63. Surah Al-Munaafiqoon

المنافقونThe Hypocrites · 11 ayahsفہم القرآن

تعارف

تعارف

سورة المنافقون کا تعارف المنافقون کا لفظ اس کی پہلی آیت میں موجود ہے اس کی گیارہ آیات اور دو رکوع ہیں۔ یہ سورت مدینہ طیبہ میں نازل ہوئی۔ مدینہ میں اوس اور خزرج کے نام پر انصار کے دو بڑے قبیلے تھے باقی لوگ انہیں قبیلوں کی شاخیں اور حلیف تھے۔ اوس اور خزرج کے درمیان طویل مدت تک قتل و غارت کا بازار گرم تھا جس میں سیکڑوں جانیں تلف ہوچکی تھیں۔ جب ان کی لڑائی سے لوگ تنگ آگئے اور اوس اور خزرج بھی تھک گئے تو بالآخر ان میں صلح ہوگئی۔ اس کے بعد دونوں قبیلوں کے سربرآورہ لوگوں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ خزرج قبیلے کے عبداللہ بن ابی کو مدینے کا سربراہ بنا لیا جائے اس کے لیے اس کی تاج پوشی کی تیاریاں شروع ہو کردی گئیں، اسی مدت کے دوران حج کے موقع پر نبوت کے گیا رویں سال مدینہ طیبہ کے لوگ حج کے لیے مکہ آئے انہوں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی دعوت کے بارے میں معلومات حاصل کیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ذات اور دعوت کے متعلق اطمینان پانے پر وہ لوگ مسلمان ہوگئے۔ انہوں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے درخواست کی کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہمارے ہاں ایک ایسا مبلغ بھیجیں جو مدینہ طیبہ میں دین اور توحید کی دعوت دے ہم اس کے ساتھ بھر پور تعاون کریں گے۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے معصب بن عمیر (رض) کو ان کے ساتھ بھیجا دعوت کی کشش اور حضرت مصعب بن عمیر (رض) کی محنت سے اگلے سال حج کے موقع پر ٧٥ مسلمان نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ملے جس سے مدینہ طیبہ کے حالات یکسر تبدیل ہوگئے اور جو لوگ عبداللہ بن ابی کو اپنا سربراہ منتخب کرنے والے تھے انہوں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو مدینہ آنے کی دعوت دی۔ نبوت کے تیرہویں سال آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مدینہ طیبہ تشریف لے گئے۔ مدینہ کا پہلا نام یثرب تھا آپ کی تشریف آوری اور اسلام کی بڑھتی اشاعت کی وجہ سے لوگوں نے یثرب کا نام مدینہ الرّسول رکھ دیا۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی آمد سے عبداللہ بن ابی کی سر براہی ختم ہوگئی اس نے حالات کا جائزہ لیا تو مجبور ہو کر بظاہر مسلمان ہوا لیکن زندگی بھر حسد و بغض کا شکار ہوگیا۔ اس نے کوئی ایسا موقع نہیں چھوڑا کہ جب اعلانیہ یا خفیہ طور پر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی مخالفت نہ کی ہو۔ حضرت عائشہ (رض) پر الزام لگانے میں یہ شخص پیش پیش تھا، اس نے منافقوں کو منظم کرنے کے لیے مدینہ میں مسجد ضرار کی بنیاد رکھی جسے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اللہ تعالیٰ کے حکم سے مسمار کردیا۔ تبوک کے محاظ سے واپسی پر اس کے ساتھیوں نے رات کے اندھیرے میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر حملہ کرنے کی کوشش کی جس سے آپ محفوظ رہے۔ اسی سفر میں واپسی پر ایک صحابی اور منافق کے درمیان کسی معاملے پر تکرار ہوئی جسے دوسرے ساتھیوں نے موقعہ پر رفع دفع کردیا۔ لیکن عبداللہ بن ابی نے اسے اچھالتے ہوئے کہا کہ فکر نہ کرو ہم مدینہ جا کر ذلیل لوگوں کو نکال دیں گے جس کی تفصیل اس سورت کی آٹھویں آیت میں ذکر کی گئی ہے عبداللہ بن ابی اور اس کے ساتھیوں کو جب بھی احساس دلایا جاتا کہ تمہیں ان حرکتوں سے باز آنا چاہیے اور اپنے کیے پر معذرت کرنی چاہیے تو وہ جھوٹی قسمیں اٹھا کر اپنی صفائی پیش کرتا اور ایک موقعہ پر اس نے یہاں تک ہرزہ سہرائی کی کہ مجھے سب کچھ منظور ہے لیکن میں نبی سے معذرت نہیں کروں گا۔

Ayah 63:1

اِذَا جَآءَكَ الْمُنٰفِقُوْنَ قَالُوْا نَشْهَدُ اِنَّكَ لَرَسُوْلُ اللّٰهِ١ۘ وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ اِنَّكَ لَرَسُوْلُهٗ١ؕ وَ اللّٰهُ یَشْهَدُ اِنَّ الْمُنٰفِقِیْنَ لَكٰذِبُوْنَۚ Open ayah 63:1 in the Quran reader

اے نبی جب آپ کے پاس منافق آتے ہیں تو کہتے ہیں ہم گواہی دیتے ہیں کہ بلاشبہ آپ اللہ کے رسول ہیں اور اللہ جانتا ہے کہ آپ اس کے رسول ہیں مگر اللہ گواہی دیتا ہے کہ بلاشبہ منافق جھوٹے ہیں

