Ayah 61:1فہم القرآن
ربط سورت : سورة الممتحنہ میں مسلمانوں کو کفار اور مشرکین کے ساتھ رشتہ داری کرنے اور قلبی محبت رکھنے سے منع کیا گیا۔ سورة الصف کی ابتدا میں یہ اشارہ پایا جاتا ہے کہ اگر کفار اور مشرکین کی طرح ایماندار لوگ بھی اللہ کی ذات اور اس کے فرمان کا انکار کردیں تو اللہ تعالیٰ کو اس بات کی کوئی پرواہ نہیں کیونکہ زمین و آسمانوں کی ہر چیز اس کے تابع اور اس کی حمد وثناء بیان کرتی ہے۔
یہ سورت مسبّحات میں سے تیسری سورت ہے۔ اس کا آغاز بھی اسی پرجلال لفظ سے کیا گیا ہے جس سے سورة الحدید اور سورة الحشر کا آغاز ہوا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے کہ جو چیز آسمانوں اور زمین میں ہے وہ اللہ ذوالجلال کی تسبیح کرتی ہے اور زبان حال اور قال سے اس کا اعتراف کرتی ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر اعتبار سے ہر چیز پر غلبہ رکھنے والا ہے۔ اس کی تخلیق، حکم اور کام میں حکمت پائی جاتی ہے۔ وہ ” اَلْعَزِیْرُ “ بھی اور ” اَلْحَکِیْمُ “ بھی۔
(عَنْ اَبِیْ مَالِکِ الْاَشْعَرِیِّ ؓ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ اَلطُّھُوْرُ شَطْرُ الْاِےْمَانِ وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ تَمْلَاُ الْمِےْزَانَ وَسُبْحَان اللّٰہِ وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ تَمْلَاٰنِ اَوْ تَمْلَأُ مَا بَےْنَ السَّمٰوٰتِ وَالاْرَضِ ) (رواہ مسلم : باب فَضْلِ الْوُضُوءِ )
حضرت ابومالک اشعری ؓ رسول اکرم ﷺ کا فرمان ذکر کرتے ہیں کہ پاکیزگی ایمان کا حصہ ہے، ” اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ “ کے الفاظ میزان کو بھر دیتے ہیں۔ ” َسُبْحَان اللّٰہِ “ اور ” اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ “ دونوں کلمے زمین و آسمان کو بھر دیتے ہیں۔
” اللہ کی پاکی اس کی تعریف کے ساتھ اس کی مخلوق کی تعداد، اس کے نفس کی رضامندی، اس کے عرش کے وزن اور اس کے کلمات کی مقدار کے برابر۔ “ (رواہ مسلم : باب التسبیح أول النھار وعند النوم)
Ayahs 61:2–4فہم القرآن
ربط کلام : اللہ کی تسبیح کے بیان اور سورت کے تمہیدی کلمات کے بعد پہلا حکم۔
اس سورت کا مرکزی مضمون قتال فی سبیل اللہ ہے اسی لیے پہلا حکم یہ ہے کہ اے ایمان والو ! جس بات پر تمہارا عمل نہیں وہ بات تمہیں نہیں کہنی چاہیے۔ اللہ کے نزدیک یہ بڑا جرم ہے کہ تم وہ بات کہو جس پر تمہارا عمل نہیں۔ مفسرین نے اس آیت کے دو مفہوم بیان فرمائے ہیں۔
1۔ جب قتال فی سبیل اللہ کا حکم نازل نہیں ہوا تھا تو کچھ ایماندار لوگ نبی ﷺ سے قتال فی سبیل اللہ کی اجازت مانگتے تھے اور دعویٰ کرتے تھے کہ اگر ہمیں کفار کے خلاف قتال کی اجازت دی جائے تو ہم جان توڑ کر لڑیں گے۔ لیکن جونہی قتال فی سبیل اللہ کا حکم آیا تو دعویٰ کرنے والے قتال فی سبیل اللہ سے جی چرانے اور جان بچانے لگے۔ اس پر یہ حکم نازل ہوا کہ وہ دعویٰ اور بات نہ کیا کرو جس پر تم عمل نہیں کرتے۔
2۔ اس آیت کا دوسرا مفہوم یہ بھی لیا گیا ہے کہ جس بات پر آدمی کا اپنا عمل نہ ہو اسے اس بات کی دعوت دوسروں کو نہیں دینی چاہیے۔ کیونکہ اس سے ایک طرف دعوت دینے والے کا دوغلا پن ظاہر ہوتا ہے اور دوسری طرف اس کے دوغلے پن کی وجہ سے اسلام کی سبکی کا پہلو نکلتا ہے اللہ تعالیٰ کے نزدیک یہ بڑا جرم ہے۔
یہ بات عرض ہوچکی ہے کہ جب قتال فی سبیل اللہ کا حکم نازل نہیں ہوا تھا تو اس وقت بعض مسلمان قتال فی سبیل اللہ کا مطالبہ کرتے تھے۔ جب قتال فی سبیل اللہ فرض ہوا تو پھر اس سے جی چرانے لگے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو پسند کرتا ہے جو اس کی راہ میں منظم اور سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن کر لڑتے ہیں۔ اس مختصر فرمان میں تین باتیں بیان ہوئی ہیں۔
1۔ قتال کے بارے میں ” فِیْ سَبِیْلِہٖ “ کے الفاظ استعمال فرمائے ہیں گویا کہ سب سے پہلا حکم یہ ہے کہ قتال کرنے میں مسلمانوں کی ذاتی اغراض کی بجائے اعلائے کلمۃ اللہ کا مقصد ہونا چاہیے۔
(عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ؓ قَالَ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ یَقُوْلُ مَنْ خَرَجَ مِنَ الطَّاعَۃِ وَفَارَقَ الْجَمَاعَۃَ فَمَاتَ مَاتَ مِیْتَۃً جَاھِلِیَّۃً وَمَنْ قَاتَل تَحْتَ رَایَۃٍ عِمِّیَّۃٍ یَغْضَبُ لِعَصَبِیَّۃٍ اَوْیَدْعُوْ لِعَصَبِیَّۃٍ اَوْ یَنْصُرُ عَصَبِیَّۃً فَقُتِلَ فَقِتْلَۃٌ جَاھِلِیَّۃٌ وَمَنْ خَرَجَ عَلٰی اُمَّتِیْ بِسَیْفِہٖ یَضْرِبُ بَرَّھَا وَ فَاجِرَھَا وَلَا یَتَحَاشَ مِنْ مُؤْمِنِھَا وَلَا یَفِیْ لِذِیْ عَھْدٍ عَھْدَہٗ فَلَیْسَ مِنِّی وَلَسْتُ مِنْہُ )
(رواہ مسلم : باب الأَمْرِ بِلُزُومِ الْجَمَاعَۃِ عِنْدَ ظُہُورِ الْفِتَنِ وَتَحْذِیر الدُّعَاۃِ إِلَی الْکُفْرِ )
” حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا جو اطاعت اور جماعت سے علیحدہ ہوا۔ اور اسی حالت میں فوت ہوا تو وہ جاہلیت کی موت مرا اور جو شخص نامعلوم جھنڈے کے نیچے لڑتا رہا عصبیت کی خاطر غیرت میں آیا اور عصبیت کی بنیاد پر دعوت دیتا رہا یا عصبیت کی وجہ سے مدد کرتا ہوا قتل ہوا اس کی موت جہالت پر ہوگی۔ جو شخص میری امت کے خلاف تلوار سونت کر نیک و بد سب کو تہ تیغ کرتا چلا گیا اور کسی مومن کی اس نے پروانہ کی اور نہ ہی کسی عہد والے کے عہد کا پاس کیا وہ مجھ سے نہیں اور نہ ہی میرا کوئی اس سے تعلق ہے۔ “
مسلمانوں کی صف بندی کا ایک منظر اور اتحاد کی اہمیت :
(کَانَ رُسْتَمُ اِذَا رَایَ الْمُسْلِمِےْنَ ےَجْتَمِعُوْنَ إِلٰی الصَّلٰوۃِ قَالَ اَکَلَ کَبِدِی عُمَرُ ےُعَلِّمُ الْکِلَابَ الْادَاْبَ ) (ابن خلدون)
” جب رستم نے مسلمانوں کو نماز کے لیے صف آرا ہوتے ہوئے دیکھا تو چلا کر کہنے لگا ہائے افسوس عمر ؓ نے میرا کلیجہ چبا لیا ہے کیونکہ وہ وحشی درندوں کو منظم ہونے کے آداب سکھلا رہا ہے۔ “
اگر مجاہدین میں جہاد کے بارے میں فکری انتشار یا لڑنے میں عملی اختلاف ہو تو وہ جان توڑ کر جہاد نہیں کرسکتے۔ اس لیے مجاہد جس قدر فکری طور پر یکسو اور عملی طور پر یکجا ہوں گے کامیابی ان کا مقدر بن جائے گی۔ مسلمانوں کو کفار کے مقابلے میں آج تک جتنا نقصان ہوا وہ آپس کے اختلاف کی وجہ سے ہوا۔ اس سے بچنے کے لیے ” بُنْیَانٌ مَّرْصُوْصٌ“ کے الفاظ استعمال کیے۔
(عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ قَالَ سَمِعْتُ الْبَرَاءَ ؓ یَقُولُ أَتَی النَّبِیَّ ﷺ رَجُلٌ مُقَنَّعٌ بالْحَدِیدِ فَقَالَ یَا رَسُول اللّٰہِ ﷺ أُقَاتِلُ وَأُسْلِمُ قَالَ أَسْلِمْ ثُمَّ قَاتِلْ فَأَسْلَمَ ثُمَّ قَاتَلَ فَقُتِل فَقَالَ رَسُول اللّٰہ ﷺ عَمِلَ قَلِیلاً وَأُجِرَ کَثِیرًا) (رواہ البخاری : باب عَمَلٌ صَالِحٌ قَبْلَ الْقِتَالِ وَقَالَ أَبُو الدَّرْدَاءِ إِنَّمَا تُقَاتِلُونَ بِأَعْمَالِکُمْ وَقَوْلُہ (یَا أَیُّہَا الَّذِینَ آمَنُوا لِمَ تَقُولُونَ مَا لاَ تَفْعَلُونَ کَبُرَ مَقْتًا عِنْدَاللہِ أَنْ تَقُولُوا مَا لاَ تَفْعَلُونَ إِنَّ اللَّہَ یُحِبُّ الَّذِینَ یُقَاتِلُونَ فِی سَبِیلِہِ صَفًّا کَأَنَّہُمْ بُنْیَانٌ مَرْصُوصٌ)
” حضرت اسحاق کہتے ہیں کہ میں نے حضرت براء بن عازب ؓ کو فرماتے ہوئے سنا کہ ایک آدمی زرہ پہنے ہوئے نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا اور کہنے لگا اے اللہ کے رسول ﷺ ! میں قتال کروں یا اسلام لاؤں۔ آپ ﷺ نے فرمایا پہلے اسلام قبول کرو پھر قتال کرو۔ وہ دائرہ اسلام میں داخل ہوا پھر اللہ کے راستے میں قتال کرتا ہوا شہید ہوگیا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اس نے عمل کم کیے لیکن اجر زیادہ پالیا۔ “
” بُنْیَانٌ“ کا معنٰی ہے تعمیر کرنا، بنانا یا آباد کرنا اور مرصوص کا معنٰی ایک حصے کو دوسرے کے ساتھ ملاناکسی چیز پر تانبے کی قلعی کرنا ہے۔
مسائل
1۔ اللہ تعالیٰ قتال فی سبیل اللہ کرنے والوں کے ساتھ محبت کرتا ہے۔
2۔ کامیابی کے لیے لازم ہے کہ مجاہدین منظم اور سیسہ پلائی دیوار بن کر قتال کریں۔
تفسیر بالقرآن
اللہ تعالیٰ کن لوگوں کو پسند کرتا ہے :
1۔ اللہ تعالیٰ پاکباز لوگوں کو پسند کرتا ہے۔ (البقرۃ : 222) 2۔” اللہ “ نیک لوگ پاک صاف رہتے ہیں۔ (التوبہ : 108)
3۔ اللہ انصاف کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔ (المائدۃ : 42)
4۔ اللہ توکل کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔ (آل عمران : 159) 5۔ اللہ متقین سے محبت کرتا ہے۔ (التوبہ : 4۔ 7)
6۔ اللہ توبہ کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔ (البقرۃ : 222) 7۔ بیشک اللہ متقین کو پسند کرتا ہے۔ (آل عمران : 76)
8۔ احسان کرو یقیناً اللہ احسان کرنے والوں کو پسند فرماتا ہے۔ (البقرۃ : 195)
9۔ انھیں معاف کیجیے اور در گزر کیجیے یقیناً اللہ معاف کرنے والوں کو پسند فرماتا ہے۔ (المائدۃ : 13)
10۔ جب مسلمانوں کے دو گروہ آپس میں لڑ پڑیں تو ان کے درمیان عدل سے فیصلہ کریں۔ اللہ عدل کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔ (الحجرات : 9)
Ayah 61:5فہم القرآن
ربط کلام : مسلمانوں کو اختلاف اور خلفشار سے بچنے کے لیے موسیٰ (علیہ السلام) کے فرمان اور ان کی قوم کا کردار اپنے سامنے رکھنا چاہیے۔
سورت مزّمل کی آیت 15 میں اللہ تعالیٰ نے نبی آخرالزمان ﷺ کی رسالت کو موسیٰ (علیہ السلام) کی رسالت کے ساتھ تشبیہ دی ہے۔ اس لیے یہاں موسیٰ (علیہ السلام) کے فرمان اور ان کی قوم کا کردار پیش کیا گیا ہے تاکہ مسلمان اپنے رسول کی گستاخی اور نافرمانی سے بچتے رہیں۔
” جب موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی قوم سے کہا اے میری قوم ! تم پر اللہ تعالیٰ نے جو نعمتیں تمہیں عطا فرمائی ہیں انہیں یاد کرو۔ اس نے تم میں انبیاء اور بادشاہ بنائے اور تمہیں وہ کچھ عطا کیا جو دنیا میں کسی کو نہیں دیا۔ اے میری قوم ! اس مقدس زمین میں داخل ہوجاؤ جو اللہ نے تمہارے لیے لکھ دی ہے اور اپنی پیٹھوں کے بل نہ پھرجاؤ، ورنہ نقصان پانے والے ہو کر لوٹوگے۔ “ (المائدۃ : 20، 21)
” انہوں نے کہا اے موسیٰ ! بیشک اس میں ایک بہت زبردست قوم ہے اور ہم تو کسی صورت اس میں داخل نہیں ہوں گے جب تک کہ وہ اس سے نکل جائیں، ہاں اگر وہ اس سے نکل جائیں تو ہم ضرور داخل ہوں گے۔ دو آدمی جو انہیں میں سے تھے جن پر اللہ نے انعام کیا تھا اور وہ اللہ سے ڈرنے والے تھے کہنے لگے تم ان پر دروازوں سے داخل ہوجاؤ جب تم دروازے میں داخل ہوگئے تو یقیناً تم غالب ہوگے اور اللہ پر بھروسہ کرو اگر تم ایمان دار ہو۔ انہوں نے کہا اے موسیٰ ! ہم تو اس میں ہرگز داخل نہیں ہوں گے جب تک وہ اس میں موجود ہیں پس تو اور تیرا رب جاؤ اور لڑوہم تو یہیں بیٹھے ہوئے ہیں۔ “ (المائدۃ : 22 تا 24)
موسیٰ (علیہ السلام) کے سمجھانے کے باوجود ان کی قوم نے قتال فی سبیل اللہ سے انکار کردیا۔ جس کے نتیجے میں اس قوم کو چالیس سال تک صحرا میں رہنا پڑا۔ حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون (علیہ السلام) بھی ان کے ساتھ رہے۔ حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون نے اپنی قوم سے بہت تکالیف اٹھائیں یہاں تک کہ حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون صحرائے سینا میں فوت ہوگئے۔
ایسی حالت سے بچنے کے لیے مسلمانوں کو حکم دیا گیا ہے کہ موسیٰ (علیہ السلام) کا وہ فرمان یاد کرو کہ جب انہوں نے اپنی قوم سے فرمایا کہ اے میری قوم کے لوگو ! تم مجھے کیوں اذّیت دیتے ہو حالانکہ تم جانتے ہو کہ میں اللہ کا رسول ہوں موسیٰ (علیہ السلام) کے بار بار سمجھانے کے باوجود انہوں نے ٹیڑھا پن اختیار کیا۔ جس کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ نے ان کے دل ٹیڑھے کردیئے۔ یاد رکھو ! اللہ تعالیٰ نافرمان لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا۔ ہدایت کے لیے ضروری ہے کہ انسان اپنے دل میں اس کی چاہت پیدا کرے اور اس کے لیے عملی کوشش کرے۔ ایسے شخص کے لیے ہدایت کا دروازہ کھول دیا جاتا ہے جو ہدایت سے اعراض کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اسے اس کی مرضی کے حوالے کردیتا ہے۔ ” اَزَاغ اللّٰہُ قُلُوْبَھُمْ “ کا یہی معنٰی ہے۔
نبی اکرم ﷺ کا فرمان اور دعا :
(عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ عَمْرٍو ؓ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ إِنَّ قُلُوبَ بَنِی آدَمَ کُلَّہَا بَیْنَ إِصْبَعَیْنِ مِنْ أَصَابِعِ الرَّحْمَنِ کَقَلْبٍ وَاحِدٍ یُصَّرِفُہُ حَیْثُ یَشَاءُ ثُمَّ قَالَ رَسُول اللَّہ ﷺ ” اَللَّہُمَّ مُصَرِّفَ الْقُلُوبِ صَرِّفْ قُلُوبَنَا عَلَی طَاعَتِکَ “ ) (رواہ مسلم : باب تصریف اللہ القلوب حیث یشاء)
