیٰ پر اعتماد اور توکل نہیں تو وہ حوصلہ ہار بیٹھے گا اور مسائل کا مقابلہ نہیں کر پائے گا۔ بلا شبہ اسباب کا استعمال لازم اور ضروری ہے اور اللہ تعالیٰ نے مسائل کے حل کے لیے مادی وسائل میں ایک قوت رکھی ہے۔ سردی اور گرمی سے بچنے کے لیے موسم کے مطابق لباس اور رہائش اختیار نہ کی جائے تو انسان کی صحت پر مہلک اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ سفر کے لیے سواری درکار ہے، دشمن سے بچاؤ کے لیے اسلحہ کی ضرورت ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ آدمی کے پاس وسائل ہوں تو وہ کسی حد مطمئن اور اپنی کامیابی کے بارے میں پر اعتماد ہوتا ہے لیکن فرق یہ ہے کہ عقیدے میں کمزور اور مادہ پرست انسان کی نگاہ صرف اسباب پر رک جاتی ہے اس کا ذہن مسبب الاسباب کی طرف بہت کم متوجہ ہوتا ہے۔ اکثر اوقات دنیا دار انسان کامیابی کو اپنی محنت اور صلاحیت کا نتیجہ سمجھتا ہے وہ اس حقیقت کو فراموش کردیتا ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ کی عطا نہ ہوتی تو جس طرح میری جان پہچان کے لوگ وسائل سے محروم ہیں۔ میں بھی اسی طرح تہی دامن ہوتا تو پھر میرا کیا حال ہوتا اسے یہ خیال بھی رہنا چاہیے کہ مالک حقیقی کی مشیّت اور حکم شامل حال نہ ہو تو وسائل اور اسباب دھرے کے دھرے رہ جاتے ہیں۔ اس دنیا و جہاں میں ہر روز رونما ہونے والے واقعات اس فکر اور عقیدے کی تائید کرتے ہیں کہ جب اللہ تعالیٰ کی طرف سے اسباب کی قوت کو سلب کرلیا جاتا ہے تو پھر سب کچھ موجود ہونے کے باوجود انسان ناکامی اور نامرادی کا سامنا کرتا ہے۔ اگر اسباب بذات خود انسان کی مشکلات کا مداوا ہوتے تو ڈاکٹر اور حکیم موت کی وادیوں میں بسیرا نہ کرتے۔ محض وسائل ہی مسائل کا حل ہوتے تو بڑے بڑے فرمانروا اقتدار کے ایوانوں سے نکل کر جیل کی کال کوٹھڑیوں میں ایڑیاں نہ رگڑتے اس لیے انبیاء کرام (علیہ السلام) کی تعلیم یہ ہے کہ وسائل کو ہر حال میں استعمال کیا جائے مگر اس کی قوت کار کے بارے میں یہ عقیدہ رکھا جائے کہ اسباب اسی وقت کارآمد اور مفید ثابت ہوں گے جب مالک حقیقی کا حکم جاری ہوگا۔ اس حقیقت کے پیش نظر مسلمان کا فرض ہے۔ وہ اللہ تعالیٰ کے عطا کردہ ذرائع اور وسائل کو اختیار کرتے ہوئے ان کے اثرات اور نتائج کو اللہ کا انعام تصور کرے۔ توکّل علی اللہ کی تکمیل تب ہوتی ہے کہ جب آدمی یہ عقیدہ بنا لے کہ کچھ نہ ہونے کے باوجود بھی ” اللہ “ میری مدد کرنے پر قادر ہے اور وہ میری مدد ضرور فرمائے گا۔ مسائل 1۔ ایمانداروں کو ہر حال میں اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرنی چاہیے۔ 2۔ اللہ کے سوا کوئی معبود اور حاجت روا، مشکل کشا نہیں۔ 3۔ ایمانداروں کو ہر حال میں اللہ تعالیٰ پر بھروسہ اور اعتماد رکھنا چاہیے۔ تفسیر بالقرآن اللہ تعالیٰ پر توکل کے فوائد : 1۔ جو شخص اللہ پر توکل کرتا ہے اللہ اسے کافی ہوجاتا ہے۔ (الطلاق : 3) 2۔ اللہ پر ایمان لانے والوں اور توکل کرنے والوں کے لیے خیر ہی خیر ہے۔ (الشوریٰ : 36) 3۔ اللہ صبر کرنے والوں اور توکل کرنے والوں کو بہترین اجر عطا فرمائے گا۔ (العنکبوت : 59)
Ayahs 64:14–15

