Ayah 60:1فہم القرآن
ربط سورت : سورة الحشر کے آخری الفاظ یہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہر اعتبار سے اپنی مخلوق پر غالب ہے اور اس کے ہر حکم میں حکمت پائی جاتی ہے۔ جب اللہ تعالیٰ ہر لحاظ سے اپنی مخلوق پر غالب ہے تو مسلمانوں کو اسی کی ذات پر بھروسہ کرتے ہوئے کسی اور سے بالخصوص اپنے اور اللہ کے دشمنوں سے خیر کی توقع نہیں رکھنی چاہیے۔ اسی لیے سورة الممتحنہ کی ابتدا اس حکم کے ساتھ کی جارہی ہے کہ مسلمانو ! اپنے اور ” اللہ “ کے دشمن کو خیر خواہ نہ سمجھو !
الممتحنہ کا لفظ امتحان سے مشتق ہے جس کا معنٰی ہے آزمانا ورآزمائش کرنا ہے۔
مفسرین کی غالب اکثریت نے سورة الممتحنہ کا شان نزول بیان کرتے ہوئے لکھا ہے کہ جب مکہ والوں نے حدیبیہ میں ہونے والے عہد کو توڑ دیا تو نبی معظم ﷺ نے نہایت رازداری کے ساتھ مکہ کی طرف پیش قدمی کرنے کی تیاری کا آغاز فرمایا۔ اسی دوران مکہ سے ایک عورت مدینہ آئی جسے حاطب ؓ بن ابی بلتعہ نے ایک خط لکھ کردیا کہ یہ خط مکہ کے فلاں سردار تک پہنچا دیا جائے۔ خط میں نبی معظم ﷺ کی جنگی تیاریوں کا ذکر کیا گیا، ادھر عورت خط لے کر مکہ جارہی تھی۔ دوسری طرف یہ بات وحی کے ذریعے نبی ﷺ کے علم میں لائی گئی۔ آپ ﷺ نے حضرت علی کے ساتھ مقدار اور حضرت زبیر ؓ ۔ دوسری روایت میں ہے کہ ابو مرثد غنوی ؓ بھی وفد میں شامل تھے۔ فرمایا کہ تیزی سے مکہ کی طرف جاؤ۔ وہ عورت تمہیں مکہ سے پہلے روضہ خاخ مقام پر ملے گی تمہیں ہر صورت اس سے حاطب کا دیا ہوا خط واپس لانا ہوگا۔ تینوں حضرات دن رات سفر کرتے ہوئے روضۂ خاخ مقام کے قریب پہنچے تو انہوں نے دیکھا کہ ایک عورت اونٹ پر سوار بڑی تیزی کے ساتھ مکہ کی طرف جارہی ہے۔ وفد نے تیز قدمی کے ساتھ اسے روک لیا اور خط کے بارے میں اس سے پوچھا لیکن وہ کسی صورت بھی اقرار کرنے کے لیے تیارنہ ہوئی۔ قریب تھا کہ وفد واپس آجاتا لیکن حضرت علی ؓ نے فرمایا کہ اللہ کے نبی ﷺ کا فرمان جھوٹا نہیں ہوسکتا۔ لہٰذا خط اس عورت کے پاس ہے۔ حضرت علی ؓ آگے بڑھے اور تلوار لہراتے ہوئے کہا کہ اگر تو نے خط ہمارے حوالے نہ کیا تو ہم تجھے برہنہ کرکے تلاشی لیں گے۔ یہ کہتے ہوئے صحابہ ؓ اس کی طرف بڑھے ہی تھے کہ اس نے اپنے سر کے بالوں سے خط نکال کر حضرت علی ؓ کے حوالے کردیا۔ خط لے کر صحابہ واپس آئے تو آپ ﷺ نے حاطب بن ابی بلتعہ کو طلب فرمایا اور اس سے استفسار کیا کہ یہ کیا معاملہ ہے ؟ حاطب ؓ نے بڑی عاجزی سے درخواست کی کہ اے اللہ کے رسول ﷺ ! نہ میں مرتد ہوا ہوں اور نہ ہی میں نے مسلمانوں سے غداری کی ہے۔ سچ یہ ہے کہ مدینہ آنے والے اصحاب کا کوئی نہ کوئی رشتہ دار مکہ میں موجود ہے میں نے سوچا کہ جب ہم مکہ پر یلغار کریں گے تو مہاجرین کے رشتہ دار ان کے مکی رشتہ داروں کی کسی نہ کسی صورت میں حفاظت کریں گے۔ لیکن میری مکہ میں کوئی رشتہ داری نہیں کیونکہ میں باہر سے آکر مکہ میں مقیم ہوا تھا اس لیے میرے بیوی بچوں کی حفاظت کرنے والا کوئی نہیں ہوگا۔ میں نے مکہ والوں کی ہمدردی حاصل کرنے کے لیے یہ خط لکھا تاکہ وہ اس احسان کے بدلے میرے بیوی بچوں کی حفاظت کریں اس کے سوا میرا کوئی ارادہ نہیں تھا۔ جب آپ ﷺ اس معاملہ کی انکوائری کررہے تھے تو حضرت عمر ؓ نے کہا کہ اللہ کے نبی ! مجھے اجازت دیں کہ میں حاطب کا سرکاٹ دوں۔ آپ ﷺ نے فرمایا عمر ! حوصلہ کرو تجھے معلوم نہیں ؟ کہ حاطب بدری صحابی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے بدر میں شرکت کرنے والے صحابہ کو معاف کردیا ہے۔ (رواہ البخاری : باب غزوۃ الفتح) حاطب بن ابی بلتعہ ؓ کی بات سن کر نبی ﷺ کو یقین ہوگیا کہ حاطب نے یہ غلطی سازش کے تحت نہیں کی بلکہ اپنے بیوی بچوں کی حفاظت کے لیے کی ہے جس پر آپ ﷺ نے اسے معاف فرمادیا۔ اس موقع پر اللہ تعالیٰ نے سورة الممتحنہ کی ابتدائی آیات نازل فرمائیں جس میں دوٹوک انداز میں حکم دیا ہے کہ مسلمانو ! اگر تم میرے راستے میں لڑنے اور میری خوشنودی کے لیے مکہ سے نکلے ہو تو پھر میرے اور اپنے دشمنوں کو دوست اور خیر خواہ نہ سمجھو ! تم ان کو دوستی کا پیغام بھیجتے ہو اور وہ حق آجانے کے باوجود اس کا انکار کرتے ہیں۔ انہوں نے تمہیں اور ال رسول ﷺ کو مکہ سے اس لیے نکال باہر کیا کہ تم اللہ پر ایمان رکھتے ہو جو تمہارا رب ہے۔ یاد رکھو ! جو تم خفیہ یا اعلانیہ طور پر کرتے ہو میں اس کو اچھی طرح جانتا ہوں۔ تم میں جو ایسا کرے گا وہ سیدھے راستے سے بھٹک جائے گا۔ اس فرمان میں اللہ تعالیٰ نے ہمیشہ کے لیے مسلمانوں کو یہ حکم دیا ہے کہ وہ اپنے اور دین کے دشمنوں کو دوست نہ سمجھیں اور نہ ان کے سامنے اپنے راز فاش کریں۔ مسلمانوں کا راز فاش کرنے سے ایک طرف مسلمان کمزور ہوں گے، دوسری طرف دشمن کو تقویت ملے گی، جس سے تمہیں دنیا میں ذلت اٹھانا پڑے گی اور آخرت میں عذاب ہوگا۔
(عَنْ أَبِی ذَرٍّ ؓ قَالَ قَالَ رَسُول اللَّہِ ﷺ أَفْضَلُ الأَعْمَالِ الْحُبُّ فِی اللَّہِ وَالْبُغْضُ فِی اللَّہِ ) (رواہ ابوداؤد : باب مُجَانَبَۃِ أَہْلِ الأَہْوَاءِ وَبُغْضِہِمْ )
” حضرت ابوذر ؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا افضل اعمال اللہ کی رضا کی خاطر محبت کرنا اور اس کی خاطر کسی سے بغض رکھنا ہے۔ “
مسائل
1۔ مسلمانوں کو اپنے اور اللہ کے دشمنوں کو دوست نہیں بنانا چاہیے
2۔ اللہ تعالیٰ ہر کسی کے خفیہ اور ظاہری عمل کو جانتا ہے۔ 3۔ جس نے مسلمانوں کا راز فاش کیا وہ گمراہ ہوگیا۔
تفسیر بالقرآن
کفار کے ساتھ دوستی نہیں کرنی چاہیے :
