Ayahs 62:1–3فہم القرآن
ربط سورت : حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی دعوت کے رد عمل میں بنی اسرائیل دو گروہوں میں تقسیم ہوگئے۔ ایک جماعت عیسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان لے آئی اور دوسرے گروہ نے ان کا انکار کردیا۔ سورة الجمعہ کی ابتدا ” سَبَّحَ “ کے پرجلال لفظ سے کی گئی ہے جس کا معنٰی اور مفہوم یہ ہے کہ کوئی اللہ کی ذات کو مانے یا نہ مانے اسے یاد کرے یا اس کا انکار کرے وہ تو وہ ہستی ہے جسے زمین و آسمانوں کی ہر چیز ان الفاظ میں یاد کرتی ہے کہ ” اللہ “ کلی اختیارات کا مالک اور ہر قسم کی حاجت اور نقص سے پاک ہے۔ ہر نقص اور حاجت سے مبرّا ہونے کے ساتھ ہر اعتبار سے پوری کائنات پر غالب ہے۔ اس کے غالب ہونے میں صرف قوت ہی نہیں بلکہ حکمت بھی پائی جاتی ہے۔
یہ اس کی قوت اور حکمت کا کرشمہ ہے کہ اس نے اَن پڑھ لوگوں میں سے ایک شخص کو رسول بنایا ہے جو ان کے سامنے اس کے فرمان پڑھتا ہے اور ان کے عقائد، اخلاق اور کردار کو پاکیزہ بناتا ہے۔ افکار و نظریات، اخلاق اور کردار کو پاکیزہ بنانے کے ساتھ انہیں کتاب و حکمت کی تعلیم دیتا ہے جبکہ لوگ اس سے پہلے کھلی گمراہی میں مبتلا تھے۔ یہ رسول ان لوگوں کے لیے بھی بھیجا گیا ہے جو ابھی تک مسلمانوں سے نہیں ملے۔ رسول کا پیغام آنے والے لوگوں تک پہنچانے اور انہیں مسلمانوں کے ساتھ شامل کرنے پر اللہ تعالیٰ ہر اعتبار سے غالب اور حکمت والا ہے۔ اس سے ثابت ہوا کہ نبی ﷺ آئندہ نسلوں کے لیے بھی رسول ہیں جو ابھی تک مسلمانوں کے ساتھ نہیں ملے۔ مسلمانوں کے ساتھ نہ ملنے والے لوگوں میں ایک تو وہ لوگ ہیں جو اس زمانے میں ابھی مسلمان نہیں ہوئے تھے، دوسرے وہ لوگ ہیں جو نبی ﷺ کے بعد پیدا ہوں گے آپ ﷺ کو ان سب کے لیے رسول بنایا گیا ہے گویا کہ آپ ہر دور کے لوگوں کے لیے رسول بنائے گئے ہیں۔ آپ کے بعد نہ کوئی رسول آیا ہے اور نہ ہی آئے گا کیونکہ آپ کے بعد کسی رسول کی ضرورت نہیں۔ اس مقام پر یہ ارشاد ہوا کہ جن لوگوں میں نبی ﷺ مبعوث کیے گئے وہ لوگ اَن پڑھ تھے۔ دوسرے مقام پر ارشاد ہے کہ آپ ﷺ ” اَلنَّبِیَ الْاُمِیُّ “ ہیں۔ اُمی کے مفسرین نے چار معانی بیان کیے ہیں۔
1۔ آپ ﷺ نے اللہ تعالیٰ کے سوا کسی شخص سے نہ سیکھا نہ پڑھا اس لیے آپ ﷺ اُمی ہیں۔
2۔ آپ مکہ کے شہر میں پیدا ہوئے جسے قرآن مجید نے امّ القرایٰ قرار دیا ہے اس نسبت سے آپ امی ہیں۔
3۔ آپ بنی اسماعیل میں سے ہیں کیونکہ نبوت ہمیشہ بنی اسرائیل میں رہی ہے اس لیے اہل کتاب بنی اسماعیل کو امی کہتے ہیں گویا کہ امی سے مراد بنی اسماعیل میں نبی۔
4۔ آپ قیامت کے روز سب سے بڑی امت کے نبی ہوں گے اس لیے کچھ اہل علم کا خیال ہے کہ اس بنا پر آپ کو ” اَلنَّبِیَ الْاُمِیُّ “ کے لقب سے ملقب فرمایا گیا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے انسان پر اس قدر احسانات فرمائے ہیں کہ وہ ان کا شمار کرنا چاہے تو جدید مشینری کے ذریعے بھی انہیں شمار نہیں کرسکتا۔ تمام احسانات و انعامات میں سب سے بڑا احسان اللہ تعالیٰ کی ہدایت اور رہنمائی ہے۔ ہدایت کا مؤثر، مدلّل، قابل اعتماد ذریعہ اور نمونہ انبیاء کی شخصیات ہیں۔ ان شخصیات میں سب سے ممتاز شخصیت رسول محترم ﷺ کی ذات گرامی ہے آپ آخری نبی ہیں آپ نے انسانیت کی اصلاح اور فلاح کے لیے سب سے بڑھ کر کوششیں اور تکلیفیں اٹھائیں۔ اس لیے مومنوں کو یہ احساس دلایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا یہ خاص احسان ہے کہ اس نے تم ہی سے یعنی انسانوں میں سے ایک ایسا رسول مبعوث فرمایا ہے جو تمہارے اپنے آپ سے بھی تم پر زیادہ مہربان ہے اور درگزر کرنے والا ہے۔ (التوبہ : 128) اس کی شب و روز کی محنتیں، صبح و شام کی دعائیں اور ہر وقت یہ تمنا اور خواہش ہے کہ وہ تمہیں اللہ تعالیٰ کی آیات پڑھ کر سنائے، گناہوں اور جرائم سے پاک کرے اور تمہیں کتاب و حکمت کے ذریعے دنیا و آخرت کی ترقیوں سے سرفراز کرے۔ نبی آخرالزماں ﷺ کی تشریف آوری اور آپ کی تعلیمات سے پہلے تم سراسر گمراہی اور جہالت کی تاریکیوں میں بھٹک رہے تھے۔ آپ کی کوششوں اور محبت و اخلاص کا نتیجہ ہے کہ آج انسانیت نے اپنا مقام پایا، غلاموں کو آزادی نصیب ہوئی ‘ عورتوں کو حقوق ملے اور انسان کو اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے کا طریقہ اور دنیا میں رہنے سہنے کا سلیقہ آیا۔ یہ رب کریم کا لوگوں پر عظیم ترین احسان ہے اگر اللہ تعالیٰ چاہتا تو لوگوں کو ان کی عقل پر چھوڑ دیتا لیکن اس نے ایسا نہیں کیا بلکہ اس نے لوگوں کی راہنمائی کے لیے حضرت محمد ﷺ جیسا عظیم اور بےمثال رسول مبعوث فرمایا۔