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِنَّ مِنْ اَزْوَاجِكُمْ وَ اَوْلَادِكُمْ عَدُوًّا لَّكُمْ فَاحْذَرُوْهُمْ١ۚ وَ اِنْ تَعْفُوْا وَ تَصْفَحُوْا وَ تَغْفِرُوْا فَاِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 64:14 in the Quran reader

اے ایمان والو ! تمہاری بیویوں اور تمہاری اولاد میں سے بعض تمہارے دشمن ہیں ان سے بچو۔ اگر تم عفو اور درگزر سے کام لو اور معاف کر دو تو اللہ غفور ورحیم ہے

اِنَّمَاۤ اَمْوَالُكُمْ وَ اَوْلَادُكُمْ فِتْنَةٌ١ؕ وَ اللّٰهُ عِنْدَهٗۤ اَجْرٌ عَظِیْمٌ Open ayah 64:15 in the Quran reader

تمہارے مال اور تمہاری اولاد آزمائش ہیں۔ اللہ کے پاس بہت بڑا اجر ہے

فہم القرآن ربط کلام : اس فرمان سے پہلے اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت کا حکم ہوا اور پھر فرمایا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اسی کی عبادت کرو اور اسی پر بھروسہ رکھو۔ اللہ کی عبادت اور اس پر بھروسہ کرنے کے معاملے میں جو چیز آدمی کے راستے میں سب سے پہلے رکاوٹ بنتی ہے وہ بیوی، اولاد اور مال کی محبت ہے بسا اوقات یہ محبت اپنے آپ کے ساتھ دشمنی کرنے کے مترادف ثابت ہوتی ہے ایسی محبت سے احتیاط برتنے کا حکم ہے۔ جس کے لیے ارشاد ہوا کہ اے ایمان والو ! تمہاری بیویوں اور اولاد بھی تمہارے دشمن ہوتے ہیں اور تمہارے مال تمہارے لیے آزمائش ہیں جن سے تمہیں احتیاط برتنی چاہیے تاکہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت میں کمی واقع نہ ہو۔ اسی سورت کی آیت 11 میں مومنوں کو یہ بتلایا ہے کہ جو بھی مصیبت آتی ہے اس کے پیچھے اللہ کا حکم کار فرما ہوتا ہے لہٰذا مومن کا فرض ہے کہ وہ ہر حال میں اللہ پر بھروسہ کرے۔ مصیبت کا معنٰی دکھ اور آزمائش ہے جو مومن کو اس کی بیوی اور اولاد سے بھی پہنچ سکتی ہے۔ گویا کہ مصیبت خارجی ذرائع سے بھی آتی ہے اور داخلی اسباب بھی اس کا سبب بنتے ہیں۔ خارجی اسباب میں بیوی، اولاد اور مال بھی اس کا سبب بنتے ہیں بالخصوص دینی زندگی اپنانے میں اکثر اوقات بعض بیویاں اور اولاد دانستہ یا غیر دانستہ طور پر مومن کے راستے میں رکاوٹ بن جاتے ہیں جو شخص اس آزمائش میں پورا اترے گا اللہ تعالیٰ اسے اجرعظیم سے سرفراز کرے گا۔ اگر بیوی اور اولاد آزمائش بن جائیں تو مومن کو بیوی اور اولاد کی خاطر اپنے دین کا سودا نہیں کرنا چاہیے۔ اس لیے حکم دیا گیا ہے کہ اپنی بیویوں اور اولاد سے بچتے رہو یعنی ان کی خاطر اپنا دین خراب اور آخرت برباد نہ کرو۔ البتہ گھریلو زندگی اور اپنی عزت بچانے کے لیے ان کے ساتھ معافی اور درگزر کا رویہ اختیار کرو اور یاد رکھو کہ یقیناً اللہ تعالیٰ معاف کرنے اور رحم فرمانے والا ہے۔ معاف اور رحم کرنے کے الفاظ استعمال فرما کر مومن کو تسلی دی گئی ہے کہ اگر اپنے رب کے بتلائے ہوئے اصولوں کے مطابق چلو گے تو وقت آئے گا کہ اللہ تعالیٰ تمہیں اس آزمائش میں سرخرو فرمائے گا، جو شخص ان اصولوں پر عمل نہیں کرتا وہ نہ صرف پریشانیوں کا شکار ہوتا ہے بلکہ اس کی برادری اور معاشرے میں عزت بھی ضائع ہوجاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے مومن کو اس کی اولاد اور بیوی کی آزمائش سے بچانے کے لیے تین الفاظ استعمال فرمائے ہیں۔ (تَعْفُوْا) ” تم معاف کرو۔ “ (وَتَصْفَحُوْا) ” اور ایک دوسرے کی اصلاح کرو۔ “ (وَتَغْفِرُوْا) ” اور بخش دو ۔ “ یہاں تک مال کا معاملہ ہے یہ تو سراسر آزمائش ہے اکثر دیکھا گیا ہے کہ جس کے پاس مال آتا ہے وہ اللہ اور اس کے رسول کے راستے کو چھوڑ کر نافرمانی کے راستے پر چل نکلتا ہے اس بات کی اللہ تعالیٰ نے یوں نشاندہی فرمائی ہے : (کَلَّآاِِنَّ الْاِِنسَانَ لَیَطْغٰی اَنْ رَّاٰہُ اسْتَغْنٰی) (العلق : 6، 7) ” ہرگز نہیں یقیناً انسان سرکشی کرتا ہے۔ جب وہ اپنے آپ کو غنی دیکھتا ہے۔ “ ” حقیقت یہ ہے کہ انسان اپنے رب کا بڑا ناشکرا ہے۔ اور وہ خود اس پر گواہ ہے اور وہ مال کی محبت میں بڑا سخت ہے۔ “ (العدیات : 6 تا 8) مسائل 1۔ بعض بیویاں اور اولاد بھی آدمی کے دشمن بن جاتے ہیں۔ 2۔ نافرمان اولاد اور بیوی کے بارے میں حتیٰ الوسع معافی اور درگزر سے کام لینا چاہیے۔ 3۔ اللہ تعالیٰ نے مال اور اولاد کو مومن کے لیے آزمائش قرار دیا ہے۔ 4۔ دوسروں کو معاف کرنے والوں کو اللہ تعالیٰ بھی معاف کرتا ہے۔ 5۔ آزمائش میں پورا اترنے والے کو اللہ تعالیٰ اجر عظیم سے سرفراز فرمائے گا۔ تفسیر بالقرآن مومن کے لیے آزمائش : 1۔ ایمان کے لیے آزمائش شرط ہے۔ (العنکبوت : 2) 2۔ اللہ نے پہلے لوگوں کو بھی آزمایا۔ (البقرۃ : 214) 3۔ آزمائش میں ثابت قدمی کے بعد اللہ کی مدد یقینی اور قریب ہوا کرتی ہے۔ (البقرۃ : 214) 4۔ جنت میں داخلے کے لیے آزمائش ضروری ہے۔ (آل عمران : 142) 5۔ اللہ نے انسان کی آزمائش کے لیے موت وحیات کا سلسلہ بنایا ہے۔ (الملک : 2) 6۔ اللہ نے انسانوں کی آزمائش کے لیے بعض کو بعض پر فوقیت دی۔ ( الانعام : 165) 7۔ مال واولاد انسان کے لیے آزمائش ہے اللہ کے ہاں بہت بڑا اجر ہے۔ (التغابن : 15)
Ayah 64:16