فہم القرآن ربط سورت : اللہ اور اس کے رسول کے مقابلے میں دنیا کے معاملات اور فائدے کو مقدم سمجھنا عملی طور پر منافقت کرنے کے برابر ہے۔ اس لیے سورة جمعہ کے بعد سورة منافقون رکھی گئی ہے تاکہ مسلمانوں کو ہر قسم کی منافقت سے بچنے کی تعلیم دی جائے۔ اللہ تعالیٰ کے نزدیک منافق اس قدر برا ہے کہ اس کے کلمہ پڑھنے پر بھی اعتبار نہیں کیا جاسکتا۔ فہم القرآن کے دو مقامات پر یہ بات بیان ہوچکی ہے کہ منافق کا لفظ نفق سے نکلا ہے۔ نَفق چوہے یا لومڑ کی ایسی بل کو کہتے ہیں جس کے دوراستے ہوں۔ منافق اپنے گفتار اور کر دار کے لحاظ سے دوغلا ہوتا ہے جس وجہ سے اسے منافق کہا جاتا ہے منافق اپنی زبان سے وہ دعویٰ کرتا ہے جس پر اس کا اعتقاد اور ایمان نہیں ہوتا۔ اسی لیے قرآن مجید نے منافق کے ایمان اور اس کی گواہی کی تردید کی ہے۔ نبی ﷺ کے دور میں منافقوں کی یہ حالت تھی کہ جب مسلمانوں کے پاس آتے تو اپنے ایمان کا اظہار کرتے اور جب اپنے بڑوں کے پاس جاتے تو ان کے ساتھی بن جاتے تھے۔ (وَ اِذَا لَقُوا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا قَالُوْٓا اٰمَنَّا وَ اِذَا خَلَوْا اِلٰی شَیٰطِیْنِہِمْ قَالُوْٓا اِنَّا مَعَکُمْ اِنَّمَا نَحْنُ مُسْتَہْزِءُ وْنَ ) (البقرۃ : 14) ” جب منافق ایمان والوں سے ملتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم ایمان دار ہیں اور جب اپنے بڑوں کے پاس جاتے ہیں تو کہتے ہیں کہ بلا شک ہم تمہارے ساتھ ہیں ہم تو مسلمانوں کے ساتھ مذاق کرتے ہیں۔ “ منافقین کے جھوٹا ہونے کی وجہ سے ان کے ایمان کی تردید کی جارہی ہے کہ اے رسول ﷺ ! جب منافق آپ کے پاس آتے ہیں تو اس بات کی شہادت دیتے ہیں کہ آپ اللہ کے رسول ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اللہ جانتا ہے کہ ہاں آپ اس کے رسول ہیں لیکن اللہ تعالیٰ اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ منافق اپنی بات میں جھوٹے ہیں۔ منافقین کے جھوٹے ہونے کی دلیل یہ ہے کہ وہ سمع و اطاعت میں آپ ﷺ کو رسول نہیں مانتے۔ البتہ محض دنیا کے فائدے کی خاطر آپ کی نبوت کی شہادت دیتے ہیں۔ یاد رہے ! کہ ایمان میں تین باتوں کا ہونا ضروری ہے ان میں کوئی ایک بات نہ ہو تو انسان منافق ہوگا یا پھر کافر۔ کافر اور منافق میں فرق یہ ہے کہ کافر کھلے بندو اپنے کفر کا اظہار کرتا ہے اور منافق اپنے کفر کو چھپاتا ہے۔ (عَنِ ابْنِ عُمَرَ ؓ عَنِ النَّبِیِّ ﷺ قَالَ مَثَلُ الْمُنَافِقِ کَمَثَلِ الشَّاۃِ الْعَاءِرَۃِ بَیْنَ الْغَنَمَیْنِ تَعِیْرُإِ لٰی ھٰذِہٖ مَرَّۃً وَ إِلٰی ھٰذِہٖ مَرَّۃً ) (رواہ مسلم : کتاب صفات المنافقین وأَحکامھم ) ” حضرت عبداللہ بن عمر ؓ نبی کریم ﷺ سے بیان کرتے ہیں آپ نے فرمایا : منافق کی مثال اس بکری کی طرح ہے جو دو ریوڑوں کے درمیان پھرتی ہے کبھی ایک ریوڑ کی طرف جاتی ہے کبھی دوسرے کی طرف۔ “ (عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ عَنِ النَّبِیِّ ﷺ قَالَ آیَۃُ الْمُنَافِقِ ثَلاَثٌ إِذَا حَدَّثَ کَذَبَ ، وَإِذَا وَعَدَ أَخْلَفَ ، وَإِذَا اؤْتُمِنَ خَانَ ) (رواہ البخاری : باب علامۃ المنافق) ” حضرت ابوہریرہ ؓ نبی کریم ﷺ سے بیان کرتے ہیں۔ آپ نے فرمایا منافق کی تین نشانیاں ہیں، جب بات کرتا ہے تو جھوٹ بولتا ہے، وعدہ کرتا ہے تو وعدہ خلافی کرتا ہے اور جب اس کے پاس امانت رکھی جاتی ہے تو خیانت کرتا ہے۔ “ مسائل 1۔ منافق اپنی زبان سے نبی ﷺ کی رسالت کی شہادت دیتے تھے لیکن دل میں آپ کی رسالت کے منکر تھے۔ 2۔ اللہ تعالیٰ نے نہ صرف آپ ﷺ کو نبی اور رسول بنایا بلکہ آپ کی رسالت کی شہادت بھی دی ہے۔ 3۔ منافق اپنے ایمان کے دعوے میں جھوٹا ہوتا ہے۔ تفسیر بالقرآن منافق کی عادات کا مختصر بیان : 1۔ منافق دعویٰ ایمان کے باوجود ایمان دار نہیں ہوتا۔ ( البقرۃ : 8) 2۔ منافق نماز بھی دھوکہ دینے کے لیے پڑھتے ہیں۔ ( النساء : 142) 3۔ اللہ گواہی دیتا ہے کہ منافق ایمان کے دعویٰ میں جھوٹے ہیں۔ ( المنافقون : 1) 4۔ منافقین نے ایمان کا اظہار کرنے کے باوجود کفر اختیار کیے رکھتے ہیں۔ ( المنافقون : 3) 5۔ منافق اپنے ایمان کے بارے میں جھوٹی قسمیں اٹھاتے ہیں۔ ( التوبہ : 56) 6۔ منافق اللہ اور مومنوں کو دھوکہ دینے کی کوشش کرتے ہیں۔ ( البقرۃ : 9) ( المنافقون : 1)
Ayahs 63:2–3