1۔ اے ایمان والو ! میرے اور اپنے دشمن کو دوست نہ بناؤ۔ (الممتحنہ : 1 تا 2)
2۔ اے ایمان والو ! جن پر اللہ کا غضب ہوا انھیں اپنا دوست نہ بناؤ۔ (الممتحنہ : 13)
3۔ اے ایمان والو ! ان لوگوں کو دوست نہ بناؤ جنھوں نے تمہارے دین کو کھیل تماشا بنا لیا ہے۔ (المائدۃ : 56 تا 57)
4۔ اے ایمان والو ! یہود و نصاریٰ کو دوست نہ بناؤ۔ (المائدۃ : 51)
5۔ اے ایمان والو ! مسلمانوں کو چھوڑ کر کفار کو اپنا دوست نہ بناؤ۔ (النساء : 144)
Ayahs 60:2–3فہم القرآن
ربط کلام : کفار کے ساتھ دوستی نہ کرنے کی ایک اور وجہ۔
کفار کے ساتھ دلی دوستی اور اپنا راز ظاہر کرنے سے اس لیے بھی روکا گیا ہے کہ اگر کافر مسلمانوں پر غلبہ پالیں تو وہ اپنی دشمنی کا اظہار کرتے ہوئے مسلمانوں کو اپنے ہاتھوں اور زبان سے تکلیف دینے سے باز نہیں آئیں گے ان کی خواہش ہے کہ مسلمان کسی نہ کسی طرح کافر بن جائیں۔ اے مسلمانو ! جس اولاد اور رشتہ داروں کی خاطر کفار کے ساتھ دلی دوستی رکھتے ہو اور انہیں اپنا راز بتلاتے ہو وہ قیامت کے دن تمہارے کسی کام نہیں آئیں گے۔ اللہ ہی تمہارے درمیان فیصلہ کرے گا اور جو کچھ تم کرتے ہو اللہ تعالیٰ پوری طرح دیکھتا ہے۔ حضرت حاطب بن ابی بلتعہ ؓ نے اپنی اولاد اوراقرباء کی خاطر مسلمانوں کا رازفاش کیا اس لیے مسلمانوں کو بتلایا اور سمجھایا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ قیامت کے دن تمہارے معاملات کا فیصلہ کرے گا تو کسی کی اولاد اور رشتہ دار اس کے کام نہیں آئیں گے لہٰذا کفار کو اپنا دوست نہ بناؤ ! دنیا میں اس کا نقصان یہ ہوگا کہ اگر کافر تم پر قابو پالیں تو وہ اپنی زبانوں اور ہاتھوں سے تمہیں ہر قسم کا نقصان پہنچائیں گے۔ کتنا ہی ناعاقبت اندیش ہے وہ مسلمان جو کفار کی خاطر اپنی دنیا اور آخرت تباہ کرتا ہے۔ دنیا اور آخرت کا نقصان بتلا کر مسلمانوں کو ہمیشہ ہمیش کے لیے اپنے راز فاش کرنے اور کفار سے دلی دوستی کرنے سے روک دیا گیا ہے۔ جہاں تک راز فاش کرنے والے کی سزا کا تعلق ہے اس کے بارے میں علمائے امت کا فیصلہ ہے کہ مسلمانوں کا راز فاش کرنے والا کافر ہوجاتا ہے اور اس کی سزا قتل ہے۔ البتہ راز کی نوعیت کے پیش نظر عدالت کو سزا میں تخفیف کرنے کا حق ہوتا ہے۔ اس کے لیے کہ حاطب بن ابی بلتعہ کی مثال ہمارے سامنے ہے۔
ایک دفعہ امیر المومنین حضرت عمر ؓ کے پاس کسی صحابی نے اہل کتاب کے ایک شخص کی سفارش کی کہ یہ فن کتابت اور حساب کا ماہر ہے آپ اسے اپنا منشی اور کاتب رکھ لیں۔ امیر المومنین ؓ نے فرمایا کہ میں اسے مسلمانوں کا رازدان نہیں بنا سکتا۔ پھر اس آیت کا حوالہ دیا کہ کیا تجھے معلوم نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں اس بات سے منع کیا ہے۔ حضرت عمر ؓ کے فرمان کا مقصد یہ تھا کہ غیر مسلموں کو اہم عہدے نہیں دینے چاہئیں۔ اسی وجہ سے وہ فوج کے کمانڈروں کو حکم دیتے کہ جب کفار کے ساتھ تمہارے مذاکرات ہوں یا کہیں مشترکہ اجلاس ہوں تو ان کے ساتھ اس طرح خلط ملط نہ ہونا کہ وہ تمہاری فوجی اور اخلاقی کمزوریوں سے واقف ہوجائیں۔ (سیرت الفاروق)
مسائل
1۔ کفار مسلمانوں پر غلبہ پالیں تو وہ مسلمانوں کو اپنے ہاتھوں اور زبانوں سے ضرور تکلیف پہنچائیں گے۔
2۔ کفار کی یہ خواہش اور کوشش ہوتی ہے کہ وہ مسلمانوں کو کافر بنا دیں۔
3۔ قیامت کے دن کسی کو اس کی اولاد اور رشتہ دار کوئی فائدہ نہیں پہنچاسکتے۔
4۔ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن لوگوں کے درمیان ٹھیک ٹھیک فیصلہ فرمائے گا کیونکہ وہ لوگوں کے ہر عمل کو دیکھنے والا ہے۔
تفسیر بالقرآن
قیامت کے دن مجرم کے کوئی کام نہیں آئے گا :
1۔ قیامت کے دن کوئی دوست کسی کے کام نہیں آئے گا۔ ( البقرۃ : 254)
2۔ قیامت کے دن کوئی رشتہ دار کسی کو فائدہ نہیں دے گا۔ ( عبس : 34 تا 36)
3۔ قیامت کے دن کوئی دوست کسی دوست کے کام نہیں آئے گا۔ (الدخان : 41، 42)
4۔ قیامت کے دن کوئی کسی کو فائدہ نہیں دے سکے گا۔ (الانفطار : 19)
5۔ قیامت کے دن دوستی اور سفارش کام نہ آئے گی۔ (ابراہیم : 31)
6۔ معبودان باطل اپنے پیروکاروں کے کام نہیں آئیں گے۔ ( البقرۃ : 166)
7۔ ” اللہ “ کے مقابلہ مجرموں کا کوئی مددگار نہیں ہوگا۔ (ہود : 20)
8۔ ” اللہ “ کے سوا تمہارا کوئی ولی اور مددگار نہیں۔ (العنکبوت : 22)
Ayah 60:4فہم القرآن
ربط کلام : حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا اسوہ حسنہ ہر حال میں اپنے سامنے رکھنے کا حکم۔ بالخصوص ان مسلمانوں کو جو کفار سے دوستی رکھنے کا ذہن رکھتے ہیں۔
حضرت حاطب بن ابی بلتعہ ؓ نے اپنی اولاد کی خاطر مسلمانوں کا راز اہل مکہ تک پہنچانے کی کوشش کی جو دنیا اور آخرت کے حوالے سے انتہائی نقصان دہ اقدام تھا۔ مسلمانوں کو ایسے اقدام اور نقصان سے بچنے کے لیے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے اسوہ حسنہ کو سامنے رکھنے کا حکم دیا گیا ہے۔ ارشاد ہوا کہ تمہیں ابراہیم (علیہ السلام) اور ان کے ساتھیوں کا فرمان اور اسوہ حسنہ اپنے لیے نمونہ بنانا چاہیے۔ جب ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنی قوم سے فرمایا کہ ہم تم سے اور تمہارے معبودوں سے لاتعلقی کا اعلان کرتے ہیں۔ ہم انہیں کبھی تسلیم نہیں کریں گے، ہمارے اور تمہارے درمیان ہمیشہ عداوت اور دشمنی رہے گی۔ یہاں تک کہ تم اللہ وحدہ ٗ لاشریک پر سچا اور خالص ایمان لے آؤ۔ ابراہیم (علیہ السلام) کی حیات طیبہ مسلمانوں کے لیے اسوہ حسنہ ہے۔ سوائے اس بات کے جو انہوں نے اپنے باپ کے لیے کہی تھی کہ اے میرے باپ ! میں تیرے لیے مغفرت کی دعا کروں گا۔ البتہ اللہ کے حضور اسے منوانے کا میں اختیار نہیں رکھتا۔ ابراہیم (علیہ السلام) اور ان کے ساتھیوں نے یہ بات بھی کہی کہ اے ہمارے رب ! ہم تیری ذات پر بھروسہ کرتے ہیں اور تیری طرف ہی رجوع کرتے ہیں اور ہم نے تیرے حضور ہی لوٹ کرجانا ہے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے باپ سے ان کے لیے بخشش کی دعا کا وعدہ کرتے ہوئے اس بات کی وضاحت فرما دی کہ میں آپ کی مغفرت کی دعا ضرور کروں گا لیکن دعا کی منظوری اور آپ کی بخشش کروانا میرے اختیار میں نہیں۔ یہی عقیدہ توحید کی بنیاد ہے۔ خدا کی خدائی میں نہ کوئی شریک ہے اور نہ ہی اس نے کسی کو اپنی خدائی کے اختیارات دئیے ہیں وہ جسے چاہے معاف کرے اور جسے چاہے پکڑ لے۔ اس کی پکڑ سے بزرگ تو درکنار اللہ کے رسول بھی کسی کو چھڑا نہیں سکتے۔ اس آیت میں ایک بنیادی مسئلہ بیان کیا گیا ہے جس کے لیے اہل علم الولاء والوراع کی اصطلاح استعمال کرتے ہیں۔
اَلْوَلَاءُ وَالْوَرَ اءُ :
الولاء کا معنٰی دوستی رکھنا اور الوراء کا معنٰی ہے دوستی توڑتا۔ مراد یہ ہے کہ کفار کے ساتھ دوستی رکھنے کی بجائے ان سے تعلقات منقطع کرنا چاہیے اس اصطلاح کا استعمال اور اس پر عمل بڑا ہی نازک اور حساس مسئلہ ہے۔ آج کے دور میں نوجوان طبقہ اس کا صحیح مفہوم نہ سمجھنے کی وجہ سے قتال میں عملاً حصہ نہ لینے والے مسلمانوں پر اسے چسپاں کرتا دکھائی دیتا ہے۔ جبکہ اس کا حقیقی مفہوم اور اطلاق راسخ العلم علماء کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ اس لیے نوجوانوں کو اس مسئلہ میں احتیاط سے کام لینا چاہیے کیونکہ وہ غیر شعوری طور پر کفار کے معاون بن جاتے ہیں اور ملک وملت کو نقصان پہنچاتے ہیں۔
(عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ؓ عَنِ النَّبِیِّ ﷺ قَالَ یَلْقٰی إِبْرَاہِیْمُ أَبَاہُ آزَرَیَوْمَ الْقِیَامَۃِ وَعَلٰی وَجْہِ آزَرَ قَتَرَۃٌوَغَبَرَۃٌ فَیَقُوْلُ لَہٗ إِبْرَاہِیْمُ أَلَمْ أَقُلْ لَّکَ لَا تَعْصِنِیْ فَیَقُوْلُ أَبُوْہُ فَالْیَوْمَ لَآأَعْصِیْکَ فَیَقُوْلُ إِبْرَاہِیْمُ یَارَبِّ إِنَّکَ وَعَدْتَّنِیْ أَنْ لَّا تُخْزِیَنِیْ یَوْمَ یُبْعَثُوْنَ فَأَیُّ خِزْیٍ أَخْزٰی مِنْ أَبِی الْأَبْعَدِفَیَقُوْلُ اللّٰہُ تَعَالٰی إِنِّیْ حَرَّمْتُ الْجَنَّۃَ عَلٰی الْکَافِرِیْنَ ثُمَّ یُقَالُ یَآ إِبْرَاہِیْمُ مَا تَحْتَ رِجْلَیْکَ فَیَنْظُرُ فَإِذَا ھُوَ بِذِیْخٍ مُتَلَطِّخٍ فَیُؤْخَذُ بِقَوَآءِمِہٖ فَیُلْقٰی فِی النَّارِ ) (رواہ البخاری : باب قول اللّٰہ تعالیٰ ” واتخذ اللّٰہ ابراھیم خلیلا “ )
” حضرت ابوہریرہ ؓ نبی گرامی ﷺ سے بیان کرتے ہیں آپ نے فرمایا : ابراہیم (علیہ السلام) قیامت کے دن اپنے باپ آزر سے ملیں گے اس کے چہرے پر سیاہی اور گردو غبار ہوگا۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اپنے باپ سے کہیں گے اے میرے باپ کیا میں نے آپ سے نہیں کہا تھا کہ میری نافرمانی نہ کرو۔ ان کا باپ کہے گا کہ آج میں تیری نافرمانی نہیں کروں گا۔ ابراہیم (علیہ السلام) فریاد کریں گے کہ اے میرے رب آپ نے مجھ سے قیامت کے دن مجھے ذلیل نا کرنے کا وعدہ کیا تھا میرے باپ سے زیادہ بڑھ کر اور کونسی ذلت ہوگی ؟ اللہ تعالیٰ فرمائیں گے میں نے کافروں پر جنت حرام کردی ہے۔ پھر کہا جائے گا ابراہیم اپنے پاؤں کی طرف دیکھو۔ وہ دیکھیں گے تو ان کا باپ کیچڑ میں لتھڑا ہوا بجو بن چکا ہوگا جسے پاؤں سے پکڑ کر جہنم میں پھینک دیا جائے گا۔ “
مسائل
1۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور ان کے ایماندار ساتھیوں کا اسوہ مسلمانوں کے لیے بہترین نمونہ ہے۔
2۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور ان کے ساتھیوں نے دوٹوک الفاظ میں غیر اللہ کی عبادت کا انکار کیا۔
3۔ حضرت ابراہیم اور ان کے ساتھیوں نے واضح الفاظ میں اپنی قوم کے سامنے اعلان کیا کہ جب تک تم ایک اللہ پر ایمان نہیں لاؤ گے ہماری اور تمہاری دشمنی رہے گی۔
4۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور ان کے ساتھیوں نے یہ بھی اعلان کیا کہ ہم اپنے رب پر بھروسہ رکھتے ہیں اس کی طرف متوجہ ہوتے ہیں اور اس کی طرف ہمیں لوٹ کرجانا ہے۔
5۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا مشرک باپ کے لیے دعا کرنا امت کے لیے نمونہ نہیں ہے۔
تفسیر بالقرآن
کفّار اور مشرکین سے دینی اعتبار سے لاتعلق ہونا فرض ہے :
1۔ آپ فرما دیں اللہ تعالیٰ پاک ہے اور میں مشرکوں میں سے نہیں ہوں۔ (یوسف : 108 )
2۔ کہہ دیجیے اللہ ایک ہے بیشک میں تمہارے شرک سے بری ہوں۔ (الانعام : 19 )
3۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے کہا اے میری قوم ! میں تمہارے شرک سے برأت کا اظہار کرتا ہوں۔ (الانعام : 78 )
4۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنی قوم سے فرمایا ہم تم سے اور تمہارے معبودوں سے بری الذمہ ہیں۔ (الممتحنہ : 4)
5۔ حضرت ھود (علیہ السلام) نے کہا میں اللہ کو گواہ بناتا ہوں اور تم بھی گواہ رہو کہ میں تمہارے شرک سے بیزار ہوں۔ (ہود : 54)
6۔ بیشک اللہ اور اس کا رسول مشرکوں سے بری ہے۔ (التوبہ : 3 )
Ayah 60:5فہم القرآن
ربط کلام : حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور ان کے ساتھیوں کی مزید دعائیں۔
حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ان انبیائے میں سر فہرست ہیں جنہوں نے بیک وقت اپنے اہل خانہ اور قوم سے تکلیفیں اٹھانے کے ساتھ ساتھ وقت کے حکمران کے ساتھ مقابلہ کیا اور ان سے اذّیت اٹھائی۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی اپنی قوم اور حکمرانوں کے ساتھ کشمکش اتنی شدید ہوئی کہ وہ اور ان کے ساتھی پکار اٹھے کہ اے ہمارے رب ! ہمیں معاف فرما بیشک تو ہر اعتبار سے غالب اور حکمت رکھنے والا ہے۔ قرآن مجید نے فتنہ کا لفظ کئی معانی میں استعمال کیا ہے۔ یہاں فتنہ کا لفظ چار معنوں میں استعمال ہوا ہے۔
اکثر اہل علم نے یہاں فتنہ کا مفہوم آزمائش لیا ہے۔ مومنوں کا کفار کے لیے فتنہ بننا اہل علم نے درج ذیل صورتوں میں بیان کیا ہے۔
1 ۔ اے ہمارے رب ! جب تو مشرکین کو دنیا میں عذاب دے تو ہمیں اس عذاب سے محفوظ فرما۔
2 ۔ ایمانداروں پر کسی اعتبار سے کفار کا غلبہ پانا اور انہیں یہ کہنے کا موقع ملنا اگر ایماندار حق پر ہوتے تو ہمیں ان پر غلبہ حاصل نہ ہوتا یہ مومنوں کے لیے تکلیف دہ آزمائش ہے۔
3 ۔ کفار کا اہل ایمان پر ظلم اس قدربڑھ جائے کہ ایماندار لوگ ان کے سامنے جھک جائیں اور باقی مسلمانوں کے لیے سبکی کا باعث بن جائیں یہ بہت بڑی آزمائش ہے۔
4 ۔ مسلمانوں کا اخلاق اس قدر گرجائے کہ وہ جگ ہنسائی کا باعث بن جائیں۔ ان کے کردار کو کفاراسلام کی توہین کا ذریعہ بنالیں۔
موسیٰ (علیہ السلام) کی دعا :
(فَقَالُوْا عَلَی اللّٰہِ تَوَکَّلْنَا رَبَّنَا لَا تَجْعَلْنَا فِتْنَۃً لِّلْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ ) (یونس : 85)
” تو انہوں نے کہا ہم نے اللہ پر ہی توکل کیا، اے ہمارے رب ہمیں ظالم لوگوں کے سے بچا۔ “
نبی ﷺ کی دعا :
(عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ ؓ عَنْ رَسُول اللَّہِ ﷺ أَنَّہُ کَانَ یَدْعُواللَّہُمَّ احْفَظْنِی بالْإِسْلَامِ قَاءِمًا وَاحْفَظْنِی بالْإِسْلَامِ قَاعِدًا وَاحْفَظْنِی بالْإِسْلَامِ رَاقِدًا وَلَا تُشْمِتْ بِی عَدُوًّا حَاسِدًا ” اللَّہُمَّ إِنِّی أَسْأَلُکَ مِنْ کُلِّ خَیْرٍ خَزَاءِنُہُ بِیَدِکَ وَأَعُوذُ بِکَ مِنْ کُلِّ شَرٍّ خَزَاءِنُہُ بِیَدِکَ.“ )
(رواہ البیہقی فی الدعوات الکبیر : بَابُ جَامِعُ مَا کَانَ یَدْعُو بِہِ النَّبِیُّ ﷺ وَیَأْمُرُ أَنْ یُدْعَی بِہِ )
” حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ دعا کیا کرتے تھے کہ اے اللہ ! کھڑے، بیٹھے اور نیند کی حالت میں اسلام کے ساتھ میری حفاظت فرما ! اور میرے مصائب سے میرے حاسد دشمن کو خوش نہ کر۔ اے اللہ ! جو خزانے تیرے پاس ہیں۔ میں آپ سے ان کی بھلائی کا سوال کرتا ہوں اور ان کے شر سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔ “
(عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَبَّاسٍ ؓ قَالَ قَالَ رَسُول اللَّہ ﷺ مَنْ لَزِمَ الاِسْتِغْفَارَ جَعَلَ اللَّہُ لَہُ مِنْ کُلِّ ہَمٍّ فَرَجًا وَمِنْ کُلِّ ضیقٍ مَخْرَجًا وَرَزَقَہُ مِنْ حَیْثُ لاَ یَحْتَسِبُ ) (رواہ ابوداؤد : باب الاستغفار، قال البانی ضعیف)
” حضرت عبداللہ بن عباس ؓ بیان کرتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس نے استغفار کو لازم پکڑ ا، اللہ تعالیٰ اسے ہر غم سے نجات عطا فرما دیتا ہے اور ہر تنگی سے نکلنے کی جگہ بنا دیتا ہے اور اسے وہاں سے رزق عطا فرماتا ہے جہاں سے اسے خیال بھی نہ ہو۔ “
” حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں بلاشبہ رسول معظم ﷺ اپنے سجدوں میں پڑھا کرتے تھے :” اللّٰہُمَّ اغْفِرْ لِی ذَنْبِی کُلَّہٗ دِقَّہٗ وَجِلَّہٗ وَأَوَّلَہٗ وَآخِرَہٗ وَعَلَانِیَتَہٗ وَسِرَّہٗ “ اے اللہ میرے چھوٹے اور بڑے پہلے اور بعد والے، علانیہ اور پوشیدہ کیے تمام کے تمام گناہ معاف فرما دے۔ “ (رواہ مسلم : کتاب الصلاۃ)
مسائل
1۔ اللہ تعالیٰ سے ہر قسم کی آزمائش سے بچنے کے لیے ایمانداروں کو دعا کرنی چاہیے۔
2۔ آدمی کو ہر حال میں اللہ تعالیٰ سے اپنے گناہوں کی معافی مانگنا چاہیے۔
3۔ مسلمان کا عقیدہ ہونا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ ہر اعتبار سے غالب ہے اور اس کے ہر حکم میں حکمت پائی جاتی ہے۔
تفسیر بالقرآن
توبہ و استغفار کی اہمیت :
1۔ توبہ کرنا مومن کا شیوہ ہے۔ (التوبہ : 112) 2۔ توبہ کرنے والوں سے اللہ تعالیٰ محبت کرتا ہے۔ (البقرۃ : 222)
3۔ توبہ قبول کرنا اللہ تعالیٰ کی صفت ہے۔ (البقرۃ : 160) 4۔ توبہ کرنے والے کا میاب ہوں گے۔ (القصص : 67)
5۔ توبہ کرنے والوں کے لیے فرشتے مغفرت کی دعا کرتے ہیں۔ (المومن : 7 تا 9) (الفرقان : 70)
Ayah 60:6فہم القرآن
ربط کلام : حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی دعوت اور استقامت ہراس شخص کے لیے نمونہ ہے جو اللہ اور آخرت پر یقین رکھتا ہے۔
انبیائے کرام میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) واحد پیغمبر ہیں جن کی سیرت طیبہ کو نبی آخرالزمان ﷺ اور آپ کی امت کے لیے نمونہ قرار دیا گیا ہے۔ جس کا بنیادی سبب یہ ہے کہ ابو الانبیاء حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نبی آخر الزمان ﷺ کے جد امجد اور ملت حنیف کے داعی ہیں ابراہیم (علیہ السلام) کا راستہ مشکل ترین راستہ ہے۔ اسے وہی شخص اختیار کرے گا جو اللہ کی ملاقات پر ایمان اور قیامت کے قائم ہونے کا یقین رکھتا ہے۔ جو اس راستے سے پھر گیا اسے معلوم ہونا چاہیے کہ بیشک اللہ تعالیٰ ہر اعتبار سے بےنیاز اور تعریف کے لائق ہے۔ ارشاد ہوا ہے کہ ابراہیم (علیہ السلام) کے اسوہ حسنہ کو وہی شخص اپنائے گا جو اللہ کی ملاقات اور آخرت پر ایمان رکھتا ہے۔ ایسے مؤمن کو بڑی سے بڑی مشکل بھی آسان دکھائی دیتی ہے، کیونکہ اسے یقین ہوتا ہے کہ قیامت ہر صورت قائم ہونی ہے اور مجھے اپنے رب کے حضور پیش ہو کر اپنے نیک اعمال کا اجر پانا ہے۔ جو شخص اس راستے کو اختیار نہ کرے تو اسے معلوم ہونا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ ہر لحاظ سے غنی اور تعریف کے لائق ہے۔ دوسرے مقام پر ابراہیم (علیہ السلام) کے طریقے کو چھوڑنا حماقت قرار دیا ہے۔