فَاتَّقُوا اللّٰهَ مَا اسْتَطَعْتُمْ وَ اسْمَعُوْا وَ اَطِیْعُوْا وَ اَنْفِقُوْا خَیْرًا لِّاَنْفُسِكُمْ١ؕ وَ مَنْ یُّوْقَ شُحَّ نَفْسِهٖ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ Open ayah 64:16 in the Quran reader

بس جہاں تک تمہارے بس میں ہو اللہ سے ڈرتے رہو۔ سنو اور اطاعت کرو اور خرچ کرو بہتر اپنے لیے، جو اپنے دل کی حرص سے بچا لیا گیا وہی فلاح پانے والے ہیں

فہم القرآن ربط کلام : بیوی، اولاد اور مال کی آزمائش سے سو فیصد بچنا آسان کام نہیں اس لیے ارشاد ہوا کہ اپنی طاقت کے مطابق اللہ سے ڈرتے رہو اور اس کے حکم کی پیروی کرو۔ ” اللہ “ کے بیشمار احسانات میں سے یہ بھی اس کا عظیم ترین احسان ہے کہ اس نے اپنے بندے پر اس کی طاقت سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالا۔ اس کا ارشاد ہے کہ لوگو ! اللہ نے جو تمہیں صلاحیت اور استعداد عطا فرمائی ہے۔ اس کے مطابق اس کا حکم مانو اور اس کی اطاعت کرتے ہوئے اس سے ڈرتے رہو اور اس کی راہ میں مال خرچ کرو یہ تمہارے حق میں بہتر ہے جو لوگ بخل سے بچا لیے گئے وہی کامیاب ہوں گے۔ (عَنْ عُبَادَۃَ بْنَ الصَّامِتِ ؓ یَقُولُ قَالَ لَنَا رَسُول اللّٰہِ ﷺ وَنَحْنُ فِی مَجْلِسٍ تُبَایِعُونِی عَلٰی أَنْ لَا تُشْرِکُوا باللّٰہِ شَیْءًا وَلَا تَسْرِقُوا وَلَا تَزْنُوا وَلَا تَقْتُلُوا أَوْلَادَکُمْ وَلَا تَأْتُوا بِبُہْتَانٍ تَفْتَرُونَہُ بَیْنَ أَیْدِیکُمْ وَأَرْجُلِکُمْ وَلَا تَعْصُوا فِی مَعْرُوفٍ فَمَنْ وَفٰی مِنْکُمْ فَأَجْرُہُ عَلَی اللّٰہِ وَمَنْ أَصَابَ مِنْ ذٰلِکَ شَیْءًا فَعُوقِبَ فِی الدُّنْیَا فَہُوَ کَفَّارَۃٌ لَہُ وَمَنْ أَصَابَ مِنْ ذٰلِکَ شَیْءًا فَسَتَرَہُ اللّٰہُ فَأَمْرُہُ إِلَی اللّٰہِ إِنْ شَاءَ عَاقَبَہُ وَإِنْ شَاءَ عَفَا عَنْہُ فَبَایَعْنَاہُ عَلٰی ذٰلِکَ ) (رواہ البخاری : باب بَیْعَۃِ النِّسَاءِ ) ” حضرت عبادہ بن صامت ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول معظم ﷺ نے ہمیں ایک مجلس کے دوران فرمایا کہ تم ان باتوں پر میری بیعت کرو کہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ گے، چوری نہیں کرو گے، زنا سے بچ کر رہو گے، اپنی اولاد کو قتل نہیں کرو گے، کسی پر من گھڑت بہتان نہیں باندھوگے، نہ ہی نیکی کے کاموں میں نافرمانی کرو۔ جس نے اس بیعت کی پاسداری کی اس کا اجر اللہ کے ذمّہ ہے جس نے ان باتوں کا ارتکاب کیا اللہ تعالیٰ اس کو دنیا میں سزا دے گا جو اس کے لیے کفارہ ہوگا۔ جس نے ان گناہوں کا ارتکاب کیا اور اللہ تعالیٰ نے اس کے گناہوں پر پردہ ڈال دیا تو اس کا معاملہ اللہ کے حوالے ہے۔ چاہے سزا دے اور چاہے تو اس سے درگزر فرمائے۔ حضرت عبادہ ؓ فرماتے ہیں کہ ہم سب نے ان باتوں پر بیعت کی۔ “ (عن عُبَادَۃَ بْنِ الصَّامِتِ ؓ قَالَ بَایَعْنَا رَسُول اللّٰہ ﷺ عَلَی السَّمْعِ وَالطَّاعَۃِ فِی الْعُسْرِ وَالْیُسْرِ ) (مسند احمد، حدیث عبادۃ بن صامت، وقال ھذا حدیث صحیح) ” حضرت عبادہ بن صامت ؓ بیان کرتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ ﷺ کی اس بات پر بیعت کی کہ ہم آپ ﷺ کا حکم تنگی اور خوش حالی دونوں صورتوں میں مانے گے۔ “ مسائل 1۔ ہر انسان کو اپنی طاقت کے مطابق اللہ سے ڈرنا اور اس کا حکم ماننا چاہیے۔ 2۔ ہر شخص کو اپنی مالی استعداد کے مطابق اللہ کی راہ میں خرچ کرنا چاہیے۔ اللہ کی راہ میں خرچ کرنا انسان کے اپنے لیے بہتر ہے۔ 3۔ جس شخص کو بخل سے بچا لیا گیا حقیقت میں وہی کامیاب ہوگا۔ تفسیر بالقرآن اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کے فوائد : 1۔ جو کچھ تم خرچ کرو گے اللہ تعالیٰ تمہیں اس سے زیادہ دے گا۔ (سبا : 39) 2۔ مومنین اللہ کے راستے میں خفیہ اور اعلانیہ خرچ کرتے ہیں۔ (الرعد : 22) 3۔ مسلمان تنگدستی اور خوشحالی میں خرچ کرتے ہیں۔ (آل عمران : 134) 4۔ منافق صدقہ کرنے کو جرمانہ سمجھتا ہے۔ (التوبہ : 98) 5۔ مومن اللہ کی رضا کے لیے خرچ کرتا ہے۔ ( التوبہ : 99) 6۔ ” اللہ “ کی رضا کے لیے خرچ کرنے والوں کی مثال سدا بہار باغ جیسی ہے۔ (البقرۃ : 265) 7۔ ” اللہ “ کی رضا کے لیے خرچ کرنے والے کو پورا پورا اجر ملے گا۔ (البقرۃ : 272) 8۔ ” اللہ “ کی رضا کے لیے کیے گئے کام کا بڑا اجر ہے۔ (النساء : 114)
Ayahs 64:17–18

اِنْ تُقْرِضُوا اللّٰهَ قَرْضًا حَسَنًا یُّضٰعِفْهُ لَكُمْ وَ یَغْفِرْ لَكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ شَكُوْرٌ حَلِیْمٌۙ Open ayah 64:17 in the Quran reader

اگر تم اللہ کو قرض حسنہ دو تو وہ تمہیں کئی گنا بڑھا کر واپس کرے گا اور تمہارے گناہوں سے درگزر فرمائے گا۔ اللہ بڑا قدردان اور حوصلے والا ہے