” حضرت عبداللہ بن عمرو ؓ بیان کرتے ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا بیشک بنی آدم کے دل الرحمن کی انگلیوں میں سے دو انگلیوں کے درمیان ایک دل کی طرح ہیں۔ وہ ان کو جیسے چاہتا ہے پھیرتا ہے۔ پھر آپ ﷺ نے یہ دعا کی۔ اے دلوں کو پھیرنے والے ” اللہ “ ہمارے دلوں کو اپنی فرمانبرداری کی طرف پھیرے رکھنا “
(عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ؓ قَالَ کَانَ رَسُول اللّٰہِ ﷺ یُکْثِرُ أَنْ یَّقُولَ ” اللّٰہُمَّ ثَبِّتْ قَلْبِی عَلٰی دینِکَ “ ) (رواہ ابن ماجہ : باب دعاء رسول اللّٰہ ﷺ ، قال الشیخ البانی صحیح)
” حضرت انس بن مالک ؓ فرماتے ہیں رسول معظم ﷺ اکثر دعا کیا کرتے تھے اے اللہ میرے دل کو اپنے دین پر ثابت قدم رکھنا۔ “
بنی اسرائیل کا موسیٰ (علیہ السلام) کو ایک اور انداز میں اذّیت دینا :
(یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَکُوْنُوْا کَالَّذِیْنَ اٰذَوْا مُوْسٰی فَبَرَّاَہُ اللّٰہُ مِمَّا قَالُوْا وَ کَانَ عِنْدَ اللّٰہِ وَجِیْھًا) (الاحزاب : 69)
” اے لوگو جو ایمان لائے ہو ان لوگوں کی طرح نہ ہوجاؤ جنہوں نے موسیٰ کو اذّیت دی تھی۔ اللہ نے ان کی کہی ہوئی باتوں سے موسیٰ کی برأت فرمائی اور موسیٰ اللہ کے مقرب اور بڑے باعزت تھے۔ “
(عَنْ أَبِيْ ھُرَیْرَۃَ ؓ عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ کَانَتْ بَنُوْ إِسْرَاءِیْلَ یَغْتَسِلُوْنَ عُرَاۃً یَنْظُرُ بَعْضُھُمْ إِلٰی بَعْضٍ وَکَانَ مُوْسٰی (علیہ السلام) یَغْتَسِلُ وَحْدَہٗ فَقَالُوْا وَاللّٰہِ مَایَمْنَعُ مُوْسٰی أَنْ یَّغْتَسِلَ مَعَنَا إِلَّا أَنَّہٗ آدَرُ فَذَھَبَ مَرَّۃً یَغْتَسِلُ فَوَضَعَ ثَوْبَہٗ عَلٰی حَجَرٍ فَفَرَّ الْحَجَرُ بِثَوْبِہٖ فَخَرَجَ مُوْسٰی فِيْ إِثْرِہٖ یَقُوْلُ ثَوْبِيْ یَاحَجَرُ حَتّٰی نَظَرَتْ بَنُوْ إِسْرَاءِیْلَ إِلٰی مُوْسٰی فَقَالُوْا وَاللّٰہِ مَابِمُوْسٰی مِنْ بَأْسٍ وَأَخَذَ ثَوْبَہٗ فَطَفِقَ بالْحَجَرِ ضَرْبًا)
(رواہ البخاری : کتاب الغسل، باب من اغتسل عریاناوحدہ )
” حضرت ابوہریرہ ؓ نبی کریم ﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا بنی اسرائیل کے لوگ ننگے نہاتے اور ایک دوسرے کو دیکھا کرتے تھے۔ موسیٰ (علیہ السلام) اکیلے ہی غسل کرتے تھے۔ یہودیوں نے کہا اللہ کی قسم موسیٰ ہمارے ساتھ اس وجہ سے نہیں نہاتے کہ ان کے خصیتین میں خرابی ہے۔ ایک دفعہ موسیٰ (علیہ السلام) اپنے کپڑے پتھر پر رکھ کر غسل کررہے تھے تو پتھر کپڑے لے کر چل پڑا۔ موسیٰ (علیہ السلام) پتھر کے پیچھے بھاگے اور کہا اے پتھر ! میرے کپڑے واپس کردے۔ یہاں تک کہ بنی اسرائیل کے لوگوں نے موسیٰ (علیہ السلام) کو برہنہ حالت میں دیکھ کر کہا : اللہ کی قسم ! موسیٰ (علیہ السلام) کو کوئی تکلیف نہیں اور موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے کپڑے پکڑ کر پتھر کو مارنا شروع کردیا۔ “
” حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ فرماتا ہے جس نے میرے دوست سے دشمنی کی میں اس سے اعلان جنگ کرتا ہوں۔ میں نے جو چیزبندے پر فرض کی اس سے زیادہ مجھے کوئی چیز محبوب نہیں جس سے وہ میرا قرب حاصل کرے۔ بندہ نوافل کے ذریعے میرا قرب حاصل کرتا رہتا ہے حتیٰ کہ میں اس سے محبت کرتا ہوں۔ جب میں اس کے ساتھ محبت کرتا ہوں تو میں اس کے کان بن جاتا ہوں جس سے وہ سنتا ہے، اس کی آنکھ بن جاتا ہوں جس سے وہ دیکھتا ہے، اس کے ہاتھ بن جاتا ہوں جس سے وہ پکڑتا ہے اور اس کے پاؤں بن جاتا ہوں جس سے وہ چلتا ہے۔ اگر سوال کرے تو میں اسے ضرور عطا کرتا ہوں، اگر مجھ سے پناہ طلب کرے تو میں اسے پناہ دیتا ہوں۔ میں اپنے کسی کام میں اتنا تردُّد نہیں کرتاجتنا ایک مومن کی جان قبض کرنے میں کرتا ہوں کیونکہ بندہ موت کو ناپسند کرتا ہے اور مجھے اس کی تکلیف اچھی نہیں لگتی جس نے میرنے ولی کو تکلیف دی اس نے مجھے تکلیف دی۔ “ (رواہ البخاری : کتاب الرقاق، باب التواضع )
نبی آخر الزمان کو تکلیف دینے اور آپ ﷺ کی گستاخی کرنے والوں کی سزا :
(اِنَّ الَّذِیْنَ یُؤْذُوْنَ اللّٰہَ وَرَسُوْلَہٗ لَعَنَہُمُ اللّٰہُ فِی الدُّنْیَا وَالْاٰخِرَۃِ وَاَعدَّلَہُمْ عَذَابًا مُہِیْنًا) (الأحزاب : 57)
” بیشک جو لوگ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کو تکلیف دیتے ہیں ان پر اللہ کی طرف سے دنیا و آخرت میں لعنت ہے اور ان کے لیے ذلیل کرنے والا عذاب تیار کر رکھا ہے۔ “
گستاخ رسول کا قتل :
( اِنَّ أعْمٰی کَانَتْ لَہٗ اُمُّ وَلَدٍ تَشْتُمُ النَّبِیَّ ﷺ وَ تَقَعُ فِیْہِ فَیَنْہَا ہَا فَلَا تَنْتَہِیْ وَیَزْجُرُہَا فَلَا تَنْزَجِرُ فَلَمَّا کَانَتْ ذَاتَ لَیْلَۃٍ جَعَلَتْ تَقَعُ فِی النَّبِیِّ ﷺ وَتَشْتُمُہٗ فَاخَذَا لْمِغْوَلَ فَوَ ضَعَہٗ فِیْ بَطْنِہَا وَتَّکَأَ عَلَیْہَا فَقَتَلَہَا فَلَمَّا أَصْبَحَ ذُکِرَ ذَلِکَ للنَّبِیِّ ﷺ فَجَمَعَ النَّاسَ فَقَالَ اُنْشِدُ رَجُلًا فَعَل مَا فَعَلَ لِیْ عَلَیْہِ حَقُّ اِلَّا قَامَ قَالَ فَقَامَ الْاَعْمٰی یَتَخَطَّی النَّاسَ وَہُوَ یَتَدَلْدَلُ حَتّٰی قَعَدَبَیْنَ یَدَیِ النَّبِیِّ ﷺ فَقَالَ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ اَنَا صَاحِبُہَا کَانَتْ تَشْتُمُکَ وَتَقَعُ فِیْکَ فَاَنْہَاہَا فَلَا تَنْتَہِیْ وَأَزْجُرُہَا فَلاَ تَنْزَجِرُ وَلِیَ مِنْہَا اِبْنَانِ مِثْلُ الْلُؤلُؤَتَیْنِ وَکَانَتْ بِیْ رَفِیْقَۃً فَلَمَّا کَانَ الْبَارِحَۃُ جَعَلَتْ تَشْتُمُکَ وَتَقَعُ فِیْکَ فَاخَذْتُ الْمِغْوَلَ فَوَضَعْتُہُ فِیْ بَطْنِہَا وَاتَّکَأْتُ عَلَیْہِ حَتّٰی قَتَلْتُہَا فَقَال النَّبِیُّ ﷺ أَ لَا أَشْہِدُوْا أَنَّ دَمَہَا ہَدَرٌ)
(رواہ ابوداؤد : کتاب الحدود باب الحکم فیمن سب النبی)
” ایک اندھے شخص کی ایک ام ولد لونڈی تھی جو رسول اللہ ﷺ کو گالیاں دیا کرتی تھی وہ اسے منع کرتا۔ وہ گالیاں دینے سے باز نہیں آتی تھی وہ اسے جھڑکتا تھا۔ مگر وہ نہ رکتی تھی۔ ایک رات اس نے رسول اللہ ﷺ کو گالیاں دینا شروع کیں تو نابینا صحابی نے ایک چھرا لے کر اس کے پیٹ پر رکھ کر زور سے دبایا جس سے وہ مرگئی۔ صبح اس کا ذکر رسول اللہ ﷺ کے پاس ہوا تو آپ نے لوگوں کو جمع کر کے فرمایا۔ میں اس آدمی کو قسم دیتا ہوں جس نے کیا، یہ کیا ہے۔ میرا اس پر حق ہے کہ وہ کھڑا ہوجائے۔ رسول اللہ ﷺ کی بات سن کر ایک نابینا صحابی کھڑا ہوا۔ پریشانی کی حالت میں لوگوں کی گردنیں پھلانگتا ہوا نبی اکرم ﷺ کے سامنے آکر بیٹھ گیا۔ اس نے عرض کی کہ اے اللہ کے رسول ! میں اسے منع کرتا تھا مگر وہ اس کی پروا نہیں کرتی تھی۔ اس کے بطن سے میرے دو ہیروں جیسے بیٹے ہیں اور وہ میری بیوی تھی۔ گزشتہ رات جب وہ آپ کو گالیاں دینے لگی تو میں نے چھرا لے کر اس کے پیٹ پر رکھ کر زور سے دبایا یہاں تک کہ وہ مرگئی۔ رسول اللہ ﷺ نے اس کی بات سننے کے بعد صحابہ کو فرمایا تم گواہ رہنا کہ اس عورت کا خون رائیگاں ہوا۔ “