” دین ابرہیمی سے وہی بےرغبتی کرے گا جس نے اپنے آپ کو حماقت میں ڈال لیا ہے، بلا شک ہم نے ابراہیم (علیہ السلام) کو دنیا میں چن لیا اور آخرت میں وہ صالحین میں سے ہوگا۔ (البقرۃ : 130)
الْغَنِیُّ :
غنی کا معنی ہے ہر لحاظ سے بےنیاز اور مستغنی وہ صرف ” اللہ “ کی ذات ہے۔ کسی کے عبادت کرنے سے اس کی بادشاہی اور عظمت میں اضافہ نہیں ہوتا ہے اور کسی کے کفر و شرک سے اس کی بادشاہی اور عظمت میں کوئی کمی نہیں آتی۔
( عَنْ أَبِی ذَرٍّ ؓ عَنِ النَّبِیِّ ﷺ فِیمَا رَوَی عَنِ اللَّہِ تَبَارَکَ وَتَعَالَی أَنَّہُ قَالَ یَا عِبَادِی إِنَّکُمْ لَنْ تَبْلُغُوا ضَرِّی فَتَضُرُّونِی وَلَنْ تَبْلُغُوا نَفْعِی فَتَنْفَعُونِی یَا عِبَادِی لَوْ أَنَّ أَوَّلَکُمْ وَآخِرَکُمْ وَإِنْسَکُمْ وَجِنَّکُمْ کَانُوا عَلَی أَتْقَی قَلْبِ رَجُلٍ وَاحِدٍ مِنْکُمْ مَا زَادَ ذَلِکَ فِی مُلْکِی شَیْءًا یَا عِبَادِی لَوْ أَنَّ أَوَّلَکُمْ وَآخِرَکُمْ وَإِنْسَکُمْ وَجِنَّکُمْ کَانُوا عَلَی أَفْجَرِ قَلْبِ رَجُلٍ وَاحِدٍ مَا نَقَصَ ذَلِکَ مِنْ مُلْکِی شَیْءًا یَا عِبَادِی لَوْ أَنَّ أَوَّلَکُمْ وَآخِرَکُمْ وَإِنْسَکُمْ وَجِنَّکُمْ قَامُوا فِی صَعِیدٍ وَاحِدٍ فَسَأَلُونِی فَأَعْطَیْتُ کُلَّ إِنْسَانٍ مَسْأَلَتَہُ مَا نَقَصَ ذَلِکَ مِمَّا عِنْدِی إِلاَّ کَمَا یَنْقُصُ الْمِخْیَطُ إِذَا أُدْخِلَ الْبَحْرَ یَا عِبَادِی إِنَّمَا ہِیَ أَعْمَالُکُمْ أُحْصِیہَا لَکُمْ ثُمَّ أُوَفِّیکُمْ إِیَّاہَا فَمَنْ وَجَدَ خَیْرًا فَلْیَحْمَدِ اللَّہَ وَمَنْ وَجَدَ غَیْرَ ذَلِکَ فَلاَ یَلُومَنَّ إِلاَّ نَفْسَہُ قَالَ سَعِیدٌ کَانَ أَبُو إِدْرِیسَ الْخَوْلاَنِیُّ إِذَا حَدَّثَ بِہَذَا الْحَدِیثِ جَثَا عَلَی رُکْبَتَیْہِ ) (رواہ مسلم : کتاب البر والصلۃ و الآداب، باب تحریم الظلم)
” حضرت ابوذر ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول معظم ﷺ نے فرمایا : اللہ تبارک وتعالیٰ فرماتا ہے میرے بندو ! تم مجھے نقصان اور نفع پہنچانے کی طاقت نہیں رکھتے۔ میرے بندو ! تمہارے تمام اگلے پچھلے، جن و انس سب سے زیادہ متّقی انسان کے دل کی طرح ہوجائیں تو میری سلطنت میں ذرّہ بھر اضافہ نہیں کرسکتے۔ میرے بندو ! تمہارے اگلے پچھلے جن وانس سب بدترین انسان کی طرح ہوجائیں تو میری حکومت میں کوئی نقص واقع نہیں کرسکتے۔ میرے بندو ! تمہارے اگلے پچھلے ‘ جن وانس اگر سب کھلے میدان میں اکٹھے ہوجائیں اور مجھ سے مانگنے لگیں اور میں ہر ایک کی اس کی منہ مانگی مرادیں دے دوں تو میرے خزانوں میں اتنی کمی بھی واقع نہیں ہوسکتی جتنی سوئی کو سمندر میں ڈبونے سے واقع ہوتی ہے۔ “
مسائل
1۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا اسوہ حسنہ ہر ایماندار کے لیے بہترین نمونہ ہے۔
2۔ جو شخص ابراہیم (علیہ السلام) کے اسوہ اور آخرت کا انکار کرے گا اللہ تعالیٰ کو اس کی کوئی پر وہ نہیں ہے۔
3۔ اللہ تعالیٰ ہر اعتبار سے بےنیاز اور تعریف کے لائق ہے۔
تفسیر بالقرآن
حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے امتحانات اور ان کا مقام و مرتبہ :
1۔ ابراہیم (علیہ السلام) امت محمدیہ کے لیے نمونہ ہیں۔ (الممتحنہ : 4) 2۔ ابراہیم (علیہ السلام) کے طریقہ سے انحراف کرنے والابیوقوف ہے۔ (البقرۃ : 13)
3۔ ابراہیم (علیہ السلام) نبی کریم ﷺ کے پیشویٰہیں۔ (النحل : 123) 4۔ ابراہیم (علیہ السلام) بردبار اور نرم خو تھے۔ ( التوبہ : 114)
5۔ ابراہیم (علیہ السلام) تمام امتوں کے پیشوا ہیں۔ (البقرۃ : 124) 6۔ ابراہیم (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ نے دوست بنایا۔ (النساء : 125)
7۔ ابراہیم (علیہ السلام) کا اپنی بیوی اور نو مولود بچے کو بےآب وگیاہ وادی میں چھوڑ کر آنا بہت بڑی آزمائش تھا۔ (ابرہیم : 37)
Ayah 60:7فہم القرآن
ربط کلام : اس سورت کی پہلی آیت میں مسلمانوں کو کفار کے ساتھ قلبی تعلقات رکھنے سے منع کیا گیا ہے جس میں ایمانداروں کے لیے ایک بہت بڑی آزمائش تھی اور ہے اس لیے انہیں تسلی دی گئی ہے کہ دل چھوٹا نہیں کرنا۔ عنقریب اللہ تعالیٰ وقت لانے والا ہے جب تمہارے دشمن ایمان لے آئیں گے اور تم آپس میں شیرو شکر ہوجاؤ گے۔