یہ مسلمہ حقیقت ہے کہ رسول معظم ﷺ کی بعثت سے پہلے انسانیت ہر قسم کی جہالت اور تاریکی کے گھٹا ٹوپ اندھیروں میں بھٹک رہی تھی۔ خصوصاً عرب اور اہل مکہ کی حالت یہ تھی کہ یہاں کے دانشور اس سوچ میں غلطاں رہتے تھے کہ ہم تاریکیوں سے کس طرح نجات پائیں۔ اسی کے نتیجے میں حلف الفضول کا معاہدہ طے پایا جس میں اہل دانش نے بیٹھ کر یہ فیصلہ کیا کہ معاشرے میں پیدا ہونے والی بیماریوں کا تدارک کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ (ابن ہشام) اسی سلسلہ کی دوسری کڑی یہ تھی کہ ایک موقع پر ورقہ بن نوفل ‘ زید بن عمرو مزید نام لکھنے اور چند دوسرے لوگ حرم میں بیٹھ کر فیصلہ کرتے ہیں کہ تمام مروجہ مذاہب کا جائزہ لے کر طے کیا جائے کہ کونسا مذہب سچا ہے ؟ اس کے لیے یہ لوگ اٹھ کھڑے ہوئے جس کے نتیجے میں ورقہ بن نوفل عیسائیت کے قریب ہوئے اور کچھ نے یہودیت کو مناسب سمجھا۔ حضرت سعید ؓ کے والد اور حضرت عمر ؓ کے ماموں جناب زید بن عمرو نے سب سے براءت کا اعلان کیا۔ وہ بیت اللہ میں سجدہ ریز ہو کر زاروقطار روتے ہوئے دعا کرتے کہ اے کعبہ کے رب ! اگر مجھے معلوم ہوجائے کہ تیری عبادت اس طرح کرنی ہے تو میں اسی طرح کرنے کو تیار ہوں لیکن آسمانی ہدایت مفقود ہوجانے کی وجہ سے وہ دین کی روشنی سے محروم رہے اس کے متعلق ایک سوال کے جواب میں رسول کریم ﷺ نے فرمایا : (نَعَمْ إِنَّہٗ یُبْعَثُ أُمَّۃً وَّاحِدَۃً ) کیوں نہیں ! وہ ایک امت کی حیثیت سے اٹھایا جائے گا۔ (ابن ہشام)
آپ ﷺ کی آمد سے قبل کی جہالت اور تاریکی کی نشاندہی کرتے ہوئے حضرت علی ؓ کے برادر مکرم حضرت جعفر ؓ بن ابی طالب نے حبشہ کے حکمران کے سامنے اس کا یوں اعتراف کیا تھا :
(فَکَانَ الَّذِی کَلَّمَہُ جَعْفَرُ بْنُ أَبِی طَالِبٍ ؓ فَقَالَ لَہ أَیُّہَا الْمَلِکُ کُنَّا قَوْمًا أَہْلَ جَاہِلِیَّۃٍ نَعْبُدُ الْأَصْنَامَ وَنَأْکُلُ الْمَیْتَۃَ وَنَأْتِی الْفَوَاحِشَ وَنَقْطَعُ الْأَرْحَامَ وَنُسِیءُ الْجِوَارَ وَیَأْکُلُ الْقَوِیُّ مِنَّا الضَّعِیفَ فَکُنَّا عَلَی ذَلِکَ حَتَّی بَعَثَ اللَّہُ إلَیْنَا رَسُولًا مِنَّا نَعْرِفُ نَسَبَہُ وَصِدْقَہُ وَأَمَانَتَہُ وَعَفَافَہُ فَدَعَانَا إلَی اللَّہِ لِنُوَحِّدَہُ وَنَعْبُدَہُ وَنَخْلَعَ مَا کُنَّا نَعْبُدُ نَحْنُ وَآبَاؤُنَا مِنْ دُونِہِ مِنْ الْحِجَارَۃِ وَالْأَوْثَانِ وَأَمَرَنَا بِصِدْقِ الْحَدِیثِ وَأَدَاءِ الْأَمَانَۃِ وَصِلَۃِ الرَّحِمِ وَحُسْنِ الْجِوَارِ وَالْکَفِّ عَنْ الْمَحَارِمِ وَالدِّمَاءِ وَنَہَانَا عَنْ الْفَوَاحِشِ وَقَوْلِ الزُّورِ وَأَکْلِ مَالِ الْیَتِیمِ وَقَذْفِ الْمُحْصَنَاتِ وَأَمَرَنَا أَنْ نَعْبُدَ اللَّہَ وَحْدَہُ لَا نُشْرِکُ بِہِ شَیْءًا وَأَمَرَنَا بالصَّلَاۃِ وَالزَّکَاۃِ وَالصِّیَامِ ) (سیرت ابن ہشام)
” وہ کلمے جو حضرت جعفر ؓ نے نجاشی کو کہے تھے وہ یہ تھے اے نجاشی ہماری قوم جاہل تھی ہم میں بتوں کی عبادت، مردار کھانا، فحاشی کرنا، رشتے داریوں کو توڑنا، پڑوسیوں کو تنگ کرنا اور طاقت وار لوگوں کا کمزوروں پر ظلم کرنا جیسی بیماریاں پائی جاتی تھیں ہم یہ کام کر رہے تھے یہاں تک کہ اللہ نے ہم میں سے ہی ایک رسول بھیجا ہم اس کا نسب، صداقت، امانت داری اور معاف کرنا جیسی صفات جانتے تھے اس نے ہمیں ایک اللہ کی دعوت کی عبادت کی طرف بلایا اور ہمیں بتوں اور پتھروں کی عبادت سے روکا اور اس کی عبادت سے جس کی عبادت ہمارے آباؤ اجداد کرتے تھے اس نے ہمیں سچ بولنے، امانت کو اس کی مالک کی طرف لوٹانے، صلہ رحمی کرنے اور پڑوسیوں کے ساتھ حسن سلوک کرنے کا حکم دیا اور ہمیں حرام کھانے، کسی کا ناحق خون بہانے، فحاشی کرنے، بری باتیں کرنے، یتیموں کا مال کھانے اور پاک دامنہ عورتوں پر تہمت لگانے سے منع کیا اور ہمیں حکم دیا کہ ہم ایک اللہ کی عبادت کریں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھرائیں اور اس نے ہمیں نماز پڑھنے، زکوٰۃ ادا کرنے اور روزے رکھنے کا حکم دیا۔ “
(عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ﷺ قَالَ کُنَّا جُلُوسًا عِنْدَ النَّبِیِّ ﷺ فَأُنْزِلَتْ عَلَیْہِ سُورَۃُ الْجُمُعَۃِ (وَاٰخَرِیْنَ مِنْہُمْ لَمَّا یَلْحَقُوْا بِہِمْ ) قَالَ قُلْتُ مَنْ ہُمْ یَا رَسُول اللّٰہِ فَلَمْ یُرَاجِعْہُ حَتَّی سَأَلَ ثَلاَثًا وَفِینَا سَلْمَانُ الْفَارِسِیُّ وَضَعَ رَسُول اللّٰہِ ﷺ یَدَہُ عَلَی سَلْمَانَ ثُمَّ قَالَ لَوْ کَانَ الإِیمَانُ عِنْدَ الثُّرَیَّا لَنَالَہُ رِجَالٌ، أَوْ رَجُلٌ مِنْ ہَؤُلاَءِ ) (رواہ البخاری : باب قَوْلُہُ (وَآخَرِینَ مِنْہُمْ لَمَّا یَلْحَقُوا بِہِمْ )
” حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ جب سورة جمعہ نازل ہوئی تو ہم آپ ﷺ کے پاس بیٹھے تھے۔ میں نے آپ سے پوچھا کہ ” وَاٰخَرِیْنَ مِنْھُمْ لَمَّا یَلْحَقُوْابِھِمْ “ سے کون لوگ مراد ہیں ؟ آپ ﷺ نے کوئی جواب نہ دیا۔ میں نے تین بار یہی سوال کیا۔ اس وقت ہم لوگوں میں حضرت سلمان فارسی ؓ بھی موجود تھے۔ آپ نے ان پر اپنا ہاتھ رکھ کر فرمایا کہ اگر ایمان ثریا پر بھی ہوتا تو اس کے قبیلے کے لوگ وہاں بھی پہنچ جاتے۔
آپ ﷺ اہل مکہ اور صرف اس دور کے لیے نبی نہیں بلکہ قیامت تک کے لیے نبی مبعوث کیے گئے ہیں ؟
(عَنْ أَبِی ذَرٍّ ؓ قَالَ قَالَ رَسُول اللّٰہِ ﷺ أُعْطِیْتُ خَمْسًا لَمْ یُعْطَہُنَّ أَحَدٌ قَبْلِی بُعِثْتُ إِلَی الْأَحْمَرِ وَالْأَسْوَدِ وَجُعِلَتْ لِیَ الْأَرْضُ طَہُورًا وَمَسْجِدًا وَأُحِلَّتْ لِیَ الْغَنَاءِمُ وَلَمْ تَحِلَّ لِأَحَدٍ قَبْلِی وَنُصِرْتُ بالرُّعْبِ فَیُرْعَبُ الْعَدُوُّ وَہُوَ مِنِّی مَسِیْرَۃَ شَہْرٍ وَقِیلَ لِیْ سَلْ تُعْطَہْ وَاخْتَبَأْتُ دَعْوَتِیْ شَفَاعَۃً لِأُمَّتِی فَہِیَ نَاءِلَۃٌ مِنْکُمْ إِنْ شَاء اللّٰہُ تَعَالَی مَنْ لَّمْ یُشْرِکْ باللّٰہِ شَیْءًا قَالَ الْأَعْمَشُ فَکَانَ مُجَاہِدٌ یَرٰی أَنَّ الْأَحْمَرَ الْإِنْسُ وَالْأَسْوَدَ الْجِنُّ ) (رواہ احمد : مسند ابی ذر)
” حضرت ابوذر ؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی محترم ﷺ نے فرمایا کہ مجھے پانچ ایسی چیزیں عنایت کی گئی ہیں جو مجھ سے پہلے کسی نبی کو عطا نہیں ہوئیں۔ 1۔ مجھے اللہ تعالیٰ نے ہر کالے اور گورے کے لیے رسول بنایا ہے۔ 2۔ میرے لیے ساری زمین پاک اور مسجد بنادی گئی ہے۔ 3۔ میرے لیے مال غنیمت حلال کیا گیا ہے جبکہ مجھ سے پہلے کسی رسول کے لیے حلال نہیں تھا۔ 4۔ میری رعب سے مدد فرمائی گئی ہے کیونکہ ایک مہینہ کی مسافت پر ہونے کے باوجود دشمن مجھ سے لرزاں رہتا ہے۔ 5۔ مجھے ( قیامت کے دن) کہا جائے گا مانگ عطا کیا جائے گا اور تیری امت کے حق میں تیری شفاعت قبول کی جائے گی اور جس نے اللہ کے ساتھ شرک نہ کیا ہوگا اس کو میری شفاعت پہنچے گی۔ “
مسائل
1۔ زمین و آسمانوں کی ہر چیز اللہ تعالیٰ کی تسبیح کرتی ہے۔ 2۔ اللہ تعالیٰ ہر قسم کی حاجت اور نقص سے مبرّا ہے۔
3۔ اللہ تعالیٰ اپنے فیصلے نافذ کرنے پر پوری طرح اختیار رکھتا ہے۔ 4۔ اللہ تعالیٰ کے ہر فیصلے میں حکمت پائی جاتی ہے۔
5۔ اللہ تعالیٰ نے نبی آخر الزمان ﷺ کو اَ ن پڑھ لوگوں میں مبعوث فرمایا۔ 6۔ نبی ﷺ بھی ایک انسان تھے۔
7۔ نبی ﷺ اللہ کی آیات کے ذریعے لوگوں کا تزکیہ کرتے، انہیں قرآن مجید کی تعلیم سے آراستہ کرتے اور انہیں دانائی کی باتیں بتلایا کرتے تھے۔ 8۔ نبی ﷺ کی تشریف آوری سے پہلے لوگ کھلی گمراہی میں مبتلا تھے۔
9۔ نبی ﷺ ان لوگوں کے لیے بھی رسول منتخب کیے گئے جو آپ کے بعد پیدا ہوئے اور ہوں گے۔
تفسیر بالقرآن
نبی (علیہ السلام) کی نبوت کے مرکزی مقاصد :
1۔ نبوت کے منصبی فرائض۔ (البقرۃ : 151) 2۔ آپ ﷺ کو کتاب و حکمت کی تعلیم دینے کے لیے بھیجا گیا۔ (الجمعۃ : 2)
3۔ ابراہیم (علیہ السلام) کی دعاؤں میں نبوت کے فرائض کا تذکرہ۔ (البقرۃ : 129)
4۔ رسول اللہ ﷺ لوگوں کے بوجھ اتارنے اور انہیں غلامی سے نجات دلانے کیلئے تشریف لائے۔ (الاعراف : 157)
5۔ نبوت اللہ تعالیٰ کا مومنوں پر احسان عظیم ہے۔ (آل عمران : 164)
6۔ آپ ﷺ لوگوں کو خوشخبری دینے والے اور ڈرانے والے تھے (الاحزاب : 45)
7۔ آپ ﷺ کو ہدایت کا سورج بنایا گیا۔ (الاحزاب : 46) 8۔ آپ ﷺ رؤف الرحیم تھے۔ (التوبۃ : 128)
9۔ رسول اللہ ﷺ پوری دنیا کے رسول ہیں۔ (الاعراف : 158) 10۔ رسول اللہ ﷺ سب کے رسول ہیں۔ (سباء : 28)
11۔ آپ ﷺ رحمت عالم تھے۔ (الانبیاء : 107) 12۔ آپ ﷺ آخری نبی ہیں۔ (الاحزاب : 40)
Ayah 62:4فہم القرآن
ربط کلام : اَ ن پڑھ اور گمراہ ترین لوگوں میں ایک پاکباز اور اُمّی شخص کو اپنا رسول منتخب کرنا اللہ تعالیٰ کا بہت بڑا فضل ہے۔
اللہ تعالیٰ کا اپنے بندوں پر عظیم ترین فضل ہے کہ اس نے ایک اَن پڑھ اور بدعمل قوم میں ایک ایسی شخصیت کو اپنا رسول منتخب کیا جس کا نبوت سے پہلے بھی اخلاق اور کردار اس قدر شاندار تھا کہ جس کی ہر شخص تعریف کرتا تھا۔ اللہ تعالیٰ کا دوسرا فضل یہ ہے کہ اس نے انسانوں میں ایک ہمہ صفت موصوف انسان کو اپنا رسول منتخب کیا اس لیے کہ وہ لوگوں کو آسان زبان میں اس کا پیغام پہنچائے اور اس پر عمل کرکے دکھلائے تاکہ لوگوں کو اللہ کا حکم سمجھنے اور اس پر عمل کرنے میں کوئی مشکل پیش نہ آئے۔ اللہ تعالیٰ کا اہل مکہ پر تیسرا خاص فضل یہ ہوا کہ اس نے مکہ میں ایک ایسا رسول مبعوث فرمایا جسے اور اس کے خاندان کو مکہ والے اچھی طرح جانتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے چوتھا فضل یہ فرمایا کہ نبی ﷺ کی وجہ سے اہل مکہ بالخصوص قریش کی عزت اور وقار میں بےپناہ اضافہ ہوا لیکن اس کے باوجود ان کے بہت سے لوگ آپ ﷺ پر ایمان نہ لائے۔ خاص طور پر یہودیوں کے لیے یہ بات بڑی ناگوار ہوئی اور ہے کہ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کی بجائے بنی اسماعیل میں نبی کیوں مبعوث کیا ہے۔ کفار اور یہودیوں کے حسد و بغض کی وجہ سے ارشاد ہوا کہ اللہ تعالیٰ کسی شخص یا گروہ کا پابند نہیں کہ وہ ان کی مرضی کے مطابق اپنا فضل نازل کرے یہ اس کا اپنا اختیار اور انتخاب ہے کہ جس پر چاہے اپنا فضل فرمائے کیونکہ وہ بڑا ہی صاحب فضل ہے، یہاں فضل سے پہلی مراد نبوت ہے۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت محمد ﷺ کو منتخب فرمایا اور آپ سب سے آخری نبی اور رسول ہیں، اب نبوت کی صورت میں قیامت تک اللہ تعالیٰ کسی پر اپنا فضل نہیں فرمائے گا۔
مسائل
1۔ اللہ تعالیٰ جس پر چاہتا ہے اپنا فضل فرماتا ہے۔ 2۔ اللہ تعالیٰ عظیم فضل کا مالک ہے۔
تفسیر بالقرآن
اللہ کے فضل کی مختلف صورتیں :
1۔ اللہ تعالیٰ جہان والوں پر فضل کرنے والا ہے۔ (البقرۃ : 243) 2۔ اللہ تعالیٰ مومنوں پر اپنا فضل فرماتا ہے۔ (آل عمران : 152)
3۔ اللہ کا فضل نہ ہو تو آدمی شیطان کے تابع ہوجاتا ہے۔ (النساء : 73) 4۔ اللہ کے فضل کے بغیر انسان خسارہ پاتا ہے۔ (البقرۃ : 64)
5۔ اللہ کے فضل کے بغیر انسان تکلیف سے نہیں بچ جاسکتا۔ (النور : 14) (آل عمران : 73)
Ayah 62:5فہم القرآن
ربط کلام : اس سے پہلی آیت میں یہودیوں کی طرف صرف اشارہ تھا اب کھل کر یہودیوں کا ذکر کیا گیا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ کو اپنے پیغام کے لیے منتخب فرما کر نبی ﷺ اور لوگوں پر عظیم فضل فرمایا ہے۔ چاہیے تو یہ تھا کہ لوگ بالخصوص یہودی آپ ﷺ کی نبوت کو تسلیم کرتے اور نبوت کے کام میں آپ کے دست وبازو بنتے۔ لیکن انہوں نے حسد و بغض کا مظاہرہ کرتے ہوئے سب سے زیادہ آپ کی مخالفت کی اور کرتے ہیں۔ حالانکہ ان کے پاس تورات موجود تھی اور ہے۔ یہودیوں کے تحریف کرنے کے باوجود اس میں بیشمار ایسے دلائل ہیں کہ جن سے نبی آخرالزماں ﷺ کی نبوت کا واضح ثبوت ملتا ہے۔ لیکن یہودیوں نے ان دلائل کو جان بوجھ کر اس طرح فراموش کردیا جیسے انہیں علم ہی نہیں۔ ان کی مجرمانہ غفلت پر تبصرہ کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ جن لوگوں کو تورات کا حامل بنایا گیا تھا انہوں نے اس کی ذمہ اری کا احساس نہ کیا۔ ان کی مثال اس گدھے کی ہے جس نے بھاری کتابیں اٹھارکھی ہوں، اسے کیا معلوم کہ اس پر کیا چیز رکھی ہوئی ہے۔ ان کی مثال تو اس سے بھی بری ہے کیونکہ گدھے کے پاس نہ علم ہے اور نہ عقل۔ گویا کہ وہ معذور ہے لیکن ان کے پاس علم اور عقل ہے اور انہیں تورات کے حوالوں سے معلوم ہے کہ ایک آخری نبی آنے والا ہے جس کی یہ یہ نشانیاں ہوں گی۔ وہ نبی پہلی کتابوں اور انبیاء کی تصدیق کرے گا۔ جن لوگوں نے سب کچھ جاننے کے باوجود آپ ﷺ کی نبوت اور تورات کی بیان کردہ نشانیوں کی تکذیب کی یہ لوگ ظالم ہیں اور اللہ تعالیٰ ظالموں کو ہدایت نہیں دیا کرتا۔
تورات کا اصل نسخہ عبرانی زبان میں تھا جسے عام طور پر ہیکل میں رکھا جاتا تھا۔ ہیکل کی تباہی کے بعد اس کے اصل نسخے کا آج تک پتہ نہیں لگ سکا ہے۔ یہودیوں کو توراۃ کا حامل بنایا گیا مگر انہوں نے اس کا بوجھ نہ اٹھایا۔ یہ گدھے سے بدتر لوگ ہیں۔
آج کل کی تورات کسی ایک کتاب کا نام نہیں ہے بلکہ اس میں مجموعی طور پر 39 کتابیں شامل ہیں جنہیں تین حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے پہلے حصے میں پانچ کتابیں ( یعنی اصل تورات) دوسرے حصے میں انبیاء کے صحیفے اور تیسرے حصے میں مختلف کتابیں اور اشعار شامل ہیں۔
تورات کی معروف کتابیں پانچ ہیں :
1 ۔ پیدائش (GENESIS) 2 ۔ خروج ( EXODUS) 3 ۔ احبار (LEVITICUS)
4 گنتی (NUMBERS) 5 ۔ استثناء (DEUTERONOMY)
(مآخوذ از یہودی مذہب مہد سے لحد تک : مصنف رضی الدین سید)
مسائل
1۔ جو لوگ کتاب اللہ کا علم رکھنے کے باوجود اس پر عمل نہیں کرتے وہ گدھوں کی مانند ہیں۔
2۔ جو لوگ اللہ کی آیات کی تکذیب کرتے ہیں وہ گدھوں سے بھی بدتر ہیں۔
3۔ اللہ تعالیٰ کی آیات کی تکذیب کرنے والے ظالم ہیں۔ اللہ تعالیٰ ظالموں کو ہدایت نہیں دیتا۔
تفسیر بالقرآن
اللہ تعالیٰ کن لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا :
1۔ جسے آپ ﷺ چاہیں ہدایت نہیں دے سکتے۔ ہدایت اسی کو ملتی ہے جسے اللہ ہدایت دیتا ہے۔ (القصص : 56)
2۔ جسے اللہ ہدایت دے وہ ہدایت یافتہ ہے اور جس کو وہ گمراہ کر دے اس کا کوئی دوست اور راہ بتانے والا نہیں پاؤ گے۔ (الکہف : 7 1)
3۔ جس کو اللہ ہدایت دے وہی ہدایت پر ہے۔ جس کو وہ گمراہ کردے وہ نقصان اٹھائیں گے۔ (الاعراف : 178)
4۔ اللہ تعالیٰ جس کو چاہتا ہے گمراہ کرتا ہے اور جسے چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے۔ (ابراہیم : 4)