اِتَّخَذُوْۤا اَیْمَانَهُمْ جُنَّةً فَصَدُّوْا عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ؕ اِنَّهُمْ سَآءَ مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 63:2 in the Quran reader

انہوں نے اپنی قسموں کو ڈھال بنا رکھا ہے یہ لوگ اللہ کے راستے لوگوں کو روکتے ہیں۔ یہ لوگ کیسی بری حرکتیں کرتے ہیں

ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ اٰمَنُوْا ثُمَّ كَفَرُوْا فَطُبِعَ عَلٰى قُلُوْبِهِمْ فَهُمْ لَا یَفْقَهُوْنَ Open ayah 63:3 in the Quran reader

یہ سب کچھ اس وجہ سے ہے کہ ان لوگوں نے ایمان لا کر کفر کیا اس لیے ان کے دلوں پر مہر لگا دی گئی ہے اب یہ کچھ نہیں سمجھتے

فہم القرآن ربط کلام : منافق صرف جھوٹ نہیں بولتا بلکہ جھوٹی قسمیں بھی اٹھاتا ہے۔ منافق دنیا کے فائدے کی خاطر منافقت اختیار کرتا ہے۔ جب اسے کسی نقصان یا اپنی بےعزتی کا خطرہ محسوس ہو تو اس سے بچنے کے لیے جھوٹی قسم اٹھانے سے بھی دریغ نہیں کرتا۔ اس طرح وہ اللہ کے نام کو ڈھال کے طور پر استعمال کرتا ہے۔ منافق نہ صرف خود صراط مستقیم سے ہٹ جاتا ہے بلکہ دوسروں کو بھی سیدھے راستے سے روکتا ہے۔ منافق کا جھوٹی قسمیں کھانا اور لوگوں کو ” اللہ “ کی راہ سے روکنا بدترین عمل ہے کیونکہ منافق دنیا کے فائدے کی خاطر ایسا کرتا ہے اس لیے اسے فائدہ نظر آئے تو وہ اپنے ایمان کا اظہار کرتا اور بظاہر مسلمانوں جیسا کردار اختیار کرتا ہے، جب اسے اللہ کی راہ میں نقصان اٹھانا پڑے تو کفار جیسا کردار پیش کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے برے کردار کی وجہ سے ان کے دلوں پر مہریں ثبت کردی ہیں جس وجہ سے وہ حقیقت کو سمجھ نہیں سکتے۔ (صُمٌّ بُکْمٌ عُمْیٌ فَہُمْ لَا یَرْجِعُوْنَ ) (البقرۃ : 18) ” بہرے، گونگے، اندھے ہیں پس وہ نہیں پلٹتے۔ “ مسائل 1۔ منافق اپنی قسموں کو ڈھال کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔ 2۔ منافق خود اللہ کے راستے سے ہٹے ہوتے ہیں ا ورلوگوں کو بھی اللہ کے راستے سے روکتے ہیں۔ 3۔ منافق کے برے کردار اور اخلاق کی وجہ سے اللہ تعالیٰ اس کے دل پر مہر لگا دیتا ہے۔ 4۔ منافق دنیا کے فائدے کی خاطر ایمان اور اسلام کی حقیقت کو سمجھنے کے لیے تیار نہیں ہوتا۔
Ayah 63:4

وَ اِذَا رَاَیْتَهُمْ تُعْجِبُكَ اَجْسَامُهُمْ١ؕ وَ اِنْ یَّقُوْلُوْا تَسْمَعْ لِقَوْلِهِمْ١ؕ كَاَنَّهُمْ خُشُبٌ مُّسَنَّدَةٌ١ؕ یَحْسَبُوْنَ كُلَّ صَیْحَةٍ عَلَیْهِمْ١ؕ هُمُ الْعَدُوُّ فَاحْذَرْهُمْ١ؕ قٰتَلَهُمُ اللّٰهُ١٘ اَنّٰى یُؤْفَكُوْنَ Open ayah 63:4 in the Quran reader

اے نبی جب آپ ان کے وجود دیکھتے ہیں تو آپ کو بڑے بھلے لگیں گے، بولیں تو آپ ان کی باتیں سنتے رہ جائیں، مگر اصل میں یہ لکڑیاں ہیں جو دیوار کے ساتھ لگا دی گئی ہوں، ہر زور دار آواز کو اپنے خلاف سمجھتے ہیں، یہ پکے دشمن ہیں ان سے بچ کر رہو ان پر اللہ کی مار یہ کدھر الٹے پھرئے جاتے ہیں