رب ذوالجلال کا حکم پاتے ہی صحابہ کرام ؓ نے کفار کے ساتھ اپنی رشتہ داریوں اور تعلقات کو ختم کرلیا کسی نے اپنی کافر بیوی کو طلاق دی اور کسی نے اپنی اولاد سے رشتہ توڑا۔ یہ بات لکھنا اور بیان کرنا آسان ہے لیکن رشتہ داروں سے لاتعلق ہونا معاشرتی اعتبار سے بہت بڑا چیلنج اور آزمائش ہوتی ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ہر انسان میں انس اور رشتہ داری کی محبت رکھی ہے۔ جس وجہ سے کسی سے لاتعلق ہونا شریف اور ہمدرد شخص کے لیے تکلیف دہ عمل ہوتا ہے، بیشک صحابہ کرام ؓ ایمان کے بلند درجہ پر فائز تھے مگر تھے تو انسان ہی جس وجہ سے ان کے لیے رشتہ داروں سے قطع تعلق ہونا پریشانی کا باعث بنا۔ دوسری طرف کفار نے پراپیگنڈہ کیا کہ مسلمان ایک طرف ہمدردی کرنے اور رشتے جوڑنے کی بات کرتے ہیں اور دوسری طرف رشتے ناطے توڑ رہے ہیں۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے مومنوں کو تسلی دی کہ عنقریب وہ وقت آنے والا ہے جب اللہ تعالیٰ تمہارے دشمنوں کے درمیان مودَّت پیدا کرے گا، ان کی غالب اکثریت حلقہ اسلام میں داخل ہوگی اور تم ایمان کے رشتے کی بنیاد پر ایک دوسرے کے ساتھ شیر و شکر ہوجاؤگے، ایسا ضرور ہوگا کیونکہ اللہ تعالیٰ دلوں کو جوڑنے اور ہر کام کرنے پر قدرت رکھتا ہے، قدرت رکھنے کے باوجود لوگوں کے گناہوں کو معاف کرنے والا نہایت مہربان ہے۔ اس ارشاد میں مسلمانوں کو اشارے کی زبان میں مکہ فتح ہونے کی خوشخبری دی گئی ہے جو بہت جلد پوری ہوگئی۔
مسائل
1۔ ” اللہ “ ہی لوگوں کے درمیان محبت پیدا کرنے والا ہے۔
2۔ اللہ تعالیٰ ہر ایک پر قدرت رکھنے کے باوجود معاف کرنے والا اور مہربان ہے۔
Ayahs 60:8–9فہم القرآن
ربط کلام : کفار کے ساتھ تعلقات میں استثناء۔
پچھلی آیت کے اختتام پر ارشاد ہوا کہ اللہ تعالیٰ غفور الرحیم ہے یہ اس کی مہربانی کا نتیجہ ہے کہ اس نے ہر کافر کے ساتھ ہر قسم کے تعلقات منقطع کرنے کا حکم نہیں دیا قطع تعلق اور لڑنے کا حکم ان کفار کے ساتھ ہے جو مسلمانوں پر زیادتی کرتے ہیں اور اسلام کے راستے میں رکاوٹ بنتے ہیں۔ اس نے صرف کفار کے ساتھ قلبی محبت، ازواجی تعلقات اور ان کو رازداں بنانے سے منع کی گیا ہے لہٰذا اللہ تعالیٰ تمہیں ان لوگوں کے ساتھ، کاروبار اور سماجی تعلقات رکھنے سے منع نہیں کرتا جنہوں نہ دین کی وجہ سے تمہارے ساتھ جنگ کی اور نہ تمہیں تمہارے گھروں سے نکلنے پر مجبور کیا۔ اس لیے تم ان کے ساتھ انصاف کا سلوک کرو اور یقین جانو کہ اللہ تعالیٰ انصاف کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کے ساتھ تمہیں قلبی دوستی کرنے سے منع کرتا ہے جنہوں نے تمہاردے دین کی وجہ سے تمہارے ساتھ جنگ کی اور تمہارے گھروں سے تمہیں نکال دیا اور تمہارے نکالنے میں ایک دوسرے کی مدد کی جو لوگ ان کے ساتھ دوستی کریں گے وہ ظالم ہوں گے۔ اس وضاحت اور اجازت سے ان لوگوں کی غلط فہمی دور ہوجانی چاہیے جو یہ سمجھتے ہیں کہ اسلام جنگجو دین ہے ایسا ہرگز نہیں کیونکہ اسلام امن و آشتی کا دین ہے۔ دین صرف ان لوگوں سے تعلقات میں رکاوٹ ڈالتا ہے اور ان سے لڑنے کا حکم دیتا ہے جو اس کے راستے میں رکاوٹ ڈالتے ہیں اور لوگوں پر ظلم کرتے ہیں۔ اسلام کی تعلیم یہ ہے کہ جو اس کی تبلیغ میں رکاوٹ ڈالتے ہیں اور لوگوں پر ظلم کرتے ہیں ان کے خلاف اٹھ کھڑا ہونا چاہئے یہ لوگ یا اسلام قبول کریں یا پھر سرنگوں ہو کر رہیں تاکہ دنیا امن وامان کا گہوارہ بن جائے۔
(عَنِ ابْنِ عُمَرَ ؓ قَالَ وُجِدَتِ امْرَأَۃٌ مَقْتُوْلَۃً فِی بَعْضِ مَغَازِیْ رَسُوْلِ اللَّہِ ﷺ فَنَہَی رَسُوْلُ اللَّہِ ﷺ عَنْ قَتْلِ النِّسَاءِ وَالصِّبْیَا نِ ) (رواہ البخاری : باب قتل النساء فی الحرب)
” حضرت ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے غزوات میں سے کسی ایک غزوہ میں ایک مقتول عورت پائی گئی تو رسول اللہ ﷺ نے عورتوں اور بچوں کو قتل کرنے سے منع فرما دیا۔ “
مسائل
1۔ پُرامن رہنے والے کفار کے ساتھ بھلائی اور انصاف کرنے کا حکم ہے۔
2۔ اللہ تعالیٰ انصاف کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔
3۔ جو کفار اسلام کے راستے میں رکاوٹ اور مسلمانوں پر زیادتی کرتے ہیں ان کے ساتھ دوستی نہیں رکھنی چاہیے۔
4۔ جو ان کے ساتھ دوستی رکھیں گے وہ ظالم ہوں گے۔
تفسیر بالقرآن
اللہ تعالیٰ ان لوگوں سے محبت کرتا ہے :
1۔ اللہ تعالیٰ پرہیز گاروں سے محبت کرتا ہے۔ (آل عمران : 76)
2۔ بیشک اللہ تعالیٰ انصاف کرنے والوں سے محبت کرتا ہے۔ (الممتحنہ : 8)
3۔ غصہ پینے والے اور لوگوں کو معاف کرنے والوں سے اللہ محبت کرتا ہے۔ (آل عمران : 134)
4۔ اللہ صبر کرنے والوں سے محبت کرتا ہے۔ (آل عمران : 146)
5۔ اللہ تعالیٰ احسان کرنے والوں سے محبت کرتا ہے۔ (آل عمران : 148)
6۔ اللہ تعالیٰ پاک صاف رہنے والوں سے محبت کرتا ہے۔ (التوبہ : 108)
7۔ اللہ تعالیٰ ان لوگوں سے محبت کرتا ہے جو اللہ کی راہ میں منظم ہو کر لڑتے ہیں۔ (الصف : 4)
8۔ اللہ پاک باز لوگوں کو پسند کرتا ہے۔ (التوبہ : 108)
9۔ اللہ تعالیٰ توبہ کرنے والوں اور پاک صاف رہنے والوں کو سے محبت کرتا ہے۔ (البقرۃ : 222)
Ayahs 60:10–11فہم القرآن
ربط کلام : اس سے پہلے قتال کے مسائل بیان ہوئے ہیں، قتال کے دوران ہجرت کا معاملہ پیش آنا فطری بات ہے اس لیے مہاجر عورتوں کے بارے میں بالخصوص ہدایات دی گئی ہیں۔
صلح حدیبیہ کے موقعہ پر جو معاہدہ ہوا تھا اس میں ا ہل مکہ کی طرف سے یہ شرط تھی کہ مسلمانوں میں سے کوئی شخص مکہ آنا چاہے تو ہم اسے واپس نہیں کریں گے۔ اگر ہم میں سے کوئی آدمی مسلمان ہو کر مدینہ جائے گا تو اسے آپ کو واپس کرنا پڑے گا۔ معاہدے کے تھوڑے عرصہ بعد ایک مسلمان ابوبصیر ؓ بھاگ کر مدینہ آیا تو نبی ﷺ نے اسے واپس کردیا۔ اسی دوران کچھ مسلمان خواتین مکہ سے ہجرت کرکے مدینہ پہنچیں جن میں امِّ کلثوم بن عتبہ ؓ بھی تھیں ام کلثوم کا بھائی اسے واپس لینے کے لیے مدینہ آیا۔ نبی ﷺ نے اسے واپس کرنے سے انکار کردیا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس موقع پر یہ حکم نازل فرما دیاتھا کہ جو مسلمان عورتیں ہجرت کرکے مدینہ پہنچ جائیں انہیں واپس نہ کیا جائے اس لیے کہ یہ کفار کے لیے حلال نہیں اور کفار ان کے لیے حلال نہیں ہیں البتہ مومن مہاجر عورتوں کا امتحان لینا ضروری ہے۔ اگر تم امتحان کے ذریعے معلوم کرلو کہ یہ واقعی ہی مومن ہیں تو انہیں کفار کی طرف واپس نہ کرو۔ حکم میں نبی ﷺ کی بجائے مومنوں کو مخاطب کیا گیا ہے کہ مہاجر عورتوں کا امتحان لیں اس لیے آپ ﷺ نے یہ ذمہ داری حضرت عمر ؓ کے حوالے کی کہ وہ مہاجر عورتوں سے چند سوال پوچھ کر ان کے ایمان کا امتحان لیں اور اطمینان حاصل کریں کہ واقعی وہ مسلمان ہیں، اطمینان حاصل ہونے پر انہیں کفار کے حوالے نہ کیا جائے۔ مگر ان عورتوں کے خاوندوں کو ان کے دئیے ہوئے حق واپس کرو اور تم نیا حق مہر ادا کرنے کے بعد ان سے نکاح کرسکتے ہو اور جو تم نے اپنی کافر بیویوں پر خرچ کیا ہے وہ ان سے واپس مانگ لو یہ تمہارے لیے اللہ کا حکم ہے۔ اللہ تعالیٰ تمہارے معاملات کو اچھی طرح جانتا ہے اور اس کے ہر حکم میں حکمت پائی جاتی ہے۔ اگر تمہاری کافر بیویوں کے حق مہر تمہیں واپس نہ ملیں تو پھر مال غنیمت سے ان مسلمانوں کو ان کے ادا کیے ہوئے حق مہر دئیے جائیں۔ ہمیشہ اللہ سے ڈرتے رہو جس پر تم ایمان لائے ہو۔ کافر بیویوں سے مراد وہ بیویاں ہیں جو اپنے کفر کی بنا پر مکہ میں رہ گئی تھیں۔
مسائل
1۔ جن مہاجر عورتوں کے ایمان کے بارے میں علم نہ ہو ان کے ایمان کے بارے میں امتحان لینا چاہیے۔
2۔ مومن مہاجرات کو کفار کے حوالے کرنا جائز نہیں۔ 3۔ کافر عورتوں کے حق مہر واپس کردینے چاہیے۔
4۔ مسلمان عورتیں کفار کے لیے حلال نہیں اور کافر مسلمان عورتوں کے لیے حلال نہیں۔
5۔ مسلمان عورت کا حق مہر اس کے کافر خاوند سے واپس لینا چاہیے۔
6۔ جس مسلمان کو کفار کی طرف سے حق مہر واپس نہ ملے اسے اپنے حق مہر کی رقم بیت المال سے لینے کا حق ہے۔
7۔ اللہ تعالیٰ کے ہر حکم میں حکمت پائی جاتی ہے۔
8۔ ایمانداروں کو ہر حال میں اللہ تعالیٰ سے ڈرنا چاہیے۔
تفسیر بالقرآن
اللہ تعالیٰ سے ڈرنے کے فائدے :
1۔ لوگ اللہ سے ڈرنے کے بجائے ایک دوسرے سے زیادہ ڈرتے ہیں۔ (النساء : 77)
2۔ اللہ سے خلوت میں ڈرنے والوں کے لیے جنت کی خوشخبری ہے۔ (یٰسین : 11)
3۔ لوگوں سے ڈرنے کے بجائے اللہ سے ہی ڈرنا چاہیے۔ (آل عمران : 175)
4۔ متقین کے لیے کامیابی ہے۔ (الانبیاء : 31 تا 33)
5۔ متقین کا انجام بہتر ہے۔ (ہود : 49) 6۔ متقین کے لیے جنت ہے۔ (الحجر : 45)
7۔ اللہ تعالیٰ نے متقین کے ساتھ جنت کا وعدہ فرمایا ہے اور کافروں کا انجام دوزخ کی آگ ہے۔ (الرعد : 35)
8۔ قیامت کے دن متقین کے چہرے ہشاش بشاش ہوں گے۔ (یونس : 26۔ 27)
9۔ متقین کے لیے ان کے رب کے پاس نعمتوں والی جنت ہے۔ (القلم : 34)
10۔ متقی کا کام آسان اور اس کی سب خطائیں معاف اور ان کے لیے بڑا اجر ہوگا۔ (الطلاق : 4 تا 5)
11۔ متقین اولیاء اللہ ہیں جو قیامت کے دن بےخوف ہوں گے۔ ( یونس : 61 تا 64)
Ayah 60:12فہم القرآن
ربط کلام : پچھلی آیات میں ایمان لانے والی مہاجر عورتوں سے امتحان لینے کا حکم تھا اور اب امتحان کے لیے چند اصول بتلائے جا رہے ہیں۔
پہلی آیت میں نبی ﷺ کی بجائے صحابہ کو خطاب کیا گیا ہے کہ جب مدینہ کی طرف ہجرت کر کے آنے والی عورتیں اپنے ایمان کا دعویٰ کریں تو ان کے ایمان کی جانچ پڑتال کرلیا کرو۔ اب بیعت لینے کے لیے نبی ﷺ کو حکم دیا گیا ہے کہ جب آپ کے پاس ایمان لانے والی عورتیں حاضر ہوں تو آپ ان سے ان امور پر بیعت لیا کریں۔
1۔ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک نہ بنائیں۔ 2۔ کسی کا مال چوری نہ کریں۔ 3۔ بدکاری نہ کریں۔ 4۔ اپنی اولاد کو قتل نہ کریں۔ 5۔ اپنے ہاتھوں اور پاؤں سے کسی پر تہمت نہ لگائیں۔ 6۔ کسی نیک کام میں آپ ﷺ کی نافرمانی نہ کریں۔
جن باتوں کے بارے میں عورتوں سے بیعت لینے کا حکم ہے ان سے بچنا ہر مومن عورت اور مومن مرد پر فرض ہے۔ عورتوں سے بیعت لینے کا اس لیے ذکر کیا گیا ہے کیونکہ اس سے پچھلی آیات میں ہجرت کرنے والی مومن عورتوں کا ذکر ہوا ہے۔ پھر یہ بات بھی حقیقت ہے کہ مردوں کے مقابلے میں عورتوں میں یہ گناہ زیادہ پائے جاتے ہیں۔ اس لیے یہاں عورتوں کی بیعت اور اس کی شرائط کا ذکر کیا گیا ہے۔ جو مسلمان عورتیں ان باتوں پر پختہ عہد کریں آپ ﷺ کو ان کے حق میں اللہ سے بخشش کی دعا کرنے کی تلقین کی گئی ہے۔ ان عورتوں کو ان کے گناہوں کی بخشش کا یقین دلاتے ہوئے فرمایا ہے کہ یقیناً اللہ تعالیٰ گناہوں کو معاف کرنے والامہربان ہے۔ جن پانچ گناہوں پر بیعت لینے کا حکم ہے ان میں شرک کے علاوہ باقی گناہ ایسے ہیں جن پر شریعت نے حد مقرر کی ہے۔ اگر ان میں سے کوئی گناہ کسی مرد یا عورت پر ثابت ہوجائے تو شریعت کے مطابق اس پر حد نافذ کرنا اسلامی حکومت کا فرض ہے۔
(عَنْ عُبَادَۃَ بْنِ الصَّامِتِ ؓ قَالَ بَایَعْنَا رَسُول اللّٰہِ ﷺ عَلَی السَّمْعِ وَالطَّاعَۃِ فِی الْعُسْرِ وَالْیُسْرِ وَالْمَنْشَطِ وَالْمَکْرَہِ ، وَأَنْ لاَ نُنَازِعَ الأَمْرَ أَہْلَہُ ، وَأَنْ نَقُوم بالْحَقِّ حَیْثُمَا کُنَّا لاَ نَخَافُ لَوْمَۃَ لاَءِمٍ ) (رواہ النسائی : باب البیعۃ علی السمع والطاعۃ)
” حضرت عبادۃ بن صامت ؓ بیان کرتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ ﷺ سے ان باتوں پر بیعت کی : آپ ﷺ کی سمع و اطاعت کریں گے چاہے تنگی ہو یا فراخی، چاہے ہمارے لیے پسندیدہ بات ہو یا نا پسندہو، چاہے ہم پر کسی کو ترجیح کیوں نہ دی جائے، اس شرط کے ساتھ کہ ہم صاحب امر کے ساتھ جھگڑا نہیں کریں گے، اور یہ کہ ہم جہاں کہیں ہوں حق بات کہیں گے اور اللہ تعالیٰ کے بارے میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کی پرواہ نہیں کریں گے۔ “