5۔ اللہ تعالیٰ ظالم لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا۔ (البقرۃ : 258) 6۔ اللہ تعالیٰ کافروں کو ہدایت نہیں دیتا۔ (البقرۃ : 264)
7۔ اللہ تعالیٰ فاسق لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا۔ (المائدۃ : 108) 8۔ اللہ تعالیٰ جھوٹے لوگوں کو ہدایت نصیب نہیں فرماتا۔ (الزمر : 3)
9۔ آخرت پر دنیا کو ترجیح دینے والوں کو ہدایت نہیں ملتی۔ (النحل : 107)
10۔ گمراہی کا راستہ اختیار کرنے والوں کو ہدایت نہیں ملتی۔ (النحل : 37)
Ayahs 62:6–8فہم القرآن
ربط کلام : جن لوگوں نے اللہ کی آیات کی تکذیب کی اور ظالم ہوئے ان میں سر فہرست یہودی ہیں۔ اس لیے انہیں ایک بار پھر براہ راست مخاطب کیا گیا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے یہودیوں کو یہودی کہہ کر مخاطب نہیں کیا بلکہ انہیں ” ھَادُوْ “ کے الفاظ سے مخاطب کیا ہے جس کا معنٰی ہے کہ اے لوگو ! جو یہودی بن چکے ہو اگر تمہیں اس بات کا خیال ہے کہ تم اللہ کے چہیتے ہو تو پھر موت کی تمنا کرو بشرطیکہ تم اپنے دعوے میں سچے ہو۔ لیکن یہ لوگ موت کی تمنا ہرگز نہیں کریں گے کیونکہ یہ اپنی کرتوتوں کی وجہ سے اپنے مستقبل کے بارے میں خوفزدہ ہیں، یہ اپنے مظالم کو بھول سکتے ہیں لیکن اللہ تعالیٰ ظالموں کے ایک ایک ظلم کو اچھی طرح جانتا ہے۔ اے رسول ﷺ ان سے فرمائیں کہ جس موت سے تم بھاگتے ہو وہ تمہیں آکر رہے گی پھر تم اس ذات کے سامنے پیش کیے جاؤ گے جو پوشیدہ اور ظاہر کو جاننے والا ہے۔ وہ تمہیں بتائے گا کہ تم دنیا میں کیا کچھ کرتے رہے ہو۔ یہودیوں کا دعویٰ ہے کہ ہم اللہ کے بیٹے اور اس کے چہیتے ہیں۔ (المائدۃ : 18) اسی بنا پر یہودی یہ کہتے ہیں کہ ہم چند دن کے لیے جہنم میں داخل کیے جائیں گے۔ (البقرۃ : 80) یہاں تک موت کی تمنا کرنے کا مسئلہ ہے نہ کوئی موت کی تمنا کرتا ہے اور نہ کسی کو کرنی چاہیے لیکن یہودیوں کو یہ بات اس لیے کہی گئی ہے کہ وہ اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کے چہیتے اور جنت کے مالک سمجھتے ہیں۔ جس شخص کو یہ یقین ہے کہ وہ اپنے رب کا چہیتا اور جنت اس کی اپنی ہے تو اسے موت سے گھبرانے کی بجائے اپنے مشن کے لیے تن من دھن کی بازی لگا دینی چاہیے۔ لیکن یہودی دنیا کی خاطر نہ صرف اپنے دین کو فروخت کرتے ہیں بلکہ اپنی عزت کا سودا کرنے سے بھی باز نہیں آتے، دنیا کی حرص کی وجہ سے ان کا اللہ اور آخرت پر حقیقی ایمان نہیں جس وجہ سے وہ سب سے زیادہ موت سے ڈرتے ہیں حالانکہ موت سے بھاگنے والا اس سے بچ نہیں سکتا اور نہ ہی وہ اپنے اعمال کو اللہ تعالیٰ سے چھپا سکتا ہے۔ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ ہر قسم کے غائب اور ظاہر کو جانتا ہے، وہ قیامت کے دن لوگوں کو بتلائے گا کہ جو وہ دنیا میں عمل کرتے رہے۔
(اَلَّذِیْنَ قَالُوْا لِاِخْوَانِہِمْ وَ قَعَدُوْا لَوْ اَطَاعُوْنَا مَا قُتِلُوْا قُلْ فَادْرَءُ وْا عَنْ اَنْفُسِکُمُ الْمَوْتَ اِنْ کُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ ) (آل عمران : 168)
” یہ وہ لوگ ہیں جو خود بھی بیٹھے رہے اور اپنے بھائیوں کے بارے میں کہا کہ اگر وہ ہماری بات مان لیتے تو قتل نہ کئے جاتے۔ فرما دیجئے اگر تم سچے ہو تو اپنے آپ سے موت ہٹا کر دکھاؤ۔ “
(اَیْنَ مَا تَکُوْنُوْا یُدْرِکْکُّمُ الْمَوْتُ وَ لَوْ کُنْتُمْ فِیْ بُرُوْجٍ مُّشَیَّدَۃٍ ۔۔ ) (النساء : 78)
” تم جہاں کہیں بھی ہو موت تمہیں پالے گی۔ چاہے تم مضبوط قلعوں میں بند ہوجاؤ۔ “
(عَنْ عَاءِشَۃَ أُمِّ الْمُؤْمِنِینَ أَنَّہَا قَالَتْ لَمَّا قَدِمَ رَسُول اللَّہِ ﷺ الْمَدِینَۃَ وُعِکَ أَبُو بَکْرٍ وَ بلاَل ؓ قَالَت فَدَخَلْتُ عَلَیْہِمَا فَقُلْتُ یَا أَبَتِ کَیْفَ تَجِدُکَ وَیَا بلاَلُ کَیْفَ تَجِدُکَ قَالَتْ فَکَانَ أَبُو بَکْرٍ إِذَا أَخَذَتْہُ الْحُمَّی یَقُولُ کُلُّ امْرِءٍ مُصَبَّحٌ فِی أَہْلِہِ وَالْمَوْتُ أَدْنَی مِنْ شِرَاکِ نَعْلِہِ ) (رواہ البخاری : باب مَا جَاءَ فِی وَبَاءِ الْمَدِینَۃِ )
” ام المؤمنین حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ وہ فرماتی ہیں کہ جب نبی اکرم ﷺ مدینہ آئے تو حضرت ابوبکر اور بلال ؓ کو شدید بخار ہوگیا حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ میں ان کے ہاں گئی اور ان کی تیماداری کی۔ ابوبکر ؓ نے فرمایا کہ ہر انسان اپنے گھر میں صبح کرتا ہے اور موت جوتے کے تسمے سے بھی زیادہ قریب ہے۔ “