فہم القرآن ربط کلام : منافقوں کی گفتگو کا انداز۔ منافق کی نیّت میں فطور اور اس کے کردار میں جھول ہوتی ہے۔ اس لیے اسے اپنی گفتگو میں تصنّع اور تکلّف اختیار کرنا پڑتا ہے تاکہ اس کی بات سننے والے کو اس کے کردار کا جھول اور نیت کے فطور کا علم نہ ہوسکے۔ اسی وجہ سے مدینہ کے منافق جب نبی معظم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوتے تو اس طرح تکلّف اور لجاجت کے ساتھ گفتگو کرتے کہ سننے والے کو خواہ مخواہ ان کی طرف متوجہ ہونا پڑتا۔ مدینہ کے منافقین میں سے عبداللہ بن ابی اور کچھ منافق ظاہری تشخص ( PERSONALITY) کے اعتبار سے بھی ایک معقول آدمی نظر آتے تھے۔ اس لیے کچھ مسلمان ان کے ظاہری تشخص اور گفتگو سے متاثر ہوجایا کرتے تھے۔ منافقین کی منافقت واضح کرنے اور ان سے مسلمانوں کو بچانے کے لیے نبی ﷺ کو مخاطب کیا گیا ہے۔ تاکہ مسلمانوں کو معلوم ہو کہ منافقین اپنی پُر تکلف گفتگو اور شخصیت سے نبی معظم ﷺ کو متاثر کرنے کی بھی کوشش کرتے ہیں۔ ارشاد ہوا کہ جب آپ ان کے وجود کو دیکھتے ہیں تو ان کا رہن سہن اور شان بان سے آپ کو تعجب ہوتا ہے اور جب وہ آپ کے سامنے اپنا مؤقف پیش کرتے ہیں تو آپ اس کو توجہ سے سنتے ہیں حالانکہ یہ آپ کی مجلس میں بیٹھتے ہیں تو ان کی حالت اس لکڑی کی مانند ہوتی ہے جسے دیوار کے ساتھ کھڑا کیا گیا ہو۔ یعنی یہ جان بوجھ کر آپ کے سامنے اس طرح بیٹھتے جس سے ان کی بےنیازی اور لاپرواہی ظاہر ہوتی تھی۔ ان کے دل کی کیفیت یہ ہے کہ ہر وقت اس خوف میں مبتلا رہتے ہیں کہ کہیں سے ایسی آواز سنائی نہ دے جس سے ان کی گفتار اور کردار کا پول کھل جائے اور ان پر عتاب نازل ہو، یہ دین کے دشمن اور مسلمانوں کی آستینوں کے سانپ ہیں۔ اللہ انہیں ہلاک کرے یہ کہاں بہکے پھرتے ہیں۔ اس موقع پر اللہ تعالیٰ نے نبی ﷺ کو براہ راست مخاطب کرتے ہوئے منافقین کی مزید عادات سے آگاہ فرمایا۔ 1۔ دیکھنے میں عبداللہ بن اُ بی اور اس کے کچھ ساتھی بڑے سنجیدہ اور معزز نظر آتے تھے لیکن نیت، اخلاق اور کردار کے لحاظ سے بڑے گھٹیا تھے۔ اس لیے نبی ﷺ کو ہر حال میں ان سے بچنے کی تلقین کی گئی کیونکہ یہ دین اور مسلمانوں کے دشمن تھے جب آپ کے سامنے بیٹھتے تو یہ تاثر دینے کی کوشش کرتے کہ وہ آپ کی گفتگو کو نہ صرف توجہ سے سنتے ہیں بلکہ اس کا اثر بھی قبول کرتے ہیں حالانکہ ان کی حقیقت یہ تھی کہ جس طرح ایک لکڑی دیوار کے ساتھ لگی ہوئی ہو یہی کیفیت منافقین کی تھی۔ وہ دیوار کے ساتھ ٹیک لگا کر بیٹھتے اور آپ کی گفتگو سے متاثر ہونے کا جعلی تاثر دیتے تھے۔ 2۔ منافقین کی حالت یہ ہے کہ مدینہ میں کوئی چھوٹا بڑا واقعہ ہوجائے تو وہ اپنی جگہ پر خوف زدہ ہوجاتے ہیں۔ اس وجہ سے کہ کہیں ان کی سازش اور شرارت بےنقاب نہ ہوجائے۔ گویا کہ یہ دل کے قرار اور طبیعت کے سکون سے محروم ہوچکے ہیں جس وجہ سے ہر وقت اپنے کیے پر خوف میں مبتلا رہتے ہیں۔ جسے قرآن مجید نے دوسرے الفاظ میں یوں بیان کیا ہے۔ (وَ یَمُدُّ ہُمْ فِیْ طُغْیَانِہِمْ یَعْمَہُوْن) (البقرۃ : 15) ” یہ اپنی نافرمانیوں میں پریشان رہتے ہیں۔ “ 3۔ اللہ تعالیٰ نے ان منافقین کے لیے ” قَاتَلَہُمُ اللّٰہُ “ کے الفاظ استعمال کیے ہیں کہ ” اللہ “ انہیں ہلاک کرے۔ عربی زبان میں یہ الفاظ بددعا اور کسی سے نفرت دلانے کے لیے بھی استعمال ہوتے ہیں۔ یہ الفاظ یہاں انہی معنوں میں استعمال ہوئے ہیں۔ مسائل 1۔ بعض منافق اور کافر دیکھنے میں بڑے سنجیدہ اور سیدھے سادھے اور بھولے بھالے نظر آتے ہیں۔ 2۔ منافق اپنی نیت کے فطور اور برے کردار کو اپنی گفتگو سے چھپایا کرتا ہے۔ 3۔ منافق دین اور مسلمانوں کا دشمن ہوتا ہے اس لیے اس سے بچ کر رہنا چاہیے۔ 4۔ منافق اپنے کردار کی وجہ سے ہر وقت خوف میں مبتلا رہتا ہے۔ منافق کی نشانیاں جاننے کے لیے صفحہ 121 دیکھیں !
Ayahs 63:5–6

وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمْ تَعَالَوْا یَسْتَغْفِرْ لَكُمْ رَسُوْلُ اللّٰهِ لَوَّوْا رُءُوْسَهُمْ وَ رَاَیْتَهُمْ یَصُدُّوْنَ وَ هُمْ مُّسْتَكْبِرُوْنَ Open ayah 63:5 in the Quran reader

اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ آؤ۔ تاکہ اللہ کا رسول تمہارے لیے مغفرت کی دعا کرے تو سر ہلاتے ہیں اور آپ دیکھتے ہیں کہ تکبر کی وجہ سے آپ کے پاس آنے سے رک جاتے ہیں

سَوَآءٌ عَلَیْهِمْ اَسْتَغْفَرْتَ لَهُمْ اَمْ لَمْ تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ١ؕ لَنْ یَّغْفِرَ اللّٰهُ لَهُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الْفٰسِقِیْنَ Open ayah 63:6 in the Quran reader

اے نبی آپ ان کے لیے مغفرت کی دعا کریں یا نہ کریں ان کے لیے برابر ہے، اللہ انہیں ہرگز معاف نہیں کرے گا، یقیناً اللہ فاسق لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا

فہم القرآن ربط کلام : منافقین کی ہٹ دھرمی کی انتہا۔ منافقت ایسا نقص اور عیب ہے کہ جو زیادہ دیرتک چھپ نہیں سکتا۔ جب مدینہ کے منافقین کی منافقت ظاہر ہوگی تو ان کے عزیز و اقرباء میں مخلص مسلمانوں نے انہیں سمجھایا کہ آئندہ اس حرکت سے توبہ کرو اور اپنی غلطیوں کی نبی محترم ﷺ سے معذرت کرلو۔ منافقین نے کھلے الفاظ میں کہا کہ ہمیں کسی سے معافی مانگنے کی ضرورت نہیں۔ ایسے ہی موقع پر عبداللہ بن ابی کو مسلمانوں نے سمجھایا کہ آؤ اللہ کے رسول سے درخواست کرتے ہیں کہ آپ ﷺ تیرے لیے اللہ سے استغفار کریں۔ عبداللہ بن ابی نے بڑی نخوت کے ساتھ جواب دیا کہ تم لوگوں نے مجھے اس پر ایمان لانے کی دعوت دی، میں اس پر ایمان لے آیا۔ تم نے نماز کے لیے کہا تو میں نے نماز پڑھنا شروع کردی، تم نے زکوٰہ اور صدقہ و خیرات کے لیے کہا تو میں نے صدقہ کیا اور زکوٰۃ دی۔ اب کہتے ہو کہ میں اس سے معافی مانگوں یہ مجھ سے نہیں ہوسکتا۔ یہی حالت دوسرے منافقین کی تھی جب انہیں یہ بات کہی جاتی کہ اگر تم توبہ کرو اور اللہ کے رسول سے اپنے لیے استغفار کی درخواست کرو تو وہ پوری رعونت سے سر ہلاتے ہوئے آپ ﷺ کے پاس آنے سے انکار کرتے اور لوگوں کو اللہ کے راستے سے روکتے تھے۔ ان کی ہٹ دھرمی کی وجہ سے اللہ کے رسول کو بتلایا گیا کہ آپ ان کے لیے معافی مانگیں یا نہ مانگیں اللہ تعالیٰ انہیں ہرگز معاف نہیں کرے گا۔ کیونکہ ” اللہ “ اس قسم کے نافرمانوں کو ہدایت نہیں دیا کرتا۔ (اِسْتَغْفِرْلَہُمْ اَوْ لَا تَسْتَغْفِرْلَہُمْ اِنْ تَسْتَغْفِرْلَہُمْ سَبْعِیْنَ مَرَّۃً فَلَنْ یَّغْفِرَ اللّٰہُ لَہُمْ ذٰلِکَ بِاَنَّہُمْ کَفَرُوْا باللّٰہِ وَ رَسُوْلِہٖ وَ اللّٰہُ لَا یَہْدِی الْقَوْمَ الْفٰسِقِیْنَ ) (التوبۃ : 80) ” ان کے لیے بخشش مانگیں یا نہ مانگیں اگر آپ ان کے لیے ستر بار بخشش کی دعا کریں گے تب بھی اللہ انہیں معاف نہیں کرے گا، کیونکہ انہوں نے اللہ اور اس کے رسول کا انکار کیا اور اللہ نافرمان لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا۔ “ ” حضرت عبداللہ بن عمر ؓ بیان کرتے ہیں جب عبداللہ بن ابی فوت ہوا اس کا بیٹا عبداللہ بن عبداللہ بن ابی رسول معظم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ اس نے آپ سے قمیض کا مطالبہ کیا کہ اس میں اس کے والد کو کفن دیا جائے۔ نبی اکرم ﷺ نے اسے قمیض عنایت کردی۔ پھر اس نے آپ ﷺ سے نماز جنازہ پڑھانے کی درخواست کی۔ جب رسول معظم ﷺ نماز جنازہ کے لیے کھڑے ہوئے تو حضرت عمر ؓ نے رسول معظم ﷺ کے کپڑے کو پکڑکرعرض کی اے اللہ کے رسول ! کیا آپ اس کی نماز جنازہ پڑھائیں گے جبکہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو منع کیا ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے مجھے اختیار دیا ہے کہ آپ ان کے لیے استغفار کریں یا نہ کریں اگر آپ ان کے لیے ستر مرتبہ استغفار کریں میں ستر مرتبہ سے بھی زیادہ استغفار کروں گا۔ حضرت عمر ؓ نے کہا یہ تو منافق ہے۔ پھر رسول اکرم ﷺ نے اس کی نماز پڑھائی۔ تب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت مبارکہ نازل فرمائی ” آپ منافقوں میں سے کسی پر بھی نماز نہ پڑھائیں اور نہ ہی اس کی قبر پر کھڑے ہوں۔ “ ( رواہ البخاری : کتاب تفسیر القران ) مسائل 1۔ منافقین اپنی منافقت اور تکبر کی بنا پر استغفار کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتے۔ 2۔ اللہ تعالیٰ نے رسول کریم ﷺ کو منافقین کے حق میں استغفار کرنے سے روک دیا تھا۔ 3۔ اللہ تعالیٰ ہٹ دھرم شخص کو ہدایت نہیں دیتا۔ تفسیر بالقرآن منافقین کا انجام : 1۔ اللہ تعالیٰ نے منافقین کے ساتھ جہاد کرنے اور ان پر سختی کرنے کا حکم دیا ہے۔ (التوبہ : 73) 2۔ منافق کے لیے دردناک عذاب ہوگا۔ (البقرۃ : 10) 3۔” اللہ “ کے نزدیک منافق لعنتی ہیں۔ (الاحزاب : 61) 4۔ منافق جہنم کے نچلے گڑھے میں ہوں گے اور ان کا کوئی مددگار نہیں ہوگا۔ (النساء : 145) 5۔ منافق جہنم میں ہمیشہ رہیں گے اور ان پر اللہ تعالیٰ کی لعنت برستی رہے گی۔ (التوبہ : 68) 6۔ منافق جہنم کے سب سے نچلے درجے میں ہوں گے۔ (النساء : 145) 7۔ اے نبی منافقین اور کفار کے ساتھ سختی کے ساتھ سے جہاد کرو۔ ( التحریم : 9)
Ayahs 63:7–8