حضرت علی ؓ فرماتے ہیں :
(قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ مَنْ سَبَّ نَبِّیًا قُتِلَ وَمَنْ سَبَّ اَصْحَابَہٗ جُلِدَ )
(رواہ الطبرانی فی الصغیر صفحہ 236 جلد 1)
” رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس نے نبی ﷺ کو گالی دی اسے قتل کیا جائے اور جس نے اس آپ کے صحابہ کو گالی دی اسے کوڑے مارے جائیں۔ “
گستاخ رسول کا قتل :
(اِنَّ رَجُلًا مِّنَ الْمُشْرِکِیْنَ شَتَمَ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ مَنْ یَّکْفِیْنِیْ عَدُوِّی فَقَام الزُّبَیْرُ بْنُ الْعَوَّامِ فَقَالَ اَنَا فَبَارَزَہٗ فَاَعْطَاہٗ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ سَلَبَہٗ ) (الصارم المسلول 177)
” مشرکین میں سے ایک آدمی نے رسول اللہ ﷺ کو گالی دی تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میرے دشمن کی کون خبر لے گا ؟ حضرت زبیر بن عوام کھڑے ہو کر عرض کرنے لگے یا رسول اللہ ! میں حاضر ہوں۔ حضرت زبیر ؓ نے اسے قتل کردیا۔ تو رسول اللہْ ﷺ نے اس کا سامان زبیر کو دے دیا۔ “
ابو لہب کا عبرت ناک انجام :
سورۃ لہب کے نزول پر ابھی آٹھ سال ہی گزرے تھے کہ جنگ بدر میں بڑے بڑے سرداران قریش مارے گئے۔ مکہ میں بدر کی شکست کی اطلاع پہنچی تو سب سے زیادہ دکھ ابولہب کو ہوا۔ یہ اسی صدمے اور رنج میں بیمار پڑگیا۔ ساتویں روز بیماری کوڑھ کی شکل اختیار کرگئی۔ جس وجہ سے اس کے گھر والوں نے اسے چھوڑ دیا اور اس کے بیٹوں نے اس کے ساتھ کھانا پینا ترک کردیا۔ بالآخر ذلّت کی موت مرا۔ مرنے کے بعد بھی اس کے بیٹے اس کے قریب نہ گئے یہاں تک کہ اس کی لاش سے بو پھیلنے لگی۔ لوگوں نے اس کے بیٹوں کو طعنے دیے تو انہوں نے ایک حبشی کو مزدوری دی۔ جس نے گڑھا کھودا اور لکڑی سے لاش کو دھکیل کر گڑھے میں پھینکا اور اس پر مٹی ڈال دی۔
گستاخ رسول کو قبر نے باہر پھینک دیا :
حضرت انس ؓ فرماتے ہیں :
(کَانَ رَجُلٌ نَصْرانِیًّا فَأسْلَمَ وَقَرَأَ الْبَقَرَۃَ وَآلَ عِمْرَانَ فَکَانَ یَکْتُبُ للنَّبِیِّ ﷺ فَعَادَ نَصْرَانِیًّا فَکَانَ یَقُوْلُ مَایَدْرِی مُحَمَّدٌ الاَّ مَا کَتَبْتُ لَہٗ فَأَمَاتَہُ اللّٰہُ فَدَ فَنُوْہُ فَأَصْبَحَ وَقَدْ لَفَظَتْہُ الْاَرْضُ فَقَالُوْ ہَذَا فِعْلُ مُحَمَّدٍ وَ اَصْحَابِہٖ لَمَّا ہَرَبَ مِنْہُمْ نَبَشُوْا عَنْ صَاحِبِنَا فَأَلْقَوْہُ فَحَفَرُوْا لَہٗ فَأَعْمَقُوْا فَأَصْبَحَ وَقَدْ لَفَظَتْہُ الْاَرْضُ فَقَالُوْا ہَذَا فِعْلُ مُحَمَّدٍ وَاَصْحَابِہٖ نَبَشُوْا عَنْ صَاحِبِنَا لَمَّا ہَرَبَ مِنْہُمْ فَأَلْقَوْہُ فَحَفَرُوْا لَہٗ وَأَعْمَقُوْا لَہٗ فِی الْاَرْضِ مَاسْتَطَاعُوْا فَأَصْبَحَ وَقَدْ لَفَظَتْہُ الْاَرْضُ فَعَلِمُوْا اَنَّہُ لَیْسَ مِنَ النَّاسِ فَالْقَوْہُ )
(رواہ البخاری : کتاب المناقب، باب علامات النبوۃ فی الاسلام)
” ایک عیسائی مسلمان ہوگیا وہ سورة البقرۃ اور آل عمران پڑھ چکا تھا وہ کاتب وحی تھا۔ وہ مرتد ہو کر عیسائی ہوگیا اور کہنے لگا کہ محمد ﷺ کے لیے جو کچھ میں نے لکھ دیا ہے اس کے سوا اسے کچھ معلوم نہیں۔ اس کی موت واقع ہوگئی تو اس کے ساتھیوں نے اسے دفن کیا۔ جب صبح ہوئی تو انہوں نے دیکھا کہ اس کی لاش قبر کی بجائے زمین کے اوپر پڑی ہے۔ عیسائیوں نے کہا کہ یہ محمد ﷺ اور ان کے ساتھیوں کا کام ہے چونکہ ان کا دین اس نے چھوڑ دیا تھا۔ اس لیے انہوں نے قبر کھود کر لاش کو باہر پھینک دیا ہے۔ چناچہ دوسری قبر کھودی جو بہت گہری تھی لیکن جب صبح ہوئی تو پھر لاش باہر تھی۔ اس دفعہ بھی انہوں نے یہی کہا کہ یہ محمد اور ان کے ساتھیوں کا کام ہے چونکہ ان کا دین اس نے چھوڑ دیا تھا اس لیے اس کی قبر کھود کر انہوں نے لاش باہر پھینک دی ہے۔ پھر انہوں نے قبر کھودی جتنی گہری ان کے بس میں تھی اور اس میں ڈال دیا لیکن جب صبح ہوئی تو پھر لاش باہر پڑی تھی۔ اب انہیں یقین ہوگیا کہ یہ کسی انسان کا کام نہیں بلکہ یہ آدمی ” اللہ “ کے عذاب میں گرفتار ہے۔ چناچہ انہوں نے اسے زمین پر پڑا رہنے دیا۔ “
امام احمد بن حنبل a :
(کُلُّ مَنْ شَتَمَ النَّبِیَّ ﷺ اَوْ تَنَقَّصَہٗ مُسْلِمًا کَانَ اَوْ کَافِرًا فَعَلَیْہِ الْقَتْلُ وَأَرٰی اَنْ یُقْتَلَ وَلَا یُسْتَتَابَ ) (الصارم المسلول : 33)
” جو آدمی نبی ﷺ کو گالی دیتا ہے یا آپ کی شان میں گستاخی کرتا ہے وہ مسلمان ہو یا کافر اس کا قتل کرنا واجب ہے اور میری رائے یہ ہے کہ اسے توبہ کرنے کی مہلت نہ دی جائے بلکہ فوراً قتل کردیا جائے۔ “
امام مالک (رح) :
خلیفہ ہارون الرشید نے امام مالک ؓ سے نبی اکرم ﷺ کی شان اقدس میں گستاخی کرنے والے کے بارے میں پوچھا۔ امام مالک (رح) نے فرمایا :
(مَابَقَاءَ الْاُمَّۃِ بَعْدَ شَتْمِ نَبِیِّہَا) (الشفاء للقاضی عیاض : 2/233)
” اس امت کو زندہ رہنے کا کوئی حق نہیں جس کے نبی کو گالیاں دی جائیں۔ “
امام ابن تیمیہ (رح) :
(اِنَّ مَنْ سَبَّ النَّبِیَّ ﷺ مِنْ مُسْلِمٍ اَوْ کَافِرٍ فَاِنَّہ یَجِبُ قَتْلُہُ ہَذَا مَذْہَبُ عَامَۃِ اَہْلِ الْعِلْمِ ) (الصارم المسلول : 31)
” جو آدمی نبی ﷺ کو گالی دے خواہ مسلمان ہو یا کافر اس کو قتل کرنا واجب ہے۔ “
ستمبر 2005 ء میں ڈنمارک کے بدنام زمانہ صحافی نے رسول محترم ﷺ کے خاکے شائع کیے جس سے پورے عالم اسلام میں ایسا اضطراب پیدا ہوا کہ مسلمان تڑپ اٹھے اور پوری دنیا میں جلوس، ہڑتالیں اور بےمثال مظاہرے ہوئے اس میں سعودی عرب نے ہر اول دستے کا کردار ادا کیا۔
ڈنمارک کے گستاخانہ عمل کی وجہ سے سعودی عرب نے عالم اسلام کی ترجمانی کرتے ہوئے 26 جنوری کو ڈنمارک سے اپنا سفیر واپس بلا لیا اور سعودی عرب سے ڈنمارک کی اشیاء کے بائیکاٹ کا آغاز ہوگیا جو تمام عرب ریاستوں ‘ مصر ‘ لیبیا ‘ ایران اور دوسرے مسلمان ممالک تک پھیل گیا۔
4 فروری کو حکومت پاکستان نے ڈنمارک، ناروے، فرانس، جرمنی، اٹلی، سپین، سوئٹزر لینڈ، ہینگری، ہالینڈ اور جمہوریہ چیک ری پبلک کے سفیروں کو طلب کر کے گستاخانہ خاکوں کے خلاف شدید احتجاج کیا۔