عٰلِمُ الْغَیْبِ وَ الشَّهَادَةِ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ۠ Open ayah 64:18 in the Quran reader

ہر حاضر اور غائب کو جانتا ہے، نہایت غالب اور خوب حکمت والا ہے

فہم القرآن ربط کلام : مال کی آزمائش میں سرخرو ہونے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ انسان اللہ کی راہ میں صدقہ کرتا رہے صدقہ کرنا ” اللہ “ کو قرض دینے کے مترادف ہے۔ اوپر کی دو آیات میں ایمان والوں کو صدقہ کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ اس آیت میں صدقہ کرنے والوں کو یہ فرما کر تسلی اور ترغیب دی ہے کہ اگر تم اخلاص کے ساتھ صدقہ کرو گے تو اللہ تعالیٰ کو قرض حسنہ دو گے۔ وہ تمہارے صدقہ کو دوگنا تگنا کرے گا اور اس کے بدلے تمہارے گناہوں کو معاف فرمائے گا کیونکہ اللہ تعالیٰ نیکی اور نیکی کرنے والوں کا بڑا ہی قدر دان اور بردبار ہے۔ وہ تمہارے ظاہری اور باطنی حالات کو جانتا ہے اور ہر چیز پر غالب ہونے کے ساتھ بڑاحکیم ہے۔ یہاں صدقہ کے لیے قرض حسنہ کے الفاظ استعمال فرمائے ہیں۔ حسنہ کا معنٰی ایسا صدقہ ہے جس میں کسی قسم کی نمود و نمائش اور ایذا رسانی نہ پائی جائے۔ اللہ تعالیٰ ایسے صدقہ کی قدر کرتا ہے۔ اس کی قدر شناسی کی انتہا دیکھیے کہ وہی سب کچھ عطا کرنے والا ہے۔ لیکن جب غریب، یتیم اور دین کے کاموں پر خرچ کرنے کا حکم دیتا ہے تو اسے اپنے لیے صدقہ شمار کرتا ہے۔ حالانکہ ان مصارف پر خرچ کرنے سے انسان کو ہی فائدہ پہنچتا ہے۔ حلیم کی صفت بتلا کر اشارہ دیا ہے کہ اللہ کی راہ میں خرچ کرنا بڑے حوصلے کی بات ہے۔ اس میں یہ بھی ارشاد ہے کہ اگر تمہارے بخل کرنے پر وہ تمہیں نہیں پکڑتا تو ایسا اس لیے ہے کہ وہ بڑا حلیم ہے۔ (عَنْ أَبِيْ ھُرَیْرَۃَ ؓ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ مَنْ تَصَدَّقَ بِعَدْلِ تَمْرَۃٍمِنْ کَسْبٍ طَیِّبٍ وَ لَا یَقْبَلُ اللّٰہُ إِلَّا الطَّیِّبَ وَإِنَّ اللّٰہَ یَتَقَبَّلُھَا بَیَمِیْنِہٖ ثُمَّ یُرَبِّیْھَا لِصَاحِبِہٖ کَمَا یُرَبِّيْ أَحَدُکُمْ فَلُوَّہٗ حَتّٰی تَکُوْنَ مِثْلَ الْجَبَلِ ) (رواہ البخاری : کتاب الزکاۃ، باب الصدقۃ من کسب طیب) ” حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جس نے پاکیزہ کمائی سے ایک کھجور کے برابر صدقہ کیا اور اللہ تعالیٰ صرف پاکیزہ چیز ہی قبول فرماتے ہیں۔ بیشک اللہ تعالیٰ اسے اپنے دائیں ہاتھ میں لیتے ہیں پھر اس کو صدقہ کرنے والے کے لیے بڑھاتے رہتے ہیں جس طرح تم میں سے کوئی اپنے بچھڑے کی پرورش کرتا ہے یہاں تک کہ آدمی کا کیا ہوا صدقہ پہاڑ کی مانند ہوجاتا ہے۔ “ ( عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ ؓ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ قَالَ مَا نَقَصَ صَدَقَۃٌ مِنْ مَالٍ وَمَا زَاد اللّٰہُ عَبْدًا بِعَفْوٍا اِلَّا عِزًّا وَمَا تَوَاضَعَ اَحَدٌ لِلّٰہِ اِلَّا رَفَعَہُ اللّٰہُ ) (رواہ مسلم : باب استحباب العفو والتواضع) ” حضرت ابوہریرہ ؓ نبی اکرم ﷺ سے بیان کرتے ہیں آپ نے فرمایا : کہ صدقہ سے مال کم نہیں ہوتا جو بندہ درگزر کرتا ہے اللہ تعالیٰ اسے عزت دیتا ہے۔ جو اللہ کی رضا کے لیے عاجزی اور انکساری اختیار کرتا ہے اللہ تعالیٰ اسے بلند کرتا ہے۔ “ (مَثَلُ الَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَہُمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ کَمَثَلِ حَبَّۃٍ اَنْبَتَتْ سَبْعَ سَنَابِلَ فِیْ کُلِّ سُنْبُلَۃٍ مِّاءَۃُ حَبَّۃٍ وَ اللّٰہُ یُضٰعِفُ لِمَنْ یَّشَآءُ وَ اللّٰہُ وَاسِعٌ عَلِیْمٌ) (البقرۃ : 261) ” جو لوگ اپنا مال اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں ان کی مثال اس دانے جیسی ہے جس میں سے سات بالیاں نکلیں اور ہر بالی میں سو دانے ہوں اور اللہ تعالیٰ جسے چاہے بڑھا چڑھاکر دیتا ہے اور اللہ تعالیٰ بڑی وسعت والا، خوب جاننے والا ہے۔ “ مسائل 1۔ اللہ کی راہ میں خرچ کرنا اللہ تعالیٰ کو قرض حسنہ دینے کے مترادف ہے۔ 2۔ اللہ تعالیٰ صدقہ کرنے والے کے مال میں برکت پیدا کرنے کے ساتھ اس کے گناہوں کو معاف کرتا ہے۔ 3۔ اللہ تعالیٰ نیکی اور نیکی کرنے والے کا قدردان ہے۔ 4۔ اللہ تعالیٰ غیب اور پوشیدہ باتوں کا علم رکھنے کے باوجود بڑا بردبار اور حکمت والا ہے۔ تفسیر بالقرآن صدقہ کرنے کے دنیا اور آخرت میں فوائد : 1۔ صدقہ کرنا اللہ تعالیٰ کو قرض دینا ہے۔ (الحدید : 11) 2۔ صدقہ کرنے والے کو تسکین حاصل ہوتی ہے۔ (البقرۃ : 265) 3۔ صدقہ کرنے سے مال میں برکت ہوتی ہے۔ ( البقرۃ : 265) 4۔ اللہ تعالیٰ اسے دگنا تگنا کرکے واپس کرے گا۔ (التغابن : 17) 5۔ اللہ سات سو گنا تک بڑھا دیتا ہے۔ (البقرۃ : 261) 6۔ اللہ کے ہاں اضافے کی کوئی حد نہیں ہے۔ (البقرۃ : 261) 7۔ اللہ تعالیٰ صدقہ کرنے والوں کو جزا دیتا ہے۔ (یوسف : 88) 8۔ مومن اللہ کی رضا کے لیے خرچ کرتا ہے۔ (التوبہ : 99) 9۔ مسلمان تنگدستی اور خوشحالی میں خرچ کرتے ہیں۔ (آل عمران : 134) 10۔ جو کچھ تم خرچ کرو گے اللہ تعالیٰ تمہیں اس سے زیادہ دے گا۔ (سبا : 39)