(عَنْ عُبَادَۃَ بْنِ الصَّامِتِ ؓ عَنِ النَّبِیِّ ﷺ قَالَ مَنْ أَحَبَّ لِقَاء اللّٰہِ أَحَبَّ اللّٰہُ لِقَاءَ ہٗ وَمَنْ کَرِہَ لِقَاء اللّٰہِ کَرِہَ اللّٰہُ لِقَاءَ ہٗ قَالَتْ عَاءِشَۃُ أَوْ بَعْضُ أَزْوَاجِہٖ إِنَّا لَنَکْرَہُ الْمَوْتَ قَالَ لَیْسَ ذَاکِ وَلٰکِنَّ الْمُؤْمِنَ إِذَا حَضَرَہُ الْمَوْتُ بُشِّرَ بِرِضْوَان اللّٰہِ وَکَرَامَتِہِ فَلَیْسَ شَیْءٌ أَحَبَّ إِلَیْہِ مِمَّا أَمَامَہٗ فَأَحَبَّ لِقَاء اللّٰہِ وَأَحَبَّ اللّٰہُ لِقَاءَ ہٗ وَإِنَّ الْکَافِرَ إِذَا حُضِرَ بُشِّرَ بِعَذَاب اللّٰہِ وَعُقُوبَتِہٖ فَلَیْسَ شَیْءٌ أَکْرَہَ إِلَیْہِ مِمَّا أَمَامَہٗ کَرِہَ لِقَاء اللّٰہِ وَکَرِہَ اللّٰہُ لِقَاءَ ہٗ )
(رواہ البخاری : کتاب الرقاق، باب، من أحب لقاء اللّٰہ أحَب اللّٰہ لقاء ہ)
” حضرت عبادہ بن صامت ؓ نبی کریم ﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا : جو اللہ کی ملاقات کو پسند کرتا ہے اللہ اس کی ملاقات کو پسند کرتا ہے اور جو اللہ کی ملاقات کو ناپسند کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کی ملاقات کو ناپسند کرتا ہے۔ حضرت عائشہ ؓ یا آپ ﷺ کی بیویوں میں سے کسی ایک نے کہا کہ ہم تو موت کو ناپسند کرتے ہیں۔ آپ نے فرمایا بات یہ نہیں بلکہ بات یہ ہے کہ جب مومن کی موت کا وقت آتا ہے تو اس کو اللہ کی رضامندی اور انعام و اکرام کی بشارت دی جاتی ہے۔ اس بشارت کی وجہ سے موت اسے تمام چیزوں سے زیادہ عزیز ہوتی ہے اس وجہ سے وہ اللہ کی ملاقات کو پسند کرتا ہے اور اللہ اس کی ملاقات کو پسند کرتا ہے۔ جب کافر کی موت کا وقت آتا ہے تو اسے اللہ کے عذاب کی وعید سنائی جاتی ہے۔ یہ وعید اسے اپنے گردو پیش کی تمام چیزوں سے ناپسند ہوتی ہے اسی وجہ سے وہ اللہ کی ملاقات کو ناپسند کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ اس کی ملاقات کو ناپسند کرتا ہے۔ “
مسائل
1۔ یہودیوں کا دعویٰ جھوٹا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے چہیتے ہیں۔ اپنے دعوے میں جھوٹے ہونے کی وجہ سے یہودی تمام لوگوں کی نسبت موت سے زیادہ ڈرتے ہیں۔
2۔ کوئی موت سے بھاگے یا نہ بھا گے موت ہر صورت اسے آلے گی۔
3۔ اللہ تعالیٰ ہر قسم کے غائب اور ظاہر کو جانتا ہے وہ قیامت کے دن لوگوں کو بتلائے گا جو وہ دنیا میں عمل کیا کرتے تھے۔
تفسیر بالقرآن
موت ایک حقیقت ہے جس سے کوئی بچ نہیں سکتا :
1۔ ہر شے فنا ہوجائے گی۔ (الرحمن : 26، القصص : 88) 2۔ قلعہ بند ہونے کے باوجود موت نہیں چھوڑتی۔ (النساء : 78)
3۔ موت کی جگہ اور وقت مقرر ہے۔ (الاعراف : 34) 4۔ پہلے انبیاء فوت ہوئے۔ (آل عمران : 144)
5۔ رسول اللہ ﷺ بھی موت سے ہمکنار ہوں گے (اور ہوئے) ۔ (الزمر : 30)
6۔ موت کا وقت مقرر ہے۔ (آل عمران : 145) 7۔ موت کی جگہ متعین ہے۔ (آل عمران : 154)
8۔ موت کو کوئی ٹال نہیں سکتا۔ (آل عمران : 168) 9۔ سب کو موت آنی ہے۔ (الانبیاء : 35)
10۔ ” اللہ “ نے کسی بشر کو ہمیشہ رہنے کے لیے پیدا نہیں کیا۔ ( الانبیاء : 34)
Ayah 62:9فہم القرآن
ربط کلام : موت کی سختیوں اور آخرت کے عذاب سے بچنے کے لیے ایمانداروں کو پانجگانہ نماز اور جمعہ کا خیال رکھنے کی تاکید کی گئی ہے۔
اے ایمان والو ! جب تمہیں جمعہ کے دن نماز کے لیے بلایا جائے تو اللہ کے ذکر کی طرف دوڑتے ہوئے آؤ اور خریدو فروخت بند کر دو ۔ اگر تم اس کی حقیقت سمجھتے ہو، تو ایسا کرنا تمہارے لیے بہت ہی بہتر ہے۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے تین ارشاد فرمائے ہیں۔
1۔ نماز کے لیے اذان دینا :
یہ فرمان بظاہر جمعہ کی نماز کے لیے ہے لیکن اس میں یہ تخصیص موجود نہیں کہ اذان صرف جمعہ کی نماز کے لیے ہی ہونی چاہیے کیونکہ نبی ﷺ نے ہر نماز کے لیے اذان اور اقامت کہنے کا حکم دیا ہے۔ جہاں تک اذان کے الفاظ کا تعلق ہے اس کا ثبوت صرف احادیث سے ملتا ہے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ حدیث رسول کے بغیر قرآن مجید کو کما حقہ سمجھنا مشکل ہے۔ اس لیے جو لوگ حدیث کا انکار کرتے ہیں وہ بھی نماز کے لیے اذان دینے پر مجبور ہیں۔
2۔ اس آیت میں نماز جمعہ کا حکم دیا گیا ہے جس کے لیے ہر قسم کا کاروبار چھوڑ کر حاضر ہونا فرض ہے۔ نماز جمعہ کی رکعات کے بارے میں بھی احادیث ہی سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کی رکعات کتنی ہونی چاہیے اور خطبہ جمعہ کا وقت اور انداز کیا ہونا چاہیے۔
3۔ یہاں نماز جمعہ کو اللہ کے ذکر کے ساتھ تعبیر کیا گیا ہے۔ العنکبوت آیت 45 میں نماز کے فائدے ذکر کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ یقینا نماز بےحیائی اور برے کاموں سے روکتی ہے اور یہ اللہ کا بہت بڑا ذکر ہے۔
ذکر کی جامع تعریف یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے احکام کی بجا آوری کے ساتھ اس کی ذات اور صفات پر کامل یقین رکھتے ہوئے اسے دل، زبان اور عمل کے ساتھ یاد رکھا جائے۔ تمام عبادات ذکر ہی کی مختلف شکلیں ہیں۔ لیکن ان کی ادائیگی کے بعد بھی حکم دیا گیا ہے کہ اپنے رب کو کثرت کے ساتھ یاد رکھاکرو۔