پاکستان نے خاکوں کے شائع کرنے والے ممالک سے ادویات درآمد کرنے پر پابندی لگا دی، فرانس اور ڈنمارک کی چار میڈیسن کمپنیوں کی تقریباً ایک سو گیارہ ادویات پاکستانی میڈیکل سٹورز پر فروخت کی جاتی تھیں۔ ڈاکٹرز صاحبان نے ان ادویات کے بجائے متبادل ادویات تجویز کردیں۔
شام، لبنان اور لیبیا میں ڈنمارک کے سفارت خانوں کو آگ لگا دی گئی۔ مسلم ممالک نے ڈنمارک کی مصنوعات کا بائیکاٹ کردیا۔ بس جس ملک سے جو بن پڑا اور جس دینی ‘ سیاسی اور رفاہی تنظیم سے جو ہوسکا اس نے اپنی اسلامی غیرت کا ثبوت فراہم کرکے اپنے اپنے جذبات کا اظہار کیا۔ جسے دیکھ کر عالم کفر کے اکثر حکمرانوں اور اخبارات کے ایڈیٹرز اور مالکان نے معذرت کی۔
ناروے کے اخبار کے ایڈیٹر انچیف ” ویجیو ان سیلبک “ نے معافی مانگی جیسے ناروے کی اسلامی کونسل نے قبول کرلیا۔ فرانس کے اخبار کے مالک نے ایڈیٹر کو نوکری سے برطرف کردیا۔
31 جنوری کو ڈنمارک کے اخبار نے معافی نامہ جاری کیا اور دنیا بھر کے مسلمانوں سے معافی مانگی۔
مسائل
1۔ یہودی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے گستاخ ہیں، مسلمانوں کو ہر گستاخی سے اجتناب کرنا چاہیے۔
2۔ اللہ تعالیٰ گمراہ لوگوں کو ان کی گمراہی میں کھلا چھوڑ دیتا ہے۔
3۔ اللہ تعالیٰ گمراہ لوگوں کے دلوں کو ہدایت سے پھیر دیتا ہے۔ 4۔ اللہ تعالیٰ اپنے نافرمانوں کی راہنمائی نہیں کرتا۔
تفسیر بالقرآن
نبی آخر الزمان ﷺ کی گستاخی کرنے والا کافر ہے :
1۔ اے ایماندارو ! نبی ﷺ کی گستاخی سے بچو۔ آپ ﷺ کی گستاخی کرنے والے کافر ہیں۔ (البقرۃ : 104)
2۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ ہم نبی ﷺ کی گستاخی کرنے والوں سے نمٹ لیں گے۔ (الحجر : 95)
3۔ جو لوگ اللہ اور اس کے رسول کو اذا دیتے ہیں ان پر دنیا اور آخرت میں لعنت برستی ہے۔ (الاحزاب : 57)
Ayah 61:6فہم القرآن
ربط کلام : یہودیوں کا کردار ذکر کرنے کے بعد عیسائیوں کے کردار کا تذکرہ۔
جس طرح یہودی موسیٰ (علیہ السلام) کو تکالیف دینے اور ان کی نافرمانی کرنے کی وجہ سے ہدایت کے راستے سے بھٹک گئے اسی طرح ہی عیسائیوں کی غالب اکثریت نے عیسیٰ (علیہ السلام) کی گستاخیاں اور نافرمانی کی اور یہ بھی صراط مستقیم سے گمراہ ہوگئے۔ حالانکہ عیسیٰ ( علیہ السلام) نے بنی اسرائیل کو بار بار بتلایا اور سمجھایا کہ بلاشک میں اللہ کا رسول ہوں اور اپنے سے پہلے نازل ہونے والی کتاب تورات کی تصدیق کرتا ہوں اور اپنے بعد آنے والے رسول جن کا نام نامی اسم گرامی احمد ﷺ ہوگا۔ اس کی تشریف آوری کی تمہیں خوشخبری دیتا ہوں۔ یاد رہے کہ بنی اسرائیل کا لفظ قرآن مجید میں کبھی صرف یہودیوں کے لیے استعمال ہوا ہے اور کبھی صرف عیسائیوں کے لیے اور کبھی عیسائیوں اور یہویوں دونوں کے لیے استعمال کیا گیا ہے کیونکہ عیسیٰ (علیہ السلام) صرف بنی اسرائیل کے لیے رسول بنائے گئے تھے۔ اس لیے انہوں نے یہود و نصاریٰ کو خوشخبری سنائی کہ میرے بعد ایک رسول آنے والا ہے جس کا نام نامی احمد ﷺ ہوگا مگر جب نبی آخر الزمان ﷺ یہودیوں اور عیسائیوں کے پاس واضح دلائل کے ساتھ تشریف لائے تو انہوں نے آپ ﷺ پر ایمان لانے کی بجائے یہ کہا کہ یہ تو کھلا جادو ہے۔
(عَنْ جُبَیْرِ ابْنِ مُطْعِمٍ ؓ قَالَ سَمِعْتُ النَّبِیَّ ﷺ یَقُوْلُ اِنَّ لِیْ اَسْمَاءً اَنَا مُحَمَّدٌوَاَنَا اَحْمَدُ وَاَنَا الْمَاحِیَ الَّذِیْ یَمْحُوْ اللّٰہُ بِیَ الْکُفْرَ وَاَََنَا الْحَاشِرُ الَّذِیْ یُحْشَرُ النَّاسُ عَلٰی قَدَمَیَّ وَاَنَا الْعَاقِبُ وَالْعَاقِبُ الَّذِیْ لَیْسَ بَعْدَہٗ نَبِیٌّ) (رواہ البخاری : باب قولہٖ من بعد اسمہ احمد)
” حضرت جبیر بن مطعم ؓ نے نبی کریم ﷺ سے سنا آپ نے فرمایا میرے کئی نام ہیں۔ میں محمد ﷺ ہوں۔ میں ” احمد “ ﷺ ہوں، میں ” ماحی “ (مٹانے والا) ہوں، میرے ذریعے اللہ تعالیٰ کفر کو مٹائے گا۔ میں ” حاشر “ (اکٹھا کرنیوالا) ہوں کہ لوگ میری پیروی کرتے ہوئے اکٹھے کیے جائیں گے اور میں عاقب ہوں اور عاقب سے مراد وہ نبی ہے جس کے بعد کوئی نبی نہیں ہوگا۔ “
احمد کے دو معنٰی ہیں اپنے پروردگار کی بہت زیادہ حمد بیان کرنے والا، اور جس کی لوگوں میں سب سے زیادہ تعریف کی جائے۔
سیدنا عیسیٰ ( علیہ السلام) کے نبی ﷺ کے بارے میں ارشادات :
” اور میں باپ سے درخواست کروں گا تو وہ تمہیں دوسرا مددگار بخشے گا کہ ابد تک تمہارے ساتھ رہے، یعنی سچائی کا روح۔ “ (یوحنا : باب 14: 16، 17) ” لیکن مددگار یعنی روح القدس جسے باپ میرے نام سے بھیجے گا وہی تمہیں سب باتیں سکھائے گا اور جو کچھ میں نے تم سے کہا ہے وہ سب تمہیں یاد دلائے گا۔ “ (یوحنا : باب 14: 26) ” اس کے بعد میں تم سے بہت سی باتیں نہ کروں گا کیونکہ دنیا کا سردار آتا ہے اور مجھ میں اس کا کچھ نہیں۔ “ (یوحنا : باب 14: 30) ” لیکن جب وہ مددگار آئے گا جس کو میں تمہارے پاس باپ کی طرف سے بھیجوں گا یعنی سچائی کا روح جو باپ سے صادر ہوتا ہے تو وہ میری گواہی دے گا۔ “ (یوحنا : باب 15: 26) ” لیکن میں تم سے سچ کہتا ہوں کہ میرا جانا تمہارے لیے فائدہ مند ہے کیونکہ اگر میں نہ جاؤں گا تو وہ مددگار تمہارے پاس نہ آئے گا۔ “ (یوحنا : باب 16: 7) ” مجھے تم سے اور بھی بہت سی باتیں کہنا ہیں مگر اب تم ان کی برداشت نہیں کرسکتے۔ لیکن جب وہ یعنی سچائی کا روح آئے گا تو تم کو تمام سچائی کی راہ دکھائے گا۔ اس لیے کہ وہ اپنی طرف سے نہ کہے گا لیکن جو کچھ سنے گا وہی کہے گا اور تمہیں آئندہ کی خبریں دے گا۔ “ (یوحنا : باب 16: 12، 13)
مسائل
1۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) بنی اسرائیل کے رسول تھے۔ 2۔ حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) نے تورات کی تصدیق فرمائی۔
3۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے نبی ﷺ کا نام لے کر یہودیوں اور عیسائیوں کو آپ کی آمد کی خوشخبری سنائی۔
4۔ یہودی اور عیسائی نبی آخر الزمان ﷺ کو جادو گر ہونے کا الزام دیتے ہیں۔
تفسیر بالقرآن
اہل مکہ اور یہود و نصاریٰ نے نبی ﷺ پر جھوٹے الزامات لگائے :
1۔ نبی کریم ﷺ کو کفار جادوگر کہا کرتے تھے۔ (یونس : 2)
2۔ کفار آپ ﷺ کو کاہن اور مجنون کہتے تھے اللہ تعالیٰ نے جواب دیا کہ آپ کاہن اور مجنون نہیں ہیں۔ (الطور : 29)
3۔ کفار آپ ﷺ کو شاعر کہتے تھے۔ (الطور : 30) 4۔ آپ ﷺ شاعر نہیں ہیں۔ (القلم : 2)
5۔ کفار نبی اکرم ﷺ کو جادوگر اور کذاب کہتے تھے۔ (ص : 4) 6۔ آپ ﷺ جادوگر اور جھوٹے نہیں۔ (الطور : 29)
7۔ کفار آپ ﷺ پر الزام لگاتے تھے کہ آپ قرآن مجید خود بنا لیتے ہیں۔ (النحل : 101)
Ayahs 61:7–8فہم القرآن