هُمُ الَّذِیْنَ یَقُوْلُوْنَ لَا تُنْفِقُوْا عَلٰى مَنْ عِنْدَ رَسُوْلِ اللّٰهِ حَتّٰى یَنْفَضُّوْا١ؕ وَ لِلّٰهِ خَزَآئِنُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ لٰكِنَّ الْمُنٰفِقِیْنَ لَا یَفْقَهُوْنَ Open ayah 63:7 in the Quran reader

یہ وہی لوگ ہیں جو کہتے ہیں کہ رسول کے ساتھیوں پر خرچ نہ کرو تاکہ یہ منتشر ہوجائیں، حالانکہ اللہ ہی زمین و آسمانوں کے خزانوں کا مالک ہے۔ مگر منافق نہیں سمجھتے ہیں

یَقُوْلُوْنَ لَئِنْ رَّجَعْنَاۤ اِلَى الْمَدِیْنَةِ لَیُخْرِجَنَّ الْاَعَزُّ مِنْهَا الْاَذَلَّ١ؕ وَ لِلّٰهِ الْعِزَّةُ وَ لِرَسُوْلِهٖ وَ لِلْمُؤْمِنِیْنَ وَ لٰكِنَّ الْمُنٰفِقِیْنَ لَا یَعْلَمُوْنَ۠ Open ayah 63:8 in the Quran reader

کہتے ہیں کہ ہم مدینہ پہنچ گئے تو عزت والا ذلیل کو نکال دے گا، حالانکہ عزت تو اللہ اور اس کے رسول اور مومنین کے لیے ہے مگر منافق نہیں جانتے

فہم القرآن ربط کلام : منافقین کی ہرزہ سرائی۔ غزوہ تبوک سے واپسی پر راستے میں ایک مقام پر صحابہ کرام ؓ نے پڑاؤ ڈالا تو کنویں سے پانی لیتے ہوئے ایک مہاجر اور انصار کے درمیان تکرار ہوگی۔ مہاجر نے انصار کو لات ماری اس بات کا عبداللہ بن ابی کو علم ہوا تو اس نے انصار کو طعنہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ تمہارا ہی کیا دھرا ہے، جنہیں ان کی قوم نے اپنے شہر سے نکال دیا تم نے ان کو مدینہ میں ہر چیز مہیا کی اور آج وہ ہم پر سرداری کر رہے ہیں اگر ان سے نجات پانا چاہتے ہو تو ان کے ساتھ کسی قسم کا تعاون نہ کرو یہ لوگ بھوک سے تنگ آکر خود بھاگ جائیں گے۔ اس کے ساتھ اس نے یہ بھی کہا کہ جونہی ہم مدینہ واپس جائیں گے تو عزت والا ذلیل شخص کو نکال دے گا۔ اللہ تعالیٰ نے منافقین کی ہرزہ سرائی پر اتنباہ کرتے ہوئے انہیں دو باتیں ارشاد فرمائیں کہ زمین و آسمانوں کے خزانے صرف اللہ کے ہاتھ میں ہیں لیکن منافق لوگ اس حقیقت کو سمجھنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ انہیں یہ بھی معلوم نہیں کہ عزت اللہ اور اس کے رسول اور مومنوں کے لیے ہے۔ لیکن منافق اس حقیقت کو نہیں جانتے کہ اللہ ہی عزت کا مالک ہے اور اسی نے اپنے رسول کو عزت سے سرفراز فرمایا ہے اور وہی مومنوں کو عزت دینے والا ہے۔ خاکم بدھن عبداللہ بن ابی نے مسلمانوں اور اللہ کے رسول ﷺ کو ذلیل کہا تھا۔ اس کے بیٹے جس کا نام بھی عبداللہ تھا اور وہ مخلص مسلمان تھا اس بات کا علم ہوا تو مدینہ پہنچنے پر وہ اللہ کے رسول ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کرتا ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ ! میرے علم میں یہ بات آئی ہے کہ آپ نے میرے والد کو ان کی سازشوں اور شرارتوں کی وجہ سے قتل کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے کسی اور کو حکم دینے کی بجائے آپ مجھے حکم دیں کہ میں اسے اپنے ہاتھوں قتل کروں۔ تاکہ کسی کے قتل کرنے پر میرے دل میں کوئی رنجش پیدا نہ ہو۔ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا : ہم نے اسے قتل کرنے کا فیصلہ نہیں کیا۔ عبداللہ بن ابی کی ہرزہ سرائی کا حضرت عمر کو علم ہوا تو انہوں نے بھی اسے قتل کرنے کی اجازت چاہی لیکن نبی ﷺ نے یہ کہہ کر روک دیا کہ لوگ کہیں گے کہ (أَنَّ مُحَمَّدًا یَقْتُلُ أَصْحَابَہُ ) (رواہ البخاری : باب قَوْلِہِ (سَوَاءٌ عَلَیْہِمْ أَسْتَغْفَرْتَ لَہُمْ أَمْ لَمْ تَسْتَغْفِرْ لَہُمْ ) ” محمد ﷺ کو اللہ نے قوت عطا فرمائی ہے تو اس نے اپنے ساتھیوں کو قتل کرنا شروع کردیا ہے۔ “ مسائل 1۔ کسی کی ہرزہ سرائی یا مذموم کوشش سے دوسرے کا رزق کم نہیں ہوتا۔ 2۔ زمین و آسمانوں کے خزانے ” اللہ “ ہی کے پاس ہیں۔ 3۔ اللہ ہی عزت دینے والا ہے۔ 4۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول اور صحابہ کو عزت سے سرفراز فرمایا تھا۔ 5۔ منافق حقیقی سمجھ سے عاری ہوتا ہے۔ تفسیر بالقرآن اللہ ہی عزت اور ذلت دینے والا ہے : 1۔ عزت اللہ کے پاس ہے۔ (فاطر : 10) 2۔ عزت اللہ، اس کے رسول اور مومنوں کے لیے ہے۔ (المنافقون : 8) 3۔ اللہ جسے چاہتا ہے عزت دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے ذلیل کرتا ہے۔ (آل عمران : 26) 4۔ جسے اللہ رسوا کرے اسے کوئی عزت نہیں دے سکتا۔ (الحج : 18) 5۔ ہر قسم کی عزت اللہ کے لیے ہے وہ ہر بات سننے اور جاننے والا ہے۔ (یونس : 65) 6۔ کیا اللہ کے علاوہ عزت تلاش کرتے ہو حالانکہ ہر قسم کی عزت اللہ ہی کے پاس ہے۔ (النساء : 139) 7۔ اللہ نے بنی اسرائیل کو نبوت، کتاب، حکومت، رزق اور دنیا بھر میں عزت دی۔ (الجاثیہ : 16) 8۔ اللہ ہی لوگوں کو ایک دوسرے پر فضیلت دینے والا ہے۔ (آل عمران : 26)
Ayah 63:9