پیر ومرشد کی بیعت :
بیعت کا لفظ بیع سے نکلا ہے اس کا معنی ہے کسی سے سودا کرنا یا کوئی ذمہ داری قبول کرنا۔
قرآن مجید میں یہ لفظ دونوں معنوں میں استعمال کیا ہے حوالے کے لیے اس آیت کی تفسیر بالقرآن ملاحظہ فرمائیں۔
اصطلاحاً بیعت اس معاہدے کو کہا جاتا ہے جو امیر کی اطاعت کے لیے کیا جاتا ہے۔
صوفیائے کرام نے اپنے حلقے میں اصلاح کے نام پر ایک نئی روایت ڈالی گئی ہے جس کا خیر القرون میں وجود نہیں ملتا اگر اس فعل کا مقصود لوگوں کی اصلاح ہے تو یہ مقصد مبلغ کی تبلیغ، معلم کی تعلیم اور علماء کی تربیت سے حاصل ہوسکتا ہے۔
تفسیر بالقرآن
قرآن مجید میں بیعت کا تذکرہ :
1۔ اس سودے پر خوب خوش ہوجاؤ جو تم نے اللہ سے کیا ہے اور یہ بہت بڑی کامیابی ہے۔ (التوبہ : 111)
2۔ ان سے بیعت لے لو اور ان کے حق میں اللہ سے دعائے مغفرت کرو، یقیناً اللہ درگزر فرمانے والا اور رحم کرنے والا ہے۔ (الممتحنہ : 12)
3۔ اللہ مومنوں سے خوش ہوگیا جب وہ درخت کے نیچے آپ ﷺ سے بیعت کر رہے تھے۔ (الفتح : 13)
Ayah 60:13فہم القرآن
ربط کلام : الممتحنہ کی ابتدا جس حکم کے ساتھ کی گئی ہے اسی پر اس کا اختتام کیا گیا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے بڑی تفصیل کے ساتھ مسلمانوں کو حکم دیا ہے کہ وہ کسی صورت بھی اللہ اور اپنے دشمنوں کو دوست نہ بنائیں۔ اس کے دلائل دیتے ہوئے مشرکین کے خلاف ابراہیم (علیہ السلام) اور ان کے ساتھیوں کا اعلانِ برأت پیش کیا گیا جس کے لیے ارشاد ہوا کہ ابراہیم (علیہ السلام) اور ان کے ایماندار ساتھیوں کا طریقہ وہی شخص اختیار کرے گا جو اللہ کے حضور حاضر ہونے اور آخرت کی جوابدہی کا عقیدہ رکھتا ہے بالفاظ دیگر دوسرے شخص سے ایسے مضبوط ایمان اور جرأت مندانہ کردار کی توقع نہیں کی جاسکتی۔ اس کے بعد اس بات کی وضاحت فرمائی کہ اللہ تعالیٰ تمہیں ہر کافر سے ہر قسم کی لاتعلقی کا حکم نہیں دیتا وہ ان کفار کے ساتھ تعلقات توڑنے اور لڑنے کا حکم دیتا ہے جو تمہارے اور تمہار دین کے دشمن ہیں۔ انہی کلمات پر سورة کا اختتام کیا جا رہا ہے اے ایمان والو ! اللہ اور اپنے دشمنوں کو دوست نہ بناؤ کیونکہ ان پر اللہ تعالیٰ کا غضب نازل ہوچکا ہے لہٰذا ایماندار شخص کو کسی مغضوب علیہ کے ساتھ رشتہ داری اور قلبی لگاؤ نہیں رکھنا چاہیے۔
جن پر اللہ کا غضب ہوا ہے وہ آخرت سے اس طرح ہی مایوس ہوچکے ہیں جس طرح کفار قبروں والوں سے مایوس ہوچکے ہیں۔
” اَصْحَابِ الْقُبُوْرِ “ صحابہ کرام ؓ نے کفار کی مایوسی کے دو مفہوم اخذ کیے ہیں۔
1۔ حضرت عبداللہ بن عباس ؓ اور دیگر صحابہ نے یہ مفہوم لیا ہے کہ جو لوگ موت کے بعد جی اٹھنے کا انکار کرتے ہیں وہ اس بات سے مایوس ہیں کہ ان کے جو عزیز و اقرباء فوت ہوچکے ہیں وہ دوبارہ کبھی زندہ ہوں گے۔
2۔ حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ اور حضرت مجاہد (رح) اور ان کے ہم فکر اصحاب اس آیت کا یہ مطلب لیتے ہیں کہ جو کافر فوت ہوچکے ہیں انہوں نے اپنی قبروں میں اس حقیقت کو پالیا ہے کہ آخرت میں انہیں عذاب کے سوا کچھ نہیں ملے گا گویا کہ وہ اللہ کی رحمت سے کلی طور پر مایوس ہوچکے ہیں۔ ہمارے دور میں کچھ نادان لوگوں نے اپنے باطل عقیدہ کی تائید کے لیے اس آیت کا بالکل ہی مخالف مفہوم لیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ا ہل قبور کے اختیارات سے وہی لوگ انکار کرتے ہیں جو کافر ہیں۔
(عَاءِشَۃَ ؓ أَنَّ یَہُودِیَّۃً دَخَلَتْ عَلَیْہَا، فَذَکَرَتْ عَذَابَ الْقَبْرِ ، فَقَالَتْ لَہَا أَعَاذَکِ اللَّہُ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِفَسَأَلَتْ عَاءِشَۃُ رَسُول اللَّہِ ﷺ عَنْ عَذَابِ الْقَبْرِ فَقَالَ نَعَمْ عَذَابُ الْقَبْرِ قَالَتْ عَاءِشَۃُ ؓ فَمَا رَأَیْتُ رَسُول اللَّہِ ﷺ بَعْدُ صَلَّی صَلاَۃً إِلاَّ تَعَوَّذَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ زَادَ غُنْدَرٌ عَذَابُ الْقَبْرِ حَقٌّ) (رواہ البخاری : باب مَا جَاءَ فِی عَذَابِ الْقَبْرِ )
” سیدہ عائشہ ؓ کے پاس ایک یہودی عورت آئی وہ قبر کے عذاب کا تذکرہ کرتے ہوئے کہنے لگی تجھے اللہ عذاب کے قبر سے محفوظ فرمائے۔ سیدہ عائشہ ؓ نے آپ ﷺ سے عذاب قبر کے متعلق پوچھا آپ ﷺ نے فرمایا ہاں عذاب قبر برحق ہے سیدہ عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ اس کے بعد میں نے رسول اللہ ﷺ کو کوئی ایسی نماز پڑھتے نہیں دیکھا جس میں آپ نے عذاب قبر سے پناہ نہ مانگی ہو۔ (غندر کی روایت میں یہ اضافہ ہے کہ عذاب قبر برحق ہے۔ ) “
مسائل
1۔ کسی ایماندار کو کسی کافر اور مشرک کے ساتھ قلبی تعلق نہیں رکھنا چاہیے۔
2۔ کفار اور مشرکین پر اللہ تعالیٰ کا غضب نازل ہوتا ہے۔
3۔ کسی ایماندار کے لیے جائز نہیں کہ وہ مغضوب علیہ کے ساتھ رشتہ داری یا دلی محبت کرے۔
4۔ کافر اللہ تعالیٰ کی رحمت سے مایوس ہوتے ہیں۔
تفسیر بالقرآن
اللہ تعالیٰ کا غضب کن لوگوں پر نازل ہوتا ہے :
1۔ مشرکوں پر اللہ کا غضب ہوتا ہے۔ (الاعراف : 152) 2۔ بنی اسرائیل مغضوب لوگ ہیں۔ (البقرۃ : 61)
3۔ اللہ تعالیٰ کے غضب کا نتیجہ ہے کہ یہودیوں اور عیسائیوں کے درمیان قیامت تک کے لیے باہم اختلافات رہیں گے۔ ( المائدۃ : 64)
4۔ انبیاء کی تکذیب کی وجہ سے وہ اللہ کے غضب کے مستحق قرار پائے۔ (آل عمران : 112)
5۔ یہودی اللہ کے غضب کے ساتھ لوٹے۔ (البقرۃ : 90) 6۔ گمراہ اور مغضوب کو دلی دوست نہیں بنانا چاہیے۔ (الممتحنہ : 13)