ربط کلام : جو لوگ نبی آخرالزمان ﷺ کی نبوت کا انکار کرتے ہیں اور آپ ﷺ پر الزامات لگاتے ہیں درحقیقت اللہ تعالیٰ پر جھوٹ بولتے ہیں۔ ان کی کوشش ہے کہ ” اللہ “ کے نور کو اپنی پھونکوں سے بجھا دیں حالانکہ یہ لوگ اس نور کو کبھی بجھا نہیں سکیں گے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس کے پھیلانے کا فیصلہ کر رکھا ہے۔
یہ حقیقت سب کو معلوم ہے کہ نبوت کا اعلان کرنے سے پہلے ہر کوئی آپ ﷺ کو الصادق اور الامین کہتا تھا۔ تورات اور انجیل میں بھی آپ ﷺ کے اوصاف حمیدہ کا ذکر موجود ہے۔ اس لیے یہودی اور عیسائی اس انتظار میں تھے کہ جب نبی آخر الزّمان تشریف لائیں گے تو ہم ان کے ساتھ مل کر کافروں کو شکست دیں گے۔ (البقرۃ : 89) لیکن جونہی آپ ﷺ نے اپنی نبوت کا اعلان فرمایا تو یہود و نصاریٰ اور اہل مکہ نے آپ کو جھوٹا اور جادو گر قرار دیا۔ جب کہ یہود و نصاریٰ اپنی کتابوں کے حوالے سے اور اہل مکہ اپنے دور کے دانشوروں سے جان چکے تھے کہ مکہ میں ایک رسول پیدا ہونے والا ہے لیکن پھر بھی انہوں نے آپ ﷺ کی تکذیب کی۔ حالانکہ آپ ﷺ لوگوں کو اللہ کی طرف بلانے والے تھے اس کے باوجود لوگ آپ کو کذّاب اور جادو گر کہتے۔ اس موقع پر لوگوں کے الزامات کا صرف یہ جواب دیا گیا ہے کہ اس شخص سے بڑھ کر کوئی ظالم نہیں ہوسکتا جو اللہ تعالیٰ پر جھوٹ بولتا ہے۔ یعنی آپ ﷺ اللہ پر جھوٹ نہیں بول رہے۔ ہاں الزام لگانے والے یادرکھیں ! کہ نبی ﷺ کو جھوٹا کہنا اور آپ پر الزامات لگانا درحقیقت اللہ تعالیٰ پر جھوٹ بولنا اور الزام لگانا ہے کیونکہ آپ ﷺ نے نبوت کا اعلان اپنی طرف سے نہیں بلکہ اللہ کے حکم سے کیا ہے لہٰذا اللہ تعالیٰ پر جھوٹ بولنے والے سے بڑھ کر کوئی ظلم نہیں ہوسکتا۔ اللہ تعالیٰ ظالموں کو ہدایت نہیں دیتا ظالم لوگ چاہتے ہیں کہ اللہ کے نور کو اپنے منہ کی پھونکوں سے بجھادیں۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ کا فیصلہ ہے کہ وہ اپنا نور پورا کرکے رہے گا اگرچہ کافر اسے ناپسند کرتے ہیں۔ نور سے مراد اللہ کی توحید اور دین حق ہے جسے اللہ تعالیٰ نے پہلے تورات اور انجیل کی صورت میں نازل فرمایا اور اب قرآن مجید کی شکل میں لوگوں کے سامنے ہے جو لوگ توحید اور دین کو جھٹلاتے ہیں وہ حقیقت میں اللہ تعالیٰ کو جھٹلانے کی کوشش کرتے ہیں، اور یہ لوگ ظالم ہیں اور ظالموں کو اللہ تعالیٰ ہدایت سے سرفراز نہیں کرتا۔ یہاں دین کی قوت کی طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ اس کے خلاف کفار اور مشرکین کی کوششیں اس قدر حقیر اور بےحیثیت ہیں جس طرح کوئی نادان سورج کی طرف منہ کر کے تھوکتا ہے یا آنکھیں بند کر کے سمجھتا ہے کہ سورج کی روشنی ختم ہوگئی اس سے بڑھ کر کون احمق ہوگا ؟ یہ لوگ دین کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے۔ یہاں واضح طور پر اعلان کیا ہے کہ دین ہر صورت پھیل کر رہے گا۔
(یٰٓاَہْلَ الْکِتٰبِ قَدْ جَآءَکُمْ رَسُوْلُنَا یُبَیِّنُ لَکُمْ کَثِیْرًا مِّمَّا کُنْتُمْ تُخْفُوْنَ مِنَ الْکِتٰبِ وَ یَعْفُوْا عَنْ کَثِیْرٍ قَدْ جَآءَ کُمْ مِّنَ اللّٰہِ نُوْرٌ وَّ کِتٰبٌ مُّبِیْنٌ) (المائدۃ : 15)
” اے اہل کتاب ! بیشک تمہارے پاس ہمارا رسول آچکا ہے جو تمہارے لیے ان میں سے بہت سی باتیں کھول کر بیان کرتا ہے جو تم کتاب سے چھپاتے تھے اور بہت سی باتوں سے درگزر کرتا ہے۔ یقیناً تمہارے پاس اللہ کی طرف سے ایک روشنی اور واضح کتاب آئی ہے۔ “
(اَلْاِسْلَامُ یَعْلُوْ وَلَا یُعْلٰیٰ ) (ارواء الغلیل حدیث نمبر : 1268)
” اسلام غالب آئے گا اور اس پر کوئی غالب نہیں آئے گا۔ “
(اَلْیَوْمَ اَکْمَلْتُ لَکُمْ دِیْنَکُمْ وَ اَتْمَمْتُ عَلَیْکُمْ نِعْمَتِیْ وَ رَضِیْتُ لَکُمُ الْاِسْلَامَ دِیْنًا فَمَنِ اضْطُرَّ فِیْ مَخْصَۃٍ غَیْرَ مُتَجَانِفٍ لِّاِثْمٍ فَاِنَّ اللّٰہَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ) (المائدۃ : 5)
” آج میں نے تمہارے لیے دین کو مکمل کردیا ہے اور میں نے پوری کردی تم پر اپنی نعمت اور اسلام کو دین کے طور پر پسند کرلیا، جو بھوک کی صورت میں مجبور ہوجائے اس حالت میں کہ وہ گناہ کی طرف مائل ہونے والا نہ ہو تو بیشک اللہ بےحد بخشنے والا نہایت مہربان ہے۔ “
مسائل
1۔ جو شخص اللہ پر جھوٹ بولتا ہے وہ سب سے بڑا ظالم ہے۔ 2۔ اللہ تعالیٰ ظالم شخص کی راہنمائی نہیں کرتا۔
3۔ کافر اور مشرک چاہتے ہیں کہ اللہ کے نور یعنی دین اسلام کو ختم کردیں۔
4۔ اللہ تعالیٰ نے فیصلہ کر رکھا ہے کہ اس کا دین ضرور غالب اور مکمل ہوگا۔
Ayah 61:9فہم القرآن
ربط کلام : اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہونے والا دین ” الاسلام “ نور اور روشنی ہے۔ کفار اور مشرکین، یہودی اور عیسائی اس نور کو مٹانا چاہتے ہیں حالانکہ اللہ تعالیٰ کا فیصلہ ہے کہ یہ نور مکمل ہو کر رہے گا۔ اس نور اور روشنی کو پھیلانے کے لیے اللہ تعالیٰ نے نبی آخر الزمان ﷺ کو مبعوث فرمایا تاکہ دین حق کا نور دنیا میں ہر سو پھیل جائے۔ بیشک یہ بات کفار اور مشرکین کے لیے کتنی ہی ناقابل برداشت ہو۔
مفسرین کے دلائل کے مطابق یہ آیات غزوہ احد کے بعد نازل ہوئیں۔ جب حضرت حمزہ ؓ اور ستر صحابہ کرام شہید ہوچکے تھے۔ منافقین نے بغلیں بجائیں اور کافر امید لگا بیٹھے کہ اب اسلام کا چراغ بجھنے والا ہے۔ بس ایک اور حملے کی ضرورت ہے اسلام اور مسلمانوں کا قصہ ہمیشہ ہمیش کے لیے پاک ہوجائے گا۔ ان ناہموار حالات میں یکدم اعلان ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو اپنی راہنمائی اور دین حق کے ساتھ اس لیے مبعوث فرمایا ہے کہ اس کا رسول تمام ادیان پر اللہ کے دین کو غالب کردے۔ بیشک مشرکوں کے لیے یہ بات کتنی ہی ناگوار کیوں نہ ہو مشرک چاہتے ہیں کہ اللہ کی بندگی کے ساتھ دوسروں کی بندگی جاری رہے کفار کا خیال ہے کہ نظام اسلام کی بجائے کفر کا نظام قائم رہے۔ ہدایت سے مراد وہ راہنمائی، بصیرت اور توفیق ہے جس کے ساتھ نبی آخرالزمان ﷺ نے تمام ادیان باطل پر دین اسلام کو غالب کردکھایا۔