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تُلْهِكُمْ اَمْوَالُكُمْ وَ لَاۤ اَوْلَادُكُمْ عَنْ ذِكْرِ اللّٰهِ١ۚ وَ مَنْ یَّفْعَلْ ذٰلِكَ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْخٰسِرُوْنَ Open ayah 63:9 in the Quran reader

’ اے ایمان والو ! تمہارے مال اور تمہاری اولاد تم کو اللہ کی یاد سے غافل نہ کردیں، جو لوگ ایسا کریں گے وہ خسارہ پانے والے ہیں

فہم القرآن ربط کلام : منافق اولاد اور مال کی خاطر منافقت اختیار کرتا ہے جس سے ایماندار لوگوں کو منع گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کے لیے جن چیزوں کو آزمائش قرار دیا ہے ان میں سر فہرست اولاد اور مال ہے۔ ان چیزوں کا ذکر کرتے ہوئے اکثر مقامات پر مال کا پہلے ذکر کیا ہے۔ بیشمار لوگ مال کی خاطر اپنا ایمان اور عزت برباد کرلیتے ہیں اور اولاد کی محبت میں ماں باپ وہ کچھ کرجاتے ہیں جس کے کرنے کی شریعت نے انہیں اجازت نہیں دی۔ مال اور اولاد کی آزمائش سے بچ کر زندگی بسر کرنا مومن کے لیے لازم ہے۔ اس لیے مومنوں کو حکم دیا جارہا ہے کہ اے ایمان کا دعویٰ کرنے والو ! تمہیں تمہارے مال اور اولاد اللہ کے ذکر سے غافل نہ کردیں، جنہوں نے اللہ کے ذکر سے غفلت اختیار کی وہ لوگ خسارہ پانے والے ہیں۔ اللہ کے ذکر سے غفلت کی کئی صورتیں ہیں۔ ” اللہ “ کی ذات کو اس طرح وحدہٗ لاشریک نہ ماننا جس طرح اس نے ماننے کا حکم دیا ہے۔ اس کے احکام کا انکار کرنا، اس کی مقرر کردہ عبادات سے تغافل کرنا اور اس کے ذکر سے غفلت اختیار کرنا ہے، جو لوگ ان صورتوں میں سے کسی ایک صورت میں غفلت کریں گے وہ دنیا اور آخرت میں نقصان پائیں گے۔ ذکر کا جامع مفہوم یہ ہے کہ مسلمان ہر حال میں ” اللہ “ کی ذات اور فرمان کا خیال رکھے۔ ” اور جو میرے ذکر سے منہ موڑے گا اس کے لیے دنیا میں تنگ زندگی ہوگی اور قیامت کے دن ہم اسے اندھا کرکے اٹھائیں گے۔ “ (طٰہٰ : 124) (عَنْ أَبِی مُوسٰی ؓ قَالَ قَال النَّبِیُّ ﷺ مَثَلُ الَّذِی یَذْکُرُ رَبَّہٗ وَالَّذِی لَا یَذْکُرُ رَبَّہٗ مَثَلُ الْحَیِّ وَالْمَیِّتِ ) ( رواہ البخاری : کتاب الدعوات، باب فضل ذکر اللہ عزوجل) ” حضرت ابو موسیٰ ؓ بیان کرتے ہیں نبی معظم ﷺ نے فرمایا اللہ کا ذکر کرنے اور نہ کرنے والے کی مثال زندہ اور مردہ کی طرح ہے۔ “ یعنی جو ذکر کرتا ہے وہ زندہ ہے جو ذکر نہیں کرتا وہ مردہ ہے۔ ( رواہ البخاری : کتاب الدعوات) مسائل 1۔ ایمانداروں کو اپنی اولاد اور مال کی وجہ سے اللہ کے ذکر سے غافل نہیں ہونا چاہیے۔ 2۔ جو لوگ اللہ کے ذکر سے غافل ہوں گے وہ دنیا اور آخرت میں نقصان پائیں گے۔
Ayahs 63:10–11

وَ اَنْفِقُوْا مِنْ مَّا رَزَقْنٰكُمْ مِّنْ قَبْلِ اَنْ یَّاْتِیَ اَحَدَكُمُ الْمَوْتُ فَیَقُوْلَ رَبِّ لَوْ لَاۤ اَخَّرْتَنِیْۤ اِلٰۤى اَجَلٍ قَرِیْبٍ١ۙ فَاَصَّدَّقَ وَ اَكُنْ مِّنَ الصّٰلِحِیْنَ Open ayah 63:10 in the Quran reader

ہم نے جو رزق تمہیں دیا ہے اس میں سے خرچ کرو۔ قبل اس کے کہ تم میں سے کسی کی موت آجائے اور وہ اس وقت کہے کہ اے میرے رب تو نے مجھے تھوڑی سی مہلت کیوں نہ دی کہ میں صدقہ کرتا اور صالح لوگوں میں شامل ہوجاتا

وَ لَنْ یُّؤَخِّرَ اللّٰهُ نَفْسًا اِذَا جَآءَ اَجَلُهَا١ؕ وَ اللّٰهُ خَبِیْرٌۢ بِمَا تَعْمَلُوْنَ۠ Open ayah 63:11 in the Quran reader

جب کسی کی مہلت پوری ہوتی ہے تو اللہ کسی شخص کو مہلت نہیں دیتا اور جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اس سے پوری طرح باخبر ہے