(عَنْ سَلْمَانَ الْفَارِسِيِّ ؓ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ مَنِ اغْتَسَلَ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ وَتَطَھَّرَ بِمَا اسْتَطَاعَ مِنْ طُھْرٍ ثُمَّ ادَّھَنَ أَوْ مَسَّ مِنْ طِیْبٍ ثُمَّ رَاحَ فَلَمْ یُفَرِّقْ بَیْنَ اثْنَیْنِ فَصَلّٰی مَاکُتِبَ لَہٗ ثُمَّ إِذَاخَرَجَ الْإِمَامُ أَنْصَتَ غُفِرَ لَہٗ مَابَیْنَہٗ وَبَیْنَ الْجُمُعَۃِ الْأُخْرٰی) (رواہ البخاری : کتاب الجمعۃ، باب لایفرق بین اثنین یوم الجمعۃ)
” حضرت سلمان فارسی ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس نے جمعہ کے دن غسل کیا اور حسب توفیق صفائی کی پھر اس نے تیل یا خوشبو لگائی پھر وہ مسجد آیا اس نے دو آدمیوں کے درمیان جدائی نہ ڈالی اور جو اس کے مقدر میں نماز ہے اسے ادا کیا پھر امام کے خطبہ کے دوران خاموش رہا۔ اس کے ایک جمعہ سے لے کر دوسرے جمعہ تک کے گناہ معاف کردیے جائیں گے۔ “
(عَنْ أَبِي الْجَعْدِ الضَّمْرِيِّوَکَانَتْ لَہٗ صُحْبَۃٌ عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ مَنْ تَرَکَ ثَلَاثَ جُمَعٍ تَھَاوُنًا بِھَا طَبَعَ اللّٰہُ عَلٰی قَلْبِہٖ ) (رواہ النسائی : باب التشدید في التخلف عن الجمعۃ)
” حضرت ابو الجعد الضمری کو نبی کریم ﷺ کی رفاقت حاصل رہی وہ نبی ﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا : جو آدمی تین جمعے سستی کی وجہ سے چھوڑ دیتا ہے اللہ رب العزت اس کے دل پر مہر لگا دیتا ہے۔ “
(عَنْ أَبِيْ ھُرَیْرَۃَ أَنَّہٗ سَمِعَ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ یَقُوْلُ نَحْنُ الْآخِرُوْنَ السَّابِقُوْنَ یَوْمَ القِیَامَۃِ بَیْدَ أَنَّھُمْ أُوْتُوا الْکِتَابَ مِنْ قَبْلِنَا ثُمَّ ھٰذَا یَوْمُھُمُ الَّذِيْ فُرِضَ عَلَیْھِمْ فَاخْتَلَفُوْا فِیْہِ فَھَدَانَا اللّٰہُ فَالنَّاسُ لَنَا فِیْہِ تَبَعٌ الْیَھُوْدُ غَدًا وَالنَّصَارٰی بَعْدَ غَدٍ ) (رواہ البخاری : باب فرض الجمعۃ)
” حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا کہ ہم آخر میں آنے کے باوجود قیامت کے دن سب سے پہلے ہوں گے بیشک یہود و نصاریٰ ہم سے پہلے کتاب دیئے گئے ہیں ان پر ہفتہ اور اتوار کے دن کی عبادت فرض کی گئی انہوں نے اس میں اختلاف کیا۔ اللہ تعالیٰ نے ہمیں ہدایت سے نوازا یہودی اور عیسائی ایام کے معاملہ میں ہمارے تابع ہیں یعنی شمار کرنے میں جمعہ کا دن پہلے ہفتہ اور اتوار کے دن بعد میں آتے ہیں۔ یہود ہفتہ اور عیسائی اتوار کے دن عبادت کرتے ہیں اور ہمارے لیے جمعہ افضل قرار دیا گیا ہے۔ “
(عَنْ عَاءِشَۃَ ؓ عَنِ النَّبِیِ ﷺ قَالَ إِنَّمَا جُعِلَ رَمْیُ الْجِمَارِ وَالسَّعْیُ بَیْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَۃِ لإِقَامَۃِ ذِکْرِ اللَّہِ ) (رواہ الترمذی : باب مَا جَاءَ کَیْفَ تُرْمَی الْجِمَارُ )
” حضرت عائشہ ؓ نبی ﷺ سے بیان کرتی ہیں آپ نے فرمایا رمی جمار اور صفامروہ کی سعی کو اللہ تعالیٰ کے ذکر کے لیے مقرر کیا گیا۔ “
(عَنْ اَبِیْ ھُرَےْرَۃَ ؓ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ خَےْرُ ےَوْمٍ طَلَعَتْ عَلَےْہِ الشَّمْسُ ےَوْمُ الْجُمُعَۃِ فِےْہِ خُلِقَ اٰدَمُ وَفِےْہِ اُدْخِلَ الْجَنَّۃَ وَفِےْہِ اُخْرِجَ مِنْھَا وَلَا تَقُوْمُ السَّاعَۃُ اِلَّا فِیْ ےَوْمِ الْجُمُعَۃِ ) (رواہ مسلم : باب فَضْلِ یَوْمِ الْجُمُعَۃِ )
” حضرت ابوہریرۃ ؓ آپ ﷺ کا فرمان بیان کرتے ہیں کہ ایام میں سب سے بہتر دن جمعہ کا دن ہے اس دن آدم (علیہ السلام) کو پیدا کیا گیا اسی دن ان کو جنت میں داخلہ ملا اور جمعہ کو ہی ان کا جنت سے اخراج ہوا، اور اسی دن قیامت برپا ہوگی۔ “
(عَنْ أَبِيْ ھُرَیْرَۃَ ؓ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ قَال الصَّلَوَاۃُ الْخَمْسُ وَالْجُمْعَۃُ إِلَی الْجُمْعَۃِ کَفَّارَۃٌ لِّمَا بَیْنَھُنَّ مَالَمْ تُغْشَ الْکَبَاءِرُ ) (رواہ مسلم : باب الصلواۃ الخمس والجمعۃ إلی الجمعۃ)
” حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب کبیرہ گناہ کا ارتکاب نہ کیا جائے تو پانچ نمازیں اور پہلا جمعہ دوسرے جمعہ تک گناہوں کا کفارہ بن جاتا ہے۔ “
(عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ؓ قَالَ قَالَ رَسُول اللّٰہِ ﷺ مَنْ تَوَضَّأَ فَأَحْسَنَ الْوُضُوءَ ، ثُمَّ أَتَی الْجُمُعَۃَ ، فَاسْتَمَعَ وَأَنْصَتَ ، غُفِرَ لَہُ مَا بَیْنَہُ وَبَیْنَ الْجُمُعَۃِ ، وَزِیَادَۃُ ثَلَاثَۃِ أَیَّامٍ ، وَمَنْ مَسَّ الْحَصَی فَقَدْ لَغَا) (صحیح مسلم، بَابُ فَضْلِ مَنِ اسْتَمَعَ وَأَنْصَتَ فِی الْخُطْبَۃِ )