مشرک توحید کا نوربجھانا اور قرآن کی روشنی کو مٹانا چاہتے ہیں جبکہ اللہ تعالیٰ کا فیصلہ ہے۔ اسے مکمل فرماکر اسے دلائل کی بنیاد پر قیامت تک غالب رکھے۔ کفار، مشرکین اور اہل کتاب پہلے دن سے ہی اس کوشش میں ہیں کہ اللہ کے نور کو اپنی پھونکوں سے بجھا دیں جبکہ اللہ تعالیٰ کا قطعی فیصلہ ہے کہ وہ اپنے نور کو غالب کرکے رہے گا اس نے اپنے رسول کو ہدایت اور دین حق کے ساتھ اس لیے بھیجا ہے تاکہ دین اسلام تمام باطل ادیان پر غالب آجائے خواہ مشرکوں اور کفار کے لیے یہ بات کتنی ہی ناپسند کیوں نہ ہو، نور سے مراد قرآن مجید کی تعلیم جس کی مرکزی دعوت التوحید ہے دونوں کو اللہ تعالیٰ نے نور قرار دیا ہے۔ (البقرہ : 257) میں ارشاد ہوا ہے کہ ” اللہ “ ایمانداروں کا خیر خواہ ہے وہ انھیں ہر قسم کے اندھیروں سے نکال کر نور کی طرف لاتا ہے اور کفار کے دوست شیطان ہیں وہ ان کو نور سے اندھیروں کی طرف لے جاتے ہیں۔ کافر چاہتے ہیں کہ اللہ کی توحید کے چراغ اور قرآن مجید کی تعلیمات کو اپنی پھونکوں سے بجھا دیں پھونکوں کا لفظ لا کر یہ ثابت کیا گیا ہے کہ جس طرح سورج کی روشنی اور چاند کی ضیاء پاشیوں کو پھونکوں سے نہیں بجھایا جاسکتا اور جس طرح سورج اور چاند کی طرف منہ کرکے تھوکنے اور پھونکنے والا پاگل پن کا مظاہرہ کرتا ہے، اسی طرح دین کے خلاف کوششیں کرنے والے بھی اخلاقی دیوالیہ پن کا شکار ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کی بعثت کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ ہم نے اپنے رسول کو ہدایت اور دین حق کے ساتھ اس لیے بھیجا ہے تاکہ تمام باطل ادیان پر دین اسلام کو غالب کردے ہدایت سے مراد وہ رہنمائی اور طریقہ ہے جس کی روشنی میں اللہ کے رسول ﷺ نے دین کا ابلاغ اور نفاذ فرمایا۔ یاد رہے کہ دین اور قانون کتنا ہی مفصل کیوں نہ ہو اس کے سمجھنے اور نفاذ کے لیے رہنمائی کی ضرورت ہوتی ہے اس لیے یہاں بالہدیٰ کا لفظ استعمال فرما کر واضح کیا ہے کہ جس رب نے یہ دین نازل فرمایا ہے اسی نے اپنے نبی ﷺ کی رہنمائی کا بندوبست کیا تاکہ ” اللہ “ کی منشا کے مطابق دین کی تشریح اور اس کا نفاذ کرے۔ جو حدیث شریف اور سیرت طیبہ کی صورت میں ہمارے پاس موجود ہے۔
” لِیُظْہِرَہٗ “ کا معنی ہے زبردست کشمکش جس سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ دین آسانی کے ساتھ نافذ نہیں ہوگا جب تک کفار، مشرکین اور اہل کتاب کے ساتھ زبردست کشمکش اور معرکہ آرائی نہ ہوجائے چناچہ یہی کچھ ہوا کہ دین کے ابلاغ اور نفاذ کے لیے کئی معرکے برپا ہوئے اور نہ معلوم قیامت تک کتنے معرکے پیش آئیں گے۔ دین کے غلبہ سے پہلی مراد اس کا دلائل اور براہین کے ساتھ باطل نظریات اور ادیان پر غالب رہنا ہے یہی وجہ ہے کہ آج تک یہ دین اپنی سچائی اور دلائل کی بنیاد پر باطل ادیان پر غالب رہا اور رہے گا۔ جہاں تک اس کے سیاسی غلبے اور نفاذکا تعلق ہے اس کا دارومدار مسلمانوں کے اخلاص اور کردار پر ہے۔ جب مسلمان جان ومال کی قربانی دے کر دین کو غالب کرنا چاہیں گے تو یقیناً دین سیاسی طور پر بھی غالب آئے گا جس طرح نبی معظم ﷺ کے دور اور آپ کے بعد تقریباً ایک ہزار سال تک اس کا غلبہ رہا ہے اور قرب قیامت ایک دفعہ پھر اس کے غلبے کا دور آئے گا۔
(عَنْ أبی ہُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُول اللّٰہِ ﷺ وَالَّذِی نَفْسِی بِیَدِہِ لَیُوشِکَنَّ أَنْ یَنْزِلَ فیکُمْ ابْنُ مَرْیَمَ حَکَمًا عَدْلًا فَیَکْسِرَ الصَّلِیبَ وَیَقْتُلَ الْخِنْزِیرَ وَیَضَعَ الْجِزْیَۃَ وَیَفِیضَ الْمَالُ حَتّٰی لَا یَقْبَلَہٗ أَحَدٌ حَتّٰی تَکُون السَّجْدَۃُ الْوَاحِدَۃُ خَیْرًا مِنْ الدُّنْیَا وَمَا فیہَا)
(رواہ البخاری : کتاب احادیث الانبیاء)
” حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں رسول معظم ﷺ نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ! عنقریب تم میں عیسیٰ ابن مریم عادل حکمران کی حیثیت میں آئیں گے وہ صلیب کو توڑ دیں گے اور خنزیر کو قتل کر ڈالیں گے اور جزیہ ختم کریں گے۔ مال و دولت کی اس قدر بہتات ہوگی کوئی اس کو لینے والا نہ ہوگا یہاں تک کہ ایک سجدہ کرنا دنیا ومافیہا سے بہتر ہوگا۔ “
(عَنْ تَمِیمٍ الدَّارِیِّ ؓ قَالَ سَمِعْتُ رَسُول اللَّہِ ﷺ یَقُولُ لَیَبْلُغَنَّ ہَذَا الأَمْرُ مَا بَلَغَ اللَّیْلُ وَالنَّہَارُ وَلاَ یَتْرُکُ اللَّہُ بَیْتَ مَدَرٍ وَلاَ وَبَرٍ إِلاَّ أَدْخَلَہُ اللَّہُ ہَذَا الدِّینَ بِعِزِّ عَزِیزٍ أَوْ بِذُلِّ ذَلِیلٍ عِزًّا یُعِزُّ اللَّہُ بِہِ الإِسْلاَمَ وَذُلاًّ یُذِلُّ اللَّہُ بِہِ الْکُفْرَوَکَانَ تَمِیمٌ الدَّارِیُّ یَقُولُ قَدْ عَرَفْتُ ذَلِکَ فِی أَہْلِ بَیْتِی لَقَدْ أَصَابَ مَنْ أَسْلَمَ مِنْہُمُ الْخَیْرُ وَالشَّرَفُ وَالْعِزُّ وَلَقَدْ أَصَابَ مَنْ کَانَ مِنْہُمْ کَافِراً الذُّلُّ وَالصَّغَارُ وَالْجِزْیَۃُ ) (رواہ احمد : مسند تمیم دارمی)
” حضرت تمیم داری ؓ بیان کرتے ہیں میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا آپ نے فرمایا دین اسلام وہاں تک پہنچے گا جہاں تک رات کا اندھیرا اور دن کا اجالا پہنچتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کسی کچے پکے مکان کو نہیں چھوڑے گا مگر دین کو وہاں داخل فرمائے گا۔ عزت والے کو عزت دے گا اور ذلیل کو مزید ذلیل کرے گا۔ اللہ تعالیٰ معزز کو دین اسلام کے ساتھ عزت دے گا اور ذلیل کو کفر کی وجہ سے مزید ذلت ملے گی۔ تمیم داری ؓ کہا کرتے تھے کہ میں اپنے خاندان میں ان لوگوں کو پہچانتا ہوں جو دین کی وجہ سے معزز ہوئے اور بھلائی حاصل کی۔ جو کافر تھے ان پر ذلت، حقارت مسلط کردی گئی اور وہ جزیہ دینے پر مجبور ہوئے۔ “
مسائل
1۔ ” اللہ “ نے ہی حضرت محمد ﷺ کو دین حق اور اپنی راہنمائی کے ساتھ مبعوث فرمایا۔
2۔ دین اسلام کے سوا باقی تمام نظریات اور ادیان باطل ہیں۔
3۔ اللہ کے رسول اس لیے مبعوث کیے گئے تاکہ آپ دین اسلام کو تمام باطل نظریات اور ادیان پر غالب کردیں۔
4۔ دین کے ابلاغ اور نفاذ میں مشرکین کی مخالفت کی پرواہ نہیں کرنا چاہیے۔
5۔ مشرکین اور کفار دین حق کی بالا دستی کو کبھی پسند نہیں کرتے۔
تفسیر بالقرآن
دینِ حق سے انکار کے لیے کفار اور مشرکین کے بہانے :
1۔ مشرکین نے کہا اگر اللہ چاہتا تو ہم اس کے علاوہ کسی کی عبادت نہ کرتے۔ (النحل : 35)
2۔ مشرکین کہیں گے اگر اللہ چاہتا تو ہم شرک نہ کرتے۔ (الانعام : 148) 3۔ کفار نے کہا ہم اس وقت تک ایمان نہیں لائیں گے جب تک تو زمین سے ہمارے لیے کوئی چشمہ جاری نہ کر دے۔ (بنی اسرائیل : 90)
4۔ مشرکین نے آپ پر اعتراض کیا کہ آپ پر خزانہ کیوں نہیں نازل ہوتا۔ (ھود : 12)
5۔ کفار نے کہا ہمارے لیے اپنے آباؤ اجداد کا طریقہ ہی کافی ہے۔ (المائدۃ : 104)
6۔ بنی اسرائیل نے کہا اے موسیٰ جب تک ہم اللہ کو اپنے سامنے نہیں دیکھ لیتے ہم ایمان نہیں لائیں گے۔ (البقرۃ : 55)