فہم القرآن ربط کلام : مال کی محبت سے بچنے کا بہترین طریقہ۔ انسان کی کمزوریوں میں ایک کمزوری یہ ہے کہ انسان زندگی بھر مال کی محبت میں سرگرداں رہتا ہے۔ حد سے زیادہ مال کی حرص سے بچنے کا طریقہ یہ ہے کہ انسان اسے اللہ کے راستے میں خرچ کرتا رہے قبل اس کے کہ اسے موت آجائے اور یہ اپنے رب سے آرزو کرے کہ میرے رب ! تو نے مجھے تھوڑی سی اور مہلت کیوں نہ دی تاکہ میں تیرے راستے میں مال خرچ کرتا اور نیک لوگوں میں شمار ہوتا، لیکن اس وقت کسی انسان کو نہ مہلت دی گئی ہے اور نہ دی جائے گی کیونکہ جب کسی شخض کی موت کا وقت آجاتا ہے تو اس میں ایک لمحہ بھی تقدیم و تاخیر نہیں کی جاتی۔ لوگ جو بھی عمل کرتے ہیں اللہ تعالیٰ اس سے پوری طرح باخبر ہے۔ ” خَبِیْرٌ“ کے لفظ میں یہ مفہوم بھی شامل ہے کہ اللہ تعالیٰ جانتا ہے اگر ان لوگوں کو مہلت دے دی جائے تو پھر بھی اسی طرح بخل کا مظاہرہ کریں گے جس طرح زندگی بھر کرتے رہے ہیں۔ (بَلْ بَدَالَہُمْ مَّا کَانُوْا یُخْفُوْنَ مِنْ قَبْلُ وَ لَوْ رُدُّوْا لَعَادُوْا لِمَانُہُوْا عَنْہُ وَ اِنَّہُمْ لَکٰذِبُوْنَ ) (الانعام : 28) ” بلکہ ان کے لیے ظاہر ہوگیا جو وہ اس سے پہلے چھپاتے تھے اور اگر انہیں واپس بھیج دیا جائے تو ضرور پھر وہی کریں گے جس سے انہیں منع کیا گیا تھا اور بلاشبہ وہ یقیناً جھوٹے ہیں۔ “ (عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ؓ قَالَ کَانَ رَسُول اللّٰہِ ﷺ یَتَعَوَّذُ یَقُولُ ” اللّٰہُمَّ إِنِّی أَعُوذُ بِکَ مِنَ الْکَسَلِ وَأَعُوذُ بِکَ مِنَ الْجُبْنِ وَأَعُوذُ بِکَ مِنَ الْہَرَمِ وَأَعُوذُ بِکَ مِنَ الْبُخْلِ “ ) (رواہ البخاری : کتاب الدعوات، باب التعوذ من أرذل العمر) ” حضرت انس بن مالک ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول معظم ﷺ اللہ تعالیٰ سے پناہ مانگتے ہوئے یہ دعا کیا کرتے تھے اے اللہ میں سستی، بزدلی، ناکارہ پن بڑھاپے اور بخل سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔ “ ” حضرت انس بن مالک ؓ بیان کرتے ہیں کہ مدینہ میں ابو طلحہ ؓ انصار میں سب سے زیادہ کھجوروں کے مالک تھے۔ باغات میں بیرحاء نامی باغ ان کا سب سے بہترین باغ تھا۔ جو مسجد کے سامنے تھا نبی ﷺ اس میں جاتے اور وہاں سے پانی پیا کرتے تھے جب آیت (لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتّٰی تُنْفِقُوْا مِمَّا تُحِبُّوْنَ ) نازل ہوئی۔ حضرت ابو طلحہ ؓ رسول کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کرتے ہیں : اے اللہ کے رسول ﷺ ! اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ جب تک تم اپنی محبوب ترین چیز خرچ نہ کرو کبھی نیکی تک نہ پہنچ سکو گے۔ یقینا میرے پاس ” بیرحاء “ کا باغ ہے جو پوری جائیداد میں میرے نزدیک قیمتی اور عزیز ہے میں اس کے بدلے اللہ کے ہاں نیکی اور آخرت کے خزانے کا خواہشمند ہوں لہٰذا آپ اسے جہاں چاہیں استعمال کریں۔ آپ ﷺ نے اس جذبہ کی تحسین کرتے ہوئے فرمایا : یہ مال بڑا نفع بخش ہے یہ مال بڑا فائدہ مند ہے جو تم نے کہا میں نے سن لیا۔ تم اسے اپنے قریبی رشتہ داروں میں تقسیم کردو۔ چناچہ حضرت ابو طلحہ ؓ نے باغ اپنے چچا زاد بھائیوں اور عزیزوں میں تقسیم کردیا۔ “ (رواہ البخاری : کتاب تفسیر القرآن، باب لن تنالوا البرحتی تنفقوا مما تحبون) مسائل 1۔ ہر مسلمان کو اپنی موت سے پہلے دل کھول کر اللہ کے راستے میں خرچ کرنا چاہیے۔ 2۔ موت کے وقت کسی شخص کو ایک لمحہ بھی مہلت نہیں دی جاتی۔ 3۔ اللہ تعالیٰ ہر کسی کے عمل سے باخبر ہوتا ہے۔ تفسیر بالقرآن اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کا حکم اور اس کے فوائد : 1۔ ” اللہ “ کی رضا کے لیے خرچ کرنے والوں کی مثال سدا بہار باغ جیسی ہے۔ (البقرۃ : 265) 2۔ ” اللہ “ کی رضا کے لیے خرچ کرنے والے کو پورا پورا اجر ملے گا۔ (البقرۃ : 272) 3۔ ” اللہ “ کی رضا کے لیے کیے گئے کام کا بڑا اجر ہے۔ (النساء : 114) 4۔ ” اللہ “ کی رضا چاہنے والوں کا انجام بہترین ہوگا۔ (الرعد : 22) 5۔ مخلص حضرات لوگوں کی خدمت کرتے ہوئے ان کے شکریہ اور جزا سے بےنیاز ہوتے ہیں۔ (الدھر : 9