حضرت ابوہریرہ ؓ روایت کرتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا جس آدمی نے اچھے طریقہ سے وضو کیا پھر جمعہ پڑھنے آیا غور سے جمعہ سنا اور خاموش رہا اس کے اس جمعہ اور گزرے ہوئے جمعہ کے درمیان جو بھی گناہ ہوتے ہیں وہ معاف کردیے جاتے ہیں اور تین دن زیادہ کے بھی، آپ ﷺ نے مزید فرمایا کہ جس شخص نے کنکری کو چھوا اس نے فضول کام کیا۔
مسائل
1۔ جمعہ اور باقی نمازوں کے لیے اذان دینا لازم ہے۔
2۔ جمعہ کی اذان ہو تو سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر جمعہ کے لیے حاضر ہونا چاہیے۔ 3۔ نماز اور جمعہ اللہ کا ذکر ہے۔
تفسیر بالقرآن
نماز کی فرضیت اور فضیلت :
1۔ رسول اللہ ﷺ کو نماز کا حکم۔ (العنکبوت : 45) 2۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور نماز۔ (ابراہیم : 37)
3۔ حضرت موسیٰ ﷺ کو نماز کا حکم۔ (یونس : 87) 4۔ حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) کو نماز کا حکم۔ (مریم : 31)
5۔ بنی اسرائیل کو نماز کا حکم۔ (البقرۃ : 83) 6۔ تمام امتوں کو اقامت صلوٰۃ کا حکم۔ (البینہ : 5) (الحج : 41)
Ayahs 62:10–11فہم القرآن
ربط کلام : اس سے پہلی آیت میں نماز جمعہ کے لیے کاروبار چھوڑنے کا حکم دیا گیا ہے۔ اب جمعہ کے بعد کاروبار کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔
حکم ہوا کہ جب تم نماز مکمل کرلو تو اللہ کا فضل تلاش کرنے کے لیے زمین میں پھیل جاؤ اور اللہ کو کثرت سے یاد کرو تاکہ تم کامیاب ہوجاؤ۔ جب انہوں نے تجارت اور کھیل تماشا دیکھا تو اس کی طرف دوڑ پڑے اور آپ ﷺ کو کھڑا چھوڑ دیا۔ ان سے فرمائیں کہ جو کچھ اللہ کے پاس ہے وہ تمہارے کھیل، تماشے اور تجارت سے بہت بہتر ہے۔ یاد رکھو ! اللہ تعالیٰ بہتررزق دینے والا ہے۔ اس آیت میں ایک خاص واقعہ کی طرف اشارہ کیا گیا ہے جو اس طرح ہے کہ مدینہ کی منڈی میں دحیہ کلبی کا تجارتی قافلہ عین اس وقت پہنچا جب آپ ﷺ مسجد نبوی میں خطبہ ارشاد فرما رہے تھے۔ اس زمانے میں کوئی قافلہ مال لے کر منڈی میں آتا تو اطلاع کے لیے ڈھول یادف بجایا جاتا تھا۔ مدینہ میں اناج کی کمی پیدا ہوچکی تھی اس صورت حال میں تجارتی قافلے کے آنے پر جب ڈھول بجایا گیا تو جمعہ میں حاضر ہونے والے چند صحابہ کے سوا باقی سب ایک ایک کرکے مسجد سے نکلے اور منڈی میں پہنچ گئے۔ اللہ تعالیٰ نے اس حرکت پر گرفت کرتے ہوئے یہ فرمان نازل فرمایا کہ جب انہوں نے تجارت اور کھیل تماشا ہوتے ہوئے دیکھا تو آپ ﷺ کو چھوڑ کر اس کی طرف چلے گئے۔ انہیں فرمائیں کہ ان کے لیے ایسا کرنا جائز نہیں تھا کیونکہ رزق اللہ کے اختیار میں ہے اور وہ بہترین رزق دینے والا ہے۔ لہٰذا جمعہ اور نماز کا وقت ہو تو لوگوں کو ہر قسم کی خریدو فروخت چھوڑ کر جمعہ اور نماز کی طرف آنا چاہیے۔ جمعہ اور نماز سے فارغ ہونے کے بعد ” اللہ “ کا فضل تلاش کرنے کے لیے زمین پر پھیل جاؤ اور اس بات پر ایمان رکھو کہ رزق دینے والا صرف ” اللہ “ ہے جو بہترین رزق دینے والا ہے، یاد رکھو کہ اس نے رزق کا ایسا بندوبست کیا ہے کہ رزق کھانے والا جہاں بھی ہو اس کا رزق وہاں پہنچا دیتا ہے، کوئی اس کے نظام میں دخل اندازی نہیں کرسکتا۔
(وَ مَا مِنْ دَآبَّۃٍ فِی الْاَرْضِ اِلَّا عَلَی اللّٰہِ رِزْقُہَا وَ یَعْلَمُ مُسْتَقَرَّہَا وَ مَسْتَوْدَعَہَا کُلٌّ فِیْ کِتٰبٍ مُّبِیْنٍ ) (ہود : 6)
” زمین میں چلنے والا کوئی جاندار نہیں مگر اس کا رزق اللہ ہی کے ذمہ ہے اور وہ اس کی قرار گاہ اور اس کے دفن کیے جانے کی جگہ کو جانتا ہے سب کچھ ایک کھلی کتاب میں درج ہے۔ “
(اِِنَّ اللّٰہَ ہُوَ الرَّزَّاقُ ذو الْقُوَّۃِ الْمَتِیْنُ ) (الذّاریات : 58)
” یقیناً اللہ ہی رزق دینے والا، بڑی قوت والا اور زبردست ہے۔ “
مسائل
1۔ جمعہ اور نماز مکمل ہونے کے بعد مسلمانوں کو اللہ کا فضل تلاش کرنا چاہیے۔
2۔ مسلمانوں کو کثرت کے ساتھ اللہ کا ذکر کرنا چاہیے۔
3۔ اللہ کا ذکر کرنے والے ہی کامیاب ہوں گے۔ 4۔ اللہ تعالیٰ بہترین رزق دینے والا ہے۔
تفسیر بالقرآن
رزق صرف ” اللہ “ کے اختیار میں ہے :
1۔ اللہ تعالیٰ ہی رازق ہے۔ (الذاریات : 58) 2۔ اللہ ہی رزق فراخ کرتا اور کم کرتا ہے۔ (سبا : 39)
3۔ اللہ تعالیٰ لوگوں سے رزق نہیں مانگتا بلکہ وہ لوگوں کو رزق دیتا ہے۔ (طٰہٰ : 132)
4۔ اللہ جسے چاہتا ہے بغیر حساب کے رزق دیتا ہے۔ (البقرۃ : 212)
5۔ اللہ تعالیٰ مہاجروں کو ضرور بہتر رزق دے گا۔ (الحج : 58)
6۔ اللہ تعالیٰ چوپاؤں اور تمام انسانوں کو رزق دیتا ہے۔ (العنکبوت : 60)
7۔ اپنی اولاد کو مفلسی کے ڈر سے قتل نہ کرو کیونکہ اللہ تمہیں اور انھیں رزق دینے والا ہے۔ (الانعام : 151)