6۔ کہتے ہیں یہ پہلے لوگوں کی کہانیاں ہیں جس کو اس نے لکھ رکھا ہے اور وہ صبح وشام اس کو پڑھ پڑھ کر سنائی جاتی ہیں۔ (الفرقان : 5)
Ayahs 61:10–13فہم القرآن
ربط کلام : مشرکین کی مخالفت کی پرواہ کیے بغیر دین حق کو قبول اور اس کی اشاعت کرنا یہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ تجارت کرنے کے مترادف ہے۔ جس کے نتیجہ میں دنیا کی کامیابی حاصل ہوگی اور آخرت میں عذاب سے نجات پانے کے ساتھ جنت میں داخل ہونا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے ہر انسان کو نفع اور نقصان کا شعور بخشا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایک ریڑھی بان کو معلوم ہوجائے کہ میرا سودا فلاں چوک اور بازار میں زیادہ بک سکتا ہے تو اس کی کوشش ہوتی ہے کہ میں اس چوک اور بازار میں ریڑھی لگاؤں۔ مزدور کو معلوم ہو کہ مجھے فلاں شہر میں زیادہ مزدوری ملے گی، تو وہ زیادہ مزدوری پانے کے لیے اپنے بال بچے چھوڑ کر اس شہر کا رخ کرتا ہے۔ منافع اور فائدے کے لالچ میں ہی لوگ اپنا وطن چھوڑ کر دوردراز کے ملکوں میں جاکر نوکری اور تجارت کرتے ہیں۔ گویا کہ بنیادی طور پر ہر انسان کو اپنے نفع اور نقصان کا شعور دیا گیا ہے اس شعور کو دین اور آخرت کی خاطر استعمال کرنے کا حکم ہے۔ اے ایمان والو ! میں تمہیں ایسی تجارت بتاتا ہوں کہ جس میں کبھی نقصان نہیں ہوگا۔ اس کا بنیادی اور دائمی فائدہ یہ ہے کہ تمہارے گناہ معاف ہوں گے اور تمہیں عذاب الیم سے نجات حاصل ہوگی اور تمہیں اس جنت میں داخل کیا جائے گا جس کے نیچے نہریں جاری ہیں اور وہاں صاف ستھرے، اعلیٰ اور پاکیزہ مکانات ہیں، اس کی نعمتیں ہمیشہ رہنے والی ہیں، جسے اس میں داخلہ نصیب ہوا اس کے لیے یہ بہت بڑی کامیابی ہے۔ ہاں تم پسند کرتے ہو کہ تمہیں دشمن پر فتح حاصل ہو وہ بھی تمہیں حاصل ہوگی۔ جس تجارت کے بدلے تمہیں ہمیشہ کی جنت اور دشمن پر کامیابی حاصل ہوگی وہ تجارت یہ ہے کہ تم اللہ اور اس کے رسول پر سچا ایمان لاؤ اور اللہ کے راستے میں اپنے مالوں اور جانوں کے ساتھ جہاد کرو یہ تمہارے لیے بہت ہی بہتر ہے بشرطیکہ تم اس کی حقیقت سمجھ جاؤ۔ اس سورت کی ابتدا میں ارشاد فرمایا کہ یقیناً اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو پسند کرتا ہے جو اس کی راہ میں کفار اور مشرکین کے ساتھ سیسہ پلائی دیوار بن کر قتال کرتے ہیں۔ یہاں قتال کی بجائے جہاد کا لفظ استعمال فرمایا ہے کیونکہ میدان کارزار میں اترنے سے پہلے مال و جان کے ساتھ کوشش کرنا پڑتی ہے، جہاد کا معنٰی اللہ کے راستے میں کوشش کرنا اور قتال فی سبیل اللہ اس مقصد کے لیے انتہائی اقدام ہے۔ اس لیے یہاں قتال کی بجائے جہاد کا لفظ استعمال فرمایا ہے جس میں ہر وہ کوشش شامل ہوگی جو دین کے بتلائے ہوئے طریقہ کے مطابق اس کی سربلندی کے لیے کی جائے گی۔ قرآن مجید نے کئی مقامات پر لفظ قتال جہاد کے معنٰی میں استعمال کیا ہے یہ ایسی تجارت اور سودا ہے جس کا خریدار اللہ تعالیٰ خود ہے جس کے بارے میں اس کا ارشاد ہے۔
” یقیناً اللہ نے ایمان والوں سے ان کی جانیں اور ان کے اموال خرید لیے ہیں۔ اس کے بدلے کہ یقیناً ان کے لیے جنت ہے، وہ اللہ کے راستے میں لڑتے ہیں، قتل کرتے ہیں اور قتل کیے جاتے ہیں، تورات اور انجیل اور قرآن میں اللہ کے ذمے یہ پکا وعدہ ہے اور اللہ سے زیادہ اپنا وعدہ پورا کرنے والا کون ہوسکتا ہے ؟ اس سودے پر خوب خوش ہوجاؤ جو تم نے اللہ سے کیا ہے اور یہ بہت بڑی کامیابی ہے۔ “ (التوبہ : 111)
(عَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِیّ ﷺ قَالَ جَاہِدُوا الْمُشْرِکِینَ بِأَمْوَالِکُمْ وَأَنْفُسِکُمْ وَأَلْسِنَتِکُمْ )
(رواہ ابوداؤد : باب کَرَاہِیَۃِ تَرْکِ الْغَزْوِ ، حکمہ صحیح)
” حضرت انس ؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا اپنے مالوں، جانوں اور زبانوں کے ساتھ مشرکین سے جہاد کرو۔ “
(عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ ؓ قالَ قَالَ رَجُلٌ للنَّبِيِّ ﷺ یَوْمَ أُحُدٍ أَرَأَیْتَ إِنْ قُتِلْتُ فَأَیْنَ أَنَا قَالَ فِي الْجَنَّۃِ فَأَلقٰی تَمَرَاتٍ فِيْ یَدِہٖ ثُمَّ قَاتَلَ حَتّٰی قُتِلَ ) (رواہ البخاری : باب غزوۃ أحد)
” حضرت جابر بن عبداللہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے غزوۂ احد کے دن نبی کریم ﷺ سے پوچھا اگر میں شہید ہوجاؤں تو میں کہاں ہوں گا ؟ آپ نے فرمایا : جنت میں۔ اس کے ہاتھ میں کھجوریں تھیں اس نے پھینک دیں پھر لڑا یہاں تک کہ شہید ہوگیا۔ “
” حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جنت اس طرح بنائی گئی ہے کہ اس کی ایک اینٹ چاندی کی اور دوسری سونے کی ہے اور اس کا گارا خوشبودار کستوری کا ہے۔ اس کے کنکر لؤلؤ اور یاقوت کے ہیں اور اس کی مٹی زعفران کی ہے جو اس میں داخل ہوگا وہ خوش و خرم رہے گا۔ اسے کوئی تکلیف نہیں ہوگی وہ اس میں ہمیشہ رہے گا اسے موت نہیں آئے گی نہ اس کے کپڑے بوسیدہ ہوں گے اور نہ ہی وہ بوڑھا ہوگا۔ “ (رواہ الترمذی : کتاب صفۃ الجنۃ)
مسائل
1۔ اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لانا، کفار اور مشرکین کے ساتھ مال وجان کے ساتھ جہاد کرنا نہایت ہی فائدہ مند تجارت ہے۔ 2۔ اللہ تعالیٰ ایمان اور جہاد کے بدلے مسلمانوں کے گناہ معاف کرتا ہے۔
3۔ اللہ تعالیٰ ایمان اور جہاد کے بدلے مومنوں کو ہمیشہ کی جنت میں داخل فرمائے گا جس کے نیچے نہریں جاری ہوں گی اور اس کے محلات بڑے اعلیٰ اور پاکیزہ ہوں گے۔
4۔ اللہ تعالیٰ ایمان اور جہاد کے بدلے مسلمانوں کو بہت جلد فتح عطا فرمائے گا۔
5۔ کفار اور مشرکین کے مقابلے میں دنیا کی کامیابی اور آخرت میں جنت ملنا بہت بڑی خوشخبری اور کامیابی ہے۔
تفسیر بالقرآن
جہاد فی سبیل اللہ کی فرضیت اور فضیلت کے چند دلائل :
1۔ اے نبی ﷺ ! مومنوں کو جہاد کی ترغیب دیں۔ (الانفال : 65) 2۔ مظلوم مسلمانوں کے لیے جہاد کریں۔ (النساء : 75)
3۔ کفارکو ایسی مار مارو کہ ان کے پچھلے بھی بھاگ کھڑے ہوں۔ (الانفال : 57) (النساء : 95) (التوبہ : 88)
4۔ ان سے لڑائی کرو یہاں تک کہ فتنہ ختم ہوجائے اور خالصتادین اللہ کے لیے ہوجائے۔ (البقرۃ : 193)
5۔ تم شیطان کے دوستوں سے لڑائی کرو یقیناً شیطان کی تدبیر کمزور ہے۔ (النساء : 76) (البقرۃ : 218)
6۔ مجاہدین کے ساتھ اللہ نے جنت کا وعدہ فرمایا ہے۔ (التوبۃ : 111) 7۔ مجاہد اور غیر مجاہد برابر نہیں ہوسکتے۔ (النساء : 95)